Explained with ayahs 104–106
موسیٰ ؑ اور فرعون
حضرت موسیٰ ؑ کے اور فرعون کے درمیان جو گفتگو ہوئی اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اللہ کے کلیم نے فرمایا کہ اے فرعون میں رب العالمین کا رسول ہوں۔ جو تمام عالم کا خالق ومالک ہے۔ مجھے یہی لائق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں وہی باتیں کہوں جو سراسر حق ہوں " ب " اور " علی " یہ متعاقب ہوا کرتے ہیں جیسے رمیت بالقوس اور رمیت علی القوس وغیرہ۔ اور بعض مفسرین کہتے ہیں حقیقی کے معنی حریض کے ہیں۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ مجھ پر واجب اور حق ہے کہ اللہ ذوالمنین کا نام لے کر وہی خبر دوں جو حق و صداقت والی ہو کیونکہ میں اللہ عزوجل کی عظمت سے واقف ہوں۔ میں اپنی صداقت کی الٰہی دلیل بھی ساتھ ہی…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 85
لفظ فرعون کے معنی ہیں ”سورج دیوتا کی اولاد۔“ قدیم اہل مصر سورج کو، جو ان کا مہا دیو یا ربِّ اعلیٰ تھا، رغ کہتے تھے اور فرعون اسی کی طرف منسوب تھا۔ اہل مصر کے اعتقاد کی رو سے کسی فرماں روا کی حاکمیت کے لیے اس کے سوا کوئی بنیاد نہیں ہو سکتی تھی کہ وہ رغ کا جسمانی مظہر اور اس کا ارضی نمائندہ ہو، اسی لیے ہر شاہی خاندان جو مصر میں برسر اقتدار آتا تھا، اپنے آپ کو سورج بنسی بنا کر پیش کرتا، اور ہر فرماں روا جو تخت نشین ہوتا، ”فرعون“ کا لقب اختیار کر کے باشندگان ملک کو یقین دلاتا کہ تمہارا ربِّ اعلیٰ یا مہادیو میں ہوں۔
یہاں یہ بات اور جان لینی چاہیے کہ قرآن مجید میں حضرت موسیٰ کے…
Read the full tafseer →دوسری آیت میں فرمایا کہ موسیٰ ؑ نے فرعون سے کہا کہ میں رب العلمین کا رسول ہوں، میرے حال اور منصب نبوت کا تقاضا یہی ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات بجز سچ کے منسوب نہ کروں، کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) کو جو پیغام حق تعالیٰ کی طرف سے دیئے جاتے ہیں وہ ان کے پاس خدائی امانت ہوتے ہیں، اس میں اپنی طرف سے کمی بیشی کرنا خیانت ہے اور تمام انبیاء (علیہم السلام) خیانت اور ہر گناہ سے پاک اور معصوم ہیں۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ تم لوگوں کو میری بات پر اس لئے یقین کرنا چاہیے کہ میری سچائی تم سب کے سامنے ہے، میں نے کبھی نہ جھوٹ بولا ہے اور نہ بول سکتا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
آیات 103 تا 171 کا مضمون : آگے حضرت موسیٰ اور فرعون کی سرگزشت اور ساتھ ہی بنی اسرائیل کے دینی و سیاسی عروج وزوال کی پاوری تاریخ، اجمال مگر نہایت جامعیت کے ساتھ، سامنے رکھ دی گئی ہے۔ تاریخی نقطہ نظر سے یہ ان سرگزشتوں کا تکملہ اور تتمہ ہے جو اوپر بیان ہوئی ہیں۔ اوپر کی سرگزشتیں حضرت شعیب کی سرگزشت پر تمام ہوئی تھیں۔ تاریخی ترتیب کے لحاظ سے اس کے بعد حضرت موسیٰ کی بعثت کی تاریخ شروع ہوجاتی ہے جو فرعون اور اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ حضرت موسیٰ کے ہاتھوں ایک طرف تو فرعون اور اس کی قوم پر اللہ کی حجت تمام ہوئی اور ان کی تکذیب کے نتیجے میں فرعون کا اور اس کی قوم کا وہی انجام ہوا جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
13۔ 1 یہاں سے حضرت موسیٰ ؑ کا ذکر شروع ہو رہا ہے جو مذکورہ انبیاء کے بعد آئے جو جلیل القدر پیغمبر تھے، جنہیں فرعون مصر اور اس کی قوم کی طرف دلائل و معجزات دے کر بھیجا تھا۔
13۔ 2 یعنی انہیں غرق کردیا گیا، جیسا کہ آگے آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–107
52:: یہاں سے آیت نمبر : 162 تک حضرت موسیٰ ؑ کے واقعے کے کچھ اہم حصے تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں، اس سورت میں فرعون کے ساتھ آپ کی گفتگو اور مقابلے اور اس کے غرق ہونے کی تفصیل، نیز حضرت موسیٰ ؑ کو تورات عطا ہونے کے واقعات آرہے ہیں، آپ حضرت یعقوب ؑ کی چوتھی پشت میں آتے ہیں، سورة یوسف میں قرآن کریم نے بتایا ہے کہ حضرت یوسف ؑ جب مصر کے وزیر خزانہ بن گئے تو انہوں نے اپنے والدین اور بھائیوں کو فلسطین سے مصر بلالیا تھا، اسرائیلی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب ؑ کی ساری اولاد جو بنو اسرائیل کہلاتی ہے پھر وہیں آباد ہوگئی تھی، اور مصر کے بادشاہ نے ان کو شہری آبادی سے الگ ایک علاقہ دے دیا تھا، مصر…
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان پہلی ملاقات میں جو مکالمات ہوئے اور واقعات پیش آئے تھے وہ اس طرح تھے۔
" موسیٰ نے کہا " اے فرعون ، میں کائنات کے مالک کی طرف سے بھیجا ہوا آیا ہوں۔ میرا منصب یہی ہے کہ اللہ کا نام لے کر کوئی بات حق کے سوا نہ کہوں ، میں تم لوگوں کے پاس تمہارے رب کی طرف سے صریح دلیل ماموریت لے کر آیا ہوں ، لہذا تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے۔ فرعون نے کہا " اگر تو کوئی نشانی لایا ہے اور اپنے دعوے میں سچا ہے تو اسے پیش کر "۔ موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ ایک جیتا جاگتا اژدھا تھا۔ اور اس نے اپنی جیب سے ہاتھ نکالا اور سب دیکھنے والوں کے سامنے وہ چمک رہا تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
5 اکثر مفسرین نے ' حقیق ' کے معنی جدیر (لائق) کے لیے ہیں۔ اسی لیے " علیٰ " کو بمعنی " باء " لینا پڑا ہے یعنی میری شان کے یہ ہی لائق ہے کہ خدا کی طرف سے کوئی ناحق اور غلط بات نہ کہوں۔ بعض نے " حقیق " کو بمعنی " حریص " لیا ہے۔ لیکن مترجم محقق (رح) نے " حقیق " کو " قائم و ثابت " کے معنی میں لیا۔ جس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں بدون ادنیٰ تزلزل اور تذبذب کے پوری مضبوطی اور استقلال کے ساتھ اس پر قائم ہوں کہ سچ کے سوا کوئی چیز زبان سے نہ نکالوں، خدا کا پیام بلا کم وکاست تم کو پہنچا دوں اور تمہاری تکذیب و تخویف کی وجہ سے ذرا بھی نہ ڈگمگاؤں۔
6 یوں تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو کئی طرح کی نصیحتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
آیت 103 ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْم بَعْدِہِمْ مُّوْسٰی بِاٰیٰتِنَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَلَاءِہٖ
اب تک جن پانچ قوموں کا ذکر ہوا ہے وہ جزیرہ نمائے عرب ہی کے مختلف علاقوں میں بستی تھیں ‘ لیکن اب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے بنی اسرائیل کا ذکر ہوگا جو مصر کے باسی تھے۔ مصر بر اعظم افریقہ کے شمال مشرقی کونے میں واقع ہے۔ اس قصے میں صحرائے سینا کا بھی ذکر آئے گا ‘ جو مثلث شکل میں ایک جزیرہ نما Sinai Peninsula ہے ‘ جو مصر اور فلسطین کے درمیان واقع ہے۔ مصر میں اس وقت فراعنہ فرعون کی جمع کی حکومت تھی۔ جس طرح عراق کے قدیم بادشاہ نمرود کہلاتے تھے اسی طرح مصر میں اس دور کے بادشاہ کو فرعون کہا جاتا تھا۔…
Read the full tafseer →110 لقب فرعون کی حقیقت اور فرعون کی سلطنت کی وسعت :۔ اس دور میں مصر کے ہر بادشاہ کا لقب فرعون ہوا کرتا تھا اور ان کا اصلی نام الگ ہوا کرتا تھا۔ فرعون کے لقب کے پیچھے یہ تصور کار فرما تھا کہ سب سے بڑے دیوتا سورج کی روح بادشاہ کے جسم میں حلول کر جاتی ہے اس لحاظ سے وہ بادشاہ اس زمین میں اسی سبب سے بڑے دیوتا یا مہا دیو کا جسمانی مظہر ہوتا ہے اسی بنا پر تمام فراعنہ زمین پر اپنی خدائی کا دعویٰ بھی رکھتے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی زندگی میں دو فرعونوں سے پالا پڑا تھا ایک وہ فرعون جس نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش کی تھی اور اس کا نام رعمسیس تھا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے بھاگ کر دس…
Read the full tafseer →140 ۔ مصرکا یہ فرعون قاہر تو خود الوہیت اور مظہریت کا مدعی تھا وہ نہ عقیدہ توحید اور وجود رب العلمین ہی کے ماننے کے لیے تیار تھا اور نہ عقیدۂ رسالت کے یعنی اس ذات مطلق کی طرف سے کسی انسان کے پیامبر ہونے کے !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–108
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ : ثم بعثنا۔۔۔۔۔ وملائہ (الآیۃ) ، یہاں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ شروع ہو رہا ہے، جو مذکورہ انبیاء کے بعد آئے اور بنی اسرائیل کے جلیل القدر انبیاء میں سے ہیں جنہیں فرعون مصر اور اس کی قوم کی طرف دلائل و معجزات دیکر بھیجا گیا تھا، بنی اسرائیل اصالۃً ملک شام کے علاقہ فلسطین میں کنعان کے رہنے والے تھے، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے مصری وزارت مالیات کے زمانہ میں اپنے خاندان کو مصر بلا لیا تھا، یہ لوگ مصر آکر آباد ہوگئے اور یہیں کے ہو کر وہ گئے، اسی خاندان بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے فرعون اور اس کی قوم کی ہدایت کیلئے آپ کو معجزے…
Read the full tafseer →وقال موسیٰ یا فرعون انی رسول من رب العلمین : اور موسیٰ نے (فرعون) سے کہا اے فرعون میں رب العلمین کا رسول (فرستادہ) ہوں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–105
(103۔ 104۔ 105) ان رسولوں کے بعد حضرت موسیٰ ؑ کو نو معجزات دے کر بھیجا گیا، انہوں نے (یعنی بنی اسرائیل نے) معجزات کا انکار کیا تو ان مفسدوں کا انجام ہلاکت وتباہی ہوا فرعون نے حضرت موسیٰ ؑ کی تکذیب کی، حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا، میرے لیے یہی شایان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف بغیر سچ کے اور کچھ منسوب نہ کروں، بنی اسرائیل کو بمع تمام مال کے میرے ساتھ بھیج دے۔
Read the full tafseer →وَقَالَ مُوْسٰي يٰفِرْعَوْنُ اِنِّىْ رَسُوْلٌ۔۔ : فرعون مصر کے ہر بادشاہ کا لقب تھا، جیسا کہ روم کے بادشاہ کا قیصر اور فارس کے بادشاہ کا لقب کسریٰ تھا۔ موسیٰ ؑ نے اسے اس کے عزت والے نام کے ساتھ نہایت نرمی کے ساتھ مخاطب فرمایا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں بھیجتے وقت تلقین فرمائی تھی۔ دیکھیے سورة طٰہٰ (44) اس فرعون کا نام منفتاح بن رمسیس ثانی یا ولید بن ریان بتایا جاتا ہے، مگر یہ بات کسی قابل اعتماد ذریعے سے ثابت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–112
آیت نمبر : 104۔ تا 112
حقیق علی یعنی مجھ پر واجب ہے۔ اور جنہوں نے علی ان لا پڑھا ہے تو معنی یہ ہوگا حریص علی الاقوال ( وہ اس پر حریص ہے کہ میں نہ کہوں) اور حضرت عبداللہ کی قراءت میں حقیق الا اقول ہے یعنی اس میں علی موجود نہیں ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ علی بمعنی با ہے (زادالمسیر، جلد 2، صفحہ 182) ، یعنی حقیق بالا اقول اور اسی طرح حضرت ابی اور اعمش کی قراءت میں بالا اقول ہے۔ جیسے تو کہتا ہے : رمیت بالقوس وعلی القوس۔ پس اس بنا پر حقیق بمعنی محقوق ( ثابت شدہ) ہوگا۔ اور آیت : فارسل معی بنی اسراء یل کا معنی ہے تو انہیں چھوڑ دے۔ ( کیونکہ) وہ انہیں انتہائی مشقت آمیز کاموں میں لگائے رکھتا تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–112
(1) امام ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت ” حقیق علی ان لا اقول “۔
عصاء موسیٰ آدم (علیہ السلام) کی تھی
(2) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” فالقی عصاہ “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ لاٹھی آدم کی لاٹھی ہے۔ ان کو خاص طور پر ایک فرشتے نے دی تھی جب وہ مدینہ جا رہے تھے۔ یہ رات کو روشنی دیتی تھی اور دن کے وقت آپ اسے ساتھ لے کر زمین میں گھومتے پھرتے اور اپنے لئے رزق تلاش کرتے اور اس کے ساتھ اپنی بکریوں کے لئے پتے بھی جھاڑتے تھے۔ اللہ عزوجل نے فرمایا لفظ آیت ” فاذا ہی ثعبان مبین “ یعنی ایک سانپ تھا…
Read the full tafseer →[ وَقَالَ : اور کہا ] [ مُوْسٰي : موسیٰ نے ] [ يٰفِرْعَوْنُ : اے فرعون ] [ اِنِّىْ : کہ میں ] [ رَسُوْلٌ: ایک رسول ہوں ] [ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ : تمام جہانوں کے رب (کی طرف) ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–116
موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کا جادو گر بتانا اور مقابلہ کے لیے جادو گروں کو بلانا، اور جادو گروں کا ہار مان کر اسلام قبول کرلینا
جب فرعون اور اس کی جماعت نے یدبیضاء دیکھا اور لاٹھی کو دیکھا کہ وہ اژدھا بن گئی تو انہوں نے ان دونوں معجزوں کو جادو پر محمول کیا، سورة الذاریات میں فرمایا ہے (کَذٰلِکَ مَا اَتَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ) (اسی طرح سے ان سے (یعنی امت محمدیہ) پہلے جو بھی کوئی رسول آیا لوگوں نے کہا یہ جادو گر ہے یا دیوانہ ہے) حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے مخالفین کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ ان کے معجزات کو دیکھ کر ایمان لانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–108
ذکر بعثت موسیٰ (علیہ السلام) و مکالمۂ او با فرعون
قال اللہ تعالیٰ ثم بعثنا من بعدھم موسیٰ ۔۔۔ الی۔۔۔ فاذاھی بیضاء للناظرین
(ربط) موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات میں سب سے پہلے ان کی بعثت کا واقعہ اور فرعون کے ساتھ ان کے مناظرہ اور مکالمہ کا ذکر فرماتے ہیں پھر ہم نے ان انبیاء مقدم الذکر کے بعد موسیٰ بن عمران کو اپنی نشانیاں دیکر یعنی معجزات اور دلائل نبوت دیکر فرعون اور اس کے قوم کے بڑے لوگوں کی طرف دعوت وتبلیغ کی خاطر بھیجا پس انہوں نے دلائل اور براہین رسالت یعنی معجزات کے ساتھ ظلم کیا معجزات کا حق یہ تھا کہ ان پر ایمان لاتے اور ان کی تصدیق سے اپنی اصلاح کرتے لیکن بجائے تصدیق کے ان کی تکذیب کی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–105
107: یہ چھٹا واقعہ ہے اور پہلے دعوے سے متعلق ہے اور یہاں سے شروع ہو کر رکوع 20 کے آخر میں “ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَاءِ بِمَا کَانُوْا یَظْلِمُوْن ” پر ختم ہوتا ہے۔ اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی کے مختلف آٹھ واقعات ذکر کیے گئے ہیں جن میں سے ہر واقعہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عزیمت اور ان کے استقلال کی زندہ تصویر ہے۔ ان کے ذکر سے آنحضرت ﷺ کی تشجیع مقصود ہے۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح آپ بھی جرات اور بہادری سے مسئلہ توحید کی تبلیغ کریں اور اس کی وجہ سے آنے والے مصائب و مشکلات کا استقلال سے سامنا فرمائیں۔ پہلا واقعہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–108
ربط آیات
اس سے اللہ تعالیٰ نے پانچ انبیا (علیہ السلام) اور ان کی قوموں کا حال بیان کرکے حضور ﷺ اور آپ کے پیرو کاروں کو جرات دلائی اور تسلی دی کہ ان قوموں کا حال پیش نظر رکھو اور تبلیغ دین کے لیے مستعد ہوجائو۔ پھر اللہ نے درمیان میں اقوام عالم کی عمومی ذہنیت کا ذکر کیا اور اللہ کی وہ سنت اور دستور بیان کیا جس کے تحت نافرمانوں کو سزا ملتی ہے اور اطاعت گزاروں کو فلاح نصیب ہوتی ہے اب اس درس سے تاریخ انبیا ہی کے سلسلے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان لوگوں کا ذکر شروع ہورہا ہے جن کی طرف آپ کو مبعوث کیا گیا تو یہاں سے کافی دور تک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) آپ کی قوم بنی اسرائیل اور فرعون اور اس کی…
Read the full tafseer →وَقَالَ مُوْسٰي يٰفِرْعَوْنُ اِنِّىْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ 104 ۙ
رسل
أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ومن الأنبیاء قوله : وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144]
( ر س ل ) الرسل
الرسل ۔ اصل میں اس کے معنی آہستہ اور نرمی کے ساتھ چل پڑنے کے ہیں۔ اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–104
ترکیب : لم یہد یتبین للذین الخ اس سے متعلق۔ ان مخففہ اسم اس کا محذف انہ یہ جملہ فاعل ہے یہد کا اے لم یتبین لھم مشیتنا و قدرتنا علی اہلاکھم بذنوبھم من عہد میں زاید ای ما وجدنا عہدًالاکثرھم۔
تفسیر : یہاں تک منکرین کے قصہ اور ان پر عذاب الٰہی نازل ہونے کے وقائع بیان فرمائے تھے۔ اس کے بعد یہ بھی ظاہر کردیا تھا کہ کچھ انہیں بستیوں پر حصر نہیں جن کا کہ ہم نے حال بیان کیا بلکہ جہاں کہیں انبیاء آئے وہاں یہی بات پیش آئی۔ اب یہاں ان تمام تاریخی واقعات اور عبرت آمیز حادثات کا نتیجہ ظاہر کرتا ہے کہ کیا ان لوگوں کو پہلے لوگوں کے حال سے عبرت پیدا نہیں ہوتی کہ ان کو ہم نے ان کی بدکاری کی وجہ سے ہلاک کردیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
ارشاد ہوتا ہے :
وَقَالَ مُوْسٰی یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ حَقِیْقٌ عَلٰیٓ اَنْ لَّآ اَقُوْلَ عَلَی اللہِ اِلَّا الْحَقَّ ط قَدْ جِئْتُکُمْ بِبَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّکْمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ ۔
(الاعراف : 104، 105)
” اور موسیٰ نے کہا اے فرعون میں خداوندِ عالم کا فرستادہ ہوں سزاوار ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف حق کے سوا کوئی اور بات منسوب نہ کروں میں تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے کھلی ہوئی نشانی لے کر آیا ہوں تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دے “۔
دوسری آیت کریمہ میں حَقِیْقٌ کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کا معنی سمجھ لینا چاہیے حَقِیْقٌ حَقَ اور حُقَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–108
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑنے والی اقوام میں آل فرعون سرفہرست تھے۔ جنھوں نے نہ صرف اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کی بار بار وعدہ خلافی کی بلکہ قوم کے مزاج اور مشرکانہ عقائد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فرعون نے ” اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی “ کا دعویٰ کیا تھا۔
فرعون مصر کے حکمران کا اصلی نام نہیں بلکہ اس کا یہ سرکاری لقب تھا۔ قدیم تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ یمن کا حکمران تبع، حبشہ کا بادشاہ نجاشی، روم کا حکمران قیصر، ایران کا فرمانروا کسریٰ کہلواتا اور ہندوستان کے حکمران اپنے آپ کو راجا کہلوانا پسند کرتے تھے۔ جس طرح آج کل صدارتی نظام میں حکمران پریذیڈنٹ اور پارلیمانی نظام رکھنے والے…
Read the full tafseer →تقریر موسیٰ ( علیہ السلام) ( علیہ السلام) ( علیہ السلام) :
آیت 104: وَقَالَ مُوْسٰی یٰـفَرْعَوْنُ (اور موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا اے فرعون) اس زمانہ میں ملوک مصر کو فرعون کہا جاتا تھا جس طرح فارس کے بادشاہوں کو کسر ٰی۔ گویا اس کا معنی یہ ہوا۔ اے ملک مصر اس کا نام قابوس یا ولید بن مصعب بن الرّیان تھا۔ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ (میں رب العالمین کی طرف سے پیغمبر ہوں) تیری طرف۔ فرعون نے کہا تو جھوٹ بولتا ہے اس پر موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا۔
Read the full tafseer →104(وقال موسی) جب فرعون کے پاس گئے (یفرعون انی رسول من رب العلمین) تیری طرف تو فرعون نے کہا آپ نے جھوٹ کہا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے جواباً کہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–127
(103 ۔ 126) ۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ( علیہ السلام) اور ہود ( علیہ السلام) اور صالح ( علیہ السلام) اور لوط ( علیہ السلام) اور شعیب ( علیہ السلام) کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں حضرت موسیٰ اور ان کے معجزوں کا ذکر فرمایا ہے معجزہ ایک ایسی عادت سے باہر عاجز کرنے والی چیز کو کہتے ہیں جس کا ظہور بدوں تائید غیبی کے نہ ہو سکے اور خلقت اس جیسی چیز کے ظاہر کردینے سے عاجز ہو معجزہ اور جادو میں یہ فرق ہے کہ معجزہ میں عادت سے باہر جو چیز خدا تعالیٰ انبیاء کی تصدیق کے طور پر پیدا کرتا ہے وہ اصلی چیز ہوتی ہے مثلا حضرت صالح کے معجزہ سے جو اونٹنی پتھر میں سے پیدا ہوئی وہ دراصل اونٹنی ہی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آیت 103
پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →142 رسالت و پیغمبری کا شرف و اعزاز سب سے بڑا شرف واعزاز : سو حضرت موسیٰ نے فرعون کے سامنے اپنے تعارف کے طور پر یہی فرمایا کہ میں رسول ہوں پروردگار عالم کا۔ سو پیغمبر کی عظمت شان کا سب سے بڑا تعارف یہی ہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔ پس موسیٰ نے کہا کہ میں اسی خالق ومالک وحدہ لاشریک کا پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں۔ نہ اپنی طرف سے کچھ کہتا ہوں اور نہ ہی تم سے کسی طرح کا کوئی دنیوی مفاد چاہتا ہوں۔ سو پیغمبر کی عظمت شان کا سب سے بڑا پہلو اور اصل تعارف یہ ہے کہ وہ اللہ کا رسول اور اس کا فرستادہ ہوتا ہے۔ اس کی اطاعت و فرمانبرداری اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری ہی ہوتی ہے اور اس کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان
تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–108
رکوع نمبر 13 ۔ آیات 100 تا 108 ۔
اسرار و معارف :
ہلاک ہونے والے اپنے انجام کو پہنچے مگر بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت کا بہت بڑا نشان بن کے کیسی کیسی خوشحال اور مضبوط قومیں جن کے پاس ہر طرح کے وسائل اور ذرائع موجود تھے دولت کی ریل پیل تھی عالیشان محل تھے اور طاقتور فوج تھی مگر مسلسل گناہ کے باعث عذاب الہی کی گرفت میں آئے اور ایسے تباہ ہوئے کہ سوائے عبرت کے کچھ باقی نہ بچا تو جو لوگ ان کے بعد آ کر پھر سے آباد ہوئے ہیں اور جو اس کتاب اور موجودہ پیغام کے مخاطب ہیں انہیں یہ ضرور سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ قادر ہے جب چاہے گناہ پر سزا دے سکتا ہے اور پہلی قوموں کی طرح انسان اپنے اعمال کی شامت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
ف 6 کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں اور رسول کا کام یہ ہے کہ بھیجنے ولاے کا پیغام بلاکم وک اس پہنچا دے اور اس میں اپنی طرف سے کوئی تبدیلی نہ کرے لہذا میری ہر بات صحیح اور سچی ہوگی حقیق علی، کے معنی واجب کے ہیں یا لائق کے اور اگر علی ہو تو حقیق کے معنی قائم اور ثابت کے ہوں گے۔7 یعنی انہیں اپنی غلامی سے آزاد کرو تاکہ وہ میرے ساتھ کسی ایسی جگہ چلے جائیں جہاں وہ اپنے اور تیرے رب کی پوری آّزاد کے ساتھ عبادت کرسکیں، حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے اس مطالبہ کا پس منظر یہ تھا کہ حضرت یو سف ( علیہ السلام) کے زمانہ میں ان کے بھائی مصر میں آّکر آباد ہوگئے تھے اور وہیں ان پھیلی جو بنو اسرائیل کہلائی، ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
(7:103) فظلموا بھا۔ فکفروا عنھا۔ انہوں نے ان آیات سے انکار کردیا۔ ظلم کہتے ہیں کسی شے کو اس کی مخصوص جگہ سے ہٹا کر نقصان کے ساتھ یا زیادتی کے ساتھ یا وقت بدل کر یا جگہ بدل کر بےجگہ رکھ دینے کو ۔ یہاں ظلم اس لئے استعمال ہوا کہ بجائے ان آیات پر ایمان لانے کے انہوں نے انکار کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–106
لغات القرآن آیت نمبر (103 تا 106 ) ۔
بعثنا (ہم نے بھیجا) ۔ ظلموا (انہوں نے ظلم کیا) ۔ حقیق (سچی بات یہ ہے) ۔ لا اقول (میں نہیں کہتا) ۔ ارسل (بھیج دے ) ۔ معی (میرے ساتھ ) ۔ فات بھا (پھر تو لے آ ) ۔
تشریح : آیت نمبر (103 تا 06ٍ 1 ) ۔ ” حضرات انبیاء کرام حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) ، حضرت لوط (علیہ السلام) اور حضرت شعیب علیھم السلام اور ان کی قوموں کے واقعات کی طرف اشاروں کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے متعلق ارشاد فرمایا جا رہا ہے۔ فرعون ایک زبردست ڈکٹیٹر اور آمر مطلق تھا جو جاہ و جلال، دولت کی کثرت کے غرور میں اپنے آپ کو رب اعلیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–110
واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام، معجزہ اور جادو میں فرق
معجزہ اور جادو میں یہ فرق ہے کہ معجزہ میں عادت سے باہر جو چیز خدائے تعالیٰ انبیاء کی تصدیق کے طور پر پیدا کرتا ہے وہ اصلی چیز ہوتی ہے : مثلا (1) ۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کے معجزہ سے جو اونٹنی پتھر میں سے پیدا ہوئی وہ دراصل اونٹنی ہی تھی، لوگوں نے مدت تک اس کا دودھ پیا اور (2) ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جو مردہ کو زندہ کرتے تھے وہ درحقیقت وہی مردہ شخص ہوتا تھا اور (3) ۔ آنحضرت ﷺ کی انگلیوں سے جو پانی کا چشمہ بہا وہ دراصل پانی ہی تھا لوگوں نے پیا اور ان کی پیاس بجھی۔ جادو میں ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی غریب جادوگر ٹھیکریوں کے روپے بنادے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
[43] بنی اسرائیل یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں کنعان سے جا کر مصر میں آباد ہوئے تھے۔ پھر رفتہ رفتہ مصریوں نے انہیں غلام بنا لیا تھا۔ موسیٰ دو چیزوں کی دعوت لے کر فرعون کے پاس بھیجے گئے تھے۔ ایک یہ کہ وہ اسلام قبول کرے اور دوسرے یہ کہ بنی اسرائیل کو غلامی سے رہا کردے تاکہ وہ مصر سے نکل کر اپنے وطن چلے جائیں۔ قرآن میں ان دو باتوں کا ذکر کہیں یکجا کیا گیا ہے اور کہیں موقع و محل کے لحاظ سے صرف ایک ہی کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–107
نبذعھد :
(ف 1) ان تمام قصص کا مقصد یہ ہے کہ حضور ﷺ کو بتایا جائے کہ قومیں کس طرح بار بار اللہ کے بندھے ہوئے میثاق کو توڑتی چلی آئی ہیں اور کیوں کہ ہم نے ان کو سخت ترین سزائیں دی ہیں ، تاکہ ایک طرف آپ کو قریش مکہ کی مخالفت سے مایوسی نہ ہو اور دوسری جانب مکہ والوں کے دل میں ڈر پیدا ہو ، اور ان کو معلوم ہو کہ اگر ہم نے رسول اللہ کا کہا نہ مانا اور انکار کیا تو ہمارا حشر بھی یہی ہوگا ۔
ان قصوں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب وقت حق کا اظہار ہوتا ہے اکثریت کی جانب سے پر زور مخالفت ہوتی ہے اور ابتداء حق کو قبول کرنے والے بہت تھوڑے لوگ ہوتے ہیں ۔
Read the full tafseer →104 اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے فرعون بلاشبہ میں کائنات کے پروردگار کا فرستاد اور رسول ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–107
ف 2۔ یعنی معجزات۔
3۔ یہ تو تمام قصہ کا اجمال تھا آگے تفصیل ہے۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے دربار میں اپنی نبوت کا اعلان کردیا :
115: زیر نظر آیت میں صرف موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ہے اور دوسرے مقامات پر فرعون سے پہلی ملاقات کے وقت ہارون (علیہ السلام) کا بھی ساتھ ہونا بیان ہوا ہے۔ غرض دونوں بھائی اور اللہ کے سچے پیغمبر اور رسول فرعون کے دربان میں پہنچ گئے اور بغیر خوف وخطر اللہ کا پیغام اس طرح پہنچایا کہ گفتگو شروع ہوتے ہی انہوں نے اپنے آنے کی وجہ بیان فرمائی کہ اے فرعون ! ہم دونوں کو اللہ نے اپنا رسول بنا کر تیرے پاس بھیجا ہے ہم تجھ سے دو اہم باتیں چاہتے ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ پر سچا یقین لا اور کسی کو اس کا ساجھی اور سہیم نہ بنا دوسرے یہ کہ ظلم…
Read the full tafseer →The verse is a clear declaration of the prophet Musa (علیہ السلام) before Pharaoh that he was a messenger of Allah, the Lord of all the worlds, and that his status of prophethood does not allow him to ascribe anything but truth to Allah because the message given to the prophets by Allah is a sacred trust and it is a great sin to tamper with it. All the prophets of Allah are free of all sins and cannot do so. The prophet Musa (علیہ السلام) tried to convince them that they should believe him because his truthfulness was beyond question and that he had never uttered a word of lie. In addition to…
Read the full tafseer →85. 'Pharaoh' literally means 'the offspring of the sun-god'. The ancient Egyptians called the sun 'Ra', worshipped it as their supreme deity', and Pharaoh - Ra's physical manifestation and representative - was named after it. It was for this reason that all Egyptian rulers claimed their authority on the basis of their association with Ra, and every ruler who mounted the Egyptian throne called himself Pharaoh, trying thereby to assure his people that he was their supreme deity.
It may be noted that the Qur'anic narrative regarding Moses refers to two Pharaohs. The first of these was one…
Read the full tafseer →