Ar-Rahmaan 55:68

Ar-Rahmaan · from ayah 68

55:68

فِیْهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخْلٌ وَّرُمَّانٌ ۟ۚفِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌ‌ۚ‏

ان میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

In both of them are fruit and palm trees and pomegranates.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Rahmaan

All translations of 55:68

اُن میں بکثرت پھل اور کھجوریں اور انار

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان دونوں میں میوے اور کھجور اور انار ہوں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

انہی میں میوے اور کھجوریں اور انار ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ان میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ان دونوں میں (بھی) پھل اور کھجوریں اور انار ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان دونوں میں پھل اور کھجوروں کے درخت اور انار ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان دونوں میں پھل ، کھجوریں اور انار ہوں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان میں میوے، کھجور اور انار ہوں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان دونوں میں طرح طرح کے اور پھل بھی ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی

— مولانا اسحاق مدنی

ان دونوں میں میوے ہوں گے اور خرمے اور انار

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ان دونوں میں میوے کھجور اور انار ہوں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان میں میوے کھجوریں اور انار ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Therein will be fruits and dates and pomegranates.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

In both there are fruits and date-palms and pomegranates.

— Muhammad Taqi Usmani

In both there are fruits and date-palms and pomegranates.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

In them (both) will be fruits, and date palms and pomegranates.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Wherein is fruit, the date-palm and pomegranate.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

In both of them are fruit and palm trees and pomegranates.

— Saheeh International

In both gardens there will be fruits, palm-trees, and pomegranates

— Muhammad Sarwar

In both are fruits and palms and pomegranates.

— Muhammad Habib Shakir

In which will be fruit, the date-palm and pomegranate.

— Abdul Majid Daryabadi

In them will be Fruits, and dates and pomegranates:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 55:68

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 62–78

اصحاب یمین اور مقربین یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گذرا اور وہ حدیث بھی بیان ہوچکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں جس کی دلیلیں بہت سی ہیں ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صف ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی، پھر یہاں آیت (وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ 62ۚ) 55۔ الرحمن :62) فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت (ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ 48ۚ) 55۔ الرحمن :48) یعنی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 64–71

سورة الرَّحْمٰن 50 ان باغوں کی تعریف میں لفظ مُدْھَا مَّتَان استعمال فرمایا گیا ہے۔ مُدْھَامَّۃ ایسی گھنی سرسبزی کو کہتے ہیں جو انتہائی شادابی کے باعث سیاہی مائل ہوگئی ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 64–69

مُدْهَاۗمَّتٰنِ ، گہری سبزی کی وجہ سے جو سیاہی جھلکنے لگتی ہے اس کو ادہمام کہا جاتا ہے، مراد یہی ہے کہ ان دونوں باغوں کی سر سبزی ان کے سیاہی مائل ہونے کا سبب ہوگی، یہ صفت اگرچہ پہلے دو باغوں میں ذکر نہیں کی گئی ہے مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان میں یہ صفت نہ ہو، بلکہ ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ جو وہاں کی صفت بتلائی ہے، اس میں مدہامتان کی صفت بھی شامل ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 67–69

(فیھما فاکھۃ ونخل ورمان فبای الاء ربکما تکذبن (67۔ 69) (فاکھۃ) کے بعد نخل (کھجور) اور رمان (انار) کا ذکر عام کے بعد خاص کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ دونوں میوے عرب کے محبوب میوئوں میں ہے اویر کی جنت میں (من کل فاکھۃ زوجن) کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی دونوں باغوں میں ہر پھل کی الگ الگ قسمیں ہوں گی۔ ان دونوں اسلوبوں میں جو فرق ہے وہ نگاہ میں رہے۔ اس کے بعد آیت ترجیح ہے اور اس کا موقع و محل بالکل واضح ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 67–68

68۔ 1 جب کہ پہلی دو جنتوں (باغوں) کی صفت میں بتلایا گیا ہے کہ ہر پھل دو قسم کا ہوگا۔ ظاہر ہے اس میں شرف و فضل کی جو زیادتی ہے، وہ دوسری بات میں نہیں ہے

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 64–71

11: سبزہ جب خوب گھنا اور گہرا ہوجائے تو وہ دور سے سیاہی مائل نظر آتا ہے یہ اسی کیفیت کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 68–69

فیھما ............ ورمان (55: 86) ” ان میں بکثرت پھل اور کھجوریں اور نار ہوں گے “ اور مزید

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 65–68

1 مگر یہاں کے انار اور کھجوروں پر قیاس نہ کیا جائے۔ ان کی کیفیت اللہ ہی جانے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 68{ فِیْہِمَا فَاکِہَۃٌ وَّنَخْلٌ وَّرُمَّانٌ۔ } ”ان دونوں میں میوے ‘ کھجور اور انار ہوں گے۔“ ان جنتوں کی کیفیت کے بیان میں ایک طرف گویا عجمی پسند کی جھلک نظر آتی ہے تو دوسری طرف عربی ذوق کی عکاسی۔ عجمی علاقوں کے درختوں اور باغات کے جوبن کا کمال یہ ہے کہ ان کے سبز پتوں کا رنگ گہرا ہوتے ہوتے سیاہی مائل ہوجائے۔ ایسے درختوں اور پودوں کا سایہ بھی مثالی ہوتا ہے اور ان کے پھلوں کی پیداوار اور کو الٹی بھی بہترین ہوتی ہے۔ دوسری طرف سرزمین عرب خصوصاً نزولِ قرآن کے علاقے حجاز کے ذوق کے مطابق ایک مثالی باغ کا نقشہ بھی دکھایا گیا ہے۔ یعنی پہاڑی ڈھلوان سے ابلتا ہوا چشمہ ‘ چشمے کے نشیب میں کھجور اور…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 67–68

42 فَکِہَ بمعنی خوشی طبعی، خوش مزاجی اور ہنسنے ہنسانے والا ہونا اور فکہ کے معنی کسی کو میوہ کھلانا بھی اور اپنے شیریں کلام سے کسی کو خوش کرنا اور فواکہ سے مراد ایسے پھل ہیں جن کے کھانے کا اصل مقصد لذت و سرور اور لطف حاصل کرنا ہو نہ کہ غذائیت حاصل کرنا۔ پھر اس کے بعد کھجور کا ذکر فرمایا جو پانی کے ساتھ مل کر مکمل غذا بن جاتا ہے۔ پھر اگر پانی کے بجائے کھجور کے ساتھ انار کا پانی مل جائے تو سب مقصد حاصل ہوجاتے ہیں۔ کھانے کا بھی، پینے کا بھی اور لطف و سرور بھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 63–70

34۔ جنت کی مادی نعمتوں کا بیان اجمالا نہیں۔ بلکہ ایک ایک جزئیہ کی صراحت کے ساتھ ہورہا ہے۔ (آیت) ” فیھن “۔ ضمیر ھن سے مراد یہ ہے کہ ان باغوں، چمنوں، گلشنوں کے اندر جو آراستہ و پیراستہ کوٹھیاں بنگلے، حویلیاں، محل سرائیں ہوں گی، ان میں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 46–78

ترجمہ : اور اس شخص کے لئے یعنی ان میں سے ہر ایک کے لئے یا دونوں کے مجموعہ کے لئے جو اپنے رب کے روبرو حساب کے لئے کھڑے ہونے سے ڈرا اور اس نے اس کی نافرمانی ترک کردی دو باغ ہیں سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فیھما فاکھۃ و نخل و رمان ان دونوں باغوں میں میوے اور کھجوریں اور انار ہوں گے۔ بعض علماء نے اسی آیت کو سامنے رکھ کر کہا ہے کہ درخت خرما کے پھل (یعنی کھجوریں ‘ چھوارے) اور انار فا کہہ نہیں ہیں۔ حرف عطف ‘ معطوف علیہ اور معطوف کی مغایرت پر دلالت کر رہا ہے (اصل یہی ہے کہ معطوف ‘ معطوف علیہ سے غیر ہوتا ہے اس لیے نخل و رومان فاکہہ سے الگ چیزیں ہیں۔ فاکہہ کے ذیل میں داخل نہیں ہیں) درخت خرما کا پھل (تازہ ہو یا خشک) محض غذا ہے اور اناردوا ہے اور فاکہہ وہ چیز ہوتی ہے جس کا مقصد صرف لذت ذوق ہوتا ہے۔ اسی لیے امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا ہے کہ اگر کسی نے قسم کھائی اور کہا میں فاکہہ نہیں کھاؤں گا اور کھجور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 68–69

(68۔ 69) اور ان دونوں باغوں میں مختلف قسم کے میوے کھجوریں اور قسم قسم کے انار ہوں گے سو اے جن و انس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 68–69

فِیْہِمَا فَاکِہَۃٌ وَّنَخْلٌ وَّرُمَّانٌ :”فاکھۃ“ اسم جنس ہے ، اس میں ہر پھل آجاتا ہے۔ کھجور اور انار بھی ”فاکھۃ“ میں شامل ہیں ، مگر عرب میں ان کی کثرت اور ان کے پسندیدہ پھل ہونے کی وجہ سے انکا الگ ذکر فرمایا ہے۔ مقربین کیلئے ”من کل فاکھۃ زوجن“ اور اصحاب الیمین کے لیے ”فاکھۃ ونخل ورمان“ فرمایا۔ دونوں کا فرق واضح ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 68–69

فیہما فاکہۃ و نخل و رمان اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ ایک عالم نے کہا : نخل (کھجور) اور رمان (انار) فاکہہ میں سے نہیں کیونکہ کسی چیز کا عطف اس کی اپنی ذات پر نہیں ہوتا۔ چیز کا عطف اس کے غیر پر ہوتا ہے۔ یہ کلام کا ظاہر معنی ہے جمہور نے کہا : یہ دونوں فاکہہ کی قسم میں سے ہیں نخل اور رمان کا دوبارہ ذکر ان دونوں کی فضیلت کے لیے کیا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : حافظوا علی الصلوات والصلوۃ الوسطی (البقرہ :238) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : من کان عدوا للہ وملائکتہ ورسلہ وجبریل ومیکال (البقرہ :98) یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان دونوں کو مکرر اس لیے ذکر کیا کیونکہ کھجور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 68–69

قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' فیھما فاکھۃ ونخل ورمان '' 62:۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فیھما فاکھۃ ونخل ورمان '' (ان دونوں باغوں میں میوے اور کھجوریں اور انار ہوں گے) یعنی یہ پھل ہیں (آیت ) '' من کل فاکھۃ زوجن ' (ان دونوں باغوں میں ہر میوے کی دو دو قسمیں ہوں گی) 63:۔ عبد بن حمید (رح) والحارث بن ابی اسامہ ابن مردویہ (رح) نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ یہودیوں میں سے کو کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا جنت میں والے اس طرح کھائیں گے جسے دنیا میں کھاتے ہیں ؟ فرمایا ہاں اس سے دوگنا پھر انہوں نے پوچھا کیا قضائے حاجت بھی کریں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فِيْهِمَا [ ان دونوں میں ] فَاكِهَةٌ [ میوے ہیں ] وَّنَخْلٌ [ اور کھجوریں ہیں ] وَّرُمَّانٌ [ اور انار ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 68–69

﴿فِيْهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخْلٌ وَّ رُمَّانٌۚ0068﴾ (ان دونوں میں میوے اور کھجوریں اور انار ہوں گے) یہ سب چیزیں وہاں کی ہوں گی دنیا کی چیزوں پر قیاس نہ کیا جائے۔ بعد والی دو جنتوں کی نعمتوں کے تذکرہ میں بھی ہر آیت کے بعد ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ فرمایا ہے، مذکورہ بالا آیات میں کھانے کی چیزوں کا تذکرہ تھا ان کے بعد بیویوں کا تذکرہ ہے ان کی خوبی اور خوبصورتی بیان کرتے ہوئے بھی ہر آیت کے ختم پر ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ فرمایا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–78

اعزاز واکرام اہل ایمان بعطاء نعمتہائے عظام از رب ذی الجلال والاکرام : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ولمن خاف مقام ربہ جنتین ...... الی ....... ذی الجلل والاکرام “۔ (ربط) گذشتہ سلسلہ آیات کفار ومجرمین کی تنبیہ اور ان کی سزاؤں کے بیان پر مشتمل تھا ان آیات میں اہل ایمان اور مطیعین کی جزاؤں اور ان پر آخرت میں عطا کردہ نعمتوں اور راحتوں کا بیان ہے ارشاد فرمایا جارہا ہے۔ اور جو شخص بھی ڈرا اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے اس کیلئے دو باغ ہیں جنت کے عظیم الشان باغات میں سے جن کی نعمتیں اور راحتیں وہ ہیں کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی انسان کے قلب و دماغ میں اس کا تصور ہوا ظاہر ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 68–75

23:۔ ” فیھما فاکھۃ۔ الایۃ “ ان باغوں میں ہر قسم کے میوے ہوں گے اور ان کے علاوہ کھجور اور انار کے درخت بھی ہوں گے۔ ” فیھن خیرات حسان “ ان میں ایسی حوریں بھی ان کے لیے ہوں گی جو ظاہری اور باطنی حسن و جمال سے آراستہ ہوں گی۔ خیرات، حسن اخلاق اور حسان، حسن و جمال ظاہری کی طرف اشارہ ہے۔ فسر الرسول ﷺ لام سلمۃ ذلک فقال خیرات الاخلاق حسان الوجوہ (بحر ج 8 ص 199) ۔ ” حور مقصورات فی الخیام “ خیام، خیمۃ کی جمع ہے یہ خیمہ ایک ہی بہت بڑے سچے موتی کا ہوگا جو اندر سے خالی ہوگا اور اس کی اندرونی وسعت کئی فرخ ہوگی (روح وغیرہ) یعنی وہ حوریں ان خیموں میں پردہ نشین ہوں گے۔ ” حور الخ “ خیرات سے بدل ہے۔ (روح) ۔ ” لم…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 62–78

ربطہ آیات سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے مادی اور روحانی نعمتوں کا ذکر کیا ، پھر تکذیب کرنے والوں کی مذمت بیان فرمائی اور توحید کے دلائل بیان کیے۔ پھر قیامت کے محاسبے اور جزائے عمل کا ذکر فرمایا اور اسی سلسلے میں مجرموں اور نافرمانوں کا انجام بھی بیان کیا۔ اس کے بعد اللہ نے انسانوں اور جنوں دونوں گروہوں کے اہل ایمان کا دو حصوں میں ذکر فرمایا۔ پہلے حصے میں فرمایا ولمن خاف… الآیۃ جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے دنیا میں ڈر گیا اور ایمان اور تقویٰ کے راستہ پر چل نکلا ، فرمایا اس کے لیے دو بہشت ہیں۔ میں نے کل عرض کیا تھا کہ ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ ایک بہشت انسان کے لیے ہے اور دوسرا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فِيْہِمَا فَاكِہَۃٌ وَّنَخْلٌ وَّرُمَّانٌ۝ 68 ۚ فكه الفَاكِهَةُ قيل : هي الثّمار کلها، وقیل : بل هي الثّمار ما عدا العنب والرّمّان . وقائل هذا كأنه نظر إلى اختصاصهما بالذّكر، وعطفهما علی الفاکهة . قال تعالی: وَفاكِهَةٍ مِمَّا يَتَخَيَّرُونَ [ الواقعة/ 20] ، وَفاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ [ الواقعة/ 32] ، وَفاكِهَةً وَأَبًّا [ عبس/ 31] ، فَواكِهُ وَهُمْ مُكْرَمُونَ [ الصافات/ 42] ، وَفَواكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ [ المرسلات/ 42] ، والفُكَاهَةُ : حدیث ذوي الأنس، وقوله : فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ«1» قيل : تتعاطون الفُكَاهَةَ ، وقیل : تتناولون الْفَاكِهَةَ. وکذلک قوله : فاكِهِينَ بِما آتاهُمْ رَبُّهُمْ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 62–78

ترکیب : جنتان مبتداء ومن دونہما خبر مدھا متان صفۃ لجنتان اوخبر مبتداء محذوف عینان موصوف نضاختان صفۃ الموصوف والصفۃ مبتداء فیہما خبرہ وقس علیہ مابعدہ۔ حور بدل من خیرات وقیل الخبر مخذوف ای فیھن حور۔ حال وذوالحال محذوف دل علیہ الضمیر فی قبلھم۔ رفرف فی معنی الجمع وقیل رفرفۃ خضر صفۃ والاکرام بالجر عطفا علی الجلال وقرأ ابن عامر بالرفع صفۃ للاسم۔ تفسیر : یہ اہل سعادت کے مقامات کی اور زیادہ تشریح ہے کہ ان خدا ترسوں کے لیے دو اور باغ ملیں گے جن کے اوصاف بعد میں بیان فرماتا ہے۔ کیا یہ چاروں جنت ایک کے لیے ہوں گی ؟ جمہور کے نزدیک وہ دو جنت ایک گروہ اہل سعادت کے لیے ہوں گی اور یہ دونوں دوسرے گروہ اہل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 68–69

فِیْھِمَا فَاکِھَۃٌ وَّنَخْلٌ وَّرُمَّانٌ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 68، 69) (ان میں پھل کھجور اور انار ہوں گے۔ تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کا انکار کرو گے۔ ) فَاکِھَۃٌ پھلوں کو بھی کہتے ہیں اور میووں کو بھی۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ پہلے میووں کا ذکر فرمایا، اس کے بعد کھجور اور انار کا بطور پھل کے ذکر کیا۔ اور اگر فَاکِھَۃٌ کا ترجمہ پھل کیا جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ عام کے بعد خاص کے طور پر کھجور اور انار کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اس سے پہلے آیات میں مِنْ کُلِّ فَاکِھَۃٍ زَوْجٰنِ ارشاد فرمایا گیا ہے۔ وہ سابقون کے لیے تھا اور یہ اصحابُ الیمین کے لیے ہے۔ اور ان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 64–77

فہم القرآن ربط کلام : جنت کی بیویوں کا ذکر کرنے کے بعد جنت کی بہاروں اور اس کے باغات کا ذکر۔ اسی سورت کی آیت 46 میں دو جنتوں کا ذکر کیا گیا۔ اب دو اور جنتوں کا ذکر کیا جاتا ہے جن کے لیے ” دُوْنَ “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ عربی زبان میں ” دُوْنَ “ کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ 1۔ اعلیٰ کے مقابلے میں حقیر۔ 2۔ ایک کے علاوہ سب کی نفی ہو جس طرح قرآن مجید میں ” من دون اللّٰہ “ یا ” من دونہٖ “ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ 3۔ یہاں ذکر ہونے والی دو جنتوں کے لیے ” دُوْنَ “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کا اہل تفسیر نے یہی معنٰی لیا ہے کہ یہ پہلی دو جنتوں سے نسبتاً کم درجے کی جنتیں ہوں گی۔ گویا کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

68 : فِیْھِمَا فَاکِھَۃٌ (ان دونوں باغوں میں میوے) قسم قسم کے میوے وَّنَخْلٌ وَّرُمَّانٌ (اور کھجوریں اور انار ہوں گے) انار اور کھجور یہ قول امام ابو حنفیہ (رح) کے نزدیک فواکہؔ میں سے نہیں ہے کیونکہ یہاں عطف کیا جارہا ہے ( جو تغایر کو چاہتا ہے) اور دوسری وجہ یہ ہے کھجور پھل اور کھانا دونوں ہے اور انارپھل اور دواء ہے۔ خالص میوے نہ ہوئے۔ قولِ صاحبین (رح) : یہاں فاکہۃ پر عطف اس لئے کیا گیا کیونکہ یہ دونوں افضل ترین ہیں۔ گویا یہ الگ جنس ہیں اس لئے کہ ان کو اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ جیسا کہ ارشاد الٰہی میں فرمایا : جبرئیل ومیکال۔ (البقرہ۔ 98)

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 62–71

62۔ 71۔ 1 ؎ ترمذی وغیرہ میں چند صحابہ سے جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا کہ جنت کے سو درجے ہیں اور ہر درجہ کا فاصلہ دوسرے درجہ تک سو برس کے راستہ کا ہے ہر درجہ میں اس قدر گنجائش ہے کہ تمام دنیا کے لوگ ایک درجہ میں رہ سکتے ہیں جس جنت کا نام فردوس ہے وہ سب درجوں میں اعلیٰ درجہ کی جنت ہے۔ اسی واسطے آپ نے ان ہی روایتوں میں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے جنت الفردوس کی خواہش کرنی چاہئے۔ میٹھے پانی کی اور شہد اور دودھ اور شراب کی نہریں اس جنت الفردوس سے جاری ہو کر اور جنتوں میں گئی ہیں صاحب مشکوٰۃ نے یہ جو لکھا 2 ؎ ہے کہ یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں نہیں ہے۔ شاید صاحب مشکوٰۃ کا مطلب یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 68–69

(فِيْهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخْلٌ وَّرُمَّانٌ) ان جنتوں میں تمام اقسام کے پھل ہوں گے خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بیشمار فوائد ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 68–78

کھجور اور انار پھلوں میں شامل نہیں قول باری ہے (فیھما فاکھۃ ونخل ورمان اور ان دونوں میں میوے ہوں گے اور خرمے اور انار) آیت سے امام ابوحنیفہ کے قول کے حق میں استدلال کیا جاتا ہے کہ کھجور اور انار میوئوں میں شامل نہیں ہیں کیونکہ ایک چیز کو اس کی ذات پر عطف نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے غیر پر عطف کیا جاتا ہے۔ ظاہر کلام اور اس کا مفہوم تو یہی ہے۔ البتہ اگر کوئی دلالت قائم ہوجائے جو اس بات کی نشاندہی کردے کہ معطوف اگرچہ معطوف علیہ کے جنس میں سے تھا لیکن اسے کسی خصوصیت یا عظمت وغیرہ کی بنا پر عطف کی صورت میں الگ سے بیان کیا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (من کان عدوا اللہ وملئکۃ ورسلہ وجبرئیل و میکالی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 68–69

[ 55] ان دونوں باغوں کے پھلوں کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان دونوں کے اندر پھل بھی ہوں گے اور ان میں کھجوریں اور انار بھی ہوں گے۔ دوسرے پھلوں میں داخل ہونے کے باوجود ان کو الگ کرکے بیان فرمایا گیا، ان کی اہمیت اور خصوصیت کی بناء پر، پھر جنت کی کھجوریں اور وہاں کے انار تو ہمارے تصور سے بھی کہیں بڑھ کر ہوں گے، اللہ نصیب فرمائے [ روح المعانی ] بہرکیف " فاکھۃٌ " یعنی پھلوں کے عمومی ذکر کے بعد نخل [ کھجور ] اور رمان [ انار ] کا ذکر عام کے بعد خاص کے ذکر کے قبیل سے ہے، ان دونوں کی خصوصی اہمیت کی بناء پر فرمایا گیا، کیونکہ یہ دونوں پھل عربوں کے یہاں بطور خاص محبوب پھل تھے، نیز ان دونوں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 46–78

نیک لوگوں کا اچھا انجام تشریح :۔ آیت نمبر 46 کی وضاحت ہم اس حدیث مقدسہ سے کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا ' یا رسول اللہ ﷺ ! کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص چوری، زنا اور شراب نوشی کرتے ہوئے اللہ سے ڈرے ؟ فرمایا نہیں اے صدیق کی بیٹی ! اس سے مراد وہ شخص ہے جو نماز پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، زکوٰۃ دیتا ہے اور پھر خدائے عزو جل سے ڈرتا رہتا ہے '۔ (از شعور حیات مصنف محمد یوسف اصلاحی) یعنی گناہ سے پہلے ڈرنا۔ حضرت حسن بصری ؓ کا قول ہے 5 چیزیں قساوت قلب کا نشان ہیں (1) توبہ کی امید پر گناہ کرنا (2) عمل کرنا بغیراخلاص کے (3) علم سیکھنا اور عمل نہ کرنا (4) رزق کھانا اور شکر نہ کرنا (5) مردوں کو دفن کرنا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 46–78

آیات 46 تا 48۔ اسرار ومعارف۔ جو کوئی اپنے پروردگار کے سامنے پیش ہوکرجوابدہی سے ڈرتا ہے اور یوں اس کی نافرمانی نہیں کرتا یہ وصف اللہ کے خاص بندوں اور اہل اللہ کا ہے جنہیں آخرت مستحضر رہتی ہے یعنی ہر حال میں اللہ کے سامنے پیش ہونے کامراقبہ دائمی رہتا ہے توخلوص دل سے اطاعت کا سبب بن جاتا ہے ایسے لوگوں کے لیے ہر ایک کے واسطے دو باغ ہیں دودوجنتیں ہیں بھلاکس کس انعام کا شکر ادا نہ کرو گے دونوں بہت گھنے اور بہت آباد ہوں گے تو کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے جبکہ ان باغات میں ابلتے چشموں کا پانی جاری ہوگا ، حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ آب رواں کو جنتی جدھر کو کہے گا ادھر چلنا شروع کردے گا تم کس کس نعمت کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 67–68

ف 2 جنت میں ہر قسم کے پھل جنہیں جنتی لوگ پسند کریں گے نہایت کثرت سے ہوں گے لیکن کجھجور اور انار کا ذکر خاص طور پر اسلئے فرمایا کہ ان دونوں کو عرب بہت پسند کرتی تھے اور وہ ان کی سر زمین میں بکثرت پائے جاتے تھے۔ ان کے مقابلہ میں دوسرے پھلوں سے وہ اس قدر واقف نہ تھے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(55:68) فیہما فاکہۃ ونخل ورمان۔ ترکیب بمطابق آیت مذکورہ بالا ۔ فاکھۃ میوے۔ نخل کھجوریں رمان انار۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 46–78

لغات القرآن آیت نمبر 46 تا 78 ذواتا افنان بہت شاخوں والے۔ بطائن (بطن) استر، پیٹ۔ استبرق سبز ریشم دان قریب قریب۔ قصرت روکنے والیاں۔ لم یطمت ہاتھ نہ لگایا ہوگا۔ مدھآ متن دو گہرے سبز۔ نضاختن دو چشمے جوش مارتے ہوئے۔ رمان انار ۔ خیرات بہت عمدہ۔ حسان خوبصورت و حسین۔ الخیام خیمے۔ رفرق مسند، مسہریاں۔ عبقری قیمتی۔ تبرک برکت والا۔ الاکرام بہت بزرگی اور عظمت والا۔ تشریح : آیت نمبر 46 تا 79 اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ تقویٰ ، پرہیز گاریوں اور نیکیوں کے ساتھ زندگی گذارنے والوں کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ چناچہ کفار و مشرکین اور گناہگار مجرموں کی سزا کو بیان کرنے کے بعد ان صالح مومنین کے لئے اجر عظیم کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 63–78

قیامت کے انکار کا جواب۔ (ف 1) نہایت بزرگ بابرکت نام ہے تیرے رب کا جوصاحب بزرگی ومہربانی کا ہے ان بندو پر جو اس سے ڈرتے ہیں اور اس کا اور اس کے رسول کا حکم بخوشی بجالاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 62–76

[15] سورة واقعہ میں نیک انسانوں کی دو قسمیں بیان ہوئی ہیں، مقربین اور اصحاب الیمین اس لئے ان دونوں کے لئے باغوں کے اوصاف الگ الگ ارشاد ہوئے ہیں۔ پہلے دو باغ مقربین کے لئے تھے اور یہ دو باغ اصحاب الیمین کے لئے۔ احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 61–78

ف 3: برکت کے معنے عربی میں تین ہیں ۔ دوام و ثبوت ، فیوض اور علوم وارتقاع ، اور اللہ کی نسبت جب کہا جائے گا ۔ کہ وہ بابرکت ذات ہے ۔ تو اس کے معنے یہ ہوں گے ۔ کہ وہ خوددائمی ہے ۔ اس کے فیوض رحمانیت دائمی ہیں ۔ اور وہ کائنات سے بامین اور بلند ہے ۔ حل لغات :۔ خیرات ۔ یعنی وہ عورتیں صورت اور سیرت کے لحاظ سے دنیا کی عورتوں سے کہیں بہتر اور اعلیٰ ہونگی ۔ ان کے ہر کام میں حسن نمایاں ہوگا ۔ ہر عادت میں نیکی اور خیر سگالی کا اظہار ہوگا ۔ مقصورات فی الخیام ۔ کے معنے یہ ہیں ۔ کہ وہ نازونعمت کی زندگی بسرکرینگی ۔ اور عزت ووقار کے ساتھ خیموں میں رہیں گی زفرف ۔ بھیڑ ۔ شجر ۔ جامہائے سبزہ فرش ، خیمہ ۔ بالش…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(68) ان دونوں باغوں میں میوے کھجوریں اور انار ہوں گے۔ یعنی مختلف میووں کے ہمراہ کھجوروں اور انام کے درخت بھی ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 63–78

ف 4۔ نام سے مراد صفات جو کہ ذات کے غیر نہیں، پس حاصل جملہ کا ثناء ہوئی کمال ذات وصفات کے ساتھ، اور شاید لفظ اسم بڑھانے سے مقصود مبالغہ ہو کہ مسمی تو کیسا کچھ کامل اور بابرکت ہوگا، اس کا تو اسم بھی مبارک اور کامل ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دونوں باغوں میں میوے ہوں گے اور کھجور اور انار بھی ؎ 86 زیرنظر آیت مفسرین کے درمیان ایک معرکۃ الآرا آیت ہے اور اس پر بہت بحث و تمحیص کی گئی ہے۔ بحث کیا ہے ؟ یہی کہ آیا کھجور اور انار بھی (فواکہ) یعنی میووں میں آتے ہیں یا نہیں ؟ پھر اکثر اس طرف گئے ہیں کہ کھجوریں ‘ چھوارے اور انار (فاکھۃ) نہیں ہیں حرف عطف ، معطوف علیہ اور معطوف کی مغابرت پر دلات کر رہا ہے اور یہی بات اصل اور صحیح ہے کہ معطوف معطوف علیہ سے غیر ہوتا ہے اس لیے نخل اور مان (فاکھۃ) سے دو الگ چیزیں ہیں (فاکھۃ) کے ذیل میں داخل نہیں ہیں۔ درخت خرما کا پھل تازہ یا خشک محض غذا ہے اور انار دوا ہے اور (فاکھۃ) وہ چیز ہوتی ہے جس کا مقصد صرف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 64–69

مُدْهَامَّتَانِ (both dark green!...55:64). This is one word verse, and it means 'dark green with foliage'. The word is derived from idhimam signifying, for a meadow or garden, to become of dark green hue inclining to black by reason of abundance of moisture or irrigation. This description is not assigned to the first two Gardens. This does not necessarily imply that they do not have this quality. The former Gardens are described as ذَوَاتَا of 'having lot of branches'. This comprehends the quality of 'dark green' as well.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 64–71

50 The word madhammatan has been used in praise of these gardens. Mudhamma is such luxuriant vegetation which because of its extreme luxuriance assumes a darkish hue.

Read the full tafseer →