Al-An'aam 6:118

Al-An'aam · from ayah 118

6:118

فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰیٰتِهٖ مُؤْمِنِیْنَ ۟فَـكُلُوۡا مِمَّا ذُكِرَ اسۡمُ اللّٰهِ عَلَيۡهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ بِاٰيٰتِهٖ مُؤۡمِنِيۡنَ‏

تو جس چیز پر (ذبح کے وقت) خدا کا نام لیا جائے اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو تو اسے کھا لیا کرو

— Fateh Muhammad Jalandhari

So eat of that [meat] upon which the name of Allah has been mentioned, if you are believers in His verses.

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 14 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:118

پھر اگر تم لوگ اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہو تو جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اُس کا گوشت کھاؤ

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو جس چیز پر (ذبح کے وقت) خدا کا نام لیا جائے اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو تو اسے کھا لیا کرو

— مولانا فتح محمد جالندہری

سو جس جانور پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے اس میں سے کھاؤ! اگر تم اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ ہر اس (حلال) جانور میں سے کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، اگر تم واقعی اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو کھاؤ اسمیں سے جس پر اللہ کا نام لیا گیا اگر تم اسکی آیتیں مانتے ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو تم اس (ذبیحہ) سے کھایا کرو جس پر (ذبح کے وقت) اﷲ کا نام لیا گیا ہو اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھنے والے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو اس میں سے کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے، اگر تم اس کی آیات پر ایمان رکھنے والے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اے ایمان والو !) اگر تم اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہو تو جس چیز پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اسے (بلا تکلف) کھاؤ

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس تم کھاؤ ان چیزوں میں سے جن پر خدا کا نام لیا گیا ہو، اگر تم اس کی آیات پر ایمان رکھنے والے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس کھاؤ تم لوگ ان چیزوں میں سے جن پر اللہ کا نام لیا گیا، اگر تم واقعی ایمان رکھنے والے ہو اس کی آیتوں پر،

— مولانا اسحاق مدنی

سو اس (جانور) میں سے کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیاجائے اگر تم اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پس کھاؤ ان چیزوں میں سے جن پر اللہ کا نام لیا گیا ہے اگر تم اس کی آیات پر ایمان رکھتے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو جس چیز پر ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا جائے اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو تو اسے کھالیا کرو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

If you believe in the signs of Allah, eat (the flesh) of that over which Allah's name has been pronounced.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, eat (the flesh) of that (animal) upon which the name of Allah has been invoked (when slaughtering), if you do believe in His verses.

— Muhammad Taqi Usmani

So, eat (the flesh) of that (animal) upon which the name of Allah has been invoked (when slaughtering), if you do believe in His verses.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So eat of that on which Allah's Name has been mentioned, if you are believers in His Ayat.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Eat of that over which the name of Allah hath been mentioned, if ye are believers in His revelations.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So eat of that [meat] upon which the name of Allah has been mentioned, if you are believers in His verses.

— Saheeh International

If you have faith in God's revelations, eat the flesh of the animal which has been slaughtered with a mention of His Name.

— Muhammad Sarwar

Therefore eat of that on which Allah's name has been mentioned if you are believers in His communications.

— Muhammad Habib Shakir

Wherefore eat of that whereon the name of Allah hath been pronounced, if ye are believers in His revelations.

— Abdul Majid Daryabadi

So eat of (meats) on which Allah's name hath been pronounced, if ye have faith in His signs.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:118

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 118–119

صرف اللہ تعالیٰ کے نام کا ذبیحہ حلال باقی سب حرام حکم بیان ہو رہا ہے کہ جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے اسے کھالیا کرو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس جانور کے ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اس کا کھانا مباح نہیں، جیسے مشرکین از خود مرگیا ہو اور مردار جانور، بتوں اور تھالوں پر ذبح کیا ہوا جانور کھالیا کرتے تھے، کوئی وجہ نہیں کہ جن حلال جانوروں کو شریعت کے حکم کے مطابق ذبح کیا جائے اس کے کھانے میں حرج سمجھا جائے بالخصوص اس وقت کہ ہر حرام جانور کا بیان کھول کھول کردیا گیا ہے فصل کی دوسری قرأت فصل ہے وہ ہر ام جانور کھانے ممنوع ہیں سوائے مجبوری اور سخت بےبسی کے کہ اس وقت جو مل جائے اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْعَام 84 من جملہ ان غلط طریقوں کے جو اکثر اہل زمین نے بطور خود قیاس و گمان سے تجویز کرلیے اور جنھیں مذہبی حدود وقیود کی حیثیت حاصل ہوگئی، ایک وہ پابندیاں بھی ہیں جو کھانے پینے کی چیزوں میں مختلف قوموں کے درمیان پائی جاتی ہیں۔ بعض چیزوں کو لوگوں نے آپ ہی آپ حلال قرار دے لیا ہے حالانکہ اللہ کی نظر میں وہ حرام ہیں۔ اور بعض چیزوں کو انھوں نے خود حرام ٹھیرا لیا ہے حالانکہ اللہ نے انہیں حلال کیا ہے۔ خصوصیت کے ساتھ سب سے زیادہ جاہلانہ بات جس پر پہلے بھی بعض گروہ مصر تھے اور آج بھی دنیا کے بعض گروہ مصر ہیں، وہ یہ ہے کہ اللہ کا نام لے کر جو جانور ذبح کیا جائے وہ تو ان کے نزدیک ناجائز ہے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 118–121

ربط آیات اوپر وَاِن تَطِع کے الفاظ میں اہل اضلال کے اتباع سے مطلقاً منع فرمایا تھا آگے باقتضائے ایک واقعہ کے ایک خاص امر میں اتباع کرنے سے منع فرماتے ہیں، وہ خاص واقعہ مذبوح وغیر مذبوح کی حلت کا ہے، واقعہ یہ ہے کہ کفار نے مسلمانوں کو شبہ ڈالنا چاہا کہ اللہ کے مارے ہوئے جانور کو تو کھاتے نہیں ہو اور اپنے مارے ہوئے یعنی ذبیحہ کو کھاتے ہو، اخرجہ ابو داود والحکم عن ابن عباس ؓ (بعض مسلمانوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں یہ شبہ نقل کیا، اس پر یہ آیتیں لَمُشرِکُونَ تک نازل ہوئیں، رواہ ابو داؤد والترمذی عن ابن عباس ؓ کذا فی اللباب۔ حاصل جواب یہ ہے کہ تم مسلمان ہو اللہ کے احکام کا التزام کئے ہوئے ہو، اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مشرکانہ توہمات کے تحت حرام سمجھے جانے والے چوپایوں کو کھانے کا حکم : ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں کہ جب اسلام نے وہ تمام چوپائے حلال و طیب قرار دے دیے جن کو مشرکین نے اپنے مشرکانہ توہمات کے حرام قرار دے رکھا تھا تو اس کے خلاف انہوں نے بڑا ہنگامہ اٹھایا کہ یہ دیکھو، اس شخص نے اپنے پیرؤوں کے لیے وہ چیزیں بھی جائز کردی ہیں جو ہمارے بزرگوں، ابراہیم و اسماعیل کے زمانے سے حرام چلی آرہی تھیں۔ اس طرح کے معاملات میں جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، عام ذہن بڑا حساس اور ضیعف الاعتقاد ہوتا ہے اس وجہ سے مخالفانہ پروپیگنڈے کا اثر آسانی سے قبول کرلیتا ہے۔ قرآن نے یہاں اسی اثر کو دور کرنے کے لیے فرمایا کہ حرام وہی چیزیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

118۔ 1 یعنی جس جانور پر شکار کرتے وقت یا ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا جائے۔ اسے کھالو بشرطیکہ وہ ان جانوروں میں سے ہو جن کا کھانا حلال ہے۔ اس کا مظلب یہ ہوا کہ جس جانور پر اللہ کا نام نہ لیا جائے وہ حلال و طیب نہیں البتہ اس سے ایسی صورت مستشنٰی ہے جس میں یہ التباس ہو کہ ذبح کے وقت ذبح کرنے والے نے اللہ کا نام لیا ہے یا نہیں ؟ اس میں حکم یہ ہے کہ اللہ کا نام لے کر اسے کھالو۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ نے رسول اللہ سے پوچھا کہ کچھ لوگ ہمارے پاس گوشت لے کر آتے ہیں (اس سے مراد اعرابی تھے جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور اسلامی تعلیم و تربیت سے پوری طرح بہرہ ور نہیں تھے) ہم نہیں جانتے کہ انہوں نے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 118–119

52: تشریح : پیچھے ان لوگوں کا ذکر تھا جو محض خیالی اندازوں پر اپنے دین کی بنیاد رکھے ہوئے ہیں، ان کی اس گمراہی کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے اس کو یہ حرام کہتے ہیں اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حرام کہا ہے اسے حلال سمجھتے ہیں، چنانچہ ایک مرتبہ کچھ کافروں نے مسلمانوں پر یہ اعتراض کیا کہ جس جانور کو اللہ تعالیٰ قتل کرے یعنی وہ اپنی طبعی موت مرجائے اس کو تو تم مردار قرار دے کر حرام سمجھتے ہو اور جس جانور کو تم خو داپنے ہاتھوں سے قتل کرتے ہو اس کو حلال قرار دیتے ہو، اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حلال و حرام کا فیصلہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 118–120

(آیت) ” نمبر 118 اس سے قبل کہ اس تمہید کے بعد حلال و حرام کا آخری فیصلہ دے دیا جائے بعض دوسری ہدایات اور نتائج دیئے جاتے ہیں جو امر ونہی کے بیان اور وعید اخروی اور ضروری تنبیہ پر مشتمل ہیں :

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 117–118

2 جب دلائل صحیحہ کی بنا پر تم نے رسول اللہ ﷺ کی نبوت اور قرآن کریم کی حقانیت کو تسلیم کرلیا اور کلی طور پر اس کے احکام پر ایمان لا چکے تو اب فروع و جزئیات کی صحت کو تسلیم کرنا ناگزیر ہے۔ اگر ہر اصل و فرع اور کلی و جزئی کا قبول کرنا ہمارے عقلی قیاسات پر موقوف ہو تو وحی اور نبوت کی ضرورت ہی نہ رہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 118 فَکُلُوْا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ اِنْ کُنْتُمْ بِاٰیٰتِہٖ مُؤْمِنِیْنَ ۔ یہاں کھانے پینے کی چیزوں کی حلت و حرمت کے بارے میں مشرکین عرب کے جاہلانہ نظریات اور توہمات کا رد کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

122 حلال جانور کو کھانے کی شرائط :۔ کسی حلال جانور کو کھانے کے لیے شریعت نے دو شرائط عائد کی ہیں۔ ایک یہ کہ ذبح کیا جائے اور اس کا خون نکال دیا جائے دوسرے ذبح کرتے وقت اس پر اللہ کا نام لیا جائے۔ علمائے یہود نے مشرکین مکہ کو یہ شرارت سمجھائی کہ مسلمانوں سے پوچھو کہ جو چیز اللہ نے ماری ہو اسے تو تم حرام قرار دیتے ہو اور جو چیز تم خود مارو اسے حلال سمجھتے ہو۔ خ ایمان لانے کے بعد وحی کی اتباع ضروری ہے خواہ اس حکم کی سمجھ آئے یا نہ آئے :۔ اس پس منظر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ جب تم نے بنیادی طور پر دلائل صحیحہ کی بنا پر رسول اللہ کی نبوت اور قرآن کریم کی حقانیت کو تسلیم کرلیا ہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

172 ۔ آیت کے آخری ٹکڑے سے ظاہر ہورہا ہے کہ حلال کو حرام قرار دے لینا ایمان کے منافی ہے۔ (آیت) ” فکلوا “۔ میںکا تعلق آیت نمبر 1 16 سے سمجھا گیا ہے۔ جہاں اتباع ظن وتخرص یعنی وحی الہی کے سوا اور کسی چیز کے تابع فرمان ہونے صریح ممانعت وارد ہے۔ مسبب عن انکار اتباع المضلین الذین یحللون الحرام ویحرمون الحلال (کبیر) (آیت) ” ذکر اسم اللہ علیہ “۔ یہ تسمیہ الہی ذبح کے وقت ہونا چاہیے۔ اور بلاشرکت غیرے ہونا چاہیے۔ اور جانور کا حلال ہونا تو بہرحال ظاہرہی ہے۔ کلوا۔ صورۃ صیغہ امر ہے۔ مراد یہاں حکم نہیں صرف اجازت واباحت ہے۔ ظاہرہ امر ومعناہ الاباحۃ (جصاص) محققین نے یہ بھی لکھ دیا ہے کہ مباح صرف اسی صورت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 114–121

شان نزول : اَفَغیر اللہ ابتغی حَکَمًا، مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ سے یہ کہا کرتے تھے کہ اہل کتاب میں سے کسی کو ثالث قرار دیا جائے اگر وہ قرآن کا کلم الہیٰ کہہ دے تو ہم لوگ آپ کے نبی برحق اور قرآن کے کلام الہیٰ ہونے کے قائل ہوجائیں گے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں، اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان مقدمہ نبوت و رسالت میں اختلاف و نزاع ہے میں اس کا مدعی ہوں اور تم منکر اور اس نزع و اختلاف کا فیصلہ احکم الحاکمین کی عدالت سے میرے حق میں اس طرح ہوچکا ہے کہ میرے اس دعوے پر کافی ثبوت اور دلائل موجود ہیں خود قرآن کا اعجاز ہے جس نے نہ صرف عالم عرب کو بلکہ اقوام عالم کو چیلنچ کیا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فکلوا مما ذکر اسم اللہ علیہ . پس جس پر اللہ کا نام لے لیا گیا ہو اس کو کھاؤ۔ فاء سببیہ ہے۔ گمراہ کن کافروں کے اتباع سے گزشتہ کلام میں ممانعت کی گئی ہے اسی ممانعت پر یہ حکم متفرع ہے۔ یعنی حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دینے میں کافروں کے خیالات پر نہ چلو۔ جو مردار کو حلال اور ذبیحہ کو حرام قرار دیتے ہیں۔ ان کنتم بایتہ مومنین . اگر تم اللہ کی آیات پر ایمان رکھنے والے ہو کیونکہ اللہ پر ایمان رکھنے کا تو تقاضا ہے کہ جس چیز کو اللہ نے حلال قرار دیا ہے اس کو مباح سمجھا جائے اور جس کو حرام قرار دیا ہے اس سے پرہیز کیا جائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 118–121

(118۔ 119۔ 120۔ 121) حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام جانوروں کی تفصیل بتلادی جن کو تم پر حرام کیا ہے جیسا کہ مردار خون اور سور کا گوشت وغیرہ مگر مردار کھانے کی بھی جب تمہیں سخت ضرورت پڑجائے تو یہ مشروط طور پر حلال ہے۔ اور ابوالاحوص اور اس کے ساتھی بغیر علم اور حجت کے لوگوں کو مردار کھانے کی دعوت دیتی ہیں تم ظاہری زنا اور اجنبیہ کے ساتھ خلوت کو بھی چھوڑ دو کیوں کہ زانیوں کو دنیا میں کوڑے اور آخرت میں ان کو عذاب ملے گا۔ جن جانوروں پر جان بوجھ کر اللہ کا نام نہ لیاجائے ان کو بغیر سخت حاجت کے کھانا گناہ کا باعث ہے اور ایسے جانوروں کو حلال سمجھنا تو صریح کفر ہے۔ اور شیاطین اپنے یاروں ابوالاحوص اور…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَيْهِ۔۔ : یعنی وہ حلال جانور جسے ذبح یا شکار کرتے وقت اللہ کا نام یعنی ”بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ“ لیا جائے اسے کھاؤ، اگر تم اس کی آیات پر ایمان رکھتے ہو، یعنی صرف ایسا ذبیحہ کھانا ایمان کا تقاضا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

قولہ تعالیٰ : آیت : فکلموا مما ذکر اسم اللہ علیہ یہ آیت کچھ لوگوں کے سبب نازل ہوئی جو حضور نبی مکرم ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے : یا رسو اللہ ! ﷺ بلاشبہ ہم اسے تو کھاتے ہیں جسے ہم خود مارتے ہیں اور اسے نہیں کھاتے جسے اللہ تعالیٰ مار دے ؟ تب یہ آیات نازل ہوئی : آیت نمبر 121، اسے ترمذی وغیر نے نقل کیا ہے (سنن ابی داؤد، کتاب الضحایا، باب فی ذبائح اھل الکتاب، حدیث 2436، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔ حضرت عطا نے کہا ہے : یہ آیت اس بات کا حکم ہے کہ کوئی مشروب پیتے وقت، ذبح کے وقت اور ہر قسم کی کھائی جانے والی شی کھاتے وقت اللہ تعالیٰ کا اسم گرامی ( یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیم) پڑھنا چاہیے۔ اور قول باری…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 118–120

(1) امام ابو داؤد، ترمذی نے (اور اس کی تحسین بھی کی ہے) بزار، ابن جریر اور ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہودی نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ کیا ہم کھائیں ان چیزوں میں سے جن کو ہم نے خود قتل کیا اور ہم ان چیزوں میں سے نہ کھائیں جن کو اللہ تعالیٰ مارتے ہیں ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری لفظ آیت فکلوا مما ذکراسم اللہ علیہ ان کنتم بایتہ مومنین سے لے کر لفظ آیت وان اطعتموھم انکم لمشرکون (2) امام ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فکلوا مما ذکراسم اللہ علیہ اس میں سے کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا کیونکہ وہ حلال ہے لفظ آیت ان…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَكُلُوْا [ پس تم لوگ کھاؤ] مِمَّا [ اس میں سے ] ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ [ اللہ کا نام یاد کیا گیا ] عَلَيْهِ [ جس پر ] اِنْ [ اگر ] كُنْتُمْ [ تم لوگ ہو ] بِاٰيٰتِهٖ [ اس کی آیتوں پر ] مُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

حلال ذبیحہ کھاؤ، اور حرام جانوروں کے کھانے سے پرہیز کرو درمنثور ج 3 ص 41 میں ان آیات کا سبب نزول بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہودی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے بطور اعتراض یوں کہا کہ جس جانور کو ہم قتل کردیں (یعنی ذبح کردیں) اسے تو آپ کھالیتے ہیں اور جس جانورکو اللہ تعالیٰ قتل کر دے (یعنی اسے موت دیدے اور وہ بغیر ذبح کے مرجائے) آپ اس کو نہیں کھاتے۔ ایک روایت یوں بھی ہے جسے ابن کثیر نے ج 2 ص 169 میں نقل کیا ہے کہ فارس کے لوگوں نے قریش مکہ کو آدمی بھیج کر یہ سمجھایا کہ تم محمد ﷺ سے یوں بحث کرو کہ آپ اپنے ہاتھ میں چھری لے کر جس جانور کو ذبح کرتے ہیں وہ تو آپ کے نزدیک حلال ہے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 114–121

تتمۂ توبیخ معاندین وتحذیر از اتباع مضلین ومجادلین قال اللہ تعالیٰ افغیر اللہ ابتغی حکما۔۔۔ الی۔۔۔ وان اطعتموھم انکم لمشرکین (ربط) گذشتہ آیات میں یہ بیان ہوچکا کہ یہ کافر جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور ایسے ضدی اور عنادی ہیں کہ جن معجزات کی وہ خواہش رکھتے ہیں ان کے ظاہر ہونے پر بھی ایمان نہیں لائیں گے اگر دل میں کچ بھی قبول حق کا مادہ ہوتا تو پہلے ہی مرتبہ آیات بینات دیکھ کر ایمان لے آتے اس لے کہ اول تو قرآن کریم آپ ﷺ کا عظیم ترین معجزہ ہے اور آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی روشن دلیل ہے اس کی طرف رجوع کرلینا کافی ہے ؎ آفتاب آمد دلیل آفتاب گر دلیلے باید ازدے رومتاب ایسی روشن دلیل کے بعد کسی اور فیصلہ کرنے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

128:۔ حصہ دوم، نفی شرک فعلی۔ 1 ۔ تحریمات غیر اللہ۔ 2 ۔ تحریمات اللہ۔ 3 نذور غیر اللہ۔ سورة انعام کے حصہ اول میں نفی شرک اعتقادی کا بیان تھا۔ اب دوسرے حصے میں نفی شرک فعلی کا بیان ہے۔ یہ حصہ فَکُلُوْا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللهِ سے لے کر ذٰلِکمْ وَصّٰکُمْ بِهٖ لَعَلَّکمْ تَتَّقُوْنَ (ع 19) تک ہے اس حصے میں شرک فعلی کی تین شقیں مذکور ہیں۔ تحریمات غیر اللہ چار عنوانوں سے۔ تحریمات اللہ ایک دفعہ اور نذور غیر اللہ کو بھی چار عنوانوں سے ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ خلاصہ میں تفصیل سے مذکور ہوچکا ہے اور آگے آرہا ہے۔ تحریمات غیر اللہ کا ذکر پہلی بار مَا سے مراد وہ جانور ہیں جن کو مشرکین نے اپنے معبودوں کی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 118–121

گذشتہ درس میں اللہ کے علاوہ دوسروں کو حکم تسلیم کرنے سے منع کیا گیا تھا ، نیز نبی علیہ اسلام کو خبر دار کیا گیا تھا کہ اگر آپ اکثریت کا کہا مانیں گے تو آپ سیدھے راستے سے بہک جائیں گے ، کیونکہ لوگوں کی اکثریت محج گمان پر چلتی ہے اور ان کے پاس حق بات نہیں ہوتی۔ اب آج کی آیات میں ایسے لوگوں کی ایک مثال بیان کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ مشرک لوگ ایمان پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ اپنے ہاتھ کا مارا ہوا جانور یعنی ذبح شدہ جانور حلال سمجھتے ہیں اور اس کا گوشت کھالیتے ہیں ، جب کہ خدا کا مارا ہوا یعنی طبی موت مرا ہوا جانور حرام جانتے ہیں۔ وہ لوگ اس بعید از قیاس خیال کرتے تھے۔ بعض مشرکین یہ بھی کہتے تھے کہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللہِ عَلَيْہِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰيٰتِہٖ مُؤْمِنِيْنَ۝ 118 أكل الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35] ( ا ک ل ) الاکل کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔ اسْمُ والِاسْمُ : ما يعرف به ذات الشیء، وأصله سِمْوٌ ، بدلالة قولهم : أسماء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 114–118

ترکیب : افغیر اللّٰہ ابتغی کا مفعول حکماء اس سے حال ویجوزالعکس مفصلا الکتب سے حال ہے اور بالحق ضمیر مرفوع منزل سے۔ صدقا وعدلا تمیز ہیں اور مفعول لہ بھی اور حال بھی ہوسکتی ہیں۔ ھوا اعلم خبر ان من بمعنی الذی یانکرہ موصوفہ موضع نصب میں فعل محذوف سے جس پر اعلم دلالت کرتا ہے ای یعلم من یضل یا من استفہامیہ مبتداء ویضل خبر اور جملہ یعلم محذوف سے محل نصب میں۔ تفسیر : چونکہ پہلی آیتوں میں کفار کے اعتقادِ بد کو اور انکار نبوت اور شبہات بےجا کو رد فرما کر آنحضرت ﷺ اور جملہ ایمانداروں کی تسلی کے لئے فرما دیا تھا کہ ان کی یہ سب باتیں ملمع کاری ہے (زخرف القول) جو ان کے مادہ فاسدہ سے ابخرات کی طرح اٹھتی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 118–119

تمہید گزشتہ آیات میں اللہ کی توحید پر مسکت اور فیصلہ کن دلائل دینے کے بعد فرمایا کہ کیا ان دلائل کے آجانے اور عقیدہ توحید کی اس مکمل وضاحت کے بعد اس بات کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کو منصف ‘ فیصل اور حاکم کی حیثیت سے تسلیم کروں ؟ جبکہ اللہ نے اپنی حاکمیت کی عملی شکل کو متعین کرتے ہوئے اور اپنے فیصلوں کو عملی صورت دیتے ہوئے قرآن جیسی مفصل کتاب بھی نازل فرما دی ہے جس کی صداقت اور حقانیت کا عالم یہ ہے کہ جو اہل کتاب آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ چونکہ اللہ سے ڈرتے ہوئے خیانت کا ارتکاب کرنے سے گریز کرتے ہیں اس لیے اقرار کرتے ہیں کہ یہ کتاب واقعی اللہ کی جانب سے نازل ہوئی ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 118–119

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح گمراہ اکثریت کی اتباع جائز نہیں اسی طرح اس جانور کو بھی کھاناجائز نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ بیشک حرام کھانے والوں کی اکثریت ہی کیوں نہ ہوں۔ سرزمین حجاز اور مکہ میں ایسے قبائل بھی تھے جو جانور ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لینا مناسب نہیں سمجھتے تھے جس طرح کہ سکھ مذہب کے لوگ جانور حلال کرتے ہوئے اس کا جھٹکا کرتے ہیں پھر کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو مردہ جانور کھاتے تھے جب انھیں اس سے روکا جاتا تو وہ کہتے کہ مسلمانوں کی عجب حالت ہے کہ اللہ کے مارے ہوئے کو نہیں کھاتے لیکن اپنے ہاتھ سے مارے ہوئے کو کھالیتے ہیں۔ اس پر یہ فرمان نازل ہوا کہ مسلمانو !…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

حلت تو حکم خدا اور نام خدا میں ہے : آیت 118 : فَکُلُوْا مِمَّا ذُکِرَاسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ اِنْ کُنْتُمْ بِاٰیٰتِہٖ مُؤْمِنِیْنَ اس آیت میں ان گمراہ لوگوں کی اتباع کے انکار کا سبب ذکر کیا گیا۔ جو خود حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو کہا کرتے تھے اے مسلمانوتم زعم رکھتے ہو کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہو۔ حالانکہ جس کو اللہ تعالیٰ مارے وہ اس کی بنسبت زیادہ حق دار ہے جس کو تم مارو۔ پس اس آیت میں مسلمانوں کو کہا گیا اگر تم سچا ایمان رکھتے ہو تو جس پر اللہ تعالیٰ کا نام بوقت ذبح لیا گیا اس کو کھائو۔ اور جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہے اس کو مت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 118 (فکلوا مما ذکر اسم اللہ علیہ) یعنی جو اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو (ان کنتم بایتہ مومنین) کیونکہ وہ لوگ چوپایوں کی کئی اقسام کو حرام قرار دیتے تھے اور مردہ جانوروں کو حلال سمجھتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو اللہ نے حلال کیا اس کو حلال سمجھو اور جس کو حرام کیا اس کو حرام سمجھو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 118–121

(118 ۔ 121) ۔ یہاں سے آخر رکوع تک کی آیتوں کی جو کچھ شان نزول ترمذی اور داؤد مستدرک حاکم طبرانی ابن ماجہ مسند بزار تفسیر ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور عکرمہ کے قول کے موافق بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش اور فارس کے لوگوں میں دوستی تھی اس دوستی کے سبب سے فارس کے مجوس نے قریش سے یہ کہلا بھیجا کہ تم ان نبی پر یہ اعتراض کرو کہ اپنا ذبح کیا ہوا جانور کھانا اور خدا کا مارا ہوا جانور نہ کھانا یہ کونسا دین ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں قریش کا جواب جو ان آیتوں میں ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ذبح شدہ جانور پر اللہ کا نام لیا جاتا ہے اس واسطے وہ پاک اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 117–118

آیت 117 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کو لوگوں کی اکثریت کی اطاعت سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا ہے (وان تطع اکثرمن فی الارض یضلوک عن سبیل اللہ) ” اگر آپ کہنا مانیں گے اکثر ان لوگوں کا جو دنیا میں ہیں تو آپ کو اللہ کے راستے سے بہکا دیں گے “ کیونکہ ان میں سے اکثر لوگ اپنے دین، اعمال اور علوم سے منحرف ہوچکے ہیں۔ پس ان کے دین فاسد اور ان کے اعمال ان کی خواہشات نفس کے تابع ہیں اور ان کے علوم میں تحقیق ہے نہ سیدھے راستے کی طرف راہنمائی۔ ان کا تمام تر مقصد ظن و گمان کی پیروی ہے اور ظن و گمان حق کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں محض اندازوں سے ایسی بات…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 118–119

احکام ذبیحہ قول باری ہے ۔ فکلوا مما ذکراسم اللہ علیہ ان کنتم بایاتہ مومنین پھر اگر تم لوگ اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہو تو جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اس کا گوشت کھائو) آیت کا ظاہر تو امر کی صورت میں ہے لیکن اس کے معنی اباحت کے ہیں۔ جس طرح یہ قول باری ہے (واذا حللتم فاصطادوا جب تم احرام کھول دو تو پھر شکار کرو) یا ( فاذا اقضیت الصلوٰۃ فاتتشروا فی الارض جب جمعہ کی نماز پڑھ لی جائے تو پھر زمین میں بکھر جائو) آیت زیر بحث میں امر کے صیغے سے اباحت اس وقت مراد ہوگی جب تلذذ اور لطف اندوزی کی خاطر گوشت خوری مقصود ہو۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ اگر کوئی شخص گوشت خوری سے اللہ کی اطاعت میں مدد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

227 مشرکین کی تحریمات کو تسلیم کرنا ایمان کے منافی ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پس کھاؤ پیو تم لوگ ان چیزوں میں سے جن پر اللہ کا نام لیا گیا ہے اگر تم لوگ واقعی ایمان رکھنے والے ہو اس کی آیتوں پر۔ اس لیے کہ ایمانداری کا تقاضا یہی ہے کہ اپنی خود ساختہ رسوم و طقوم اور فرضی تحریمات کی بجائے تم لوگ اسی کے حکم و ارشاد کے آگے سر تسلیم خم کرو، جس پر تم ایمان لائے ہو۔ کیونکہ مشرکین کی تحریمات اور ان کی خرافات کی بناء پر اللہ تعالیٰ کی حلال فرمودہ پاکیزہ چیزوں کو حرام سمجھنا مشرکین اور شرک کی باتوں کو تسلیم کرنا ہے جو کہ ایمان کے منافی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو تحریم و تحلیل کا حق…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 118–121

جانور کو حلال کرنے کی شرط، گمراہوں کی پیروی کا رد تشریح : حلال حرام کے بارے میں بڑی تفصیل سے پہلے بیان کیا جا چکا ہے۔ کفار کے جواب میں پھر اس مسئلہ کی وضاحت کردی گئی ہے۔ کفار نے اعتراض کیا کہ لو دیکھو اللہ کے مارے ہوئے کو تو نہیں کھاتے جس کو خود ماریں اسے کھالیتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس جانور کو ذبح کرتے ہوئے اللہ کا نام لیا جائے وہ حلال ہے، لیکن جس پر اللہ کے سوا کسی کا نام لیکر ذبح کیا جائے وہ مسلمان کو کھانا منع ہے۔ ہاں ! اگر جان کو خطرہ ہو، یعنی انتہائی مجبوری پیش آجائے تو پھر کھا سکتے ہیں اور یہ مجبوری اللہ خوب جانتا ہے۔ کبھی بھی اللہ سے چھپا کر یا ظاہر طور پر گناہ نہ کرو۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 112–122

رکوع نمبر 14 آیات نمبر 112 تا 122: اسرار و معارف : ایمان کا مدار در اصل اس قلبی کیفیت پر ہے جو انسان کو رب العلمین سے نصیب ہوتی ہے جس کی بنیاد تو انسانی مزاج میں رکھ دی گئی ہے مگر اسے نور نبوت ہی سے جلا ملتی ہے اور یہ جذبہ دل میں سر اٹھاتا ہے کہ مجھے اپنے رب کی رضا کو حاصل کرنا چاہئے اور اس کا قرب پانا چاہئے۔ انسانی کردار اس کے ضمیر کو متاثر کرتا رہتا ہے حتی کہ بعض مظالم ایسے ہوتے ہیں جو دل میں اس جذبے پر تہ در تہ تاریکیاں مسلط کردیتے ہیں ایسے ہی بدنصیب تھے وہ لوگ جو آقائے نامدار ﷺ کے مبارک عہد میں آپ کے رخ انور سے بھی کوئی کرن تک حاصل نہ کرسکے کچھ خوش نصیب اگرچہ نور ایمان کو بعض وجوہ کی بنا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 117–118

ف 2 اور جو اپنی موت مرے یا اسے ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہ لیا جائے مت کھاؤ وہ مردار اور حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ لازمی تقاضا ہے (کبیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 116–118

(6:116) تطع۔ تو حکم مانے۔ تو حکم مانے گا۔ اطاعۃ سے مضارع واحد مذکر حاضر۔ تطع۔ اصل میں تطیع تھا۔ ان شرطیہ کے آنے سے ی حذف ہوگئی۔ ان یتبعون اور ان ھم میں ان نافیہ ہے۔ یخرصون۔ مضارع جمع مذکر غائب خوص سے (باب نصر) وہ قیاسی باتیں کرتے ہیں ۔ الخصوص۔ پھلوں کا اندازہ کرنا۔ اندازہ کئے ہوئے پھلوں کو خرص بمعنی مخصروص کہتے ہیں۔ اٹکل کرنا اور جھوٹ بولنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ چناچہ آیہ ہذا میں اور آیت (43:20) میں ہے ان ہم الا یخرصون۔ یہ تو صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں۔ اور بعض کے نزدیک یخرصون بمعنی یکذبون ہے یعنی وہ جھوٹ بولتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 118–121

لغات القرآن : آیت نمبر 118 تا 121 : الا تاکلوا ( یہ کہ تم کیوں نہیں کھاتے ؟ ) ذکراسم اللہ ( اللہ کا نام لیا گیا ہے) اضطررتم ( تم مجبور ہو جائو۔ مجبور کردیئے گئے) ‘ المعتدین (زیادتی کرنے والے) ذروا ( چھوڑ دو ) ظاھرالاثم ( ظاہری گناہ۔ کھلا ہوا گناہض سیجزون ( جلدہی بدلہ دیئے جائیں گے) فسق (گناہ) لیجادلو (تاکہ وہ جھگڑا کریں) تشریح : آیت نمبر 118 تا 121 : حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس ؓ کی روایت ہے کہ عرب کے جہلا کو اسلام کے خلاف بھڑکانے کے لئے علمائے یہود جس قسم کے سوالات سکھایا کرتے تھے ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ واہ واہ یہ کیا بات ہے جس جانور کو اللہ ماردے وہ تو حرام ہوجائے اور جس جانور کو انسان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 118–121

شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ قریش نے اعتراض کیا کہ اپناذبح کیا ہوا جانور کھانا اور خدا کا مرا ہوا جانور نہ کھانا یہ کون سا دین ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ قریش کا جواب جو ان آیتوں میں ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ذبح شدہ جانور پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے اس واسطے وہ پاک اور حلال ہے۔ بتوں کے نام پر جو جانور ذبح کیا جاوے یا جو جانور اپنی موت سے مرجاوے بہ سبب اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا نام اس پر نہیں لیا گیا وہ حرام اور نجس ہے۔ مفصل تفصیل حلال و حرام کی سورة مائدہ میں معلوم ہوچکی ہے، تو پھر ہر ایماندار آدمی کو چاہیے کہ اس کی پابندی کرے اور مردار کھانے والے لوگ جو حد شرع کے خود…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 116–118

اکثریت کی رائے : (ف 2) مقصد یہ ہے کہ ساری دنیائے کفر اسلام کی صداقت کو جھوٹ سے نہیں بدل سکتی ، صداقت کے لئے اکثریت شرط نہیں سچائی سچائی ہے ، اگرچہ ایک عالم اس کا مخالف ہو ، مکہ والوں کو ذبیحہ کے متعلق کچھ شبہات تھے ، وہ کہتے تھے اسلام میں ذبیحہ کا اصول عام دنیا سے مختلف ہے اس لئے ناقابل قبول ہے قرآن حکیم کہتا ہے یہی درست ہے ، اکثریت کی پیروی گمراہی ہے ۔ (آیت) ” ان تطع “۔ اور ” یضلوک “ ۔ کے یہ معنی نہیں ہیں کہ حضور ﷺ کے لئے عوام کی پیروی کا امکان ہے بلکہ قرآن کا یہ عام انداز بیان ہے کہ وہ حضور ﷺ کو مخاطب کرنا ہے اور مراد آپ کے ماننے والے ہوتے ہیں ، ورنہ آپ کے لئے ضلالت کا امکان کہاں ، (آیت) ”…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-118 ذبیحہ کی حلت و حرمت کے بارے میں جو یہ لوگ کج بحثی کر رہے ہیں ان کا کہا نہ مانو ! اور اگر تم اللہ تعالیٰ کے احکام پر اور اس کی آیات پر ایمان رکھتے ہو تو ان حلال جانوروں کے ذبیحہ میں سے کھائو جن پر ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو۔ یعنی بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر ذبح کیا ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 118–120

ف 3۔ اوپر وان تطع۔ میں اہل ضلال کے اتباع سے مطلقا منع فرمایا تھا اب باقتضا ایک واقعہ کے ایک خاص امر میں اتباع کرنے سے منع فرماتے ہیں وہ خاص امرمذبوح وغیر مذبوح کی حلت و حرمت ہے اور وہ واقعہ یہ ہے کہ کفار نے مسلمانوں کو یہ شبہ ڈالنا چاہا کہ اللہ کے مارے ہوئے جانور کو تو کھاتے نہیں اور اپنے مارے ہوئے یعنی ذبیحہ کو کھاتے ہو بعض مسلمانوں نے نبی ﷺ کی خدمت میں یہ شبہ نقل کیا اس پر یہ آیتیں لمشرکون تک نازل ہوئیں۔ 4۔ کیونکہ حلال کو حرام جاننا خلاف ایمان ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جس چیز پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اس کو بلاتامل کھاؤ بشرطیکہ وہ حلال ہو : 179: وہ اشیاء جن کا کھانا حرام ہے قرآن کریم میں چار جگہ صاف صاف الفاظ میں بیان کی گئی ہیں اور وہ یہ ہیں ” مردار “ ” خون “ ” سور کا گوشت “ اور وہ جانور یا کوئی اور چیز جو غذائی طور پر استعمال ہوتی ہو۔ اس کو اللہ کے سوا کسی اور نام کی طرف منسوب کیا گیا ہو یا جانور کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو حرام ہے۔ یہ حکم قرآن کریم میں چار جگہ بیان ہوا ہے مکی سورتوں میں سورة انعام کی آیت 145 اور سورة نحل کی آیت 115 میں اور مدنی سورتوں میں سورة البقرہ کی آیت 173 اور سورة المائدہ کی آیت 3 میں اس کا اعادہ کیا گیا ہے اور پھر اس سورة…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 118–121

Linkage of Verses Earlier (116), by saying: وَ اِن تطِع (And if you obey), following people in error was prohibited absolutely. Onward from there, comes the prohibition of such following in a particular matter as necessitated by an event. That event pertains to the lawfulness of what has been slaughtered properly or improperly. The event is that disbelievers tried to put Muslims in doubt by commenting that they did not eat of the animals killed by Allah (i.e. by natural death) while they had no problem with eating of what they killed (slaughtered) themselves (as deduced by Abu Dawud and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

84. Many nations have imposed on themselves superfluous religious taboos, which include a variety of dietary restrictions. On the one hand, they have declared lawful many of the things which God has forbidden. On the other, there are many things which God has made lawful but which some people have forbidden to themselves. Some people have even gone so far as to consider eating animals slaughtered in the name of God as unlawful, while those slaughtered with no mention of God's name may be eaten. God repudiates this and urges the Muslims - if they really believe in Him and obey His injunctions…

Read the full tafseer →