Explained with ayahs 49–55
سب کی آخری منزل اللہ تعالیٰ ادراک سے بلند ہے
فرمان ہے کہ بازگشت آخر اللہ کی طرف ہے۔ قیامت کے دن سب کو لوٹ کر اسی کے سامنے پیش ہونا ہے حضرت معاذ نے قبیلہ بنی اود میں خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا اے بنی اود میں اللہ کا پیغمبر کا قاصد بن کر تمہاری طرف آیا ہوں تم یقین کرو کہ تمہارا سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے پھر یا تو جنت میں پہنچائے جاؤ یا جہنم میں دھکیلے جاؤ بغوی میں ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات میں فکر کرنا جائز نہیں، جیسے اور حدیث میں ہے مخلوق پر غور بھری نظریں ڈالو لیکن ذات خالق میں گہرے نہ اترو۔ اسے عقل و ادراک فکر و ذہن نہیں پاسکتا، گو ان لفظوں سے یہ حدیث محفوظ نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
سورة النَّجْم 45
عاد اولیٰ سے مراد ہے قدیم قوم عاد جس کی طرف حضرت ہود ؑ بھیجے گئے تھے۔ یہ قوم جب حضرت ہود کو جھٹلانے کی پاداش میں مبتلائے عذاب ہوئی تو صرف وہ لوگ باقی بچے جو ان پر ایمان لائے تھے۔ ان کی نسل کو تاریخ میں عاد اخریٰ یا عاد ثانیہ کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
وَاَنَّهٗٓ اَهْلَكَ عَادَۨا الْاُوْلٰى، وَثَمُوْدَا۟ فَمَآ اَبْقٰى، قوم عاد دنیا کی قوی اور سخت ترین قوم ہے، ان کے دو طبقے یکے بعد دیگرے اولیٰ اور اخریٰ کے نام سے موسوم ہیں، ان کی طرف حضرت ہود ؑ کو رسول بنا کر بھیجا گیا، نافرمانی پر ہوا کے طوفان کا عذاب آیا، پوری قوم ہلاک ہوئی، قوم نوح ؑ کے بعد عذاب سے ہلاک ہونے والی یہ پہلی قوم ہے (مظہری) اور ثمود بھی انہی کی نظیر دوسری شاخ ہے، جن کی طرف حضرت صالح ؑ کو بھیجا گیا، ان کی نافرمانی کرنے والوں پر سخت آواز کا عذاب آیا، جس سے ان کے کلیجے پھٹ کر ہلاک ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
(وانہ اھلک عاد الاولی وثمود انما النقی وتوم نوح من قبل انھم گانو ھم اظلم وطغی) (50۔ 52)
(قریش کو تنبیہ تاریخ کے حوالے سے)۔ یہ بھی توسیع کلام ہے، تاریخی حوالوں سے قریش کو تنبیہ کیا گیا ہے کہ جس طرح آج تمہیں انداز کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح تم سے پہلے اس ملک کی قوموں میں سے عاد اور ثمود کو بھی ان کے رسولوں نے انداز کیا اور ان سے پہلے قوم نوح کو بھی، لیکن ان قوموں نے خدا کے انداز کی کوئی پروا نہ کی بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان سب کو ہلاک کردیا اور اس طرح ہلاک کیا کہ ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑا۔ مطلب یہ ہے کہ یہی انجام تمہارا بھی ہونا ہے اگر تم نے انہی کی روش اختیار کی۔ خدا کا قانون سب کے لیے یکساں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
50۔ 1 قوم عاد اول اس لئے کہا کہ یہ ثمود سے پہلے ہوئی، یا اس لئے کہ قوم نوح کے بعد سب سے پہلے یہ قوم ہلاک کی گئی۔ بعض کہتے ہیں، عاد نامی دو قومیں گزری ہیں، یہ پہلی ہے جسے باد تند سے ہلاک کیا گیا جب کہ دوسری زمانے کی گردشوں کے ساتھ مختلف ناموں سے چلتی اور بکھرتی ہوئی موجود رہی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
23: شعریٰ ایک ستارے کا نام ہے، جاہلیت میں عرب لوگ اس کی عبادت کرتے تھے، کیونکہ سمجھتے تھے کہ وہ ہمیں کچھ دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ وہ ستارہ تو ایک مخلوق ہے، اور اللہ تعالیٰ ہی اس کے پروردگار ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
وانہ ............ تتماری (55) (35 : 05 تا 55) ” یہ کہ اسی نے عاد اولی کو ہلاک کیا اور ثمود کو ایسا تباہ کیا کہ اس میں سے کسی کو نہ چھوڑا اور ان سے پہلے قوم نوح کو تباہ کیا کہ وہ تھے ہی سخت ظالم اور سرکش لوگ اور اوندھی گرنے والی بستیوں کو اٹھا کر پھینکا پھر چھا دیا ان پر وہ جو (تم جانتے ہو کہ) کیا چھا دیا۔ پس اے انسان اپنے رب کی کن کن نعمتوں میں تو شک کرے گا۔ “
یہ ایک سرسری نظر ہے جس میں ایک ایک امت پر مختصر نگاہ ڈالی جاتی ہے اور اس کے انجام کو دکھا کر انسانی شعور کو چن کی دی جاتی ہے کہ وہ بیدار ہو۔
عاد ، ثمود اور قوم نوح کو تو قرآن کے قاری جانتے ہیں اور کئی جگہ یہ قصص مذکور ہیں۔ موتفکہ کا لفظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
5 کہ سینکڑوں برس تک خدا کے پیغمبر نوح (علیہ السلام) کو سخت ترین ایذائیں پہنچاتے رہے۔ جن کو پڑھ کر کلیجہ پھٹتا ہے، اور آنے والوں کے لیے بری راہ ڈال گئے۔
Read the full tafseer →آیت 52{ وَقَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُط } ”اور قوم نوح علیہ السلام کو بھی ہلاک کیا ان سے پہلے۔“
{ اِنَّہُمْ کَانُوْا ہُمْ اَظْلَمَ وَاَطْغٰی۔ } ”یقینا وہ تو ان سے بڑھ کر ظالم اور ان سے بڑھ کر سرکش تھے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
35 عاد اولیٰ جن کی طرف سیدنا ہود مبعوث ہوئے اور عاد ثانیہ یا قوم ثمود جن کی طرف سیدنا صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے۔ اور قوم فرعون یہ سب لوگ آخرت کے منکر، اکڑ باز اپنے رسولوں کو ایذائیں اور دکھ پہنچانے والے اللہ کے باغی اور شرارتیں کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو تباہ کر ڈالا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
39۔ یعنی عذاب الہی نے۔ (آیت) ” والمؤتفکۃ “۔ الٹی ہوئی بستیوں سے مراد قوم لوط کے شہر ہیں۔ مغربی شام میں بحرمردہ کے نواح میں۔ (آیت) ” ماغشی “۔ یہ ابہام، اسلوب عرب کے مطابق، عذاب الہی کی عظمت وہولنا کی کے اظہار کے لئے ہے۔ (آیت) ” وقوم ... اطغی “۔ نوح وقوم نوح دونوں پر حاشیے بار بار گزر چکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
وانہ اھلک عادن الاولی و ثمو فما ابقی ” عاد اولی “ سے مراد قدیم قوم عاد ہے جس کی طرف حضرت ہود (علیہ السلام) بھیجے گئے تھے قوم عاد دنیا کی قوی ترین اور سخت ترین قوم تھی ان کے دو بقے یکے بعد دیگرے عاد اولیٰ اور عاد اخریٰ کے نام سے موسم ہیں یہ قوم جب حضرت ہود (علیہ السلام) کو جھٹلانے کی پاداش میں طوفان کے عذاب کے ذریعہ ہلاک کردی گئی، قوم نوح کے بعد ہلاک ہونے والی یہ پہلی قوم ہے اسی کو عاد اولیٰ کہتے ہیں، صرف وہ لوگ بچے تھے جو حضرت ہود (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے ان کی نسل کا عاد اخریٰ یا عادثانیہ کہتے ہی، عاد اخریٰ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم تھی، ان لوگوں نے بھی جب حضرت صالح (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →و قوم نوح من قبل انھم کانوا ھم اظلم واطغی .
اور ان سے پہلے قوم نوح کو (ہلاک کیا) بیشک وہ سب سے زیادہ ظالم اور شریر تھے۔
یعنی عاد وثمود سے پہلے قوم نوح کو ہلاک کردیا ‘ قوم نوح بڑی ظالم اور سرکش تھی۔ حضرت نوح نے ایک مدت دراز تک ان کو ایمان کی طرف بلایا لیکن انہوں نے نہ مانا۔ ہمیشہ نوح کو جھوٹا قرار دیتے رہے۔ حضرت نوح کو بار بار اتنا مارتے تھے کہ آپ بیہوش ہوجاتے تھے۔ اسی حالت میں چھوڑ کر چلے جاتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
(50۔ 52) اور یہ کہ اسی نے قوم ہود کو ہلاک کیا اور قوم صالح کو بھی کہ ان میں سے کسی کو بھی باقی نہ چھوڑا اور قوم صالح سے پہلے قوم نوح کو ہلاک کیا بیشک قوم نوح اپنے کفر و سرکشی و نافرمانی میں سب سے بڑھ کر تھے۔
Read the full tafseer →1۔ وقوم نوح من قبل : یہاں عاد وثمود کا ذکر قوم نوح سے پہلے اس لیے فرمایا کہ یہ لوگ عرب کے رہنے والے تھے اور قریش انہیں اچھی طرح جانتے تھے۔
2۔ انھم گانو ھم اظلم واطغی : ضمیر ”ھم“ حصر کا فائدہ دے رہی ہے۔ ظلم اور سرکشی میں قوم نوح ہی کو سب سے بڑھ کر اس لیے قرار دیا کہ اور کوئی قوم ایسی نہیں گزری جس کے پیغمبر نے انہیں ساڑھے نو سو سال نصیحت کی ہو اور اس کے باوجود وہ سرکشی پر اڑی رہی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
وثمود افما ابقی۔ ان کے ثمود، قوم صالح تھی انہیں چیخ کے ساتھ ہلاک کیا گیا۔ اسے ثموداً اور ثمود پڑھا گیا ہے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ عاد پر عطف کرتے ہوئے اسے منصوب پڑھا گیا ہے۔ وقوم نوح من قبل یعنی عاد وثمود سے پہلے قوم نوح کو ہلاک کیا۔ انھم کانوا ھم اظلم واطغی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) طویل عرصہ تک ان کے درمیان رہے یہاں تک کہ ایک آدمی اپنے بیٹے کے ہاتھ کو پکڑتا اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس جاتا اور بیٹے کو کہتا : اس سے محتاط رہنا کیونکہ یہ جھوٹا ہے کیونکہ میرا باپ مجھے اس کے پاس لے گیا تھا اور اس نے مجھے وہی بات کی تھی جو میں نے تجھے کہی ہے تو بڑا کفر پر مر جاتا، چھوٹا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
12:۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وانہ ھو اھلک عاد الاولی '' (اور یہ کہ اسی نے قوم عاد کو (اس کے کفر کی وجہ سے ہلاک کیا) دوسرے عاد حضرموت میں تھے۔
13:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وقوم نوح من قبل انہم کانوا ھم اظلم واطغی '' (اور ان سے پہلے قوم نوح کو ہلاک کیا۔ بیشک وہ سب زیادہ ظالم اور سرکش تھے) یعنی قوم نوح سے بڑھ کر لوگوں میں سے اس سے زیادہ ظالم اور سرکشی کرنے والے نہیں تھے۔ نوح (علیہ السلام) نے ان کو ساڑھے نوسوسال (دین کی) دعوت دی جب بھی پہلی نسل مرجاتی اور دوسری نسل پیدا ہوجاتی تو آپ ان کو بھی (دین کی) دعوت…
Read the full tafseer →وَقَوْمَ نُوْحٍ [ اور نوح کی قوم کو ] مِّنْ قَبْلُ ۭ [ اس سے پہلے ] اِنَّهُمْ كَانُوْا [ بیشک وہ لوگ تھے ] هُمْ اَظْلَمَ [ ہی سب سے زیادہ ظلم کرنے والے ] وَاَطْغٰى [ اور سب سے زیادہ سرکشی کرنے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
اللہ تعالیٰ ہی نے عاد اولیٰ اور ثمود کو ہلاک فرمایا اور لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کو الٹ دیا
﴿وَ اَنَّهٗۤ اَهْلَكَ عَادَا ا۟لْاُوْلٰى ۙ0050 ﴾ (اور بیشک اس نے عاد اولیٰ کو ہلاک فرمایا) ﴿ وَ ثَمُوْدَاۡ فَمَاۤ اَبْقٰى ۙ0051 ﴾ (اور ثمود کو بھی ہلاک کیا سو ان کو باقی نہ چھوڑا) ۔
ان دونوں آیتوں میں قوم عاد اور قوم ثمود کی ہلاکت اور بربادی کا ذکر فرمایا ہے قوم عاد کے لوگ کہتے تھے کہ ہم سے بڑھ کر کون طاقتور ہے اور قوم ثمود کے لوگ پہاڑوں کو تراش کر گھر بنا لیتے تھے ان دونوں قوموں کی قوت اور طاقت کچھ بھی کام نہ آئی کفر کی سزا میں ہلاک اور برباد کردیئے گئے۔ ﴿ وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ ﴾ اور ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
خصائص اوصاف سعادت وشقاوت و قانون جزاء اعمال :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افرء یت الذی تولی ....... الی ...... فاسجدوا للہ وعبدوا “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ کے عظمت و جلال کا بیان تھا اور اس ضمن میں خدا کے نیک اور برگزیدہ بندوں کا ذکر تھا تو اب بعض ایسے شقی اور بدبخت انسانوں کا ذکر ہے کہ انکی شقاوت دینا کے واسطے سامان عبرت ہے اور اسی کے ساتھ اعمال کی جزاء وسزاکا معیار بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ انسانی کوشش بہرحال اپنے ثمرات ظاہر کرکے رہتی ہے تو ارشاد فرمایا۔
بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے دین حق سے روگردانی کی اور تھوڑا سادیا اور پھر سخت دل ہوگیا۔ 1
حاشیہ (اکدی۔ کدیتہ۔ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
27:۔ ” وانہ ھلک “ عاد اولی سے قوم ہود (علیہ السلام) مراد ہے، کیونکہ وہ قوم نوح کے بعد باقی تمام سرکش قوموں سے پہلے ہلاک ہوئی۔ اسی لیے اسے الاولی کہا گیا۔ یا یہ صفت عاد ثانیہ سے ممتاز کرنے کے لیے ہے جس سے یا تو قوم ثمود مراد ہے یا عمالقہ کا قبیلہ بنو سقیم بن ہزال (روح) یعنی گذشتہ سرکش اور کافر قوموں مثلا عاد وثمود اور ان سے پہلے قوم نوح کو اللہ تعالیٰ ہی نے ہلاک کیا ہے اور ان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑا اس لیے کہ وہ بڑے بےانصاف اور حد سے تجاوز کرنے والے تھے ان کی بےانصافی یہ تھی کہ وہ خدا کی عاجز مخلوق کو خدائے قادر وقیوم کا شریک بناتے اور خدا کے سوا ان کو پکارتے تھے اور ان کے عناد و طغیان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–62
ربطہ آیات
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید ، رسالت اور معاد کو اکٹھا ہی بیان کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے اشارۃً ان لوگوں کا ذکر بھی کیا ہے جن کو ان کی سرکشی کی بناء پر ہلاک کیا گیا۔ ایمان سے گریز کرنیوالوں کو تنبیہ کی گئی ہے اور واضح کردیا گیا ہے کہ جزائے عمل لازماً واقع ہونے والی ہے اور ہر شخص کو اپنا اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوگا۔ ہر نیکی اور بدی کی جوابدہی کرنا ہوگی۔ کسی کی برائی کسی دوسرے کے ذمے نہیں لگائی جائے گی۔ اگر کسی شخص نے خود ایمان قبول نہیں کیا اور نیکی نہیں کمائی تو اسے دوسرے کی نیکی مفید نہیں ہوگی۔ انسان کی سعی کو عنقریب دیکھاجائے گا۔ ہر ایک کو پروردگار کے سامنے حاضر…
Read the full tafseer →وَقَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ 0 ۭ اِنَّہُمْ كَانُوْا ہُمْ اَظْلَمَ وَاَطْغٰى 52 ۭ
قوم
والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ،
( ق و م ) قيام
القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11]
نوح
نوح اسم نبيّ ، والنَّوْح : مصدر ناح أي : صاح بعویل، يقال : ناحت الحمامة نَوْحاً وأصل النَّوْح : اجتماع النّساء في المَنَاحَة، وهو من التّناوح . أي : التّقابل، يقال : جبلان يتناوحان، وریحان يتناوحان، وهذه الرّيح نَيْحَة تلك . أي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–52
ترکیب :۔ اعندہ : الجملۃ المفعول الثانی لرایت بمعنی اخبرت۔ ان لا تزر : ان مخفۃ وضمیر الشان، اسمھا محذوف ای انہ لا تزر والجملۃ المنفیۃ فی محل الجر علی انھا بدل مما فی صحف موسی۔
تفسیر :۔ نیکوں کا بیان کر کے ان مقابلے میں بعض بدوں کا حال بیان فرماتا ہے کہ ایسے بھی بدکار ہوتے ہیں۔ فقال : افرایت الذی تولی۔ کہ اے محمد ! تو نے ایسے لوگ بھی دیکھے کہ جو ہماری یاد سے منہ پھیرتے ہیں اور کچھ تھوڑسا سا دے کر دل کو سکیڑ لیتے ہیں کیا ان کو علم غیب ہے کہ یہ مال ان کے پاس ہمیشہ رہے گا اور ان کو کسی سے حاجت نہیں ہوگی۔ قرآن مجید میں ان طریقوں سے انسانی طبائع کے جزر و مد اور اخیر و شر میں اس کے جذبات بتلائے جاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
وَاَنَّـہٗٓ اَھْلَـکَ عَادَا نِ الْاُوْلٰی۔ وَثَمُوْدَا ْ فَمَآ اَبْقٰی۔ وَقَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ ط اِنَّھُمْ کَانُوْا ھُمْ اَظْلَمَ وَاَطْغٰی۔ (النجم : 50 تا 52)
(اور یہ کہ اسی نے ہلاک کیا عاداولیٰ کو۔ اور ثمود کو بھی، پس ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑا۔ اور ان سے پہلے قوم نوح کو بھی، بیشک وہ نہایت ظالم اور سرکش لوگ تھے۔ )
تاریخ کے حوالہ سے قریش کو تنبیہ
یہ آیتیں حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ (علیہما السلام) کے صحیفوں کی آیتیں ہوں یا ان کی حیثیت توسیعِ کلام کی ہو، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کلام دونوں صورتوں میں اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔ اور اس سے مقصود قریش کو تنبیہ کرنا ہے کہ تم نے جو آج ہمارے رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–55
فہم القرآن
ربط کلام : ” اَلشِّعْریٰ “ اور علم نجوم پر یقین رکھنے والوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ ستاروں کی گردش کی وجہ سے کائنات میں تبدیلیاں ناگزیر ہوجاتی ہے اور اسی وجہ سے ہلاکتیں رونما ہوتی ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سورج، چاند اور ستاروں کو ایک محدود حد تک موسم اور فضا میں تبدیلی لانے کا ذریعہ بنایا ہے لیکن اس کا یہ معنٰی نہیں کہ سورج، چاند اور ستارے ازخود اپنے وجود میں یہ طاقت رکھتے ہیں۔ مسلمان کا یہ عقیدہ ہے اور ہونا چاہیے کہ ہر چیز میں جو قوت اور تاثیر ہے وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہے۔ اگر ” اللہ “ اس قوت کو ضبط کرلے تو اس چیز میں یہ طاقت نہیں کہ وہ اثر انداز ہو سکے۔ جس کی…
Read the full tafseer →آیت 52: وَقَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ (اور ان سے پہلے قوم نوح کو) یعنی قوم نوح کو عاد وثمود سے پہلے ہلاک کیا۔ اِنَّهُمْ كَانُوْا هُمْ اَظْلَمَ وَاَطْغٰى (بیشک وہ سب سے زیادہ ظالم اور شریر تھے) عاد وثمود سے بڑھ کر، کیونکہ وہ نوح (علیہ السلام) کو اتنا مارتے یہاں تک کہ ان میں حرکت نہ رہتی۔ اور ان سے دوسروں کو نفرت دلاتے یہاں تک کہ اپنے بچوں کو ان کی بات سننے سے ڈراتے۔
Read the full tafseer →51 ۔” وثمود “ اور یہ صالح (علیہ السلام) کی قوم ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو چیخ کے ذریعے ہلاک کردیا۔ ” فما ابقیٰ “ ان میں سے کسی کو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–55
42۔ 55۔ تیرے رب کی طرف پہنچتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اور انسان کی تمام ضرورت کی چیزوں کو جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا یہ سب تو ان منکرین حشر کی آنکھوں کے سامنے ہے اب جبکہ دنیا میں ہر صاحب عقل مثلاً مکان کا بنانا باغ کا لگانا اور اس قسم کے جو کام کرتا ہے وہ کسی نتیجہ کو پیش نظر رکھ کر کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ کی شان اور حکمت سے یہ بعید ہے کہ اس نے دنیا کے اتنے بڑے کارخانہ کو بغیر کسی نتیجہ کے یوں ہی بےفائدہ پیدا کیا ہے۔ نہیں نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کا سارا کارخانہ اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ دنیا بھر کے نیک و بد کے حساب اور جزا و سزا کے لئے تمام مخلوق کو ایک دن اللہ تعالیٰ کے رو برو…
Read the full tafseer →(وَقَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا هُمْ اَظْلَمَ وَاَطْغٰى) اور ان سے پہلے نوح کی قوم کو بھی، کچھ شک نہیں کہ وہ لوگ نہایت ظالم اور بڑے ہی سرکش تھے۔ حضرت نوح کی قوم ان قوموں سے زیادہ ظالم اور سرکش تھی پس اللہ نے ان کو غرق کر ڈالا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–62
مخنث بھی مذکر یا مونث سے ہوگا
قول باری ہے (وانہ خلق الزوجین الذکر والا نثیٰ من نطفۃ اذا تمنی اور یہ کہ اسی نے نر اور مادہ دونوں جنسوں کو نطفہ سے پیدا کیا ہے جب وہ ٹپکایا جاتا ہے) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری (الذکر والا نثیٰ ) چونکہ اسم جنس ہے اس لئے وہ سب پر مشتمل ہے۔
یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہر فرد یا تو مذکر ہوگا یا مونث ۔ نیز یہ کہ مخنث اور وہ شخص جس کی تذکیر و تانیث کا معاملہ ہمارے لئے مشتبہ ہو (یعنی خنثیٰ مشکل) وہ لازمی طور پر مذکر ومونث میں سے کسی ایک سے ہوگا۔ امام محمد الحسن کا قول ہے کہ خنثیٰ مشکل صرف اس وقت تک خنثیٰ مشکل ہوتا ہے جب تک وہ بچہ ہوتا ہے ۔ لیکن جب وہ بالغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
[ 64] ظلم اور سرکشی کا نتیجہ و انجام ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللّٰہ :
چناچہ ماضی کی ان مختلف قوموں کی ہلاکت و تباہی کے ذکر وبیان کے بعد ان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہ سب ہی لوگ بڑے ظالم اور سرکش تھے، سو اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ ظلم اور سرکشی کا نتیجہ و انجام تباہی و ہلاکت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ چناچہ اس حقیقت کی توضیح کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور قوم نوح کو بھی اس سے پہلے۔ یعنی ان کو بھی قوم عاد وثمود سے پہلے ہلاک کیا گیا۔ کیونکہ انہوں نے بھی اسی جرم ظلم و سرکشی کا ارتکاب کیا تھا بلکہ اس ظلم و انکار کی بنیاد دراصل انہوں نے ہی ڈالی تھی اسلئے ان کا صفایا بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–62
یہ سب قدرت والے اللہ کی باتیں ہیں
تشریح : کون بیوقوف ہوگا جو اللہ کی اتنی طاقت قدرت اور عظمت کو دیکھ کر بھی اس کے موجود ہونے اور واحد ہونے پر یقین نہ کرے گا ؟ پہلے بھی بڑے بیوقوف اس طرح کے گزر چکے ہیں موجودہ زمانے میں بھی ہیں اور بعد کے زمانے میں بھی ہوتے رہیں گے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اس قدر ترقی کر گئے کہ چاند تک پہنچ جانے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر کہتے یہ ہیں کہ ہمیں اللہ کہیں دکھائی نہیں دیا۔ حالانکہ غور کریں اپنی پیدائش پر کس حیرت انگیز طریقہ سے انسان اور تمام مخلوقات کے جوڑے بنائے گئے پھر ان کے آپس کے ملاپ سے دنیا بھرتی چلی گئی۔
آبادی کا توازن کائنات کا نظام اور شعریٰ ستارہ جس کی کفار پوجا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
آیات 33 تا 62۔
اسرار ومعارف۔
ایسے لوگ جسے آپ دیکھا جس نے دین حق سے منہ پھیرلیا اور کچھ تھوڑا بہت مال خرچ کرکے پھر اس سے بھی بہت سختی سے رک گیا اس طرح مال دے کر عذاب سے بچ جائے گا
عجیب رسم کہ تھوڑا سامال عذاب سے بچ جائے گا۔
اہل مکہ میں سے ایک شخص ایمان لایا تو کسی دوسرے مشرک نے ملامت کی کہا عذاب سے ڈرتا ہوں اس نے کہا مجھے کچھ دوتو تمہارا عذاب میں اپنے سرلیتا ہوں اور تم اسلام چھوڑ دو ۔ اس معاملے میں بھی اس نے تھوڑا بہت دیایوں سمجھ بیٹھا کہ اب میں فارغ ہوں آج کے دور میں لوگوں نے اسلام کا دعوی کرکے اس رسم کو اپنارکھا ہے کہ عملی زندگی میں فرائض چھوڑ دیے سودلے کر کھاتے ہیں اور کبھی کوئی دیگ پکادی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
ف 6 یعنی پتھروں کی بارش جیسا کہ دوسری آیات میں مذکور ہے۔ ممکن ہے بحر مردار کا پانی بھی مراد ہو جس میں یہ بستیاں ڈوب گئیں اور وہ ان پر چھا گیا۔ واضح رہے کہ ” غشی “ کے لفظی معنی ” چھا جانا “ ہیں۔
Read the full tafseer →(53:52) (13) وقوم نوح من قبل۔ اس آیت کا عطف آیت مذکورہ بالا وانہ اہلک عاد ان لاولی۔ پر ہے ای وانہ من قبل اہلک قوم نوح : اور یہ کہ بیشک اس نے اس سے قبل قوم نوح کو ہلاک کیا۔
اس آیت میں قوم نوح کی ہلاکت کی کیفیت نہیں دی گئی۔ لیکن اور جگہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے وقوم نوح لما کذبوا لارسل اغرقناہم (25:37) اور ہم نے قوم نوح (علیہ السلام) کو (بھی ہلاک کیا) جب انہوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔
من قبل : ای من قبل ذلک اس سے پیشتر، قوم عاد وثمود کی ہلاکت سے قبل۔
کانوا ہم : کانوا میں ضمیر افعل التفضیل کے صیغے ہیں۔ بمعنی زیادہ ظالم، زیادہ سرکش، زیادہ حد سے بڑھ جانے والے۔ زیادہ نافرمان۔ یعنی وہ (قوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 62
اکدی وہ رک گیا۔ لم ینبئا مطلع نہیں کیا گیا۔ وزراخری دو سے کا بوجھ۔ سعی اس نے کوشش کی۔ جدوجہ دیک۔ سوف یری بہت جلد وہ دیکھ لے گا۔ اضحک اس نے ہنسایا۔ ابکی اس نے رلایا۔ اقنی مال دار کیا۔ الموتفکۃ اوندھی کی گئیں (بستیاں) عشی اوپر سے گرا تتماری تو شک کرے گا۔ ۔ ازقت الازقۃ آنے والی گھڑی قریب آگئی۔ سامدون کھیلنے والے اعبدوا تم بندگی کرو۔
تشریح : آیت نمبر 33 تا 62
سورۃ النجم کی یہ اٹھارہ آیات جن پر اس سورت کو ختم کیا گیا ہے ان کا خلاصہ یہ ہے کہ بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جو حق و صداقت کی روشنی کو دیکھ کر اس کی طرف آن ی کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب ان پر دنیا کے مفادات کا غلبہ ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
(ف 5) چند پچھلی قوموں کے عذاب میں پکڑے جانے اور ہلاک ہوجانے کا ذکر فرما کر مشرکین کو یہ تنبیہ فرمائی کہ اگر یہ لوگ اپنی سرکشی اور اللہ کے رسول کی مخالفت سے باز نہ آئیں تو ان ہی قوموں کا سا انجام ان کا ہوگا، ان قوموں کے قصے تفصیل سے اوپر گزچ کے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
[21] یہاں عاد کو عاد اولیٰ سے تعبیر کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ثمود انہی کے بقایا میں سے تھے اور وہ عاد ثانی کے نام سے مشہور تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–56
ف 1: اللہ تعالیٰ کا قانون میکافات یہ ہے ۔ کہ وہ پہلے تو اتمام حجت کے لئے انبیاء بھیجتا ہے ۔ خوارق اور معجزات دکھاتا ہے ۔ کتابیں نازل کرتا ہے ۔ اور پھر جب سرکش اور نادان انسان ان سب چیزوں سے آنکھیں بند کرلیتا ہے ۔ اور گمراہی کو ہدایت پر ترجیح دیتا ہے ۔ تو اس کا غصہ بھڑکتا ہے ۔ اور غیرت میں تحریک ہوتی ہے ۔ اس وقت وہ ان لوگوں کو زندگی کے تنمام حقوق سے محروم کردیتا ہے ۔ چناچہ تعلیم قوم عاد نے جب اللہ کے پیغام کو ٹھکرادیا ۔ تو ہلاکت کے گھاٹ اتار دیئے گئے ۔ قوم ثمود میں سے کوئی نفس باقی نہ رہا ۔ نوح کی قوم پرچادر آب اڑھا دی گئی ۔ سدومیوں کی بستیاں الٹ دی گئیں ۔ اور اسی طرح بتادیا گیا ۔ کہ اللہ کی…
Read the full tafseer →(52) اور عادثمود سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم کو بھی ہلاک کیا اس میں شک نہیں کہ وہ بڑے ہی ظالم اور بہت زیادہ سرکش تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–56
ف 4۔ یعنی ایسا ضرور ہونے والا ہے۔
Read the full tafseer →اس سے پہلے قوم نوح کو ہلاک کیا کہ وہ بڑے سرکش لوگ تھے
52 ؎ سیدنا آدم (علیہ السلام) کے بعد نوح (علیہ السلام) پہلے و رسول ہیں جن کو رسالت سے نوازا گیا۔ نوح (علیہ السلام) کا ذکر قرآن کریم کی تقریباً 28 سورتوں میں آیا ہے یعنی سورة آل عمران ‘ سورة النساء ‘ سورة الانعام ‘ سورة الاعراف ‘ سورة التوبہ ‘ سورة یونس ‘ سورة ہود ‘ سورة ابراہیم ‘ سورة الاسراء ‘ سورة مریم ‘ سورة الانبیاء ‘ سورة الحج ‘ سورة المومنون ‘ سورة الفرقان ‘ سورة الشعراء ‘ سورة العنکبوت ‘ سورة الاحزاب ‘ سورة الصافات ‘ سورة ص ‘ سورة غافر ‘ سورة الشوریٰ ‘ سورة ق ‘ سورة الذاریات ‘ سورة النجم ‘ سورة القمر ‘ سورة الحدید ‘ سورة التحریم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَادًا الْأُولَىٰ وَثَمُودَ فَمَا أَبْقَىٰ (and that He has destroyed the earlier ` Ad, and Thamud, so spared none,...53:50-51) The people of ` Ad were among the strongest, fiercest people and the most rebellious against Allah. There are two branches of this people: one of them is known as 'ula [ the first ] and ` ukhra [ the latter or the second ]. Holy Prophet Hud (علیہ السلام) was sent to ` Ad, but they disobeyed him, as a result Allah annihilated the entire nation by a violently furious wind. This is the first nation that was destroyed in punishment after the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
45 'Ad Ula signifies the ancient 'Ad to whom the Prophet Hud (peace be upon him) had been appointed a Prophet. When those people were inflicted with the torment in consequence of denying the Prophet Hud, the believers only escaped the punishment. Their descendants are called `Ad Ukhra, or the latter 'Ad, in history.
Read the full tafseer →