Ar-Rahmaan 55:67

Ar-Rahmaan · from ayah 67

55:67

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ۟فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

So which of the favors of your Lord would you deny?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Rahmaan

All translations of 55:67

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو اپنے رب کی کتنی رحمتوں کو جھٹلائو گے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس تم دونوں (اے گروہ جن و انس !) اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

سو تم (دونوں) اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤگے ؟

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

Which of the favours of your Lord will you twain – you men and jinn – then deny?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, which of the bounties of your Lord will you deny?

— Muhammad Taqi Usmani

So, which of the bounties of your Lord will you deny?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then which of the blessings of your Lord will you both deny

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Which is it, of the favours of your Lord, that ye deny?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So which of the favors of your Lord would you deny?

— Saheeh International

(Jinn and mankind) - which of the favors of your Lord would you then deny?

— Muhammad Sarwar

Which then of the bounties of your Lord will you deny?

— Muhammad Habib Shakir

Which, then, of the benefits of your Lord will ye twain belie?

— Abdul Majid Daryabadi

Then which of the favours of your Lord will ye deny?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 55:67

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 62–78

اصحاب یمین اور مقربین یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گذرا اور وہ حدیث بھی بیان ہوچکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں جس کی دلیلیں بہت سی ہیں ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صف ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی، پھر یہاں آیت (وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ 62ۚ) 55۔ الرحمن :62) فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت (ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ 48ۚ) 55۔ الرحمن :48) یعنی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 64–71

سورة الرَّحْمٰن 50 ان باغوں کی تعریف میں لفظ مُدْھَا مَّتَان استعمال فرمایا گیا ہے۔ مُدْھَامَّۃ ایسی گھنی سرسبزی کو کہتے ہیں جو انتہائی شادابی کے باعث سیاہی مائل ہوگئی ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 64–69

مُدْهَاۗمَّتٰنِ ، گہری سبزی کی وجہ سے جو سیاہی جھلکنے لگتی ہے اس کو ادہمام کہا جاتا ہے، مراد یہی ہے کہ ان دونوں باغوں کی سر سبزی ان کے سیاہی مائل ہونے کا سبب ہوگی، یہ صفت اگرچہ پہلے دو باغوں میں ذکر نہیں کی گئی ہے مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان میں یہ صفت نہ ہو، بلکہ ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ جو وہاں کی صفت بتلائی ہے، اس میں مدہامتان کی صفت بھی شامل ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 67–69

(فیھما فاکھۃ ونخل ورمان فبای الاء ربکما تکذبن (67۔ 69) (فاکھۃ) کے بعد نخل (کھجور) اور رمان (انار) کا ذکر عام کے بعد خاص کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ دونوں میوے عرب کے محبوب میوئوں میں ہے اویر کی جنت میں (من کل فاکھۃ زوجن) کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی دونوں باغوں میں ہر پھل کی الگ الگ قسمیں ہوں گی۔ ان دونوں اسلوبوں میں جو فرق ہے وہ نگاہ میں رہے۔ اس کے بعد آیت ترجیح ہے اور اس کا موقع و محل بالکل واضح ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 67–68

68۔ 1 جب کہ پہلی دو جنتوں (باغوں) کی صفت میں بتلایا گیا ہے کہ ہر پھل دو قسم کا ہوگا۔ ظاہر ہے اس میں شرف و فضل کی جو زیادتی ہے، وہ دوسری بات میں نہیں ہے

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 64–71

11: سبزہ جب خوب گھنا اور گہرا ہوجائے تو وہ دور سے سیاہی مائل نظر آتا ہے یہ اسی کیفیت کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 66–67

فیھما عینن نضاختن (55: 66) ” ان میں دو چشمے فواروں کی طرح ابلتے ہوں گے “ یعنی پانی کو اوپر کی طرف پھینک رہے ہوں گے۔ چشمے سے پانی ابلنا جاری پانی سے ذرا کم درجے کا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 65–68

1 مگر یہاں کے انار اور کھجوروں پر قیاس نہ کیا جائے۔ ان کی کیفیت اللہ ہی جانے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 67{ فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ۔ } ”تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے ؟“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 67–68

42 فَکِہَ بمعنی خوشی طبعی، خوش مزاجی اور ہنسنے ہنسانے والا ہونا اور فکہ کے معنی کسی کو میوہ کھلانا بھی اور اپنے شیریں کلام سے کسی کو خوش کرنا اور فواکہ سے مراد ایسے پھل ہیں جن کے کھانے کا اصل مقصد لذت و سرور اور لطف حاصل کرنا ہو نہ کہ غذائیت حاصل کرنا۔ پھر اس کے بعد کھجور کا ذکر فرمایا جو پانی کے ساتھ مل کر مکمل غذا بن جاتا ہے۔ پھر اگر پانی کے بجائے کھجور کے ساتھ انار کا پانی مل جائے تو سب مقصد حاصل ہوجاتے ہیں۔ کھانے کا بھی، پینے کا بھی اور لطف و سرور بھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 63–70

34۔ جنت کی مادی نعمتوں کا بیان اجمالا نہیں۔ بلکہ ایک ایک جزئیہ کی صراحت کے ساتھ ہورہا ہے۔ (آیت) ” فیھن “۔ ضمیر ھن سے مراد یہ ہے کہ ان باغوں، چمنوں، گلشنوں کے اندر جو آراستہ و پیراستہ کوٹھیاں بنگلے، حویلیاں، محل سرائیں ہوں گی، ان میں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 46–78

ترجمہ : اور اس شخص کے لئے یعنی ان میں سے ہر ایک کے لئے یا دونوں کے مجموعہ کے لئے جو اپنے رب کے روبرو حساب کے لئے کھڑے ہونے سے ڈرا اور اس نے اس کی نافرمانی ترک کردی دو باغ ہیں سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فبای الا ربکما تکذبن . ‘ سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 66–67

(66۔ 67) اور ان دونوں باغوں میں دو چشمے ہوں گے جو جوش مارتے ہوں گے یا یہ کہ خیر و برکت رحمت و کرامت اور فضل خداوندی سے لبریز ہوں گے، سو اے جن و انس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 66–67

فِیْہِمَا عَیْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ :”نضخ ینضخ نضخا“ (ف)”المائ“ پانی کا جوش سے نکلنا۔ یعنی ان دونوں جنتوں میں دو جوش مارنے والے چشمے ہوں گے۔”عینن تجرین“ اور ”عینن نضاختن“ کے تاقبل کے لیے دیکھتے اسی سورت کی آیت (50) کی تفسیر۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 66–67

فیہما عینن نضا ختن۔ پانی سے جوش مار رہے ہوں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : خاء کے ساتھ جو نضخ ہے اس میں حاء کے ساتھ جو نضح ہے سے جوش زیادہ ہوتا ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ معنی ہے وہ خیر و برکت سے جوش مار رہے ہوں گے یہی قول حضرت حسن بصری اور مجاہد نے کہا : حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس اور حضرت انس ؓ سے یہ مروی ہے : وہ چشمے اولیاء پر ان کے جنت کے گھروں میں کستوری، عنبر اور کافور کا چھڑکاؤ کر رہے ہوں گے جس طرح بارش کا چھڑکاؤ ہوتا ہے۔ حضرت سعید بن جبیر نے کہا : وہ مختلف قسم کے پھل اور پانی کا چھڑکاؤ کریں گے۔ ترمذی نے کہا : علماء نے کہا مختلف قسم کے پھل، مختلف قسم کی نعمتوں، مزین عورتوں، زین…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 66–67

55:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ یہ دونوں چشمے جاری ہونے والے ہیں اور بہترین ان اچھلتے ہوئے چشموں سے اور عبدبن حمید کے الفاظ ہیں کہ وہ دونوں اچھلتے ہوئے ان دونوں لینے والے چشمے سے افضل نہیں ہیں۔ 56:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' نضاختن '' سے مراد ہے فائضان یعنی ان میں سے دو چشمے بہہ رہے ہیں۔ 57:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' نضاختن '' سے مراد ہے کہ پانی کے دو چشمے ابل رہے ہوں گے سرسبزی اور شادابی کی وجہ سے۔ 58:۔ ھناد ابن جریر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 66–67

خوب جوش مارنے والے چشمے : ﴿فِيْهِمَا عَيْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِۚ0066﴾ (ان دونوں باغوں میں خوب جوش مارتے ہوئے دو چشمے ہوں گے) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ دونوں چشمے اہل جنت پر خیر اور برکت نچھاور کرتے رہیں گے اور حضرت ابن مسعود اور حضرت انس بن مالک ؓ نے فرمایا کہ یہ چشمے اہل جنت کے گھروں میں خوشبوؤں کی چیزیں پہنچاتے رہیں گے، جیسے بارش کی چھینٹیں ہوتی ہیں اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ان دو چشموں سے جوش مارتا ہوا پانی جاری ہوگا جو برابر جاری رہے گا۔ (معالم التنزیل)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–78

اعزاز واکرام اہل ایمان بعطاء نعمتہائے عظام از رب ذی الجلال والاکرام : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ولمن خاف مقام ربہ جنتین ...... الی ....... ذی الجلل والاکرام “۔ (ربط) گذشتہ سلسلہ آیات کفار ومجرمین کی تنبیہ اور ان کی سزاؤں کے بیان پر مشتمل تھا ان آیات میں اہل ایمان اور مطیعین کی جزاؤں اور ان پر آخرت میں عطا کردہ نعمتوں اور راحتوں کا بیان ہے ارشاد فرمایا جارہا ہے۔ اور جو شخص بھی ڈرا اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے اس کیلئے دو باغ ہیں جنت کے عظیم الشان باغات میں سے جن کی نعمتیں اور راحتیں وہ ہیں کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی انسان کے قلب و دماغ میں اس کا تصور ہوا ظاہر ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 62–67

22:۔ ومن دونہما جنتٰن “ یہاں بھی تثنیہ تکرار کے لیے ہے جیسا کہ ثم اجرع البصر کرتین۔ الایۃ (ملک رکوع 1) ۔ یعنی مذکورہ بالا باغوں کے علاوہ ان کو اور باغات بھی ملیں گے۔ ” مدھا متٰن “ ان باغوں کے درخت نہایت ہی سبز ہوں گے اور شدت رنگ کی وجہ سے سیاہی مائل نظر آئیں گے یہ ان کی شادابی کی دلیل ہوگی ای سوداوان من شدۃ الخضرۃ من الری (قرطبی ج 17 ص 185) ۔ ” نضا ختٰن “ ابلنے والے یعنی ان باغوں میں فواروں کی طرح چشم ابلتے ہوں گے۔ فوارتان بالماء لاینقطعان (مدارک ج 4 ص 161) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 62–78

ربطہ آیات سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے مادی اور روحانی نعمتوں کا ذکر کیا ، پھر تکذیب کرنے والوں کی مذمت بیان فرمائی اور توحید کے دلائل بیان کیے۔ پھر قیامت کے محاسبے اور جزائے عمل کا ذکر فرمایا اور اسی سلسلے میں مجرموں اور نافرمانوں کا انجام بھی بیان کیا۔ اس کے بعد اللہ نے انسانوں اور جنوں دونوں گروہوں کے اہل ایمان کا دو حصوں میں ذکر فرمایا۔ پہلے حصے میں فرمایا ولمن خاف… الآیۃ جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے دنیا میں ڈر گیا اور ایمان اور تقویٰ کے راستہ پر چل نکلا ، فرمایا اس کے لیے دو بہشت ہیں۔ میں نے کل عرض کیا تھا کہ ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ ایک بہشت انسان کے لیے ہے اور دوسرا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۝ 67 أيا أَيُّ في الاستخبار موضوع للبحث عن بعض الجنس والنوع وعن تعيينه، ويستعمل ذلک في الخبر والجزاء، نحو : أَيًّا ما تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الإسراء/ 110] ، وأَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلا عُدْوانَ عَلَيَّ [ القصص/ 28] ( ا ی ی ) ای ۔ جب استفہام کیلئے ہو تو جنس یا نوع کی تعیین اور تحقیق کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور یہ خبر اور جزا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى } ( سورة الإسراء 110) جس نام سے اسے پکارا اس کے سب نام اچھے ہیں { أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 62–78

ترکیب : جنتان مبتداء ومن دونہما خبر مدھا متان صفۃ لجنتان اوخبر مبتداء محذوف عینان موصوف نضاختان صفۃ الموصوف والصفۃ مبتداء فیہما خبرہ وقس علیہ مابعدہ۔ حور بدل من خیرات وقیل الخبر مخذوف ای فیھن حور۔ حال وذوالحال محذوف دل علیہ الضمیر فی قبلھم۔ رفرف فی معنی الجمع وقیل رفرفۃ خضر صفۃ والاکرام بالجر عطفا علی الجلال وقرأ ابن عامر بالرفع صفۃ للاسم۔ تفسیر : یہ اہل سعادت کے مقامات کی اور زیادہ تشریح ہے کہ ان خدا ترسوں کے لیے دو اور باغ ملیں گے جن کے اوصاف بعد میں بیان فرماتا ہے۔ کیا یہ چاروں جنت ایک کے لیے ہوں گی ؟ جمہور کے نزدیک وہ دو جنت ایک گروہ اہل سعادت کے لیے ہوں گی اور یہ دونوں دوسرے گروہ اہل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 66–67

فِیْھِمَا عَیْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 66، 67) (ان میں دو چشمے ہوں گے ابلتے ہوے۔ تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے۔ ) اس سے پہلے گزشتہ آیات میں عَیْنٰنِ کی صفت تجریان گزر چکی ہے۔ معلوم ہوتا ہے وہاں میدانی چشموں کا ذکر ہے اور میدان میں چشمے عام طور پر بہتے ہیں، لیکن یہاں پہاڑی چشموں کا ذکر معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ نضخ کے معنی جوش مارنے اور ابلنے کے ہیں۔ اور پہاڑی چشمے عام طور پر جوش کے ساتھ ابلتے ہیں اور اس کے بعد آیت ترجع ہے جس کا مفہوم واضح ہے۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 64–77

فہم القرآن ربط کلام : جنت کی بیویوں کا ذکر کرنے کے بعد جنت کی بہاروں اور اس کے باغات کا ذکر۔ اسی سورت کی آیت 46 میں دو جنتوں کا ذکر کیا گیا۔ اب دو اور جنتوں کا ذکر کیا جاتا ہے جن کے لیے ” دُوْنَ “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ عربی زبان میں ” دُوْنَ “ کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ 1۔ اعلیٰ کے مقابلے میں حقیر۔ 2۔ ایک کے علاوہ سب کی نفی ہو جس طرح قرآن مجید میں ” من دون اللّٰہ “ یا ” من دونہٖ “ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ 3۔ یہاں ذکر ہونے والی دو جنتوں کے لیے ” دُوْنَ “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کا اہل تفسیر نے یہی معنٰی لیا ہے کہ یہ پہلی دو جنتوں سے نسبتاً کم درجے کی جنتیں ہوں گی۔ گویا کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

67 : فَبِاَیِّ اٰلَآ ئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ۔ (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

66 ۔” فیھما عینان نضاختان “ دو چشمے ہیں پانی کے جو ختم نہیں ہوتے اور ” النضخ “ پانی کا چشمے سے جوش مارنا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جو اہل جنت پر خیر و برکت چھڑکیں گے اور ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کستوری اور کافورچھڑکیں گے ۔ اولیاء اللہ پر اور انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کستوری اور عنبر اہل جنت کے گھروں میں چھڑکیں گے بارش کی طرح۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 62–71

62۔ 71۔ 1 ؎ ترمذی وغیرہ میں چند صحابہ سے جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا کہ جنت کے سو درجے ہیں اور ہر درجہ کا فاصلہ دوسرے درجہ تک سو برس کے راستہ کا ہے ہر درجہ میں اس قدر گنجائش ہے کہ تمام دنیا کے لوگ ایک درجہ میں رہ سکتے ہیں جس جنت کا نام فردوس ہے وہ سب درجوں میں اعلیٰ درجہ کی جنت ہے۔ اسی واسطے آپ نے ان ہی روایتوں میں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے جنت الفردوس کی خواہش کرنی چاہئے۔ میٹھے پانی کی اور شہد اور دودھ اور شراب کی نہریں اس جنت الفردوس سے جاری ہو کر اور جنتوں میں گئی ہیں صاحب مشکوٰۃ نے یہ جو لکھا 2 ؎ ہے کہ یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں نہیں ہے۔ شاید صاحب مشکوٰۃ کا مطلب یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 66–67

(فِيْهِمَا عَيْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ ) ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔ یعنی فوارے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 37–67

آسمان کا سرخ ہونا قول باری ہے (فاذا انشقت السمآء فکانت وردۃ کالدھان، پس جب آسمان پھٹ جائے گا اور وہ لال چمڑے کی طرح سرخ ہوجائے گا) روایت ہے آسمان سرخ ہوکر روغن کی طرح پگھل جائے گا۔ ایک روایت کے مطابق آسمان دنیا لوہے کا ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو اس کا نیلا رنگ جہنم کی آگ کی گرمی کی وجہ سے سرخ رنگ میں تبدیل ہوجائے گا جس طرح لوہے کو آگ پر تپانے کی صورت میں اس کا رنگ سرخ ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 64–67

[ 53] ان دونوں باغوں کی سرسبزی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ دونوں سخت گہرے سبز ہوں گے اور ایسے گہرے سبز کہ اپنے سبزے کی بنا پر سیاہ نظر آئیں گے۔ کیونکہ سبزہ جب زیادہ گہرا ہوتا ہے تو وہ سیاہی مائل ہوجاتا ہے [ ابن کثیر، قرطبی، مراغی، وغیرہ ] سو اس سے ان دونوں باغوں کی سرسبزی اور شادابی کا حال بیان فرمایا گیا ہے اور شاداب باغ کا سب سے زیادہ خوبصورت اور عمدہ رنگ یہی ہوتا ہے، حضرت ابو ایوب انصاری ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے۔ [ مدھامتان ] کے بارے میں پوچھا۔ یعنی اس لفظ کے معنی کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا " خضراوان " یعنی " اس سے مراد دو سرسبز باغ ہیں "۔ [ المراغی وغیرہ ]…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 46–78

نیک لوگوں کا اچھا انجام تشریح :۔ آیت نمبر 46 کی وضاحت ہم اس حدیث مقدسہ سے کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا ' یا رسول اللہ ﷺ ! کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص چوری، زنا اور شراب نوشی کرتے ہوئے اللہ سے ڈرے ؟ فرمایا نہیں اے صدیق کی بیٹی ! اس سے مراد وہ شخص ہے جو نماز پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، زکوٰۃ دیتا ہے اور پھر خدائے عزو جل سے ڈرتا رہتا ہے '۔ (از شعور حیات مصنف محمد یوسف اصلاحی) یعنی گناہ سے پہلے ڈرنا۔ حضرت حسن بصری ؓ کا قول ہے 5 چیزیں قساوت قلب کا نشان ہیں (1) توبہ کی امید پر گناہ کرنا (2) عمل کرنا بغیراخلاص کے (3) علم سیکھنا اور عمل نہ کرنا (4) رزق کھانا اور شکر نہ کرنا (5) مردوں کو دفن کرنا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 46–78

آیات 46 تا 48۔ اسرار ومعارف۔ جو کوئی اپنے پروردگار کے سامنے پیش ہوکرجوابدہی سے ڈرتا ہے اور یوں اس کی نافرمانی نہیں کرتا یہ وصف اللہ کے خاص بندوں اور اہل اللہ کا ہے جنہیں آخرت مستحضر رہتی ہے یعنی ہر حال میں اللہ کے سامنے پیش ہونے کامراقبہ دائمی رہتا ہے توخلوص دل سے اطاعت کا سبب بن جاتا ہے ایسے لوگوں کے لیے ہر ایک کے واسطے دو باغ ہیں دودوجنتیں ہیں بھلاکس کس انعام کا شکر ادا نہ کرو گے دونوں بہت گھنے اور بہت آباد ہوں گے تو کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے جبکہ ان باغات میں ابلتے چشموں کا پانی جاری ہوگا ، حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ آب رواں کو جنتی جدھر کو کہے گا ادھر چلنا شروع کردے گا تم کس کس نعمت کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 67–68

ف 2 جنت میں ہر قسم کے پھل جنہیں جنتی لوگ پسند کریں گے نہایت کثرت سے ہوں گے لیکن کجھجور اور انار کا ذکر خاص طور پر اسلئے فرمایا کہ ان دونوں کو عرب بہت پسند کرتی تھے اور وہ ان کی سر زمین میں بکثرت پائے جاتے تھے۔ ان کے مقابلہ میں دوسرے پھلوں سے وہ اس قدر واقف نہ تھے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 46–78

لغات القرآن آیت نمبر 46 تا 78 ذواتا افنان بہت شاخوں والے۔ بطائن (بطن) استر، پیٹ۔ استبرق سبز ریشم دان قریب قریب۔ قصرت روکنے والیاں۔ لم یطمت ہاتھ نہ لگایا ہوگا۔ مدھآ متن دو گہرے سبز۔ نضاختن دو چشمے جوش مارتے ہوئے۔ رمان انار ۔ خیرات بہت عمدہ۔ حسان خوبصورت و حسین۔ الخیام خیمے۔ رفرق مسند، مسہریاں۔ عبقری قیمتی۔ تبرک برکت والا۔ الاکرام بہت بزرگی اور عظمت والا۔ تشریح : آیت نمبر 46 تا 79 اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ تقویٰ ، پرہیز گاریوں اور نیکیوں کے ساتھ زندگی گذارنے والوں کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ چناچہ کفار و مشرکین اور گناہگار مجرموں کی سزا کو بیان کرنے کے بعد ان صالح مومنین کے لئے اجر عظیم کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 63–78

قیامت کے انکار کا جواب۔ (ف 1) نہایت بزرگ بابرکت نام ہے تیرے رب کا جوصاحب بزرگی ومہربانی کا ہے ان بندو پر جو اس سے ڈرتے ہیں اور اس کا اور اس کے رسول کا حکم بخوشی بجالاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 62–76

[15] سورة واقعہ میں نیک انسانوں کی دو قسمیں بیان ہوئی ہیں، مقربین اور اصحاب الیمین اس لئے ان دونوں کے لئے باغوں کے اوصاف الگ الگ ارشاد ہوئے ہیں۔ پہلے دو باغ مقربین کے لئے تھے اور یہ دو باغ اصحاب الیمین کے لئے۔ احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 61–78

ف 3: برکت کے معنے عربی میں تین ہیں ۔ دوام و ثبوت ، فیوض اور علوم وارتقاع ، اور اللہ کی نسبت جب کہا جائے گا ۔ کہ وہ بابرکت ذات ہے ۔ تو اس کے معنے یہ ہوں گے ۔ کہ وہ خوددائمی ہے ۔ اس کے فیوض رحمانیت دائمی ہیں ۔ اور وہ کائنات سے بامین اور بلند ہے ۔ حل لغات :۔ خیرات ۔ یعنی وہ عورتیں صورت اور سیرت کے لحاظ سے دنیا کی عورتوں سے کہیں بہتر اور اعلیٰ ہونگی ۔ ان کے ہر کام میں حسن نمایاں ہوگا ۔ ہر عادت میں نیکی اور خیر سگالی کا اظہار ہوگا ۔ مقصورات فی الخیام ۔ کے معنے یہ ہیں ۔ کہ وہ نازونعمت کی زندگی بسرکرینگی ۔ اور عزت ووقار کے ساتھ خیموں میں رہیں گی زفرف ۔ بھیڑ ۔ شجر ۔ جامہائے سبزہ فرش ، خیمہ ۔ بالش…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 63–78

ف 4۔ نام سے مراد صفات جو کہ ذات کے غیر نہیں، پس حاصل جملہ کا ثناء ہوئی کمال ذات وصفات کے ساتھ، اور شاید لفظ اسم بڑھانے سے مقصود مبالغہ ہو کہ مسمی تو کیسا کچھ کامل اور بابرکت ہوگا، اس کا تو اسم بھی مبارک اور کامل ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پھر تم دونوں اپنے پروردگار کی کن کن نشانیوں کو جھٹلائو گے 76 یہ وہی ترجیع ہے جو ہر آیت کے بعد آرہی ہے اور انسان کو تنبیہہ کر رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بےشمارنشانیاں ہیں جن میں سے ایک ایک کی نشاندہی کرائی جارہی ہے اور ساتھ ہر بار تم کو جھنجوڑا بھی جارہا ہے کہ تم سمجھ جائو اور اپنی اصلاح کی کوشش کرو اور اچھی طرح سمجھ جائو کہ یہ دنیا کی زندگی اور اس کی ہو ہوا سب فانی ہے۔ تم آخرت کی فکر کرو اور اس کی طرف متوجہ ہو جائو آخر تم لوگ اللہ تعالیٰ کی کن کن نشانیوں کو جھٹلائو گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 64–69

مُدْهَامَّتَانِ (both dark green!...55:64). This is one word verse, and it means 'dark green with foliage'. The word is derived from idhimam signifying, for a meadow or garden, to become of dark green hue inclining to black by reason of abundance of moisture or irrigation. This description is not assigned to the first two Gardens. This does not necessarily imply that they do not have this quality. The former Gardens are described as ذَوَاتَا of 'having lot of branches'. This comprehends the quality of 'dark green' as well.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 64–71

50 The word madhammatan has been used in praise of these gardens. Mudhamma is such luxuriant vegetation which because of its extreme luxuriance assumes a darkish hue.

Read the full tafseer →