Explained with ayahs 9–12
مشرکین کا شرک
اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس مشرکانہ فعل کی قباحت بیان فرماتا ہے جو وہ اللہ کے ساتھ شریک کیا کرتے تھے اور دوسروں کی پرستش کرتے تھے۔ اور بیان فرماتا ہے کہ سچا ولی اور حقیقی کارساز تو میں ہوں۔ مردوں کو جلانا میری صفت ہے ہر چیز پر قابو اور قدرت رکھنا میرا وصف ہے پھر میرے سوا اور کی عبادت کیسی ؟ پھر فرماتا ہے جس کسی امر میں تم میں اختلاف رونما ہوجائے اس کا فیصلہ اللہ کی طرف لے جاؤ یعنی تمام دینی اور دنیوی اختلاف کے فیصلے کی چیز کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مانو۔ جیسے فرمان عالی شان ہے آیت (فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ…
Read the full tafseer →سورة الشُّوْرٰی 12
یعنی ولایت کوئی من سمجھوتے کی چیز نہیں ہے کہ آپ جسے چاہیں اپنا ولی بنا بیٹھیں اور وہ حقیقت میں بھی آپ کا سچا اور اصلی ولی بن جائے اور ولایت کا حق ادا کر دے۔ یہ تو ایک امر واقعی ہے جو لوگوں کی خواہشات کے ساتھ بنتا اور بدلتا نہیں چلا جاتا، بلکہ جو حقیقت میں ولی ہے وہی ولی ہے، خواہ آپ اسے ولی نہ سمجھیں اور نہ مانیں، اور جو حقیقت میں ولی نہیں ہے وہ ولی نہیں ہے، خواہ آپ مرتے دم تک اسے ولی سمجھتے اور مانتے چلے جائیں۔ اب رہا یہ سوال کہ صرف اللہ ہی کے ولی حقیقی ہونے اور دوسرے کسی کے نہ ہونے کی دلیل کیا ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کا حقیقی ولی وہی ہوسکتا ہے جو موت کو حیات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
(آیت) لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى۔ ام القریٰ کے معنی میں ساری بستیوں اور شہروں کی اصل اور بنیاد، مراد مکہ مکرمہ ہے۔ اس کا نام ام القریٰ اس لئے رکھا گیا کہ یہ شہر ساری دنیا کے شہروں اور بستیوں سے اور ساری زمین سے اللہ کے نزدیک اشرف و افضل ہے۔ جیسا کہ امام احمد نے مسند میں حضرت عدی بن حمرا زہری سے روایت کی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس وقت سنا جبکہ آپ (مکہ مکرمہ سے ہجرت کر رہے تھے اور) بازار مکہ کے مقام حزورہ پر تھے کہ آپ نے مکہ مکرمہ کو خطاب کر کے فرمایا۔
تو میرے نزدیک اللہ کی ساری زمین سے بہتر ہے اور ساری زمین سے زیادہ محبوب ہے، اگر مجھے اس زمین سے نکالا نہ جاتا تو میں اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
ام اتخذوا من دونہ اولیآء فاللہ ھو الولی وھو یحییٰ الموتی ھو علی کل شیء قدیر (9)
سوال یہاں اظہار تعجب اور انکار کے مفہوم میں ہے۔ اوپر والی آیت میں فرمایا ہے کہ ان کے لئے نہ کوئی کارساز ہوگا۔ نہ مددگار۔ یہ اسی کی مزید وضاحت ہے کہ اگر انہوں نے اللہ کے سوا کچھ دوسرے کار ساز بنا رکھے ہیں تو یہ محض ان کی بو الفضولی ہے۔ کار ساز صرف اللہ ہی ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ وہی ہے جو مردوں کو زندہ کرے گا اور ہر ایک کی پیشی اس کے حضور میں ونی ہے تو کار ساز کوئی دوسرا کیسے بن جائے گا اور وہ ہر چیز پر قادر ہے تو اس کے ہوتے کسی کار ساز کی ضرورت کیا رہی اور اس کے آگے کسی بڑے سے بڑے کار ساز کی کار سازی…
Read the full tafseer →9۔ 1 جب یہ بات ہے تو پھر اللہ ہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو ولی اور کار ساز مانا جائے نہ کہ ان کو جن کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے اور جو سننے اور جواب دینے کی طاقت رکھتے ہیں، نہ نفع نقصان پہنچانے کی صلاحیت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
2: یعنی سب کو زبردستی مسلمان بنا دیتا، لیکن انسان کو پیدا کرنے کا اصل مقصد ہی یہ تھا کہ لوگ زبردستی نہیں، بلکہ خود اپنے اختیار سے سوچ سمجھ کر حق قبول کریں۔ اسی میں ان کا امتحان ہے جس پر آخرت کی جزاء اور سزا مرتب ہونے والی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے کسی کو زبردستی مسلمان بنانا نہیں چاہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
آیت نمبر 7 تا 9 وکذلک اوحینا الیک قرانا عربیاً ( 42 : 7) “ ہاں ، اسی طرح اے نبی یہ قرآن عربی ہم نے تمہاری طرف وحی کیا ہے ”۔ تا کہ تم بستیوں کے مرکزی شہر مکہ کے لوگوں کو ڈراؤ ۔ یہ فقرہ معطوف ہے ، اس فقرے پر جس سے سورت کا آغاز ہوا۔ یعنی کذلک یوحی پر۔ سورت کے آغاز میں آنے والے اس کذلک سے مراد حروف مقطعات تھے۔ یہاں معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان مناسبت حروف مقطعات اور قرآن عربی کی ہے۔ یہ مناسبت ظاہر ہے ۔ یعنی یہ حروف عربی ہیں اور یہ قرآن عربی ہے۔ وحی نے ان حروف سے یہ قرآن بنایا ہے تا کہ وہ اپنا مقصد پورا کرے اور غرض وغایت کیا ہے۔
لتنذر ام القری ومن حولھا (42 : 7) “ تا کہ تم بستیوں کے مرکز (شہر…
Read the full tafseer →4 یعنی رفیق و مددگار بنانا ہے تو اللہ کو بناؤ جو سارے کام بنا سکتا ہے حتی کہ مردوں کو زندہ کرسکتا ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے یہ بیچارے عاجز و مجبور رفیق تمہارا کیا ہاتھ بٹائیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 9 { اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآئَ } ”کیا انہوں نے اللہ کے سوا کوئی اور حمایتی بنا لیے ہیں ؟“
یہاں پر پھر وہی بات دہرائی گئی ہے جو پیچھے ہم آیت 6 میں پڑھ آئے ہیں۔
{ فَاللّٰہُ ہُوَ الْوَلِیُّ } ”سو حمایتی تو صرف اللہ ہی ہے“
اے کم عقلو ! اللہ کو چھوڑ کر تم کدھر بھٹک رہے ہو ؟ اصل حمایتی ‘ مددگار اور کارساز تو بس وہی ہے۔ اسی کو اپنا سہارا بنائو اور اسی کو اپنا ولی مانو ! اس حوالے سے سورة البقرۃ کی آیت 257 کے یہ الفاظ اہل ایمان کے لیے بہت بڑی خوشخبری کی حیثیت رکھتے ہیں : { اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُخْرِجُہُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ } ”اللہ ولی ہے اہل ایمان…
Read the full tafseer →8 آستانوں کے کارساز اصل میں مریدان باصفا ہی ہوتے ہیں :۔ آپ کسی کافر کے یا مشرک کے بت خانے یا آستانے پر تشریف لے جائیے اور دیکھئے کہ کارساز یا کام بنانے والے کون ہیں ؟ کارساز تو وہ ہیں جو نذرانے دیتے اور نیازیں چڑھاتے ہیں انہیں کارسازوں یا مریدوں کے ذریعہ تو آستانوں کا کاروبار چمکتا ہے۔ اور آستانوں کے مجاوروں اور خادموں کی چاندی بنی ہوئی ہے۔ دنیا میں تو عبادت گزار مریدان باصفا ہی ان کے کارساز ہوتے ہیں۔ رہی آخرت کی بات جس کی وجہ سے یہ ان کے کارساز بنے ہوئے ہیں تو یہ بات آج نہیں آخرت کو انہیں ٹھیک طرح معلوم ہوجائے گی۔ کہ یہ اولیاء بھی انہی کی طرح عاجز مخلوق اور اللہ کے دربار میں بالکل بےبس ہیں۔…
Read the full tafseer →10۔ (تو اس کے سوا تو کسی میں کارساز بننے کی صلاحیت ہی نہیں) مقصود مشرکوں اور اہل کتاب دونوں کے عقائد شرکیہ کی تردید ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
آیت نمبر 1 تا 9
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰم۔ عسق اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے اسی طرح یعنی اس وحی بھیجنے کے مانند اللہ تعالیٰ جو زبردست ہے اپنے ملک میں حکمت والا ہے، اپنی صنعت میں تیری طرف اور تجھ سے اگلوں کی طرف وحی بھیجتا رہا ہے، اللہ ایحاء کا فاعل ہے، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے ملکیت کے اعتبار سے، تخلیق کے اعتبار سے، اور مملوکیت کے اعتبار سے، اور وہ اپنی مخلوق پر برتر اور عظیم الشان ہے، قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں (تکاد) تاء اور یاء کے ساتھ ہے (یَنْفَطِرنَ ) نون کے ساتھ ہے، اور ایک قراءت میں (نون کے بجائے) تاء مع…
Read the full tafseer →ام اتخذوا من دونہ اولیاء فا اللہ ھو الولی وھو یحی الموتی وھو علی کل شیء قدیر کیا
ان لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے کارساز قرار دے رکھے ہیں ؟ کارساز تو اللہ ہی ہے ‘ وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
اَمِ اتَّخَذُوْا۔ اَمْ (منقطعہ) بمعنی بَلْ ہے اور ہمزہ انکاری ہے ‘ یعنی کافروں نے اللہ کو حامی اور کارساز نہیں قرار دیا بلکہ اسکے سوا دوسروں کو (یعنی بتوں اور شیطانوں وغیرہ کو) کارساز قرار دیا اور ایسا کرنا کسی طرح صحیح نہ تھا ‘ یا یہ معنی ہے کہ جن کارساز ہے وہ ان کے حامی نہیں ہوں گے ‘ کارساز تو اللہ ہی ہے ‘ وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو کارساز قرار دیا جائے ‘ وہی ہر شخص کو اس…
Read the full tafseer →کیا ان لوگوں نے اللہ کے علاوہ دوسروں کارسازوں کو معبود قرار دے رکھا ہے اللہ ہی ان سب کا کارساز ہے وہ ہی حشر کے لیے مردوں کو زندہ کرے گا اور وہی مارنے اور جلانے ہر چیز پر قادر ہے۔
Read the full tafseer →ام اثخذوا من دونہ اولیآء …: پچھلی آیت میں جو فرمایا کہ ظالموں کے لئے نہ ولی (دوست) ہے نہ کوئی مددگار، یہ اس کی تفصیل ہے کہ آیا انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر کوئی اولیاء کار ساز اور دوست بنا رکھے ہیں۔ سو اصل دوست جو فی الواقع کارسازی اور مدد کرسکتا ہے وہ تو صرف اللہ ہے۔ ساتھ ہی اس کی دو زبردست دلیلیں بیان فرمائیں کہ وہی مردوں کو زندگی بخشا ہے اور بخشے گا اور وہی ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے، کیونکہ اس کا حق وہی رکھتا ہے جس میں یہ صفات ہوں۔ پھر اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا کہ ایسی ہستیوں کو الویاء اور کار ساز بنا لیا جائے جو کسی کو زندگی بخشا تو درکنار خود مرنے والے ہیں۔ پھر اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا کہ ایسی…
Read the full tafseer →ام یہاں بل کے معنی میں ہے۔ اولیاء سے مراد بت ہیں۔ اے محمد ! اللہ تعالیٰ کی ذات ہی تیرا اور تیرے پیروکاروں کا ولی ہے اس کے سوا اس کے سوا کوئی ولی نہیں وھو یحی الموتی سے مراد بعث بعد الموت ہے اللہ تعالیٰ کی ذات ہر چیز پر قادر ہے جبکہ اس کے سوا کوئی کسی شے پر قادر نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
جنت اور جہنم کے باشندے متعین ہیں :
قولہ تعالیٰ : فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر “
8:۔ احمد (رح) و ترمذی (رح) (وصححہ) و نسائی (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس اس حال میں تشریف لائے کہ آپ کے ہاتھ میں دو کتابیں تھیں آپ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کتابیں ہم نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم کو نہیں بتائیں گے (کہ یہ کتابیں کیا ہیں) آپ نے فرمایا جو کتاب میرے داہنے ہاتھ میں ہے یہ رب العالمین کی طرف سے ہے جنت والوں اور ان کے آباء اور ان کے قبیلوں کے نام ہیں پھر آخرتک اجمالی طور پر خبردی کہ اب اس میں کبھی بھی زیادتی…
Read the full tafseer →اَمِ اتَّخَذُوْا [ یا ان لوگوں نے بنائے ] مِنْ دُوْنِهٖٓ [ اس کے سوا ] اَوْلِيَاۗءَ ۚ [ کچھ کار ساز ] فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِيُّ [ تو اللہ ہی کار ساز ہے ] وَهُوَ يُـحْيِ [ اور وہ ہی زندہ کرے گا ] الْمَوْتٰى ۡ [ مردوں کو ] وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ اور وہ ہی ہر چیز پر ] قَدِيْرٌ [ قدرت رکھنے والا ہے ]
Read the full tafseer →مشرکین کی تردید
اس کے بعد شرک کا ابطال کیا اور اس کی قباحت بیان فرمائی اور فرمایا ﴿اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِيَآءَ 1ۚ ﴾ (کیا انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے کارساز بنالیے) یہ انہوں نے برا کیا ﴿فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِيُّ ﴾ (کارساز اللہ ہی ہے) ﴿وَ هُوَ يُحْيِ الْمَوْتٰى﴾ (اور وہ مردوں کو زندہ فرماتا ہے بلکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے جو قادر مطلق ہے اسے چھوڑ کر کسی دوسرے کو کار ساز بنانا حماقت کی بات ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
اثبات وحی الہی مع بیان عظمت رب کبریاو وعید بہ شرک ونافرمانی :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” حم عسق ....... الی ....... انہ بکل شیء علیم “۔
(ربط) ” گذشہ سورت کے مضامین کا حاصل مخالفین کے اعتراضات کا رد اور ان پر توبیخ وتنبیہ تھا، اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی رسالت اور وحی کی عظمت کو ثابت کیا جارہا ہے، اور اسی کے ضمن میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے، اور مجرمین ومنکرین پر توبیخ ووعید بھی ہے کہ یہ اپنے افعال قبیحہ کی سزا سے ہرگز نہیں بچ سکتے ارشاد ہے ،
(آیت ) ” حم عسق “۔ اللہ رب العزت ہی اس کی مراد خوب جاننے والا ہے، اصول دین اور احکام شریعت کی تعیین اور تحقیق کے لیے جیسے آپ ﷺ پر یہ سورت نازل کی جارہی…
Read the full tafseer →8:۔ ” ام اتخذوا من دونہ اولیاء “ یہ زجر کا اعادہ ہے۔ کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا اوروں کو کارساز اور مددگار بنا رکھا ہے، تاکہ آڑے وقت میں ان کے کام آئیں ؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ ہی سب کا یار و مددگار اور سب کا کارساز ہے، اس کی شان ہے کہ وہ مردوں کو بھی زندہ کرسکتا ہے اور ہر چیز اور ہر کام پر قدرت رکھتا ہے۔ یہ صفات اللہ کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتیں۔ اس لیے اس کے سوا کسی اور کو اپنا مددگار اور کارساز نہ سمجھو۔ یعنی ان من یکون بھذہ الصفۃ فھو الحقیق بان یتخذ ولیا ومن لایکون بھذہ الصفۃ فلیس بول (خازن ج 6 ص 117) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
وحی الٰہی کی حقانیت
وحی الٰہی پر ایمان لانا دین کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔ سورة ہذا کی ابتداء بھی وحی الٰہی کی حقانیت سے ہوئی جیسا کہ گزشتہ درس میں فرمایا کذلک یوحی الیک والی الدین من قبلک اسی طرح ہم نے وحی بھیجی آپ کی طرف جیسا کہ وحی بھیجی آپ سے پہلے لوگوں کی طرف ، اور اب اس درس کا آغاز بھی درس الٰہی کی حقانیت سے ہو رہا ہے ۔ البتہ سابقہ درس کی نسبت وحی الٰہی کا ذکر اس مقام پر قدرے تفصیل سے ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وکذلک اوحیان الیک قرانا عریبا اور اسی طرح ہم نے وحی نازل کی ہے آپ کی طرف ایک قرآن جو عربی زبان میں ہے۔ قرآن پاک میں وحی الٰہی اور دوسرے بنیادی عقائد کا تذکرہ بار ہا آ رہا ہے تا کہ بات…
Read the full tafseer →اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِيَاۗءَ 0 ۚ فَاللہُ ہُوَالْوَلِيُّ وَہُوَ يُـحْيِ الْمَوْتٰى 0 ۡوَہُوَعَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 9 ۧ
أخذ ( افتعال، مفاعله)
والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
ترکیب : قرآنا مفعول لاوحینا لتنذر متعلق باوحینا فریق خبرمبتدء محذوف ای بعضھم فریق فی الجنۃ و الظالمون مبتدء ومابعدہ خبرہ اولیاء بالنصب علی انہ مفعول لاتخذوامن دونہ حال منہ ای حال کون الاولیاء غیر اللہ الولی خبر فاللہ ھو ضمیر الفصل للتاکید۔
تفسیر : پھر مسئلہ نبوت کا ذکر کرتا ہے وکذلک اوحینا الخ کہ جس طرح انبیائِ سابقین پر وحی کی گئی تھی اسی طرح اے محمد ﷺ ! ہم نے تیری طرف عربی زبان میں قرآن وحی کیا کس لیے لتنذرام القرٰی تاکہ تو اہل مکہ کو اور اس کے آس پاس والوں کو خبردار کر دے ڈراوے کہ تم پر اگر باز نہ آؤ گے بلا آنے والی ہے اور ان کو قیامت کے دن سے بھی ڈراوے کہ جس میں کوئی شک نہیں کہ اس روز ایک…
Read the full tafseer →اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَـآئَ ج فَاللّٰہُ ھُوَالْوَلِیُّ وَھُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰی ز وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ (الشوری : 9)
(کیا ان لوگوں نے اس کے سوا دوسرے ولی بنا رکھے ہیں۔ ولی تو اللہ ہی ہے، وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ )
ولی کی وضاحت اور مشرکین کے رویئے پر اظہارِتعجب
گزشتہ آیات میں یہ بات اچھی طرح واضح کی گئی ہے کہ ولی اسے کہتے ہیں جس کے اندر صفت ولایت پائی جاتی ہو۔ اور صفت ولایت ایسی صفت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور میں نہیں پائی جاتی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا فوق الفطری طریقے سے کوئی دوسرا شخص نہ کسی کی مدد کرسکتا ہے نہ آفات و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
فہم القرآن
ربط کلام : اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو لوگ جہنّمی نہ بنتے اور سب کے سب لوگ جنت میں داخل ہوتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو حق پر مجبور کرنے کی بجائے اس نے لوگوں کو حق و باطل میں انتخاب کا اختیار دے رکھا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر زمین میں حکمرانی عطا فرمائی اور ہر چیز کو اس کی خدمت پر لگا دیا۔ اشرف المخلوقات اور زمین پر خلیفہ ہونے کی حیثیت سے اسے اس کی ذات کے بارے میں ایک حد تک اختیارات عطا فرمائے ہیں۔ جس میں سب سے بڑا اختیار یہ دیا کہ یہ چاہے تو ” اللہ “ کی نازل کردہ ہدایت قبول کرے نہ چاہے تو گمراہی کا راستہ اختیار کرلے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کے سامنے…
Read the full tafseer →حقیقی کارساز اللہ تعالیٰ ہے :
9: اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآ ئَ فَاللّٰہُ ھُوَ الْوَلِیُّ (کیا ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کارساز قرار دے رکھے ہیں پس اللہ تعالیٰ ہی کارساز ہے)
نحو : فاء فاللہ کی شرط مقدر کا جواب ہے۔ گویا اس کے سواہر ایک کی کارسازی سے انکار کے بعد فرمایا کہ اگر وہ حقیقی کارساز کے طالب ہیں تو اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی وہی حقیقی کارساز ہے۔ اور ضروری ہے کہ اسی کی دوستی اختیار کی جائے کوئی اور کارساز اس کے سوا ہے ہی نہیں۔ وَھُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰی وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ (اور وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے) پس وہی اس لائق ہے…
Read the full tafseer →تفسیر 8، ولوشاء اللہ لجعلم امۃ واحدۃ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دین پر اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں خہ ملت اسلام پر جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قول، ولوشاء اللہ لجعلھم علی الھدی، ہے۔ ، ولکن یدخل من یشاء فی رحمتہ، دین اسلام میں ، والظالمون، کافر لوگ ، مالھم من ولی، جوان سے عذاب ہٹائے۔ ، ولا نصیر، جوان کو آگ سے بچائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
8۔ 12۔ اکثر علما کے نزدیک مشیت اور ارادے کے ایک ہی معنی ہیں۔ اس تفسیر میں ایک جگہ گزر چکا ہے کہ ارادہ علم کا تابع ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے ہر ایک کام کا انجام جان لیا جاتا ہے پھر اس کام کا ارادہ کیا جاتا ہے مثلاً کھیتی کرنے اور باغ لگانے سے پہلے یہ انجام سوچ لیا جاتا ہے کہ جس زمین میں کھیتی یا باغ کا ارادہ ہے اس زمین میں کھیتی اور باغ کی پیداوار ہوجائے گی تو پھر اس زمین میں کھیتی کے کرنے کا یا باغ کے لگانے کا ارادہ کیا جاتا ہے اس بنا پر پہلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو سب نافرمان لوگوں کو فرمان بردار بنا کر تمام مخلوقات کو نیک کردیتا لیکن اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں جو لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
آیت 1
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے یہ قرآن عظیم نبی کریم ﷺ کی طرف وحی کیا ہے جس طرح آپ سے پہلے انبیاء ومرسلین کی طرف وحی کی۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا ذکر ہے کہ اس نے گزشتہ زمانوں میں اور بعد میں آنے والے زمانوں میں کتابیں نازل کیں اور انبیاء و رسل مبعوث کئے، نیز یہ کہ محمد مصطفیٰ ﷺ کوئی انوکھے رسول نہیں، آپ کا طریقہ وہی ہے جوپ ہلے انبیاء ومرسلین کا طریقہ تھا۔ آپ کے احوال گزشتہ انبیاء کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں۔ جو دعوت آپ لے کر آئے ہیں وہ گزشتہ انبیاء کی دعوت سے مشابہت رکھتی ہے کیونکہ ان کی دعوت اور آپ کی دعوت سب حق اور سچے ہے اور یہ کتابیں اس ہستی کی طرف…
Read the full tafseer →20 کارساز سب کا اللہ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر وقصر کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ہی سب کا ولی و کارساز ہے "۔ وہی ہر کسی کی حاجت روائی کرتا اور کارسازی اور مشکل کشائی فرماتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جنہوں نے اس کے سوا اور خود ساختہ کارساز و مشکل کشا بنا رکھے ہیں وہ راہ حق و صواب سے ہٹے ہوئے اور گمراہی کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اوپر ارشاد فرمایا گیا تھا کہ " ظالموں کیلئے نہ کوئی حمایتی ہوگا نہ مددگار "۔ سو اس کے مقابلے میں اب یہاں پر ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ کارساز حقیقی سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ پس عقل و نقل اور فطرت مستقیم کا تقاضا یہی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
اللہ کا غلبہ، قدرت، دانائی اور رحم و کرم سب سے زیادہ ہے
تشریح : پہلی اور دوسری آیات میں حروف مقطعات ہیں۔ اس کے بعد رب ذوالجلال کی صفات کا ذکر ہے۔ توحید پر ایمان لانا انسان کے لیے بہترین راستہ ہے۔ کیونکہ یہی مبارک راستہ انسان کو زندگی کی تمام قباحتوں سے بچاتا ہے۔ انسان کو ایسانظام حیات عطا کرتا ہے کہ جس کی وجہ سے عبادات، اخلاقیات، معاملات، حقوق اور تعزیرات کا ایک بہترین نقشہ انسان کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ یہ نظام حیات انسان کو ظلم زیادتی، کفر و شرک، بےحیائی بد نظمی اور تمام غم، خوف اور پریشانیوں سے محفوظ کردیتا ہے۔ اسی لیے قرآن کو بہت بڑی رحمت اور اسلام کو سلامتی کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس پیغام کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
آیات 1 تا 9۔
اسرار ومعارف۔
حروف مقطعات کے معنی علم الٰہی میں ہیں ، اسی طرح دلائل کے ساتھ حقائق بیان کرنے کے لیے اور حق کو ثابت کرنے کے لیے آپ سے پہلے انبیاء پر بھی وحی نازل کی گئی جس طرح آپ پر نازل ہوئی ہے کہ اللہ زبردست اور غالب اور بڑی حکمتوں والا ہے سب اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے جو کچھ زمین میں ہے اور سب پر اسی کی حکمرانی ہے وہی عظیم ہے ساری کائنات میں جس طرح اس کا حکم جاری ہے اور خود انسان کے تقدیری امور میں بھی اگر چاہتا تو سب سے حکما منوالیتا مگر اس کی حکمت کہ انسان کو اختیار دیا اور راہنمائی کے لیے انبیاء (علیہم السلام) اور وحی کا سلسلہ جاری فرمایا ورنہ اس کی عبادت وتسبیح کرنے کو…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی دوسروں کو اپنا سرپرست اور مددگار بنانے سے کیا فائدہ ؟ مددگار بنائے جانے کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔
Read the full tafseer →(42:9) ام : بمعنی بل ہے۔ یعنی کافروں نے اللہ کو حامی و ناصر و کارساز قرار نہیں دیا بلکہ اس کے سوا دوسروں کو کارساز قرار دیا ہے (اور ایسا کرنا کسی طرح صحیح نہ تھا) ۔
من دونہ : دون مضاف ہ مضاف الیہ۔ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔ اس کے سوا۔ اس کے درے۔ من حرف جار ہے
اولیائ : ولی کی جمع ۔ دوست۔ ساتھی۔ منصوب بوجہ اتخذوا کے مفعول ہونے کے ہے۔ اتخذوا ماضی جمع مذکر غائب ۔ اتخاذ (افتعال) مصدر۔ انہوں نے اختیار کیا۔ انہوں نے ٹھہرالیا۔
فاللّٰہ ھو الولیجواب شرط مقدرہ کے لئے ہے۔ تقدیر کلام ہے : ان ارادوا ولیا بحق فاللّٰہ تعالیٰ ھو الولی بحق۔ اگر وہ حقیقی کار ساز کا ارادہ رکھتے تھے تو اللہ تعالیٰ ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 9 : تکاد ( قریب ہے) یتفطرن (پھٹ پڑیں) ام القریٰ (مکہ مکرمہ (شہروں کی ماں) یوم الجمع (جمع ہونے کا دن ( قیامت کا دن) السعیر ( دھکتی آگ)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 9 : اس سورت کا آغاز ان حروف سے کیا گیا ہے جو الگ الگ کر کے پڑھے جاتے ہیں۔ ان کو حروف مقطعات کہا جاتا ہے ۔ اس سے پہلے اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ کو ہے۔ یہ آیات متشابہات میں سے ہیں ۔ ان کے معنی کا علم ممکن ہے نبی کریم ﷺ کو دیا گیا ہو مگر آپ نے ان کے معنی کسی کو نہیں بتائے۔ اگر امت کے لئے ضروری ہوتا تو نبی کریم ﷺ ان حروف کے معنی ضرور ارشاد فرماتے۔
دوسری بات یہ ہے کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
(ف 1) اس آیت میں مشرکین کو یہ تنبیہ فرمائی کہ تم لوگ اختلاف کی باتیں جو کررہے ہو کہ تمہارا طریقہ اچھا ہے اور دین اسلام اچھا نہیں تو اس کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے وقت مقررہ پر اس فیصلہ کو کردے گا پھر ارشاد فرمایا کہ ان مشرکوں سے کہہ دو کہ میں نے ہر طرح سے اپنا بھروسہ اللہ ہی پر کیا ہے اور سب کو چھوڑ کر اس کی طرف رجوع ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
[5] یہ اللہ تعالیٰ کے مالک کائنات ہونے کا فطری اور منطقی تقاضا ہے۔ جب بادشاہی اس کی ہے تو لامحالہ پھر حاکم بھی وہی ہے اور انسانوں کے باہمی تنازعات و اختلافات کا فیصلہ کرنا بھی اس کا کام ہے۔ اس ضمن میں ملاحظہ ہو سورة نساء آیت 59 صفحہ 190 اور سورة احزاب آیت 36 صفحہ 996۔
Read the full tafseer →ف 1: غرض یہ ہے کہ کفرو ایمان کی تقسیم بالکل فطری ہے ۔ اور اللہ کی مصالح کے سرافق ہے وہ اگر چاہتا تو ہر نوع کے اختلافات کو اٹھا دیتا ۔ اس کے لئے یہ بہت آسان اور سہل تھا ۔ اور جب کہ اس نے ان اختلافات کو باقی رکھا ہے ۔ تو ان سے گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ خندہ پیشانی سے کرنا چاہیے ۔ اور کوشش کرنی چاہیے ۔ اس کی خلیج زیادہ وسیع نہ ہونے پائے ۔
Read the full tafseer →(9) کیا ان مشرکوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور دوسروں کو کار ساز بنارکھا تھا اور اگر کسی کو کارساز بنارکھا ہے تو اللہ تعالیٰ ہی کارساز ہے اور وہی کام بنانے والا ہے اور روہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ یعنی کار ساز اللہ تعالیٰ کے علاوہ یہ مشرک دوسروں کو بناتے ہیں حالانکہ حقیقی کار ساز اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اور وہی مستحق ہے کہ اس کو کار ساز بنایا جائے۔
وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے یہ شاید اس لئے فرمایا کہ مردوں کو زندہ عطا کرنا کسی کے قبضے میں نہیں اور خاص کر ایسے وقت جبکہ برائے نام کام آنے کا بھی سلسلہ منقطع ہوجائے ایک مردوں کا زندہ کرنا کیا وہ ہر چیز پر…
Read the full tafseer →ف 4۔ تو کارساز بنانے کے لائق وہی ہوا جس کی قدرت ہر چیز پر عموما اور احیاء موتی پر خصوصا ثابت ہے، اس قدرت کا خاصہ اس لئے بیان کیا کہ اس وقت اوروں کی قدرت جواب برائے نام ہے، وہ بھی بےنام ونشان ہوجاوے گی تو ظہور قدرت کا اتم ہوگا۔
Read the full tafseer →کیا انہوں نے اللہ ربِّ کریم کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا کار ساز بنا لیا ہے ؟
9 ؎ گزشتہ آیت میں ارشاد فرمایا جا چکا ہے کہ جو لوگ بےراہ ہوگئے ہیں ان کا کوئی حامی و ناصر قیامت کے روز نہیں ہوگا اور جو آسرے اور سہارے انہوں نے بنا رکھے ہیں سب کے سب یک قلم ختم ہو کر رہ جائیں گے۔ اب اس کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے کہ جو لوگ جان بوجھ کر اور اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی بجائے اس کی نافرمانی کرتے ہیں اور اس کی مخلوق میں سے جس کو چاہتے ہیں اپنا کار ساز بنا لیتے ہیں انہیں ان سے کیا فائدہ حاصل ہوگا ؟ بھلا جو اپنی بگڑی نہیں بنا سکتے وہ ان کا کیا بھلا کریں گے جو خود مشکلات میں گھرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
لِّتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَىٰ (So that you may warn the town that is the mother of all towns) - Umm-ul- Qura (mother of all the towns) means the origin and foundation of all habitations and cities which is Makkah. This title has been given to this city because, to Allah Almighty, it is more distinguished and more excellent than all other cities, habitations and the whole earth. Imam Ahmad has narrated in Musnad, with the authority of Sayyidna ` Adiyy Ibn Hamra' Az-zuhri ؓ that he heard the Messenger of Allah at a market of Makkah when he ﷺ was migrating from the city. He ﷺ was addressing…
Read the full tafseer →12 That is, "Guardianship is not a thing of one's personal choice and satisfaction that one may take anyone one may please as one's guardian, and the other may also become ones real and true guardian and may do full justice to the function of guardianship. This is an actual reality, which does not change with the whims of the people; the Guardian is He Who is really the Guardian, whether someone regards and acknowledges Him as his Guardian or not, and the one who is not in reality the ,guardian is not the guardian, no matter whether someone continues to regard and acknowledge him as his…
Read the full tafseer →