Explained with ayahs 116–117
بیکار خیالوں میں گرفتار لوگ
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اکثر لوگ دنیا میں گمراہ کن ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے آیت (وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِيْنَ) 37۔ الصافات :71) اور جگہ ہے آیت (وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ) 12۔ یوسف :103) گو تو حرص کرے لیکن اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں۔ پھر یہ لوگ اپنی گمراہی میں بھی کسی یقین پر نہیں صرف باطل گمان اور بیکار خیالوں کا شکار ہیں اندازے سے باتیں بنا لیتے ہیں پھر ان کے پیچھے ہو لیتے ہیں، خیالات کے پرو ہیں تو ہم پرستی میں گھرے ہوئے ہیں یہ سب مشیت الٰہی ہے وہ گمراہوں کو بھی جانتا ہے اور ان پر گمراہیاں آسان کردیتا ہے، وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
سورة الْاَنْعَام 83
یعنی بیشتر لوگ جو دنیا میں بستے ہیں علم کے بجائے قیاس و گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور ان کے عقائد، تخیلات، فلسفے، اصول زندگی اور قوانین عمل سب کے سب قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔ بخلاف اس کے اللہ کے راستہ، یعنی دنیا میں زندگی بسر کرنے کا وہ طریقہ جو اللہ کی رضا کے مطابق ہے، لازماً صرف وہی ایک ہے جس کا علم اللہ نے خود دیا ہے نہ کہ وہ جس کو لوگوں نے بطور خود اپنے قیاسات سے تجویز کرلیا ہے۔ لہٰذا کسی طالب حق کو یہ نہ دیکھنا چاہیے کہ دنیا کے بیشتر انسان کس راستہ پر جا رہے ہیں بلکہ اسے پوری ثابت قدمی کے ساتھ اس راہ پر چلنا چاہیے جو اللہ نے بتائی ہے، چاہے اس راستہ پر چلنے کے لیے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
تیسری آیت میں حق تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو اطلاع دی کہ زمین پر بسنے والے بنی آدم کی اکثریت گمراہی پر ہے، آپ ﷺ اس سے مرعوب نہ ہوں ان کی باتوں پر کان نہ دھریں قرآن نے متعدد مقامات پر اس مضمون کو بیان فرمایا ہے، ایک جگہ ارشاد ہے (آیت) ولقد ضل قبلھم اکثر الاولین، دوسری جگہ ارشاد ہے (آیت) وما اکثر الناس ولو حرصت بمومنین، مطلب یہ ہے کہ عادةً انسان پر عددی اکثریت کا رعب غالب ہوجاتا ہے، اور ان کی اطاعت کرنے لگتا ہے، اس لئے آنحضرت ﷺ کو خطاب کیا گیا کہ
”دنیا میں زیادہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر آپ ﷺ ان کا کہنا ماننے لگیں تو وہ آپ ﷺ کو اللہ کی راہ سے بےراہ کردیں، کیونکہ وہ عقائد و نظریات میں محض خیالات اور…
Read the full tafseer →وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ، اوپر آیت 115 میں جس حقیقت کی طرف اشارہ ہوا تھا، یہ اس کی تصریح ہے اور خطاب اگرچہ بصیغہ واحد ہے لیکن معنا خطاب عام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس وقت جو غوغائے عام دعوت توحید کی مخالف اور مشرکانہ بدعات کی حمایت میں برپا ہے اس کی مطلق پروا نہ کرو۔ یہ کسی دلیل و سند اور کسی علم و حجت پر مبنی نہیں ہے بلکہ تمام تر ظن و گمان کی پیروی پر مبنی ہے۔ یہ محض اٹکل کے تیر تکے چلائے جا رہے ہیں۔ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ۔ یہ دعوی جو کیا جاتا ہے کہ یہ جس طریقہ کی پیروی کر رہے ہیں۔ یہ خدا کا بتایا ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
116۔ 1 قرآن کی اس بیان کردہ حقیقت کا بھی، واقعہ کے طور پر ہر دور میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (سورة یوسف، 13) آپ کی خوہش کے باوجود اکثر لوگ ایمان والے نہیں، اس سے معلوم ہوا، حق اور صداقت کے راستے پر چلنے والے لوگ ہمیشہ تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔ جس سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ حق وباطل کا معیار، دلائل وبراہین ہیں، لوگوں کی اکثریت و اقلیت نہیں۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ جس بات کو اکثریت نے اختیار کیا ہوا ہو، وہ حق ہو اوراقلیت میں رہنے والے باطل پر ہوں۔ بلکہ مذکورہ حقیقت قرآنی کی رو سے یہ زیادہ ممکن ہے کہ اہل حق تعداد کے لحاظ سے اقلیت میں ہوں اور اہل باطل اکثریت میں۔ جس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–117
51: یہاں پھر وہی بات فرمائی جا رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو شیاطین کو یہ قدرت نہ دیتا اور لوگوں کو زبردستی ایمان پر مجبور کردیتا لیکن چونکہ مقصد امتحان ہے، اس لئے زبردستی کا ایمان معتبر نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–117
(آیت) ” نمبر 114 تا 117۔
یہ اہم تمہیدی امور یہاں اس لئے لائے گئے ہیں کہ اصل موضوع پر کلام کیا جاسکے ۔ اس کے بعد اس تمہید اور موضوع دونوں کو مسئلہ کفرو ایمان کے ساتھ مربوط کردیا جاتا ہے ۔
Read the full tafseer →1 مشاہدہ اور تاریخ بتلاتے ہیں کہ دنیا میں ہمیشہ فہیم، محقق اور با اصول آدمی تھوڑے رہے ہیں۔ اکثریت ان ہی لوگوں کی ہوتی ہے جو محض خیالی، بےاصول اور اٹکل پچو باتوں کی پیروی کرنے والے ہوں۔ اگر تم اسی اکثریت کا کہنا ماننے لگو اور بےاصول باتوں پر چلنا شروع کردو تو خدا کی بتلائی ہوئی سیدھی راہ سے یقینا بہک جاؤ گے۔ یہ آپ پر رکھ کر دوسروں کو سنایا۔ جاہل عوام کی ان ہی بےاصول اور اٹکل پچو باتوں میں سے ایک وہ تھی جو انہوں نے ذبیحہ کے مسئلہ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو جانور طبعی موت سے مرجائے (یعنی میتہ) اسے مسلمان حرام کہتے ہیں حالانکہ وہ خدا کا مارا ہوا ہے اور جو خود ان کے ہاتھ کا مارا ہوا ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
آیت 116 وَاِنْ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط۔
جدید جمہوری نظام کے فلسفے کی نفی کے لیے یہ بڑی اہم آیت ہے۔ جمہوریت میں اصابتِ رائے کے بجائے تعداد کو دیکھا جاتا ہے۔ بقول اقبالؔ :
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں ‘ تولا نہیں کرتے !
اس حوالے سے قرآن کا یہ حکم بہت واضح ہے کہ اگر زمین میں بسنے والوں کی اکثریت کی بات مانو گے تو وہ تمہیں گمراہ کردیں گے۔ دنیا میں اکثریت تو ہمیشہ باطل پرستوں کی رہی ہے۔ دور صحا بہ رض میں صحابہ کرام رض کی تعداد دنیا کی پوری آبادی کے تناظر میں دیکھیں تو لاکھ کے مقابلے میں ایک کی نسبت بھی نہیں بنتی۔ اس لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
121 اکثریت کا مذہب محض تقلید اور وہم و قیاس پر ہے :۔ تاریخ اور مشاہدہ دونوں اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ کسی بھی معاشرہ میں اہل خرد اور ذہین اور بااصول لوگ کم ہی ہوا کرتے ہیں۔ معاشرہ کی اکثریت جاہل عوام پر مشتمل ہوتی ہے۔ قرآن نے متعدد مقامات پر ایسی اکثریت کو جاہل، فاسق، ظالم اور مشرک قرار دیا ہے ان لوگوں کا اپنا کوئی اصول نہیں ہوتا۔ نہ انہیں کسی بات کا علم ہوتا ہے اور نہ ہی وہ علم حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں اپنے کھانے پینے کے سوا نہ کسی چیز کی فکر ہوتی ہے اور نہ ہی اس کے علاوہ وہ کوئی اور بات سوچنے کی زحمت گوارا کرتے ہیں۔ ان کے زندگی گزارنے کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ جس رخ لوگوں کی اکثریت جا…
Read the full tafseer →169 ۔ (کہ دنیا کی اکثریت تو منکروں اور گمراہوں ہی پر شامل ہے)
170 ۔ وحی الہی کے نور مبین اور علم قطعی کے سوا دنیا میں ” عقل “ اور ” علوم “ کے نام سے جو کچھ بھی ہے چاہے وہ ارسطو کی منطق ہو چاہے کینٹ کے مقولات سب ظن وتخرص ہی کے حکم میں داخل ہیں۔ ظن یہاں بہت وسیع معنی میں ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ باب احکام میں کشف والہام حجت نہیں۔ اور ان پر جزم کرنا تو بالکل ہی باطل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–121
شان نزول : اَفَغیر اللہ ابتغی حَکَمًا، مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ سے یہ کہا کرتے تھے کہ اہل کتاب میں سے کسی کو ثالث قرار دیا جائے اگر وہ قرآن کا کلم الہیٰ کہہ دے تو ہم لوگ آپ کے نبی برحق اور قرآن کے کلام الہیٰ ہونے کے قائل ہوجائیں گے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں، اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان مقدمہ نبوت و رسالت میں اختلاف و نزاع ہے میں اس کا مدعی ہوں اور تم منکر اور اس نزع و اختلاف کا فیصلہ احکم الحاکمین کی عدالت سے میرے حق میں اس طرح ہوچکا ہے کہ میرے اس دعوے پر کافی ثبوت اور دلائل موجود ہیں خود قرآن کا اعجاز ہے جس نے نہ صرف عالم عرب کو بلکہ اقوام عالم کو چیلنچ کیا کہ…
Read the full tafseer →وان تطع اکثر من فی الارض یضلوک عن سبیل اللہ . اور اگر آپ اکثر اہل زمین کی پیروی کریں گے تو وہ آپ کو اللہ کے راستہ سے بھٹکا دیں گے۔ اکثر اہل زمین سے مراد ہیں کفار کیونکہ اہل ایمان سے کافروں کی تعداد زائد ہے اور راہ خدا سے مراد ہے اللہ تک پہنچانے والا راستہ یعنی دین اسلام۔
ان یتبعون الا الظن . اکثر لوگ تو محض بےاصل خیالات پر چلتے ہیں یعنی اپنی جہالت اور خودساختہ حلت مردار اور حرمت بحیرہ وغیرہ پر۔
وان ہم الا یخرصون . اور بالکل قیاسی باتیں کرتے ہیں یعنی جو کچھ کہتے ہیں محض گمان اور تخمین سے کہتے ہیں کسی صحیح دلیل سے حاصل شدہ یقین کی روشنی میں نہیں کہتے۔
Read the full tafseer →(116) اور اس نصرت خداوندی کو جو اس کے اولیاء کے لیے اس کی طرف سے آتی ہے اس میں کوئی تبدیل کرنے والا نہیں یا یہ کہ آپ کے پروردگار کا دین بندوں کے بندوں کے سامنے اس بات کی سچائی کے ساتھ ظاہر ہوگیا ہے کہ وہ دین الہی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے حکم سے ظاہر ہوگیا کہ اس کے دین میں کوئی کسی قسم کی تبدیلی کرنے والا نہیں اور وہ سب کی باتیں سننے والا اور سب کے افعال سے باخبر ہے۔
رؤساء اہل مکہ جن میں سے ابوالاحوص، مالک بن عوف، بدیل بن ورقاء اور جلیس بن ورقاء ایسے ہیں کہ اگر آپ ان لوگوں کا کہنا مان لیں تو دین الہی سے حرم تک میں بےراہ کردیں اور وہ محض بےبنیاد خیالات پر چلتے ہیں، اور مسلمانوں سے محض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ۔ : اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں اپنے نبی کو متنبہ کیا ہے کہ کثرت آپ کے نزدیک حق کی دلیل نہیں ہونی چاہیے اور محض کثرت کی بنیاد پر آپ کو اہل زمین کا اتباع نہیں کرنا چاہیے، ورنہ آپ راہ حق سے ہٹ جائیں گے۔ یہ کفار جو کثیر تعداد میں ہیں، اس جھوٹے گمان میں مبتلا ہیں کہ ان کے آباء و اجداد حق پر تھے، اس لیے ان کی تقلید کرتے ہیں۔ ان کے پاس اس کے سوا کوئی دلیل موجود نہیں ہے کہ لوگوں کی اکثریت اسی دین پر قائم ہے جو ان کا بھی دین ہے۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اٹکل پچو باتیں کرتے ہیں، کبھی کسی کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں تو کبھی بتوں کو اللہ کے پاس اپنا سفارشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
آیت نمبر 117
قولہ تعالیٰ : آیت : وان تطع اکثر من فی الارض یعنی اگر تو اطاعت کرے کفار کی۔ آیت : یضلوک عن سبیل اللہ تو وہ تجھے بہکا دیں گے اس راستے سے جو اللہ تعالیٰ کے اجر وثواب کی طرف پہنچا دیتا ہے۔
آیت : ان یتبعون الا الظن اس میں ان بمعنی ما ہے، اور اسی طرح آیت : وان ھم الا یخرصون ہے یعنی نہیں ہیں وہ مگر تخمینے لگاتے ہیں اور اندازے لگاتے ہیں، اور اسی سے الخرص ہے، اور اس کا اصل معنی کاٹنا ہے۔
شاعر نے کہا ہے :
تری قصد المران فینا کا نہ تذرع خرصان بائیدی الشواطب
یعنی وہ ٹہنی جو طولا کاٹی جاتی ہے اور اس سے (سہارا کے لیے) کھونڈی بنائی جاتی ہے۔ اور یہ خرصان خرص کی جمع ہے۔ اور اس سے خرص یخرص النخل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–117
(1) امام عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وتمت کلمت ربک صدقا وعدلا کے بارے میں فرمایا کہ آپ کے رب کی طرف پوری ہوگئی سچائی کے ساتھ جس کا اس نے فیصلہ کیا اور انصاف کے ساتھ جس کا اس نے فیصلہ فرمایا۔
(2) امام ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابو نصرالسجزی نے الابانہ میں محمد بن کعب قرظی سے روایت کیا کہ لفظ آیت لامبدل لکلمتہ یعنی کسی چیز کے لئے تبدیلی نہیں ہے دنیا میں اور آخرت میں جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمانا لفظ آیت ما یبدل القول لدی
(3) امام ابن مردویہ نے ابو الیمان جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ فتح مکہ کے دن مسجد حرام میں داخل ہوئے…
Read the full tafseer →وَاِنْ [ اور اگر ] تُطِعْ [ آپ کی اطاعت کریں ] اَكْثَرَ مَنْ [ ان کی اکثریت کی جو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ہیں ] يُضِلُّوْكَ [ تو وہ بھٹکا دیں گے آپ کو ] عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے راستے سے ] اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ [ وہ لوگ پیروی نہیں کرتے ] اِلَّا [ مگر ] الظَّنَّ [ گمان کی ] وَاِنْ هُمْ [ اور وہ نہیں ہیں ] اِلَّا [ مگر یہ کہ ] يَخْرُصُوْنَ [ اٹکل لگاتے ہیں ]
نوٹ 1: کچھ قدیم علماء نے ظاہری گناہ اور باطنی گناہ سے کچھ مخصوص گناہ مراد لئے ہیں ۔ موجودہ دور کے علماء میں سے مولانا امین احسن اصلاحی نے باطنی گناہ سے شرکیہ عقائد اور ظاہری گناہ سے شرکیہ عقائد کے مظاہر مراد لئے ہیں ۔ جبکہ ابن…
Read the full tafseer →زمین کے اکثر رہنے والے گمراہ کرنے والے ہیں :
اس کے بعد فرمایا (وَ اِنْ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ ) (الآیۃ) اس میں یہ ارشاد فرمایا کہ زمین پر جو لوگ بستے ہیں ان میں اکثر گمراہ ہیں۔ ان اکثریت والوں کی اطاعت کرو گے تو یہ تمہیں راہ حق سے ہٹا دیں گے۔
معلوم ہوا کہ اکثریت دلیل حقانیت نہیں ہے جیسا کہ سورة مائدہ میں فرمایا (قُلْ لَّایَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطِّیِّبُ وَ لَوْاَعْجَبَکَ کَثْرَۃُ الْخَبِیْثِ ) دنیا میں اکثریت گمراہوں کی ہے جو اللہ کی راہ سے ہٹے ہوئے ہیں ان کی بات مانو گے تو گمراہ ہوجاؤ گے۔ حق والوں کے پاس اٹھو بیٹھو اور ان سے حق سیکھو۔
سورة توبہ میں فرمایا (یٰٓایُّھَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–121
تتمۂ توبیخ معاندین وتحذیر از اتباع مضلین ومجادلین
قال اللہ تعالیٰ افغیر اللہ ابتغی حکما۔۔۔ الی۔۔۔ وان اطعتموھم انکم لمشرکین
(ربط) گذشتہ آیات میں یہ بیان ہوچکا کہ یہ کافر جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور ایسے ضدی اور عنادی ہیں کہ جن معجزات کی وہ خواہش رکھتے ہیں ان کے ظاہر ہونے پر بھی ایمان نہیں لائیں گے اگر دل میں کچ بھی قبول حق کا مادہ ہوتا تو پہلے ہی مرتبہ آیات بینات دیکھ کر ایمان لے آتے اس لے کہ اول تو قرآن کریم آپ ﷺ کا عظیم ترین معجزہ ہے اور آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی روشن دلیل ہے اس کی طرف رجوع کرلینا کافی ہے ؎
آفتاب آمد دلیل آفتاب گر دلیلے باید ازدے رومتاب
ایسی روشن دلیل کے بعد کسی اور فیصلہ کرنے…
Read the full tafseer →126 یہ زجر ہے اکثر من فی الارض مراد مشرکین ہیں۔ والمراد باکثرھم الکفار (روح) سَبِیْل اللہ سے مراد توحید باری تعالیٰ یعنی اگر آپ کفار و مشرکین کی بات مان لیں گے تو وہ تو آپ کو توحید کی راہ سے ہٹانے ہی کی کوشش کریں گے۔ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ الخ آپ کے پاس تو اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے اور آپ کا علم علم الیقین ہے مگر مشرکین کے پاس ظن وتخمین کے سوا کچھ نہیں وہ محض ظن کی بنا پر شرک کر رہے ہیں یَخْرصُوْنَ وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور اللہ کی طرف ولد (نائب) اور شرکاء کی نسبت کرتے ہیں والمراد انھم یکذبون علی اللہ تعالیٰ فیما ینبون الیہ جل شانہ کا تخاذ الود وجعل عبادۃ الاوثان ذریعۃ الیہ سبحانہ (روح ج 8…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–117
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک اور مشرکین کی تردید کے ساتھ ساتھ رسالت کا ذکر بھی کیا ۔ اس کے ساتھ توحید کا ذخر بھی مختلف انداز میں کیا اور انسانی اور جناتی شیطانوں کا بیان بھی فرمایا اور یہ بھی کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رک تھے وہ شرکیہ باتوں میں ملوث ہوجاتے ہیں اور اللہ کی وحدانیت کا انکار کردیتے ہیں اور پھر اللہ کے انبیاء کے متعلق بھی بیہودہ باتیں کرتے ہیں۔ اللہ نے ان سب کی تردید فرمائی اور اب آج کے درس میں مشرکین کے ایک سوال کا جواب دیا ہے۔ قریش مکہ حضور علیہ اسلام کی رسالت کے منکر تھے اور آپ پر نازل ہونے والی کتاب کا بھی انکار کرتے تھے۔ بعض لوگ کہتے تھے کہ اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو…
Read the full tafseer →وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللہِ 0 ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ ہُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ 116
طوع
الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ
قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–118
ترکیب : افغیر اللّٰہ ابتغی کا مفعول حکماء اس سے حال ویجوزالعکس مفصلا الکتب سے حال ہے اور بالحق ضمیر مرفوع منزل سے۔ صدقا وعدلا تمیز ہیں اور مفعول لہ بھی اور حال بھی ہوسکتی ہیں۔ ھوا اعلم خبر ان من بمعنی الذی یانکرہ موصوفہ موضع نصب میں فعل محذوف سے جس پر اعلم دلالت کرتا ہے ای یعلم من یضل یا من استفہامیہ مبتداء ویضل خبر اور جملہ یعلم محذوف سے محل نصب میں۔
تفسیر : چونکہ پہلی آیتوں میں کفار کے اعتقادِ بد کو اور انکار نبوت اور شبہات بےجا کو رد فرما کر آنحضرت ﷺ اور جملہ ایمانداروں کی تسلی کے لئے فرما دیا تھا کہ ان کی یہ سب باتیں ملمع کاری ہے (زخرف القول) جو ان کے مادہ فاسدہ سے ابخرات کی طرح اٹھتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
ارشاد فرمایا :
وَاِنْ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْکَ عَنْ سَبِیْلِ اللہِ ط اِنْ یَّتَََّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ ھُم اِلَّا یَخْرُصُوْنَ ۔ اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِہٖ ج وَھُوَ اَعْلَمُ بِالْمُھْتَدِیْنَ ۔ (الانعام : 116۔ 117)
(اور اس زمین والوں میں سے اکثر ایسے ہیں کہ اگر تم نے ان کی بات مانی تو وہ تمہیں خدا کے راستے سے گمراہ کر کے چھوڑیں گے۔ یہ محض گمان کی پیروی کرتے ہیں اور اٹکل کے تیر تکے چلاتے ہیں۔ بیشک ! تیرا رب خوب جانتا ہے ‘ ان کو ‘ جو اس کے راستے سے بھٹکے ہوئے ہیں اور خوب جانتا ہے ‘ ان کو ‘ جو ہدایت یاب ہیں )
مسلمانوں کے لیے صرف وحی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
فہم القرآن
ربط کلام : حق و انصاف، ہدایت اور رہنمائی کا فیصلہ لوگوں کی اکثریت پر نہیں ہوا کرتا۔ اکثریت کے پیچھے چلنے والا گمراہ ہی ہوا کرتا ہے۔ کیونکہ لوگوں کی اکثریت گمراہ ہوتی ہے۔
رسول محترم ﷺ کے زمانہ میں منکرین حق اپنی گمراہی کی تائید میں یہ دلیل بھی دیا کرتے تھے کہ اگر آپ سچے ہیں تو آپ کی پیروی کرنے والے تعداد کے لحاظ سے تھوڑے اور وسائل کے اعتبار سے کمزور کیوں ہیں ؟ اس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ لوگوں کی اکثریت ہمیشہ گمراہی پر قائم رہی ہے لہٰذا حق و صداقت کا معیار ٹھوس دلائل ہیں لوگوں کی اکثریت نہیں۔ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کا پابند کیا گیا ہے نہ کہ جمہوریت کا ؟ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →کفار گمان کے پیرو ہیں :
آیت 116 : وَاِنْ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یعنی کفار کو کیونکہ وہ زیادہ ہیں۔ یُضِلُّوْکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِاس کے دین سے اِنْ یََّتَّبِعُوْنَ اِلاَّ الظَّنَّ انکا یہ گمان کہ ان کے آباء حق پر تھے سو یہ ان کی تقلید کرتے ہیں۔ وَاِنْ ہُمْ اِلاَّ یَخْرُصُوْنَوہ جھوٹ بولتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر فلاں چیز حلال اور فلاں چیز حرام کی۔
Read the full tafseer →116 (وان تطع اکثر من فی الارض یضلوک عن سبیل اللہ) اللہ کے دین سے کیونکہ اکثر دنیا والے گمراہ ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ اور مئومنین سے جھگڑا کیا تھا کہ تم جس کو خود ذبح کرتے ہو اس کو کھاتے ہو اور جس کو اللہ مار دے اس کو نہیں کھاتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اگر مردار کے کھانے میں آپ (علیہ السلام) ان کی اطاعت کریں گے تو آپ کو بہکا دیں گے (ان یتبعون الا الظن) یعنی ان کا موجودہ دین تو صرف گمان اور خواہشات ہے کوئی بصیرت نہیں (وان ھم الایخرصون) یعنی جھوٹ بولتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
(116 ۔ 117) ۔ سورة مائدہ میں گذر چکا ہے کہ قبیلہ خزاعہ کے ایک سروار عمر بن لحی بن قمعہ نے مکہ میں بت پرستی اور بتوں کے نام پر جانور چھوڑ کر ان کو حرام ٹھہرانے کی رسم پھیلائی اس رسم میں یہ بھی ایک بات تھی کہ مردار جانور کو اہل مکہ حلال جانتے تھے غرض ان حرام حلال ٹھہرائے ہوئے جانوروں کہ باب میں مشرکین مکہ اکثر آنحضرت ﷺ سے طرح طرح کا جھگڑا کیا کرتے تھے۔ خاص طور پر مردار جانور کا جھگڑا تو آگے کی آیتوں میں آتا ہے ان آیتوں میں مشرکین مکہ کے عام جھگڑوں کے متعلق یہ فرمایا ملت ابراہیمی شریعت موسوی شریعت عیسوی کی بگاڑ کر آج کل اس زمین پر یہی لوگ ہیں جن کی یہ اٹکل ان کا دین ایمان ہے کہ جو رسمیں ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–116
آیت 115
یعنی اے رسول ﷺ ان سے کہہ دیجیے (افغیر اللہ ابتغی حکماً ) ” کیا میں اللہ کے سوا کوئی منصف تلاش کروں “ اور اس کے پاس اپنے فیصلے لے کر جاؤں اور اس کے اوامرو نواہی کی پابندی کروں ؟ کیونکہ غیر اللہ حاکم نہیں محکوم ہوتا ہے اور مخلوق کے لئے ہر تدبیر اور ہر فیصلہ، نقص، عیب اور ظلم و جور پر مشتمل ہوتا ہے اور جسے حاکم بنانا واجب ہے، وہ صرف اللہ وحدہ لاشریک لہ کی ذات ہے جو خلق و امر کی مالک ہے۔ (وھو الذین انزل الیکم الکتب مفصلاً ” حالانکہ اسی نے اتاری ہے تم پر کتاب واضح “ یعنی جس میں حلال و حرام، احکام شریعت اور دین کے اصول و فروغ واضح کئے گئے ہیں، اس کی توضیح سے بڑھ کر کوئی توضیح نہیں، اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–117
بُتوں کو بُرا بھلا نہ کہو
قول باری ہے ( ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ فیسبوا اللہ عدواً بغیر علم اور ( اے ایمان والو) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں ان کو گالیاں نہ دو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں) سدی کا قول ہے کہ بتوں کو گالیاں نہ دو کہ پھر اس کے جواب میں مشرکین کو تمہارے لیے شریعت نازل کرنے والی ذات کے خلاف بدزبانی کا موقعہ ہاتھ آ جائے۔ ایک قول یہ ہے کہ تم بتوں کو برا بھلا نہ کہو کہ اس کے سبب پیدا ہونے والا غصہ اور جہالت ان مشرکین کو اس ذات کے خلاف بدزبانی کرنے پر نہ اکسا دے جس کی تم بندگی کرتے ہو۔ اس کے اندر اس بات کی دلیل موجود…
Read the full tafseer →224 محض عوام کی اکثریت کی بات ماننا باعث گمراہی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا کہ اگر تم نے زمین میں رہتے بستے لوگوں کی اکثریت کی بات مانی اور ان کو معیار ٹھہرایا تو یہ لوگ تم کو بھٹکا دیں گے اللہ کی راہ سے کہ یہ خود بھٹکے ہوئے اور بےراہ ہیں۔ معلوم ہوا کہ عوام کی اکثریت کا کسی بات کا ساتھ دینا اس کے حق ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا، جیسا کہ دور حاضر میں جمہوریت کے نوسا ختہ بت کے پجاریوں نے سمجھ رکھا ہے اور جس طرح کہ اہل بدعت کا کہنا ماننا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو عوام کی تائید یا تردید کو کسی امر کے حق یا باطل ہونے کیلئے معیار نہیں قرار دیا جاسکتا کہ ان کی اکثریت غلط کار گمراہ اور خواہشات کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–117
شریعت اللہ کی تکمیل، اکثریت کی حیثیت
تشریح : پچھلی آیات میں کفار و مشرکین کی فطرت اور بدعملی کا ذکر کیا گیا ہے تو ان آیات میں اللہ رب العزت حضرت محمد ﷺ کو فرما رہے ہیں کہ آپ صاف طور اور دو ٹوک الفاظ میں ان لوگوں کو بتا دیں کہ عقل سے کام لو تو کچھ مشکل نہیں کیونکہ اللہ سے بڑا اور کون گواہ ہوسکتا ہے جس نے انسانوں کی ہدایت کے لئے حکمت اور ہدایت سے بھری ہوئی کتاب (قرآن مجید) نازل فرمائی اور اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں اور پھر اس کتاب کے بارے میں اہل کتاب کو تورات اور انجیل میں صاف صاف بتا دیا گیا ہے کہ آخری نبی محمد رسول اللہ ﷺ ان نشانیوں کے ساتھ آئیں گے جو سب نشانیاں ان میں موجود ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–122
رکوع نمبر 14 آیات نمبر 112 تا 122:
اسرار و معارف :
ایمان کا مدار در اصل اس قلبی کیفیت پر ہے جو انسان کو رب العلمین سے نصیب ہوتی ہے جس کی بنیاد تو انسانی مزاج میں رکھ دی گئی ہے مگر اسے نور نبوت ہی سے جلا ملتی ہے اور یہ جذبہ دل میں سر اٹھاتا ہے کہ مجھے اپنے رب کی رضا کو حاصل کرنا چاہئے اور اس کا قرب پانا چاہئے۔ انسانی کردار اس کے ضمیر کو متاثر کرتا رہتا ہے حتی کہ بعض مظالم ایسے ہوتے ہیں جو دل میں اس جذبے پر تہ در تہ تاریکیاں مسلط کردیتے ہیں ایسے ہی بدنصیب تھے وہ لوگ جو آقائے نامدار ﷺ کے مبارک عہد میں آپ کے رخ انور سے بھی کوئی کرن تک حاصل نہ کرسکے کچھ خوش نصیب اگرچہ نور ایمان کو بعض وجوہ کی بنا…
Read the full tafseer →ف 1 اور اس اٹکل کی بنا پر انہوں نے بہت سی حلال چیزوں کو حرام ٹھہرا لیا ہے۔ موجودہ دور میں اکثر لوگوں کا یہی رویہ ہے، (وحیدی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–118
(6:116) تطع۔ تو حکم مانے۔ تو حکم مانے گا۔ اطاعۃ سے مضارع واحد مذکر حاضر۔ تطع۔ اصل میں تطیع تھا۔ ان شرطیہ کے آنے سے ی حذف ہوگئی۔ ان یتبعون اور ان ھم میں ان نافیہ ہے۔
یخرصون۔ مضارع جمع مذکر غائب خوص سے (باب نصر) وہ قیاسی باتیں کرتے ہیں ۔ الخصوص۔ پھلوں کا اندازہ کرنا۔ اندازہ کئے ہوئے پھلوں کو خرص بمعنی مخصروص کہتے ہیں۔ اٹکل کرنا اور جھوٹ بولنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ چناچہ آیہ ہذا میں اور آیت (43:20) میں ہے ان ہم الا یخرصون۔ یہ تو صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں۔ اور بعض کے نزدیک یخرصون بمعنی یکذبون ہے یعنی وہ جھوٹ بولتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–117
لغات القرآن : آیت نمبر 114 تا 117 :
ابتغی (میں تلاش کرتا ہوں) حکم (انصاف کرنے والا) ‘ تمت (پوری ہوئی) صدق (سچائی) عدل ( حق و انصاف) ان تطع ( اگر تو پیروی کرے گا) الظن ( گمان ۔ خیال) یخرصون ( اندازے کے تیر چلاتے ہیں۔ اٹکل کے تیر چلاتے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 114 تا 117 :
چند لفظوں میں قرآن کے برحق ہونے کے بہترین دلائل سے دریا کو کو زے میں بند کردیا ہے نصیحتیں بھی ہیں ‘ خوف سزا بھی اور وعدہ جزا بھی۔
پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کے منہ مانگے معجزات عطا کرنے سے انکار کردیا کہ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں خواہ کوئی بھی معجزہ انہیں دکھادیا جائے۔
اگر منہ مانگا معجزہ انہیں دکھا دیا جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
ذبیحہ کی حلت و حرمت کا ذکر مطلب یہ ہے کہ ملت ابراہیمی، شریعت موسوی عیسوی کو بگاڑ کر آج کل اس زمین پر یہی لوگ ہیں جن کی یہ اٹکل ان کا دین اور ایمان ہے، لیکن ان لوگوں کی کوئی بات نہ سنی جاوے۔ کیونکہ ان کا مقصد یہ ہے کہ دین الٰہی کی باتوں کو یہ لوگ مٹادیں اور اپنی قدیمی رسموں کو قائم رکھیں۔ لیکن یہ ہرگز نہ ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کا خود حامی اور مددگار ہے۔ ان لوگوں کا جو خیال ہے کہ ان کے بڑے بوڑھے جو رسمیں ٹھہراگئے ہیں وہی اصل دین ہے، یہ خیال ان کا بالکل غلط ہے۔ اصل دین سے برگشتہ اور اصل دین کے پابند لوگوں کا حال اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–119
[44] ملاحظہ ہو سورة بقرہ آیت 173 صفحہ 50
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–118
اکثریت کی رائے :
(ف 2) مقصد یہ ہے کہ ساری دنیائے کفر اسلام کی صداقت کو جھوٹ سے نہیں بدل سکتی ، صداقت کے لئے اکثریت شرط نہیں سچائی سچائی ہے ، اگرچہ ایک عالم اس کا مخالف ہو ،
مکہ والوں کو ذبیحہ کے متعلق کچھ شبہات تھے ، وہ کہتے تھے اسلام میں ذبیحہ کا اصول عام دنیا سے مختلف ہے اس لئے ناقابل قبول ہے قرآن حکیم کہتا ہے یہی درست ہے ، اکثریت کی پیروی گمراہی ہے ۔
(آیت) ” ان تطع “۔ اور ” یضلوک “ ۔ کے یہ معنی نہیں ہیں کہ حضور ﷺ کے لئے عوام کی پیروی کا امکان ہے بلکہ قرآن کا یہ عام انداز بیان ہے کہ وہ حضور ﷺ کو مخاطب کرنا ہے اور مراد آپ کے ماننے والے ہوتے ہیں ، ورنہ آپ کے لئے ضلالت کا امکان کہاں ، (آیت) ”…
Read the full tafseer →-116 اور اے پیغمبر زمین میں بسنے والے لوگوں میں جن لوگوں کی اکثریت ہے اگر آپ اس اکثریت کا کہا ماننے لگیں تو یہ لوگ آپ کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے بچلا دیں گے اور خدا کی راہ سے بےراہ کردیں گے کیونکہ یہ سب لوگ محض بےاصل خیالات و گمان کی پیروی کرتے ہیں اور صرف تخمینی اور قیاسی باتیں کرتے ہیں۔ یعنی ان کے پاس حق نہیں ہے محض اٹکل سے باتیں بناتے ہیں اور انہی غلط باتوں پر چلتے ہیں لہٰذا ان کا کہنا مانو گے تو تم بھی اپنی جگہ سے ہٹ جائو گے اور چونکہ منکرین کی تعداد زیادہ ہے اس لئے انہیں اکثریت فرمایا زمین والوں کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
ف 1۔ لاتکونن اور ان تطع الخ۔ میں جو اسناد فعل کی جناب رسول اللہ ﷺ کی طرف کی گئی ہے اس سے سنانا اور روں کو منظور ہے آپ کی طرف اسناد کرنے سے مبالغہ ہوگیا کہ جب آپ کو باوجود عدم احتمال امتراء واطاعت ایساکہا گیا تو دوسروں کی کیا ہستی ہے جیسا کہ ابتغی میں بھی ظاہرا اسناد آپ کی طرف ہے اور مقصود متبعون ہے جس کا مبنی مناظرہ میں ملاطعنت ہے جو کہ نفع فی الدعوت ہے۔
2۔ یعنی عقائد میں وہ محض بےاصل خیالات پرچلتے ہیں اور اقوال میں بالکل قیاسی باتیں کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →روئے زمین پر بسنے والوں کی اکثریت کا کہا مانو گے تو بھٹک جاؤ گے :
176: زیر نظر قرآن کریم کے ان نازک مقامات سے ہے جن کی نزاکت کو سمجھنے کی بہت کوشش کی گئی اور صدر اول یعنی خلافت راشدہ کے معاً بعد سے آج تک ان کو ان کا اصل مقام نہ دیا گیا۔ اس آیت کے پہلے حصہ کا ترجمہ کر کے چھوڑ دیا گیا اور کسی نے کچھ کہا تو وہ اتنا مختصر کہ اصل حقیقت پر مزید پردہ ڈال دیا اور مطلب پہلے سے بھی زیادہ مستور ہوگیا۔ اس جگہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پہلے وان نطع اکثر من فی الارض یضلوک عن سبیل اللہ کا ترجمہ نقل کردیا جائے اور بعد ازیں اس کا مختصر مفہوم :
” اور اس زمین والوں میں سے اکثر ایسے ہیں کہ اگر تم نے انکی بات مانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
In the third verse (116), Allah Ta ala tells the Holy Prophet ﷺ that the majority of the progeny of 'Adam living on the earth is in error. Let him not be overawed by this situation and let him ignore what they say or do. The Qur'an has dealt with this subject at several places. In Surah As-Saaffaat, it is said: وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ أَكْثَرُ الْأَوَّلِينَ ﴿71﴾ (And truly before them, many of the ancients went astray (37:71) In Su-rah Yusuf, it is said: وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ ﴿103﴾ (And the majority of people - even if you wish - are not to be believers…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
83. One need not follow the way of life of the majority, for the majority tend to follow their conjectures and fancies rather than sound knowledge. Their beliefs, their ideas and concepts, their philosophies of life, the guiding principles of their conduct, their laws - all these are founded on conjecture. On the contrary, the way of life which pleases God, was revealed by Him and hence is based on true knowledge rather than conjecture. Instead of trying to discover the way of life of the majority, a seeker after truth should, therefore, persevere in the way prescribed by God, even if he…
Read the full tafseer →