Explained with ayahs 54–61
جنت یافتہ لوگ
جنتی لوگ بےفکری سے تکئے لگائے ہوئے ہوں گے خواہ لیٹے ہوئے ہوں خواہ باآرام بیٹھے ہوئے تکیہ سے لگے ہوئے ہوں ان کے بچھاؤنے بھی اتنے بڑھیا ہوں گے کہ ان کے اندر کا استر بھی دبیز اور خالص زرین ریشم کا ہوگا پھر اوپر کا ابرا کچھ ایسا ہوگا اسے تم آپ سوچ لو۔ مالک بن دینار اور سفیان ثوری فرماتے ہیں استر کا یہ حال ہے اور ابرا تو محض نورانی ہوگا جو سراسر اظہار رحمت و نور ہوگا۔ پھر اس پر بہترین گلکاریاں ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ان جنتوں کے پھل جنتیوں سے بالکل قریب ہیں۔ جب چاہے جس حال میں چاہیں وہاں سے لے لیں لیٹے ہوں تو بیٹھا ہونے کی اور بیٹھے ہوں تو کھڑا ہونے کی ضرورت نہیں…
Read the full tafseer →سورة الرَّحْمٰن 48
ظاہر بات ہے کہ جو شخص جنت اور اس کے اجر وثواب کا منکر ہے وہ دراصل اللہ تعالیٰ کی بہت سی صفات حسنہ کا انکار کرتا ہے۔ وہ اگر خدا کو مانتا بھی ہے تو اس کے متعلق بہت بری رائے رکھتا ہے۔ اس کے نزدیک وہ ایک چوپٹ راجہ ہے جس کی اندھیر نگری میں نیکی کرنا گویا اسے دریا میں ڈال دینا ہے۔ وہ یا تو اسے اندھا اور بہرا سمجھتا ہے جسے کچھ خبر ہی نہیں کہ اس کی خدائی میں کون اس کی رضا کی خاطر جان، مال، نفس اور محنتوں کی قربانیاں دے رہا ہے۔ یا اس کے نزدیک وہ بےحس اور ناقدر شناس ہے جسے بھلے اور برے کی کچھ تمیز نہیں۔ یا پھر اس کے خیال ناقص میں وہ عاجز و در ماندہ ہے جس کی نگاہ میں نیکی کی قدر چاہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
هَلْ جَزَاۗءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ ، مقربین خاص کے دو باغوں کی کچھ تفصیل ذکر کرنے کے بعد یہ ارشاد فرمایا کہ احسان عمل کا بدلہ احسان جزا ہی ہوسکتا ہے اس کے سوا کوئی احتمال نہیں، ان حضرات نے احسان عمل یعنی ہمیشہ نیک عمل کرنے کی پابندی کی تو حق تعالیٰ کی طرف سے ان کو عمدہ جزا ہی کا بدلہ دیا جانا چاہئے تھا جو ان کو دیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
(ھل جزاء لاحسان الا الاحسان فبای الاء ربکما تکذبن) (60۔ 61)
(جزا و سزا کے حق میں عقل و فطرت کی گواہی)۔ مقربین کی جنت کے اوصاف بیان کرنے کے بعد یہ آخر میں مخاطبوں کو متوجہ کر کے نہایت بلیغ بات ارشاد فرمائی ہے کہ اس بات پر تمہیں تعجب کیوں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو یہ ساری نعمتیں دینے والا ہے ! آخر نیکی اور پاک بازی کا بدلہ کیا ہونا چاہیے افضل و کرم ہی ہونا چاہیے یا کچھ اور ؟ اگر اس کائنات کا خالق ایک ایسا دن نہ لائے جس میں بروں کو ان کی بدیوں کی سزا اور نیکیوں کو ان کی نیکیوں کا بھر پور صلہ دے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس کو نیکی اور بدی میں کوئی امتیاز ہی نہیں ہے بلکہ اس سے یہ بات بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
62۔ 1 دُوْنِھِمَا سے یہ ثابت بھی کیا گیا ہے کہ یہ دو باغ شان اور فضیلت میں پچھلے دو باغوں سے، جن کا ذکر آیت 26 میں گزرا، کم تر ہونگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–61
9: یعنی سوال و جواب اور حساب و کتاب کا مرحلہ تو اس وقت گزرچکا ہوگا جس میں ان لوگوں سے حجت قائم کرنے کے لئے سوالات بھی کئے گئے تھے، لیکن اب ان کو دوزخ میں ڈالنے کے لئے نہ تو اللہ تعالیٰ کو کسی سے یہ پوچھنے کی ضرورت ہوگی کہ اس نے کیا گناہ کیا تھا، کیونکہ اسے خود ہی معلوم ہے، اور نہ فرشتوں کو ضرورت ہوگی کیونکہ جیسا اگلی آیت میں آرہا ہے، مجرم لوگ اپنے چہرے کی علامتوں ہی سے پہچان لئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
ھل جزائ ................ الاحسان (55: 06) ” نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے “ انعام اور احسان کی اس نمائش گاہ کے ہر فقرے کے بعد یہ تعقیب آتی تھی “ اے جن وانس اللہ کے کن کن احسانات کا تم انکار کرو گے “ یہ احسان کا بدلہ احسان سے تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
6 شاید پہلے دو باغ مقربین کے لیے تھے اور یہ دونوں اصحاب یمین کے لیے ہیں۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →آیت 61{ فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ۔ } ”تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے ؟“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
38 پہلے احسان سے مراد اہل جنت کے وہ نیک اعمال ہیں جو وہ دنیا میں سرانجام دیتے رہے۔ اور دوسرے احسان سے مراد جنت کی وہ نعمتیں ہیں جن کا ذکر ہو رہا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ سوالیہ فقرہ کی شکل میں لکھا گیا ہے۔ اس کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے۔ نہیں بدلہ احسان کا مگر احسان۔ یعنی احسان کا بدلہ احسان ہی ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
33۔ خواص کے بعد اب ذکر عامہ اہل جنت کی نعمتوں کا شروع ہورہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
ترجمہ : اور اس شخص کے لئے یعنی ان میں سے ہر ایک کے لئے یا دونوں کے مجموعہ کے لئے جو اپنے رب کے روبرو حساب کے لئے کھڑے ہونے سے ڈرا اور اس نے اس کی نافرمانی ترک کردی دو باغ ہیں سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم…
Read the full tafseer →فبای الاء ربکما تکذبن .
سو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
(60۔ 61) بھلا توحید کا بدلہ بجز جنت کے کچھ ہوسکتا ہے ؟ سو اے جن و انس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
ہَلْ جَزَآئُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ : پہلے احسان کا معنی نیکی اور دوسرے احسان کا معنی اس نیکی کا نیک صلہ یعنی جنت ہے۔ حدیث جبریل میں رسول اللہ ﷺ نے احسان کا مطلب یہ بیان فرمایا (ان تعبد اللہ کانک تراہٗ ، فانک ان لا تراہ فانہ یراک) (مسلم ، الایمان ، باب الایمان ، ماھو ؟۔۔۔۔۔: 9)”تو اللہ کی عبادت اس طرح کر گویا تو اسے دیکھ رہا ہے ، پھر اگر تو اسے نہیں دیکھتا تو وہ یقینا تجھے دیکھ رہا ہے“۔ ظاہر ہے جس شخص نے اپنی زندگی اپنے پروردگار کو ہر وقت اپنے اوپر نگران ہونے کے یقین اور احتیاط کے ساتھ گزاری اس کا بدلا بھی ایسا ہی اچھا اور خوبصورت ہونا چاہیے ، جس کا بیان ان آیات میں ہے۔ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–61
کانھن الیاقوت والمرجان۔ امام ترمذی نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں : ” اہل جنت کی عورتوں میں سے ایک عورت کی پنڈلی کی سفیدی ستر حلوں سے دکھائی دے گی۔ یہاں تک کہ اس کا گودا بھی دکھائی دے گا۔ “ (3) اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ جہاں تک یاقوت کا تعلق ہے وہ پتھر ہے اگر تو اس میں دھاگہ ڈالے پھر اسے صاف کرے تو وہ تو تجھے اس لڑی کو دکھا دے گا اسے موقف روایت کیا گیا ہے عمرو بن میمون نے کہا : حورعین میں سے ایک عورت ستر حلے پہنے گی اس کی پنڈلی کا مغز انکے باہر دکھائی دے گا جس طرح سفید جام میں سرخ شراب دکھائی دتی ہے حضرت حسن بصری نے کہا : وہ یاقوت جیسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' ھل جزآء الاحسان الا الاحسان ''
28:۔ ابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) فی نوادرالاصول والبغوی فی تفسیر والدیلمی فی مسند الفردوس وابن النجار نے اپنی تاریخ میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (آیت ) '' ھل جزآء الاحسان الا الاحسان '' (نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہے) کے بارے میں فرمایا (کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں) جس کو میں نے توحید کی نعمت عطا کی کہ اس کا بدلہ سوائے جنت کے اور کچھ نہیں۔
29:۔ ابن مردویہ (رح) نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت (آیت ) '' ھل جزآء الاحسان الا الاحسان '' کے بارے میں فرمایا نہیں بدلہ ہے جس کو ہم نے…
Read the full tafseer →فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
احسان کا بدلہ احسان :
﴿ هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ0060﴾ (کیا احسان کا بدلہ احسان کے علاوہ ہے) یعنی جس بندہ نے اچھی زندگی گزاری اچھے عمل کیے موحدر ہاشرک سے بچا ایمان لایا اعمال صالحہ میں لگا رہا اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اچھا ہی ہے اللہ تعالیٰ اسے جنت نصیب فرمائے گا اور وہاں کی نعمتوں سے نوازے گا جن میں سے بعض کا تذکرہ اوپر کیا جا چکا ہے۔ حدیث شریف میں جو احسان کے بارے میں ان تعبداللہ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک فرمایا ہے اس کے مضمون کو بھی آیت بالا کا مضمون شامل ہے۔ (صحیح مسلم صفحہ 27: ج 1) حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ احسان کیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
اعزاز واکرام اہل ایمان بعطاء نعمتہائے عظام از رب ذی الجلال والاکرام :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ولمن خاف مقام ربہ جنتین ...... الی ....... ذی الجلل والاکرام “۔
(ربط) گذشتہ سلسلہ آیات کفار ومجرمین کی تنبیہ اور ان کی سزاؤں کے بیان پر مشتمل تھا ان آیات میں اہل ایمان اور مطیعین کی جزاؤں اور ان پر آخرت میں عطا کردہ نعمتوں اور راحتوں کا بیان ہے ارشاد فرمایا جارہا ہے۔
اور جو شخص بھی ڈرا اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے اس کیلئے دو باغ ہیں جنت کے عظیم الشان باغات میں سے جن کی نعمتیں اور راحتیں وہ ہیں کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی انسان کے قلب و دماغ میں اس کا تصور ہوا ظاہر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
21:۔ ” ھل جزاء الاحسان۔ الایۃ “ پہلے احسان سے احسان عقیدہ و احسان عمل مراد ہے اور دوسرے احسان سے ثواب اور جنت۔ عقیدے اور عمل کو درست رکھنے کی جزا ثواب آخرت اور جنت کے سوا کچھ نہیں نہیں۔ ای ما جزاء الاحسان فی العمل الا الحسان فی الثواب۔ وقیل المراد ما جزاء التوحید الا الجنۃ (روح ج 27 ص 120) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–61
ربطہ آیات
پہلے اللہ کے مطلق مادی ، حسی اور روحانی انعامات کا ذکر ہوا۔ پھر اس کے بعد نافرمانوں کے انجام کا تذکرہ ہوا۔ برائی کی چیزوں سے خبردار کرنا بھی نعمت خداوندی ہے تاکہ لوگ اللہ کے عذاب سے بچ جائیں۔ اب اگلی آیات میں اللہ کے اطاعت گزار بندوں کا ذکر آرہا ہے۔ ان کے آگے پھر دو گروہ بن جاتے ہیں جن کی سزائے عمل بھی اللہ نے الگ الگ بیان کی ہے۔
متقین کے لیے انعامات
ارشاد ہوتا ہے ولمن خاف مقام ربہ اور جو شخص ڈر گیا اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے۔ جس کو وقوع قیامت اور جزائے عمل پر یقین آگیا ، اور اسے علم ہوگیا کہ اس نے ایک دن اللہ رب العزت کی عدات میں کھڑے ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے ، وہ…
Read the full tafseer →فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ 61
أيا
أَيُّ في الاستخبار موضوع للبحث عن بعض الجنس والنوع وعن تعيينه، ويستعمل ذلک في الخبر والجزاء، نحو : أَيًّا ما تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الإسراء/ 110] ، وأَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلا عُدْوانَ عَلَيَّ [ القصص/ 28]
( ا ی ی ) ای ۔
جب استفہام کیلئے ہو تو جنس یا نوع کی تعیین اور تحقیق کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور یہ خبر اور جزا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى } ( سورة الإسراء 110) جس نام سے اسے پکارا اس کے سب نام اچھے ہیں { أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–61
ترکیب : جنتان مبتداء لمن خاف خبرہ مقام ربہ المقام اما اسم منان ای خاف الموقف الذی یقف فیہ العباد للحساب کمافی قولہ تعالیٰ یوم یقوم الناس لرب العالمین و اما مصدر رففیہ احتمالان امابمعنی قیامہ تعالیٰ علی احوال العباد من قام علیہ اذارقبہ کمافی قولہ تعالیٰ فمن ھو قائم علیٰ کل نفس بماکسبت و امابمعنی قیام العباد بین یدیہ۔ فعلی الاول اضافۃ الی الرب تفخیماً و تھویلاً ۔ وقیل لفظ المقام مقحم ای ولمن خاف ربہ والمعنٰی لکل خائفین منکما اولکل واحد جنتان۔ ذواتا تثنیہ ذوات علی الاصل ولامھاتاء (الجلال المحلی) قال ابن الصائغ الالف قبل التاء بدل من یاء وقیل من واوقال الخطیب فی تثنیہ ذات لغتان الاولیٰ الردالی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
ھَلْ جَزَآئُ الْاِحْسَانِ اِلاَّ الْاِحْسَانُ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 60، 61)
(نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔ پھر اے جن و انس ! تم اپنے رب کے کن کن احسانوں کو جھٹلائو گے۔ )
جزاء و سزا کے حق میں عقل و فطرت کی گواہی
اس آیت کریمہ میں ایک بات تو یہ فرمائی گئی ہے کہ دنیوی زندگی اپنے اندر ایک ایسا حسن رکھتی ہے جس میں ہر ایک کے لیے اپیل موجود ہے۔ اور پھر خواہشاتِ نفس اپنے اندر ایسی اکساہٹ رکھتی ہیں کہ جس سے بچ نکلنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود جو شخص نہ دنیا کے خوبصورتیوں اور آسانیوں کی طرف توجہ دیتا ہے اور نہ خواہشاتِ نفس اسے اپنا گرویدہ بنانے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–63
فہم القرآن
ربط کلام : جنت کی نعمتوں کا ذکر جاری ہے۔ جنت کی عورتوں کا حسن و جمال اور حیاء۔
جنت میں شرمیلی اور نیچی نگاہ رکھنے والی حوریں ہوں گی جنہیں جنتی سے پہلے کسی انسان اور جن نے نہیں چھوا ہوگا۔ جنت کی حوریں اتنی خوبصورت ہوں گی جسے یاقوت اور مرجان خوبصورت اور پرکشش ہوتے ہیں یاد رہے کہ یاقوت اپنی سرخی میں بےمثال ہوتا ہے اور مرجان اپنی سفیدی میں بےمثل سمجھا جاتا ہے۔ جنتی کو اس لیے خوبصورت عورتیں دی جائیں گی کیونکہ یہ دنیا میں اللہ کے حکم کے مطابق نیکیاں کرتے رہے اور ہر نیکی کا بدلہ احسان ہی ہونا چاہیے۔
جنت کی عورتوں کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ انہیں انسانوں اور جنوں میں سے کسی نے چھوا نہیں…
Read the full tafseer →61 : فَبِاَیِّ اٰلَآ ئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ۔ (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے)
Read the full tafseer →60 ۔” ھل جزاء الاحسان الا الاحسان “ یعنی جو دنیا میں نیک کام کرے تو اس کی جزاء یہی ہے کہ اس کے ساتھ آخرت میں اچھائی کی جائے اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں نہیں ہے اس شخص کا بدلہ جو لا الہ الا اللہ کہے اور جو دین محمد ﷺ لائے ہیں اس پر عمل کرے مگر جنت۔ حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے پڑھا ” ھل جزاء الاحسان الا الاحسان “ پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے ؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ فرمایا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس شخص کا بدلہ جس پر میں نے توحید کا انعام کیا وہ صرف جنت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–61
54۔ 61۔ معتبر سند سے بیہقی 3 ؎ میں عبد اللہ بن مسعود ؓ کا قول ہے کہ جس بچھو نے کا استر ریشمی کپڑے بیش قیمت کا ہوگا اس بچھونے کے بارے کا حال اللہ ہی کو معلوم ہے کہ کیسا ہوگا استبرق دلدار ریشمی کپڑے کو کہتے ہیں 4 ؎۔ مجاہد کے قول کے موافق جنت کی میوہ دار شاخیں ایسی حالت پر ہوں گی کہ کھڑے بیٹھے لیٹے سب طرح ان شاخوں میں کا میوہ جنتی لوگ کھا سکیں گے۔ صحیح بخاری 5 ؎ و مسلم میں عبد اللہ بن اوفی سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جنت کی عورتوں میں سے کوئی عورت زمین کی طرف جھانک کر دیکھ لے لو مشرق سے مغرب تک ساری زمین پر اس کی خوبصورتی کی چمک پھیل جائے۔ بعض 1 ؎ روایتوں میں یوں بھی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
(هَلْ جَزَاۗءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ ) احسان کی جزا احسان ہی ہے۔ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندون کو فائدہ پہنچایا اس کے سوا کچھ اور ہوسکتی ہے کہ ثواب جزیل فوز کبیر نعمتیں اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کرکے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے ؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–67
آسمان کا سرخ ہونا
قول باری ہے (فاذا انشقت السمآء فکانت وردۃ کالدھان، پس جب آسمان پھٹ جائے گا اور وہ لال چمڑے کی طرح سرخ ہوجائے گا) روایت ہے آسمان سرخ ہوکر روغن کی طرح پگھل جائے گا۔ ایک روایت کے مطابق آسمان دنیا لوہے کا ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو اس کا نیلا رنگ جہنم کی آگ کی گرمی کی وجہ سے سرخ رنگ میں تبدیل ہوجائے گا جس طرح لوہے کو آگ پر تپانے کی صورت میں اس کا رنگ سرخ ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
[ 51] نیکی کا بدلہ نیکی، وباللّٰہ التوفیق :
سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے اسلوب و انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے ؟ یعنی دنیا میں انہوں نے اپنی زندگی اپنے رب کی رضا کے حصول کی کوشش میں اور نیکی کے ساتھ گزاری، اس لئے اس کے بدلے میں آخرت میں ان کو یہ اور یہ نعمتیں نصیب ہوں گی، بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر، کہ یہ انعام و اکرام اس واہب مطلق " جل جلالہ " کی طرف سے ہوگا جس کی رحمت و عنایت کی کوئی حد و انتہاء نہیں، جیسا کہ فرمایا گیا۔ { نزلاً من غفورٍ رحیمo} [ حم السجدۃ : 32 پ 24] نیز فرمایا گیا۔ { للذین احسنوا الحسنی وزیادۃً ط ولا یرھق وجوہہم قتر ولا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
نیک لوگوں کا اچھا انجام
تشریح :۔ آیت نمبر 46 کی وضاحت ہم اس حدیث مقدسہ سے کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا ' یا رسول اللہ ﷺ ! کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص چوری، زنا اور شراب نوشی کرتے ہوئے اللہ سے ڈرے ؟ فرمایا نہیں اے صدیق کی بیٹی ! اس سے مراد وہ شخص ہے جو نماز پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، زکوٰۃ دیتا ہے اور پھر خدائے عزو جل سے ڈرتا رہتا ہے '۔ (از شعور حیات مصنف محمد یوسف اصلاحی)
یعنی گناہ سے پہلے ڈرنا۔ حضرت حسن بصری ؓ کا قول ہے 5 چیزیں قساوت قلب کا نشان ہیں (1) توبہ کی امید پر گناہ کرنا (2) عمل کرنا بغیراخلاص کے (3) علم سیکھنا اور عمل نہ کرنا (4) رزق کھانا اور شکر نہ کرنا (5) مردوں کو دفن کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
آیات 46 تا 48۔
اسرار ومعارف۔
جو کوئی اپنے پروردگار کے سامنے پیش ہوکرجوابدہی سے ڈرتا ہے اور یوں اس کی نافرمانی نہیں کرتا یہ وصف اللہ کے خاص بندوں اور اہل اللہ کا ہے جنہیں آخرت مستحضر رہتی ہے یعنی ہر حال میں اللہ کے سامنے پیش ہونے کامراقبہ دائمی رہتا ہے توخلوص دل سے اطاعت کا سبب بن جاتا ہے ایسے لوگوں کے لیے ہر ایک کے واسطے دو باغ ہیں دودوجنتیں ہیں بھلاکس کس انعام کا شکر ادا نہ کرو گے دونوں بہت گھنے اور بہت آباد ہوں گے تو کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے جبکہ ان باغات میں ابلتے چشموں کا پانی جاری ہوگا ، حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ آب رواں کو جنتی جدھر کو کہے گا ادھر چلنا شروع کردے گا تم کس کس نعمت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
ف 10 عربی زبان میں دون کا لفظ اگرچہ ماسوا اور علاوہ کے معنی میں بھی اسعتمال ہوتا ہے لیکن اس کا زیادہ تر استعمال ایک چیز کے دوسری چیز کے مقابلہ میں نیچے یا بالحاظ مرتبہ کم ہونے کے معنی میں ہوتا ہے اس لئے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو باغ پہلے سے دو باغوں سے نیچے یا ان کے مقابلہ میں کم مرتبہ ہوں گے۔ ایک حدیث میں ہے کہ دو جلتیں سونے کی ہوں گی اور ان کے برتن اور دوسری ہر چیز سونے کی ہوگی اور دو جنتیں چاندی کی ہوں گی اور ان کے برتن اور دوسری ہر چیز چاندی کی ہوگی۔ شاید پہلی دو جنتیں مقربین اور دوسری دو اصحاب الیمین کے لئے ہوں گے۔ واللہ اعلم (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(55:61) فبای الاء ربکما تکذبن۔ ملاحظہ ہو آیت 47 متذکرۃ الصدر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
لغات القرآن آیت نمبر 46 تا 78
ذواتا افنان بہت شاخوں والے۔ بطائن (بطن) استر، پیٹ۔ استبرق سبز ریشم دان قریب قریب۔ قصرت روکنے والیاں۔ لم یطمت ہاتھ نہ لگایا ہوگا۔ مدھآ متن دو گہرے سبز۔ نضاختن دو چشمے جوش مارتے ہوئے۔ رمان انار ۔ خیرات بہت عمدہ۔ حسان خوبصورت و حسین۔ الخیام خیمے۔ رفرق مسند، مسہریاں۔ عبقری قیمتی۔ تبرک برکت والا۔ الاکرام بہت بزرگی اور عظمت والا۔
تشریح : آیت نمبر 46 تا 79
اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ تقویٰ ، پرہیز گاریوں اور نیکیوں کے ساتھ زندگی گذارنے والوں کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ چناچہ کفار و مشرکین اور گناہگار مجرموں کی سزا کو بیان کرنے کے بعد ان صالح مومنین کے لئے اجر عظیم کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–62
(ف 1) ان آیتوں میں پہلے تو یہ فرمایا کہ جن لوگوں کے دل اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف ہوگا انکو جنت کی دو منزلیں ملیں گی ایک ان کے نیک عمل کے بدلے میں اور ایک خوف الٰہی سے برے کاموں سے بچنے کے بدلے میں پھر ان منزلوں کے سازوسامان کا ذکر کیا کہ بعض منزلوں میں اعلی درجہ کا سازوسامان ہے اور بعض میں ان سے کم درجہ کا، ہر طرح کی منزلوں کے سازوسامان کا ذکر اسلیے فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ جس قدر خوف الہی انسان کے دل میں ہوگا اسی قدرسازوسامان والی جنت کیدومنزلیں اس کو ملیں گی آگے فرمایا کہ وہ دونوں باغ سرسبز و شاداب ہیں ایسی سبزی ہے کہ نہایت ہی گہری سبزی ہے اور ان دونوں باغوں میں دوچشمے ہیں جو جوش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
[14] یعنی کمال طاعت کا بدلہ کمال عنایت ہی ہوسکتا ہے۔ ان جنتیوں نے اللہ کی انتہائی عبادت کی تھی گویا وہ اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو انتہائی بدلہ دیا اور ان نعمتوں سے نوازا جس کا اوپر ذکر ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–78
ف 3: برکت کے معنے عربی میں تین ہیں ۔ دوام و ثبوت ، فیوض اور علوم وارتقاع ، اور اللہ کی نسبت جب کہا جائے گا ۔ کہ وہ بابرکت ذات ہے ۔ تو اس کے معنے یہ ہوں گے ۔ کہ وہ خوددائمی ہے ۔ اس کے فیوض رحمانیت دائمی ہیں ۔ اور وہ کائنات سے بامین اور بلند ہے ۔
حل لغات :۔ خیرات ۔ یعنی وہ عورتیں صورت اور سیرت کے لحاظ سے دنیا کی عورتوں سے کہیں بہتر اور اعلیٰ ہونگی ۔ ان کے ہر کام میں حسن نمایاں ہوگا ۔ ہر عادت میں نیکی اور خیر سگالی کا اظہار ہوگا ۔ مقصورات فی الخیام ۔ کے معنے یہ ہیں ۔ کہ وہ نازونعمت کی زندگی بسرکرینگی ۔ اور عزت ووقار کے ساتھ خیموں میں رہیں گی زفرف ۔ بھیڑ ۔ شجر ۔ جامہائے سبزہ فرش ، خیمہ ۔ بالش…
Read the full tafseer →(61) سوتم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
ف 3۔ اب عامہ مومنین کے باغوں کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →پھر تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی قدرتوں کا انکار کرو گے۔
16 آیت ترجیع پر غور کرو کہ وہ کس طرح پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ احسان کے بدلہ میں احسان سے قدرت خداوندی کا اظہار ہوتا ہے اور پھر تم لوگ قدرت خداوندی کے نشانات میں سے آخر کس کس کا انکار کرو گے اور کیوں انکار کرو گے ؟ تمہارے پاس اس سے انکار کی دلیل کیا ہوگی ؟ تم اس کی کون کون سی قدرت کا انکار کرو گے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ (Is there any reward for goodness other than goodness?...55:60). Having described the two Gardens for the intimate believers, it is declared as a principle that a good deed attracts a good reward. The righteous believers will be blessed, therefore, with good rewards.
Read the full tafseer →48 Obviously, the parson who is a denier of Paradise and its rewards, actually denies many of AIIah Almighty's praiseworthy attributes. Even if he believes in Allah, he holds a bad opinion about Him In his view He is a perverse ruler in whose lawless kingdom doing good is an exercise in futility. He is either blind and deaf and is, therefore, wholly unaware as to who in his kingdom is making sacrifices of life, wealth and labour for His sake; or He is un-appreciative and cannot distinguish between good and evil; or. as he scents to think. He is helpless and powerless: He may be very…
Read the full tafseer →