Explained with ayahs 11–17
کفر بز دلی کی گود ہے
تلبیس ابلیس کا ایک انداز :۔ عبداللہ بن ابی اور اسی جیسے منافقین کی چالبازی اور عیاری کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہوں نے یہودیان بنو نضیر کو سبز باغ دکھا کر جھوٹا دلاسا دلا کر غلط وعدہ کر کے مسلمانوں سے لڑوا دیا، ان سے وعدہ کیا کہ ہم تمہارے ساتھی ہیں لڑنے میں تمہاری مدد کریں گے اور اگر تم ہار گئے اور مدینہ سے دیس نکالا ملا تو ہم بھی تمہارے ساتھ اس شہر کو چھوڑ دیں گے، لیکن بوقت وعدہ ہی ایفا کرنے کی نیت نہ تھی اور یہ بھی کہ ان میں اتنا حوصلہ بھی نہیں کہ ایسا کرسکیں نہ لڑائی میں ان کی مدد کرسکیں نہ برے وقت ان کا ساتھ دیں، اگر بدنامی کے خیال سے میدان میں آ بھی جائیں تو یہاں آتے ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
سورة الْحَشْر 22
اس پورے رکوع کے انداز بیان سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ یہ اس زمانے میں نازل ہوا تھا جب رسول اللہ ﷺ نے بنی نضیر کو مدینے سے نکل جانے کے لیے دس دن کا نوٹس دیا تھا اور ان کا محاصرہ شروع ہونے میں کئی دن باقی تھے۔ جیسا کہ ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے جب بنی نضیر کو یہ نوٹس دیا تو عبداللہ بن ابی اور مدینہ کے دوسرے منافق لیڈروں نے انکو یہ کہلا بھیجا کہ ہم دو ہزار آدمیوں کے ساتھ تمہاری مدد کو آئیں گے، اور بنی قریظہ اور بنی غطفان بھی تمہاری حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں گے، لہٰذا تم مسلمانوں کے مقابلے میں ڈٹ جاؤ اور ہرگز ان کے آگے ہتھیار نہ ڈالو۔ یہ تم سے لڑیں گے تو ہم تمہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
خلاصہ تفسیر
کیا آپ نے ان منافقین (یعنی عبداللہ بن ابی وغیرہ) کی حالت نہیں دیکھی کہ اپنے (ہم مذہب) بھائیوں سے کہ کفار اہل کتاب ہیں (یعنی بنی نضیر سے) کہتے ہیں (یعنی کہتے تھے، کیونکہ یہ سورت واقعہ جلا وطنی بنی نضیر کے بعد نازل ہوئی ہے، کمافی الروح مستدلاً بالحدیث والسیر) کہ واللہ (ہم ہر حال میں تمہارے ساتھ ہیں، پس) اگر تم (اپنے وطن سے جبراً) نکالے گئے تو ہم (بھی) تمہارے ساتھ (اپنے وطن سے) نکل جاویں گے اور تمہارے معاملہ میں ہم کبھی کسی کا کہنا نہ مانیں گے (یعنی ہم کو خواہ کوئی کیسا ہی سمجھاوے کہ خروج و قتال میں جو آئندہ مذکور ہے تمہارا ساتھ نہ دیں لیکن ہم نہ مانیں گے، پس جملہ لا نطیع سیاق وسباق…
Read the full tafseer →(واللہ یشھد انھم لکذبون) جس قسم و تاکید کی ساتھ ان منافقین نے بنو قریظہ کو اپنی حمایت کا یقین دلایا اسی تاکید و توثیق کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کو جھوٹا قرار دیا (واللہ یشھد) کے الفاظ ہم واضح کرچکے ہیں کہ قسم کے مفہوم میں آتے ہیں۔ (لئن اخرجوالایخرجون معھم ولئن قوتلوا لا ینصرونھم ولئن نصروھم لیولن الادبار ثم لا ینصرون) (12)
(منافقین کی تردید)۔ یہ قرآن نے ان کے ایک ایک قول وقرار کی تکذیب کردی کہ وقت آنے پر یہ اپنی ایک بات میں بھی سچے ثابت نہیں ہوں گے۔ اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کا ساتھ نہیں دیں گے، اگر ان پر حملہ ہوا تو یہ ان کی حمایت میں اٹھنے والے نہیں ہیں اور اگر اٹھنے تو منہ کی کھائیں گے اور…
Read the full tafseer →12۔ 1 یہ منافقین کے گذشتہ جھوٹے وعدوں ہی کی مزید تفصیل ہے، چناچہ ایسا ہی ہوا، بنو قضیر، جلا وطن اور بنو قریظہ قتل اور اسیر کئے گئے، لیکن منافقین کسی کی مدد کو نہ پہنچے۔
12۔ 2 یہ بطور فرض، بات کی جا رہی ہے، ورنہ جس چیز کی نفی اللہ فرما دے، اس کا وجود کیوں کر ممکن ہے، مطلب ہے کہ اگر یہود کی مدد کرنے کا ارادہ کریں۔
12۔ 3 یعنی شکست کھا کر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
10: یعنی جب یہ منافقین یہودیوں کو یقین دلا رہے تھے کہ ہم تمہاری مدد کریں گے اس وقت بھی ان کے دل میں ارادہ نہیں تھا، اور آئندہ بھی اگر کوئی ایسا موقع آئے تو یہ لوگ اتنی جرأت نہیں رکھتے کہ جنگ میں کسی کی مدد کریں۔
Read the full tafseer →پھر منافقین کی یہ تاکید شدید جو انہوں نے اپنے بھائیوں سے کی۔
لئن اخرجتم ................ لننصرنکم (95 : 11) ” ” اگر تمہیں نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے ، اور تمہارے معاملہ میں ہم کسی کی بات ہرگز نہ مانیں گے ، اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے “۔
لیکن اللہ ان کی حقیقت کو خوب جانتا ہے۔ وہ ان کی قرار داد سے بالکل مختلف قرار دیتا ہے اور ان کی تاکیدات کے برعکس موکد حقیقت بتاتا ہے۔
وللہ یشھد ................ ینصرون (21) (95 : 11۔ 21) ” مگر اللہ گواہ ہے کہ یہ لوگ قطعی جھوٹے ہیں۔ اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ ہرگز نہ نکلیں گے ، اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی ہرگز مدد…
Read the full tafseer →1 چناچہ لڑائی کا سامان ہوا اور " بنی نضیر " محصور ہوگئے۔ ایسی نازک صورت حال میں کوئی منافق ان کی مدد کو نہ پہنچا۔ اور آخرکار جب وہ نکالے گئے یہ اس وقت آرام سے اپنے گھروں میں چھپے بیٹھے رہے۔
2 یعنی اگر بفرض محال منافق ان کی مدد کو نکلے بھی تو نتیجہ کیا ہوگا۔ بجز اس کے کہ مسلمانوں کے مقابلہ سے پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔ پھر ان کی مدد تو کیا کرسکتے، خود ان کی مدد کو بھی کوئی نہ پہنچے گا۔
Read the full tafseer →آیت 12{ لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَہُمْ } ”اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے۔“
{ وَلَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَہُمْ } ”اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی مدد نہیں کریں گے۔“
{ وَلَئِنْ نَّصَرُوْہُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ قف ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ } ”اور اگر انہوں نے کبھی ان کی مدد کی بھی تو پیٹھ دکھا دیں گے ‘ پھر ان کی کہیں سے مدد نہیں ہو سکے گی۔“
منافقین اپنے کردار و عمل سے ثابت کرچکے ہیں کہ وہ پست حوصلہ ‘ بزدل اور جھوٹے لوگ ہیں۔ اگر ان میں جوانمردی اور غیرت و حمیت کی کوئی رمق ہوتی تو یہ دوغلا پن اختیار نہ کرتے ‘ بلکہ ایمان لانے کے بعد سچے مسلمانوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
17 یعنی منافقوں کا بنونضیر سے اپنے کئے ہوئے وعدوں کو پورا نہ کرنے کی وجہ یہ نہیں کہ وہ اللہ سے ڈر گئے ہیں۔ یا انہیں اپنے دعویٰ اسلام کا کچھ پاس ہونے لگا ہے۔ یا انہیں یہ خطرہ ہے کہ قیامت کے دن انہیں کافروں کی حمایت کے جرم کی پاداش میں سزا ملے گی۔ بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ تمہارے جیسے سچے مسلمانوں کے آپس میں باہمی اتفاق اور اللہ کی راہ میں سردھڑ کی بازی لگادینے سے وہ کچھ اس طرح مرعوب ہوچکے ہیں کہ انہیں یہ یقین ہوچکا ہے کہ اگر وہ یہودیوں کی حمایت میں لڑنے کو نکلے تو یہودیوں کے ساتھ یہ خود بھی پس جائیں گے۔
18 اصل سوجھ بوجھ یہ ہے کہ صرف اللہ سے ڈرا جائے اللہ کے مقابلے میں اور کسی سے نہ ڈرا جائے۔…
Read the full tafseer →21۔ یعنی جو ناصر بن کر، اور نصرت کے دعویدار بن کر آئے تھے، وہ تو نکل ہی گئے، اور دوسرا کوئی ناصر ہوگا تو یہ لامحالہ مغلوب ومقہور ہوں گے۔ پوری آیت کا مطلب یہ ہوا کہ یہ منافقین مدینہ جو یہود بنی نضیر کی حمایت ورفاقت کا وعدہ کررہے ہیں، اول تو وقت پڑے پر ان کا ساتھ دیں گے نہیں، نہ جلاوطنی میں نہ جنگ میں، اور بالفرض ساتھ دیا بھی تو ان کی امداد بالکل بےنتیجہ وغیر مؤثر رہے گی، یہ خود ہی پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوں گے۔ (آیت) ولئن نصروھم “۔ قرآن مجید کا یہ اسلوب بیان عام ہے۔ بارہا اس نے مستبعدات محالات کو بھی فرض کرکے اس پر آگے گفتگو کی ہے۔ (آیت) ” ولئن اتبعت اھوآء ھم الخ۔ قال ان کان الرحمن ولد “۔ الخ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
ترجمہ، کیا آپ نے منافقوں کو نہ دیکھا ؟ کہ اپنے اہل کتاب بھائیوں سے کہتے ہیں اور وہ بنو نضیر اور ان کے کفر کے بھائی ہیں، اگر تم کو مدینہ سے نکالا گیا چاروں جگہ لام قسم کا ہے تو یقینا ہم بھی تمہارے ساتھ نکل کھڑے ہوں گے اور تمہاری ذلت کے بارے میں ہم کبھی بھی کسی کی بات نہ مانیں گے اور اگر تم سے قتال کیا گیا (قوتلتم) سے لام قسم حذف کردیا گیا ہے تو بخدا ہم تمہاری مدد کریں گے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ قطعاً جھوٹے ہیں اگر وہ جلا وطن کئے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہ جائیں گے اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی مدد نہ کریں گے اور اگر بالفرض ان کی مدد پر آبھی گئے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوں گے پانچوں…
Read the full tafseer →لئن اخرجوا الا یخرجون معھم ولئن قوتلوا لا ینصرونھم ولئن نصروھم لیولن الادبار ثم لا ینصرون .
اگر اہل کتاب (یعنی یہودی) نکالے گئے تو یہ (منافق) ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے اور اگر ان (یہودیوں) سے لڑائی ہوئی تو یہ ان کی مدد نہیں کریں گے اور اگر (بالفرض) ان کی مدد بھی کی تو پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے پھر ان کی کوئی مدد نہ ہوگی۔ “
لَءِنْ اُخْرِجُوْا : یعنی اگر یہودی نکالے گئے۔
لَا یَنْصُرُوْنَھُمْ : تو یہ منافق ان کی مدد نہیں کریں گے۔ یہ پیشین گوئی ایک معجزۂ نبوت ہے۔ پیشین گوئی کے مطابق واقعہ بھی یہی ہوا۔ بنی نضیر مدینہ سے نکالے گئے لیکن نہ عبداللہ بن سلول نے ان کا ساتھ دیا نہ بنی قریظہ کے منافقوں نے پھر…
Read the full tafseer →واللہ اگر بنو قریظہ مدینہ سے نکالے گئے تو یہ منافقین ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے اور اگر رسول اکرم ان سے لڑے تو یہ لوگ ان کی مدد نہیں کریں گے اور اگر بالفرض حضور کے خلاف ان منافقین نے ان کی مدد کی تو یہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے پھر ان اہل کتاب سے اس مصیبت کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔
Read the full tafseer →1۔ لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَہُمْ وَلَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَہُمْ : اور ایسا ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : بنو قریظہ تہ تیغ کردیئے گئے اور خیبر والوں کو آخر کار جلا وطن ہونا پڑا مگر کوئی منافق ان کی مدد کو نہ پہنچ سکا۔
2۔ وَلَئِنْ نَّصَرُوْھُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَار : یہ بات بطور فرض کہی گئی ہے۔
3۔ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ : عربوں کا عام طریقہ تھا کہ بعض اوقات وہ میدان سے بھاگ جاتے اور پلٹ کر پھر حملہ آور ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر بالفرض یہ منافقین ان کی مدد کے لیے آئے بھی تو پیٹھ دے کر بھاگ جائیں گے اور ایسے بھائیں گے کہ ان اہل کتاب کی مدد کے لیے…
Read the full tafseer →آیات۔ 12۔
تفسیر
یعنی وہ شکست کھا کر پیٹھ پھیرجائیں گے پھر ان کی مدد نہ کی جائے گی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ خوشی خوشی ان کی مدد نہ کریں گے۔ اگر وہ مجبوراً مدد کریں بھی تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ وہ ان کی ہمیشہ مدد نہیں کریں گے۔ یہ تعبیر اس وقت ہوگی جب دونوں ضمیروں کا مصداق ایک ہو۔ اگر مصداق مکتلف ہو تو اس کا معنی ہے اگر یہودیوں نے منافقین کی مدد کی تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ……… اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا اگر یہودیوں کو نکالا گیا تو منافق ان کے ساتھ نکلیں گے۔ ولئن قوتلو الا ینصرونھم اور اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بھی تھا کہ اگر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
1۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت والذین جاء و من بعدہم اور جو ان کے بعد آئے یعنی وہ لوگ جو ان کے بعد اسلام لائے تو انہوں نے اس سے عبداللہ بن نبتل اور اوس بن قیظی کو مراد لیا۔
2۔ حاکم وصححہ وابن مردویہ نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ لوگ تین مراتب میں ہیں ان میں دو کا ذکر پہلے گزر چکا ایک مرتبہ کا ذکر باق ہے۔ سو اچھا ہے جو تم اس مرتبہ پر ہوتے یعنی تم اس رتبہ اور درجہ پر ہو جس کا ذکر ابھی باقی ہے۔ پھر یہ آیت پڑھی آیت للفقراء المہجرین الذین اخرجوا من دیارہم واموالہم۔ ان فقراء مہاجرین کے لیے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے نکالے گئے۔ پھر فرمایا اس سے مراد مہاجرین ہیں اور یہ…
Read the full tafseer →[لَىِٕنْ اُخْرِجوا : بیشک اگر وہ لوگ نکالے گئے ][ لَا يَخْرُجونَ مَعَهُمْ : تو یہ لوگ نہیں نکلیں گے ان کے ساتھ ][ وَلَىِٕنْ قُوْتِلُوْا : اور بیشک اگر ان سے قتال کیا گیا ][لَا يَنْصُرُوْنَهُمْ : تو یہ لوگ مدد نہیں کریں گے ان کی ][ وَلَىِٕنْ نَّصَرُوْهُمْ : اور بیشک اگر یہ مدد کریں گے ان کی ][ لَيُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ : تو یہ لوگ لازماً پھیر دیں گے پیٹھوں کو ][ثُمَّ لَا يُنْصَرُوْنَ : پھر ان کی مدد نہیں کی جائے گی ]
Read the full tafseer →مزید فرمایا ﴿ لَىِٕنْ اُخْرِجُوْا لَا يَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ ﴾ (اگر یہودی نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے) ۔ ﴿ وَ لَىِٕنْ قُوْتِلُوْا لَا يَنْصُرُوْنَهُمْ﴾ (اور اگر جنگ کی گئی تو ان کی مدد نہیں کریں گے) ۔
چناچہ ایسا ہی ہوا، جب رسول اللہ ﷺ کے فرمان پر یہودیوں نے یہ کہلا بھیجا کہ ہم نہیں نکلیں گے اور حضور اقدس ﷺ نے ان کا محاصرہ کرلیا جس میں جنگ کا احتمال تھا تو یہودی منافقین کی مدد کا انتظار کرتے رہے لیکن انہوں نے ان کی کچھ بھی مدد نہ کی جب وہ ان کی مدد سے ناامید ہوگئے اور مقتول ہوجانے کی صورت سامنے آگئی تو مجبوراً جلاوطنی پر راضی ہوگئے۔ جب وہ اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں سے برباد کر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
احوال منافقین وکاذبین بعد بیان اوصاف مخلصین وصادقین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الم تر الی الذین نافقوا ...... الی ..... وذلک جزؤا الظلمین “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مال فئی اور اس کے مستحقین کا ذکر کرتے ہوئے ان اہل ایمان واخلاص کا بیان فرمایا جو اپنے ایمانی اوصاف میں وہ عظمت وبلندی حاصل کرنے والے ہیں کہ ان کو قرآن کریم نے ” الصادقون “ اور ” المفلحون “ کے لقب سے یاد کیا، ان کے برعکس اب ایک گروہ منافقین وکاذبین کا بیان ہے جن کے قبائح اور بدترین خصلتوں کو ذکر کے ان کی ذلت وناکامی کو بیان فرمایا جارہا ہے، ارشاد فرمایا۔
اے ہمارے پیغمبر کیا آپ ﷺ نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جنہوں نفاق کا پیشہ اختیار کر…
Read the full tafseer →12:۔ ” لئن اخرجوا “ یہ منافقین کے جھوٹ کی تفصیل ہے۔ یعنی ان کے دونوں وعدے ہی جھوٹے ہیں۔ اگر یہودیوں کو ان کے گھروں سے نکالا گیا تو یہ ہرگز ان کے ساتھ نہیں جائیں گے اور اگر ان یہودیوں سے جنگ چھڑ گئی تو یہ ہرگز ان کی مدد نہیں کریں گے اور اگر بالفرض وہ ان کی مدد کیلئے نکلے بھی تو شکست خوردہ ہو کر بھاگیں گے اور پھر کہیں سے بھی انہیں کمک اور نصرت حاصل نہیں ہوگی۔ جب یہود بنی نضیر کو جلا وطن کیا گیا تو منافقین عبداللہ بن ابی وغیرہ ان کے ساتھ نہ نکلے اور جب یہود بنی قریظہ سے مسلمانوں کی لڑائی ہوئی اور پھر ان کو قتل کیا گیا تو منافقین نے بنی قریظہ کی کوئی مدد نہ کی۔ وفیہ معجزۃ حیث کان الامر فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
منافقین کی اسلام دشمنی :
گزشتہ دروس میں بنی نضیر کے یہودیوں کی بدعہدی اور ان کے محاسبے کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب آج کے درس میں ان منافقین کا ذکر ہورہا ہے جنہوں نے یہودیوں کو عہد شکنی پر اکسایا اور اہل ایمان کے خلاف ان کی مدد کا وعدہ کیا۔ ترتیب نزولی کے اعتبار سے واقعہ کا یہ حصہ پہلے آنا چاہیے تھا اور سورة کا ہپلا رکوع اس کے بعد۔ مگر واقعہ کی اہمیت کے پیش نظر یہودیوں کی سزا یابی کا پہلے ذکر کیا گیا ہے اور اس کے اسباب کا ذکر اب بعد میں آرہا ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے جب مسلمانوں نے بنی نضیر کا محاصرہ کرلیا تو یہودی قلعہ بند ہوگئے اور اہل اسلام کی تمام تر کوشش کے باوجود وہ باہر نکل کر جنگ کرنے پر…
Read the full tafseer →لَىِٕنْ اُخْرِجُوْا لَا يَخْرُجُوْنَ مَعَہُمْ 0 ۚ وَلَىِٕنْ قُوْتِلُوْا لَا يَنْصُرُوْنَہُمْ 0 ۚ وَلَىِٕنْ نَّصَرُوْہُمْ لَيُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ 0 ۣ ثُمَّ لَا يُنْصَرُوْنَ 12
خرج
خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ،
( خ رج ) خرج ۔ ( ن)
خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
تفسیر : ایمانداروں کے اقسام بیان فرما کر ان کے مقابلے میں بدکاروں کا حال بیان فرماتا ہے کہ وہ بدبخت بجائے ان اصول سعادت کے جو پہلے مذکور ہوئے یہ باتیں کرتے ہیں فقال الم ترالی الذین نافقوا بطور تعجب کے منافقین کی پوشیدہ نالائق حرکات سے خبر دیتا ہے کہ ایسے موقع پر وہ اپنے کافر 1 ؎ بھائیوں سے یوں کہتے اور ایسے غلط وعدے دیتے ہیں جن کو ہرگز وہ پورا نہ کرسکیں گے۔ اللہ اور رسول کی مخالفت میں ان کے دشمنوں سے یہ سازباز اور زبان سے ایمان کا دعویٰ ۔ ایک وہ لوگ تھے ایک یہ ہیں۔
جب یہود بنی 2 ؎ نضیر سے آنحضرت ﷺ کی مخالفت ہو رہی تھی اور ابھی ان کا محاصرہ بھی نہیں ہوا تھا اس وقت مدینہ کے منافق اور ان کے…
Read the full tafseer →لَئِنْ اُخْرِجُوْا لاَ یَخْرُجُوْنَ مَعَھُمْ ج وَلَئِنْ قُوْتِلُوْا لاَ یَنْصُرُوْنَھُمْ ج وَلَئِنْ نَّصَرُوْھُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ قف ثُمَّ لاَ یُنْصَرُوْنَ ۔ (الحشر : 12)
(اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے، اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ لوگ ہرگز ان کی مدد نہیں کریں گے، اور اگر یہ ان کی مدد کریں گے بھی تو پیٹھ دکھائیں گے پھر ان کی کوئی مدد نہیں ہوگی۔ )
منافقین کے وعدوں کی حقیقت
منافقین نے بنی نضیر کا حوصلہ برقرار رکھنے کے لیے جو کوششیں کیں اور جس طرح جھوٹے وعدوں سے انھیں اپنی بات پر اڑے رہنے کی ترغیب دی یہ اس کی مزید تفصیل ہے کہ انھوں نے ان کو یہ پیغام بھیجا کہ اگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
فہم القرآن
ربط کلام : مخلص مسلمانوں کی خدمات کے ذکر کے بعد منافقین کا ذکر۔
بنونضیر کی بدعہدی اور مسلسل سازشوں کی وجہ سے اللہ کے رسول نے انہیں ان کے علاقے سے دس دن کے اندر نکل جانے کا حکم دیا۔ بنو نضیر اپنا علاقہ چھوڑنے کے بارے میں سوچ ہی رہے تھے کہ منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی نے پیغام بھیجا کہ تمہیں اپنا وطن ہرگز نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اگر محمد ﷺ نے آپ کی طرف پیش قدمی کی تو میں دوہزار ساتھیوں اور فلاں فلاں قبائل کے ساتھ مل کر تمہاری مدد کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین اور بنو نضیر کی سازش کو بےنقاب کرتے ہوئے نبی ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ کیا آپ نے منافقوں کی اس بات اور چال پر غور نہیں کیا کہ انہوں…
Read the full tafseer →12 : لَپنْ اُخْرِجُوْا لَایَخْرُجُوْنَ مَعَہُمْ وَلَپنْ قُوْتِلُوْا لَایَنْصُرُوْ نَھُمْ لَیُوَ لُّنَّ الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ (اگر اہل کتاب نکالے گئے تو یہ منافقین ان کے ساتھ نہ نکلیں گے اور اگر ان سے لڑائی ہوئی تو یہ ان کی مدد نہیں کریں گے اور اگر ان کی مدد بھی کی تو پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔ پھر ان کی کوئی مدد نہ ہوگی) آیت میں فرمایا ولئن نصروھمؔ حالانکہ پہلے فرما دیا کہ وہ ان کی مدد نہ کریں گے تو یہ بالفرض والتقدیر کے طور پر فرمایا گیا ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے۔ لئن اشرکت لیحبطن عملک ] الزمر : 65[ اور اللہ تعالیٰ کی ذات جس طرح مایکون کو جانتی ہے اسی طرح مالایکون کو بھی جانتی ہے…
Read the full tafseer →11 ۔” الم ترالی الذین نافقوا “ یعنی انہوں نے اس کے خلاف ظاہر کیا جو چھپا رکھا ہے۔ یعنی عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھی۔ ” یقولون لاخوانھم الذین کفروا من اھل الکتاب “ اور وہ بنور قریظہ اور نضیر کے یہود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین کو ان کا دین میں بھائی قرار دیا ہے۔ اس لئے کہ وہ ان جیسے کفار ہیں۔ ” لئن اخرجتم “ مدینہ سے۔ ” لنخرجن معکم ولا نطیع فیکم احدا “ جو ہم نے تمہارے رسوائی اور مخالفت کا سوال کرے۔ ” ابدا وان قوتلتم لننصرنکم واللہ یشھدانھم “ یعنی منافقین ” لکاذبون “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
11۔ 14۔ یہ آیتیں بھی بنی نضیر کے قصہ کی ایک حالت کے بیان میں ہیں حاصل اس حالت کا یہ ہے کہ مدینہ کے منافقوں نے بنی نضیر کی تسکین کے طور پر ان سے یہ کہلا بھیجا تھا کہ اگر تم جلا وطن کئے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ مدینہ کی سکونت چھوڑ دیں گے اور تمہاری جلا وطنی کے بعد مدینہ کی سکونت کا کوئی ہم کو مشورہ بھی دے گا تو ہم ہرگز اس کا مشورہ نہ سنیں گے اور اگر تمہاری اور اور اہل اسلام کی لڑائی ہوئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کو تو ہر ایک کے دل کا حال معلوم ہے اس لئے اللہ نے فرمایا کہ ان منافقوں کی جس طرح اور سب باتیں زبانی ہیں ان کے دل میں ان باتوں کا کچھ اثر نہیں ہے اسی طرح یہ باتیں بھی ان کی…
Read the full tafseer →بنابریں اللہ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے ان کی تکذیب کی جس ارشاد کو ویسے ہی پایا گیا جیسے اللہ نے اس کی خبر دی تھی پھر اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا (لَىِٕنْ اُخْرِجُوْا) یعنی اگر ان کو جلاوطن کرنے کے لیے ان کے گھروں سے نکالا جائے (لَا يَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ ۚ ) تو اپنے وطن کی محبت، قتال پر ان کے عدم صبر اور اپنے وعدے کے عدم ایفا کی بنا پر وہ ان کے ساتھ ہرگز نہیں نکلیں گے (وَلَىِٕنْ قُوْتِلُوْا لَا يَنْصُرُوْنَهُمْ ۚ ) اور اگر ان لڑائی ہوئی تو وہ ان کی مدد نہیں کریں گے بلکہ ان پر بزدلی غالب آجائے گی کمزوری قبضہ کرے گی اور اپنے بھائیوں کو بےیارومددگار چھوڑ دیں گے جو ان کے سب سے زیادہ محتاج ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
قول باری ہے (ولا یجدون فی صدورھم حاجۃ مما اوتوا اور جو کچھ بھی ان کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے) حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ حضرات انصار حضرات مہاجرین سے اللہ کے دیے ہوئے فضل پر حسد نہیں کرتے۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرات انصار حضرات مہاجرین پر جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس سے ان کے دلوں میں تنگی پیدا نہیں ہوتی۔
صدقہ کی کہاں تک حد ہے ؟
قول باری ہے (ویوثرون علی انفسھم ولوکان بھم خصاصۃ۔ اور وہ اپنی ذات پر انہیں ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں) خصاصہ حاجت کو کہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے حضرات انصار کے اس طرز عمل پر ان کی تعریف کی کہ وہ انفاق کے سلسلے میں…
Read the full tafseer →[ 34] منافقوں کے قول وقرار کی تکذیب کا ذکر وبیان :
سو منافقوں کے ایک ایک قول وقرار کی تردید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ پھر ان کی کہیں سے کوئی مدد نہیں کی ہوگی۔ یعنی منافقوں کی۔ کیونکہ منافقت اور نفاق کا لبادہ اتر جانے کے بعد، ایمان کے یہ زبانی کلامی دعوے ان کو کچھ کام نہ آسکیں گے، اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد یہود ہیں کہ وہ ہار جائیں گے اور منافقوں کی یہ مدد ان کے کچھ کام نہ آسکے گی۔ [ محاسن التاویل، جامع البیان، اور صفوۃ وغیرہ ] بہرکیف انکے بارے میں فرمایا گیا کہ اس کے بعد ان کے لئے امید کے تمام دروازے بند ہوجائیں گے، اور ان کی کہیں سے بھی کوئی مدد نہیں ہوگی، کیونکہ یہ اللہ کی فیصلہ کن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
منافقین کے احوال
تشریح : ان آیات میں کفار و مشرکین کا ذکر ہے خاص طور سے منافقین کی فطرت کو بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم کا زوال ہوا تو اس کی سب سے بڑی وجہ منافقین ہی ہوتے ہیں۔ منافقین بڑے ہی بزدل ہوتے ہیں کیونکہ ان کا نہ کوئی دین ہوتا ہے اور نہ ایمان بس وہ تو ہوا کے رخ پر چلتے ہیں یعنی تھالی کے بینگن ہوتے ہیں بجائے اللہ سے ڈرنے کے وہ انسانوں سے ڈرتے ہیں۔ انتہائی بےوقوف، بد عہد، بےعقیدہ، بزدل، خود غرض جھوٹے، مکار اور بد دیانت لوگ ہوتے ہیں۔ جھوٹ سچ بول کر وقتی فائدہ اٹھانے والے لوگ ہوتے ہیں۔ اور خود اپنے لیے اور اپنے پیروکاروں کے لیے انتہائی نقصان دہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
آیات 11 تا 17۔
اسرار ومعارف۔
آپ ﷺ تو دیکھ رہے ہیں اور ہر مخاطب سمجھ رہا ہے کہ منافقین اپنے یہودی دوستوں کو کہتے ہیں کہ اگر تم پر مصیبت آئی تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے تمہیں ملک بدر وہ کرسکے گا جو تمہارے ساتھ ہمیں بھی نکال باہر کرنے کی طاقت رکھتا ہو اور تمہارے معاملے میں ہم کسی کا مشورہ قبول نہ کریں گے ۔ حتی کہ اگر تمہارے ساتھ جنگ ہوئی تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے مگر اللہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں کہ منافق نہ کسی کادوست ہوتا ہے اور نہ کسی سے سچی بات کرتا ہے اس لیے اگر ان کفار کو کبھی ملک بدر ہوناپڑا تو یہ ان کا ساتھ نہ دیں گے اور اگر ان سے جنگ ہوئی تو اول تو یہ ان کا ساتھ ہی نہ دیں گے…
Read the full tafseer →ف 3 چناچہ جب بنی نضیر کا محاصرہ کیا گیا اور انہیں جلا وطن کیا گیا تو ابن ابی منافق اور اس کے ساتھی ان کی کسی طور مدد نہ کرسکے حالانکہ وہ اس سے پہلے ان تک اس طرح کے پیغامات بھیجتے رہے تھے۔ لہٰذا منافقین کی طرف سے ہرگز فکر مند نہ ہوں۔
Read the full tafseer →(59:12) لئن اخرجوا۔ اگر ان کو نکالا گیا یعنی یہودیوں (بنی نضیر وغیرہ) کو جملہ شرط ہے۔ لایخرجون جملہ جواب شرط ہے۔ اس میں ضمیر فاعل جمع مذکر غائب عبد اللہ بن ابی وغیرہ کی طرف راجع ہے۔ ولئن قوتلوا لا ینصرونھم۔ حسب سابق یہ بھی شرط و جواب شرط ہے اور قوتلوا کی ضمیر نائب فاعل اور ہم ضمیر مفعول بھی یہودیوں کیلئے ہے اور لاینصرون کی ضمیر فاعل عبد اللہ بن ابی وغیرہ کے لئے ہے
ولئن نصروھم واؤ عاطفہ لام تاکید کا۔ ان حرف شرط۔ اگر انہوں نے ان کی مدد کی۔ یعنی عبد اللہ بن ابی وغیرہ نے یہودیوں کی مدد کی ، جملہ شرط ہے۔
لیولن الادبار جواب شرط ہے۔ لام تاکید کا۔ صیغہ جمع مذکر غائب مضارع تاکید بانون ثقیلہ۔ تولیۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–24
لغات القرآن۔
نافقوا۔ انہوں نے دھوکہ دیا۔ یشھد۔ گواہی دیتا ہے۔ رھبۃ۔ ڈر۔ خوف۔ لا یفقھون۔ وہ سمجھتے نہیں ہیں۔ قری (قریۃ) ۔ بستیاں۔ محصنۃ ۔ قلعہ بند۔ جدر (جدار) ۔ دیواریں۔ باس۔ سختی۔ جنگ۔ تحسب۔ تو گمان کرتا ہے۔ شتی۔ الگ الگ۔
تشریح : سورة حشر کی ابتدائی پانچ آیتوں میں اس بات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کو مسلسل معاہدہ کی خلاف ورزیوں، سازشوں اور رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کی کوششوں کے بعد مدینہ سے نکلنے کے لئے دس دن کا نوٹس دیا گیا تو رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی نے بنو نضر سے کہا کہ وہ اس نوٹس کی پرواہ نہ کریں، ڈٹ جائیں، میرے پاس دو ہزار رضا کار میرے اشارے کے متنظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
خدا کی رضامندی ان کے لیے جو عمل کریں اور صف باندھ کر لڑیں۔
(ف 1) یہ آیتیں بھی بنی نضیر کے قصہ کی ایک حالت کے بیان میں ہیں حاصل اس حالت کا یہ ہے کہ مدینہ کے منافقوں نے بنی نضیر کی تسکین کے طور پر ان سے یہ کہلابھیجا تھا کہ اگر تم جلاوطن کیے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ مدینہ کی سکونت چھوڑ دیں گے اور تمہاری جلاوطنی کے بعد مدینہ کی سکونت کا کوئی ہم کو مشورہ بھی دے گا تو ہم ہرگز اس کا مشورہ نہ سنیں گے اور اگر تمہاری اور اہل اسلام کی لڑائی ہوئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے اللہ تعالیٰ کو تو ہر ایک کے دل کا حال معلوم ہے اسی لیے اللہ نے فرمایا کہ ان منافقوں کی جس طرح اور سب باتیں زبانی ہیں ان کے دل میں ان…
Read the full tafseer →[17] یہ زبردست پیشین گوئی جو حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوئی بجائے خود ایک دلیل صداقت رسول کی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
یہ بزدل ہیں
1: اصل میں بنی نضیر کو منافقین نے بدعہد اور غدر پر اکسایا تھا ۔ انہوں نے ان کو یقین دلایا تھا ۔ کہ ہم ہر طرح آپ کے ساتھ ہیں ۔ آپ کو مسلمانوں کے مقابلہ میں صف آراء ہونے کے لئے کسی طرح کا تامل نہیں کرنا چاہیے ۔ ہم آپ لوگوں کی بہرحال اعانت کرینگے ۔ اگر آپ کو مدینہ سے نکل جانے پر مجبور کیا گیا ۔ تو ہم بھی نکل کھڑے ہونگے ۔ اور اس معاملہ میں ہم کسی کی بات نہیں سنیں گے ۔ اور اگر جنگ ہوجائے ۔ تو پھر ہم کو آپ بزدل نہیں پائیں گے ہم آپ کے ساتھ ہو کر لڑیں گے اور آپ دیکھیں گے ۔ کہ ہم کیونکر آپ کے ساتھ دیتے ہیں ۔ فرمایا یہ ان کی زبانی ہمدردی ہے ۔ اور محض خبث اور شرارت ہے ۔ ورنہ حقیقت یہ ہے ۔ کہ…
Read the full tafseer →(12) خدا کی قسم اگر یہ کفر پیشہ اہل کتاب ملک بدر کئے گئے تو یہ مدینے کے منافق ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے اور ترک وطن نہیں کرینگے اور اگر ان اہل کتاب یعنی بنی نضیر سے لڑائی ہوئی تو یہ ان کی مدد بھی نہیں کریں گے اور اگر بفرض محال ان منافقوں نے ان کی مدد کی بھی اور ان کی مدد کے لئے میدان جنگ میں آئے بھی تو پیٹھ دے کر بھاگیں گے اور میدان چھوڑ کر بھاگ جائیں گے اور پھر ان منافقوں کے بھاگ جانے کے بعد ان اہل کتاب کی کوئی مدد نہ ہوگی - یعنی ان کا جھوٹ یہ کہ اگر وہ جلاوطن کئے گئے تو یہ منافق ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے اور اگر ان سے جنگ ھڑی تو یہ ان کی مدد نہیں کریں گے اور اگر بالفرض مدد کو آئیں گے تو میدان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
ف 5۔ یعنی منافقین کی جو غرض ہے کہ اپنے ان بھائیوں پر کوئی آفت نہ آنے دیں اس میں ہر طرح ناکامی رہے گی، چناچہ ایسا ہی ہوا کہ جب آخر میں نبی نضیر نکالے گئے تو منافقین ان کے ساتھ نکلے نہیں، اور جب اول میں ان کا محاصرہ کیا گیا جس میں احتمال قتال کا تھا تو اس میں انہوں نے نصرت نہیں کی۔
Read the full tafseer →منافقین کے قول کی تردید اور پہلی پیش گوئی جو من و عن پوری ہوئی
12 ؎ گزشتہ آیت میں بتایا گیا ہے کہ جب نبی اعظم و آخر ﷺ نے بنو نضیر کو یہاں سے نکل جانے کا حکم صادر فرمایا تو بنو نضیر نے اپنے بھائیوں سے جو برائے نام اسلام کا دعویٰ کرتے تھے رابطہ کیا تو انہوں نے ان کو ڈھارس بندھائی کہ تم اپنی جگہ پر قائم رہو اگر تم کو وہاں سے نکلنا ہی پڑا تو ہم تمہارے ساتھ ہوں گے اور ہم ان لوگوں کی پیروی اس معاملہ میں ہرگز نہیں کریں گے اور اگر تم سے لڑائی لڑی گئی تو ہمارا ساتھ بھی تمہارے ساتھ ہی ہوگا ۔ جن منافقوں نے یہ بات کہی تھی ان کا جواب دیا جا رہا ہے اور قبل از وقت دیا جا رہا ہے تاکہ حق ثابت ہوجائے اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
All Muslims after the Muhajirin and the Ansar are entitled to fai'
وَالَّذِينَ جَاءُوا مِن بَعْدِهِمْ "And [ fai' is also ] for those who came after them ....59:10) This verse lays down that all Muslims until the Last Hour, after the noble Companions from amongst the Muhajirin and Ansar, are entitled to a share in the fai' property. This was the reason why Sayyidna ` Umar Al-Faruq ؓ conquered great territories like ` Iraq, Syria, Egypt and so on, but did not distribute them among the fighters. He retained them as public endowment for next generations, so that the income might accrue to the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
22 From the style of this whole section (vv. 11-17) it appears that it was revealed at the time when the Holy Prophet (upon who n be Allah's peace) had served a notice on the Bani an-Nadir to leave Madinah within ten days, but had not yet laid siege to their quarters. As has been mentioned about, when the Holy Prophet save the notice to the Bani an-Nadir, 'Abdullah bin Ubayy and other leaders of the hypocrites of Madinah sent them a message to the effect that they would come to their aid with two thousand men, and that the Bani Quraizah and the Bani Ghatafan also would rise in their support;…
Read the full tafseer →