Ar-Rahmaan 55:75

Ar-Rahmaan · from ayah 75

55:75

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ۟فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ‌ۚ

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

So which of the favors of your Lord would you deny? -

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Rahmaan

All translations of 55:75

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کے ساتھ تم تکذیب کرتے ہو؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو اپنے رب کے کتنے افضال کو جھٹلائو گے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس تم دونوں (اے گروہ جن و انس !) اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

سو تم (دونوں) اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Which of the favours of your Lord will you twain – you men and jinn – then deny?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, which of the bounties of your Lord will you deny?

— Muhammad Taqi Usmani

So, which of the bounties of your Lord will you deny?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then which of the blessings of your Lord will you both deny

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Which is it, of the favours of your Lord, that ye deny?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So which of the favors of your Lord would you deny? -

— Saheeh International

(Jinn and mankind) - which of the favors of your Lord would you then deny?

— Muhammad Sarwar

Which then of the bounties of your Lord will you deny?

— Muhammad Habib Shakir

Which, then, of the benefits of Your Lord will ye twain belie?

— Abdul Majid Daryabadi

Then which of the favours of your Lord will ye deny?-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 55:75

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 62–78

اصحاب یمین اور مقربین یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گذرا اور وہ حدیث بھی بیان ہوچکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں جس کی دلیلیں بہت سی ہیں ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صف ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی، پھر یہاں آیت (وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ 62ۚ) 55۔ الرحمن :62) فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت (ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ 48ۚ) 55۔ الرحمن :48) یعنی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 72–75

سورة الرَّحْمٰن 51 حور کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورة صافات، حاشیہ 28۔ 29۔ اور تفسیر سورة دخان حاشیہ 42۔ خیموں سے مراد غالباً اس طرح کے خیمے ہیں جیسے امراء و رؤساء کے لیے سیرگاہوں میں لگائے جاتے ہیں۔ اغلب یہ ہے کہ اہل جنت کی بیویاں ان کے ساتھ ان کے قصروں میں رہیں گی اور انکی سیرگاہوں میں جگہ جگہ خیمے لگے ہو گے جن میں حوریں ان کے لیے لطف و لذت کا سامان فراہم کریں گی۔ ہمارے اس قیاس کی بنا یہ ہے کہ پہلے خوب سیرت اور خوب صورت بیویوں کا ذکر کیا جا چکا ہے۔ اس کے بعد اب حوروں کا ذکر الگ کرنے کے معنی یہ ہیں کہ یہ ان بیویوں سے مختلف قسم کی خواتین ہوں گی۔ اس قیاس کو مزید…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 70–75

فِيْهِنَّ خَيْرٰتٌ حِسَانٌ، خیرات سے مراد سیرت و کردار کی خوبی اور حسان سے مراد شکل و صورت کی خوبی ہے اور یہ امر بھی دونوں باغوں کی حوروں میں مشترک ہوگا جس کی طرف اشارہ سابقہ آیات میں موجود ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 70–76

خیرت حسان کے معنی ہیں پاکیزہ سیرت اور پاکیزہ صورت (حور مقصورات فی الخیام) میں خاص عربی ذدوق نمایاں ہے خیموں کی رہائش اہل عرب کی پسندیدہ رہائش رہی ہے۔ امرائے عرب کے خیمے اور شامیانے شاندار محلوں کے لیے بھی قابل رشک ہوتے تھے اور یہاں تو ذکر جنت کے خیموں کا ہے۔ اوپر کی جنت میں شرمیلی نازنینوں کا ذکر ہے اور ان کو یاقوت و مرجان سے تشبیہ دی گئی ہے۔ دونوں جگہ صفات کا جو فرق ہے وہ نگاہ میں رہے۔ ہر صفت کے بیان کے بعد آیت ترجیح بھی آئی اور اس کا موقع نہ محل واضح ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 73–76

76۔ 1 مطلب یہ ہے کہ جنتی ایسے تختوں پر بیٹھے ہوں گے جس پر سبز رنگ کی مسندیں، غالیچے اور اعلٰی قسم کے خوب صورت منقش فرش بچھے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 72–75

12: ان خیموں کے بارے میں صحیح بخاری کی ایک حدیث میں یہ تفصیلی آئی ہے کہ یہ موتی سے بنے ہوئے بہت طویل و عریض خیمے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 74–75

لم ............ جان (55:4 7) ” ان جنتیوں سے پہلے کبھی کسی انسان یا جن نے ان کو نہ چھوا ہوگا۔ “ اور ان جنتوں کے لوگ تو ان کے حالات یوں ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 73–78

1 یعنی جس نے اپنے وفاداروں پر ایسے احسان و انعام فرمائے اور غور کرو تو تمام نعمتوں میں اصلی خوبی اسی کے نام پاک کی برکت سے ہے۔ اسی کا نام لینے سے یہ نعمتیں حاصل ہوتی ہیں پھر سمجھ لو جس کے اسم میں اس قدر برکت ہے مسمی میں کیا کچھ ہوگی۔ " وَنَسْئَال الہُ الْکَرِیْمَ الْوَہَابَ ذَالْجَلَالِ وَاْلِاکْرَامِ اَنْ یَّجْعَلَنَا مِنْ اَہْلِ الْجَنَّتَیْنِ الْاَوْلَیَیْنِ ۔ " اٰمین۔ تم سورة الرحمن وللّٰہ الحمد والمنۃ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 75{ فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ۔ } ”تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے ؟“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 75–76

46 عبقری کا مفہوم :۔ عَبْقَرِیٍّ عرب کے دور جاہلیت کے انسانوں میں جنوں کے دارالسلطنت کا نام عبقر تھا جہاں صرف جن اور پریاں ہی رہتے تھے جسے ہم اردو میں پرستان بھی کہتے ہیں یعنی پریوں کے رہنے کی جگہ۔ پھر لفظ عبقری کا اطلاق ہر نفیس اور نادر چیز پر ہونے لگا تو یا وہ پرستان کی چیز ہے جس کا مقابلہ دنیا کی عام چیزیں نہیں کرسکتیں۔ پھر اس لفظ کا اطلاق ایسے آدمی پر بھی ہونے لگا جو غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک ہو۔ اسی لیے اہل عرب کو جنت کے سروسامان کی غیر معمولی نفاست اور خوبی کا تصور دلانے کے لیے یہاں عبقری کا لفظ آیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 75–78

37۔ (اور جس کے اسم میں یہ برکت و عظمت ہے، تو ظاہر ہے کہ اس اسم کا مسمی کیسا مبارک اور کیسا کامل اکمل ہوگا ! اسم پر حاشیہ سورة البقرۃ (پ 1) (آیت) ” علم ادم الاسمآء کلھا “۔ کے تحت میں گزر چکا اسم سے یہاں مراد صفات ہیں جو ذات باری سے غیر نہیں۔ قیل الاسم یعنی الصفۃ لانھا علامۃ علی موصوفھا (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 46–78

ترجمہ : اور اس شخص کے لئے یعنی ان میں سے ہر ایک کے لئے یا دونوں کے مجموعہ کے لئے جو اپنے رب کے روبرو حساب کے لئے کھڑے ہونے سے ڈرا اور اس نے اس کی نافرمانی ترک کردی دو باغ ہیں سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فبای الا ربکما تکذبان . ”“ سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 74–75

(74۔ 75) جو حوریں انسانوں کے لیے ہوں گی ان پر ان کے خاوندوں سے پہلے کسی انسان نے تصرف نہ کیا ہوگا اور اسی طرح جنوں کے لیے جو حوریں ہوں گی ان پر ان کے خاوندوں سے پہلے کسی جن نے تصرف نہ کیا ہوگا۔ سو اے جن و انس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 72–75

1۔”حور“ ”حورا“ کی جمع ہے، مادہ اس کا ”حور“ ہے ، ”گورے رنگ کی عورتیں“ جنہیں دیکھ کر آنکھ حیران رہ جائے اور جن کی آنکھ کی سفیدی بہت سفید اور سیاہی بہت سیاہ ہو (دیکھئے بخاری : الجھاد والسیر ، باب الحور لعین و صفتھن ، قبل ح : 2175) 2۔ مَّقْصُوْرٰتٌ فِی الْخِیَامِ : لفظ ”حور“ میں ان کی صورت کا حسن بیان ہوا ہے اور ”مقصورت فی الخیام“ میں ان کی سیرت کا حسن بیان ہوا ہے۔ معلوم ہوا کہ عورت کی خوبی گھر رکے رہنے میں ہے۔ ان الفاظ میں ان عورتوں کے لیے ہر طرح کی خوش حالی اور نعمت میسر ہونے کا اشارہ بھی ہے ، کیونکہ دنیا میں سردار عورتوں کو کسی کی نوکری یا خدمت یا کھیتوں وغیرہ میں کام کرنے کے لیے گھر سے باہر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 74–75

لم یطمھن انہیں چھوا تک نہ ہوگا جس طرح پہلے گزرا ہے۔ عام قرآت یطمثھن ہے۔ ابو حیوہ شامی، طلحہ بن مصرف، اعرج اور شیرازی نے کسائی سے دونوں حرفوں میں میم کو مضمون پڑھا ہے۔ کسائی ایک کو کسرہ دیتے اور دوسرے کو ضمہ دیتے اور اس میں اتخیار دیتے جب پہلے کو رفع دیتے تو دوسرے کو کسرہ دیتے اور جب پہلے کو کسرہ یدتے تو دو سے کو رفع دیتے، یہ ابو اسحاق سبیعی کی قرأت ہے۔ ابو اسحاق نے کہا، میں حضتر علی شیر خدا کے شاگردوں کے پیچھے نماز پڑھتا تو وہ میم کو رفع دیتے، میں حضتر عبدلالہ کے شاگردوں کے پیچھے نماپز ڑھتا تو وہ میم کو کسرہ دیتے۔ کسائی نے دونوں روایات پرع مل کیا یہ دونوں لغتیں ہیں طمتث، طمث جس طرح یعرشون…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 72–75

قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' حورمقصورت فی الخیام '' جنتی عورتوں کا سلام : 9:۔ ابن مردویہ والبیہقی (رح) نے البعث میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب مجھے معراج کرائی گئی میں جنت میں داخل ہوا تو ایک نہر پر آیا جس کو بیزخ کہا جاتا ہے جس پر موتی سبز زبرجد اور سرخ یاقوت کے خیمے ہیں وہاں مجھے آواز دی گئی السلام علیکم یا رسول اللہ ﷺ میں نے کہا اے جبرائیل (علیہ السلام) یہ کیا آواز ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ پردے دار عورتیں ہیں خیموں میں انہوں نے آپ کو سلام کرنے کے بارے میں اپنے رب سے اجازت لی تو ان کو اجازت دے دی گئی۔ (پھر) ان عورتوں نے کہنا شروع کیا ہم راضی ہونے والی ہیں ہم کبھی ناراض…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 75–78

فوائد ضروریہ متعلقہ سورة الرحمٰن ” فائدہ اولیٰ “ : سورة الرحمٰن میں اکتیس (31) جگہ ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ فرمایا ہے اس کے بار بار پڑھنے سے ایک کیف اور سرور محسوس ہوتا ہے ایمانی غذا بھی ملتی ہے اور تلاوت کرنیوالا اور تلاوت سننے والے پر ایک خاص کیفیت طاری ہوجاتی ہے اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اس کو عروس القرآن یعنی قرآن کی دلہن فرمایا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 189) ” فائدہ ثانیہ “:﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ میں جنات اور انسان دونوں جماعتوں کو خطاب فرمایا ہے اور بار بار یاددہانی کرائی ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں سے نوازا ہے سو تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–78

اعزاز واکرام اہل ایمان بعطاء نعمتہائے عظام از رب ذی الجلال والاکرام : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ولمن خاف مقام ربہ جنتین ...... الی ....... ذی الجلل والاکرام “۔ (ربط) گذشتہ سلسلہ آیات کفار ومجرمین کی تنبیہ اور ان کی سزاؤں کے بیان پر مشتمل تھا ان آیات میں اہل ایمان اور مطیعین کی جزاؤں اور ان پر آخرت میں عطا کردہ نعمتوں اور راحتوں کا بیان ہے ارشاد فرمایا جارہا ہے۔ اور جو شخص بھی ڈرا اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے اس کیلئے دو باغ ہیں جنت کے عظیم الشان باغات میں سے جن کی نعمتیں اور راحتیں وہ ہیں کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی انسان کے قلب و دماغ میں اس کا تصور ہوا ظاہر ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 68–75

23:۔ ” فیھما فاکھۃ۔ الایۃ “ ان باغوں میں ہر قسم کے میوے ہوں گے اور ان کے علاوہ کھجور اور انار کے درخت بھی ہوں گے۔ ” فیھن خیرات حسان “ ان میں ایسی حوریں بھی ان کے لیے ہوں گی جو ظاہری اور باطنی حسن و جمال سے آراستہ ہوں گی۔ خیرات، حسن اخلاق اور حسان، حسن و جمال ظاہری کی طرف اشارہ ہے۔ فسر الرسول ﷺ لام سلمۃ ذلک فقال خیرات الاخلاق حسان الوجوہ (بحر ج 8 ص 199) ۔ ” حور مقصورات فی الخیام “ خیام، خیمۃ کی جمع ہے یہ خیمہ ایک ہی بہت بڑے سچے موتی کا ہوگا جو اندر سے خالی ہوگا اور اس کی اندرونی وسعت کئی فرخ ہوگی (روح وغیرہ) یعنی وہ حوریں ان خیموں میں پردہ نشین ہوں گے۔ ” حور الخ “ خیرات سے بدل ہے۔ (روح) ۔ ” لم…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 62–78

ربطہ آیات سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے مادی اور روحانی نعمتوں کا ذکر کیا ، پھر تکذیب کرنے والوں کی مذمت بیان فرمائی اور توحید کے دلائل بیان کیے۔ پھر قیامت کے محاسبے اور جزائے عمل کا ذکر فرمایا اور اسی سلسلے میں مجرموں اور نافرمانوں کا انجام بھی بیان کیا۔ اس کے بعد اللہ نے انسانوں اور جنوں دونوں گروہوں کے اہل ایمان کا دو حصوں میں ذکر فرمایا۔ پہلے حصے میں فرمایا ولمن خاف… الآیۃ جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے دنیا میں ڈر گیا اور ایمان اور تقویٰ کے راستہ پر چل نکلا ، فرمایا اس کے لیے دو بہشت ہیں۔ میں نے کل عرض کیا تھا کہ ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ ایک بہشت انسان کے لیے ہے اور دوسرا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۝ 75 أيا أَيُّ في الاستخبار موضوع للبحث عن بعض الجنس والنوع وعن تعيينه، ويستعمل ذلک في الخبر والجزاء، نحو : أَيًّا ما تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الإسراء/ 110] ، وأَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلا عُدْوانَ عَلَيَّ [ القصص/ 28] ( ا ی ی ) ای ۔ جب استفہام کیلئے ہو تو جنس یا نوع کی تعیین اور تحقیق کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور یہ خبر اور جزا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى } ( سورة الإسراء 110) جس نام سے اسے پکارا اس کے سب نام اچھے ہیں { أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 62–78

ترکیب : جنتان مبتداء ومن دونہما خبر مدھا متان صفۃ لجنتان اوخبر مبتداء محذوف عینان موصوف نضاختان صفۃ الموصوف والصفۃ مبتداء فیہما خبرہ وقس علیہ مابعدہ۔ حور بدل من خیرات وقیل الخبر مخذوف ای فیھن حور۔ حال وذوالحال محذوف دل علیہ الضمیر فی قبلھم۔ رفرف فی معنی الجمع وقیل رفرفۃ خضر صفۃ والاکرام بالجر عطفا علی الجلال وقرأ ابن عامر بالرفع صفۃ للاسم۔ تفسیر : یہ اہل سعادت کے مقامات کی اور زیادہ تشریح ہے کہ ان خدا ترسوں کے لیے دو اور باغ ملیں گے جن کے اوصاف بعد میں بیان فرماتا ہے۔ کیا یہ چاروں جنت ایک کے لیے ہوں گی ؟ جمہور کے نزدیک وہ دو جنت ایک گروہ اہل سعادت کے لیے ہوں گی اور یہ دونوں دوسرے گروہ اہل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 70–75

فِیْھِنَّ خَیْرٰتٌ حِسَانٌ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ حُوْرٌ مَّقْصُوْرٰتٌ فِی الْخِیَامِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ لَمْ یَطْمِثْھُنَّ اِنْسٌ قَبْلَھُمْ وَلاَ جَآنٌّ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 70 تا 75) (ان میں خوب سیرت اور خوبصورت بیویاں ہوں گی۔ تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلائو گے۔ حوریں خیموں میں رہنے والیاں۔ تم اپنے رب کے کن کن انعامت کو جھٹلائو گے۔ ان سے پہلے ان کو نہ کسی انسان نے چھوا ہوگا، نہ کسی جن نے۔ تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلائو گے۔ ) اصحابُ الیمین کو بھی جو بیویاں ملیں گی ان کے بھی دو وصف نمایاں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 64–77

فہم القرآن ربط کلام : جنت کی بیویوں کا ذکر کرنے کے بعد جنت کی بہاروں اور اس کے باغات کا ذکر۔ اسی سورت کی آیت 46 میں دو جنتوں کا ذکر کیا گیا۔ اب دو اور جنتوں کا ذکر کیا جاتا ہے جن کے لیے ” دُوْنَ “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ عربی زبان میں ” دُوْنَ “ کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ 1۔ اعلیٰ کے مقابلے میں حقیر۔ 2۔ ایک کے علاوہ سب کی نفی ہو جس طرح قرآن مجید میں ” من دون اللّٰہ “ یا ” من دونہٖ “ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ 3۔ یہاں ذکر ہونے والی دو جنتوں کے لیے ” دُوْنَ “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کا اہل تفسیر نے یہی معنٰی لیا ہے کہ یہ پہلی دو جنتوں سے نسبتاً کم درجے کی جنتیں ہوں گی۔ گویا کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

75 : فَبِاَیِّ اٰلَآ ئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ۔ (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے)

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 72–77

72۔ 77 صحیح 1 ؎ بخاری صحیح مسلم ترمذی میں چند صحابہ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے خیمے دنیا کے خیموں کی طرح کپڑے کے نہیں ہوں گے بلکہ ساٹھ میل کی چوڑائی کے اندر سے خالی موتی ہوں گے ان موتیوں کے وہ خیمے ہوں گے۔ ایک ایک خیمہ کے ستر ستر دروازے ہوں گے تفسیر حسن بصری میں لکھا ہے کہ یہی دنیا کی نیک عورتیں اچھی صورت کی ہو کر جنت میں پیدا ہوں گی۔ ان کو قرآن شریف میں حور فرمایا ہے لیکن اور مفسروں نے اس قول پر اعتراض کیا ہے کہ حوریں اولاد آدم میں سے نہیں ہیں بلکہ وہ ایک مخلوق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت میں پیدا کی ہے۔ ترمذی 2 ؎ اور ابن ماجہ میں حضرت معاذبن جبل کی جو حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 74–75

ان دونوں جنتیوں کے اصحاب کا تکہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہوگا یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوں گے۔ ان کے بیٹھنے کی جگہ کے پیچھے اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 68–78

کھجور اور انار پھلوں میں شامل نہیں قول باری ہے (فیھما فاکھۃ ونخل ورمان اور ان دونوں میں میوے ہوں گے اور خرمے اور انار) آیت سے امام ابوحنیفہ کے قول کے حق میں استدلال کیا جاتا ہے کہ کھجور اور انار میوئوں میں شامل نہیں ہیں کیونکہ ایک چیز کو اس کی ذات پر عطف نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے غیر پر عطف کیا جاتا ہے۔ ظاہر کلام اور اس کا مفہوم تو یہی ہے۔ البتہ اگر کوئی دلالت قائم ہوجائے جو اس بات کی نشاندہی کردے کہ معطوف اگرچہ معطوف علیہ کے جنس میں سے تھا لیکن اسے کسی خصوصیت یا عظمت وغیرہ کی بنا پر عطف کی صورت میں الگ سے بیان کیا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (من کان عدوا اللہ وملئکۃ ورسلہ وجبرئیل و میکالی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 74–75

[ 58] حُوران جنت کی ایک اور خاص صفت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا ان کو اہل جنت سے پہلے کسی جن یا انسان نے چھوا تک نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ بالکل کنواری اور باکرہ ہوں گی، طمث کے اصل معنی خروج الدم یعنی خون نکلنے کے آتے ہیں، یہاں پر یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے، کہ ان عورتوں کو کسی نے چھوا تک نہیں ہوگا، اسی لئے حیض کے خون کو طمث کہا جاتا ہے، اور پھر اس کو کنایہ کے طور پر باکرہ یعنی کنواری سے جماع کے لئے استعمال کیا جانے لگا، اور پھر مطلق جماع کے لئے، [ روح، محاسن، مراغی، وغیرہ ] اور یہاں پر اس سے یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ وہ ہر جماع کے بعد باکرہ ہی رہیں گی جماع سے ان کی بکارت زائل نہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 46–78

نیک لوگوں کا اچھا انجام تشریح :۔ آیت نمبر 46 کی وضاحت ہم اس حدیث مقدسہ سے کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا ' یا رسول اللہ ﷺ ! کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص چوری، زنا اور شراب نوشی کرتے ہوئے اللہ سے ڈرے ؟ فرمایا نہیں اے صدیق کی بیٹی ! اس سے مراد وہ شخص ہے جو نماز پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، زکوٰۃ دیتا ہے اور پھر خدائے عزو جل سے ڈرتا رہتا ہے '۔ (از شعور حیات مصنف محمد یوسف اصلاحی) یعنی گناہ سے پہلے ڈرنا۔ حضرت حسن بصری ؓ کا قول ہے 5 چیزیں قساوت قلب کا نشان ہیں (1) توبہ کی امید پر گناہ کرنا (2) عمل کرنا بغیراخلاص کے (3) علم سیکھنا اور عمل نہ کرنا (4) رزق کھانا اور شکر نہ کرنا (5) مردوں کو دفن کرنا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 46–78

آیات 46 تا 48۔ اسرار ومعارف۔ جو کوئی اپنے پروردگار کے سامنے پیش ہوکرجوابدہی سے ڈرتا ہے اور یوں اس کی نافرمانی نہیں کرتا یہ وصف اللہ کے خاص بندوں اور اہل اللہ کا ہے جنہیں آخرت مستحضر رہتی ہے یعنی ہر حال میں اللہ کے سامنے پیش ہونے کامراقبہ دائمی رہتا ہے توخلوص دل سے اطاعت کا سبب بن جاتا ہے ایسے لوگوں کے لیے ہر ایک کے واسطے دو باغ ہیں دودوجنتیں ہیں بھلاکس کس انعام کا شکر ادا نہ کرو گے دونوں بہت گھنے اور بہت آباد ہوں گے تو کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے جبکہ ان باغات میں ابلتے چشموں کا پانی جاری ہوگا ، حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ آب رواں کو جنتی جدھر کو کہے گا ادھر چلنا شروع کردے گا تم کس کس نعمت کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 73–76

ف 4 ” عبقر “ دراصل عربوں کے افسانوں میں جنوں کی ایک بستی کا نام تھا جس کے لئے ہم اردو میں پرستان کا لفظ اسعتمال کرتے ہیں۔ اس کی طرف نسبت کرتے ہوئے اہل عرب ہر غیر معمولی نفیس اور نادر چیز کو عبقری کہا کرتے تھے۔ اب بھی عربی زبان میں یہ لفظ اس شخص کے لئے استعمال ہوتا ہے جو غیر معمولی ذہانت اور قابلیت کا مالک ہو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 46–78

لغات القرآن آیت نمبر 46 تا 78 ذواتا افنان بہت شاخوں والے۔ بطائن (بطن) استر، پیٹ۔ استبرق سبز ریشم دان قریب قریب۔ قصرت روکنے والیاں۔ لم یطمت ہاتھ نہ لگایا ہوگا۔ مدھآ متن دو گہرے سبز۔ نضاختن دو چشمے جوش مارتے ہوئے۔ رمان انار ۔ خیرات بہت عمدہ۔ حسان خوبصورت و حسین۔ الخیام خیمے۔ رفرق مسند، مسہریاں۔ عبقری قیمتی۔ تبرک برکت والا۔ الاکرام بہت بزرگی اور عظمت والا۔ تشریح : آیت نمبر 46 تا 79 اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ تقویٰ ، پرہیز گاریوں اور نیکیوں کے ساتھ زندگی گذارنے والوں کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ چناچہ کفار و مشرکین اور گناہگار مجرموں کی سزا کو بیان کرنے کے بعد ان صالح مومنین کے لئے اجر عظیم کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 63–78

قیامت کے انکار کا جواب۔ (ف 1) نہایت بزرگ بابرکت نام ہے تیرے رب کا جوصاحب بزرگی ومہربانی کا ہے ان بندو پر جو اس سے ڈرتے ہیں اور اس کا اور اس کے رسول کا حکم بخوشی بجالاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 62–76

[15] سورة واقعہ میں نیک انسانوں کی دو قسمیں بیان ہوئی ہیں، مقربین اور اصحاب الیمین اس لئے ان دونوں کے لئے باغوں کے اوصاف الگ الگ ارشاد ہوئے ہیں۔ پہلے دو باغ مقربین کے لئے تھے اور یہ دو باغ اصحاب الیمین کے لئے۔ احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 61–78

ف 3: برکت کے معنے عربی میں تین ہیں ۔ دوام و ثبوت ، فیوض اور علوم وارتقاع ، اور اللہ کی نسبت جب کہا جائے گا ۔ کہ وہ بابرکت ذات ہے ۔ تو اس کے معنے یہ ہوں گے ۔ کہ وہ خوددائمی ہے ۔ اس کے فیوض رحمانیت دائمی ہیں ۔ اور وہ کائنات سے بامین اور بلند ہے ۔ حل لغات :۔ خیرات ۔ یعنی وہ عورتیں صورت اور سیرت کے لحاظ سے دنیا کی عورتوں سے کہیں بہتر اور اعلیٰ ہونگی ۔ ان کے ہر کام میں حسن نمایاں ہوگا ۔ ہر عادت میں نیکی اور خیر سگالی کا اظہار ہوگا ۔ مقصورات فی الخیام ۔ کے معنے یہ ہیں ۔ کہ وہ نازونعمت کی زندگی بسرکرینگی ۔ اور عزت ووقار کے ساتھ خیموں میں رہیں گی زفرف ۔ بھیڑ ۔ شجر ۔ جامہائے سبزہ فرش ، خیمہ ۔ بالش…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 63–78

ف 4۔ نام سے مراد صفات جو کہ ذات کے غیر نہیں، پس حاصل جملہ کا ثناء ہوئی کمال ذات وصفات کے ساتھ، اور شاید لفظ اسم بڑھانے سے مقصود مبالغہ ہو کہ مسمی تو کیسا کچھ کامل اور بابرکت ہوگا، اس کا تو اسم بھی مبارک اور کامل ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پھر تھر دونوں اپنے پروردگار کی کن کن نشانیوں کو جھٹلائو گے 57۔ یہ آیت وہی آیت ترجیع ہے جو اس سورت میں بار بار بیان ہوتی چلی آرہی ہے تاکہ اس تنبیہ سے کوئی فائدہ حاصل کرنا چاہے تو کرلے اسی لیے سوالیہ انداز میں بار بار پوچھا جارہا ہے کہ تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نشانی کو جھٹلائو گے ؟۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 70–75

فِيهِنَّ خَيْرَ‌اتٌ حِسَانٌ (In them there are women, good and gorgeous,...55:70) The word خَيْرَ‌اتٌ khairat (translated above as 'good' ) refers to 'the good character of those women'; and the word حِسَانٌ hisan (translated above as 'gorgeous' ) refers to 'women who have beautiful features'. These qualities too will be common with the maidens of both the Gardens, to which reference was made in the foregoing verses.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 72–75

51 For the explanation of her see E. N's 28, 29 of Surah As-Saaffat and E.N. 42 of Surah Ad-Dukhan the tents probably will be similar to those pitched for the nobles and rich people in the public parks. Most probably the wives of the dwellers of Paradise will live with them in their palaces and in their parks there will be tents pitched here and there in which there will be the houris to entertain them. Our this presumption is based on this that in the foregoing verses beautiful and chase wives havc been mentioned; now, here, mention of the houris signifies that they will be a different kind…

Read the full tafseer →