Ash-Shura 42:10

Ash-Shura · from ayah 10

42:10

وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَی اللّٰهِ ؕ— ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ ۖۗ— وَاِلَیْهِ اُنِیْبُ ۟وَمَا اخۡتَلَـفۡتُمۡ فِيۡهِ مِنۡ شَىۡءٍ فَحُكۡمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ‌ ؕ ذٰ لِكُمُ اللّٰهُ رَبِّىۡ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُۖ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ

اور تم جس بات میں اختلاف کرتے ہو اس کا فیصلہ خدا کی طرف (سے ہوگا) یہی خدا میرا پروردگار ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And in anything over which you disagree - its ruling is [to be referred] to Allah. [Say], "That is Allah, my Lord; upon Him I have relied, and to Him I turn back."

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 2 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shura

All translations of 42:10

تمہارے درمیان جس معاملہ میں بھی اختلاف ہو، اُس کا فیصلہ کرنا اللہ کا کام ہے وہی اللہ میرا رب ہے، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا، اور اُسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تم جس بات میں اختلاف کرتے ہو اس کا فیصلہ خدا کی طرف (سے ہوگا) یہی خدا میرا پروردگار ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جس جس چیز میں تمہارا اختلاف ہو اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے، یہی اللہ میرا رب ہے جس پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے اور جس کی طرف میں جھکتا ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تم جس بات میں بھی اختلاف کرتے ہو، اس کا فیصلہ اللہ ہی کے سپرد ہے، لوگو ! وہی اللہ ہے جو میرا پروردگار ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے، اور اسی سے میں لو لگاتا ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم جس بات میں اختلاف کرو تو اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہے یہ ہے اللہ میرا رب میں نے اس پر بھروسہ کیا، اور میں اس کی طرف رجوع لاتا ہوں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور تم جس اَمر میں اختلاف کرتے ہو تو اُس کا فیصلہ اللہ ہی کی طرف (سے) ہوگا، یہی اللہ میرا رب ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ چیز جس میں تم نے اختلاف کیا، کوئی بھی چیز ہو تو اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہے، وہی اللہ میرا رب ہے، اسی پر میں نے بھروسا کیا اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جس بات میں بھی تم اختلاف کرتے ہو اس کا فیصلہ کرنا اللہ کا کام ہے۔ وہی اللہ میرا پروردگار ہے میں اسی پر بھروسہ کرچکا اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جس کسی چیز میں بھی تم نے اختلاف کیا ہے تو اس کا فیصلہ اللہ کے حوالہ ہے۔ وہی اللہ میرا رب ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (ان کو یہ بھی بتادو کہ) جس چیز کے بارے میں بھی تمہارے درمیان اختلاف واقع ہوجائے تو اس کا فیصلہ کرنا اللہ ہی کا کام ہے یہ ہے اللہ میرا رب میں نے اسی پر بھروسہ کر رکھا ہے اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں

— مولانا اسحاق مدنی

اور جس چیز میں تم اختلاف کرتے ہو اس کا فیصلہ اللہ ہی کے سپرد ہے۔ یہی اللہ میرا مددگار ہے میں اسی پر توکل رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جس بات میں بھی تم اختلاف کرو تو اس کا فیصلہ اللہ ہی کی طرف ہے۔ } وہ ہے اللہ میرا رب اسی پر میں نے ّتوکل کیا ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تم جس بات میں اختلاف کرتے ہو اس کا فیصلہ اللہ کی طرف سے ہوگا ‘ یہی اللہ میرا پروردگار ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The judgement on whatever you differ rests with Allah. Such is Allah, my Lord; in Him I have put all my trust and to Him I always turn in devotion.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And (Say O prophet to your opponents,) :Whatever dispute you have in any matter, its judgment lies with Allah. That One is Allah, the Lord of mine; in Him alone I have placed my trust, and to Him alone I turn (in every matter).

— Muhammad Taqi Usmani

And (Say O prophet to your opponents,) :Whatever dispute you have in any matter, its judgment lies with Allah. That One is Allah, the Lord of mine; in Him alone I have placed my trust, and to Him alone I turn (in every matter).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And in whatsoever you differ, the decision thereof is with Allah. Such is Allah, my Lord in Whom I put my trust, and to Him I turn in repentance.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And in whatsoever ye differ, the verdict therein belongeth to Allah. Such is my Lord, in Whom I put my trust, and unto Whom I turn.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And in anything over which you disagree - its ruling is [to be referred] to Allah. [Say], "That is Allah, my Lord; upon Him I have relied, and to Him I turn back."

— Saheeh International

Whatever differences you may have about the Quran, the final decision rests with God. In Him do I trust and to Him do I turn in repentance.

— Muhammad Sarwar

And in whatever thing you disagree, the judgment thereof is (in) Allah's (hand); that is Allah, my Lord, on Him do I rely and to Him do I turn time after time.

— Muhammad Habib Shakir

And whatsoever it be wherein ye differ the decision thereof is with Allah; such is Allah, my Lord: in Him put my trust and Unto Him I turn in penitenance.

— Abdul Majid Daryabadi

Whatever it be wherein ye differ, the decision thereof is with Allah: such is Allah my Lord: In Him I trust, and to Him I turn.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 42:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 9–12

مشرکین کا شرک اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس مشرکانہ فعل کی قباحت بیان فرماتا ہے جو وہ اللہ کے ساتھ شریک کیا کرتے تھے اور دوسروں کی پرستش کرتے تھے۔ اور بیان فرماتا ہے کہ سچا ولی اور حقیقی کارساز تو میں ہوں۔ مردوں کو جلانا میری صفت ہے ہر چیز پر قابو اور قدرت رکھنا میرا وصف ہے پھر میرے سوا اور کی عبادت کیسی ؟ پھر فرماتا ہے جس کسی امر میں تم میں اختلاف رونما ہوجائے اس کا فیصلہ اللہ کی طرف لے جاؤ یعنی تمام دینی اور دنیوی اختلاف کے فیصلے کی چیز کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مانو۔ جیسے فرمان عالی شان ہے آیت (فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّوْرٰی 13 اس پورے پیراگراف کی عبارت اگرچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے، لیکن اس میں متکلم اللہ تعالیٰ نہیں ہے، بلکہ رسول اللہ ﷺ ہیں۔ گویا اللہ جل شانہ اپنے نبی کو ہدایت دے رہا ہے کہ تم یہ اعلان کرو۔ اس طرح کے مضامین قرآن مجید میں کہیں تو قل (اے نبی، کہو) سے شروع ہوتے ہیں، اور کہیں اس کے بغیر ہی شروع ہوجاتے ہیں، صرف انداز کلام بتادیتا ہے کہ یہاں متکلم اللہ نہیں بلکہ اللہ کا رسول ہے۔ بلکہ بعض مقامات پر تو کلام اللہ کا ہوتا ہے اور متکلم اہل ایمان ہوتے ہیں، جیسے مثلاً سورة فاتحہ میں ہے، یا متکلم فرشتے ہوتے ہیں، جیسے مثلاً سورة مریم 24۔ 25 میں ہے۔ سورة الشُّوْرٰی 14 یہ اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–12

خلاصہ تفسیر اور (آپ ان لوگوں سے جو توحید میں آپ سے اختلاف رکھتے ہیں یہ کہئے کہ) جس جس بات میں تم (اہل حق کے ساتھ) اختلاف کرتے ہو اس (سب) کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کے سپرد ہے (وہ یہ ہے کہ دنیا میں دلائل و معجزات کے ذریعہ توحید کا حق ہونا واضح فرما دیا اور آخرت میں ایمان والوں کو جنت اور ایمان نہ لانے والوں کو جہنم میں ڈالا جائے گا) یہ اللہ (جس کی یہ شان ہے) میرا رب ہے (اور تمہارے خلاف و مخالف سے جو کسی تکلیف و نقصان کے پہنچنے کا اندیشہ ہوسکتا ہے اس کے بارے میں) اسی پر توکل رکھتا ہوں اور (دنیا و دین کے سب کاموں میں) اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں (اس سے توحید کا مضمون خوب موکد ہوگیا۔ آگے دوسری صفات…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 9–10

ام اتخذوا من دونہ اولیآء فاللہ ھو الولی وھو یحییٰ الموتی ھو علی کل شیء قدیر (9) سوال یہاں اظہار تعجب اور انکار کے مفہوم میں ہے۔ اوپر والی آیت میں فرمایا ہے کہ ان کے لئے نہ کوئی کارساز ہوگا۔ نہ مددگار۔ یہ اسی کی مزید وضاحت ہے کہ اگر انہوں نے اللہ کے سوا کچھ دوسرے کار ساز بنا رکھے ہیں تو یہ محض ان کی بو الفضولی ہے۔ کار ساز صرف اللہ ہی ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ وہی ہے جو مردوں کو زندہ کرے گا اور ہر ایک کی پیشی اس کے حضور میں ونی ہے تو کار ساز کوئی دوسرا کیسے بن جائے گا اور وہ ہر چیز پر قادر ہے تو اس کے ہوتے کسی کار ساز کی ضرورت کیا رہی اور اس کے آگے کسی بڑے سے بڑے کار ساز کی کار سازی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

11۔ 1 اس اختلاف سے مراد دین کا اختلاف ہے جس طرح یہودیت، عیسائیت اور اسلام وغیرہ میں آپس میں اختلاف ہیں اور ہر مذہب کا پیروکار دعویٰ کرتا ہے اس کا دین سچا ہے اور حق کا راستہ پہنچاننے کے لئے اللہ تعالیٰ کا قرآن موجود ہے۔ لیکن دنیا میں لوگ اس کلام الٰہی کو اپنا اور ثالث ماننے کے لئے تیار نہیں۔ بالآخر پھر قیامت کا دن ہی رہ جاتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ ان اختلافات کا فیصلہ فرمائے گا اور سچوں کو جنت میں اور دوسروں کو جہنم میں داخل فرمائے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–13

2: یعنی سب کو زبردستی مسلمان بنا دیتا، لیکن انسان کو پیدا کرنے کا اصل مقصد ہی یہ تھا کہ لوگ زبردستی نہیں، بلکہ خود اپنے اختیار سے سوچ سمجھ کر حق قبول کریں۔ اسی میں ان کا امتحان ہے جس پر آخرت کی جزاء اور سزا مرتب ہونے والی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے کسی کو زبردستی مسلمان بنانا نہیں چاہا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 10–12

آیت نمبر 10 تا 12 ان حقائق کو اس ایک پیراگراف میں پیش کرنے کا طریقہ بڑا عجیب ہے۔ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان حقائق کے درمیان ایک باریک اور خفیہ ربط موجود ہے۔ یہ کہ لوگوں کے درمیان جو اختلافات ہیں ، ان کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وما اختلفتم فیہ من شییء فحکمہ الی اللہ (42 : 10) “ تمہارے درمیان جس معاملہ میں بھی اختلاف ہو ، اس کا فیصلہ کرنا اللہ کا کام ہے ”۔ اور اللہ نے اپنا فیصلہ اس قرآن میں نازل کردیا ہے اور اس قرآن نے دنیا و آخرت دونوں کے بارے میں فیصلے کر دئیے ہیں اور لوگوں کی زندگی کے لئے انفرادی اور اجتماعی منہاج اس کے اندر ضبط کردیا ہے۔ ان کے نظام زندگی ، ان کے نظام معیشت ، ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی سب جھگڑوں کے فیصلے اسی کے سپرد ہونے چاہئیں۔ عقائد ہوں یا احکام، عبادات ہوں یا معاملات جس چیز میں بھی اختلاف پڑجائے اس کا بہترین فیصلہ اللہ کے حوالہ ہے وہ دلائل کونیہ کے ذریعہ سے یا اپنی کتاب میں یا اپنے رسولوں کی زبان پر صراحتہً یا اشارۃً جس مسئلہ کا جو فیصلہ فرما دے بندہ کو حق نہیں کہ اس میں چون و چرا کرے۔ توحید جو اصل اصول ہے۔ اللہ تعالیٰ جب قولاً و فعلاً برابر اس کا حکم دیتا رہا ہے پھر کیونکر جائز ہوگا کہ بندہ ایسے قطعی اور محکم فیصلہ میں جھگڑے ڈالے اور بیہودہ شبہات نکال کر اس کے فیصلہ سے سرتابی کرے۔ 6 یعنی میں اسی پر ہمیشہ سے بھروسہ رکھتا ہوں اور ہر معاملہ میں اسی کی طرف رجوع ہوتا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 10 { وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْہِ مِنْ شَیْئٍ فَحُکْمُہٗٓ اِلَی اللّٰہِ } ”اور جس بات میں بھی تم اختلاف کرو تو اس کا فیصلہ اللہ ہی کی طرف ہے۔“ یعنی تمہارے مابین جو بھی اختلاف ہو اس کے فیصلے کا حق اللہ ہی کے پاس ہے۔ یہاں سے اس سورت کے ”مضمون خاص“ یعنی اقامت دین کی تمہید شروع ہو رہی ہے۔ چناچہ اس سلسلے میں پہلا نکتہ یہ بتایا گیا کہ اس کائنات کا اصل حاکم اللہ ہے اور حاکمیت صرف اور صرف اسی کے لیے ہے : Sovereignty belongs to HIM and HIM alone اس نکتے کو اقبالؔ نے یوں بیان کیا ہے : ؎ سروری زیبا فقط اس ذات بےہمتا کو ہے حکمراں ہے اک وہی باقی بتان آزری آیت کے ان الفاظ کے مفہوم کے مطابق انسانوں کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

9 اختلافات کا فیصلہ کیسے ہوسکتا ہے ؟:۔ اصل دین چونکہ اللہ نے ہی بذریعہ وحی اپنے رسول اور بندوں کی طرف بھیجا تھا لہذا اگر بندے اس دین میں اختلاف کریں تو ان میں فیصلہ کا حق بھی اللہ ہی کو ہے کہ وہ لوگوں کو بتائے کہ میں نے جو دین بھیجا تھا وہ تو یہ تھا اور تم نے فلاں فلاں مقام پر غلط تاویلات کرکے باہم اختلاف کرلیا تھا۔ ہوتا یہ ہے کہ ہر صاحب شریعت نبی ایمان لانے والوں کو ایک امت بناتا ہے۔ بعد میں لوگ اس میں اختلاف پیدا کرکے کئی فرقوں میں بٹ جاتے ہیں۔ پھر جو بعد میں نبی آتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر وحی کرکے لوگوں کو اصل دین سے مطلع کردیتا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ دنیا میں لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

11۔ (دنیا میں دلیل صحیح سے اور آخرت میں فیصلہ کے عملی نفاذ سے) (آیت) ” فحکمہ الی اللہ “۔ حکم الی اللہ۔ کے تحت میں منصوص وحکم مستنبط دونوں آگئے اور حکم نص واستنباط دونوں پر حاوی ہے۔ اس حقیقت کے سمجھ لینے سے خوارج اور منکرین فقہ دونوں کے بہت سے مغالطوں کا جواب نکل آتا ہے۔ 12۔ (اور ظاہر ہے کہ جو دنیا وآخرت کے ہر امر میں اللہ ہی کی طرف رجوع کرے گا اور اسی پر بھروسہ رکھے گا اسے کسی مخلوق سے خوف ہی کیا ہوسکتا ہے) قرآن نے بار بار زور اس حقیقت پر دیا ہے کہ اللہ کو ایک فلسفیانہ نظریہ کے ماتحت محض مسبب الاسباب یا خالق کل سمجھے رہنا ہرگز کافی نہیں۔ ضرورت اس کی ہے کہ اس کے ساتھ انسان تعلق اپنی ہر ضرورت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–19

آیت نمبر 10 تا 19 ترجمہ : اور جس چیز (یعنی) دین وغیرہ میں کفار کے ساتھ تمہارا اختلاف ہوا، اس کا فیصلہ قیامت کے دن اللہ ہی لوٹے گا، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا، آپ ان سے کہئے یہی اللہ میرا رب ہے، جس پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے، اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں، وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، اس نے تمہارے لئے تمہاری جنس کے جوڑے بنا دئیے ہیں، بایں طور کہ اس نے (حضرت) حواء کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا فرمایا اور چوپایوں کے نرو مادہ کے جوڑے بنائے (یَذْرَءُکُم ْ ) ذال معجمہ کے ساتھ (یعنی ذال کے ساتھ ہے نہ کہ دال کے ساتھ) اور یَذرَءُکُمْ بمعنی یَخْلُقُکُمْ ہے یعنی مذکورہ طریقہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما اختلفتم فیہ من شیء فحکمہ الی اللہ اور جس جس بات میں تم (اہل حق سے) اختلاف کرتے ہو ‘ سو اس کا فیصلہ اللہ ہی کے سپرد ہے۔ یعنی اے لوگو ! امر دین میں تم جو اختلاف کرتے ہو ‘ اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہے ‘ قیامت کے دن وہی حق پرستوں اور باطل پرستوں کو الگ الگ کر دے گا۔ بعض علماء نے آیت کا یہ مطلب بیان کیا کہ جن متشابہات (کے مطلب) میں تم اختلاف کرتے ہو اس کو محکمات کی طرف لوٹا دو (یعنی ایسا مطلب مت بیان کرو جو آیات محکمات کے خلاف ہو ‘ مترجم) ۔ ذلکم اللہ ربی علیہ توکلت والیہ انیب (اے محمد ﷺ ! آپ کہہ دیجئے :) یہی اللہ میرا رب ہے میں اسی پر توکل کرتا ہوں اور اسکی طرف رجوع کرتا ہوں۔ یعنی دشمنوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور دین کی جس جس بات میں تم اختلاف کرتے ہو تو اس کا حکم قرآن پاک میں تلاش کرو میرے پروردگار نے تمہیں اسی چیز کا حکم دیا ہے میں اسی پر توکل کرتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

10(1) وما اختلقتم فیہ من شیء …: یہ آیت اگرچہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے مگر یہ بات رسول اللہ ﷺ کی زبان سے کہلوائی گئی ہے، جیسا کہ سورة فاتحہ بندوں کی زبانی کہلوائی گئی ہ۔ (2) اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ کی جو صفات بیان ہوئی ہیں کہ وہ زمین و آسمان کی ہر چیز کا مالک اور ولی و کار ساز ہے۔ موت و حیات اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے، ان صفات سے خود بخود وہ بات ثابت ہو رہی ہے جو اس آیت میں فرمائی ہے کہ جب مالک وہ ہے تو حاکم بھی وہی ہے اور انسانوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کا فیصلہ بھی اسی کا کام ہے۔ وہ اختلاف عقیدہ میں ہو یا عمل میں، عبادات میں ہو یا معاملات میں، نیکی و…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں رسول اللہ ﷺ کو مومنین کے لیے فرمان کی حکایت ہے یعنی اہل کتاب میں اور مشرکین میں سے کفار دین کے معاملہ میں تم سے اختلاف کریں تو انہیں کہو : اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہے ‘ تمہارے سپرد نہیں اس نے فیصلہ کردیا کہ دین تو اسلام ہی ہے اور شریعت کے امور اللہ تعالیٰ کے بیان سے ہی حاصل کیے جاسکتے ہیں (1) ۔ ذلکم اللہ ربی یعنی جو ان صفات سے موصوف ہے وہ ہی میرا رب یکتا ہے۔ اس میں اضمار ہے یعنی اے محمد ! انہیں کہو وہ ذات جو مردوں کو زندہ کرتی ہے وہی اللہ ہے اور جو مختلف امور میں فصلہ کرنے والا ہے وہی میرا رب ہے اسی پر میں نے اعتماد کیا اور اسی کی طرف میں لوٹنے والا ہوں۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–11

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما اختلفتم فیہ من شیء فحکمہ الی اللہ “ (اور جو کچھ تم اختلاف کرتے ہو کسی چیز کے بارے میں تو اس کا فیصلہ اللہ ہی کے سپرد ہے یعنی وہی ذات اس بارے میں فیصلہ کرے گی ، 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” جعل لکم من انفسکم ازواجا ومن الانعام ازواجا یذرؤکم فیہ “ (اس نے تمہارے لئے تمہاری جنس کے جوڑے بنائے اور (اس طرح) چوپائیوں کے جوڑے بنائے اور اس (تدبیر) سے تمہاری نسل چلاتا رہتا ہے یعنی یہ زندگی ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہ اللہ تعالیٰ تم کو اس میں زندہ رکھتا ہے۔ 3:۔ فریابی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمَا [ اور وہ ] اخْتَلَفْتُمْ [ تم لوگوں نے اختلاف کیا ] فِيْهِ [ جس میں ] مِنْ شَيْءٍ [ کچھ بھی ] فَحُكْمُهٗٓ [ تو اس کا فیصلہ ] اِلَى اللّٰهِ ۭ [ اللہ کی طرف ہے ] ذٰلِكُمُ [ یہ ] اللّٰهُ [ اللہ ] رَبِّيْ [ میرا رب ہے ] عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ڰ [ اس پر ہی میں نے بھروسہ کیا ] وَاِلَيْهِ اُنِيْبُ [ اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

تم جس چیز میں اختلاف کرو اس کا فیصلہ اللہ ہی کی طرف ہے اس نے تمہارے جوڑے پیدا فرمائے ان آیات میں اللہ جل شانہٗ کی صفات جلیلہ عظیمہ بیان فرمائی ہیں، پہلے تو یہ فرمایا کہ تم جن چیزوں میں اختلاف کرتے ہو انہیں اللہ کی طرف لوٹا دو یعنی اس کی کتاب جو فیصلہ دے اسے مان لو اور اسی کے مطابق عمل کرو، پھر رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ فرما دیں کہ اللہ ہی میرا رب ہے اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں، توحید کی دعوت دینے میں تمہاری طرف سے کسی تکلیف کے پہنچ جانے سے میں نہیں ڈرتا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–12

اثبات وحی الہی مع بیان عظمت رب کبریاو وعید بہ شرک ونافرمانی : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” حم عسق ....... الی ....... انہ بکل شیء علیم “۔ (ربط) ” گذشہ سورت کے مضامین کا حاصل مخالفین کے اعتراضات کا رد اور ان پر توبیخ وتنبیہ تھا، اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی رسالت اور وحی کی عظمت کو ثابت کیا جارہا ہے، اور اسی کے ضمن میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے، اور مجرمین ومنکرین پر توبیخ ووعید بھی ہے کہ یہ اپنے افعال قبیحہ کی سزا سے ہرگز نہیں بچ سکتے ارشاد ہے ، (آیت ) ” حم عسق “۔ اللہ رب العزت ہی اس کی مراد خوب جاننے والا ہے، اصول دین اور احکام شریعت کی تعیین اور تحقیق کے لیے جیسے آپ ﷺ پر یہ سورت نازل کی جارہی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

9:۔ ” وما اختلفتم فیہ۔ الایۃ “ یہ رسول اللہ ﷺ کے قول کی حکایت ہے، آپ نے مسلمانوں سے فرمایا جن شرائع میں تمہارے درمیان اور مشرکین اور اہل کتاب کے درمیان اختلاف ہوجائے تو اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہے اور اس میں اس کا حکم قطعی ہے وہی اللہ میرا مالک و کارساز ہے اسی پر میرا بھروسہ ہے میں ہر معاملے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہے کہ سچا دین، دین اسلام ہے جو توحید کی تعلیم دیتا ہے، نہ کہ دین مشرکین۔ اسی طرح شریعت سازی اللہ کا کام ہے۔ احبارو رہبان کو اللہ کی شریعت میں ترمیم و اضا افہ اور تحریف و تبدیل کا کوئی اختیار نہیں۔ ای ماخالفکم فیہ الکفار من اھل الکتاب و المشرکین من امر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 7–12

وحی الٰہی کی حقانیت وحی الٰہی پر ایمان لانا دین کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔ سورة ہذا کی ابتداء بھی وحی الٰہی کی حقانیت سے ہوئی جیسا کہ گزشتہ درس میں فرمایا کذلک یوحی الیک والی الدین من قبلک اسی طرح ہم نے وحی بھیجی آپ کی طرف جیسا کہ وحی بھیجی آپ سے پہلے لوگوں کی طرف ، اور اب اس درس کا آغاز بھی درس الٰہی کی حقانیت سے ہو رہا ہے ۔ البتہ سابقہ درس کی نسبت وحی الٰہی کا ذکر اس مقام پر قدرے تفصیل سے ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وکذلک اوحیان الیک قرانا عریبا اور اسی طرح ہم نے وحی نازل کی ہے آپ کی طرف ایک قرآن جو عربی زبان میں ہے۔ قرآن پاک میں وحی الٰہی اور دوسرے بنیادی عقائد کا تذکرہ بار ہا آ رہا ہے تا کہ بات…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيْہِ مِنْ شَيْءٍ فَحُكْمُہٗٓ اِلَى اللہِ۝ 0 ۭ ذٰلِكُمُ اللہُ رَبِّيْ عَلَيْہِ تَوَكَّلْتُ۝ 0 ۤ ۖ وَاِلَيْہِ اُنِيْبُ۝ 10 الاختلافُ والمخالفة والاختلافُ والمخالفة : أن يأخذ کلّ واحد طریقا غير طریق الآخر في حاله أو قوله، والخِلَاف أعمّ من الضّدّ ، لأنّ كلّ ضدّين مختلفان، ولیس کلّ مختلفین ضدّين، ولمّا کان الاختلاف بين النّاس في القول قد يقتضي التّنازع استعیر ذلک للمنازعة والمجادلة، قال : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] ( خ ل) الاختلاف والمخالفۃ الاختلاف والمخالفۃ کے معنی کسی حالت یا قول میں ایک دوسرے کے خلاف کا لفظ ان دونوں سے اعم ہے کیونکہ ضدین کا مختلف ہونا تو ضروری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–13

ترکیب : قرآنا مفعول لاوحینا لتنذر متعلق باوحینا فریق خبرمبتدء محذوف ای بعضھم فریق فی الجنۃ و الظالمون مبتدء ومابعدہ خبرہ اولیاء بالنصب علی انہ مفعول لاتخذوامن دونہ حال منہ ای حال کون الاولیاء غیر اللہ الولی خبر فاللہ ھو ضمیر الفصل للتاکید۔ تفسیر : پھر مسئلہ نبوت کا ذکر کرتا ہے وکذلک اوحینا الخ کہ جس طرح انبیائِ سابقین پر وحی کی گئی تھی اسی طرح اے محمد ﷺ ! ہم نے تیری طرف عربی زبان میں قرآن وحی کیا کس لیے لتنذرام القرٰی تاکہ تو اہل مکہ کو اور اس کے آس پاس والوں کو خبردار کر دے ڈراوے کہ تم پر اگر باز نہ آؤ گے بلا آنے والی ہے اور ان کو قیامت کے دن سے بھی ڈراوے کہ جس میں کوئی شک نہیں کہ اس روز ایک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَااخْتَلَفْتُمْ فِیْہِ مِنْ شَیْ ئٍ فَحُکْمُہٗٓ اِلَی اللّٰہِ ط ذٰلِـکُمُ اللّٰہُ رَبِّیْ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ صلے ق وَاِلَیْہِ اُنِیْبُ ۔ (الشوری : 10) (اور جس کسی چیز میں بھی تم نے اختلاف کیا ہے اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے، وہی اللہ میرا رب ہے اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اور آپ کے مرتبے کی وضاحت اس سے پہلے اس بنیادی عقیدے پر بہت زور دیا گیا ہے کہ ولی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ وہی مالک کائنات اور وہی کارسازِحقیقی ہے۔ اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اس کو حاکم حقیقی بھی مانا جائے اور اس کے حکم کو آخری حکم، اس کی شریعت کو آخری شریعت اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے انسان کو فکر و عمل کا اختیار دینے کے باوجود حکم فرمایا ہے کہ وہ ہر حال میں اس کے حکم کی پیروی کرے۔ اور اس کی ذات پر بھروسہ کرے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو فکرو عمل کی آزادی عطا فرمائی ہے۔ جس وجہ سے لوگوں کی فکر اور عمل میں تضاد اور اختلاف پایا جاتا ہے۔ دین میں اختلاف اس وقت رونما ہوتا ہے جب کوئی شخص بالخصوص عالم دین اپنی ذاتی رائے کو حرف آخر سمجھ لیتا ہے۔ اگر اس کی سوچ دین کے بنیادی اصولوں کے خلاف نہ ہو اور اس اختلاف کے پیچھے دینوی مفاد اور فرقہ واریت ہونے کی بجائے اخلاص ہو تو اس اختلاف کے نقصانات تھوڑے ہوتے ہیں اور اس کی ایک حد تک دین…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مختلف فیہ امر کا فیصلہ اللہ کے سپرد : 10: وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْہِ مِنْ شَیْ ئٍ (اور جس بات میں تم اختلاف کرتے ہو) یہ قول رسول اللہ ﷺ ہے جو مؤمنین کیلئے بطور حکایت نقل کیا۔ کہ اے مسلمانو ! جس بات میں کفار تمہاری مخالفت کریں تم اور وہ امور دین میں سے کسی امر کے سلسلہ میں اختلاف کرو۔ فَحُکْمُہٗ (اس کا فیصلہ) اس مختلف فیہ امر کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔ اِلَی اللّٰہِ (اللہ کے سپرد ہے) وہی اس میں حق پرستوں کو ثواب دینے والے اور باطل پرستوں کو سزا دینے والے ہیں۔ ذٰلِکُمُ ( یہ) اللہ تمہارے مابین فیصلہ فرمانے والا ہے۔ اللّٰہُ رَبِّیْ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ (میرا رب ہے میں اسی پر توکل رکھتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

9، ام اتخذوا، بلکہ ان کافروں نے بنالیا ہے۔ ، من دونہ، یعنی اللہ کے سوا۔ ، اولیاء فاللہ ھوالولی، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اے محمد (ﷺ) ! آپ (علیہ السلام) اور آپ کے متبعین کا ولی ہے۔ ، وھو یحی الموتی وھوعلی کل شیء قدیر،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–12

8۔ 12۔ اکثر علما کے نزدیک مشیت اور ارادے کے ایک ہی معنی ہیں۔ اس تفسیر میں ایک جگہ گزر چکا ہے کہ ارادہ علم کا تابع ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے ہر ایک کام کا انجام جان لیا جاتا ہے پھر اس کام کا ارادہ کیا جاتا ہے مثلاً کھیتی کرنے اور باغ لگانے سے پہلے یہ انجام سوچ لیا جاتا ہے کہ جس زمین میں کھیتی یا باغ کا ارادہ ہے اس زمین میں کھیتی اور باغ کی پیداوار ہوجائے گی تو پھر اس زمین میں کھیتی کے کرنے کا یا باغ کے لگانے کا ارادہ کیا جاتا ہے اس بنا پر پہلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو سب نافرمان لوگوں کو فرمان بردار بنا کر تمام مخلوقات کو نیک کردیتا لیکن اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں جو لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 10–12

آیت 10 ’ وما اختلفتم فیہ من شیء) ” اور جن باتوں میں تم آپس میں اختلاف رکھتے ہو۔ “ یعنی اپنے دین کے اصول و فروع میں اگر تم ایک دوسرے سے متفق نہ ہو۔ (فحکمہ الی اللہ) تو اسے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کی طرف لوٹایا جائے وہ دونوں جو فیصلہ کریں وہی حق ہے اور جو ان دونوں کے خلاف ہو وہ باطل ہے۔ (ذلکم اللہ ربی) ’ دیہی اللہ میرا رب ہے۔ “ جس طرح اللہ تعالیٰ کائنات کا رب، خالق، رازق اور مدبر ہے، اسی طرح وہ اپنے بندوں کے درمیان ان کے تمام امور میں اپنی شریعت کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ کسی امر پر اتفاق امت حجت قطعی ہے کیونکہ جن امور میں ہمارے درمیان اختلاف نہ ہو اسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

22 ہر اختلاف کا فیصلہ اللہ ہی کے حوالے : سو اس ارشاد سے ہر اختلاف اور تنازع کا فیصلہ اللہ ہی کے حکم و ارشاد کے مطابق کرنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے کہ جب اس ساری کائنات کا خالق ومالک بھی وہی وحدہ لاشریک ہے اور حاکم و حکیم اور علیم وخبیر بھی وہی۔ اور اپنے بندوں پر مہربان اور رحمن و رحیم بھی وہی۔ تو یہ فیصلہ بھی وہی فرما سکتا ہے کہ انسان کے لئے مفید کیا ہے اور مضر کیا۔ اس کا بھلا کس میں ہے اور برا کس میں۔ اس کے لئے حق و حلال کیا ہے اور ناجائز و حرام کیا۔ اس کے لئے بہتر کیا ہے اور بدتر کیا۔ پس اسی کا فیصلہ صحیح اور عین حق و صدق ہوسکتا ہے اور اسی میں انسان کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–19

اللہ کا غلبہ، قدرت، دانائی اور رحم و کرم سب سے زیادہ ہے تشریح : پہلی اور دوسری آیات میں حروف مقطعات ہیں۔ اس کے بعد رب ذوالجلال کی صفات کا ذکر ہے۔ توحید پر ایمان لانا انسان کے لیے بہترین راستہ ہے۔ کیونکہ یہی مبارک راستہ انسان کو زندگی کی تمام قباحتوں سے بچاتا ہے۔ انسان کو ایسانظام حیات عطا کرتا ہے کہ جس کی وجہ سے عبادات، اخلاقیات، معاملات، حقوق اور تعزیرات کا ایک بہترین نقشہ انسان کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ یہ نظام حیات انسان کو ظلم زیادتی، کفر و شرک، بےحیائی بد نظمی اور تمام غم، خوف اور پریشانیوں سے محفوظ کردیتا ہے۔ اسی لیے قرآن کو بہت بڑی رحمت اور اسلام کو سلامتی کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس پیغام کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–19

آیات 10 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ ان لوگوں سے کہیے کہ اگر انہیں توحید باری تعالیٰ میں اختلاف ہے تو اس کا فیصلہ اللہ کریم کے حوالے ہے جس نے دنیا میں دلائل معجزات سے واضح کردیا ہے اور آخرت میں ایمان والوں کو جنت میں اور کفار کو دوزخ میں داخل کردے گا اور جس کی یہ عظمت وشان ہے وہی میرا پروردگار ہے اور کفار سے جس بھی تکلیف کے پہنچنے کا اندیشہ ہوسکتا ہے اس کے لیے میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اپنی ہر ضرورت کے لیے اس کی طرف رجوع کرتا ہوں وہ کائنات کا رب ہے تمہارا بھی وہی ہے کہ زمین و آسمان کو بنانے والا وہی ہے اور تمہیں پیدا کیا اور پھر جوڑے بنایا کہ تمہاری نسل چلے۔ اسی طرح جانوروں کو پیدا کرکے جوڑے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی وہی قیامت کے روز فیصلہ فرمائے گا کہ تم میں سے کون حق پر تھا اور کون باطل پر ؟ یا مطلب یہ ہے کہ اگر اہل کتاب اور مشرکین دین کے معاملہ میں تم سے بحث و اختلاف کریں تو کہہ دو کہ اس کے حق و ناحق ہونے کا فیصلہ اللہ کے حکم پر ہے اور نہ کہ تمہاری رائے اور قیاس و اجتہاد پر۔ ای امور الشرائع تتلقی من بیان اللہ جیسا کہ فرمایا ( وانا تنازعتم فی شی فردوہ الی اللہ والرسول) یعنی اگر کسی معاملہ میں اختلاف کرو تو اس کا فیصلہ اللہ و رسول کی طرف پھیر دو ۔ ( نساء 59) آج بھی امت مسلمہ کے ما بین تمام اختلافات کا تصفیہ اس اصل پر ہوسکتا ہے۔ ( منہ) 4 یعنی جو ہر اختلاف کا فیصلہ کرنے والا اصل حاکم ہے۔ 5 یعنی ہر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(42:10) وما اختلفتم فیہ من شیئ : ما موصولہ ہے فیہ : ہ ضمیر واحد مذکر غائب اسم موصول کی طرف راجع ہے۔ جس بات میں۔ اور کسی شے میں تمہارے درمیان جس بات کا اختلاف ہوجائے ۔ یعنی دین اور دنیا میں کہیں بات پر اختلاف ہو۔ فحکمہ الی اللّٰہ۔ تو اس کا فیصلہ اللہ ہی کے سپرد ہے اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ ان الحکم الا اللّٰہ علیہ توکلت (12: 67) (بےشک) حکم اسی کا ہے میں اس پر بھروسہ کرتا ہوں۔ اور دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ فان تنازعتم فی شیء فردوہ الی اللّٰہ والرسول (4:59) اور اگر کسی بات پر تم میں اختلاف ہوجائے تو اس میں خدا اور خدا کے رسول (کے حکم کی طرف) رجوع کرو۔ ذلکم : ذا اسم اشارہ ہے اور کم حرف…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 10–12

لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 12 : انیب (میں رجوع کرتا ہوں ، میں لوٹتا ہوں) فاطر (پیدا کرنے والا ، بنانے والا) الانعام (جانور ، مویشی) یذرو (وہ پھیلاتا ہے) مقالید ( مقلد ) ( چابیاں، کنجیاں) تشریح : آیت نمبر 10 تا 12 : ان آیات میں اس بنیادی عقیدہ کو بیان کیا گیا ہے کہ جس بات میں بھی اختلاف یدا ہوجائے اس کے فیصلے کا حق اللہ کے سوا کسی کو بھی نہیں ہے خواہ وہ معاملہ اعتقاد وعمل کا ہو یا قانون اور اخلاق کا ۔ وہ اختلاف کسی چیز کے جائز و ناجائز یا حلال و حرام کا ہو یا کسی بھی باہمی تنازعات کا اس کا آخری فیصلہ کائنات کے مالک حقیقی اللہ ہی کے ذمے ہے کیونکہ اصل حکم اللہ ہی کا ہے۔ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–10

(ف 1) اس آیت میں مشرکین کو یہ تنبیہ فرمائی کہ تم لوگ اختلاف کی باتیں جو کررہے ہو کہ تمہارا طریقہ اچھا ہے اور دین اسلام اچھا نہیں تو اس کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے وقت مقررہ پر اس فیصلہ کو کردے گا پھر ارشاد فرمایا کہ ان مشرکوں سے کہہ دو کہ میں نے ہر طرح سے اپنا بھروسہ اللہ ہی پر کیا ہے اور سب کو چھوڑ کر اس کی طرف رجوع ہوا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 9–10

[5] یہ اللہ تعالیٰ کے مالک کائنات ہونے کا فطری اور منطقی تقاضا ہے۔ جب بادشاہی اس کی ہے تو لامحالہ پھر حاکم بھی وہی ہے اور انسانوں کے باہمی تنازعات و اختلافات کا فیصلہ کرنا بھی اس کا کام ہے۔ اس ضمن میں ملاحظہ ہو سورة نساء آیت 59 صفحہ 190 اور سورة احزاب آیت 36 صفحہ 996۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

وہ حکم خدا ہے 2: جب اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے ۔ کہ اختلاف تھا تو بالکل طبعی اور فطری بات ہے تو سوا ل پیدا ہوتا تھا ۔ کہ کیا پھر فیصلہ کی کوئی صورت نہیں اور کیا حق و باطل میں کوئی امتیاز نہیں معلوم ہوسکتا ۔ اس کا جواب دیا ہے کہ فیصلہ کی صورت یہ ہے ۔ کہ اللہ کے حکم کو مان لیا جائے ۔ اور اپنے ذاتی خیالات اور افکار کو ترجیح نہ دیجائے ۔ کیونکہ سارے جھگڑے اس وقت پیدا ہوتے ہیں ۔ جب ہر شخص اپنی ذاتی رائے پر ناز کرے اور اپنے سے برتر عقل والے کے سامنے سرنیاز نہ جھکائے اور اگر ہر شخص بطور اصول و ضوابط اس حقیقت کو اپنے شامنے رکھے کہ ہمیں اپنی عقل و دانش پر اعتماد نہیں ۔ ہم اپنے ا احبارورہبان کی شخصیت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(10) اور جو آپ سے اختلاف کرتے ہیں ان سے کہہ دیجئے کہ جس جس بات میں تم اختلاف کرتے ہو تو اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کے سپرد اور اسی کے حوالے ہے اور اللہ تعالیٰ میرا پروردگار ہے اور اسی پر میں نے توکل اور بھروسہ کررکھا ہے اور میں ہر بات میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ یعنی تم جو توحیدورسالت اور قیام قیامت وغیرہ میں باوجود دلائل اور براہین قاطعہ کے پھر بھی مجھ سے اختلاف کرتے ہو تو اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے وہی پروردگار ہے اور تمہارے اختلاف کی وجہ سے جو نتائج برآمد ہونے کا اندیشہ ہے ان نتائج کے لئے میں نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کررکھا ہے اور میں دین ودنیا کے تمام کاموں میں اسی کی طرف رجوع…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ پس نہ ان مضرتوں سے ڈرتا ہوں اور نہ توحید میں جس کو کہ اس نے حق کہہ دیا ہے کوئی شبہہ کرتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اختلاف کرنے والوں کا سارا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے 10 ؎ ان لوگوں کا معاملہ آپ ﷺ اللہ کے سپرد کردیں جو اپنی ضد پر قائم ہیں اور بات کو سمجھنے کی بجائے الجھنا ان کو زیادہ پسند ہے ان کا معاملہ اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام کے حوالے کر کے اس بات کا اعلان کر دیجئے کہ میں تو اپنا سب کچھ اپنے مالک حقیقی اللہ کریم کے سپرد کرتا ہوں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی وہی میرا کار ساز اور وہی میرا حاجت روا اور مشکل کشا ہے اسی پر میں توکل کرتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوا متوجہ ہوتا ہوں۔ آپ ﷺ لوگ جس معاملہ میں بھی اختلاف کرتے ہیں واہ وہ توحید الٰہی ہے یا آخرت میں نے اپنی ذمہ داری پوری کردی اور حق تم تک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–12

Commentary وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّـهِ (Whatever dispute you have in any matter, its judgment lies with Allah. - 10) It means that the judgment in all those matters in which you dispute lies with Allah, because the sovereignty belongs to Allah only, as stated in another verse:إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّـهِ (The Decision belongs to none but Allah - 6:57). The direction in many verses to obey Rasulullah ﷺ and in some verses to obey those in authority does not contradict the above, because the orders of Rasulullah ﷺ and of the authorities are also, in a way,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

13 From here to the end of verse 12, though the whole discourse is a Revelation from Allah, the speaker is not Allah but the Holy Messenger of Allah. In other words, Allah Almighty is telling His Prophet to make this proclamation to the people. Such themes in the Qur'an sometimes begin with qul (say, O Prophet) and sometimes without it. only the style indicates that the speaker at a place is not Allah but Allah's Messenger. Even at some places though the words are Allah's, the speaker arc the believers, as for example in Surah AI-Fatihah; or, the speaker are the angels as in Surah Maryam:…

Read the full tafseer →