Qaaf 50:28

Qaaf · from ayah 28

50:28

قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَقَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ ۟قَالَ لَا تَخۡتَصِمُوۡا لَدَىَّ وَقَدۡ قَدَّمۡتُ اِلَيۡكُمۡ بِالۡوَعِيۡدِ

(خدا) فرمائے گا کہ ہمارے حضور میں ردوکد نہ کرو۔ ہم تمہارے پاس پہلے ہی (عذاب کی) وعید بھیج چکے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Allah] will say, "Do not dispute before Me, while I had already presented to you the warning.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Qaaf

All translations of 50:28

جواب میں ارشاد ہوا "میرے حضور جھگڑا نہ کرو، میں تم کو پہلے ہی انجام بد سے خبردار کر چکا تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(خدا) فرمائے گا کہ ہمارے حضور میں ردوکد نہ کرو۔ ہم تمہارے پاس پہلے ہی (عذاب کی) وعید بھیج چکے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

حق تعالیٰ فرمائے گا بس میرے سامنے جھگڑنے کی بات مت کرو میں تو پہلے ہی تمہاری طرف وعید (وعدہٴ عذاب) بھیج چکا تھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ تعالیٰ کہے گا کہ : تم میرے سامنے جھگڑے نہ کرو، اور میں تو پہلے ہی تمہارے پاس عذاب کی دھمکی بھیج چکا تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

فرمائے گا میرے پاس نہ جھگڑو میں تمہیں پہلے ہی عذاب کا ڈر سنا چکا تھا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ارشاد ہوگا: تم لوگ میرے حضور جھگڑا مَت کرو حالانکہ میں تمہاری طرف پہلے ہی (عذاب کی) وعید بھیج چکا ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

فرمایا میرے پاس جھگڑا مت کرو، حالانکہ میں نے تو تمہاری طرف ڈرانے کا پیغام پہلے بھیج دیا تھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اللہ تعالیٰ فرمائے گا) میرے ہاں جھگڑا مت کرو۔ میں تمہیں پہلے ہی اس وعید کی خبر دے چکا تھا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ارشاد ہوگا، اب میرے سامنے جھگڑا نہ کرو، میں نے پہلے ہی تمہیں اپنی وعید سے آگاہ کردیا تھا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ارشاد ہوگا کہ جھگڑا مت کرو میرے حضور یقینا میں نے تم کو پہلے ہی (صاف وصریح طور پر) خبردار کردیا تھا اس انجام بد سے

— مولانا اسحاق مدنی

ارشاد ہوگا کہ میرے سامنے جھگڑو مت اور میں تو پہلے ہی تمہارے پاس بھیج چکا تھا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ فرمائے گا :) اب میرے سامنے جھگڑ 1 مت کرو جبکہ میں پہلے ہی تمہاری طرف وعید بھیج چکا ہوں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ کہے گا کہ ”ہمارے ساتھ جھگڑا نہ کرو ہم تمہارے پاس پہلے ہی عذاب کی خبر بھیج چکے تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(It was said): “Do not remonstrate in My presence. I had warned you.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He (Allah) will say, :Do not quarrel before Me, while I had sent to you My threat well in advance.

— Muhammad Taqi Usmani

He (Allah) will say, :Do not quarrel before Me, while I had sent to you My threat well in advance.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(Allah) will say: "Dispute not in front of Me, I had already in advance sent you the threat."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He saith: Contend not in My presence, when I had already proffered unto you the warning.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Allah] will say, "Do not dispute before Me, while I had already presented to you the warning.

— Saheeh International

The Lord will say, "Do not argue in My presence; I had certainly sent you a warning.

— Muhammad Sarwar

He will say: Do not quarrel in My presence, and indeed I gave you the threatening beforehand:

— Muhammad Habib Shakir

Allah will say: wrangle not in My presence, and had already proferred Unto you the threat.

— Abdul Majid Daryabadi

He will say: "Dispute not with each other in My Presence: I had already in advance sent you Warning.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 50:28

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 23–29

ہمارے اعمال کے گواہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہو رہا ہے کہ جو فرشتہ ابن آدم کے اعمال پر مقرر ہے وہ اس کے اعمال کی شہادت دے گا اور کہے گا کہ یہ ہے میرے پاس تفصیل بلا کم وکاست حاضر ہے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں یہ اس فرشتے کا کلام ہوگا جسے سائق کہا گیا ہے جو اس کو محشر میں لے آیا تھا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں میرے نزدیک مختار قول یہ ہے کہ وہ اس فرشتے پر بھی اور گواہی دینے والے فرشتے دونوں پہ مشتمل ہے اب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے عدل و انصاف سے کرے گا۔ (القیا) تثنیہ کا صیغہ ہے بعض نحوی کہتے ہیں کہ بعض عرب واحد کو (تثنیہ) کردیا کرتے ہیں جیسے کہ حجاج کا مقولہ مشہور ہے کہ وہ اپنے جلاد سے کہتا تھا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة قٓ 35 یعنی تم دونوں ہی کو میں نے متنبہ کردیا تھا کہ تم میں سے جو بہکائے گا وہ کیا سزا پائے گا اور جو بہکے گا اسے کیا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ میری اس تنبیہ کے باوجود جب تم دونوں اپنے اپنے حصے کا جرم کرنے سے باز نہ آئے تو اب جھگڑا کرنے سے حاصل کیا ہے۔ بہلنے والے کو بہکنے کی اور بہکانے والے کو بہکانے کی سزا تو اب لازماً ملنی ہی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَيَّ وَقَدْ قَدَّمْتُ اِلَيْكُمْ بالْوَعِيْدِ ،”یعنی میرے سامنے جھگڑا نہ کرو، میں تو پہلے ہی انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعہ تمہارے فضول عذر کا جواب دے چکا ہوں اور آسمانی کتابوں کے ذریعہ دلائل واضح کرچکا ہوں، یہ فضول عذر تراشی اور جھگڑا آج نہ چلے گا“۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 27–28

قال قرینہ ربنا مآ اطغیتہ ولکن کان فی ضلل بعیدہ قال لا تخمتصموا لدی وقد قدمت الیکم بالوعید (28-27) یہ جہنم کے باڑے میں، داخل ہونے کے بعد کا ماجرا بیان ہو رہا ہے کہ اس میں داخل ہونے کے بعد ہر ایک اپنی گمراہی کا الزام اس شیطان پر تھونپا چاہے گا جو سنت الٰہی کے مطابق ان لوگوں پر مسلط کردیا جاتا ہے جو اللہ کی یاد سے غافل رہتے ہیں شیطان جب دیکھے گا کہ اس کو مجرم بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تو وہ آگے بڑھ کر اپنی صفائی پیش کرے گا کہ ربنا ما اطغیتہ ولکن کان فی ضلل بعید (اے ہمارے رب، میں نے اس کو طغاین میں نہیں مبتلا کیا بلکہ وہ خود ہی گمراہی میں اتنی دور نکل گیا تھا کہ وہاں سے اس کے لئے بازگشت کا امکان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

28۔ 1 یعنی اللہ تعالیٰ کافروں اور ان کے ہم نشین شیطانوں کو کہے گا کہ یہاں موقف حساب یا عدالت انصاف میں لڑنے جھگڑنے کی ضرورت نہیں نہ اس کا کوئی فائدہ ہی ہے، میں نے پہلے ہی رسولوں اور کتابوں کے ذریعے سے وعیدوں سے تم کو آگاہ کردیا تھا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 28–29

11: یعنی جو بات اس دھمکی میں کہی گئی تھی کہ کفر اختیار کرنے والا اور کفر کی ترغیب دینے والا دونوں جہنم کے مستحق ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 27–29

اس مقام پر اس شخص کے ساتھ بھی خوفزدہ ہوجاتے ہیں اور کانپ اٹھتے ہیں اور جلدی سے اپنے بارے میں کسی الزام کے سائے کو رد کرتے ہیں ، محض اس بنا پر کہ یہ اس جہنمی کا ساتھی تھا۔ قال قرینہ ۔۔۔۔۔ ضلل بعید (50 : 27) ” اس کے ساتھ نے عرض کیا خدا وندا ، میں نے اس کو سرکش نہیں بنایا بلکہ یہ خود ہی پرلے درجے کی گمراہی میں پڑا ہوا تھا “۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ساتھ وہ نہ ہو جس کا ذکر پہلے ہوا۔ جس نے اس مجرم کے کاغذات پیش کئے ۔ بلکہ اس سے مراد وہ شیطان ہو وج اس کے ساتھ اسے گمراہ کرنے کے لئے لگا ہوا تھا۔ اور اب وہ یہاں اپنے آپ کو بری الذمہ کرنے میں لگا ہوا ہے اور پورے قرآن مجید میں ایسے مشاہد اور مکالمے موجود ہیں جن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

ف 1 یعنی بک بک مت کرو۔ دنیا میں سب کو نیک و بد سے آگاہ کردیا گیا تھا۔ اب ہر ایک کو اس کے جرم کے موافق سزا ملے گی۔ جو گمراہ ہوا اور جس نے اغواء کیا سب اپنی حرکتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 28{ قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَقَدْ قَدَّمْتُ اِلَـیْکُمْ بِالْوَعِیْدِ۔ } ”اللہ فرمائے گا : اب میرے سامنے جھگڑ 1 مت کرو ‘ جبکہ میں پہلے ہی تمہاری طرف وعید بھیج چکا ہوں۔“ کہ میں نے تو جن و انس پر ’ ’ انذار“ کے حوالے سے اتمامِ حجت کردیا تھا۔ سورة الاحقاف میں ان جنات کے بارے میں ہم پڑھ آئے ہیں جو حضور ﷺ سے قرآن سن کر ایمان لائے اور پھر داعیانِ حق بن کر اپنی قوم کو خبردار کرنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ گویا قرآن کا پیغام اور انذار جنات تک بھی پہنچا دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 27–28

33 اس ساتھی سے مراد غالباً اس کا وہ شیطان ساتھی ہے جو دنیا میں اس کے ساتھ رہتا تھا یا اس پر مسلط کردیا گیا تھا۔ وہ بارگاہ الٰہی میں اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے عرض کرے گا کہ مجھ میں ایسی کوئی طاقت نہ تھی کہ میں اسے تیری اور تیرے رسول کی اطاعت سے سرکش بناسکتا۔ ہوا صرف یہ تھا کہ میں نے اس کے دل میں وسوسہ ڈالا تو یہ پہلے ہی مجرم ضمیر تھا۔ اس نے فوراً میری آواز پر لبیک کہی۔ میرا وسوسہ گویا اس کے اپنے دل کی آواز تھی۔ لہذا وہ گمراہی کے کاموں میں خود ہی آگے بڑھتا چلا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

22۔ (کہ جو کوئی بھی کفر کرے گا، خواہ ابتداء خواہ کسی کے کہنے سننے سے، سب کی سزا جہنم ہی ہے) یہ اہل دوزخ سے قطع حجت کے لیے کہا جائے گا یعنی اب تم عذر ہی کیا کرسکتے ہو، یہ سب کچھ تو تمہیں تمہاری زندگی میں اچھی طرح بتا ہی دیا گیا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 18–29

انسان کا ہر قول رکارڈ کیا جاتا ہے : مایلفظ من قول الالدیہ رقیب عتید یعنی انسان کوئی کلمہ زبان سے نہیں نکالتا جس کو یہ نگران فرشتہ محفوظ نہ کرلیتا ہو، حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ اور قتادہ رحمتہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ فرشتے اس کا ایک ایک لفظ لکھتے ہیں خواہ اس میں کوئی گناہ یا ثواب ہو یا نہ ہو، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ صرف وہ کلمات لکھتے ہیں کہ جن میں کوئی ثواب یا عقاب کی بات ہو۔ علی بن ابی طلحہ نے ایک روایت ابن عباس ہی سے ایسی نقل فرمائی جس میں یہ دونوں قول جمع ہوجاتے ہیں، اس روایت میں یہ ہے کہ پہلے تو ہر کلمہ لکھا جاتا ہے خواہ اس میں کوئی ثواب و عقاب کی بات ہو یا نہ ہو، مگر ہفتہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال لا تختصموا لدی وقد قدمت الیکم بالوعید ارشاد ہوگا میرے سامنے جھگڑے کی باتیں نہ کرو ‘ میں پہلے ہی تمہارے پاس وعید بھیج چکا تھا۔ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ : یعنی اب مقام حساب میں جھگڑا نہ کرو ‘ اب اس سے کوئی فائدہ نہیں۔ وَ قَدْ قَدَّمْتُ.... یعنی پہلے ہی میں نے اپنی کتابوں میں اور پیغمبروں کی زبانی نافرمانوں کو وعید عذاب دے دی تھی ‘ اب تمہارے پاس کوئی عذر و حجت باقی نہیں۔ یہ جھگڑا کرنے کی ممانعت کی علّت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 28–29

(28۔ 29) اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے کہ میرے سامنے جھگڑے والی باتیں مت کرو میں تو پہلے ہی سے کتاب میں بذریعہ رسول تمہیں اس دن سے ڈرا چکا تھا میرے یہاں ان جھوٹی باتوں سے یہ وعید نہیں بدلی جائے گی یا یہ کہ آج کے دن میں اپنے بندوں پر جو فیصلہ کرچکا ہوں اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی یا یہ کہ میرے سامنے بار بار بات نہیں ہوگی اور بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہوں کہ بغیر جرم کے ان کی گرفت کروں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(قال لاتختصموا لدی و قد قدمت الیکم بالوعید : اللہ تعالیٰ ان کا جھگڑا سن کر فرمائے گا، اب یہاں میرے پاس مت جھگڑو، اس جھگڑے سے تمہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا، کیونکہ میں نے تو تمہیں پہلے ہی رسول بھیج کر نافرمانی کی سزا سے آگاہ کردیا تھا مگر تم نے پروا نہیں کی، اب اپنے کفر و عناد کی سزا بھگتو۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 23–29

قرین سے مراد وہ فرشتہ ہے جس کو اس پر مقرر کیا گیا جاتا ہے یہ حضرت حسن بصری قتادہ اور ضحاک کا قول ہے یعنی اس کے اعمال جو لکھے گئے ہیں وہ میرے پاس محفوظ اور تیار ہیں مجاہد نے کہا وہ کہے گا یہ وہ چیز ہے جس کی تو نے مجھے بنی آدم کے متعلق ذمہ داری سونپی تھی میں اس انسان اور اس کے نامہ اعمال کو حاضر کیا ہے ایک قول یہ کیا گیا معنی ہے میرے پاس جو عذاب ہے حاضر ہے مجاہد نے قول بھی کیا ہے اس کے قرین سے مرا وہ شیطان ہے جو اس پر مسلط کیا گیا ابن زیدنے کہا ابن وہب نے اسے روایت نقل کی ہے مراد انسانوں میں سے اس کا دوست ہے اللہ تعالیٰ اس کے ساتھی سے فرمائے گا خلیل اور اخفش نے کہا یہ عربوں کا فصیح کلام ہے کہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

:۔ عبد الرزاق وابن المنذر (رح) نے منصور (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی انسان نہیں ہے مگر اس کے ساتھ اس کا ساتھی خیانت میں سے مقرر کیا گیا ہے۔ صحابہ نے پوچھا اور آپ بھی (ساتھی کے بغیر) نہیں ہیں فرمایا اور میں بھی (ساتھی کے بغیر) نہیں ہوں مگر اللہ تعالیٰ نے اس پر میری مدد فرمائی اور وہ مسلمان ہوگیا اب وہ مجھے نیکی کے سوا کوئی حکم نہیں دیتا۔ 25:۔ ابن جریر وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' لاتختصموا '' (ارشاد ہوگا میرے سامنے جھگڑے کی باتیں نہ کرو) یعنی وہ بغیر عذر کے معذرت پیش کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر ان کی حجت کو باطل کردے گا اور ان…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالَ [ وہ (اللہ ) کہے گا ] لَا تَخْتَصِمُوْا [ تم لوگ جھگڑا مت کرو ] لَدَيَّ [ میرے پاس ] وَ [ درآں حالیکہ ] قَدْ قَدَّمْتُ اِلَيْكُمْ [ میں آگے بھیج چکا تم لوگوں کی طرف ] بِالْوَعِيْدِ [ وعدہ (عذاب ) کو ] آیت ۔ 28 ۔ میں قَدْ قَدَّمْتُ اِلَيْكُمْ بِالْوَعِيْدِ کا مطلب یہ ہے کہ میں نے متنبہ کردیا تھا کہ جو بہکائے گا وہ بھی سزا پائے گا اور جو بہکے گا اسے بھی خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔ میری اس تنبیہ کے باوجود جب تم دونوں اپنے اپنے حصے کا جرم کرنے سے باز نہ آئے تو اب جھگڑا کرنے سے کیا حاصل ہے۔ بہکنے والے کو بہکنے کی اور بہکانے والے کو بہکانے کی سزا تو اب لازما ملنی ہی ہے (تفہیم القرآن )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا ﴿ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَيَّ ﴾ (میرے سامنے جھگڑا نہ کرو) ﴿ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَيْكُمْ بالْوَعِيْدِ 0028﴾ (اور میں نے تو پہلے ہی ہر کافر اور کافر گر کے بارے میں وعید بھیج دی تھی کہ یہ سب دوزخ کے مستحق ہیں، ابلیس کو خطاب کر کے اعلان کردیا تھا ﴿لَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَ مِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ اَجْمَعِيْنَ 0085﴾ (میں ضرور ضرور تجھ سے اور تیرا اتباع کرنے والے سے دوزخ کو بھر دوں گا) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–29

کمال قدرت خداوندی از روئے علم واحاطہ باحوال انسانی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولقد خلقنا الانسان ...... الی ..... وما انا بظلام للعبید “۔ (ربط) ما قبل آیات میں منکرین حشر ونشر کا ذکر تھا اسی کے ساتھ پہلی امتوں کی عبرت ناک تاریخ دہرائی گئی تھی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کی تو اس کے نتیجے میں مختلف انواع و اقسام کے عذاب ان پر نازل ہوئے اور ان کو ہلاک کردیا گیا تو اسی طرح حضور اکرم ﷺ کی تکذیب ومخالفت کرنے والی قوم کفار قریش کو عذاب خداوندی سے بےفکر نہ ہونا چاہئے سزا دنیا چوں کہ دو چیزوں پر موقوف ہے ایک علم پر کہ مجرم کے جرم کا علم ہو دوسرے قدرت پر کہ مجرم کو سزا دینے پر قادر ہو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 28–29

15:۔ ” قال لا تختصموا حکم ہوگا اب مت جھگڑو، اب جھگڑنے سے کوئی فائدہ نہیں، میں تم سب کیلئے دنیا ہی میں عذاب کا فیصلہ کرچکا ہوں۔ اس سے لاملئن جہنم منک وممن تبعک منہم اجمعین (سورۃ ص) مراد ہے (خازن، روح) ۔ اس لیے تم سب تابع و متبوع جہنم میں جاؤ گے۔ ” مایبدل القول لدی۔ الایۃ “ میرے یہاں فیصلے تبدیل نہیں ہوا کرتے۔ میں فیصلہ کرچکا ہوں کہ ابلیس کی پیروی کرنے والوں کو جہنم کا ایندھن بناؤں گا اور میں بندوں پر ظلم بھی نہیں کرتا اور کسی کو ناکردہ گناہ کی سزا نہیں دیتا ہوں۔ حضرت شیخ (رح) تعالیٰ فرماتے ہیں ” القول “ میں الف لام عہد خارجی کے لیے ہے اور اس سے ” القیا فی جہنم الخ “ والا قول مراد ہے یعنی میں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 23–29

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کے دلائل ذکر کیے اور اس کا انکار کرنے والوں کا رد کیا ۔ پھر انسان کی تخلیق اور اس کی مخفی باتوں تک جاننے کا ذکر کیا ۔ نیز فرمایا کہ ہم تو انسان کی رگ گردن سے بھی اس کے زیادہ قریب ہیں اللہ تعالیٰ نے انسان کے تمام اعمال کی حفاظت کے لیے ہر شخص کے دائیں بائیں دو فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو انسان کا ہر قول و فعل نوٹ کر رہے ہیں ۔ آگے یقینا جزائے عمل پیش آنے والی ہے اور اس کا زیادہ تر انحصار فرشتوں کی انہی رپورٹوں پر ہوگا ۔ پھر فرمایا جب انسان کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو اس پر موت کی غشی طاری ہوجاتی ہے اور یہ وہی چیز ہے جس کو انسان عمر بھر ٹالنے کی کوشش کرتا رہتا ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَيَّ وَقَدْ قَدَّمْتُ اِلَيْكُمْ بِالْوَعِيْدِ۝ 28 لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 20–29

ترکیب : مالدی ان جعلت ماموصوفہ فعتید صف تھا وان جعلت موصولۃ فبدلھا اوخبر بعد خبر او خبر محذوف الذی جعل مبتداء متضمن معنی الشرط فالقیاہ خبرہ او بدل من کل کفار۔ تفسیر : علامہ محی الدین ابن العربی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ دائیں طرف بیٹھنے والے سے مراد اس کی وہ قوت ہے جو اس کو نیک اعمال پر آمادہ کرتی ہے اور بائیں طرف والے سے مراد وہ قوت جو شر کی طرف بر انگیختہ کرتی ہے۔ یہ خدا کی طرف کے دو موکل ہیں جو ہر روز ملتے ہیں، یعنی ان کا مقابلہ رہتا ہے اور ان دونوں قوتوں سے جو جو خطرات اس کے دل میں پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ ان کو ہم جانتے ہیں، کیونکہ اس کی رگ گردن تو اس کے دل سے دور ہے اور ہمارا اس کے دل سے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 27–28

قَالَ قَرِیْنُہٗ رَبَّنَا مَـآ اَطْغَیْتُہٗ وَلٰـکِنْ کَانَ فِیْ ضَلٰـلٍ م بَعِیْدٍ ۔ قَالَ لاَ تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَقَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْکُمْ بِالْوَعِیْدِ ۔ (قٓ: 27، 28) (اس کا ساتھی کہے گا اے ہمارے رب ! میں نے اس کو سرکش نہیں بنایا، بلکہ یہ خود پرلے درجے کی گمراہی میں پڑا ہوا تھا۔ ارشاد ہوگا، اب میرے سامنے جھگڑا نہ کرو، میں نے پہلے ہی تمہیں اپنی وعید سے آگاہ کردیا تھا۔ ) ہر مجرم کا اپنی گمراہی کا شیطان پر الزام اور شیطان کی تردید قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے دین سے سرکشی اختیار کرتا ہے اور بڑھتے بڑھتے بیزاری تک پہنچ جاتا ہے اور کوئی نصیحت اس پر اثر نہیں کرتی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 27–30

فہم القرآن ربط کلام : جہنمی کو جہنم میں داخل ہونے کا حکم ہونے کے ساتھ ہی اس کا ساتھی اس سے برأت کا اعلان کردے گا۔ جونہی جہنمی کو جہنم میں داخل ہونے کا حکم ہوگا تو خوف کے مارے اس کا ساتھی پکار اٹھے گا کہ اے ہمارے رب ! میں نے اسے گمراہ نہیں کیا بلکہ یہ خود ہی صراط مستقیم سے بھٹک گیا تھا۔ اس کے جواب میں رب ذوالجلال فرمائے گا کہ میرے حضور بحث نہ کرو کیونکہ میں نے پہلے ہی تمہیں جہنم کے بارے میں انتباہ کردیا تھا۔ اب جہنم میں داخل ہوجاؤ اور یاد رکھو ! کہ میرا فرمان تبدیل نہیں ہوتا اور نہ ہی میں اپنے بندوں پر زیاتی کرنے والا ہوں۔ جہنمی کے ساتھی سے مراد اس کے برے ساتھی اور رشتہ دار ہیں جن میں سب سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

یہ دارالجزاء ہے جھگڑے کی جگہ نہیں : آیت 28 : قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ (ارشاد ہوگا میرے سامنے جھگڑے کی باتیں مت کرو) یہ جملہ مستانفہ ہے جیسا کہ قال قرینہ ہے۔ گویا کسی کہنے والے نے کہا۔ اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا۔ تو جواب دیا گیا۔ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لا تختصموا لدی۔ وَقَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْکُمْ بِالْوَعِیْدِ (میں پہلے ہی تمہارے پاس وعید بھیج چکا تھا) یہاں موقف حساب اور دارالجزاء میں مت جھگڑو۔ تمہارے جھگڑنے کا فائدہ نہیں اور نہ کچھ حاصل ہے۔ میں تمہیں سرکشی کے متعلق اپنی کتابوں میں عذاب کی وعید کرچکا۔ اور میرے رسول اپنی زبانوں سے وعید سنا چکے۔ اپنے اوپر کوئی عذر میں نے باقی نہیں رہنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

27 ۔” قال قرینہ “ یعنی وہ شیطان جو اس کافر کے مقدر میں ہے۔ ” ربنا ما اطغیتہ “ نہ میں نے اس کو گمراہ کیا اور نہ میں نے اس کو بہکایا۔ ” ولکن کان فی ضلال بعید “ حق سے پس، اس کا شیطان اس سے برات ظاہر کرے گا۔ ابن عباس ؓ ، سعید بن جبیر اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ” قال قرینہ “ یعنی فرشتہ۔ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں کہ کافر کک ہے گا اے میرے رب ! فرشتے نے کتابت میں مجھ پر زائد چیزیں لکھ دی ہیں تو فرشتہ کہے گا ” ربنا مااطغیتہ “ یعنی میں نے اس پر زیادہ نہیں کیا اور میں نے وہی کچھ لکھا ہے جو اس نے کہا اور عمل کیا۔ لیکن یہ دور کی گمراہی میں تھا۔ اس سے حق کی طرف نہیں لوٹتا تھا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 23–29

23۔ 29۔ اوپر جن دو فرشتوں کا ذکر تھا کہ ایک اللہ کے رو برو لے جانے والا اور دوسرا عملوں کی گواہی دینے والا ‘ ہر شخص کے ساتھ یہ دو فرشتے ہوں گے۔ ان آیتوں میں ساتھ والا ان ہی دونوں کو فرمایا ہے ان میں سے ایک تو اللہ تعالیٰ سے یہ عرض کرے گا کہ جس انسان پر میں تعینات تھا وہ حاضر ہے۔ دوسرا یہ عرض کرے گا کہ یہ اس انسان کا عمل حاضر ہے۔ اللہ تعالیٰ ان فرشتوں کے جواب میں دو زخمیوں کے اوصاف بیان فرما کر حکم دے گا کہ ان اوصاف کے لوگوں کو جہنم میں ڈال دو ۔ کفار کے معنی بڑا کفر کرنے والا عنید کے معنی حق بات سے عناد رکھنے والا مناع للخیر کے معنی نیک کام سے روکنے اور ممانعت کرنے والا معتدی بری کاموں میں حد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–29

اللہ تعالیٰ کا فرمانا ہے : (وقال قرینہ) اس جھٹلانے اور روگردانی کرنے والے کا فرشتوں میں سے وہ ساتھی، جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کی اور اس کے اعمال کی حفاظت کے لئے مقرر کیا ہے، قیامت کے روز اس کے سامنے موجود ہوگا اور اس کے اعمال کو اس کے سامنے پیش کرے گا اور کہے گا : (ھذا ما لدی عتید) ” یہ (اعمال نامہ) میرے پاس حاضر ہے۔ “ یعنی میں نے وہ سب کچھ پیش کردیا ہے جس کی حفاظت اور اس کے عمل کو محفوظ رکھنے پر مجھے مقرر کیا گیا تھا پس اب اس کے عمل کی جزا دی جائے گی۔ جو کوئی جہنم کا مستحق ہوگا اسے کہا جائے گا : (القیا فی جھنم کل کفار عنید) ” ہر ناشکرے، سرکش کو جہنم میں ڈال دو ۔ “ یعنی جو بہت زیادہ کفر کرنے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–38

کافر، معرفتِ حق سے عاری بلکہ الجھنوں میں پڑا رہتا ہے قول باری ہے (بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج، بلکہ ان لوگوں نے تو حق کو جس وقت وہ ان کے پاس آگیا اسی وقت صاف جھٹلادیا، غرض یہ لوگ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (فھم فی امر مریج) کی تفسیر میں نقل کیا کہ جو شخص حق اور سچائی کو ترک کردے گا اس کی رائے میں الجھائو پیدا ہوجائے گا اور اس کا دین گڈمڈ ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 38] الزام تراشیوں پر حق تعالیٰ کی طرف سے ڈانٹ کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان الزام تراشیوں کے جواب میں حق تعالیٰ کی طرف سے فرمایا جائے گا کہ میرے حضور مت جھگڑو، میں نے یقینا تم کو پہلے ہی خبردار کردیا تھا۔ اپنے انبیاء و رسل اور دعاۃِ حق کے ذریعے۔ پس اب یہاں لڑنے جھگڑنے سے کچھ فائدہ نہیں کہ اب یہ وقت نہ ماننے کا وقت ہے، نہ جھگڑنے کا، ہر کسی کو اپنے کیے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہی ہوگا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس وقت کے اس جھگڑنے کا قطعی طور پر کوئی فائدہ نہیں ہوگا، اور ان سے صاف کہہ دیا جائے گا کہ تمہاری اس توتکار اور الزام بازی سے نہ کسی کو اس کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–36

قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 16–29

آیات 16 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ ہم نے انسان کو پیدا کیا اس کی ایک ایک صفت اس میں پیدا کی لہذا اس کے دل میں بھی جو خیال گزرتا ہے ہم اسے خوب جانتے ہیں ۔ شہ رگ سے قریب تر ہونا۔ اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں مفسرین کرام کے مطابق یہاں قرب علمی مراد ہے کہ بات اس کے احوال اور دل میں گزرنے والے خیالات تک کی ہورہی ہے قرب مسافت مراد نہیں کہ اس کی ذات اس سے بہت بلند اور پاک ہے مگر تفسیر مظہری میں صوفیائے کرام کے حوالہ سے لکھا ہے کہ احاطہ عملی بھی ہر شے سے ہے اور انسان کے ساتھ ایک خاص قسم کا اتصال بلاکیف موجود ہے جس کی کیفیت کوئی نہیں جانتا جس کے دلائل قرآن حدیث میں موجود ہیں اور جس پر مولوی رومی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 28–29

ف 1 یعنی میں نے جو تمہیں جہنم میں ڈالنے کا فیصلہ صادر کردیا ہے وہ اب بدلن ہیں سکتا اور نہ میرا وہ مستقبل فیصلہ بدل سکتا ہے جس سے میں نے تمہیں دنیا میں متنبہ کردیا تھا یعنی : (انعام :16) یا (ہود 119) ” میں جنوں اور انسانوں دونوں سے جہنم بھر دوں گا۔ “ (قرطبی شو کانی) 2 یعنی میں کسی کو بےقصور سزا نہیں دیتا اور نہ اس کے قصور سے زیادہ سزا دیتا ہوں

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(50:28) قال : ای قال اللّٰہ۔ اللہ کہے گا۔ لا تختصموا : فعل نہی جمع مذکر حاضر اختصام (افتعال) مصدر۔ تم جھگڑا مت کرو۔ لدی : لدی اسم ظرف مضاف ی ضمیر واحد متکلم مضاف الیہ ۔ میرے سامنے ، میرے روبرو۔ وقد قدمت الیکم بالوعید واؤ حالیہ اور جملہ حالیہ ہے اور جھگڑا کرنے کی ممانعت کی علت ہے۔ قد : ماضی سے پہلے تحقیق کا معنی دیتا ہے اور زمانہ کو ماضی قریب کردیتا ہے۔ قدمت ماضی کا صیغہ واحد متکلم تقدیم (تفعیل) مصدر۔ اگر تقدیم کے بعد باء آجائے تو وقئت سے پہلے کسی کام کا حکم دیے یا وقت سے پہلے اطلاع دینے کے معنی ہوتے ہیں تاکہ وقت آنے سے پہلے اطلاع پانے والا کام کرے۔ آیت ہذا میں بھی یہی مراد ہے کہ میں نے یوم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–29

لغات القرآن : آیت نمبر 16 تا 29 : توسوس (چپکے سے وسوسہ ڈالتا ہے) ‘ حبل الورید (شہہ رگ) ‘ قعید (بیٹھا ہوا) ‘ ما یلفظ ( کوئی لفظ نہیں نکلتا) ‘ رقیب (نگہبان۔ نگرانی کرنے والا) سکرۃ الموت (موت کی بےہوشی) ‘ تحید (کتراتا ہے) ‘ یوم الوعید ( ڈرنے کا دن) ‘ سائق (چلانے والا) ‘ غطائ (پردہ) ‘ حدید (بہت تیز) ‘ قرین (ساتھی) ‘ لدی (میرے پاس) القیا (تم دونوں ڈال دو ) ‘ عنید (ضدی) ‘ مناع ( روکنے والا) ‘ معتد (حد سے آگے بڑھ جانے والا) ‘ مریب (شک و شبہ ڈالنے والا) ‘ اطغیت (میں نے سرکشی کی) ‘ لاتختصموا (تم نہ جھگڑو) ۔ تشریح : آیت نمبر 16 تا 29 : ان آیات میں موت اور قیامت کے ہولناک دن کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 20–29

نیک وبد کا انجام۔ (ف 1) جب صور پھ کے گا، قیامت قائم ہوگی، سب مجمع حشر میں اکٹھے ہوں گے تو وہ دن سزا جزا کا ہوگا، اولین وآخرین سب جمع ہوں گے ، وہ دن جس کی خبر دہشت ناک سنائی گئی ہے۔ ظاہر ہوگا یعنی روز جزا ہر آدمی زندہ ہوگا، اس کے ساتھ ایک فرشتہ ہوگا، جو اس کو لے کرجاکردرباررب العزت میں کھڑا کرے گا، اور دوسرا اعمال نامہ کے لیے ہوگا جس میں اس کی زندگی کے سب احوال درج ہوں گے۔ اس وقت کہا جائے گا دنیا کے مزوں میں پڑ کر توآج کے دن سے بیخبر تھا اور تیری آنکھوں کے سامنے شہوات اور خواہشات کا اندھیرا چھایا ہوا تھ ارسول جو سمجھاتے تھے تجھے کچھ دکھائی نہ دیتا تھا آج ہم نے تیری آنکھ سے وہ پردہ ہٹا دیا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 28–29

[9] اشارہ اس وعدہ عذاب کی طرف ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اس وقت آگاہ فرما دیا تھا جب ابلیس نے اللہ تعالیٰ کو چیلنج کیا تھا کہ اگر تو نے مجھے مہلت دی تو میں اولاد آدم کی اکثریت کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ جا، جس کسی کو تو گمراہ کرسکے کرلے۔ میں بھی آگاہ کرتا ہوں کہ جو بھی تیری پیروی کریں گے ان سب کو تجھ سمیت جہنم سے بھر دوں گا (ملاحظہ ہو سورة اعراف و سورة ) ۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 22–29

ف 1: اس وقت غیب سے آواز آئیگی کہ دنیا میں تمہاری آنکھیں بند تھیں ۔ اس پر دولت ، عزت اور جہالت کے حجاب چھا رہے تھے ۔ آج وہ نقاب اتاردیا گیا ہے ۔ آج تیری نگاہیں تیزی کے ساتھ حالات کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں ۔ بتا کہ یہی وہ چیزیں نہ تھیں ۔ جن کو تیرے سامنے پیش کیا جاتا تھا ۔ اور نوازراہ کبروغرور ان کا انکار کردیتا تھا ۔ کیا یہی وہ حقائق نہیں ہیں ۔ جن سے تجھے آگاہ کیا جاتا تھا اور تو ان کو بڑی بےپروائی سے ٹھکرادیتا تھا ۔ آج یہ چیزیں تیری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں ؟ کیا آج بھی انکار کی جرات ہے ؟ کیا اس وقت بھی جھٹلاتے ہو ؟ فرشتہ شہادت دیگا ۔ کہ اس کے اعمال میرے روزنامچہ میں ہیں ۔ یہ لکھے ہوئے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(28) ارشاد ہوگا میرے سامنے جھگڑے کی باتیں نہ کرو اور میرے روبرو جھگڑا نہ کرو اور میں تمہاری طرف پہلے ہی عذاب کا وعدہ بھیج چکا تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

28 ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوگا کہ اب میرے پاس تمہارے اس جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے میں نے تمہارا فیصلہ تمہارے اعمال کے مطابق تم کو دکھا کر اور تم پر واضح کرکے آرڈر کردیا ہے اس طرح کے جھگڑوں کا کوئی فائدہ ؟ غور کرو کہ یہ (لدی) کے الفاظ اس طرح اس بات کی بول بول کر تصدیق کر رہے ہیں کہ یہ استغاثہ ان کا اسی وقت شروع ہوا جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم صادرہوگیا کہ (القیہ فی ال عذاب الشدید) ” اس کو سخت عذاب میں ڈال دو “ گویا جب تک رزلٹ اس پر واضح نہیں ہوا تھا وہ خاموش رہا اور اپنی آنکھوں سے اپنی کارستانیوں کی پوری فلم دیکھتا رہا لیکن جونہی فیصلہ صادر ہوا تو وہی پرانی عادت ، کسر باقی رہ گئی اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

لَا تَخْتَصِمُوا لَدَيَّ وَقَدْ قَدَّمْتُ إِلَيْكُم بِالْوَعِيدِ ("Do not quarrel before Me, while I had sent to you My threat well in advance.... 50:28) It means: "I have given you sufficient proof by the words of the past Messengers, and I have sent down the Divine Books; the evidences, signs and proofs have thus been established against you; your flimsy excuses, arguments and disputes will not work today.'

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

35 That is, "I had warned both of you as to what punishment will be given to the one who beguiles and what punishment will be suffered by him who is beguiled. In spite of this warning when you did not desist from committing your Respective crimes, there is no use quarreling now. Both the one who beguiled and the one who was beguiled have to be punished for the crimes committed by them. "

Read the full tafseer →