Explained with ayahs 9–12
مشرکین کا شرک
اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس مشرکانہ فعل کی قباحت بیان فرماتا ہے جو وہ اللہ کے ساتھ شریک کیا کرتے تھے اور دوسروں کی پرستش کرتے تھے۔ اور بیان فرماتا ہے کہ سچا ولی اور حقیقی کارساز تو میں ہوں۔ مردوں کو جلانا میری صفت ہے ہر چیز پر قابو اور قدرت رکھنا میرا وصف ہے پھر میرے سوا اور کی عبادت کیسی ؟ پھر فرماتا ہے جس کسی امر میں تم میں اختلاف رونما ہوجائے اس کا فیصلہ اللہ کی طرف لے جاؤ یعنی تمام دینی اور دنیوی اختلاف کے فیصلے کی چیز کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مانو۔ جیسے فرمان عالی شان ہے آیت (فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ…
Read the full tafseer →سورة الشُّوْرٰی 17
اصل الفاظ ہیں لَیْسَ کَمِثْلِہ شَئءٌ " کوئی چیز اس کے مانند جیسی نہیں ہے " مفسرین اور اہل لغت میں سے بعض کہتے ہیں کہ اس میں لفظ مثل پر کاف (حرف تشبیہ) کا اضافہ محاورے کے طور پر کیا گیا ہے جس سے مقصود محض بات میں زور پیدا کرنا ہوتا ہے، اور عرب میں یہ طرز بیان رائج ہے۔ مثلاً شاعر کہتا ہے وقتلیٰ کمثل جذوع النخل۔ اور ایک دوسرا شاعر کہتا ہے ما ان کمثلھم فی الناس من احد۔ بعض دوسرے حضرات کا قول یہ ہے کہ اس جیسا کوئی نہیں کہنے کے بجائے اس کے مثل جیسا کوئی نہیں کہنے میں مبالغہ ہے، مراد یہ ہے کہ اگر بفرض محال اللہ کا کوئی مثل ہوتا تو اس جیسا بھی کوئی نہ ہوتا، کجا کہ خود اللہ جیسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
خلاصہ تفسیر
اور (آپ ان لوگوں سے جو توحید میں آپ سے اختلاف رکھتے ہیں یہ کہئے کہ) جس جس بات میں تم (اہل حق کے ساتھ) اختلاف کرتے ہو اس (سب) کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کے سپرد ہے (وہ یہ ہے کہ دنیا میں دلائل و معجزات کے ذریعہ توحید کا حق ہونا واضح فرما دیا اور آخرت میں ایمان والوں کو جنت اور ایمان نہ لانے والوں کو جہنم میں ڈالا جائے گا) یہ اللہ (جس کی یہ شان ہے) میرا رب ہے (اور تمہارے خلاف و مخالف سے جو کسی تکلیف و نقصان کے پہنچنے کا اندیشہ ہوسکتا ہے اس کے بارے میں) اسی پر توکل رکھتا ہوں اور (دنیا و دین کے سب کاموں میں) اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں (اس سے توحید کا مضمون خوب موکد ہوگیا۔ آگے دوسری صفات…
Read the full tafseer →-2 آگے کا مضمون … آیات :20-11
پہلے اسی توحید کے مضمون کی وضاحت فرمائی ہے جو اپور سے چلا آ رہا ہے کہ کار ساز حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ رزق اور اولاد سب اسی کا عطیہ ہیں اور اس کائنات کے اضداد میں جو توافق ہے وہ اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ اللو واحد کی مشیت اور اس کے ارادہ کے سوا کوئی اور ارادہ اس کے اندر دخیل نہیں ہے۔
اس کے بعد پہلی آیت کے مضمون کی وضاحت فرمائی ہے کہ حضرت نوح سے لے کر حضرت مسیح ؑ تک تمام نبیوں نے اسی دین توحید کی دعوت دی اور اس میں اختلاف برپا کرنے سے لوگوں کو روکا لیکن ان کی امتوں نے خدا کی طرف سے وضاح علم آجانے کے باوجود اس میں اختلاف پیدا کیا اور اپنے آپ کو اللہ کی…
Read the full tafseer →11۔ 1 یعنی یہ اس کا احسان ہے کہ تمہاری جنس سے ہی اس نے تمہارے جوڑے بنائے ورنہ اگر تمہاری بیویاں انسانوں کی بجائے کسی اور مخلوق سے بنائی جاتیں تو تمہیں یہ سکون حاصل نہ ہوتا جو اپنی ہم جنس اور ہم شکل بیوی سے ملتا ہے۔
11۔ 2 نہ ذات میں نہ صفات میں، پس وہ اپنی نظیر آپ ہی ہے، واحد اور بےنیاز۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
2: یعنی سب کو زبردستی مسلمان بنا دیتا، لیکن انسان کو پیدا کرنے کا اصل مقصد ہی یہ تھا کہ لوگ زبردستی نہیں، بلکہ خود اپنے اختیار سے سوچ سمجھ کر حق قبول کریں۔ اسی میں ان کا امتحان ہے جس پر آخرت کی جزاء اور سزا مرتب ہونے والی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے کسی کو زبردستی مسلمان بنانا نہیں چاہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
آیت نمبر 10 تا 12
ان حقائق کو اس ایک پیراگراف میں پیش کرنے کا طریقہ بڑا عجیب ہے۔ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان حقائق کے درمیان ایک باریک اور خفیہ ربط موجود ہے۔ یہ کہ لوگوں کے درمیان جو اختلافات ہیں ، ان کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
وما اختلفتم فیہ من شییء فحکمہ الی اللہ (42 : 10) “ تمہارے درمیان جس معاملہ میں بھی اختلاف ہو ، اس کا فیصلہ کرنا اللہ کا کام ہے ”۔ اور اللہ نے اپنا فیصلہ اس قرآن میں نازل کردیا ہے اور اس قرآن نے دنیا و آخرت دونوں کے بارے میں فیصلے کر دئیے ہیں اور لوگوں کی زندگی کے لئے انفرادی اور اجتماعی منہاج اس کے اندر ضبط کردیا ہے۔ ان کے نظام زندگی ، ان کے نظام معیشت ، ان کے…
Read the full tafseer →7 یعنی چوپایوں میں سے ان کے جوڑے نر اور مادہ بنا دیے کہ وہ بھی تمہارے کام آئے ہیں۔
8 یعنی آدمیوں کے الگ اور جانوروں کے الگ جوڑے بنا کر ان کی کتنی نسلیں پھیلا دیں جو تمام روئے زمین پر اپنی روزی اور معیشت کی فکر میں جدوجہد کرتی ہیں۔
9 یعنی نہ ذات میں اس کا کوئی مماثل ہے نہ صفات میں، نہ اس کے احکام اور فیصلوں کی طرح کسی کا حکم اور فیصلہ ہے نہ اس کے دین کی طرح کوئی دین ہے، نہ اس کا کوئی جوڑا ہے نہ ہمسر نہ ہم جنس۔
10 یعنی بیشک ہر چیز کو دیکھتا سنتا ہے، مگر اس کا دیکھنا بھی مخلوق کی طرح نہیں۔ کمالات اس کی ذات میں سب ہیں، پر کوئی کمال ایسا نہیں جس کی کیفیت بیان کی جاسکے۔ کیونکہ اس کی نظیر کہیں موجود…
Read the full tafseer →آیت 11 { فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ”وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا فرمانے والا ہے۔“
{ جَعَلَ لَـکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا وَّمِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا } ”اس نے تمہاری ہی نوع سے تمہارے جوڑے بنادیے اور چوپایوں سے بھی جوڑے بنائے۔“
جان داروں کی ہر نوع species میں نر بھی ہیں اور مادہ بھی۔
{ یَذْرَؤُکُمْ فِیْہِ } ”اسی میں وہ تمہاری افزائش کرتا ہے۔“
{ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ} ”اس کی مثال کی سی بھی کوئی شے نہیں۔“
اس کی ہستی بالکل یکتا absolutely unique ہے۔ یہ اپنی طرز کا ایک منفرد اور حساس ّموضوع ہے جس کے اظہار کے لیے خصوصی اسلوب درکار ہے۔ لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری زبان میں…
Read the full tafseer →11 میرے اللہ پر توکل کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ بہت بڑی قوت اور قدرت کا مالک ہے جس نے اس پوری کائنات کو وجود بخشا ہے اور اس زمین کو اس نے بڑے محیرالعقول طریقوں سے انسانوں اور دوسرے جانوروں کے جوڑے بنا کر اور ان سے نسلیں پھیلا کر اس زمین کو آباد کر رکھا ہے۔
12 اللہ پر توکل کیوں کرنا چاہئے ؟ اس کی مختلف وجوہ :۔ یہ اللہ پر توکل کرنے کی دوسری وجہ ہے۔ یعنی وہ ایسی ذات ہے جس کے مثل کائنات کی کوئی چیز نہیں۔ (لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَئیٌ) کا لفظی معنی یہ بنتا ہے کہ کوئی چیز اس کے مثل کی مانند نہیں اور اس انداز بیان میں مزید مبالغہ پایا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مثلاً اس کے ہاتھ تو ہیں۔ مگر ایسے نہیں جیسے ہمارے…
Read the full tafseer →13۔ (اور وہ خود ہی ہر طرح ناقص و محدود تسلیم کرتے ہیں) (آیت) ” فیہ “۔ فی یہاں ب۔ کے معنی میں ہے۔ (آیت) ” لیس کمثلہ شیء “۔ یہ اصل اصول ہے صفات تنزیہ کی۔ کوئی شے بھی پیش کی جائے اللہ کی ہم جنس، ہم نوع، ہمسر، ہم صف، غرض کسی طرح بھی ” مثل “ نہیں ہوسکتی۔ (آیت) ” کمثلہ “۔ ک۔ زائد تاکید معنی کیلئے ہے۔ الکاف الزائدۃ للتاکید (روح۔ عن الزجاج وابن جنی والا کثرین) والمعنی لیس کھو شیء علی سبیل المبالغۃ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
آیت نمبر 10 تا 19
ترجمہ : اور جس چیز (یعنی) دین وغیرہ میں کفار کے ساتھ تمہارا اختلاف ہوا، اس کا فیصلہ قیامت کے دن اللہ ہی لوٹے گا، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا، آپ ان سے کہئے یہی اللہ میرا رب ہے، جس پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے، اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں، وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، اس نے تمہارے لئے تمہاری جنس کے جوڑے بنا دئیے ہیں، بایں طور کہ اس نے (حضرت) حواء کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا فرمایا اور چوپایوں کے نرو مادہ کے جوڑے بنائے (یَذْرَءُکُم ْ ) ذال معجمہ کے ساتھ (یعنی ذال کے ساتھ ہے نہ کہ دال کے ساتھ) اور یَذرَءُکُمْ بمعنی یَخْلُقُکُمْ ہے یعنی مذکورہ طریقہ…
Read the full tafseer →فاطر السموت والارض جعل لکم من انفسکم ازواجاومن الانعام ازواجا یذرؤکم فیہ
وہ آسمانوں کا اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس نے تمہارے لئے تمہاری جنس کے جوڑے بنائے اور (اسی طرح) چارپایوں کے جوڑے بنائے (اور) اس (جوڑے لگانے کی تدبیر) سے تمہاری نسل چلاتا رہتا ہے۔
مَنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا تمہاری جنس (یعنی جنس انس) سے تمہارے جوڑے یعنی عورتیں پیدا کیں۔
وَمِنَ الْاَنْعَامَ اَزْوَاجًا اور چوپایوں کیلئے چوپایوں کی جنس کے جوڑے پیدا کئے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ تمہارے لئے چوپایوں کی مختلف اصناف پیدا کیں ‘ یا تمہارے لئے چوپایوں کے نر اور مادہ پیدا کئے۔
یَذْرَؤکُمُ- ذَرْءٌ کا معنی ہے بکھیرنا ‘ پھیلانا ‘ مراد ہے…
Read the full tafseer →وہی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اس نے تمہارے ہی جیسے آدمی پیدا کر کے تمہارے جوڑے بنائے تمہیں رحموں میں پیدا کرتا رہتا ہے یا یہ کہ اسی کے ذریعے سے تمہاری نسل چلاتا ہے صفت وقدرت علم و تدبیر کوئی چیز بھی اس جیسی نہیں وہ تمہاری باتوں کا سننے والا اور تمہارے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔
Read the full tafseer →(1) فاطر السموت والارض …: یہ اللہ ہی کو رب ماننے، اسی پر توکل اور اسی کی طرف رجوع کی مزید دلیلیں ہیں۔ ایک یہ کہ وہی کسی نمونے اور مادے کے بغیر آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے۔ جب کہ تمہارے بنائے ہوئے معبودوں نے نہ ایک ذرہ پیدا کیا نہ کرسکتے ہیں۔ مزید دیکھیے سورة حج (73)۔
(2) جعل لکم من انفسکم ازواجاً …: آسمان و زمین کو پیدا کرنے کے بعد اس نے تمہارے لئے خود تمہی میں سے تمہارے جوڑے بنائے، تاکہ تمہاری نسل جاری ہو اور مسلسل چلتی رہے۔ اپنی جنس سے جوڑے بنانے سے جو باہمی انس حاصل ہوتا ہے وہ کسی اور جنس سے جوڑا بنانے سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ ابن عاشور نے فرمایا کہ عربوں میں جننیوں وغیرہ سے نکاح…
Read the full tafseer →فاطرالسموت یہ لفظ اللہ کی صفت ہونے کی بنا پر مرفوع ہے یا تقدیر کلام یہ ہے ھو فاطر۔ ندا کے طور پر اسے نصب دینا بھی جائز ہے اور علیہ کی ضمیر سے بدل کے طریقہ پر جر دینا بھی جائز ہے۔ فاطر کا معنی مبدع اور خالق ہے۔ یہ بحث پہلے گذر چکی ہے۔
جعل لکم من انفسکم ازواجا ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ازواج معنی عورتیں ہیں یہاں من انفسکم فرمایا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت حواء کو حضرت آدم کی پسلی سے پیدا کیا۔ مجاہد نے کہا : معنی نسل کے بعد نسل ہے (2) ۔
ومن الانعام ازواجا یعنی آٹھ جوڑے جن کا ذکر سورة انعام میں گذر چکا ہے اونٹ ‘ گائے ‘ بھیڑ ‘ بکری اور ان کے جوڑے۔
یذرؤکم فیہ تمہیں رحم میں پیدا کرتا ہے۔ ایک قول یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما اختلفتم فیہ من شیء فحکمہ الی اللہ “ (اور جو کچھ تم اختلاف کرتے ہو کسی چیز کے بارے میں تو اس کا فیصلہ اللہ ہی کے سپرد ہے یعنی وہی ذات اس بارے میں فیصلہ کرے گی ،
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” جعل لکم من انفسکم ازواجا ومن الانعام ازواجا یذرؤکم فیہ “ (اس نے تمہارے لئے تمہاری جنس کے جوڑے بنائے اور (اس طرح) چوپائیوں کے جوڑے بنائے اور اس (تدبیر) سے تمہاری نسل چلاتا رہتا ہے یعنی یہ زندگی ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہ اللہ تعالیٰ تم کو اس میں زندہ رکھتا ہے۔
3:۔ فریابی…
Read the full tafseer →فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [ (وہ) زمین اور آسمانوں کو وجود بخشنے والا ہے ] جَعَلَ لَكُمْ [ اس نے بنائے تمہارے لئے ] مِّنْ اَنْفُسِكُمْ [ تمہاری جانوں (جنس) سے ] اَزْوَاجًا [ جوڑے ] وَّمِنَ الْاَنْعَامِ [ اور چوپایوں سے ] اَزْوَاجًا ۚ [ جوڑے ] يَذْرَؤُكُمْ [ وہ پھیلاتا ہے تم لوگوں کو ] فِيْهِ ۭ [ اس (زمین ) میں ] لَيْسَ [ نہیں ہے ] كَمِثْلِهٖ [ اس کی مثال جیسی (بھی ) ] شَيْءٌ ۚ [ کوئی چیز ] وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ [ اور وہ ہی سننے والا دیکھنے والا ہے ]
نوٹ ۔ 2: لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ (کوئی چیز اس کے مانند جیسی نہیں ہے ) کے متعلق بعض مفسرین کہتے ہیں اس میں لفظ مثل پر کاف (حرف…
Read the full tafseer →مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کا اور زمین کا پیدا فرمانے والا ہے اس کی تخلیق میں کوئی بھی شریک نہیں ہے اور اس نے تم کو بھی پیدا فرمایا ہے تمہاری جانوں سے تمہارے جوڑے بنائے ہیں یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا [ سے لے کر آج تک جو نسلاً بعد نسل بنی آدم پیدا ہو رہے ہیں اور جو پیدا ہوں گے ان میں یہ سلسلہ رکھا ہے کہ مرد بھی پیدا فرمائے ہیں اور عورتیں بھی، مرد عورتوں کے جوڑے ہیں اور عورتیں مردوں کے، اسی طرح اس نے مویشیوں میں بھی کئی قسمیں پیدا فرمائیں اور ان میں بھی نر و مادہ پیدا کیے جن سے ان کی نسلیں چل رہی ہیں۔
﴿يَذْرَؤُكُمْ فِيْهِ﴾ (وہ اس تخلیق کے ذریعے تمہاری تکثیر فرماتا ہے) اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
اثبات وحی الہی مع بیان عظمت رب کبریاو وعید بہ شرک ونافرمانی :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” حم عسق ....... الی ....... انہ بکل شیء علیم “۔
(ربط) ” گذشہ سورت کے مضامین کا حاصل مخالفین کے اعتراضات کا رد اور ان پر توبیخ وتنبیہ تھا، اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی رسالت اور وحی کی عظمت کو ثابت کیا جارہا ہے، اور اسی کے ضمن میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے، اور مجرمین ومنکرین پر توبیخ ووعید بھی ہے کہ یہ اپنے افعال قبیحہ کی سزا سے ہرگز نہیں بچ سکتے ارشاد ہے ،
(آیت ) ” حم عسق “۔ اللہ رب العزت ہی اس کی مراد خوب جاننے والا ہے، اصول دین اور احکام شریعت کی تعیین اور تحقیق کے لیے جیسے آپ ﷺ پر یہ سورت نازل کی جارہی…
Read the full tafseer →10:۔ ” فاطر السموات والارض “ یہ ” لہ ما فی السموات وما فی الارض “ ہی سے متعلق ہے گویا مضإون کے اعتبار سے یہ سب ” یوحی “ کا مفعول بہ ہے۔ یعنی تمام انبیاء (علیہم السلام) کی طرح وحی بھیجی گئی کہ کارساز اور عالم الغیب ہونے میں اللہ کا کوئی شریک نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فطرۃ زمین و آسمان میں وہی تعلق رکھا ہے جو مادہ اور نر میں ہوتا ہے جس طرح اس نے زمین و آسمان کو پیدا کی اور ان دونوں کے خواص کے ملاپ سے یہ ساری نعمتیں اور برکتیں رونما ہوئیں، اسی طرح اس نے انسانوں کی جنس ہی سے ان کی بیویاں پیدا کیں جیسا کہ س سورة نساء (رکوع 1) میں ہے ” الذی خلقکم من نفس واحدۃ وخلق منہا زوجھا “ ای من جنسہا۔ اور سورة نحل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
وحی الٰہی کی حقانیت
وحی الٰہی پر ایمان لانا دین کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔ سورة ہذا کی ابتداء بھی وحی الٰہی کی حقانیت سے ہوئی جیسا کہ گزشتہ درس میں فرمایا کذلک یوحی الیک والی الدین من قبلک اسی طرح ہم نے وحی بھیجی آپ کی طرف جیسا کہ وحی بھیجی آپ سے پہلے لوگوں کی طرف ، اور اب اس درس کا آغاز بھی درس الٰہی کی حقانیت سے ہو رہا ہے ۔ البتہ سابقہ درس کی نسبت وحی الٰہی کا ذکر اس مقام پر قدرے تفصیل سے ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وکذلک اوحیان الیک قرانا عریبا اور اسی طرح ہم نے وحی نازل کی ہے آپ کی طرف ایک قرآن جو عربی زبان میں ہے۔ قرآن پاک میں وحی الٰہی اور دوسرے بنیادی عقائد کا تذکرہ بار ہا آ رہا ہے تا کہ بات…
Read the full tafseer →فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ 0 ۭ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّمِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا 0 ۚ يَذْرَؤُكُمْ فِيْہِ 0 ۭ لَيْسَ كَمِثْلِہٖ شَيْءٌ 0 ۚ وَہُوَالسَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ 11
فطر
أصل الفَطْرِ : الشّقُّ طولا،
وفِطْرَةُ اللہ : هي ما رکز فيه من قوّته علی معرفة الإيمان، وهو المشار إليه بقوله : وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ [ الزخرف/ 87] ، وقال : الْحَمْدُ لِلَّهِ فاطِرِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ فاطر/ 1]
(ط ر ) الفطر
( ن ض ) اس کے اصل معنی کسی چیز کو ( پہلی مرتبہ ) طول میں پھاڑنے کے ہیں ۔ اسی سے فطرت ہے جس کے معنی تخلیق کے ہیں اور فطر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
ترکیب : قرآنا مفعول لاوحینا لتنذر متعلق باوحینا فریق خبرمبتدء محذوف ای بعضھم فریق فی الجنۃ و الظالمون مبتدء ومابعدہ خبرہ اولیاء بالنصب علی انہ مفعول لاتخذوامن دونہ حال منہ ای حال کون الاولیاء غیر اللہ الولی خبر فاللہ ھو ضمیر الفصل للتاکید۔
تفسیر : پھر مسئلہ نبوت کا ذکر کرتا ہے وکذلک اوحینا الخ کہ جس طرح انبیائِ سابقین پر وحی کی گئی تھی اسی طرح اے محمد ﷺ ! ہم نے تیری طرف عربی زبان میں قرآن وحی کیا کس لیے لتنذرام القرٰی تاکہ تو اہل مکہ کو اور اس کے آس پاس والوں کو خبردار کر دے ڈراوے کہ تم پر اگر باز نہ آؤ گے بلا آنے والی ہے اور ان کو قیامت کے دن سے بھی ڈراوے کہ جس میں کوئی شک نہیں کہ اس روز ایک…
Read the full tafseer →فَاطِرُالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا وَّمِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا ج یَذْرَؤُکُمْ فِیْہِ ط لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْ ئٌ ج وَھُوَالسَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ ۔ (الشوری : 11)
(وہی آسمانوں اور زمین کو بنانے والا ہے، اسی نے تمہاری اپنی جنس سے تمہارے جوڑے پیدا کیے اور چوپایوں کی جنس سے بھی جوڑے پیدا کیے، اور اس طریقے سے وہ تمہاری نسلیں پھیلاتا ہے، اور اس کے مانند کوئی شے بھی نہیں ہے، اور وہی سننے والا اور دیکھنے والا ہے)
اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلائل
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے ولی، کارساز، خالق ومالک اور حاکم حقیقی ہونے کے دلائل مہیا کیے گئے ہیں۔ سب سے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جس اللہ پر بھروسہ کرنا ہے اسی نے زمین و آسمان اور لوگوں کو پیدا کیا ہے۔
فاطر کا لغوی معنٰی ہے پیدا کرنے والا اور کسی کام کو بالکل ابتدا سے شروع کرنے والا۔ اللہ تعالیٰ ہی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور اسی نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا اور پھر حضرت آدم (علیہ السلام) سے اس کی بیوی کو پیدا کیا اور اس کے بعد نسل انسانی کی افزائش کا سلسلہ جاری فرمایا۔ (النساء : 1)
اللہ تعالیٰ نے ہی انسان کی خدمت کے لیے چوپائے پیدا کیے۔ ان میں بھی نر اور مادہ بنائے تاکہ ان کی افزائش کا سلسلہ جاری رہے۔ اسی نے جاندار اور غیر جاندار چیزیں پیدا فرمائی ہیں۔ زمین و آسمانوں میں…
Read the full tafseer →1 1: فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے) : ذلکم کی خبر ہونے کی وجہ سے یہ مرفوع ہے یا مبتدأ محذوف کی خبر ہے۔ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ (اس نے تمہارے لئے تمہاری جنس کے جوڑے بنائے) تمہارے لئے تمہاری جنس میں سے لوگ پیدا کردیئے۔ اَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا (اور مواشی کے جوڑے بنائے) اور چوپایوں کیلئے بھی انہی کی جنس میں سے جوڑے بنائے۔ یَذْرَؤُکُمْ (وہ تمہاری نسل چلاتا ہے) تمہیں بڑھاتا ہے۔ کہا جاتا ہے ذرأ اللّٰہ الخلق اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو بڑھایا۔ پھیلایا۔ فِیْہِ (اس تدبیر سے) وہ یہ ہے کہ انسانوں اور چوپایوں کے جوڑے بنا کر افزائش نسل…
Read the full tafseer →10، وما اختلفتم فیہ من شیئ، دین کے معاملہ میں، فحکمہ الی اللہ، اس معاملہ میں قیامت کے دن ایساواضح فیصلہ کریں گے کہ شک زائل ہوجائے گا۔ ، ذلکم اللہ ، جو باہم اختلاف کرنے والوں کا فیصلہ کرے گا۔ وہی، ربی علیہ توکلت والیہ انیب،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
8۔ 12۔ اکثر علما کے نزدیک مشیت اور ارادے کے ایک ہی معنی ہیں۔ اس تفسیر میں ایک جگہ گزر چکا ہے کہ ارادہ علم کا تابع ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے ہر ایک کام کا انجام جان لیا جاتا ہے پھر اس کام کا ارادہ کیا جاتا ہے مثلاً کھیتی کرنے اور باغ لگانے سے پہلے یہ انجام سوچ لیا جاتا ہے کہ جس زمین میں کھیتی یا باغ کا ارادہ ہے اس زمین میں کھیتی اور باغ کی پیداوار ہوجائے گی تو پھر اس زمین میں کھیتی کے کرنے کا یا باغ کے لگانے کا ارادہ کیا جاتا ہے اس بنا پر پہلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو سب نافرمان لوگوں کو فرمان بردار بنا کر تمام مخلوقات کو نیک کردیتا لیکن اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں جو لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
آیت 10
’ وما اختلفتم فیہ من شیء) ” اور جن باتوں میں تم آپس میں اختلاف رکھتے ہو۔ “ یعنی اپنے دین کے اصول و فروع میں اگر تم ایک دوسرے سے متفق نہ ہو۔ (فحکمہ الی اللہ) تو اسے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کی طرف لوٹایا جائے وہ دونوں جو فیصلہ کریں وہی حق ہے اور جو ان دونوں کے خلاف ہو وہ باطل ہے۔ (ذلکم اللہ ربی) ’ دیہی اللہ میرا رب ہے۔ “ جس طرح اللہ تعالیٰ کائنات کا رب، خالق، رازق اور مدبر ہے، اسی طرح وہ اپنے بندوں کے درمیان ان کے تمام امور میں اپنی شریعت کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔
آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ کسی امر پر اتفاق امت حجت قطعی ہے کیونکہ جن امور میں ہمارے درمیان اختلاف نہ ہو اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
28 آسمانوں اور زمین کی چابیاں اللہ ہی کے پاس ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی کے پاس ہیں کنجیاں آسمانوں اور زمین ۔ کے خزانوں ۔ کی "۔ پس وہ جس کو چاہے دے اور جتنا چاہے عطا فرمائے۔ وہ جس کو دینے اور نوازنے پر آجائے کوئی اس کو روک نہیں سکتا اور جس کو نہ دینا چاہے کوئی اس کو دلوا نہیں سکتا۔ پس تم لوگ ہر حال میں اسی کے حضور دست سوال دراز کرو اور اس کے سوا اور کسی سے مانگنے کی ذلت نہ اٹھاؤ کہ تمام خزانوں کی چابیاں اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں۔ اور اس کی تخلیق فرمودہ اور قائم کردہ اس کائنات میں حکم و تصرف بھی اسی وحدہ لاشریک کا چلتا ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
اللہ کا غلبہ، قدرت، دانائی اور رحم و کرم سب سے زیادہ ہے
تشریح : پہلی اور دوسری آیات میں حروف مقطعات ہیں۔ اس کے بعد رب ذوالجلال کی صفات کا ذکر ہے۔ توحید پر ایمان لانا انسان کے لیے بہترین راستہ ہے۔ کیونکہ یہی مبارک راستہ انسان کو زندگی کی تمام قباحتوں سے بچاتا ہے۔ انسان کو ایسانظام حیات عطا کرتا ہے کہ جس کی وجہ سے عبادات، اخلاقیات، معاملات، حقوق اور تعزیرات کا ایک بہترین نقشہ انسان کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ یہ نظام حیات انسان کو ظلم زیادتی، کفر و شرک، بےحیائی بد نظمی اور تمام غم، خوف اور پریشانیوں سے محفوظ کردیتا ہے۔ اسی لیے قرآن کو بہت بڑی رحمت اور اسلام کو سلامتی کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس پیغام کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
آیات 10 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
ان لوگوں سے کہیے کہ اگر انہیں توحید باری تعالیٰ میں اختلاف ہے تو اس کا فیصلہ اللہ کریم کے حوالے ہے جس نے دنیا میں دلائل معجزات سے واضح کردیا ہے اور آخرت میں ایمان والوں کو جنت میں اور کفار کو دوزخ میں داخل کردے گا اور جس کی یہ عظمت وشان ہے وہی میرا پروردگار ہے اور کفار سے جس بھی تکلیف کے پہنچنے کا اندیشہ ہوسکتا ہے اس کے لیے میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اپنی ہر ضرورت کے لیے اس کی طرف رجوع کرتا ہوں وہ کائنات کا رب ہے تمہارا بھی وہی ہے کہ زمین و آسمان کو بنانے والا وہی ہے اور تمہیں پیدا کیا اور پھر جوڑے بنایا کہ تمہاری نسل چلے۔ اسی طرح جانوروں کو پیدا کرکے جوڑے…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی تمہاری نسل کو زمین کے ہر حصہ میں پھیلاتا ہے۔
7 یعنی کوئی چیز نہ ذات میں اس جیسی ہے اور نہ صفات میں، کیونکہ ہر چیز مخلوق ہے اور وہ خالق اور ظاہر ہے کہ کسی مخلوق کو اپنے خالق سے مشابہت نہیں ہوسکتی۔ اس میں لفظ ” مثل “ پر کاف ( حرف تشبیہ) یا تو زائد ہے اور مطلب یہی ہے کہ اس کی مثال کوئی چیز نہیں ہے۔ یا اس میں ” مثل “ کا لفظ مبالغہ کے لئے استعمال کیا گیا ہے اور مقصد یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا کوئی مثل ہوتا بھی تو اس جیسی بھی کوئی چیز نہ ہوتی کجا کہ وہ خود اللہ تعالیٰ جیسی ہو۔ ( شوکانی) ۔
8 اس سے معلوم ہوا کہ سننا اور دیکھنا اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے اور اس کی نفی یا تاویل نہیں کی…
Read the full tafseer →(42:11) فاطر السموت والارض : فاطر اسم فاعل واحد مذکر فطر (باب ضرب و نصر) مصدر سے مضاف ہے السموت مضاف الیہ ۔ واؤ حرف عطف الارض معطوف، فاطر السموت والارض مبتداء جعل لکم خبر۔
فاطر کے معنی ہیں عدم کو پھاڑ کر وجود میں لانے والا۔ نیست سے ہست کرنے والا۔ لغت میں فطر کے معنی پھاڑنے کے ہیں۔
ازواجا : زوج کی جمع جوڑے۔ ہم مثل چیزیں۔ حیوانات کے جوڑے میں سے نر ہو یا مادہ ہر ایک کو زوج کہتے ہیں۔
من انفسکم : انفسکم مضاف مضاف الیہ۔ تمہارے نفس، تمہاری جانیں۔ یعنی تم میں سے ، تمہاری جنس میں سے۔
الانعام۔ مویشی ، بھیڑ، بکری، گائے، بھینس، اونٹ۔ مویشی کو اس وقت تک انعام نہیں کہا جاسکتا جب تک اسمیں اونٹ شامل نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 12 : انیب (میں رجوع کرتا ہوں ، میں لوٹتا ہوں) فاطر (پیدا کرنے والا ، بنانے والا) الانعام (جانور ، مویشی) یذرو (وہ پھیلاتا ہے) مقالید ( مقلد ) ( چابیاں، کنجیاں)
تشریح : آیت نمبر 10 تا 12 : ان آیات میں اس بنیادی عقیدہ کو بیان کیا گیا ہے کہ جس بات میں بھی اختلاف یدا ہوجائے اس کے فیصلے کا حق اللہ کے سوا کسی کو بھی نہیں ہے خواہ وہ معاملہ اعتقاد وعمل کا ہو یا قانون اور اخلاق کا ۔ وہ اختلاف کسی چیز کے جائز و ناجائز یا حلال و حرام کا ہو یا کسی بھی باہمی تنازعات کا اس کا آخری فیصلہ کائنات کے مالک حقیقی اللہ ہی کے ذمے ہے کیونکہ اصل حکم اللہ ہی کا ہے۔ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم…
Read the full tafseer →(ف 2) اس آیت میں منکرین قدرت الٰہی کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی چند نشانیاں یاددلائیں کہ اس صاحب قدرت نے آسمان و زمین پیدا کیے اورس نے تمہارے لیے تمہیں میں دے عورتیں بنائیں کہ جوڑے پیدا کیے مرد اور عورت اور چوپاؤں کے بھی جوڑے پیدا کیے نر و مادہ ، وہی تو ماؤں کے رحموں میں تم کو مرد عورت جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور پھر انسان اور چوپاؤں کی نسل بڑھائی، اس جیسا صفات کمال علم قدرت تدبیر میں کوئی بھی نہیں وہ ہر بات سننے والاجاننے والا ہے آسمان زمین کے خزانے سب اسی کے ہیں مینہ گھاس وغیرہ سب کا وہ مالک ہے جس کو چاہتا ہے رزق بیشمار دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے تنگی کردیتا ہے وہ اپنے کارخانوں کا ذرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
[6] ان آیات میں متکلم اللہ تعالیٰ نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ہیں اگرچہ پوری عبارت اللہ کی طرف سے وحی کی گئی ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو ہدایت دے رہا ہے کہ تم یہ اعلان کرو اس کی نہایت واضح مثال سورة فاتحہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بندوں کی زبان سے فرمائی کہ اس طرح کہا کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
وہ بےنظیر ہے
صفات الٰہی کا تذکرہ ہے ۔ کہ وہ خدا جو حکم ہے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا بھی ہے ۔ اس کو وسائل وذرائع کی قطعاً احتیاج نہیں ۔ اس نے بالکل کتم عام سے کائنات کو پیدا کیا ۔ اور وجود سے نوازا ۔ پھر اس نے انسانوں اور حیوانوں کو جوڑا جوڑا پیدا کیا تاکہ اس طرح ان کی نسل میں افزائش ہو ۔ اور وہ بےمثل اور بےنظیر ہے ۔ دنیا کی کوئی چیز بھی ذات میں اور صفات میں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی ۔ وہ سارے عالم امکان کو پیدا کرنے والا ہے اور ساری کائنات سے جدا ہے ۔ وہ لوگوں کو ستنا ہے اور حالات و کوائف کو جانتا ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اس کے ہاتھ میں ہے ۔ جس کو چاہے زیادہ روزی سے بہرہ مند کرے…
Read the full tafseer →(11) وہی اللہ تعالیٰ آسمانوں کا اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اسی نے تمہارے لئے تمہاری جنس میں سے جوڑے بنائے اور اسی نے چوپایوں میں سے جوڑے بنائے وہ تم کو اس تدبیر سے روئے زمین پر پھیلاتا اور بڑھاتا ہے کوئی چیز اس جیسی نہیں اس کی طرح کا سا کوئی اور نہیں اور وہی سب کی سننے والا سب کو دیکھنے والا ہے۔ یعنی تم میں اور دیگرحیوانات میں نرومادہ کے جوڑے پیدا کئے اور اس طریقہ سے وہ تم کو روئے زمین پر پھیلاتا اور بڑھاتا رہتا ہے کوئی چیز بھی اس جیسی نہیں یعنی اس اللہ تعالیٰ کی مثل کوئی دوسرا نہیں وہی سب کی سننے والا اور سب کو جاننے والا ہے۔
Read the full tafseer →ف 6۔ اور وہ تمہارا بھی پید کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے
11 ؎ توحید الٰہی کا وہ بیان جو گزشتہ آیت میں شروع ہوا اس کی مزید وضاحت فرمائی جا رہی ہے کہ اس کائنات کی ہر ایک چیز کو خواہ بڑی ہے یا چھوٹی ، خواہ وہ نیک ہے یا بد ، اچھی ہے یا بری سب کا موجد اور خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہی ہرچیز کو وجود بخشنے والا ہے اور دوسرا کوئی ایسا نہیں جس نے اس ساری کائنات میں سے کوئی چیز بنائی یا تخلیق کی ہو اور کوئی چیز نہیں جو اس کا مثیل یا اس کی ضدوند ہو اور کوئی بھی ان صفات کا مالک نہیں جو صفات اللہ ربِّ کریم کی ہیں اور نہ ہی کوئی ہو سکتا ہے کیونکہ اگر کوئی بینا ہے تو وہ آنکھ کا محتاج ہے اور اس محتاجی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
Commentary
وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّـهِ (Whatever dispute you have in any matter, its judgment lies with Allah. - 10) It means that the judgment in all those matters in which you dispute lies with Allah, because the sovereignty belongs to Allah only, as stated in another verse:إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّـهِ (The Decision belongs to none but Allah - 6:57). The direction in many verses to obey Rasulullah ﷺ and in some verses to obey those in authority does not contradict the above, because the orders of Rasulullah ﷺ and of the authorities are also, in a way,…
Read the full tafseer →17 Literally, "Nothing is like His likeness," which implies this: Even if there were a likeness of Allah, nothing would be like it not to speak of being like unto Allah Himself.
18 That is, "At one and the same time He is hearing everybody and seeing everything in the Universe. "
Read the full tafseer →