Explained with ayahs 62–78
اصحاب یمین اور مقربین
یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گذرا اور وہ حدیث بھی بیان ہوچکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں جس کی دلیلیں بہت سی ہیں ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صف ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی، پھر یہاں آیت (وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ 62ۚ) 55۔ الرحمن :62) فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت (ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ 48ۚ) 55۔ الرحمن :48) یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
سورة الرَّحْمٰن 52
اصل میں لفظ عَبْقَرِی استعمال ہوا ہے۔ عرب جاہلیت کے افسانوں میں جنوں کے دارالسلطنت کا نام عَبْقَر تھا جسے ہم اردو میں پرستان کہتے ہیں۔ اسی کی نسبت سے عرب کے لوگ ہر نفیس و نادر چیز کو عَبْقَری کہتے تھے، گویا وہ پرستان کی چیز ہے جس کا مقابلہ اس دنیا کی عام چیزیں نہیں کرسکتیں۔ حتیٰ کہ ان کے محاورے میں ایسے آدمی کو بھی عبقری کہا جاتا تھا جو غیر معمولی قابلیتوں کا مالک ہو، جس سے عجیب و غریب کارنامے صادر ہوں۔ انگریزی میں لفظ (Genius) بھی اسی معنی میں بولا جاتا ہے، اور وہ بھی Genii سے ماخوذ ہے جو جن کا ہم معنی ہے۔ اسی لیے یہاں اہل عرب کو جنت کے سروسامان کی غیر معمولی نفاست و خوبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
مُتَّكِــــِٕيْنَ عَلٰي رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّعَبْقَرِيٍّ حِسَانٍ ، قاموس میں ہے کہ رفرف سبز رنگ کا ریشمی کپڑا ہے جس کے فرش اور تکئے اور دوسرا زینت کا سامان بنایا جاتا ہے اور صحاح میں ہے کہ اس پر نقش و نگار درختوں اور پھولوں کے ہوتے ہیں، جس کو اردو میں مشجر کہا جاتا ہے عبقری ہر عمدہ خوبصورت کپڑے کو کہا جاتا ہے حسان سے اسی کا وصف خوبصورتی بیان کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–76
خیرت حسان کے معنی ہیں پاکیزہ سیرت اور پاکیزہ صورت (حور مقصورات فی الخیام) میں خاص عربی ذدوق نمایاں ہے خیموں کی رہائش اہل عرب کی پسندیدہ رہائش رہی ہے۔ امرائے عرب کے خیمے اور شامیانے شاندار محلوں کے لیے بھی قابل رشک ہوتے تھے اور یہاں تو ذکر جنت کے خیموں کا ہے۔ اوپر کی جنت میں شرمیلی نازنینوں کا ذکر ہے اور ان کو یاقوت و مرجان سے تشبیہ دی گئی ہے۔ دونوں جگہ صفات کا جو فرق ہے وہ نگاہ میں رہے۔ ہر صفت کے بیان کے بعد آیت ترجیح بھی آئی اور اس کا موقع نہ محل واضح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–76
76۔ 1 مطلب یہ ہے کہ جنتی ایسے تختوں پر بیٹھے ہوں گے جس پر سبز رنگ کی مسندیں، غالیچے اور اعلٰی قسم کے خوب صورت منقش فرش بچھے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
13: رفرف نقش ونگار والے قالین کو کہتے ہیں، یہاں یہ واضح رہنا چاہیے کہ جنت کی نعمتوں میں سے جن جن چیزوں کا ذکر فرمایا گیا ہے، اگرچہ دنیا میں بھی ان کے وہی نام ہیں جو ان آیات میں مذکور ہیں ؛ لیکن ان کی حقیقت ان کا حسن اور ان کی لذت دنیا کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوگی ؛ کیونکہ صحیح حدیث کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے لئے ایسی نعمتیں تیار فرمائی ہیں جو آج تک نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں، اور نہ کسی کے دل میں ان کا خیال گزرا ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان سے بہرہ اور فرمائیں، آمین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
متکئین ............ حسان (55: 67) ” وہ جنتی سبز قالینوں اور نفیس اور نادر فرشوں پر تکئے لگائے بیٹھیں گے۔ “
رفرف فرش عبقری عبقر کے بنے ہوئے ، مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو خصوصاً عربوں کے فریب الفہم کرنے کے لئے۔ عبقر جنوں کی وادی کو کہتے ہیں اور ہر عجیب چیز کو وہ عبقری کہتے تھے لیکن پہلے باغ والوں کے تکیوں کا استرا استبرق کے بنے ہوئے تھے۔ لہٰذا پہلے دو باغوں والوں دوسرے دو باغوں والوں کے رتبے میں فرق ہوگا اور ان تمام صفات و کمالات کے بعد یہ فقرے ” اے انس وجن تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلاؤ گے ؟ “
اس کائنات میں اللہ کی نعمتوں کا تذکرہ اور مخلوقات میں اللہ کی نعمتوں کا تذکرہ اور آخرت میں اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–78
1 یعنی جس نے اپنے وفاداروں پر ایسے احسان و انعام فرمائے اور غور کرو تو تمام نعمتوں میں اصلی خوبی اسی کے نام پاک کی برکت سے ہے۔ اسی کا نام لینے سے یہ نعمتیں حاصل ہوتی ہیں پھر سمجھ لو جس کے اسم میں اس قدر برکت ہے مسمی میں کیا کچھ ہوگی۔ " وَنَسْئَال الہُ الْکَرِیْمَ الْوَہَابَ ذَالْجَلَالِ وَاْلِاکْرَامِ اَنْ یَّجْعَلَنَا مِنْ اَہْلِ الْجَنَّتَیْنِ الْاَوْلَیَیْنِ ۔ " اٰمین۔ تم سورة الرحمن وللّٰہ الحمد والمنۃ۔
Read the full tafseer →آیت 76{ مُتَّکِئِیْنَ عَلٰی رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّعَبْقَرِیٍّ حِسَانٍ۔ } ”وہ تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے سبز مسندوں اور بہت نفیس بچھونوں پر۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
46 عبقری کا مفہوم :۔ عَبْقَرِیٍّ عرب کے دور جاہلیت کے انسانوں میں جنوں کے دارالسلطنت کا نام عبقر تھا جہاں صرف جن اور پریاں ہی رہتے تھے جسے ہم اردو میں پرستان بھی کہتے ہیں یعنی پریوں کے رہنے کی جگہ۔ پھر لفظ عبقری کا اطلاق ہر نفیس اور نادر چیز پر ہونے لگا تو یا وہ پرستان کی چیز ہے جس کا مقابلہ دنیا کی عام چیزیں نہیں کرسکتیں۔ پھر اس لفظ کا اطلاق ایسے آدمی پر بھی ہونے لگا جو غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک ہو۔ اسی لیے اہل عرب کو جنت کے سروسامان کی غیر معمولی نفاست اور خوبی کا تصور دلانے کے لیے یہاں عبقری کا لفظ آیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–78
37۔ (اور جس کے اسم میں یہ برکت و عظمت ہے، تو ظاہر ہے کہ اس اسم کا مسمی کیسا مبارک اور کیسا کامل اکمل ہوگا ! اسم پر حاشیہ سورة البقرۃ (پ 1) (آیت) ” علم ادم الاسمآء کلھا “۔ کے تحت میں گزر چکا اسم سے یہاں مراد صفات ہیں جو ذات باری سے غیر نہیں۔ قیل الاسم یعنی الصفۃ لانھا علامۃ علی موصوفھا (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
ترجمہ : اور اس شخص کے لئے یعنی ان میں سے ہر ایک کے لئے یا دونوں کے مجموعہ کے لئے جو اپنے رب کے روبرو حساب کے لئے کھڑے ہونے سے ڈرا اور اس نے اس کی نافرمانی ترک کردی دو باغ ہیں سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم…
Read the full tafseer →متکین علی زفرف خضر و عبقری حسان
وہ لوگ سبز مشجر اور عجیب خوب صورت کپڑوں (کے فرشوں) پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے
صاحب قاموس نے لکھا ہے زفرف سبز کپڑا جس سے بیٹھنے کی چیزیں اور بستر اور فرش اور تکیے ‘ گدیاں بنائی جاتی ہیں۔ صحاح میں ہے کہ زفرف ایک خاص قسم کا کپڑا ہے جو باغ کے مشابہ ہوتا ہے (فارسی میں ایسے کپڑے کے فرش کو بہار کہتے ہیں ‘ مترجم) بعض نے کہا : خیموں اور چھولداریوں کے جو کنارے زمین پر پڑے ہوتے ہیں ‘ ان کو رفرف کہا جاتا ہے۔
بیہقی نے بطریق ابو طلحہ بیان کیا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے رَفْرَفٍ خُضْرٍ کی تشریح میں فرمایا : مجالس (بیٹھنے کی جگہ) ہناد اور بیہقی نے لکھا ہے کہ سعید بن جبیر نے ( رفرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
(76۔ 77) اور وہ لو سبز شجر اور عجیب خوبصورت کپڑوں کے فرشوں پر خوشی کے ساتھ تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے سو اے جن و انس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
مُتَّکِئِیْنَ عَلٰی رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّعَبْقَرِیٍّ حِسَانٍ :”زفرف“ اس جنس یا اسم جمع ہے ، مفردم اس کا ”رفرفۃ“ ہے ، منقش قالین جو بستر پر بچھایا جائے۔ ’ ’ عقبری“ کوئی بھی چیز جو اپنی جنس میں سب سے فائق اور نادر الوجودہو۔ اس کی نسبت ”عبقر“ کی طرف ہے جو جاہلیت کے افسانوں میں جنوں کا شہر تھا۔ جسے اردو میں پرستان کہتے ہیں۔ عرب میں فوق العادت خوبصورت یا کمال چیز کی نسبت اس کی طرف کردیتے تھے ، گویا یہ انسانوں کی سر زمین کی نہیں بلکہ جنوں اور پریوں کی سرزمین کی چیز ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے کنویں سے پانی کھینچنے والے خواب کے ذکر میں فرمایا :(ثم اخذھا عمر ، فاستحالت بیدہ غربا ، فلم ار عبقربا فی الناس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
متکین علی رفرف خضر، رفرف سے مراد وہ چادر ہے جو اس بستر پر بچھائی جاتی ہے جس کو سونے کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، رفر سے مراد بستروں اور قالینوں سے زائد چیز ہے (1) ان سے یہ بھی مروی ہے : رفرف سے مراد وہ چادریں ہیں (2) جن کے زائد حصہ پر وہ ٹیک لگاتے ہیں، یہ قتادہ کا قول ہے۔ حضتر حسن بصری اور قرظی نے کہا، اس سے مراد قالین ہیں۔ ابن عینیہ نے کہا، اس سے مراد تکیے ہیں۔ ابن کیسان نے کہا، اس سے مراد چھوٹے تکیے ہیں، یہ حضرت حسن بصری کا بھی قول ہے۔ ابوعبیدہ نے کہا : یہ کپڑے کی ایک طرف ہے۔ لیث نے کہا، اس سے مراد سب کپڑوں کی ایک قسم ہے جسے بچھایا جاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
32:۔ الفریابی وابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' متکئین علی رفرف خضروعبقری حسان '' (قالینوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے جو سبز اور نہایت قیمتی نفیس ہوں گے) سے مراد ہے کہ وہ عزت کی جگہ میں عمدہ اور خوبصورت مسند اور قالین پر تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے۔
33:۔ ابن ابی شیبہ وھناد وابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا '' رمزف ' سے مراد ہے عمدہ اور بہترین مسند اور عبقری سے مراد ہے خوبصورت قالین۔
34:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وھناد وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' متکئین علی…
Read the full tafseer →مُتَّكِــــِٕيْنَ [ ٹیک لگانے والے ہوتے ہوئے ] عَلٰي رَفْرَفٍ خُضْرٍ [ سبز ریشمی مسندوں پر ] وَّعَبْقَرِيٍّ [ اور کچھ نادر ] حِسَانٍ [ خوبصورت (چیزوں ) پر ]
رف: رفا ۔ درخت کی شاخوں کا لہلہانہ ۔ رفرف ۔ ریشمی کپڑا جس پر درختوں اور پھولوں کے نقش ونگار بنے ہوتے ہیں اور جس سے فرش ، تکیے اور دوسرا زینت کا سامان تیار کیا جاتا ہے۔ (معارف القرآن ) ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 76
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–78
فوائد ضروریہ متعلقہ سورة الرحمٰن
” فائدہ اولیٰ “ : سورة الرحمٰن میں اکتیس (31) جگہ ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ فرمایا ہے اس کے بار بار پڑھنے سے ایک کیف اور سرور محسوس ہوتا ہے ایمانی غذا بھی ملتی ہے اور تلاوت کرنیوالا اور تلاوت سننے والے پر ایک خاص کیفیت طاری ہوجاتی ہے اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اس کو عروس القرآن یعنی قرآن کی دلہن فرمایا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 189)
” فائدہ ثانیہ “:﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ میں جنات اور انسان دونوں جماعتوں کو خطاب فرمایا ہے اور بار بار یاددہانی کرائی ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں سے نوازا ہے سو تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
اعزاز واکرام اہل ایمان بعطاء نعمتہائے عظام از رب ذی الجلال والاکرام :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ولمن خاف مقام ربہ جنتین ...... الی ....... ذی الجلل والاکرام “۔
(ربط) گذشتہ سلسلہ آیات کفار ومجرمین کی تنبیہ اور ان کی سزاؤں کے بیان پر مشتمل تھا ان آیات میں اہل ایمان اور مطیعین کی جزاؤں اور ان پر آخرت میں عطا کردہ نعمتوں اور راحتوں کا بیان ہے ارشاد فرمایا جارہا ہے۔
اور جو شخص بھی ڈرا اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے اس کیلئے دو باغ ہیں جنت کے عظیم الشان باغات میں سے جن کی نعمتیں اور راحتیں وہ ہیں کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی انسان کے قلب و دماغ میں اس کا تصور ہوا ظاہر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
24:۔ ” متکئین۔ الایۃ “ رفرفۃ، سبز رنگ کی چادر جو بستر پر ڈالی جاتی ہے۔ فی الصحاح الرفرف ثیاب خضر تتخذ منھا المجالس الواحد الرفرۃ (قرطبی ج 17 ص 19) ۔ عبقری، موٹے ریشم کی چادریں یا فرش پر بچھانے کے لیے منقش مفروشات یعنی غالیچے اور قالین وغیرہ۔ عن مجاھد انہ الدیباج الغلیظ (روح) ۔ العبقری ثیاب منقوشۃ تبسط والعبقری الطنافس الثخان (قرطبی) ۔ جہاں وہ آرام کریں گے وہاں فرش پر سبز دریاں اور ان پر اعلی قسم کے خوبصورت قالین بچھے ہوں گے حضرت شخ قد سرہ فرماتے ہیں نیچے سبز دریاں ہوں گی اور اوپر پتلے غالیچے ہوں گے یہ اللہ تعالیٰ کی بیشمار نعمتیں ہیں ان میں سے کونسی نعمت کا انکار کرو گے۔ یہ انعام و اکرام ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–78
ربطہ آیات
سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے مادی اور روحانی نعمتوں کا ذکر کیا ، پھر تکذیب کرنے والوں کی مذمت بیان فرمائی اور توحید کے دلائل بیان کیے۔ پھر قیامت کے محاسبے اور جزائے عمل کا ذکر فرمایا اور اسی سلسلے میں مجرموں اور نافرمانوں کا انجام بھی بیان کیا۔ اس کے بعد اللہ نے انسانوں اور جنوں دونوں گروہوں کے اہل ایمان کا دو حصوں میں ذکر فرمایا۔ پہلے حصے میں فرمایا ولمن خاف… الآیۃ جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے دنیا میں ڈر گیا اور ایمان اور تقویٰ کے راستہ پر چل نکلا ، فرمایا اس کے لیے دو بہشت ہیں۔ میں نے کل عرض کیا تھا کہ ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ ایک بہشت انسان کے لیے ہے اور دوسرا…
Read the full tafseer →مُتَّكِــــِٕيْنَ عَلٰي رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّعَبْقَرِيٍّ حِسَانٍ 76 ۚ
تكأ
المُتَّكَأ : المکان الذي يتكأ عليه، والمخدّة : المتکأ عليها، وقوله تعالی: وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] ، أي : أترجا «1» . وقیل : طعاما متناولا، من قولک : اتكأ علی كذا فأكله،
( ت ک ء ) التکاء
( اسم مکان سہارہ لگانے کی جگہ ۔ تکیہ جس پر ٹیک لگائی جائے اور آیت کریمہ : ۔ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] اور ان کے لئے ایک محفل مرتب کی ۔ میں متکاء کے معنی ترنج کے ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ مراد کھانا ۔
رَفْرَفٍ
والرَّفْرَفُ : المنتشر من الأوراق، وقوله تعالی: عَلى رَفْرَفٍ خُضْرٍ [ الرحمن/ 76] ، فضرب من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–78
ترکیب : جنتان مبتداء ومن دونہما خبر مدھا متان صفۃ لجنتان اوخبر مبتداء محذوف عینان موصوف نضاختان صفۃ الموصوف والصفۃ مبتداء فیہما خبرہ وقس علیہ مابعدہ۔ حور بدل من خیرات وقیل الخبر مخذوف ای فیھن حور۔ حال وذوالحال محذوف دل علیہ الضمیر فی قبلھم۔ رفرف فی معنی الجمع وقیل رفرفۃ خضر صفۃ والاکرام بالجر عطفا علی الجلال وقرأ ابن عامر بالرفع صفۃ للاسم۔
تفسیر : یہ اہل سعادت کے مقامات کی اور زیادہ تشریح ہے کہ ان خدا ترسوں کے لیے دو اور باغ ملیں گے جن کے اوصاف بعد میں بیان فرماتا ہے۔ کیا یہ چاروں جنت ایک کے لیے ہوں گی ؟ جمہور کے نزدیک وہ دو جنت ایک گروہ اہل سعادت کے لیے ہوں گی اور یہ دونوں دوسرے گروہ اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
مُتَّـکِئِیْنَ عَلٰی رَفْرَفٍ خُضْرٍوَّعَبْقَرِیٍّ حِسْانٍ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 76، 77)
(وہ ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے سبز قالینوں اور نفیس اور نادر فرشوں پر۔ تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلائو گے۔ )
عَبْقَرِیٍّ نادر اور قیمتی چیزوں کے لیے آتا ہے اور موقع و محل کی رعایت سے اس کا اطلاق مختلف چیزوں پر ہوسکتا ہے۔ عرب جاہلیت کے افسانوں میں جنوں کے دارالسلطنت کا نام عبقر تھا جسے ہم اردو میں پرستان کہتے ہیں۔ اسی کی نسبت سے عرب کے لوگ ہر نفیس اور نادر چیز کو عبقری کہتے تھے۔ انسانوں میں جو شخص غیرمعمولی قابلیتوں کا مالک ہو، اسے عبقری سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہاں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–77
فہم القرآن
ربط کلام : جنت کی بیویوں کا ذکر کرنے کے بعد جنت کی بہاروں اور اس کے باغات کا ذکر۔
اسی سورت کی آیت 46 میں دو جنتوں کا ذکر کیا گیا۔ اب دو اور جنتوں کا ذکر کیا جاتا ہے جن کے لیے ” دُوْنَ “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ عربی زبان میں ” دُوْنَ “ کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
1۔ اعلیٰ کے مقابلے میں حقیر۔
2۔ ایک کے علاوہ سب کی نفی ہو جس طرح قرآن مجید میں ” من دون اللّٰہ “ یا ” من دونہٖ “ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔
3۔ یہاں ذکر ہونے والی دو جنتوں کے لیے ” دُوْنَ “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کا اہل تفسیر نے یہی معنٰی لیا ہے کہ یہ پہلی دو جنتوں سے نسبتاً کم درجے کی جنتیں ہوں گی۔ گویا کہ…
Read the full tafseer →76 : مُتَّکِئِیْنَ (وہ تکیہ لگانے والے ہونگے)
نحو : یہ اختصاص کی وجہ سے منصوب ہے۔
عَلٰی رَفْرَفٍ خُضْرٍ (سبز شجر پر) رفرفؔ ہر چوڑے کپڑے کو کہتے ہیں۔ ایک قول یہ ہے رفرف ؔ تکیہ وَّ عَبْقَرِیٍّ (اور عجیب خوبصورت کپڑوں پر) ریشم نمبر 2۔ کپڑا، چٹائی حِسَانٍ (خوبصورت)
Read the full tafseer →75 ۔ فبای آلاء ربکما تکذبن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–77
72۔ 77 صحیح 1 ؎ بخاری صحیح مسلم ترمذی میں چند صحابہ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے خیمے دنیا کے خیموں کی طرح کپڑے کے نہیں ہوں گے بلکہ ساٹھ میل کی چوڑائی کے اندر سے خالی موتی ہوں گے ان موتیوں کے وہ خیمے ہوں گے۔ ایک ایک خیمہ کے ستر ستر دروازے ہوں گے تفسیر حسن بصری میں لکھا ہے کہ یہی دنیا کی نیک عورتیں اچھی صورت کی ہو کر جنت میں پیدا ہوں گی۔ ان کو قرآن شریف میں حور فرمایا ہے لیکن اور مفسروں نے اس قول پر اعتراض کیا ہے کہ حوریں اولاد آدم میں سے نہیں ہیں بلکہ وہ ایک مخلوق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت میں پیدا کی ہے۔ ترمذی 2 ؎ اور ابن ماجہ میں حضرت معاذبن جبل کی جو حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
( وَّعَبْقَرِيٍّ حِسَانٍ ) العبقری۔ ہر اس بنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے (ومن دونھما جنتان) ۔ اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا (فیھما عینین تجرین۔ ان میں دو چشمے جاری ہیں۔ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–78
کھجور اور انار پھلوں میں شامل نہیں
قول باری ہے (فیھما فاکھۃ ونخل ورمان اور ان دونوں میں میوے ہوں گے اور خرمے اور انار) آیت سے امام ابوحنیفہ کے قول کے حق میں استدلال کیا جاتا ہے کہ کھجور اور انار میوئوں میں شامل نہیں ہیں کیونکہ ایک چیز کو اس کی ذات پر عطف نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے غیر پر عطف کیا جاتا ہے۔ ظاہر کلام اور اس کا مفہوم تو یہی ہے۔
البتہ اگر کوئی دلالت قائم ہوجائے جو اس بات کی نشاندہی کردے کہ معطوف اگرچہ معطوف علیہ کے جنس میں سے تھا لیکن اسے کسی خصوصیت یا عظمت وغیرہ کی بنا پر عطف کی صورت میں الگ سے بیان کیا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (من کان عدوا اللہ وملئکۃ ورسلہ وجبرئیل و میکالی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
[ 59] اہل جنت کے سکون و اطمینان کی تصویر کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں وہ ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے۔ جو کہ علامت و نشانی ہے آرام و راحت، اور سکون و اطمینان کی، اور یہ نعمت اہل جنت کو وہاں پر بدرجہء تمام و کمال نصیب ہوگی، اللہ ہمیں بھی محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے، آمین بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں پر وہ اس قسم کی جنتوں میں سبز فرشوں اور خوبصورت و نادار قالینوں پر گاؤ تکیوں سے ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے، اور طاہر ہے کہ جب ان کو ماضی کے عموم و غموم اور مستقبل کے مخاوف و اندیشوں سے مامون کردیا گیا ہوگا، تو ان سے بڑھ کر سکون و اطمینان اور کسی کو نصیب ہوسکتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ ہمیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
نیک لوگوں کا اچھا انجام
تشریح :۔ آیت نمبر 46 کی وضاحت ہم اس حدیث مقدسہ سے کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا ' یا رسول اللہ ﷺ ! کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص چوری، زنا اور شراب نوشی کرتے ہوئے اللہ سے ڈرے ؟ فرمایا نہیں اے صدیق کی بیٹی ! اس سے مراد وہ شخص ہے جو نماز پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، زکوٰۃ دیتا ہے اور پھر خدائے عزو جل سے ڈرتا رہتا ہے '۔ (از شعور حیات مصنف محمد یوسف اصلاحی)
یعنی گناہ سے پہلے ڈرنا۔ حضرت حسن بصری ؓ کا قول ہے 5 چیزیں قساوت قلب کا نشان ہیں (1) توبہ کی امید پر گناہ کرنا (2) عمل کرنا بغیراخلاص کے (3) علم سیکھنا اور عمل نہ کرنا (4) رزق کھانا اور شکر نہ کرنا (5) مردوں کو دفن کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
آیات 46 تا 48۔
اسرار ومعارف۔
جو کوئی اپنے پروردگار کے سامنے پیش ہوکرجوابدہی سے ڈرتا ہے اور یوں اس کی نافرمانی نہیں کرتا یہ وصف اللہ کے خاص بندوں اور اہل اللہ کا ہے جنہیں آخرت مستحضر رہتی ہے یعنی ہر حال میں اللہ کے سامنے پیش ہونے کامراقبہ دائمی رہتا ہے توخلوص دل سے اطاعت کا سبب بن جاتا ہے ایسے لوگوں کے لیے ہر ایک کے واسطے دو باغ ہیں دودوجنتیں ہیں بھلاکس کس انعام کا شکر ادا نہ کرو گے دونوں بہت گھنے اور بہت آباد ہوں گے تو کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے جبکہ ان باغات میں ابلتے چشموں کا پانی جاری ہوگا ، حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ آب رواں کو جنتی جدھر کو کہے گا ادھر چلنا شروع کردے گا تم کس کس نعمت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–76
ف 4 ” عبقر “ دراصل عربوں کے افسانوں میں جنوں کی ایک بستی کا نام تھا جس کے لئے ہم اردو میں پرستان کا لفظ اسعتمال کرتے ہیں۔ اس کی طرف نسبت کرتے ہوئے اہل عرب ہر غیر معمولی نفیس اور نادر چیز کو عبقری کہا کرتے تھے۔ اب بھی عربی زبان میں یہ لفظ اس شخص کے لئے استعمال ہوتا ہے جو غیر معمولی ذہانت اور قابلیت کا مالک ہو۔
Read the full tafseer →(55:76) متکئین اسم فاعل جمع مذکر۔ بحالت نصب، اتکاء (افتعال) مصدر۔ تکیہ لگائے ہوئے یہ منصوب بوجہ حال کے ہے جس کا ذوالحال محذوف ہے جس کی طرف قبلہم میں ضمیر ہم دلالت کرتی ہے۔
رفرف۔ قالین۔ تکیے۔ زمخشری لکھتے ہیں :۔ دیبا وغیرہ کا باریک خوش رنگ کپڑا ہے۔ موصوف، خضر، سبز، ہرے، اخضر اور خضراء کی جمع ہے۔ رفرف کی صفت ہے۔
عبقری : علامہ سید مرتضے زبیدی تاج العروس من جواہر القاموس میں لکھتے ہیں کہ :۔ عبقر بادیہ میں ایک موضع ہے جہاں بہت جنات ہیں۔ چناچہ مثل ہے کانھم جن عبقر گویا وہ عبقر کے جنات ہیں۔ لبید کا شعر ہے :۔
ومن فاد من اخوانھم وبینھم : کھول و شبان کجنۃ عبقر
بعد میں ہر چیز کو کہ جس سے اس کی مہارت یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
لغات القرآن آیت نمبر 46 تا 78
ذواتا افنان بہت شاخوں والے۔ بطائن (بطن) استر، پیٹ۔ استبرق سبز ریشم دان قریب قریب۔ قصرت روکنے والیاں۔ لم یطمت ہاتھ نہ لگایا ہوگا۔ مدھآ متن دو گہرے سبز۔ نضاختن دو چشمے جوش مارتے ہوئے۔ رمان انار ۔ خیرات بہت عمدہ۔ حسان خوبصورت و حسین۔ الخیام خیمے۔ رفرق مسند، مسہریاں۔ عبقری قیمتی۔ تبرک برکت والا۔ الاکرام بہت بزرگی اور عظمت والا۔
تشریح : آیت نمبر 46 تا 79
اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ تقویٰ ، پرہیز گاریوں اور نیکیوں کے ساتھ زندگی گذارنے والوں کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ چناچہ کفار و مشرکین اور گناہگار مجرموں کی سزا کو بیان کرنے کے بعد ان صالح مومنین کے لئے اجر عظیم کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–78
قیامت کے انکار کا جواب۔
(ف 1) نہایت بزرگ بابرکت نام ہے تیرے رب کا جوصاحب بزرگی ومہربانی کا ہے ان بندو پر جو اس سے ڈرتے ہیں اور اس کا اور اس کے رسول کا حکم بخوشی بجالاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–76
[15] سورة واقعہ میں نیک انسانوں کی دو قسمیں بیان ہوئی ہیں، مقربین اور اصحاب الیمین اس لئے ان دونوں کے لئے باغوں کے اوصاف الگ الگ ارشاد ہوئے ہیں۔ پہلے دو باغ مقربین کے لئے تھے اور یہ دو باغ اصحاب الیمین کے لئے۔ احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–78
ف 3: برکت کے معنے عربی میں تین ہیں ۔ دوام و ثبوت ، فیوض اور علوم وارتقاع ، اور اللہ کی نسبت جب کہا جائے گا ۔ کہ وہ بابرکت ذات ہے ۔ تو اس کے معنے یہ ہوں گے ۔ کہ وہ خوددائمی ہے ۔ اس کے فیوض رحمانیت دائمی ہیں ۔ اور وہ کائنات سے بامین اور بلند ہے ۔
حل لغات :۔ خیرات ۔ یعنی وہ عورتیں صورت اور سیرت کے لحاظ سے دنیا کی عورتوں سے کہیں بہتر اور اعلیٰ ہونگی ۔ ان کے ہر کام میں حسن نمایاں ہوگا ۔ ہر عادت میں نیکی اور خیر سگالی کا اظہار ہوگا ۔ مقصورات فی الخیام ۔ کے معنے یہ ہیں ۔ کہ وہ نازونعمت کی زندگی بسرکرینگی ۔ اور عزت ووقار کے ساتھ خیموں میں رہیں گی زفرف ۔ بھیڑ ۔ شجر ۔ جامہائے سبزہ فرش ، خیمہ ۔ بالش…
Read the full tafseer →(76) وہ اہل جنت عجیب خوشنما فرشوں پر سبزرنگ کے تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ رفرف ہر اس ستھرے اور پاکیزہ فرش کو کہتے ہیں جو گائو تکیے کے آگے بچھایا جائے عبقری مسند جو خوشنما اور بہترین ہو جیسے بہت بڑھیا قالین وغیرہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–78
ف 4۔ نام سے مراد صفات جو کہ ذات کے غیر نہیں، پس حاصل جملہ کا ثناء ہوئی کمال ذات وصفات کے ساتھ، اور شاید لفظ اسم بڑھانے سے مقصود مبالغہ ہو کہ مسمی تو کیسا کچھ کامل اور بابرکت ہوگا، اس کا تو اسم بھی مبارک اور کامل ہے۔
Read the full tafseer →یہ لوگ نادر اور نفیس سبز مسندوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے
27۔ (متکین) اسم فاعل جمع مذکر منصوب (مت کی) واحد اتکاء مصدر تکیہ لگائے ہوئے ، پیچھے کو گائو تکیہ سے سہارا لگائے ہوئے۔ مراد مرد اور عورتیں سب ہیں جو جنت میں رہ رہے ہوں گے اور تکیہ لگا کر بیٹھنے سے مراد دراصل آرام و سکون کے ساتھ بیٹھنا ہے جیسے انسان کو کسی طرح کا کوئی غم وفکر نہ ہو ، گویا بیٹھ گئے تو بس بیٹھ ہی گئے۔ (رفرف) قالین ، چاندنیاں ، تکیے ، چناچہ علامہ زمخشری الفائق میں لکھتے ہیں : الرفرف ماکان میں الدیباج وغیرہ رقیقا حسن الصبغۃ ” زخرف دیباج وغیرہ کا باریک خوش رنگ کپڑا ہے “ علامہ موصوف نے اس کی جامع تعریف کی ہے اور چونکہ اس کپڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
مُتَّكِئِينَ عَلَىٰ رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَعَبْقَرِيٍّ حِسَانٍ (...reclining on green cushions and marvelously beautiful mattresses....55:76) Qamus explains that the word رَفْرَف rafraf means 'silk fabric greenish in colour' which is used in making carpets, pillows, cushions and other items of decoration. It is mentioned in the Arabic lexicon Sihah that they are embellished with arboreal and floral patterns, which, in Urdu, is called مُشَجَّر mushajjar. The noun عَبْقَرِيٍّ 'abqariyy refers to 'every fine, beautiful fabric or material' and the adjective hisan [ beautiful ] qualifies it.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
52 The word abqari in the original is from abqar. the capital city of the jinn in the legends of the pre-Islamic Arabia. It was on that account that the Arabs called every fine and rare thing abqari as if it belonged to the fairyland and had no match in the material world. So mach so that in their idiom the man who possessed extraordinary abilities and who performed wonderful works was also called abqari The English word genius also is spoken in the same sense and is also derived from genii which is a synonym of jinn. That is why the word abqari; has been used here to give an idea of the…
Read the full tafseer →