Qaaf 50:27

Qaaf · from ayah 27

50:27

قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَلٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۢ بَعِیْدٍ ۟قَالَ قَرِيۡنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطۡغَيۡتُهٗ وَلٰـكِنۡ كَانَ فِىۡ ضَلٰلٍۢ بَعِيۡدٍ

اس کا ساتھی (شیطان) کہے گا کہ اے ہمارے پروردگار میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ آپ ہی رستے سے دور بھٹکا ہوا تھا

— Fateh Muhammad Jalandhari

His [devil] companion will say, "Our Lord, I did not make him transgress, but he [himself] was in extreme error."

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Qaaf

All translations of 50:27

اُس کے ساتھی نے عرض کیا "خداوندا، میں نے اِس کو سرکش نہیں بنایا بلکہ یہ خود ہی پرلے درجے کی گمراہی میں پڑا ہوا تھا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس کا ساتھی (شیطان) کہے گا کہ اے ہمارے پروردگار میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ آپ ہی رستے سے دور بھٹکا ہوا تھا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس کا ہمنشین (شیطان) کہے گا اے ہمارے رب! میں نے اسے گمراه نہیں کیا تھا بلکہ یہ خود ہی دور دراز کی گمراہی میں تھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس کا ساتھی کہے گا کہ : اے ہمارے پروردگار ! میں نے اسے گمراہ نہیں کیا تھا، بلکہ یہ خود ہی پرلے درجے کی گمراہی میں پڑا ہوا تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس کے ساتھی شیطان نے کہا ہمارے رب میں نے اسے سرکش نہ کیا ہاں یہ آپ ہی دور کی گمراہی میں تھا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اب) اس کا (دوسرا) ساتھی (شیطان) کہے گا: اے ہمارے رب! اِسے میں نے گمراہ نہیں کیا بلکہ یہ (خود ہی) پرلے درجے کی گمراہی میں مبتلا تھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس کا ساتھی (شیطان) کہے گا اے ہمارے رب ! میں نے اسے سر کش نہیں بنایا اور لیکن وہ خود ہی دور کی گمراہی میں تھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اس کا ساتھی عرض کرے گا ہمارے پروردگار ! میں نے اسے سرکش نہیں بنایا تھا بلکہ یہ خود دور تک گمراہی میں پڑا ہوا تھا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس کا ساتھی شیطان کہے گا، اے ہمارے رب میں نے اس کو سرکش نہیں بنایا بلکہ یہ خود نہایت دور کی گمراہی میں پڑا رہا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس کا دوسرا ساتھی (شیطان) کہے گا کہ اے ہمارے رب میں نے اس کو (کوئی جبرا) گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ خود ہی پڑا تھا پرلے درجے کی گمراہی میں

— مولانا اسحاق مدنی

) تب) اس کے ساتھ والا (شیطان) کہے گا اے ہمارے پروردگار میں نے اسے نہیں بھٹکایا تھا بلکہ یہ خود ہی دور دراز کی گمراہی میں تھا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس کا ساتھی (شیطان) کہے گا : پروردگار ! میں نے اس کو سرکش نہیں بنایا بلکہ یہ خود ہی بہت دور کی گمراہی میں پڑا ہوا تھا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس کا ساتھی (فرشتہ) کہے گا کہ ”اے میرے رب میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ خود ہی رستے سے دور بھٹکا ہوا تھا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

His companion said: “I did not incite him to rebel; he was far gone into error of his own accord.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

His (evil) companion (i.e. the Satan) will say, :O our Lord, I did not cause him to rebel, but he was himself (involved) in straying far from the track.

— Muhammad Taqi Usmani

His (evil) companion (i.e. the Satan) will say, :O our Lord, I did not cause him to rebel, but he was himself (involved) in straying far from the track.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

His companion (devil) will say: "Our Lord! I did not push him to transgression, but he was himself in error far astray."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

His comrade saith: Our Lord! I did not cause him to rebel, but he was (himself) far gone in error.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

His [devil] companion will say, "Our Lord, I did not make him transgress, but he [himself] was in extreme error."

— Saheeh International

His satanic companion will say, "Our Lord, I did not mislead him, but he himself went astray".

— Muhammad Sarwar

His companion will say: Our Lord! I did not lead him into inordinacy but he himself was in a great error.

— Muhammad Habib Shakir

His companion will say: O our Lord! caused him not to transgress but he was himself in error far off.

— Abdul Majid Daryabadi

His Companion will say: "Our Lord! I did not make him transgress, but he was (himself) far astray."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 50:27

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 23–29

ہمارے اعمال کے گواہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہو رہا ہے کہ جو فرشتہ ابن آدم کے اعمال پر مقرر ہے وہ اس کے اعمال کی شہادت دے گا اور کہے گا کہ یہ ہے میرے پاس تفصیل بلا کم وکاست حاضر ہے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں یہ اس فرشتے کا کلام ہوگا جسے سائق کہا گیا ہے جو اس کو محشر میں لے آیا تھا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں میرے نزدیک مختار قول یہ ہے کہ وہ اس فرشتے پر بھی اور گواہی دینے والے فرشتے دونوں پہ مشتمل ہے اب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے عدل و انصاف سے کرے گا۔ (القیا) تثنیہ کا صیغہ ہے بعض نحوی کہتے ہیں کہ بعض عرب واحد کو (تثنیہ) کردیا کرتے ہیں جیسے کہ حجاج کا مقولہ مشہور ہے کہ وہ اپنے جلاد سے کہتا تھا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة قٓ 34 یہاں فحوائے کلام خود بتارہا ہے کہ " ساتھی " سے مراد وہ شیطان ہے جو دنیا میں اس شخص کے ساتھ لگا ہوا تھا۔ اور یہ بات بھی انداز بیان ہی سے مترشح ہوتی ہے کہ وہ شخص اور اس کا شیطان، دونوں خدا کی عدالت میں ایک دوسرے سے جھگڑ رہے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ حضور، یہ ظالم میرے پیچھے پڑا ہوا تھا اور اسی نے آخر کار مجھے گمراہ کر کے چھوڑا، اس لیے سزا اس کو ملنی چاہیے۔ اور شیطان جواب میں کہتا ہے کہ سردار، میرا اس پر کوئی زور تو نہیں تھا کہ یہ سرکش نہ بننا چاہتا ہو اور میں نے زبردستی اس کو سرکش بنادیا ہو۔ یہ کم بخت تو خود نیکی سے نفور اور بدی پر فریفتہ تھا۔ اسی لیے انبیاء کی کوئی بات اسے پسند نہ آئی اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) قَالَ قَرِيْنُهٗ رَبَّنَا مَآ اَطْغَيْتُهٗ ، لفظ قرین کے اصلی معنی پاس رہنے والے اور ملے ہوئے کے ہیں اس معنی کے اعتبار سے پچھلی آیت میں قرین سے مراد وہ فرشتہ یا فرشتے لئے گئے ہیں جو انسان کے اعمال لکھتے ہیں اور انسان کے ساتھ جیسے دو فرشتے قرین بنائے گئے ہیں اسی طرح ایک شیطان بھی ہر انسان کا قرین رہتا ہے، جو اس کو گمراہی اور گناہوں کی طرف بلاتا ہے، اس آیت میں قری سے یہی شیطان مراد ہے، جب اس شخص کو جہنم میں ڈالنے کا حکم ہوجائے گا تو یہ شیطان اس سے اپنی برات کا اظہار کرے گا کہ اس کو میں نے گمراہ نہیں کیا بلکہ یہ خود ہی گمراہ تھا کہ گمراہی کی بات کو قبول کرتا اور نیک بات پر کان نہ دھرتا تھا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 27–28

قال قرینہ ربنا مآ اطغیتہ ولکن کان فی ضلل بعیدہ قال لا تخمتصموا لدی وقد قدمت الیکم بالوعید (28-27) یہ جہنم کے باڑے میں، داخل ہونے کے بعد کا ماجرا بیان ہو رہا ہے کہ اس میں داخل ہونے کے بعد ہر ایک اپنی گمراہی کا الزام اس شیطان پر تھونپا چاہے گا جو سنت الٰہی کے مطابق ان لوگوں پر مسلط کردیا جاتا ہے جو اللہ کی یاد سے غافل رہتے ہیں شیطان جب دیکھے گا کہ اس کو مجرم بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تو وہ آگے بڑھ کر اپنی صفائی پیش کرے گا کہ ربنا ما اطغیتہ ولکن کان فی ضلل بعید (اے ہمارے رب، میں نے اس کو طغاین میں نہیں مبتلا کیا بلکہ وہ خود ہی گمراہی میں اتنی دور نکل گیا تھا کہ وہاں سے اس کے لئے بازگشت کا امکان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

27۔ 1 اس لئے اس نے فوراً میری بات مان لی، اگر یہ تیرا مخلص بندہ ہوتا تو میرے بہکاوے میں ہی نہ آتا۔ یہاں قرین سے مراد شیطان ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 25–27

10: یہاں (ہم نشین) ساتھی سے مراد شیطان ہے، کیونکہ وہ بھی ہر وقت انسان کو بہکانے کے لئے اسکے ساتھ رہتا تھا، کافر لوگ چاہیں گے کہ اپنے حصے کی سزا یہ کہہ کر اپنے سرداروں پر اور خاص طور سے شیطان پر ڈالیں کہ اس نے ہمیں گمراہ کیا تھا، اس کے جواب میں شیطان یہ کہے گا کہ میں نے گمراہ نہیں کیا، کیونکہ مجھے کوئی ایسا اختیار نہیں تھا کہ اسے زبردستی گمراہی کے راستے پر ڈالوں، زیادہ سے زیادہ میں نے انہیں ترغیب دی تھی، گمراہی میں تو یہ خود اپنے اختیار سے پڑا تھا، شیطان کے اس جواب کی تفصیل سورة ابرہیم (14۔ 22) میں ملاحظہ فرمائیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 27–29

اس مقام پر اس شخص کے ساتھ بھی خوفزدہ ہوجاتے ہیں اور کانپ اٹھتے ہیں اور جلدی سے اپنے بارے میں کسی الزام کے سائے کو رد کرتے ہیں ، محض اس بنا پر کہ یہ اس جہنمی کا ساتھی تھا۔ قال قرینہ ۔۔۔۔۔ ضلل بعید (50 : 27) ” اس کے ساتھ نے عرض کیا خدا وندا ، میں نے اس کو سرکش نہیں بنایا بلکہ یہ خود ہی پرلے درجے کی گمراہی میں پڑا ہوا تھا “۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ساتھ وہ نہ ہو جس کا ذکر پہلے ہوا۔ جس نے اس مجرم کے کاغذات پیش کئے ۔ بلکہ اس سے مراد وہ شیطان ہو وج اس کے ساتھ اسے گمراہ کرنے کے لئے لگا ہوا تھا۔ اور اب وہ یہاں اپنے آپ کو بری الذمہ کرنے میں لگا ہوا ہے اور پورے قرآن مجید میں ایسے مشاہد اور مکالمے موجود ہیں جن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

14 یعنی میری کچھ زبردستی اس پر نہ چلتی تھی۔ ذرا شہ دی تھی کہ یہ کم بخت خود گمراہ ہو کر نجات و فلاح کے راستہ سے دور جا پڑا۔ شیطان یہ کہہ کر اپنا جرم ہلکا کرنا چاہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 27{ قَالَ قَرِیْنُہٗ رَبَّـنَا مَآ اَطْغَیْتُہٗ وَلٰــکِنْ کَانَ فِیْ ضَلٰلٍم بَعِیْدٍ۔ } ”اس کا ساتھی شیطان کہے گا : پروردگار ! میں نے اس کو سرکش نہیں بنایا ‘ بلکہ یہ خود ہی بہت دور کی گمراہی میں پڑا ہوا تھا۔“ گویا وہ چاہے گا کہ جو انسان اس کی تحویل میں دیا گیا تھا اسے سزا کے لیے وصول کرلیا جائے اور خود اس کی جان بخشی کردی جائے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 27–28

33 اس ساتھی سے مراد غالباً اس کا وہ شیطان ساتھی ہے جو دنیا میں اس کے ساتھ رہتا تھا یا اس پر مسلط کردیا گیا تھا۔ وہ بارگاہ الٰہی میں اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے عرض کرے گا کہ مجھ میں ایسی کوئی طاقت نہ تھی کہ میں اسے تیری اور تیرے رسول کی اطاعت سے سرکش بناسکتا۔ ہوا صرف یہ تھا کہ میں نے اس کے دل میں وسوسہ ڈالا تو یہ پہلے ہی مجرم ضمیر تھا۔ اس نے فوراً میری آواز پر لبیک کہی۔ میرا وسوسہ گویا اس کے اپنے دل کی آواز تھی۔ لہذا وہ گمراہی کے کاموں میں خود ہی آگے بڑھتا چلا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

21۔ (اپنے ارادہ واختیار سے) ہر انسان کے ساتھ جو ایک ہمزاد شیطان ہوتا ہے تا کافر انسان کو شیطان الزام اپنے اوپر آتے دیکھ کر اس کو انسان ہی پر الٹ دے گا اور یہ کہے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 18–29

انسان کا ہر قول رکارڈ کیا جاتا ہے : مایلفظ من قول الالدیہ رقیب عتید یعنی انسان کوئی کلمہ زبان سے نہیں نکالتا جس کو یہ نگران فرشتہ محفوظ نہ کرلیتا ہو، حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ اور قتادہ رحمتہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ فرشتے اس کا ایک ایک لفظ لکھتے ہیں خواہ اس میں کوئی گناہ یا ثواب ہو یا نہ ہو، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ صرف وہ کلمات لکھتے ہیں کہ جن میں کوئی ثواب یا عقاب کی بات ہو۔ علی بن ابی طلحہ نے ایک روایت ابن عباس ہی سے ایسی نقل فرمائی جس میں یہ دونوں قول جمع ہوجاتے ہیں، اس روایت میں یہ ہے کہ پہلے تو ہر کلمہ لکھا جاتا ہے خواہ اس میں کوئی ثواب و عقاب کی بات ہو یا نہ ہو، مگر ہفتہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال قرینہ ربنا ما اطغیتہ ولکن کان فی ضلل بعید . وہ شیطان جو اسکا ساتھی تھا کہے گا اے ہمارے رب ! میں نے اسکو (زبردستی) گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ وہ خود پرلے درجہ کی گمراہی میں تھا۔ قَالَ قَرِیْنُہٗ : حضرت ابن عباس ؓ مقاتل اور سعید بن جبیر کے نزدیک اس جگہ قرین سے مراد ہے وہ فرشتہ جو انسان پر مقرر ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : فرشتہ یہ بات اس وقت کہے گا جب کافر کہے گا : فرشتہ نے لکھنے میں مجھ پر زیادتی کردی ہے۔ مَا اَطْغَیْتُہٗ : یعنی (اپنی طرف سے) میں نے اس کی طرف کفر اور طغیان کی نسبت نہیں کی (یعنی اپنی طرف سے غلط طور پر اس کو کافر اور طاغی نہیں لکھا) اور نہ لکھنے میں اس پر کوئی زیادتی کی ہے۔ بعض…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

یہ سن کر وہ کافر کہے گا اے پروردگار اس فرشتے نے میری برائیاں لکھنے میں جلدی کی اور میرے کہنے اور کرنے ہی سے پہلے اس نے میرے نام پر برائیاں لکھ ڈالیں وہ کتاب سیئات فرشتہ کہے گا کہ پروردگار میں نے لکھنے میں کسی قسم کی کوئی جلدی نہیں کی جب تک کہ اس نے بات کہی اور کی نہ ہو یا یہ کہ اس قریب سے مراد وہ شیطان ہے جو اس کے ساتھ رہتا تھا وہ اپنے پروردگار کے سامنے معذرت پیش کرے گا کہ اے پروردگار میں نے اسے جبرا گمراہ نہیں کیا تھا لیکن یہ تو خود ہی حق و ہدایت سے دور دراز کی گمراہی میں تھا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(قال قرینہ ربنا ما اطغیتہ…: کافر جب یہ حکم سنے گا تو کہے گا، اے میرے رب ! میرا کئے گناہ نہیں۔ مجھے تو میرے قرین (ساتھی) کہے گا، اے مہارے رب ! میں نے اسے سرکش نہیں بنایا، بلکہ یہ خود ہی بہت دور کی گمراہی میں مبتلا تھا، میں نے اس پر کوئی زبردستی نہیں کی۔ اگر یہ خود انتہائی گمراہ نہ ہونا تو میرے کہنے سے کبھی سرکشی اختیار نہ کرتا۔ ”قرین“ سے مراد وہ شیطان بھی ہے جو انسان کے ساتھ رہ کر اسے گمراہ کرتا رہتا ہے اور انسانوں میں سے برے ساتھی جو اسے برائی کا درس دیتے اور اس پر ابھارتے رہتے ہیں۔ قیامت کے دن جب مجرم یہ بہا نہ بنائے گا کہ ان لوگوں نے مجھے گمراہ کیا تو وہ اس سے صاف برأت کا اظہار کردیں گے۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 23–29

قرین سے مراد وہ فرشتہ ہے جس کو اس پر مقرر کیا گیا جاتا ہے یہ حضرت حسن بصری قتادہ اور ضحاک کا قول ہے یعنی اس کے اعمال جو لکھے گئے ہیں وہ میرے پاس محفوظ اور تیار ہیں مجاہد نے کہا وہ کہے گا یہ وہ چیز ہے جس کی تو نے مجھے بنی آدم کے متعلق ذمہ داری سونپی تھی میں اس انسان اور اس کے نامہ اعمال کو حاضر کیا ہے ایک قول یہ کیا گیا معنی ہے میرے پاس جو عذاب ہے حاضر ہے مجاہد نے قول بھی کیا ہے اس کے قرین سے مرا وہ شیطان ہے جو اس پر مسلط کیا گیا ابن زیدنے کہا ابن وہب نے اسے روایت نقل کی ہے مراد انسانوں میں سے اس کا دوست ہے اللہ تعالیٰ اس کے ساتھی سے فرمائے گا خلیل اور اخفش نے کہا یہ عربوں کا فصیح کلام ہے کہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 24–27

22:۔ ابن المنذر (رح) نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' کل کفار عنید '' (ہر کفر کرنے والا حق سے ضد رکھنے والا) سے مراد ہے حق سے دور بھاگنے والے۔ 23:۔ سعید بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' القیا فی جھنم کل کفار عنید '' (ہر ایسے شخص کو جہنم میں ڈال دو جو کفر کرنے والا ہو حق سے ضد رکھتا ہو) یعنی جو اللہ کی نعمتوں کا انکار کرنے والے تھے جو اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری سے سرکشی اختیار کرنے والے تھے نیکی سے روکنا اس کا حق تھا پھر فرمایا فرض زکوٰۃ میں حد سے بڑھنے والا (آیت ) '' معتد مریب '' (حق عبادت سے باہر جانے والا اور دین میں شک کرنے والا) یعنی اپنی بات…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالَ قَرِيْنُهٗ [ کہے گا اس کا ہم نشین (شیطان ) ] رَبَّنَا [ اے ہمارے رب ] مَآ اَطْغَيْتُهٗ [ سرکشی پر میں نے نہیں اکسایا اس کو ] وَلٰكِنْ كَانَ [ اور لیکن وہ تھا ] فِيْ ضَلٰلٍۢ بَعِيْدٍ [ ایک دوری والی گمراہی میں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ قَالَ قَرِيْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَيْتُهٗ ﴾ کافر کو جب دوزخ میں داخل کیے جانے کا حکم ہوگا تو اس کا قرین یعنی اس کا ساتھی (جس کے ساتھ رہنے اور برے اعمال کو مزین کرنے کی وجہ سے گمراہ ہوا اور دوزخ میں جانے کا مستحق ہوا) یوں کہے گا کہ اے میرے رب میں نے اسے گمراہ نہیں کیا یعنی میں نے اسے جبراً قہراً زبردستی کافر نہیں بنایا بلکہ بات یہ ہے یہ خود ہی دور کی گمراہی میں تھا اگر اس کا مزاج گمراہی کا نہ ہوتا اور اس کو گمراہی پسند نہ ہوتی تو میری مجال نہ تھی کہ میں اس کو کفر پر ڈالتا اور جمائے رکھتا، جب یہ گمراہ تھا تو میں نے اس کی گمراہی پر مدد کردی۔ قال صاحب الروح : فاعنتہ علیہ بالاغواء والدعوة الیہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–29

کمال قدرت خداوندی از روئے علم واحاطہ باحوال انسانی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولقد خلقنا الانسان ...... الی ..... وما انا بظلام للعبید “۔ (ربط) ما قبل آیات میں منکرین حشر ونشر کا ذکر تھا اسی کے ساتھ پہلی امتوں کی عبرت ناک تاریخ دہرائی گئی تھی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کی تو اس کے نتیجے میں مختلف انواع و اقسام کے عذاب ان پر نازل ہوئے اور ان کو ہلاک کردیا گیا تو اسی طرح حضور اکرم ﷺ کی تکذیب ومخالفت کرنے والی قوم کفار قریش کو عذاب خداوندی سے بےفکر نہ ہونا چاہئے سزا دنیا چوں کہ دو چیزوں پر موقوف ہے ایک علم پر کہ مجرم کے جرم کا علم ہو دوسرے قدرت پر کہ مجرم کو سزا دینے پر قادر ہو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 26–27

14:۔ ” الذی جعل۔ الایۃ “۔ مسئلہ توحید کا ذکر ہے علی سبیل الترقی بنسبت سورة سابقہ یعنی جس نے اللہ کے سوا کسی اور کو معبود اور کارساز بنایا اور غیر اللہ سے متصرف و مختار جان کر حاجات میں مصائب میں پکارا اسے سخت ترین عذاب میں پھینک دو ۔ ” قال قرینہ۔ الایۃ “ یہاں قرین سے شیطان مراد ہے یہ ایک کلام مقدر کا جواب ہے۔ کافر معذرت کرے گا کہ بارے الٰہا ! میرا کوئی قصور نہیں، مجھے تو شیطان نے گمراہ کیا ہے تو شیطان (قرین) جواب دے گا ہمارے پروردگار ! میں نے اسے گمراہ نہیں کیا، بلکہ وہ خود گمراہ تھا اور راہ ہدایت سے کوسوں دور تھا (مدارک، روح) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 23–29

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کے دلائل ذکر کیے اور اس کا انکار کرنے والوں کا رد کیا ۔ پھر انسان کی تخلیق اور اس کی مخفی باتوں تک جاننے کا ذکر کیا ۔ نیز فرمایا کہ ہم تو انسان کی رگ گردن سے بھی اس کے زیادہ قریب ہیں اللہ تعالیٰ نے انسان کے تمام اعمال کی حفاظت کے لیے ہر شخص کے دائیں بائیں دو فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو انسان کا ہر قول و فعل نوٹ کر رہے ہیں ۔ آگے یقینا جزائے عمل پیش آنے والی ہے اور اس کا زیادہ تر انحصار فرشتوں کی انہی رپورٹوں پر ہوگا ۔ پھر فرمایا جب انسان کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو اس پر موت کی غشی طاری ہوجاتی ہے اور یہ وہی چیز ہے جس کو انسان عمر بھر ٹالنے کی کوشش کرتا رہتا ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ قَرِيْنُہٗ رَبَّنَا مَآ اَطْغَيْتُہٗ وَلٰكِنْ كَانَ فِيْ ضَلٰلٍؚبَعِيْدٍ۝ 27 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ قرین الِاقْتِرَانُ کالازدواج في كونه اجتماع شيئين، أو أشياء في معنی من المعاني . قال تعالی: أَوْ جاءَ مَعَهُ الْمَلائِكَةُ مُقْتَرِنِينَ [ الزخرف/ 53] . يقال : قَرَنْتُ البعیر بالبعیر : جمعت بينهما، ويسمّى الحبل الذي يشدّ به قَرَناً ، وقَرَّنْتُهُ علی التّكثير…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 20–29

ترکیب : مالدی ان جعلت ماموصوفہ فعتید صف تھا وان جعلت موصولۃ فبدلھا اوخبر بعد خبر او خبر محذوف الذی جعل مبتداء متضمن معنی الشرط فالقیاہ خبرہ او بدل من کل کفار۔ تفسیر : علامہ محی الدین ابن العربی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ دائیں طرف بیٹھنے والے سے مراد اس کی وہ قوت ہے جو اس کو نیک اعمال پر آمادہ کرتی ہے اور بائیں طرف والے سے مراد وہ قوت جو شر کی طرف بر انگیختہ کرتی ہے۔ یہ خدا کی طرف کے دو موکل ہیں جو ہر روز ملتے ہیں، یعنی ان کا مقابلہ رہتا ہے اور ان دونوں قوتوں سے جو جو خطرات اس کے دل میں پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ ان کو ہم جانتے ہیں، کیونکہ اس کی رگ گردن تو اس کے دل سے دور ہے اور ہمارا اس کے دل سے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 27–28

قَالَ قَرِیْنُہٗ رَبَّنَا مَـآ اَطْغَیْتُہٗ وَلٰـکِنْ کَانَ فِیْ ضَلٰـلٍ م بَعِیْدٍ ۔ قَالَ لاَ تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَقَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْکُمْ بِالْوَعِیْدِ ۔ (قٓ: 27، 28) (اس کا ساتھی کہے گا اے ہمارے رب ! میں نے اس کو سرکش نہیں بنایا، بلکہ یہ خود پرلے درجے کی گمراہی میں پڑا ہوا تھا۔ ارشاد ہوگا، اب میرے سامنے جھگڑا نہ کرو، میں نے پہلے ہی تمہیں اپنی وعید سے آگاہ کردیا تھا۔ ) ہر مجرم کا اپنی گمراہی کا شیطان پر الزام اور شیطان کی تردید قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے دین سے سرکشی اختیار کرتا ہے اور بڑھتے بڑھتے بیزاری تک پہنچ جاتا ہے اور کوئی نصیحت اس پر اثر نہیں کرتی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 27–30

فہم القرآن ربط کلام : جہنمی کو جہنم میں داخل ہونے کا حکم ہونے کے ساتھ ہی اس کا ساتھی اس سے برأت کا اعلان کردے گا۔ جونہی جہنمی کو جہنم میں داخل ہونے کا حکم ہوگا تو خوف کے مارے اس کا ساتھی پکار اٹھے گا کہ اے ہمارے رب ! میں نے اسے گمراہ نہیں کیا بلکہ یہ خود ہی صراط مستقیم سے بھٹک گیا تھا۔ اس کے جواب میں رب ذوالجلال فرمائے گا کہ میرے حضور بحث نہ کرو کیونکہ میں نے پہلے ہی تمہیں جہنم کے بارے میں انتباہ کردیا تھا۔ اب جہنم میں داخل ہوجاؤ اور یاد رکھو ! کہ میرا فرمان تبدیل نہیں ہوتا اور نہ ہی میں اپنے بندوں پر زیاتی کرنے والا ہوں۔ جہنمی کے ساتھی سے مراد اس کے برے ساتھی اور رشتہ دار ہیں جن میں سب سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قولِ مجاہد : آیت 27 : قَالَ قَرِیْنُہٗٗ (وہ شیطان جو اس کے ساتھ رہتا تھا وہ کہے گا) وہ ساتھ رہنے والا شیطان اس کے خلاف شاہد ہوگا۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں۔ میں نے اس جملہ کو وائو سے خالی کیا۔ پہلے کو نہیں کیونکہ پہلے کا عطف واجب ہے۔ کیونکہ دونوں کا معنی ان کے جمع کرنے پر دلالت کر رہا ہے۔ میری مراد یہ ہے مجیئی کل نفس مع الملکین اور اس کے قرین کا قول جو اس کو کہے گا۔ باقی یہ جملہ مستانفہ ہے۔ جیسا کہ حکایت قول میں مستانفہ جملے آتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی گفتگو میں ہے۔ گویا کافر نے کہا۔ رب ہو اطغانیاے میرے رب اس نے مجھے سرکشی پر آمادہ کیا۔ تو اس کے قرین نے جو اب میں کہا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 23–29

23۔ 29۔ اوپر جن دو فرشتوں کا ذکر تھا کہ ایک اللہ کے رو برو لے جانے والا اور دوسرا عملوں کی گواہی دینے والا ‘ ہر شخص کے ساتھ یہ دو فرشتے ہوں گے۔ ان آیتوں میں ساتھ والا ان ہی دونوں کو فرمایا ہے ان میں سے ایک تو اللہ تعالیٰ سے یہ عرض کرے گا کہ جس انسان پر میں تعینات تھا وہ حاضر ہے۔ دوسرا یہ عرض کرے گا کہ یہ اس انسان کا عمل حاضر ہے۔ اللہ تعالیٰ ان فرشتوں کے جواب میں دو زخمیوں کے اوصاف بیان فرما کر حکم دے گا کہ ان اوصاف کے لوگوں کو جہنم میں ڈال دو ۔ کفار کے معنی بڑا کفر کرنے والا عنید کے معنی حق بات سے عناد رکھنے والا مناع للخیر کے معنی نیک کام سے روکنے اور ممانعت کرنے والا معتدی بری کاموں میں حد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–29

اللہ تعالیٰ کا فرمانا ہے : (وقال قرینہ) اس جھٹلانے اور روگردانی کرنے والے کا فرشتوں میں سے وہ ساتھی، جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کی اور اس کے اعمال کی حفاظت کے لئے مقرر کیا ہے، قیامت کے روز اس کے سامنے موجود ہوگا اور اس کے اعمال کو اس کے سامنے پیش کرے گا اور کہے گا : (ھذا ما لدی عتید) ” یہ (اعمال نامہ) میرے پاس حاضر ہے۔ “ یعنی میں نے وہ سب کچھ پیش کردیا ہے جس کی حفاظت اور اس کے عمل کو محفوظ رکھنے پر مجھے مقرر کیا گیا تھا پس اب اس کے عمل کی جزا دی جائے گی۔ جو کوئی جہنم کا مستحق ہوگا اسے کہا جائے گا : (القیا فی جھنم کل کفار عنید) ” ہر ناشکرے، سرکش کو جہنم میں ڈال دو ۔ “ یعنی جو بہت زیادہ کفر کرنے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–38

کافر، معرفتِ حق سے عاری بلکہ الجھنوں میں پڑا رہتا ہے قول باری ہے (بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج، بلکہ ان لوگوں نے تو حق کو جس وقت وہ ان کے پاس آگیا اسی وقت صاف جھٹلادیا، غرض یہ لوگ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (فھم فی امر مریج) کی تفسیر میں نقل کیا کہ جو شخص حق اور سچائی کو ترک کردے گا اس کی رائے میں الجھائو پیدا ہوجائے گا اور اس کا دین گڈمڈ ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 36] دوزخیوں کے حال بد کا ایک نمونہ و مظہر۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ دوزخ کے اس انتہائی ہولناک باڑے میں داخل ہونے کے بعد ہر شخص اپنی گمراہی اور اپنے اس ہولناک انجام کا ذمہ اور دوسرے کو قرار دے گا اور اس کا الزام وہ اپنے اس ساتھی شیطان پر رکھ کر خود بری اور بےقصور ہونے کی کوشش کرے گا جو سنت الٰہی اور دستور خداوندی کے مطابق اور اس گمراہ انسان کے خود اپنے اختیار کی بنا پر دنیا میں اس پر مسلط رہا ہوگا تو اس گمراہ شخص کی اس کوشش کے جواب میں اس کا وہ ساتھی اس سے کہے گا کہ اے ہمارے رب میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا تھا۔ یعنی ایسا نہیں ہوا کہ اس نے حق و ہدایت کو اپنانا اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–36

قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 16–29

آیات 16 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ ہم نے انسان کو پیدا کیا اس کی ایک ایک صفت اس میں پیدا کی لہذا اس کے دل میں بھی جو خیال گزرتا ہے ہم اسے خوب جانتے ہیں ۔ شہ رگ سے قریب تر ہونا۔ اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں مفسرین کرام کے مطابق یہاں قرب علمی مراد ہے کہ بات اس کے احوال اور دل میں گزرنے والے خیالات تک کی ہورہی ہے قرب مسافت مراد نہیں کہ اس کی ذات اس سے بہت بلند اور پاک ہے مگر تفسیر مظہری میں صوفیائے کرام کے حوالہ سے لکھا ہے کہ احاطہ عملی بھی ہر شے سے ہے اور انسان کے ساتھ ایک خاص قسم کا اتصال بلاکیف موجود ہے جس کی کیفیت کوئی نہیں جانتا جس کے دلائل قرآن حدیث میں موجود ہیں اور جس پر مولوی رومی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 25–27

ف 9 اس لئے اسے انبیاء کی کوئی بات پسند نہ آئی اور وہ میرے بھرے میں آگیا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(50:27) قال قرینہ : قرین سے مراد یہاں شیطان ہے جو دنیا میں اس شخص کے ساتھ لگا ہوا تھا۔ اور یہ بات بھی انداز بیان ہی سے مترشح ہوتی ہے کہ وہ شخص اور اس کا شیطان دونوں خدائی عدالت میں ایک دوسرے سے جھگڑ رہے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ حضور یہ ظالم میرے پیچھے پڑا ہوا تھا اور اسی نے آخر منجھے گمراہ کرکے چھوڑا۔ اس لئے سزا اس کو ملنی چاہیے اور شیطان جواب میں کہتا ہے کہ سرکار میرا اس پر کوئی زور نہیں تھا۔ کہ یہ سرکش نہ بننا چاہتا ہو اور میں نے اسے زبردستی سرکش بنادیا ہو یہ کمبخت تو خود نیکی سے نفور اور بدی پر فریفتہ تھا۔ اسی لئے انبیاء کی کوئی بات اسے پسند نہ آئی اور میری ترغیبات پر یہ پھسلتا چلا گیا۔ ما…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–29

لغات القرآن : آیت نمبر 16 تا 29 : توسوس (چپکے سے وسوسہ ڈالتا ہے) ‘ حبل الورید (شہہ رگ) ‘ قعید (بیٹھا ہوا) ‘ ما یلفظ ( کوئی لفظ نہیں نکلتا) ‘ رقیب (نگہبان۔ نگرانی کرنے والا) سکرۃ الموت (موت کی بےہوشی) ‘ تحید (کتراتا ہے) ‘ یوم الوعید ( ڈرنے کا دن) ‘ سائق (چلانے والا) ‘ غطائ (پردہ) ‘ حدید (بہت تیز) ‘ قرین (ساتھی) ‘ لدی (میرے پاس) القیا (تم دونوں ڈال دو ) ‘ عنید (ضدی) ‘ مناع ( روکنے والا) ‘ معتد (حد سے آگے بڑھ جانے والا) ‘ مریب (شک و شبہ ڈالنے والا) ‘ اطغیت (میں نے سرکشی کی) ‘ لاتختصموا (تم نہ جھگڑو) ۔ تشریح : آیت نمبر 16 تا 29 : ان آیات میں موت اور قیامت کے ہولناک دن کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 20–29

نیک وبد کا انجام۔ (ف 1) جب صور پھ کے گا، قیامت قائم ہوگی، سب مجمع حشر میں اکٹھے ہوں گے تو وہ دن سزا جزا کا ہوگا، اولین وآخرین سب جمع ہوں گے ، وہ دن جس کی خبر دہشت ناک سنائی گئی ہے۔ ظاہر ہوگا یعنی روز جزا ہر آدمی زندہ ہوگا، اس کے ساتھ ایک فرشتہ ہوگا، جو اس کو لے کرجاکردرباررب العزت میں کھڑا کرے گا، اور دوسرا اعمال نامہ کے لیے ہوگا جس میں اس کی زندگی کے سب احوال درج ہوں گے۔ اس وقت کہا جائے گا دنیا کے مزوں میں پڑ کر توآج کے دن سے بیخبر تھا اور تیری آنکھوں کے سامنے شہوات اور خواہشات کا اندھیرا چھایا ہوا تھ ارسول جو سمجھاتے تھے تجھے کچھ دکھائی نہ دیتا تھا آج ہم نے تیری آنکھ سے وہ پردہ ہٹا دیا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 23–27

[8] مراد ہانک کر لانے والا فرشتہ ہے جو عدالت الٰہی میں پہنچ کر عرض کرے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 22–29

ف 1: اس وقت غیب سے آواز آئیگی کہ دنیا میں تمہاری آنکھیں بند تھیں ۔ اس پر دولت ، عزت اور جہالت کے حجاب چھا رہے تھے ۔ آج وہ نقاب اتاردیا گیا ہے ۔ آج تیری نگاہیں تیزی کے ساتھ حالات کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں ۔ بتا کہ یہی وہ چیزیں نہ تھیں ۔ جن کو تیرے سامنے پیش کیا جاتا تھا ۔ اور نوازراہ کبروغرور ان کا انکار کردیتا تھا ۔ کیا یہی وہ حقائق نہیں ہیں ۔ جن سے تجھے آگاہ کیا جاتا تھا اور تو ان کو بڑی بےپروائی سے ٹھکرادیتا تھا ۔ آج یہ چیزیں تیری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں ؟ کیا آج بھی انکار کی جرات ہے ؟ کیا اس وقت بھی جھٹلاتے ہو ؟ فرشتہ شہادت دیگا ۔ کہ اس کے اعمال میرے روزنامچہ میں ہیں ۔ یہ لکھے ہوئے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(27) اس کافر کا وہ ساتھی جو اس پر متعین تھا وہ کہے گا اے ہمارے پروردگار میں نے اس کو زبردستی اور جبراً گمراہ نہیں کیا تھا لیکن یہ خود ہی پرلے درجہ کی گمراہی میں مبتلا تھا۔ یہ وہی قرین یعنی شیطان ہے جو بدکرداری کی وجہ سے انسان پر مسلط کردیا جاتا ہے جس کا ذکر سورہزخرف میں گزر چکا ہے وہ اپنی صفائی میں یہ کہے گا کہ جناب میں نے اس کو زبردستی گمراہ نہیں کیا میں اس پر مسلط ضرور تھا اور اس کو برے کاموں پر بھی ابھارتا تھا لیکن میں نے اس پر کوئی زیادتی اور جبر نہیں کیا بلکہ یہ خود ہی بہت دور کی گمراہی میں پڑا ہوا تھا یعنی ایسی گمراہی جو راہ حق سے بہت دور تھی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ ساتھی…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس کا ساتھی کہے گا اے اللہ ! میں نے اس کو سرکش نہیں بنایا یہ خود ہی گمراہی میں پڑا تھا 27 ۔ ان آیات میں (قرین) کا لفظ دوسری بار آیا ہے اس لیے جو مراد پہلے قرین سے لی گئی ہے وہی دوسرے قرین سے بھی لینا صحیح ہے پہلا قرین کا لفظ آیت 23 میں مذکور ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ ہم نے اس جگہ قرین سے مراد اس کا ساتھی فرشتہ بھی لیا ہے اور خصوصاً وہ فرشتہ جو اس کے برے اعمال لکھنے پر متعین ہے اور جس کو پیچھے (سائق) کے لفظ سے بھی ذکر کیا گیا ہے اس جگہ خطاب تو یہ تھا کہ تم دونوں فرشتے یعنی سائق و شہید اٹھا کر اس کو دوزخ میں پھینک دو اور معلوم ہوتا ہے کہ ایسے وقت میں جب وہ اس کو اٹھا کو دوزخ میں پھینکنے لگیں گے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Man and Devil Dispute before Allah قَالَ قَرِ‌ينُهُ رَ‌بَّنَا مَا أَطْغَيْتُهُ (His (evil) companion (i.e. the Shaitan) will say, "0 our Lord, I did not cause him to rebel,...50:27). The word qarin literally denotes a companion, that is, one who accompanies or associates with another. From this point of view, qarin in the preceding verse referred to the two angels that accompany human beings and record their deeds. Just as there are two angels in the company of man, there is a devil entrusted to every man, who calls him towards commission of sins, and thus leads him astray. In this verse…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

34 Here by °companion" is meant the satan who was attached to the disobedient person in the world. And this also becomes evident from the style that both the person and his satan are disputing between themselves in the Court of AIIah. He says: "My Lord, this wretched one pursued me in the world and did not leave me until he succeeded in misleading me; therefore he alone should be punished. And the satan replies "Lord, I had no power over him. Had he not himself willed to become rebellious, I could not have seduced him forcibly. This wretched person himself fled from goodness and was…

Read the full tafseer →