Explained with ayahs 9–12
مشرکین کا شرک
اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس مشرکانہ فعل کی قباحت بیان فرماتا ہے جو وہ اللہ کے ساتھ شریک کیا کرتے تھے اور دوسروں کی پرستش کرتے تھے۔ اور بیان فرماتا ہے کہ سچا ولی اور حقیقی کارساز تو میں ہوں۔ مردوں کو جلانا میری صفت ہے ہر چیز پر قابو اور قدرت رکھنا میرا وصف ہے پھر میرے سوا اور کی عبادت کیسی ؟ پھر فرماتا ہے جس کسی امر میں تم میں اختلاف رونما ہوجائے اس کا فیصلہ اللہ کی طرف لے جاؤ یعنی تمام دینی اور دنیوی اختلاف کے فیصلے کی چیز کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مانو۔ جیسے فرمان عالی شان ہے آیت (فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ…
Read the full tafseer →سورة الشُّوْرٰی 19
یہ دلائل ہیں اس امر کے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کیوں ولی برحق ہے، اور کیوں اسی پر توکل کرنا صحیح ہے اور کیوں اسی کی طرف رجوع کیا جانا چاہیے (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، النمل، حواشی 73 تا 83، الروم، حواشی 25 تا 31)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
خلاصہ تفسیر
اور (آپ ان لوگوں سے جو توحید میں آپ سے اختلاف رکھتے ہیں یہ کہئے کہ) جس جس بات میں تم (اہل حق کے ساتھ) اختلاف کرتے ہو اس (سب) کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کے سپرد ہے (وہ یہ ہے کہ دنیا میں دلائل و معجزات کے ذریعہ توحید کا حق ہونا واضح فرما دیا اور آخرت میں ایمان والوں کو جنت اور ایمان نہ لانے والوں کو جہنم میں ڈالا جائے گا) یہ اللہ (جس کی یہ شان ہے) میرا رب ہے (اور تمہارے خلاف و مخالف سے جو کسی تکلیف و نقصان کے پہنچنے کا اندیشہ ہوسکتا ہے اس کے بارے میں) اسی پر توکل رکھتا ہوں اور (دنیا و دین کے سب کاموں میں) اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں (اس سے توحید کا مضمون خوب موکد ہوگیا۔ آگے دوسری صفات…
Read the full tafseer →لہ مقالید السموت والارض یبسط الرزق لمن یشآء و یقدر انہ بکل شیء علیم (12)
جو خالق ہے وہی مالک بھی ہے
جب اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا خالق ہے تو یہ بھی ضروری ہے کہ وہی ان کا مالک بھی ہو۔ یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ ان کو پیدا تو کرے لیکن پیدا کرنے کے بعد ان کے خزانوں کی کنجیاں دوسروں کو پکڑا دے ؟ اسی کے حکم سے بارش ہوتی ہے اور اسی کے حکم سے زمین اپنے خزانے اگلتی ہے اور وہی ہے جو اپنے علم اور اپنی حکمت کے تقاضوں کے تحت جس کے لئے چاہتا ہے رزق میں کشادگی دیتا ہے جس کے لئے چاہتا ہے اس کے رزق کو تنگ کردیتا ہے نہ رزق کے پیدا کرنے میں کسی دیوی دیوتا کا کوئی دخل ہے اور نہ اس کی تقسیم میں کسی کو دخل ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
13۔ 1 صرف ایک اللہ کی عبادت اور اس کی اطاعت (یا اس کے رسول کی اطاعت جو دراصل اللہ ہی کی اطاعت ہے) ، اس کی عبادت و اطاعت سے گریزاں ان میں دوسروں کو شریک کرنا، انتشار انگیزی، جس سے ' پھوٹ ڈالنا ' کہہ کر منع کیا گیا ہے۔
13۔ 2 اور وہی توحید اور اللہ و رسول کی اطاعت ہے۔
13۔ 3 یعنی جس کی ہدایت کا مستحق سمجھتا ہے، اسے ہدایت کے لئے چن لیتا ہے
13۔ 4 یعنی اپنے دین اپنانے کی اور عبادت کو اللہ کے لئے خالص کرنے کی توفیق اس شخص کو عطا کردیتا ہے جو اس کی اطاعت و عبادت کی طرف رجوع کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
2: یعنی سب کو زبردستی مسلمان بنا دیتا، لیکن انسان کو پیدا کرنے کا اصل مقصد ہی یہ تھا کہ لوگ زبردستی نہیں، بلکہ خود اپنے اختیار سے سوچ سمجھ کر حق قبول کریں۔ اسی میں ان کا امتحان ہے جس پر آخرت کی جزاء اور سزا مرتب ہونے والی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے کسی کو زبردستی مسلمان بنانا نہیں چاہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
آیت نمبر 10 تا 12
ان حقائق کو اس ایک پیراگراف میں پیش کرنے کا طریقہ بڑا عجیب ہے۔ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان حقائق کے درمیان ایک باریک اور خفیہ ربط موجود ہے۔ یہ کہ لوگوں کے درمیان جو اختلافات ہیں ، ان کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
وما اختلفتم فیہ من شییء فحکمہ الی اللہ (42 : 10) “ تمہارے درمیان جس معاملہ میں بھی اختلاف ہو ، اس کا فیصلہ کرنا اللہ کا کام ہے ”۔ اور اللہ نے اپنا فیصلہ اس قرآن میں نازل کردیا ہے اور اس قرآن نے دنیا و آخرت دونوں کے بارے میں فیصلے کر دئیے ہیں اور لوگوں کی زندگی کے لئے انفرادی اور اجتماعی منہاج اس کے اندر ضبط کردیا ہے۔ ان کے نظام زندگی ، ان کے نظام معیشت ، ان کے…
Read the full tafseer →11 تمام خزانوں کی کنجیاں اس کے ہاتھ میں ہیں۔ اسی کو قبضہ اور اختیار حاصل ہے کہ جس خزانہ میں ہے جس کو جتنا چاہے مرحمت فرمائے۔ تمام جانداروں کو وہ ہی روزی دیتا ہے، لیکن کم و بیش کی تعیین اپنی حکمت کے موافق کرتا ہے۔ اسی کو معلوم ہے کہ کون چیز کتنی عطا کی مستحق ہے اور اس کے حق میں کس قدر دینا مصلحت ہوگا۔ جو حال روزی کا ہے وہ ہی دوسری عطایا میں سمجھو۔
Read the full tafseer →آیت 12 { لَہٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ”اسی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کی تمام کنجیاں۔“
{ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَقْدِرُ } ”وہ کشادہ کردیتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ناپ تول کردیتا ہے۔“
{ اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ} ”یقینا وہ ہرچیز کا جاننے والا ہے۔“
وہ خوب جانتا ہے کہ کس کے لیے رزق میں کشادگی بہتر ہے اور کس کو بقدر ِضرورت دینا مناسب ہے۔
اگلی آیت اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں ”اقامت دین“ کی اصطلاح آئی ہے۔ اس لحاظ سے یہ آیت اس سورت کا عمود ہے اور اس مضمون کے اعتبار سے یہ مقام پورے قرآن میں ذروہ سنام climax کا درجہ رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →13 یہ اللہ پر توکل کرنے کی تیسری وجہ ہے کہ آسمان و زمین کے تمام تر خزانوں کی چابیاں اسی کے پاس ہیں۔ وہ ایسا داتا ہے جو ہر آن اپنی مخلوق پر بےانداز خرچ کرتا ہے اور رزق مہیا کر رہا ہے۔ البتہ بعض مصلحتوں کے پیش نظر اس نے رزق کی تقسیم تمام لوگوں میں یکساں نہیں رکھی۔ اور اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ رزق کے اس تفاوت کی وجہ سے ہی دنیا کا یہ نظام چل رہا ہے۔ اور سب لوگوں کی آزمائش ہو رہی ہے۔ اب اگر وہ کسی کو زیادہ رزق دیتا ہے یا کسی کو کم دیتا ہے تو یقیناً اس میں کوئی نہ کوئی حکمت کارفرما ہوتی ہے۔ جسے وہ خود ہی سب سے زیادہ جانتا ہے۔
Read the full tafseer →14۔ ابھی ابھی ذکر آچکا ہے کہ زمین و آسمان، ساری کائنات کا خالق حق تعالیٰ ہے۔ اب ارشاد ہورہا ہے کہ محض خالق وفاطر ہی نہیں بلکہ رازق قادر، حاکم و متصرف بھی وہی ہے، اور وہ بھی یوں ہی اٹکل پچو نہیں، بلکہ رتی ماشہ پورے پورے حساب کے ساتھ ..... اور اس کا علم کلیات تک محدود نہیں، کلیات وجزئیات، ظواہر وخفایا سب پر یکساں حاوی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
آیت نمبر 10 تا 19
ترجمہ : اور جس چیز (یعنی) دین وغیرہ میں کفار کے ساتھ تمہارا اختلاف ہوا، اس کا فیصلہ قیامت کے دن اللہ ہی لوٹے گا، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا، آپ ان سے کہئے یہی اللہ میرا رب ہے، جس پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے، اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں، وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، اس نے تمہارے لئے تمہاری جنس کے جوڑے بنا دئیے ہیں، بایں طور کہ اس نے (حضرت) حواء کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا فرمایا اور چوپایوں کے نرو مادہ کے جوڑے بنائے (یَذْرَءُکُم ْ ) ذال معجمہ کے ساتھ (یعنی ذال کے ساتھ ہے نہ کہ دال کے ساتھ) اور یَذرَءُکُمْ بمعنی یَخْلُقُکُمْ ہے یعنی مذکورہ طریقہ…
Read the full tafseer →لہ مقالید السموت والارض اسی کیلئے ہیں آسمان کے اور زمین کے خزانے۔
یعنی آسمانوں اور زمین میں رزق کے خزانے۔ کلبی نے کہا : (آسمان میں) بارش اور (زمین میں) سبزہ کے خزانے۔
یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر جس کو چاہے زیادہ روزی دیتا ہے اور جس کو چاہے کم دیتا ہے (ترجمہ تھانوی)
یعنی اپنی مشیت کے موافق رزق کی وسعت بھی وہی کرتا ہے اور تنگی بھی وہی کرتا ہے اور یہ سب کچھ امتحان و آزمائش کیلئے کرتا ہے۔
انہ بکل شیء علیم بلاشبہ وہ ہر چیز سے بخوبی واقف ہے۔ یعنی جیسا مناسب ہوتا ہے ‘ ویسا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →اسی کے اختیار میں ہے آسمانوں اور زمین کے خزانے یعنی بارش و نباتات جس پر چاہتا ہے مال کی فراخی کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے کم دیتا ہے اور وہ فراخی و کمی سب کو جاننے والا ہے۔
Read the full tafseer →(1) لہ مقالید السموت والارض : اس کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة زمر (63)۔
(2) یبسط الرزق لمن یشآء و یقدر : اس کی تفسیر کیلئے دیکھیے سورة عنکبوت (62)۔
Read the full tafseer →لہ مقالیدالسموات والارض اس کی وضاحت سورة زمر میں گذر چکی ہے۔ نحاس نے کہا : جو چابیوں کا مالک ہوتا ہے وہ خزانوں کا بھی مالک ہوتا ہے (3) ۔ مفتاح کو اقلید کہتے ہیں اس کی جمع خلاف قیاس آتی ہے جس طرح حسن کی جمع خلاف قیاس محاسن آتی ہے یبسطالرزق۔۔۔۔ اس کی بحث کئی مواقع پر گذرچ کی ہے۔
Read the full tafseer →1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) و طبرانی (رح) وابوالشیخ (رح) فی العظمۃ وابن مردویہ (رح) و ابونعیم (رح) نے الحلیہ میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ تمہارے رب کے پاس نہ رات ہے نہ دن ہے، آسمانوں کا نور اس کی ذات کے نور سے ہے اور تمہارے دن کی مقدار اس کے نزدیک بارہ گھنٹے ہے اس پر تمہارے کل اور آج کے اعمال دن کے پہلے حصے میں پیش کئے جاتے ہیں پھر اس میں (اللہ تعالیٰ ) تین ساعات نظر فرماتے ہیں اور اس میں سے ان چیزوں پر مطلع ہوتے ہیں جن کو وہ ناپسند فرماتے ہیں اور اس سے وہ غصہ ہوتے ہیں اور انکے غصہ کو سب سے پہلے وہ فرشتے جو عرش کو اٹھانے والے ہیں پھر وہ فرشتے جو عرش کا احاطہ کرنے والے ہیں…
Read the full tafseer →لَهٗ [ اس کے لئے ہی ہیں ] مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ [ زمین اور آسمانوں کی کنجیاں ] يَبْسُطُ الرِّزْقَ [ وہ کشادہ کرتا ہے روزی کو ] لِمَنْ يَّشَاۗءُ [ اس کے لئے جس کے لئے وہ چاہتا ہے ] وَيَقْدِرُ ۭ [ اور وہ ناپ تول کرتا (دیتا ) ہے (جسے چاہے ) ] اِنَّهٗ بِكُلِّ شَيْءٍ [ یقینا وہ ہر چیز کا ] عَلِيْمٌ [ علم رکھنے والا ہے ]
Read the full tafseer →اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں
آسمانوں کی اور زمین کی کنجیاں یعنی سارے خزانوں کا وہی مالک ہے ﴿يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ يَقْدِرُ 1ؕ﴾ وہ پھیلا دیتا ہے رزق جس کے لیے چاہے اور تنگ کردیتا ہے جس کے لیے چاہے ﴿اِنَّهٗ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ0012﴾ بیشک وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
اثبات وحی الہی مع بیان عظمت رب کبریاو وعید بہ شرک ونافرمانی :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” حم عسق ....... الی ....... انہ بکل شیء علیم “۔
(ربط) ” گذشہ سورت کے مضامین کا حاصل مخالفین کے اعتراضات کا رد اور ان پر توبیخ وتنبیہ تھا، اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی رسالت اور وحی کی عظمت کو ثابت کیا جارہا ہے، اور اسی کے ضمن میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے، اور مجرمین ومنکرین پر توبیخ ووعید بھی ہے کہ یہ اپنے افعال قبیحہ کی سزا سے ہرگز نہیں بچ سکتے ارشاد ہے ،
(آیت ) ” حم عسق “۔ اللہ رب العزت ہی اس کی مراد خوب جاننے والا ہے، اصول دین اور احکام شریعت کی تعیین اور تحقیق کے لیے جیسے آپ ﷺ پر یہ سورت نازل کی جارہی…
Read the full tafseer →11:۔ ” لہ مقالید السموات۔ الایۃ “ یہ بھی ” لہ مافی السموات الخ “ سے متعلق ہے۔ جس طرح ساری کائنات کا خالق اور مالک وہی ہے، اسی طرح زمین و آسمان کے خزانوں کی کنجیوں کا مالک بھی وہی ہے۔ تمام خزائن رحمت و رزق اسی کے ہاتھ میں ہیں، تندرستی، دولت، اولاد، عزت وغیرہ ان کے اضداد سب اسی کے قبضہ واختیار میں ہیں، وہ جسے چاہتا ہے فراخی سے روزی دیتا ہے اور جس پر چاہتا ہے روزی تنگ کردیتا ہے۔ وہ ہر چیز کو اچھی طرح جانتا ہے، اس لیے جو کچھ بھی کرتا ہے اپنے علم و حکمت کے تقاضے کے مطابق کرتا ہے۔ ابتداء سورت سے یہاں تک واضح ہوگیا کہ سارے عالم میں اللہ تعالیٰ ہی متصرف و مختار ہے اور وہی غیب داں ہے، کوئی چیز اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
وحی الٰہی کی حقانیت
وحی الٰہی پر ایمان لانا دین کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔ سورة ہذا کی ابتداء بھی وحی الٰہی کی حقانیت سے ہوئی جیسا کہ گزشتہ درس میں فرمایا کذلک یوحی الیک والی الدین من قبلک اسی طرح ہم نے وحی بھیجی آپ کی طرف جیسا کہ وحی بھیجی آپ سے پہلے لوگوں کی طرف ، اور اب اس درس کا آغاز بھی درس الٰہی کی حقانیت سے ہو رہا ہے ۔ البتہ سابقہ درس کی نسبت وحی الٰہی کا ذکر اس مقام پر قدرے تفصیل سے ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وکذلک اوحیان الیک قرانا عریبا اور اسی طرح ہم نے وحی نازل کی ہے آپ کی طرف ایک قرآن جو عربی زبان میں ہے۔ قرآن پاک میں وحی الٰہی اور دوسرے بنیادی عقائد کا تذکرہ بار ہا آ رہا ہے تا کہ بات…
Read the full tafseer →لَہٗ مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ 0 ۚ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَقْدِرُ 0 ۭ اِنَّہٗ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ 12
قلد
الْقَلْدُ : الفتل . يقال قَلَدْتُ الحبل فهو قَلِيدٌ ومَقْلُودٌ ، والْقِلَادَةُ : المفتولة التي تجعل في العنق من خيط وفضّة وغیرهما، وبها شبّه كلّ ما يتطوّق، وكلّ ما يحيط بشیء . يقال : تَقَلَّدَ سيفه تشبيها بالقِلادة، کقوله : توشّح به تشبيها بالوشاح، وقَلَّدْتُهُ سيفا يقال تارة إذا وشّحته به، وتارة إذا ضربت عنقه . وقَلَّدْتُهُ عملا : ألزمته . وقَلَّدْتُهُ هجاء : ألزمته، وقوله : لَهُ مَقالِيدُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الزمر/ 63] أي : ما يحيط بها، وقیل :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
ترکیب : قرآنا مفعول لاوحینا لتنذر متعلق باوحینا فریق خبرمبتدء محذوف ای بعضھم فریق فی الجنۃ و الظالمون مبتدء ومابعدہ خبرہ اولیاء بالنصب علی انہ مفعول لاتخذوامن دونہ حال منہ ای حال کون الاولیاء غیر اللہ الولی خبر فاللہ ھو ضمیر الفصل للتاکید۔
تفسیر : پھر مسئلہ نبوت کا ذکر کرتا ہے وکذلک اوحینا الخ کہ جس طرح انبیائِ سابقین پر وحی کی گئی تھی اسی طرح اے محمد ﷺ ! ہم نے تیری طرف عربی زبان میں قرآن وحی کیا کس لیے لتنذرام القرٰی تاکہ تو اہل مکہ کو اور اس کے آس پاس والوں کو خبردار کر دے ڈراوے کہ تم پر اگر باز نہ آؤ گے بلا آنے والی ہے اور ان کو قیامت کے دن سے بھی ڈراوے کہ جس میں کوئی شک نہیں کہ اس روز ایک…
Read the full tafseer →لَـہٗ مَقَالِیْدُالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَـقْدِرُ ط اِنَّـہٗ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمٌ۔ (الشوری : 12)
(آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں، وہ رزق کشادہ کرتا ہے جس کا چاہتا ہے، اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے، بیشک وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ )
جو ذات خالق ہے وہی مالک بھی ہے
جو ذات آسمانوں اور زمین کی خالق ہے اور جس کے قبضے میں موت وحیات کا سلسلہ ہے اور جس نے مخلوقات کے جوڑے پیدا کیے اور جس نے انسانوں کو اپنی قدرت اور حکمت سے پھیلایا کیا اس کے سوا کوئی اور ذات بھی ہوسکتی ہے جو آسمانوں اور زمین کی مالک اور حکمران ہو۔ اور آسمانوں اور زمینوں کے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جس ” اللہ “ جیسا کوئی نہیں ہے۔ اس کے اختیارات دائمی اور لا محدود ہیں اور اسی کے پاس زمین و آسمانوں کے خزانوں کا کنٹرول ہے۔
اللہ تعالیٰ کے پاس ہی زمین و آسمانوں کی چابیاں ہیں۔ وہ جس کا چاہتا ہے رزق فراخ کرتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ یقیناً وہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو بھی جاندار پیدا کیا ہے۔ اس کی روزی کا ذمہ لے رکھا ہے وہ ہر کسی کے مستقل قیام اور عارضی ٹھہراؤ کو جانتا ہے اور اس نے ہر بات لوح محفوظ میں لکھ رکھی ہے۔ (ھود : 6) قرآن مجید میں یہ بھی ارشاد ہے کہ اے انسان ! تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (المدّثر : 31) اللہ…
Read the full tafseer →12: لَہٗ مَقَا لِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اس کے اختیار میں ہیں۔ آسمانوں اور زمین کی کنجیاں) یہ سورة الزمر میں گزر چکی ہے۔ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآ ئُ وَیَقْدِرُ (وہ جس کو چاہے زیادہ روزی دیتا ہے اور کم کردیتا ہے) یقدرؔ تنگ کردیتا ہے۔ اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ (بیشک وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے)
Read the full tafseer →11، فاطرالسموات والارض جعل لکم من انفسکم ازواجا، تمہاری تخلیق کی مثل میں سے بیویاں ۔ کہا گیا ہے کہ ، من انفسکم، اس وجہ سے کہا ہے کہ حضرت حواء (علیہما السلام) کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا کیا تھا۔ ، ومن الانعام ازواجا، مذکرو مؤنث کی اقسام ۔ ، یذرؤکم، تم کو پیدا کرتا ہے۔ ، فیہ، رحم میں ۔ اور کہا گیا ہے کہ فی باء کے معنی میں ہے یعنی ، یذرؤکم بہ، (تمہیں اس کے ذریعے پیداکرتا ہے) اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے، تمہیں نکاح کے ذریعے زیادہ کرتا ہے۔ ،۔۔۔۔۔۔ ، لیس کمثلہ شیء ، مثل صلہ ہے یعنی وہ کسی چیز کی طرح نہیں ہے۔ پس مثل کو تاکید کے لیے داخل کیا گیا ہے جیسے باری تعالیٰ کا قول ، فان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
8۔ 12۔ اکثر علما کے نزدیک مشیت اور ارادے کے ایک ہی معنی ہیں۔ اس تفسیر میں ایک جگہ گزر چکا ہے کہ ارادہ علم کا تابع ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے ہر ایک کام کا انجام جان لیا جاتا ہے پھر اس کام کا ارادہ کیا جاتا ہے مثلاً کھیتی کرنے اور باغ لگانے سے پہلے یہ انجام سوچ لیا جاتا ہے کہ جس زمین میں کھیتی یا باغ کا ارادہ ہے اس زمین میں کھیتی اور باغ کی پیداوار ہوجائے گی تو پھر اس زمین میں کھیتی کے کرنے کا یا باغ کے لگانے کا ارادہ کیا جاتا ہے اس بنا پر پہلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو سب نافرمان لوگوں کو فرمان بردار بنا کر تمام مخلوقات کو نیک کردیتا لیکن اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں جو لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
آیت 10
’ وما اختلفتم فیہ من شیء) ” اور جن باتوں میں تم آپس میں اختلاف رکھتے ہو۔ “ یعنی اپنے دین کے اصول و فروع میں اگر تم ایک دوسرے سے متفق نہ ہو۔ (فحکمہ الی اللہ) تو اسے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کی طرف لوٹایا جائے وہ دونوں جو فیصلہ کریں وہی حق ہے اور جو ان دونوں کے خلاف ہو وہ باطل ہے۔ (ذلکم اللہ ربی) ’ دیہی اللہ میرا رب ہے۔ “ جس طرح اللہ تعالیٰ کائنات کا رب، خالق، رازق اور مدبر ہے، اسی طرح وہ اپنے بندوں کے درمیان ان کے تمام امور میں اپنی شریعت کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔
آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ کسی امر پر اتفاق امت حجت قطعی ہے کیونکہ جن امور میں ہمارے درمیان اختلاف نہ ہو اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
28 آسمانوں اور زمین کی چابیاں اللہ ہی کے پاس ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی کے پاس ہیں کنجیاں آسمانوں اور زمین ۔ کے خزانوں ۔ کی "۔ پس وہ جس کو چاہے دے اور جتنا چاہے عطا فرمائے۔ وہ جس کو دینے اور نوازنے پر آجائے کوئی اس کو روک نہیں سکتا اور جس کو نہ دینا چاہے کوئی اس کو دلوا نہیں سکتا۔ پس تم لوگ ہر حال میں اسی کے حضور دست سوال دراز کرو اور اس کے سوا اور کسی سے مانگنے کی ذلت نہ اٹھاؤ کہ تمام خزانوں کی چابیاں اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں۔ اور اس کی تخلیق فرمودہ اور قائم کردہ اس کائنات میں حکم و تصرف بھی اسی وحدہ لاشریک کا چلتا ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
اللہ کا غلبہ، قدرت، دانائی اور رحم و کرم سب سے زیادہ ہے
تشریح : پہلی اور دوسری آیات میں حروف مقطعات ہیں۔ اس کے بعد رب ذوالجلال کی صفات کا ذکر ہے۔ توحید پر ایمان لانا انسان کے لیے بہترین راستہ ہے۔ کیونکہ یہی مبارک راستہ انسان کو زندگی کی تمام قباحتوں سے بچاتا ہے۔ انسان کو ایسانظام حیات عطا کرتا ہے کہ جس کی وجہ سے عبادات، اخلاقیات، معاملات، حقوق اور تعزیرات کا ایک بہترین نقشہ انسان کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ یہ نظام حیات انسان کو ظلم زیادتی، کفر و شرک، بےحیائی بد نظمی اور تمام غم، خوف اور پریشانیوں سے محفوظ کردیتا ہے۔ اسی لیے قرآن کو بہت بڑی رحمت اور اسلام کو سلامتی کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس پیغام کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
آیات 10 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
ان لوگوں سے کہیے کہ اگر انہیں توحید باری تعالیٰ میں اختلاف ہے تو اس کا فیصلہ اللہ کریم کے حوالے ہے جس نے دنیا میں دلائل معجزات سے واضح کردیا ہے اور آخرت میں ایمان والوں کو جنت میں اور کفار کو دوزخ میں داخل کردے گا اور جس کی یہ عظمت وشان ہے وہی میرا پروردگار ہے اور کفار سے جس بھی تکلیف کے پہنچنے کا اندیشہ ہوسکتا ہے اس کے لیے میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اپنی ہر ضرورت کے لیے اس کی طرف رجوع کرتا ہوں وہ کائنات کا رب ہے تمہارا بھی وہی ہے کہ زمین و آسمان کو بنانے والا وہی ہے اور تمہیں پیدا کیا اور پھر جوڑے بنایا کہ تمہاری نسل چلے۔ اسی طرح جانوروں کو پیدا کرکے جوڑے…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی وہی جانتا ہے کہ کس کے حق میں زیادہ روزی دینا بہتر ہے اور کس کے حق میں کم روزی دینا۔
Read the full tafseer →(42:12) لہ : میں لام ملک و ملکیت کا ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔ اسی کی ہے۔ اسی کی ملکیت ہے۔
مقالید السموت والارض۔ مضاف مضاف الیہ۔ آسمانوں اور زمین کی کنجیاں آسمانوں اور زمین کے خزانے۔ القلد القلد (باب ضرب) رسی بٹنا۔ قلدت الحبل میں نے رسی بٹی۔ بٹی ہوئی رسی کو قلید یا مقلود کہتے ہیں۔ قلادۃ اس بٹی ہوئی رسی کو کہتے ہیں جو گلے میں ڈالی جائے۔ جیسے ڈور، زنجیر وغیرہ۔ اسی سے باب تفعیل سے تقلید ہے۔ کسی مسئلہ میں تقلید کرنا۔ بےسوچے سمجھے پیروی کرنا۔
امام راغب (رح) نے لکھا ہے :۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حفاظت کی طرف اشارہ ہے جو تمامکائنات کو محیط ہے۔
یسبط : فعل مضارع واحد مذکر غائب۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 12 : انیب (میں رجوع کرتا ہوں ، میں لوٹتا ہوں) فاطر (پیدا کرنے والا ، بنانے والا) الانعام (جانور ، مویشی) یذرو (وہ پھیلاتا ہے) مقالید ( مقلد ) ( چابیاں، کنجیاں)
تشریح : آیت نمبر 10 تا 12 : ان آیات میں اس بنیادی عقیدہ کو بیان کیا گیا ہے کہ جس بات میں بھی اختلاف یدا ہوجائے اس کے فیصلے کا حق اللہ کے سوا کسی کو بھی نہیں ہے خواہ وہ معاملہ اعتقاد وعمل کا ہو یا قانون اور اخلاق کا ۔ وہ اختلاف کسی چیز کے جائز و ناجائز یا حلال و حرام کا ہو یا کسی بھی باہمی تنازعات کا اس کا آخری فیصلہ کائنات کے مالک حقیقی اللہ ہی کے ذمے ہے کیونکہ اصل حکم اللہ ہی کا ہے۔ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
نافرمانوں کا حال۔
(ف 1) اے لوگو، تمہارے لیے کوئی نئی بات نازل نہیں ہوئی ہے بلکہ وہی قدیم دین کہ جس پر حضرت ابراہیم موسی، عیسیٰ مامور تھے اے محبوب ﷺ حضرت نوح سے اب تک جتنے انبیاء ہوئے سب کے لیے ہم نے دین کی ایک راہ مقرر کی جس میں وہ سب متفق ہیں وہ راہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی اطاعت اس پر اور اس کے رسولوں پر اور اس کی کتابوں پر اور رز جزا پر اور باقی تمام ضروریات دین پر ایمان لانا لازم کریں، کہ یہ امور تمام انبیاء کی امت کے لیے یکساں لازم ہے۔ اور دین الٰہی کو اپنے قول عمل سے قائم رکھیں اور اصل دین میں کسی طرح کی تفریق واختلاف وپھوٹ نہ ڈالیں۔
(ف 1) اس آیت میں فرمایا : اے محبوب ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
[6] ان آیات میں متکلم اللہ تعالیٰ نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ہیں اگرچہ پوری عبارت اللہ کی طرف سے وحی کی گئی ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو ہدایت دے رہا ہے کہ تم یہ اعلان کرو اس کی نہایت واضح مثال سورة فاتحہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بندوں کی زبان سے فرمائی کہ اس طرح کہا کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
وہ بےنظیر ہے
صفات الٰہی کا تذکرہ ہے ۔ کہ وہ خدا جو حکم ہے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا بھی ہے ۔ اس کو وسائل وذرائع کی قطعاً احتیاج نہیں ۔ اس نے بالکل کتم عام سے کائنات کو پیدا کیا ۔ اور وجود سے نوازا ۔ پھر اس نے انسانوں اور حیوانوں کو جوڑا جوڑا پیدا کیا تاکہ اس طرح ان کی نسل میں افزائش ہو ۔ اور وہ بےمثل اور بےنظیر ہے ۔ دنیا کی کوئی چیز بھی ذات میں اور صفات میں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی ۔ وہ سارے عالم امکان کو پیدا کرنے والا ہے اور ساری کائنات سے جدا ہے ۔ وہ لوگوں کو ستنا ہے اور حالات و کوائف کو جانتا ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اس کے ہاتھ میں ہے ۔ جس کو چاہے زیادہ روزی سے بہرہ مند کرے…
Read the full tafseer →(12) آسمانوں کی اور زمین کی کنجیاں سب اسی کے اختیار میں ہیں جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور جس روزی کو چاہتا ہے کم کردیتا ہے اور نپی تلی کردیتا ہے اور اس کی روزی تنگ کردیتا ہے بیشک وہ ہر چیز کو پوری طرح جاننے والا ہے اور ہر چیز سے پوری طرح واقف ہے۔ یعنی آسمانوں اور زمین میں اسی کا تصرف ہے جس کی روزی چاہتا ہے کشادہ کردیتا ہے اور جس کی چاہتا ہے کم کردیتا ہے اور اس کو تنگدست بنادیتا ہے کیونکہ وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور ہر شخص کو مصلحت سے خوب واقف ہے جس کو جس لائق سمجھتا ہے اپنی حکمت کے موافق اسی قدر روزی سے نوازتا ہے۔
Read the full tafseer →ف 7۔ یعنی متصرف وہی ہے۔
8۔ یعنی وہ جاننے والا ہے کہ کس کے لئے کیا مصلحت ہے۔
Read the full tafseer →آسمانوں اور زمین کی چابیاں اس کے پاس ہیں وہ ہرچیز کو جانتا ہے
12 ؎ مقالید کا استعمال ملکیت کو ظاہر کرنے اور بنانے کے لیے ہوتا ہے اس آیت کا اور اس جیسی دوسری آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب آسمانوں اور زمین کا خالق وہ ہے تو اس نے ان کو خلق کر کے کسی دوسرے کے حوالے نہیں کردیا بلکہ وہ بذاتہٖ ان کا مالک ہے پھر کسی کو اس نے اس ملکیت میں شریک نہیں کیا اور کسی کو اس کی ملکیت کی کنجیاں سپرد نہیں کیں یہاں جو کچھ ہو رہا ہے اسی کے حکم سے ہو رہا ہے اور اس میں سے کوئی چیز اس نے کسی کو ٹھیکہ پر نہیں دی۔ یہ بات قرآن کریم میں بار بار بیان کی جاتی ہے آخر کیوں ؟ اس لیے کہ انسان کو سب سے زیادہ دھوکا اسی میں لگتا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
Commentary
وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّـهِ (Whatever dispute you have in any matter, its judgment lies with Allah. - 10) It means that the judgment in all those matters in which you dispute lies with Allah, because the sovereignty belongs to Allah only, as stated in another verse:إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّـهِ (The Decision belongs to none but Allah - 6:57). The direction in many verses to obey Rasulullah ﷺ and in some verses to obey those in authority does not contradict the above, because the orders of Rasulullah ﷺ and of the authorities are also, in a way,…
Read the full tafseer →19 These are the arguments to prove why Allah alone is the true Guardian and why putting trust in Him alone is right and correct and why He alone should be turned to in all matters. (For explanation, see An-Naml: 60-66, Ar-Rum: 20-22 and the E.N.'s).
Read the full tafseer →