Explained with ayahs 84–90
خلیل الرحمن کو بشارت اولاد
اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرما رہا ہے کہ خلیل الرحمن کو اس نے ان کے بڑھاپے کے وقت بیٹا عطا فرمایا جن کا نام اسحاق ہے اس وقت آپ بھی اولاد سے مایوس ہوچکے تھے اور آپ کی بیوی صاحبہ حضرت سارہ بھی مایوس ہوچکی تھیں جو فرشتے بشارت سنانے آتے ہیں وہ قوم لوط کی ہلاکت کیلئے جا رہے تھے۔ ان سے بشارت سن کر مائی صاحبہ سخت متعجب ہو کر کہتی ہیں میں بڑھیا کھوسٹ ہوچکی میرے خاوند عمر سے اتر چکے ہمارے ہاں بچہ ہونا تعجب کی بات ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا اللہ کی قدرت میں ایسے تعجبات عام ہوتے ہیں۔ اے نبی کے گھرانے والو تم پر رب کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اللہ بڑی تعریفوں والا اور بڑی…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 56
یعنی جس شرک میں تم لوگ مبتلا ہو اگر کہیں وہ بھی اسی میں مبتلا ہوئے ہوتے تو یہ مرتبے ہرگز نہ پاسکتے تھے۔ ممکن تھا کہ کوئی شخص کامیاب ڈاکہ زنی کر کے فاتح کی حیثیت سے دنیا میں شہرت پا لیتا، یا زر پرستی میں کمال پیدا کر کے قارون کا سا نام پیدا کرلیتا، یا کسی اور صورت سے دنیا کے بدکاروں میں نامور بدکار بن جاتا۔ لیکن یہ امام ہدایت اور امام المتقین ہونے کا شرف اور یہ دنیا بھر کے لیے خیر و صلاح کا سرچشمہ ہونے کا مقام تو کوئی بھی نہ پاسکتا اگر شرک سے مجتنب اور خالص خدا پرستی کی راہ پر ثابت قدم نہ ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
اس کے بعد کی چھ آیتوں میں سترہ انبیاء (علیہم السلام) کی فہرست شمار کی گئی ہے جن میں سے بعض حضرات ابراہیم ؑ کے آباء و اجداد ہیں، اور اکثر ان کی اولاد ہیں، اور بعض ان کے بھائی بھتیجے ہیں، ان آیتوں میں ایک طرف تو ان حضرات کا ہدایت پر ہونا، صالحین ہونا، صراط مستقیم پر ہونا بیان فرمایا گیا ہے۔ اور یہ بتلایا گیا ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے ہی اپنے دین کی خدمت کے لئے منتخب اور قبول فرما لیا ہے، اور دوسری طرف یہ جتلایا گیا ہے کہ ابراہیم ؑ نے اللہ کی راہ میں اپنے باپ اور برادری اور وطن کو چھوڑ دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے آخرت کے درجات عالیہ اور دائمی اور بےمثال راحتوں سے پہلے دنیا میں بھی ان کو اپنی…
Read the full tafseer →ہدایت وہ ہے جو انبیاء کو حاصل ہوئی : ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ ، یعنی یہی ہدایت جو ان تمام نبیوں کو اور ان کی پیروی کرنے والوں کو حاصل ہوئی، یہی اللہ کی ہدایت ہے، باقی اس کے سوا جتنی راہیں سب شیطان کی نکالی ہوئی ہیں۔ یہ راہ اللہ اپنے ان بندوں پر کھولتا ہے جن کے لیے چاہتا ہے۔“ جن کے لیے چاہتا ہے ”سے اشارہ اس سنت اللہ کی طرف ہے جو اس نے ایمان و ہدایت کے لیے مقرر کر رکھی ہے۔ اس کی وضاحت ہم ایک سے زیادہ مقامات میں کرچکے ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ بھی جن کو اللہ نے یہ مرتبے عطا فرمائے اگر کہیں شرک میں مبتلا ہوجاتے تو ان کا سارا کیا دھرا برباد ہو کے رہ جاتا۔ مجرد اس بنیاد پر ان کی برگزیدگی قائم نہ رہتی کہ یہ…
Read the full tafseer →88۔ 1 اٹھارہ انبیاء کے اسمائے گرامی ذکر کر کے اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے، اگر یہ حضرات بھی شرک کا ارتکاب کرلیتے تو ان کے سارے اعمال برباد ہوجاتے۔ جس طرح دوسرے مقام پر نبی ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ' اے پیغمبر ! اگر تو نے بھی شرک کیا تو تیرے سارے عمل برباد ہوجائیں گے، حالانکہ پیغمبروں سے شرک کا صدور ممکن نہیں۔ مقصد امتوں کو شرک کی خطرناک اور ہلاکت خیزی سے آگاہ کرنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–88
30: ایک صحیح حدیث میں آنحضرت ﷺ نے اس آیت میں لفظ ”ظلم“ کی تشریح شرک سے فرمائی ہے، کیونکہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے شرک کو ظلم عظیم قرار دیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–90
(آیت) ” نمبر 84 تا 90۔
(آیت) ” وَمِنْ آبَائِہِمْ وَذُرِّیَّاتِہِمْ وَإِخْوَانِہِمْ “۔ (6 : 87)
” اور ان کے آباء ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے ۔ “ اور اس قافلہ ایمان پر جو تبصرے کئے گئے ہیں ۔
(آیت) ” وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْنَ (84)
” اور ہم نیک کام کرنے والوں کو اسی طرح جزاء دیتے ہیں ۔
(آیت) ” وَکُلاًّ فضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِیْنَ (6 : 86)
” اور ان سب کو ہم نے تمام جہان والوں پر فضیلت دی ۔ “ اور
(آیت) ” وَإِخْوَانِہِمْ وَاجْتَبَیْْنَاہُمْ وَہَدَیْْنَاہُمْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (87)
” اور ہم نے انہیں منتخب کیا اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت کی ۔ “ ان تمام تبصروں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
4 یعنی خالص توحید اور معرفت و اطاعت خداوندی کا راستہ ہی وہ ہے۔ جس پر حق تعالیٰ اپنے فضل و توفیق سے مقبول بندوں کو چلاتا ہے پھر اس کے صلہ میں حسب استعداد درجات بلند کرتا ہے۔
5 یہ ہم کو سنایا گیا کہ شرک انسان کے تمام اعمال کو حبط کردیتا ہے اور کسی کی تو حقیقت کیا ہے اگر بفضل محال انبیاء و مقربین سے معاذ اللہ ایسی حرکت سرزد ہو تو سارا کیا دھرا اکارت ہوجائے۔
Read the full tafseer →آیت 88 ذٰلِکَ ہُدَی اللّٰہِ یَہْدِیْ بِہٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖط وَلَوْ اَشْرَکُوْا لَحَبِطَ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔
یہ انداز ہمیں سمجھانے کی غرض سے اختیار کیا گیا ہے کہ شرک کتنی بری شے ہے۔ ورنہ اس کا کوئی امکان نہیں تھا کہ ایسے اعلیٰ مراتب پر فائز اللہ کے عظیم الشان انبیاء و رسل شرک میں مبتلا ہوتے۔ بہر حال اللہ تعالیٰ کے نزدیک شرک ناقابل معافی جرم ہے ‘ جس کے بارے میں سورة النساء میں دو مرتبہ یہ الفاظ آ چکے ہیں : اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ ج آیت 48 و 116
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
88 ان سب انبیاء کی جماعت کے علاوہ ہم نے ان کے آباؤ اجداد، آل اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے بھی بہت سے لوگوں کو راہ راست کی طرف ہدایت سے مستفیض فرمایا تھا۔ اور اس ہدایت میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ وہ توحید پرست تھے اور شرک سے سخت بےزار تھے کیونکہ شرک ایسی بری بلا ہے کہ اگر مذکورہ بالا انبیاء بھی شرک کرتے تو ان کے سب اعمال برباد ہوجاتے۔ یہ بات بغرض تسلیم اور دوسروں کے لیے شدید تنبیہ کے طور پر بیان کی گئی ہے ورنہ انبیاء سے شرک کا صدور ناممکنات سے ہے۔ انبیاء کی تو بعثت کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ شرک کا استیصال کریں اور بندوں کا براہ راست اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑ دیں۔
Read the full tafseer →130 ۔ (اور ان کی بزرگ زادگی یا اور کوئی نسبت اضافی ذرا بھی کام نہ آتی) (آیت) ” یھدی بہ من یشآء من عبادہ “۔ بہ کی ضمیر ھدی اللہ کی طرف ہے او ھدی اللہ سے یہاں مراد توحید ومعروفت الہی ہے۔ یجب ان یکون المراد من ھذا الھدی معرفۃ التوحید وتنزیہ اللہ تعالیٰ عن الشرک (کبیر) (آیت) ” ولو اشرکوا “۔ بالفرض یہ شرک اعتقادی یا عملی میں مبتلا ہوئے ہوتے۔ جیسا کہ بائبل کے مختلف صحیفوں میں ان کے سرتھوپ دیا گیا ہے۔ (آیت) ” لحبط عنھم ما کانوا یعملون “۔ نبوت پر سرفراز وقائم رہنا کیا معنی، ایسی صورت میں تو وہ معمولی درجہ کے مومن بھی باقی نہیں رہ سکتے تھے، لیکن قرآن جب ان کے محسن و صالح ومہدی و افضل عالم ومجتبی وصاحب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–90
وَوَھَبْنَا لہ اسحاق ویعقوب، (الآیۃ) یعنی بڑھاپے میں، جب ابراہیم علیہ والصلوٰۃ والسلام اولاد سے ناامید ہوگئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے بیٹے کے ساتھ پوتے کی بھی بشارت دی جو کہ یعقوب بن اسحاق ہیں لفظ یعقوب میں اس طرف اشارہ ہے کہ ان کے بعد بھی ان کی اولاد کا سلسلہ چلے گا، اسلئے کہ یعقوب عقب سے مشتق ہے جس کے معنی میں یہ مفہوم شامل ہے۔
ومن ذریتہٖ ، ذریتہٖ کی ضمیر کا مرجع بعض مفسرین نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو قرار دیا ہے اسلئے کہ وہی اقرب ہے، یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی ذریت میں سے حضرت داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کو، اور بعض حضرات نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مرجع قرار دیا ہے اسلئے کہ پوری…
Read the full tafseer →ذلک ہدی اللہ یہدی بہ من یشآء من عبادہ یہی (دین توحید) اللہ کا بتایا ہوا ہے اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کی ہدایت کرتا ہے۔
ولو اشرکوا لحبط عنہم ما کانوا یعملون اور اگر وہ (پیغمبر بھی بالفرض) شرک کرتے تو جو کچھ (اچھے) اعمال وہ کرتے تھے سب اکارت چلے جاتے۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا ہے (پیغمبروں کی جلالت و عظمت بھی شرک کے بعد کسی عمل کو بربادی سے نہیں روکتی)
Read the full tafseer →(88) یہ صراط مستقیم دراصل اللہ کا دین ہے جو اس کا اہل ہوتا ہے، اس کو وہ عطا کرتا ہے اور اگر بالفرض یہ حضرات انبیاء اللہ کے ساتھ شرک کرتے تو ان کی تمام فرمانبرداری برباد ہوجاتی۔
Read the full tafseer →وَلَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ۔۔ : اٹھارہ پیغمبروں کا نام لے کر، ان کے ساتھ ان کے آباء، اولاد اور اخوان کا ذکر کر کے فرمایا کہ اگر بفرض محال نبی یا اس کے قرابت دار بھی شرک کر بیٹھتے تو ان کا کیا کرایا سب ضائع ہوجاتا۔ کیونکہ شرک کے ساتھ کوئی بڑے سے بڑا عمل بھی قبول نہیں، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا : (لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ) [ الزمر : 65 ] ”اگر آپ نے شرک کیا تو آپ کا بھی تمام عمل ضائع ہوجائے گا۔“ پیغمبر سے شرک ہونا تو ممکن نہیں، یہ سب کچھ امتیوں کو سنایا جا رہا ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر۔ 88
قولہ تعالیٰ آیت : ذلک ھدی اللہ یھدی بہ من یشآء من عبادی ولو اشرکو یعنی اگر وہ میرے سوا کسی کی عبادت کرتے تو یقینا ان کے اعمال ضائع ہوجاتے، لیکن میں نے انہیں محفوظ رکھا، بچا لیا۔ حبوط کا معنی بطلان ( باطل ہونا) ہے۔ اس کا بیان سورة البقرہ میں گزر چکا ہے (معانی القرآن للنحاس، جلد 2، صفحہ 455 ) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
(1) امام ابن ابی حاتم نے ابو الحرب بن ابوالاسود (رح) سے روایت کیا کہ حجاج نے یحییٰ بن یعمر کی طرف لکھ بھیجا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ حسن اور حسین ؓ نبی ﷺ کی اولاد میں سے ہیں اور تو اس کو اللہ کی کتاب میں پاتا ہے۔ اور میں نے اس کو اول سے لے کر آخر تک پڑھا ہے۔ مگر میں نے اس کو نہیں پایا۔ تو یحییٰ بن یعمر نے فرمایا کیا تو نے سورة انعام نہیں پڑھی لفظ آیت ومن ذریتہ داؤد وسلیمن سے لے کر لفظ آیت ویحییٰ و عیسیٰ تک اور فرمایا کیا عیسیٰ ابراہیم کی اولاد میں سے نہیں ہیں حالانکہ وہ ان کے باپ نہیں ہیں حجاج نے کہا تو نے سچ کہا ہے۔
(2) امام ابو الشیخ، حاکم اور بیہقی نے عبد المالک بن عمیر (رح) سے روایت…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ [ یہ ] هُدَى اللّٰهِ [ اللہ کی ہدایت ہے ] يَهْدِيْ [ وہ ہدایت دیتا ہے ] بِهٖ [ اس کی ] مَنْ [ اس کو جس کو ] يَّشَاۗءُ [ وہ چاہتا ہے ] مِنْ عِبَادِهٖ ۭ [ اپنے بندوں میں سے ] وَلَوْ [ اور اگر ] اَشْرَكُوْا [ وہ لوگ شرک کرتے ] لَحَبِطَ [ تو یقینا اکارت ہوجاتا ] عَنْهُمْ [ ان سے ] مَّا [ وہ جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [ وہ لوگ کرتے تھے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (ذٰلِکَ ھُدَی اللّٰہِ یَھْدِیْ بِہٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ ) یہ صراط مستقیم کی ہدایت اللہ کی ہدایت ہے اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کی ہدایت فرما دے، اس میں یہ بتایا کہ ہدایت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے کسی کو زعم نہیں ہونا چاہئے کہ میں صاحب ہدایت ہوں۔ حضرات انبیاء ہوں یا اولیاء سب اللہ تعالیٰ ہی طرف سے ہدایت یافتہ ہیں سب کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی ہے اور صراط مستقیم پر باقی رکھا۔
پھر فرمایا (وَ لَوْ اَشْرَکُوْا لَحَبِطَ عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) (اور اگر یہ لوگ شرک کرتے تو جو عمل کیا کرتے تھے وہ سب ثواب کے اعتبار سے باطل ہوجاتے) کیونکہ شرک اور کفر تمام اعمال کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–90
ابطال شرک اثبات توحید وحشر۔
قال اللہ تعالیٰ قل اندعو من دون اللہ مالاینفعنا ولایضرنا۔۔۔ الی۔۔۔ الخبیر۔
ربط) ۔ اوپر سے توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال چلا آرہا ہے اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ جو دین اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں ان کو اتنی عقل نہیں کہ قابل مضحکہ یہ امر ہے کہ ایسی ذات کو معبود بنالیاجائے کہ جو کسی قسم کے نفع اور نقصان کی مالک نہ ہو ہنسی کے قابل تو یہ بات ہے کہ یہ بت پرست ہیں جو جہالتوں اور ضلالتوں میں حیران اور سرگرداں ہیں چناچہ فرماتے ہیں آپ ان مشرکوں سے یہ کہہ دیجئے کہ کیا ہم اللہ کے سوا کسی ایسی چیز کو اپنی حاجت روائی کے لیے پکاریں گے جو نہ ہم کو کچھ نفع ہی پہنچا سکتی…
Read the full tafseer →92 ذٰلِکَ ھَدَیْنٰہُمْ سے مفہوم مصدر کی طرف اشارہ ہے ای الھدی الی الطریق المستقیم ھو ھدی اللہ (بحر ج 4 ص 175، روح ج 7 ص 215) وَ لَوْ اَشْرَکُوْا الخ اس کی ضمیر سے تمام انبیاء (علیہم السلام) مراد ہیں جن کا پہلے صراحۃً یا کنایۃً ذکر ہوچکا ہے۔ انبیاء (علیہم السلام) کا شرک کرنا اگرچہ محال ہے لیکن اگر بالفرض وہ بھی شرک کر گذرتے تو ان کے بھی تمام اعمال ضائع ہوجاتے اس تعبیر کے شرک کی انتہائی شناعت و قباحت کا ذکر کرنا مقصود ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–90
ربط آیات
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دلیل کا ذکر ہوچکا ہے جو انہوں نے توحید باری تعالیٰ کے حق میں اپنی قوم کے سامنے پیش کی۔ پھر اللہ نے بطور احسان فرمایا کہ یہ دلیل ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو سمجھائی۔ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کی اولاد پر کئے گئے احسانات کا ذکر بھی کیا ‘ آپ کو جلیل القدر اور عالی مرتبت بیٹے عطا کئے جن کی نسل سے ہزاروں انبیاء مبعوث ہوئے۔ اولاد کا نجیب ہونا باعث شرف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جدامجد حضرت نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ بھی کیا کہ موجودہ نبی نوع انسان آپ ہی کی اولاد ہے ۔ طوفان نوح میں تمام کافر مشرک ہلاک ہوگئے تھے اور…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ ہُدَى اللہِ يَہْدِيْ بِہٖ مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِہٖ 0ۭ وَلَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْہُمْ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 88
عبادت
العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان :
عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود .
وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] .
( ع ب د ) العبودیۃ
کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–90
ترکیب : تلک مبتداء حجتنا موصوف اتیناھا صفت مجموعہ خبر علی متعلق ہے محذوف سے ای حجۃ علی قومہ درجات بالا ضافۃ والتنوین اول صورت میں یہ مفعول ہے نرفع کا دوسری میں من مفعول ہے اور درجات یا ظرف ہے یا حرف جر محذوف ہے ای الیٰ درجات۔ کلا منصوب ہے ھدینا سے ومن آباء ھم معطوف ہے کلا پر ای و فضلنا کلامن ابائہم او وھدینا کلامن ابائہم۔
تفسیر : فرماتا ہے یہ حجتیں ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی قوم کے مقابلہ میں ہم نے دی تھیں۔ ہم جس کو چاہتے ہیں بلند مرتبہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں سے چودہ (14) انبیاء کا ذکر کیا اور ان کے جد امجد نوح (علیہ السلام) کا بھی ذکر کیا تاکہ یہ معلوم…
Read the full tafseer →ذٰلِکَ ھُدَی اللہِ یَھْدِیْ بِہٖ مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ ط وَلَوْ اَشْرَکُوْا لَحَبِطَ عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (الانعام : 88)
(یہ اللہ کی ہدایت ہے اس سے وہ سرفراز فرماتا ہے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اور اگر وہ شرک کرتے تو ان کا سارا کیا دھرا اکارت ہو کر رہ جاتا)
اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے
اس آیت کریمہ میں سب سے پہلے ھُدَی اللہِ پر زور دیا گیا ہے ” یہ اللہ کی ہدایت ہے “ یعنی زندگی کا طریقہ جس پر چل کر دنیا اور آخرت دونوں سنور سکتی ہیں اور زندگی صحیح رخ پر رواں دواں رہ سکتی ہے اور انفرادی اور اجتماعی مصالح ٹھیک ٹھیک بروئے کار لائے جاسکتے ہیں اور انسانی تہذیب و…
Read the full tafseer →یہاں ہدایت سے پہلی مراد اللہ کی توحید ہے کیونکہ اس عقیدے کے بغیر کوئی عبادت بھی قابل قبول نہیں ہوتی۔ عقیدۂ توحید کی ضد شرک ہے جو ہر برائی کا منبع، عظیم گناہ اور انتہا درجے کا ظلم ہے اس لیے یہاں اٹھارہ عظیم المرتبت ہستیوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اگر یہ ہستیاں بھی شرک کا ارتکاب کرتیں تو ان کی زندگی بھر کی عبادت و ریاضت ضائع کردی جاتی۔
(عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ ؓ عَنْ أَبِیہٖ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ أَلَا أُنَبِّءُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَاءِرِ ثَلَاثًا قَالُوا بَلٰی یَا رَسُول اللّٰہِ قَالَ اَلْإِشْرَاک باللَّہِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَیْنِ وَجَلَسَ وَکَانَ مُتَّکِءًا فَقَالَ…
Read the full tafseer →آیت 88 : ذٰلِکَ وہ جس کو اختیار کیا ان مذکورہ بالا حضرات نے ہُدَی اللّٰہِ اللہ کا دین یَہْدِیْ بِہٖ مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖاس میں معتزلہ کی تردید ہے کیونکہ ان کا قول ہے ان اللہ شاء ہدایۃ الخلق کلہم۔ لکنہم لم یہتدوا کہ اللہ تعالیٰ نے تو تمام مخلوق کو ہدایت دینا چاہا مگر انہوں نے ہدایت نہ پائی۔
مذمت شرک کیا انوکھا انداز :
وَلَوْ اَشْرَکُوْاباوجود اپنے فضل و کمال اور بلند درجات کے لَحَبِطَ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ تو ان کے اعمال باطل ہوجائیں۔ جیسا کہ دوسرے موقع پر فرمایا لئن اشرکت لیحبطن عملک (الزمر 65)
Read the full tafseer →(88) (ذلک ھدی اللہ) اللہ کا دین ہے (یھدی بہ من یشآء من عبادہ ذولوا شرکوا) یعنی جن کا ہم نے نام لیا (لخبط عنھم ما کانوا یعملون)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–89
(83 ۔ 89) ۔ اوپر کی آیتوں میں ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور اپنی قوم کو جن دلیلوں سے قائل کیا انہی کو فرمایا کہ وہ دلیلیں الہام کے طور پر اللہ تعالیٰ نے ابراہیم خلیل اللہ کے دل میں ڈالی تھی پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح ابراہیم خلیل اللہ کا مرتبہ بڑھایا کہ انہوں نے نمردو جیسے بادشاہ اور اپنے باپ اور قوم سب کو قائل کیا اسی طرح اے رسول اللہ کے اللہ اپنی حکمت اور اپنے علم سے جس کا چاہے مرتبہ بڑھا دیوے اس حکمت اور علم کے آگے کسی کی کوئی تدبیر نہیں چل سکتی اس میں آنحضرت ﷺ کو گویا یہ تسلی فرمائی گئی ہے کہ اگرچہ یہ اہل مکہ اسلام کے کمزور کرنے کی تدبیریں کر رہے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–90
آیت 84
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندے اور خلیل ابراہیم کا اور اپنے اس احسان کا ذکر کیا کہ اللہ نے ان کو علم، دعوت اور صبر سے نوازا تو اب ذکر فرما رہا ہے کہ صالح اور پاک نسل کے ذریعے سے بھی اللہ نے ان کو بڑی تکریم بخشی، اللہ نے مخلوق میں سے منتخب اور چنے ہوئے لوگ حضرت ابراہیم کی نسل میں سے بنائے اور یہ اتنی بڑی منقب اور اتنی زیادہ عزت افزائی ہے کہ اس کی مثال نہیں ملتی، چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ووھبنا لہ اسحاق ویعقوب) ” اور ہم نے عطا کئے اسے اسحاق اور یعقوب “ یعقوب یعنی اسحاق کے فرزند جن کو اسرائیل کہا جاتا ہے۔ ایک بڑے گروہ کے باپ جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–89
قول باری ہے ( وتلک حجتنا اتینا ھا ابراہیم علی قومہ۔ یہ تھی ہماری وہ حجت جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قول کے مقابلہ میں عطا کی ) یعنی ۔۔۔۔ واللہ اعلم۔۔۔۔۔ تارے، چاند اور سورج کے حدوث پر مذکورہ استدلال ، نیز یہ کہ جو چیز حدوث کی ان کیفیات کی حامل ہوگی جس طرح مذکورہ بالا تینوں اجرام فلکی حالم ہیں وہ الہ اور معبود نہیں بن سکتی ۔ پھر جب یہ بات ان لوگوں کے ذہنوں میں اتر گئی تو حضرت ابراہیم نے پوچھا ( فای الفریقین احق بالامن ۔ بتائو، ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بےخوفی اور اطمینان کا مستحق ہے) آیا وہ اس کا زیادہ مستحق ہے جو ایک الہ کی عبادت کرتا ہے یا وہ جس نے مختلف الہ بنا رکھے ہیں ؟ انہوں نے جواب…
Read the full tafseer →154 طلب صادق وسیلہ سرفرازی : سو ہدایت سے سرفرازی کیلئے بنیادی شرط طلب صادق ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ذریعے وہ راہنمائی فرماتا ہے جس کی چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے۔ کہ نور حق و ہدایت سے سرفرازی کیلئے اولین اساس اور بنیادی شرط طلب صادق ہے۔ اللہ پاک اسی پر نوازتا ہے کہ وہ ہر ایک کی نیت و ارادے سے بھی واقف ہے اور ان کی اہلیتوں اور صلاحیتوں کو بھی پوری طرح جانتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ یہی اللہ کی ہدایت ہے جو ان تمام انبیائے کرام کو اور ان کی پیروی کرنے والوں کو نصیب ہوئی۔ یہی اللہ کی ہدایت ہے جو انسان کو حق و ہدایت کی سیدھی راہ سے سرفراز کرتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–89
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی فضیلت، اللہ کی مہربانیاں اور خوشخبری
تشریح : ان آیات میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات، ان کی فضیلت اور پھر ایمان کی برکتیں، ان برکتوں میں سکون قلب کے علاوہ نیک آباؤ اجداد، آل اولاد اور عزیز و اقربا بھی شامل ہیں آخر میں آنحضرت ﷺ کو خوشخبری دی گئی ہے۔
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں کچھ معلومات پچھلی آیات میں دی گئی ہیں۔ سب سے بڑی فضیلت جو رب تعالیٰ نے ان کو دی وہ تھی راہ ہدایت کا تحفہ، پھر ان کی تعلیمات جن کی بنیاد توحید، یعنی اللہ کا واحد ہونا۔ اس کے ساتھ کسی بھی چیز، مخلوق یا نباتات و حیوانات کو شریک نہ کرنا۔ اللہ بس ایک ہی ہے ہمیشہ سے ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–91
رکوع نمبر 10 ۔ آیات 84 ۔ تا۔ 91 ۔
اسرار و معارف :
کمال انبیاء (علیہم السلام) :
ایک بہت بڑے مسئلے کو عام فہم زبان میں ایسے مضبوط دلائل کے ساتھ بیان کردینا بھی انعامات باری کی بہت بڑی دلیل ہے اللہ کریم اپنے احسانات میں شمار فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ قوم کو اس طرح لاجواب کردینے وال ازور خطابت ابراہیم (علیہ السلام) کو ہم نے عطا فرمایا تھا اور انبیاء کا کمال یہی ہوتا ہے کہ بہ تمشکل بات نہایت آسان الفاظ میں اور دلیل کے ساتھ ارشاد فرما دیتے ہیں ورنہ یوں تو فلاسفہ بڑی بڑی بحثیں لکھتے اور بیان کرتے ہیں مگر نہ آج تک کسی بات کا حتمی جواب دے سکے اور نہ عام آدمی ان کی بات کو سمجھ سکا یہ فرق اہل اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
ف 1 یعنی بفرض محال اگر نبی ہو کر بھی شرک کر بیٹھے تو ان کا کیا کرایا سب اکارت ہوتا کیونکہ شرک کے ساتھ کوئی بڑے سے بڑا عمل بھی عمل قبول نہیں ہوتا۔ (وحیدی)
Read the full tafseer →(6:88) حبط عن۔ الحبط (حسب یحسب) کے معنی کسی کام کے ضائع ہوجانے اور اکارت ہونے کے ہیں۔ آیۃ ہذا۔ اور اگر وہ لوگ شرک کرتے تو جو عمل وہ کرتے تھے سب ضائع ہوجاتے۔ ارشاد ہے لیحبطن عملک (39:65) تو یقینا تمہارے عمل برباد ہوجائیں ۔ حبط عنہ ای ذھب عنہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
لغات القرآن : آیت نمبر 84 تا 88 :
وھبنا (ہم نے عطا کیا) نجری (ہم بدلہ دیتے ہیں) فضلنا ( ہم نے بڑائی دی) اجتبیان ( ہم نے منتخب کرلیا۔ چن لیا) حبط ( ضائع ہوگیا)
تشریح : آیت نمبر 84 تا 88 :
حضرت ابراہیم ؐ نے اللہ کے بھروسے دل کے اطمینان سے مسلح ہو کر شرک کی طاقتوں کے خلاف توحید کا پرچم لے کر جس محنت ‘ قربانی اور بےخوفی کا مظاہرہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے دوسرے انعامات کے علاوہ انہیں پیغمبروں کا جدا مجد بنادیا۔ یہاں پر جن سترہ پیغمبروں کے نا لئے گئے ہیں ان میں ایک حضرت نوح (علیہ السلام) خود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جد امجد تھے۔ پیغمبر ہونا ‘ پیغمبر کا باپ دادا وغیرہ ہونا ‘ پیغمبر کا بیٹا (بیٹی)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
نبیوں کی فضیلت کا ذکر
یہاں اللہ تعالیٰ نے اٹھارہ انبیاء کا ذکر فرمایا۔ اس ذکر میں نہ ترتیب زمانہ کے اعتبار سے ہے نہ فضیلت کے۔ لیکن عجیب شان سے ذکر فرمائے گئے ہیں وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی ہر ایک جماعت کو ایک خاص طرح کی کرامت و فضیلت کے ساتھ ممتاز فرمایا ہے۔ یعنی ہم نے ابراہیم، اسحق، یعقوب، داود، سلیمان، ایوب موسیٰ اور ہارون علیہم الصلوۃ والسلام کو مراتب عطا کئے اور سب کو ہدایے کی اور نوح کو بھی ہم نے ہدایت کی۔ نیکوں کو اسی طرح ہدایت کرتے ہیں اور ہم نے زکریا اور یحیٰ اور عیسیٰ اور الیاس علیہم لصلوۃ ولسلام کو ہدایت کی۔ یہ سب کے سب نیک بخت اور صالح تھے اور ہم نے ہدایت کی اسماعیل اور یسع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
[30] مطلب یہ ہے کہ اگر کفار و مشرکین اللہ کی ہدایت کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو کریں۔ اللہ نے اہل ایمان کا ایسا گروہ پیدا کردیا ہے جو اس نعمت کی قدر کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
(ف 1) ان آیات میں توحید کے علمبرداروں کی ایک مختصر سی فہرست پیش کی ہے اور بتایا ہے ، کہ ان کے تمام فضائل ان کی ساری بزرگیاں محض اس وجہ سے تھیں ، کہ یہ لوگ موحد تھے خدا کے پرستار تھے ، صراط مستقیم پر گامزن تھے ، صداقت ، اور سچائی کے رہ سپار تھے ، ورنہ شرک اور بت پرستی اعمال کر ضائع کردیتی ہے ۔
” اللھم اغفر لکاتیبہ ولمن سعے فیہ ولوالد یھم اجمعین ، امین “۔
Read the full tafseer →-88 یہ ہدایت و رہنمائی اللہ تعالیٰ کی ہدایت و رہنمائی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے ہدایت عطا فرماتا ہے اور جس کی چاہتا ہے اس کی ہدایت کے ساتھ رہنمائی فرماتا ہے اور اگر یہ انبیاء باوجود اپنی علوشان اور مراتب علیا کے خدانخواستہ بالفرض شرک کرتے اور مشرکانہ رویہ اختیار کرتے تو ان کے وہ تمام اعمال صالحہ اور پسندیدہ نیست و نابود ہوجاتے جو یہ کیا کرتے تھے یعنی اگر نیک لوگ بھی شرک کے مرتکب ہوں تو ان کی سب نیکیاں برباد اور اکارت ہوجائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–89
ف 7۔ مطلب یہ کہ ڈرنا چاہیے تم کو پھر مجھ کو الٹا ڈراتے ہو۔
Read the full tafseer →ہدایت یافتہ لوگ وہی ہیں جو ہمیشہ ہدایت پر رہتے ہیں :
135: شرک اور ہدایت الٰہی کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔ ہدایت یافتہ وہی ہے جو شرک کے قریب نہ جائے۔ قرآن کریم بار بار اس بات کا اعلان کرتا ہے لیکن ہمارے علمائے کرام کو نہ معلوم یہ بات کیوں پسند نہیں اور وہ کبیہ کسی نبی پر اور کبھی کسی نبی پر شرک کا الزام دینے لگتے ہیں۔ خود ہی دھبے ڈالتے ہیں اور پھر خود ہی ان کو دھونے لگ جاتے ہیں اور اس دھبے ڈالنے اور دھونے کا نام انہوں نے علم رکھا ہے۔ نبی تو نبی ہوتا ہے اگرچہ وہ ماں کے پیٹ میں ہو لیکن ہم تو یہ بات جانتے ہیں کہ اللہ کے نیک بندے اگرچہ وہ نبی نہ ہوں وہ بھی ہمیشہ شرک کی آلودگیوں سے پاک و صاف رہتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
In the six verses (84-89) appearing after that, there is a list of seventeen blessed prophets, some of whom are the forefathers of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) while most are his progeny, with some being his brothers or nephews. On the one hand, described in these verses is their being Divinely guided, righteous in conduct and firm on the straight path, along with the fact that Allah Ta` ala has chosen and blessed has been stressed them to serve His religion. On the other hand, it has been stressed that, in return for the sacrifice of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) who had disassociated…
Read the full tafseer →56. Had those people also ascribed partners to God like the people of Arabia, they would not have achieved the positions they had attained.Some might perhaps have earned places in the rogues' gallery of history as either ruthless conquerors or monuments to greed. But had they not shunned polytheism and adhered to their exclusive and unadulterated devotion to God, they would certainly neither have had the honour of becoming the source of light and guidance to others nor of assuming the leadership of the pious and the God-fearing.
Read the full tafseer →