Explained with ayahs 84–90
خلیل الرحمن کو بشارت اولاد
اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرما رہا ہے کہ خلیل الرحمن کو اس نے ان کے بڑھاپے کے وقت بیٹا عطا فرمایا جن کا نام اسحاق ہے اس وقت آپ بھی اولاد سے مایوس ہوچکے تھے اور آپ کی بیوی صاحبہ حضرت سارہ بھی مایوس ہوچکی تھیں جو فرشتے بشارت سنانے آتے ہیں وہ قوم لوط کی ہلاکت کیلئے جا رہے تھے۔ ان سے بشارت سن کر مائی صاحبہ سخت متعجب ہو کر کہتی ہیں میں بڑھیا کھوسٹ ہوچکی میرے خاوند عمر سے اتر چکے ہمارے ہاں بچہ ہونا تعجب کی بات ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا اللہ کی قدرت میں ایسے تعجبات عام ہوتے ہیں۔ اے نبی کے گھرانے والو تم پر رب کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اللہ بڑی تعریفوں والا اور بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–87
سورة الْاَنْعَام 55
یہ پوری تقریر اس بات پر شاہد ہے کہ وہ قوم اللہ فاطر السّمٰوات والارض کی ہستی کی منکر نہ تھی بلکہ اس کا اصلی جرم اللہ کے ساتھ دوسروں کو خدائی صفات اور خداوندانہ حقوق میں شریک قرار دینا تھا۔ اول تو حضرت ابراہیم ؑ خود ہی فرما رہے ہیں کہ تم اللہ کے ساتھ دوسری چیزوں کو شریک کرتے ہو۔ دوسرے جس طرح آپ ان لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے اللہ کا ذکر فرماتے ہیں، یہ انداز بیان صرف انہی لوگوں کے مقابلہ میں اختیار کیا جاسکتا ہے جو اللہ کے نفس وجود سے منکر نہ ہوں۔ لہٰذا ان مفسرین کی رائے درست نہیں ہے جنھوں نے اس مقام پر اور حضرت ابراہیم ؑ کے سلسلہ میں دوسرے مقامات پر قرآن کے بیانات کی تفسیر اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
اس کے بعد کی چھ آیتوں میں سترہ انبیاء (علیہم السلام) کی فہرست شمار کی گئی ہے جن میں سے بعض حضرات ابراہیم ؑ کے آباء و اجداد ہیں، اور اکثر ان کی اولاد ہیں، اور بعض ان کے بھائی بھتیجے ہیں، ان آیتوں میں ایک طرف تو ان حضرات کا ہدایت پر ہونا، صالحین ہونا، صراط مستقیم پر ہونا بیان فرمایا گیا ہے۔ اور یہ بتلایا گیا ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے ہی اپنے دین کی خدمت کے لئے منتخب اور قبول فرما لیا ہے، اور دوسری طرف یہ جتلایا گیا ہے کہ ابراہیم ؑ نے اللہ کی راہ میں اپنے باپ اور برادری اور وطن کو چھوڑ دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے آخرت کے درجات عالیہ اور دائمی اور بےمثال راحتوں سے پہلے دنیا میں بھی ان کو اپنی…
Read the full tafseer →وَمِنْ اٰبَاۗىِٕهِمْ وَذُرِّيّٰتِهِمْ الایۃ، یعنی یہ ہدایت صرف ان نبیوں تک ہی محدود نہیں رہی، ان کے باپ دادوں، ان کی آل اولاد اور ان کے بھائی بندوں میں سے بھی کتنوں کو یہ سعادت حاصل ہوئی۔ فرمایا کہ ہم نے انہیں بھی اپنی راہ دکھائی، انہیں برگزیدہ کیا اور ان کو صراط مستقیم کی ہدایت بخشی۔ اجتباہ، سے مراد یہاں وہ برگزیدگی ہے جو اللہ نے اپنی توحید اور ہدایت کی دعوت و اشاعت کے لیے ان کو بخشی، صراط مستقیم سے مراد یہاں توحید کی راہ ہے۔ اور اس کی تنکیر یہاں تفخیم شان کے پہلو سے ہے۔
Read the full tafseer →87۔ 1 آبا سے اصول اور ذریات سے فروع مراد ہے۔ یعنی ان اصولوں و فروع اور اخوان میں سے بھی بہت سوں کو ہم نے مقام ہدائیت سے نوازا آجتِیْبِآءُ کے معنی چن لینا اور اپنے خاص بندوں میں شمار کرنا اور ان کے ساتھ ملا لینا۔ یہ جَبِبْتُ المَآ ءَ فِی الحَوضِ (میں نے حوض میں پانی بھر لیا) سے مشتق ہے۔ پس اپنے خاص بندوں میں ملا لینا۔ اصطفاء تخلیص اور اختیار بھی اسی معنی میں مستعمل ہے جب کا مفعول مصطفیٰ مجتبی مخلص اور مختار ہے (فتح القدیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–88
30: ایک صحیح حدیث میں آنحضرت ﷺ نے اس آیت میں لفظ ”ظلم“ کی تشریح شرک سے فرمائی ہے، کیونکہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے شرک کو ظلم عظیم قرار دیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–90
(آیت) ” نمبر 84 تا 90۔
(آیت) ” وَمِنْ آبَائِہِمْ وَذُرِّیَّاتِہِمْ وَإِخْوَانِہِمْ “۔ (6 : 87)
” اور ان کے آباء ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے ۔ “ اور اس قافلہ ایمان پر جو تبصرے کئے گئے ہیں ۔
(آیت) ” وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْنَ (84)
” اور ہم نیک کام کرنے والوں کو اسی طرح جزاء دیتے ہیں ۔
(آیت) ” وَکُلاًّ فضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِیْنَ (6 : 86)
” اور ان سب کو ہم نے تمام جہان والوں پر فضیلت دی ۔ “ اور
(آیت) ” وَإِخْوَانِہِمْ وَاجْتَبَیْْنَاہُمْ وَہَدَیْْنَاہُمْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (87)
” اور ہم نے انہیں منتخب کیا اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت کی ۔ “ ان تمام تبصروں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
4 یعنی خالص توحید اور معرفت و اطاعت خداوندی کا راستہ ہی وہ ہے۔ جس پر حق تعالیٰ اپنے فضل و توفیق سے مقبول بندوں کو چلاتا ہے پھر اس کے صلہ میں حسب استعداد درجات بلند کرتا ہے۔
5 یہ ہم کو سنایا گیا کہ شرک انسان کے تمام اعمال کو حبط کردیتا ہے اور کسی کی تو حقیقت کیا ہے اگر بفضل محال انبیاء و مقربین سے معاذ اللہ ایسی حرکت سرزد ہو تو سارا کیا دھرا اکارت ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–87
آیت 84 وَوَہَبْنَا لَہٗٓ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَط کُلاًّ ہَدَیْنَاج وَنُوْحًا ہَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّیَّتِہٖ دَاوٗدَ وَسُلَیْمٰنَ وَاَیُّوْبَ وَیُوْسُفَ وَمُوْسٰی وَہٰرُوْنَط وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ
یعنی یہ لوگ ایمان کی اس بلند ترین منزل پر فائز تھے جس کے بارے میں ہم سورة المائدۃ میں پڑھ آئے ہیں : ثُمَّ اتَّقَوْا وَاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْاط واللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
88 ان سب انبیاء کی جماعت کے علاوہ ہم نے ان کے آباؤ اجداد، آل اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے بھی بہت سے لوگوں کو راہ راست کی طرف ہدایت سے مستفیض فرمایا تھا۔ اور اس ہدایت میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ وہ توحید پرست تھے اور شرک سے سخت بےزار تھے کیونکہ شرک ایسی بری بلا ہے کہ اگر مذکورہ بالا انبیاء بھی شرک کرتے تو ان کے سب اعمال برباد ہوجاتے۔ یہ بات بغرض تسلیم اور دوسروں کے لیے شدید تنبیہ کے طور پر بیان کی گئی ہے ورنہ انبیاء سے شرک کا صدور ناممکنات سے ہے۔ انبیاء کی تو بعثت کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ شرک کا استیصال کریں اور بندوں کا براہ راست اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑ دیں۔
Read the full tafseer →129 ۔ جتنے حضرات کا اوپر ذکر آچکا ہے، یہ سب انبیاء صادقین تھے۔ اللہ کے مقبول و برگزیدہ، ان کے فسق اعتقادی وعملی سے متعلق جتنی بھی روایات شائع ہوں، اگرچہ وہ بائبل ہی کے ذریعہ سے ہوں، سب کی سب موضوع و باطل ہیں، (آیت) ” من ابآءھم میں من تبعیضیہ ہے ” کچھ “ کے معنی میں۔ من للتبیعض ای ھدینا بعض اباءھم وذریاتھم (قرطبی) (آیت) ” واجتبینھم وھدینھم “۔ ھم کی ضمیر انہی انبیاء (علیہ السلام) کی جانب ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اجتباء کا حاصل جذب ہے اور ہدایت کا حاصل سلوک ہے (آیت) ” ومن ابآءھم وذریتھم واخوانھم “۔ میں حق تعالیٰ نے حضرت انبیاء کے آباء اور اولاد اخوان یعنی اصول و فروع وفروع اصول تینوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–90
وَوَھَبْنَا لہ اسحاق ویعقوب، (الآیۃ) یعنی بڑھاپے میں، جب ابراہیم علیہ والصلوٰۃ والسلام اولاد سے ناامید ہوگئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے بیٹے کے ساتھ پوتے کی بھی بشارت دی جو کہ یعقوب بن اسحاق ہیں لفظ یعقوب میں اس طرف اشارہ ہے کہ ان کے بعد بھی ان کی اولاد کا سلسلہ چلے گا، اسلئے کہ یعقوب عقب سے مشتق ہے جس کے معنی میں یہ مفہوم شامل ہے۔
ومن ذریتہٖ ، ذریتہٖ کی ضمیر کا مرجع بعض مفسرین نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو قرار دیا ہے اسلئے کہ وہی اقرب ہے، یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی ذریت میں سے حضرت داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کو، اور بعض حضرات نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مرجع قرار دیا ہے اسلئے کہ پوری…
Read the full tafseer →ومن ابآۂم وذریتہم واخوانہم واجتبینہم وہدینہم الی صراط مستقیم اور ان کے باپ دادا اور نسل اور بھائیوں میں سے بعض کو (ہم نے ہدایت کی یا بزرگی عطا کی) اور ان کو برگزیدہ بنایا اور سیدھا راستہ دکھایا۔ ومن ابآۂم کا عطف کلاًّپر ہے یعنی ہم نے بزرگی عطا کی یا نوحا پر عطف ہے یعنی ہم نے ہدایت کی اور منتبعیضیہ ہے یعنی ان کی اصل نسل اور بھائیوں میں سے بعض کو برتری دی یا ہدایت کی کیونکہ سب کے سب پیغمبر نہ ہوئے نہ ہدایت یافتہ۔
Read the full tafseer →(87) اور ہم نے حضرت آدم ؑ شیث ؑ ادریس ؑ نوح ؑ ھود ؑ صالح ؑ اور حضرت یعقوب ؑ کی اولاد اور یوسف ؑ کے بھائیوں کو نبوت واسلام کے ذریعے فضیلت عطا کی ہے اور ہم نے انکو مقبول بنایا اور صراط مستقیم پر ثابت قدمی عطا کی۔
Read the full tafseer →وَمِنْ اٰبَاۗىِٕهِمْ۔۔ : یعنی ان کے باپ دادا اور پڑدادا اوپر تک اور ان کے بیٹوں، پوتوں، پر پوتوں نیچے تک اور ان کے بھائیوں میں سے جو بھی ایمان دار تھے انھیں بھی ہم نے ہدایت پر لگایا اور بزرگی دی۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →آیت نمبر 87۔
قولہ تعالیٰ آیت : ومن ابآئھم و ذریٰتھم اس میں من تبعیض کے لیے ہے، یعنی ہم نے ان کے باپ دادوں، ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے بعض کو ہدایت دی۔
واجتبینٰھم حضرت مجاہد نے کہا ہے : اس کا معنی ہے ہم نے انہیں خالص کردیا، اور یہ اہل لغت کے نزدیک بمعنی اخترنا ھم (ہم نے انہیں چن لیا) ہے۔ یہ جبیت الماء فی الحوض سے مشتق ہے یعنی میں نے پانی حوض میں جمع کرلیا۔ اور اجتباء کا معنی وہ شی ہے جسے تو چن رہا ہے اسے اپنے خواض کے ساتھ ملا رہا ہے۔ کسائی نے کہا ہیت : جبیت الماء فی الحوض جبیا یہ مقصود ہے ( یعنی میں نے پانی کو حوض میں بند کردیا) اور الجابیہ کا معنی حوض ہے، جیسے کسی نے کہا :
کجابیۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
(1) امام ابن ابی حاتم نے ابو الحرب بن ابوالاسود (رح) سے روایت کیا کہ حجاج نے یحییٰ بن یعمر کی طرف لکھ بھیجا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ حسن اور حسین ؓ نبی ﷺ کی اولاد میں سے ہیں اور تو اس کو اللہ کی کتاب میں پاتا ہے۔ اور میں نے اس کو اول سے لے کر آخر تک پڑھا ہے۔ مگر میں نے اس کو نہیں پایا۔ تو یحییٰ بن یعمر نے فرمایا کیا تو نے سورة انعام نہیں پڑھی لفظ آیت ومن ذریتہ داؤد وسلیمن سے لے کر لفظ آیت ویحییٰ و عیسیٰ تک اور فرمایا کیا عیسیٰ ابراہیم کی اولاد میں سے نہیں ہیں حالانکہ وہ ان کے باپ نہیں ہیں حجاج نے کہا تو نے سچ کہا ہے۔
(2) امام ابو الشیخ، حاکم اور بیہقی نے عبد المالک بن عمیر (رح) سے روایت…
Read the full tafseer →وَمِنْ اٰبَاۗىِٕهِمْ [ اور ان کے آباواجداد میں سے ] وَذُرِّيّٰتِهِمْ [ اور ان کی اولاد میں سے ] وَاِخْوَانِهِمْ ۚ [ اور ان کے بھائیوں میں سے (کچھ کو ہم نے فضیلت دی ) ] وَ [ اس حال میں کہ ] اجْتَبَيْنٰهُمْ [ ہم نے ان کو چن لیا ] وَهَدَيْنٰهُمْ [ اور ہم نے ان کو ہدایت دی ] اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَـقِيْمٍ [ ایک سیدھے راستے کی طرف ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَ مِنْ اٰبَآءِھِمْ وَ ذُرِّیّٰتِھِمْ وَ اِخْوَانِھِمْ ) یعنی اوپر جن حضرات کا ذکر ہوا ان کے آباء اور ان کی ذریتوں اور ان کے بھائیوں میں سے بھی بہت سوں کو ہدایت ہوئی۔ یہ معنی اس صورت میں ہے جبکہ ھَدَیْنَ محذوف مانا جائے اور فَضَّلْنَا سے بھی متعلق ہوسکتا ہے جس کا معنی یہ ہوگا کہ ان حضرات کے آباء اور ذریات اور اخوان میں سے بھی بہت سوں کو فصیلت دی۔
قال صاحب الروح و من ابتدائیۃ و المفعول محذوف ای و ھدینا من اٰباءھم وابناءِ ھم و اخوانھم جماعات کثیرۃ او معطوف علی کلافضلنا و من تبعیضیۃ أی فضلنا بعض اٰباءِ ھم الخ
پھر فرمایا (وَ اجْتَبَبْنٰھُمْ وَ ھَدَیْنٰھُمْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–90
ابطال شرک اثبات توحید وحشر۔
قال اللہ تعالیٰ قل اندعو من دون اللہ مالاینفعنا ولایضرنا۔۔۔ الی۔۔۔ الخبیر۔
ربط) ۔ اوپر سے توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال چلا آرہا ہے اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ جو دین اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں ان کو اتنی عقل نہیں کہ قابل مضحکہ یہ امر ہے کہ ایسی ذات کو معبود بنالیاجائے کہ جو کسی قسم کے نفع اور نقصان کی مالک نہ ہو ہنسی کے قابل تو یہ بات ہے کہ یہ بت پرست ہیں جو جہالتوں اور ضلالتوں میں حیران اور سرگرداں ہیں چناچہ فرماتے ہیں آپ ان مشرکوں سے یہ کہہ دیجئے کہ کیا ہم اللہ کے سوا کسی ایسی چیز کو اپنی حاجت روائی کے لیے پکاریں گے جو نہ ہم کو کچھ نفع ہی پہنچا سکتی…
Read the full tafseer →91 سترہ نبیوں کا نام بنام ذکر کرنے کے بعد اب یہاں باقی انبیاء (علیہم السلام) کا اجمالاً ذکر فرمایا یعنی مذکورہ نبیوں کے آباء و اجداد میں سے، ان کی اولاد میں سے اور ان کی برادری میں سے جتنے بھی نبی گذرے ہیں ان سب کو ہم نے باقی مخلوق پر برتری عطا کی اور ان سب کو صراط مستقیم (سیدھی راہ) یعنی راہ توحید کی طرف راہنمائی کی وَمِنْ اٰبائِھِمْ (مذکورہ بالا نبیوں کے باپوں میں سے) اس سے مراد یہ ہے کہ جن انبیاء کے باپ تھے اسی طرح وَمنْ ذُرِّیّٰتِھِمْ وَ اِخْوَانِھِمْ کا مطلب بھی یہ ہے کہ ان میں سے جن کے اولاد اور بھائی تھے یہ مطلب نہیں کہ ان میں سے ہر ایک کا باپ بھی تھا اور ہر ایک کی اولاد بھی تھی جیسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–90
ربط آیات
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دلیل کا ذکر ہوچکا ہے جو انہوں نے توحید باری تعالیٰ کے حق میں اپنی قوم کے سامنے پیش کی۔ پھر اللہ نے بطور احسان فرمایا کہ یہ دلیل ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو سمجھائی۔ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کی اولاد پر کئے گئے احسانات کا ذکر بھی کیا ‘ آپ کو جلیل القدر اور عالی مرتبت بیٹے عطا کئے جن کی نسل سے ہزاروں انبیاء مبعوث ہوئے۔ اولاد کا نجیب ہونا باعث شرف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جدامجد حضرت نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ بھی کیا کہ موجودہ نبی نوع انسان آپ ہی کی اولاد ہے ۔ طوفان نوح میں تمام کافر مشرک ہلاک ہوگئے تھے اور…
Read the full tafseer →وَمِنْ اٰبَاۗىِٕہِمْ وَذُرِّيّٰــتِہِمْ وَاِخْوَانِہِمْ 0ۚ وَاجْتَبَيْنٰہُمْ وَہَدَيْنٰہُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَـقِيْمٍ 87
أب
الأب : الوالد، ويسمّى كلّ من کان سببا في إيجاد شيءٍ أو صلاحه أو ظهوره أبا، ولذلک يسمّى النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم أبا المؤمنین، قال اللہ تعالی: النَّبِيُّ أَوْلى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْواجُهُ أُمَّهاتُهُمْ [ الأحزاب/ 6]
( اب و ) الاب
۔ اس کے اصل معنی تو والد کے ہیں ( مجازا) ہر اس شخص کو جو کسی شے کی ایجاد ، ظہور یا اصلاح کا سبب ہوا سے ابوہ کہہ دیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ ۔ { النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–90
ترکیب : تلک مبتداء حجتنا موصوف اتیناھا صفت مجموعہ خبر علی متعلق ہے محذوف سے ای حجۃ علی قومہ درجات بالا ضافۃ والتنوین اول صورت میں یہ مفعول ہے نرفع کا دوسری میں من مفعول ہے اور درجات یا ظرف ہے یا حرف جر محذوف ہے ای الیٰ درجات۔ کلا منصوب ہے ھدینا سے ومن آباء ھم معطوف ہے کلا پر ای و فضلنا کلامن ابائہم او وھدینا کلامن ابائہم۔
تفسیر : فرماتا ہے یہ حجتیں ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی قوم کے مقابلہ میں ہم نے دی تھیں۔ ہم جس کو چاہتے ہیں بلند مرتبہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں سے چودہ (14) انبیاء کا ذکر کیا اور ان کے جد امجد نوح (علیہ السلام) کا بھی ذکر کیا تاکہ یہ معلوم…
Read the full tafseer →وَمِنْ اٰبَآئِہِمْ وَ ذُرِّیّٰتِھِمْ وَ اِخْوَانِہِمْ ج وَاجْتَبَیْنٰھُمْ وَ ھَدَیْنٰھُمْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (الانعام : 87)
(اور ان کے آبائو اجداد ‘ ان کی اولاد اور ان کے بھائی بندوں میں سے بھی ہم نے ہدایت یافتہ بنائے اور ان کو برگزیدہ کیا اور ان کو ہم نے صراط مستقیم کی ہدایت بخشی)
لوگوں کو ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے
یہ نہ سمجھا جائے کہ توحید کے پرستار اور ہدایت پر چلنے والے یہی چند گنتی کے نفوس ہیں جن کا یہاں ذکر ہوا ہے بلکہ ان کے آبائو اجداد میں سے بھی ان کی اولاد میں سے بھی اور ان کے بھائی بندوں میں سے بھی اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کتنی بڑی تعداد کو نبوت کے شرف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–87
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو نہ صرف دلائل کے اعتبار سے برتری عنایت فرمائی تھی بلکہ رہتی دنیا تک امامت کے منصب سے سرفراز کرتے ہوئے انبیاء کی صورت میں نیک اولاد عنایت فرمائی جنھوں نے ان کے مشن کو جاری وساری رکھا تاآنکہ نبی آخر الزمان ﷺ نے دین حنیف کا پھر یرا پوری دنیا میں سربلند فرمایا۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تن تنہا اپنے باپ، قوم اور حاکم و قت کے سامنے ڈٹے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف دلائل کے اعتبار سے انھیں اپنی قوم پر برتری عنایت فرمائی بلکہ ایک وقت وہ بھی آیا کہ پوری دنیا کی امامت سے سرفراز کیا گیا اور ان کی دعوت کو چار سو پھیلانے کے لیے اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →آیت 87 : وَمِنْ ٰابَآپہِمْ یہ کُلًّا پر عطف کی وجہ سے محل نصب میں واقع ہے یعنی و فضلنا بعض ٰابآء ہم ان کے بعض آباء کو فضیلت دی۔ وَذُرِّیّٰتِہِمْ وَاِخْوَانِہِمْ وَاجْتَبَیْنٰہُمْ وَہَدَیْنٰہُمْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔
Read the full tafseer →(87) (ومن ابٓاء ھم ) یہاں ” من تبعیض “ کے لئے ہے کیونکہ بعض ابنیاء (علیہم السلام) کے آباد مشرک تھے (وذریتھم) یہاں بھی بعض ابنیاء (علیہم السلام) کی اولاد مراد ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ (علیہما السلام) کی اولاد نہ تھی اور بعض انبیاء (علیہم السلام) کی اولاد میں کافر بھی تھے۔ (واخوانھم واجتبینھم وھداینھم الی صراط مستقیم) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–89
(83 ۔ 89) ۔ اوپر کی آیتوں میں ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور اپنی قوم کو جن دلیلوں سے قائل کیا انہی کو فرمایا کہ وہ دلیلیں الہام کے طور پر اللہ تعالیٰ نے ابراہیم خلیل اللہ کے دل میں ڈالی تھی پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح ابراہیم خلیل اللہ کا مرتبہ بڑھایا کہ انہوں نے نمردو جیسے بادشاہ اور اپنے باپ اور قوم سب کو قائل کیا اسی طرح اے رسول اللہ کے اللہ اپنی حکمت اور اپنے علم سے جس کا چاہے مرتبہ بڑھا دیوے اس حکمت اور علم کے آگے کسی کی کوئی تدبیر نہیں چل سکتی اس میں آنحضرت ﷺ کو گویا یہ تسلی فرمائی گئی ہے کہ اگرچہ یہ اہل مکہ اسلام کے کمزور کرنے کی تدبیریں کر رہے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–90
آیت 84
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندے اور خلیل ابراہیم کا اور اپنے اس احسان کا ذکر کیا کہ اللہ نے ان کو علم، دعوت اور صبر سے نوازا تو اب ذکر فرما رہا ہے کہ صالح اور پاک نسل کے ذریعے سے بھی اللہ نے ان کو بڑی تکریم بخشی، اللہ نے مخلوق میں سے منتخب اور چنے ہوئے لوگ حضرت ابراہیم کی نسل میں سے بنائے اور یہ اتنی بڑی منقب اور اتنی زیادہ عزت افزائی ہے کہ اس کی مثال نہیں ملتی، چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ووھبنا لہ اسحاق ویعقوب) ” اور ہم نے عطا کئے اسے اسحاق اور یعقوب “ یعقوب یعنی اسحاق کے فرزند جن کو اسرائیل کہا جاتا ہے۔ ایک بڑے گروہ کے باپ جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–89
قول باری ہے ( وتلک حجتنا اتینا ھا ابراہیم علی قومہ۔ یہ تھی ہماری وہ حجت جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قول کے مقابلہ میں عطا کی ) یعنی ۔۔۔۔ واللہ اعلم۔۔۔۔۔ تارے، چاند اور سورج کے حدوث پر مذکورہ استدلال ، نیز یہ کہ جو چیز حدوث کی ان کیفیات کی حامل ہوگی جس طرح مذکورہ بالا تینوں اجرام فلکی حالم ہیں وہ الہ اور معبود نہیں بن سکتی ۔ پھر جب یہ بات ان لوگوں کے ذہنوں میں اتر گئی تو حضرت ابراہیم نے پوچھا ( فای الفریقین احق بالامن ۔ بتائو، ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بےخوفی اور اطمینان کا مستحق ہے) آیا وہ اس کا زیادہ مستحق ہے جو ایک الہ کی عبادت کرتا ہے یا وہ جس نے مختلف الہ بنا رکھے ہیں ؟ انہوں نے جواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
151 عطا و بخشش اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے اور ہوسکتی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم جس کے چاہیں درجے بلند کردیتے ہیں۔ پس بزرگی و کمال دراصل ہماری عطا و بخشش ہی پر موقوف ہے نہ کہ انسان کے اپنے کسب و اختیار پر۔ اور سب سے بڑا درجہ و مرتبہ جو کسی انسان کے لئے ممکن ہوسکتا ہے وہ ہے نبوت و رسالت کا مرتبہ و مقام۔ جو کہ محض اللہ پاک کا عطیہ و احسان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس لئے وہی بہتر جانتا ہے کہ اس شرف و مرتبہ سے کس کو مشرف و سرفراز فرمائے ۔ { اَللّٰہُ اَعْلُمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ } ۔ اور انبیاء و رسل اس سب سے بڑے درجہ و مرتبہ سے سرفراز ہونے کے باوجود اپنی اصل اور حقیقت کے اعتبار سے ہوتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–89
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی فضیلت، اللہ کی مہربانیاں اور خوشخبری
تشریح : ان آیات میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات، ان کی فضیلت اور پھر ایمان کی برکتیں، ان برکتوں میں سکون قلب کے علاوہ نیک آباؤ اجداد، آل اولاد اور عزیز و اقربا بھی شامل ہیں آخر میں آنحضرت ﷺ کو خوشخبری دی گئی ہے۔
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں کچھ معلومات پچھلی آیات میں دی گئی ہیں۔ سب سے بڑی فضیلت جو رب تعالیٰ نے ان کو دی وہ تھی راہ ہدایت کا تحفہ، پھر ان کی تعلیمات جن کی بنیاد توحید، یعنی اللہ کا واحد ہونا۔ اس کے ساتھ کسی بھی چیز، مخلوق یا نباتات و حیوانات کو شریک نہ کرنا۔ اللہ بس ایک ہی ہے ہمیشہ سے ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–91
رکوع نمبر 10 ۔ آیات 84 ۔ تا۔ 91 ۔
اسرار و معارف :
کمال انبیاء (علیہم السلام) :
ایک بہت بڑے مسئلے کو عام فہم زبان میں ایسے مضبوط دلائل کے ساتھ بیان کردینا بھی انعامات باری کی بہت بڑی دلیل ہے اللہ کریم اپنے احسانات میں شمار فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ قوم کو اس طرح لاجواب کردینے وال ازور خطابت ابراہیم (علیہ السلام) کو ہم نے عطا فرمایا تھا اور انبیاء کا کمال یہی ہوتا ہے کہ بہ تمشکل بات نہایت آسان الفاظ میں اور دلیل کے ساتھ ارشاد فرما دیتے ہیں ورنہ یوں تو فلاسفہ بڑی بڑی بحثیں لکھتے اور بیان کرتے ہیں مگر نہ آج تک کسی بات کا حتمی جواب دے سکے اور نہ عام آدمی ان کی بات کو سمجھ سکا یہ فرق اہل اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
ف 1 یعنی بفرض محال اگر نبی ہو کر بھی شرک کر بیٹھے تو ان کا کیا کرایا سب اکارت ہوتا کیونکہ شرک کے ساتھ کوئی بڑے سے بڑا عمل بھی عمل قبول نہیں ہوتا۔ (وحیدی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–87
(6:84) ذریۃ ذر سے ۔ نسل۔ اولاد۔ ذرۃ ذرہ بھر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
لغات القرآن : آیت نمبر 84 تا 88 :
وھبنا (ہم نے عطا کیا) نجری (ہم بدلہ دیتے ہیں) فضلنا ( ہم نے بڑائی دی) اجتبیان ( ہم نے منتخب کرلیا۔ چن لیا) حبط ( ضائع ہوگیا)
تشریح : آیت نمبر 84 تا 88 :
حضرت ابراہیم ؐ نے اللہ کے بھروسے دل کے اطمینان سے مسلح ہو کر شرک کی طاقتوں کے خلاف توحید کا پرچم لے کر جس محنت ‘ قربانی اور بےخوفی کا مظاہرہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے دوسرے انعامات کے علاوہ انہیں پیغمبروں کا جدا مجد بنادیا۔ یہاں پر جن سترہ پیغمبروں کے نا لئے گئے ہیں ان میں ایک حضرت نوح (علیہ السلام) خود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جد امجد تھے۔ پیغمبر ہونا ‘ پیغمبر کا باپ دادا وغیرہ ہونا ‘ پیغمبر کا بیٹا (بیٹی)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
نبیوں کی فضیلت کا ذکر
یہاں اللہ تعالیٰ نے اٹھارہ انبیاء کا ذکر فرمایا۔ اس ذکر میں نہ ترتیب زمانہ کے اعتبار سے ہے نہ فضیلت کے۔ لیکن عجیب شان سے ذکر فرمائے گئے ہیں وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی ہر ایک جماعت کو ایک خاص طرح کی کرامت و فضیلت کے ساتھ ممتاز فرمایا ہے۔ یعنی ہم نے ابراہیم، اسحق، یعقوب، داود، سلیمان، ایوب موسیٰ اور ہارون علیہم الصلوۃ والسلام کو مراتب عطا کئے اور سب کو ہدایے کی اور نوح کو بھی ہم نے ہدایت کی۔ نیکوں کو اسی طرح ہدایت کرتے ہیں اور ہم نے زکریا اور یحیٰ اور عیسیٰ اور الیاس علیہم لصلوۃ ولسلام کو ہدایت کی۔ یہ سب کے سب نیک بخت اور صالح تھے اور ہم نے ہدایت کی اسماعیل اور یسع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
[30] مطلب یہ ہے کہ اگر کفار و مشرکین اللہ کی ہدایت کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو کریں۔ اللہ نے اہل ایمان کا ایسا گروہ پیدا کردیا ہے جو اس نعمت کی قدر کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
(ف 1) ان آیات میں توحید کے علمبرداروں کی ایک مختصر سی فہرست پیش کی ہے اور بتایا ہے ، کہ ان کے تمام فضائل ان کی ساری بزرگیاں محض اس وجہ سے تھیں ، کہ یہ لوگ موحد تھے خدا کے پرستار تھے ، صراط مستقیم پر گامزن تھے ، صداقت ، اور سچائی کے رہ سپار تھے ، ورنہ شرک اور بت پرستی اعمال کر ضائع کردیتی ہے ۔
” اللھم اغفر لکاتیبہ ولمن سعے فیہ ولوالد یھم اجمعین ، امین “۔
Read the full tafseer →-87 اور ہم نے ان مذکورہ حضرات کے بعض باپ دادوں کو جیسے حضرت شیث اور حضرت آدم اور حضرت ادریس کو اور اور ان کی اولاد میں سے بھی بعض کو جیسے اولاد یعقوب کو اور ان مذکورہ حضرات کے بھائیوں میں سے بعض کو ہدایت عطا فرمائی تھی ہم نے ان سب کو اپنے بندوں میں سے برگزیدہ اور منتخب فرمایا اور ہم نے دین کی سیدھی راہ کی جانب ان سب کی رہنمائی فرمائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–89
ف 7۔ مطلب یہ کہ ڈرنا چاہیے تم کو پھر مجھ کو الٹا ڈراتے ہو۔
Read the full tafseer →جن انبیائے کرام کا نام بنام ذکر کیا گیا ان کے آباؤ اور بھائی بندوں میں بھی برگزیدہ لوگ تھے :
134: انبیاء کرام اور رسل عظام تو اللہ تعالیٰ کے مقبول اور برگزیدہ بندے ہوتے ہی ہیں اور ان پر رحمت الٰہی کے سمندر کا جو جوش ہوتا ہے وہ تو معروف ہی ہے لیکن کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو نہ نبی ہوتے ہیں اور نہ رسول لیکن ان کے درجات کی بلندی کا بھی کون اندازہ کرسکتا ہے اور جو اللہ کے ہاں پسندیدہ ہوگیا اور اللہ کے ہاں اس کا ہدایت یافتہ ہونا قبول کرلیا گیا وہ اگرچہ نبی و رسول تو نہ ہوئے لیکن اللہ تعالیٰ کے انعام یافتہ بندے تو ضرور قرار پاگئے اور ان کو انبیائے کرام کا سنگ اور ساتھ یقیناً مل گیا اور اگر وزیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
In the six verses (84-89) appearing after that, there is a list of seventeen blessed prophets, some of whom are the forefathers of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) while most are his progeny, with some being his brothers or nephews. On the one hand, described in these verses is their being Divinely guided, righteous in conduct and firm on the straight path, along with the fact that Allah Ta` ala has chosen and blessed has been stressed them to serve His religion. On the other hand, it has been stressed that, in return for the sacrifice of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) who had disassociated…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–87
55. This entire section shows that those people did not deny the existence of God as the creator of the heavens and earth. Their real guilt was that they associated others in His attributes and His rights over man. In the first place, Abraham himself clearly states that they associated others with God as His partners. In the second place, the way in which Abraham mentions God in addressing these people is suitable only for a people who did not deny the existence of God. We must, therefore, regard as incorrect the opinion of those Qur'anic commentators who try to explain this verse on the…
Read the full tafseer →