Explained with ayahs 13–14
امت محمدیہ پر شریعت الٰہی کا انعام
اللہ تعالیٰ نے جو انعام اس امت پر کیا ہے اس کا ذکر یہاں فرماتا ہے کہ تمہارے لئے جو شرع مقرر کی ہے وہ ہے جو حضرت آدم کے بعد دنیا کے سب سے پہلے پیغمبر اور دنیا کے سب سے آخری پیغمبر اور ان کے درمیان کے اولو العزم پیغمبروں کی تھی۔ پس یہاں جن پانچ پیغمبروں کا ذکر ہوا ہے انہی پانچ کا ذکر سورة احزاب میں بھی کیا گیا ہے فرمایا آیت (وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّـبِيّٖنَ مِيْثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُّوْحٍ وَّاِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۠ وَاَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا ۙ) 33۔ الأحزاب :7) ، وہ دین جو تمام انبیاء کا مشترک طور پر ہے وہ اللہ…
Read the full tafseer →سورة الشُّوْرٰی 20
یہاں اسی بات کو پھر زیادہ وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جو پہلی آیت میں ارشاد ہوئی تھی۔ اس میں صاف صاف بتایا گیا ہے کہ محمد ﷺ کسی نئے مذہب کے بانی نہیں ہیں، نہ انبیاء میں سے کوئی اپنے کسی الگ مذہب کا بانی گزرا ہے، بلکہ اللہ کی طرف سے ایک ہی دین ہے جسے شروع سے تمام انبیاء پیش کرتے چلے آ رہے ہیں، اور اسی کو محمد ﷺ بھی پیش کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے حضرت نوح ؑ کا نام لیا گیا ہے جو طوفان کے بعد موجودہ نسل انسانی کے اولین پیغمبر تھے، اس کے بعد نبی ﷺ کا ذکر کیا گیا ہے جو آخری نبی ہیں، پھر حضرت ابراہیم ؑ کا نام لیا گیا ہے جنہیں اہل عرب اپنا پیشوا مانتے تھے، اور آخر میں…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کے واسطے وہی دین مقرر کیا جس کا اس نے نوح ؑ کو حکم دیا تھا اور جس کو ہم نے آپ کے پاس وحی کے ذریعہ سے بھیجا ہے اور جس کا ہم نے ابراہیم اور موسیٰ (علیہم السلام) کو (مع ان کے اتباع کے) حکم دیا تھا (اور ان کی امم کو یہ کہا تھا) کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں تفرقہ نہ ڈالنا۔ (مراد اس دین سے اصول دین ہیں جو مشترک ہیں تمام شرائع میں، مثل توحید و رسالت و بعث و نحوہ اور قائم رکھنا یہ کہ اس کو تبدیل مت کرنا اور اس کو ترک مت کرنا اور تفریق یہ کہ کسی بات پر ایمان لاویں اور کسی پر ایمان نہ لاویں یا کوئی ایمان لاوے اور کوئی نہ لاوے۔ حاصل یہ کہ توحید وغیرہ دین قدیم ہے…
Read the full tafseer →شرع لکم من الدنی ما وصی بہ نوحاً والذی اوحینا الیک وما وصینا بہ ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ ان اقیموا الدین ولا تتفرقوا فیہ ط کبر علی المشرکین ما تدعوھم الیہ ط اللہ یجتی الیہ من یشآء و یھدی الیہ من ینب (13)
یہی دین تمام نبیوں کا دین ہے
سورة کی تمہید میں نبی ﷺ کو خطاب کر کے یہ جو فرمایا ہے کہ تمہیں اسی دین حق کی وحی کی جا رہی ہے جس کی وحی تم سے پہلے آنے والے نبیوں اور رسولوں کو کی گی، یہ اسی مضمون کی وضاحت قریش اور اہل عرب کو مخاطب کر کے جا رہی ہے کہ اللہ نے تمہارے لئے وہی دین پسند فرمایا ہے جو اس نے نوح کو دیا تھا اور جس کی وحی محمد ﷺ کو کی جا رہی ہے۔ اسی دین کی تلقین ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
13۔ 1 صرف ایک اللہ کی عبادت اور اس کی اطاعت (یا اس کے رسول کی اطاعت جو دراصل اللہ ہی کی اطاعت ہے) ، اس کی عبادت و اطاعت سے گریزاں ان میں دوسروں کو شریک کرنا، انتشار انگیزی، جس سے ' پھوٹ ڈالنا ' کہہ کر منع کیا گیا ہے۔
13۔ 2 اور وہی توحید اور اللہ و رسول کی اطاعت ہے۔
13۔ 3 یعنی جس کی ہدایت کا مستحق سمجھتا ہے، اسے ہدایت کے لئے چن لیتا ہے
13۔ 4 یعنی اپنے دین اپنانے کی اور عبادت کو اللہ کے لئے خالص کرنے کی توفیق اس شخص کو عطا کردیتا ہے جو اس کی اطاعت و عبادت کی طرف رجوع کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
2: یعنی سب کو زبردستی مسلمان بنا دیتا، لیکن انسان کو پیدا کرنے کا اصل مقصد ہی یہ تھا کہ لوگ زبردستی نہیں، بلکہ خود اپنے اختیار سے سوچ سمجھ کر حق قبول کریں۔ اسی میں ان کا امتحان ہے جس پر آخرت کی جزاء اور سزا مرتب ہونے والی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے کسی کو زبردستی مسلمان بنانا نہیں چاہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
آیت نمبر 13 تا 16
کذلک یوحی الیک والی الذین من قبلک اللہ العزیز الحکیم (42 : 3) “ اسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف وحی کرتا رہا ہے ”۔ یہ ایک اجمالی اشارہ تھا کہ وحی الٰہی کا سرچشمہ ایک ہے ۔ اور اس وحی نے جو نظام پیش کیا ہے ، یہ وہی ہے جو سابقہ رسولوں نے پیش کیا تھا ، اور اس وحی کا رخ بھی اسی طرف ہے جس طرف سابقہ انبیاء کا تھا۔ اب اس اشارے کی تفصیلات دی جارہی ہیں کہ اللہ نے مسلمانوں کے لئے جو نظام زندگی اور جو شریعت وضع کی ہے ، وہ عمومی اصولوں میں وہی ہے جو حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کو دی گئی تھی۔ سب کو حکم دیا…
Read the full tafseer →1 آدم (علیہ السلام) کے بعد سب سے پہلے رسول حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں۔ بلکہ کہنا چاہیے کہ فی الحقیقت تشریع احکام کا سلسلہ ان ہی سے شروع ہوا۔ اور آخری نبی حضور ﷺ ہیں جن پر سلسلہ رسالت و نبوت منتہی ہوا۔ درمیان میں جو انبیاء و رسل آئے ان میں حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام، یہ تین زیادہ مشہور ہوئے جن کے نام لیوا ہر زمانہ میں بکثرت موجود رہے۔ ان پانچوں کو اولوالعزم پیغمبر کہتے ہیں۔ بہرحال اس جگہ حق تعالیٰ نے صاف طور پر بتلا دیا کہ اصل دین ہمیشہ سے ایک ہی رہا ہے۔ کیونکہ عقائد، اخلاق اور اصول دیانات میں تمام متفق رہے ہیں۔ البتہ بعض فروع میں حسب مصلحت زمانہ کچھ تفاوت ہوا اور دین…
Read the full tafseer →آیت 13 { شَرَعَ لَـکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحًا } ”اے مسلمانو ! اللہ نے تمہارے لیے دین میں وہی کچھ مقرر کیا ہے جس کی وصیت اس نے نوح علیہ السلام کو کی تھی“
یہ براہ راست امت سے خطاب ہے۔ مکی سورتوں میں چونکہ عام طور پر اہل ایمان کو ”یٰٓــاَیُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا“ کے الفاظ سے براہ راست مخاطب نہیں کیا جاتا اس لیے یہاں جمع کا یہ صیغہ شَرَعَ لَـکُمْ استعمال فرمایا گیا ہے۔ مکی سورتوں میں اس حوالے سے ہمیں دوسرا اسلوب یہ بھی ملتا ہے کہ صیغہ واحد میں حضور ﷺ کو مخاطب کر کے اہل ِ ایمان کو پیغام پہنچایا جاتا ہے۔
{ وَّالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہٖٓ اِبْرٰہِیْمَ…
Read the full tafseer →14 دین اور شریعت میں فرق اور متبدل احکام کی مثالیں :۔ اس آیت میں ایک شرع کا لفظ آیا ہے اور شریعت کا لفظ اسی سے مشتق ہے۔ اور دوسرا دین کا۔ اور ( مِنَ الدِّیْنِ ) سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شریعت بھی دین کا حصہ ہی ہوتی ہے۔ اس فرق کو ہم یہاں ذرا وضاحت سے پیش کرتے ہیں :
دین کا لفظ بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ مختصراً یہ چار معانی میں استعمال ہوتا ہے (1) اللہ کی کامل اور مکمل سیاسی اور قانونی حاکمیت، (2) انسان کی مکمل عبودیت اور بندگی، (3) قانون جزا و سزا یا تعزیرات ملکی، (4) قانون جزا و سزا کے نفاذ کی قدرت، پھر یہ لفظ کبھی ایک معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی ایک سے زیادہ معنوں میں۔ اب دین کا تقاضا یہ…
Read the full tafseer →15۔ آیت میں ایک بڑے اہم مسئلہ وحدت دین کا بیان ہے۔ دین اصلا شروع سے بالکل ایک رہا ہے، تفصیلات شریعت (یعنی احکام و اعمال) ہر دور کی مناسبت سے بدلتی رہتی ہیں۔ لیکن نفس دین (یعنی عقیدۂ اساسی) شروع ہی سے دین توحید ہے، اور اسی کا ایک لازمی جزء مسئلہ نبوت ہے۔ (آیت) ” نوحا “۔ نوح (علیہ السلام) وہ سب سے پہلے پیغمبر ہیں جن سے باقاعدہ سلسلہ نبوت حضرت خاتم النبیین ﷺ کے وقت تک برابر قائم رہا۔ (آیت) ” نوح۔ موسیٰ ۔ عیسیٰ “۔ سب پر حاشیے گذرچکے۔ (آیت) ” کبر ..... الیہ “۔ یہ اس حقیقت کا اظہار ہے کہ توحید کی دعوت (مع اس کے مضمرات ومتضمنات کے) اہل جاہلیت کو ہمیشہ اور ہر جگہ بہت گراں گزری ہے۔
16۔ یعنی جس سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
آیت نمبر 10 تا 19
ترجمہ : اور جس چیز (یعنی) دین وغیرہ میں کفار کے ساتھ تمہارا اختلاف ہوا، اس کا فیصلہ قیامت کے دن اللہ ہی لوٹے گا، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا، آپ ان سے کہئے یہی اللہ میرا رب ہے، جس پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے، اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں، وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، اس نے تمہارے لئے تمہاری جنس کے جوڑے بنا دئیے ہیں، بایں طور کہ اس نے (حضرت) حواء کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا فرمایا اور چوپایوں کے نرو مادہ کے جوڑے بنائے (یَذْرَءُکُم ْ ) ذال معجمہ کے ساتھ (یعنی ذال کے ساتھ ہے نہ کہ دال کے ساتھ) اور یَذرَءُکُمْ بمعنی یَخْلُقُکُمْ ہے یعنی مذکورہ طریقہ…
Read the full tafseer →شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحا والذی اوحیناالیک وماوصینا بہ ابرھیم وموسی
و عیسیٰ ان اقیموا الدین ولاتتفرقوا فیہ (اے امت محمدی ! ) اللہ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کیا جس نے اس نے نوح کو حکم دیا تھا اور جو ہم نے (اے رسول ! ) آپ کے پاس وحی کے ذریعہ سے بھیجا اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو (اور ان کی امتوں کو) دیا تھا کہ اسی دین کو قائم رکھنا اور اس میں تفرقہ نہ ڈالنا۔
یعنی دین اسلام جو امت محمدیہ کیلئے مقرر کیا ہے ‘ وہ کوئی نیا دین نہیں ہے ‘ تمام انبیاء کا دین یہی رہا ہے۔ حق (ہر زمانہ میں) ایک ہی ہوتا ہے اور حق کے سوائے گمراہی کے اور کیا رہ جاتا ہے ( پس دین اسلام کے علاوہ ہر…
Read the full tafseer →اے امت محمدیہ تمہارے لیے وہی دین اسلام پسند کیا جس کا ہم نے نوح کو حکم دیا کہ وہ اللہ کی مخلوق کو اس کی طرف بلائیں اور خود بھی اسی پر ثابت قدم رہیں اور جس کو اے نبی کریم ہم نے آپ کے پاس وحی کے ذریعے سے بھیجا ہے، یعنی قرآن کریم آپ کو بھی ہم نے دین اسلام کی طرف مخلوق کو بلانے اور خود بھی اسی پر قائم رہنے کا حکم دیا ہے اور جس دین اسلام کو ہم نے حضرت ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کے لیے منتخب کیا تھا ان کو بھی اسی پر قائم رہنے اور اسی کی طرف لوگوں کو بلانے کا حکم دیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کو حکم دیا تھا کہ متفق ہو کر اسی دین پر قائم رکھنا اور اس میں تفرقہ مت ڈالنا۔
قرآن…
Read the full tafseer →(1) شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحاً : سورت کے شروع میں جو بات فرمائی :(کذلک یوحی الیک و الی الذین من قبلک اللہ العزیز الحکیم) (اسی طرح وحی کرتا ہے تیری طرف اور ان لوگوں کی طرف جو تجھ سے پہلے تھے، وہ اللہ جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے) یہاں سے وہی بات مزید تفصیل کے ساتھ بیان ہو رہی ہے۔ ”لکم“ سے خطاب ہماری امت کو ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے کوئی اجنبی یا انوکھا دین مقرر نہیں فرمایا، یہ وہی دین ہے جو اس نے پہلے تمام انبیاء کے لئے مقرر فرمایا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تمام انبیاء کا دین ایک ہے اور وہ ہے اسلام جیسا کہ فرمایا :(ان الذین عند اللہ الاسلام) (آل عمران : 19) ”بیشک دین اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
شرع لکم من الدین ماوصی بہ نوحا اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ شرع لکم من الدین وہ ذات پاک جس کے قبضہ قدرت میں آسمانوں اور زمین کی چابیاں ہیں اس نے تمہارے لیے وہ دین مقرر فرمایا جو قوم نوح ‘ قوم ابراہیم ‘ قوم موسیٰ اور قوم عیسیٰ (علیہم السلام) کے لیے مقرر فرمایا تھا پھر اس کی وضاحت اپنے اس ارشاد سے بیان کی ان اقیموا الدین اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو بیان کرنا ‘ اس کی اطاعت کرنا ‘ اس کے رسولوں ‘ کتابوں ‘ یوم جواز اور باقی ماندہ تمام امور جنکو بجا لانے سے ایک آدمی مسلمان ہوتا ہے پر ایمان لانا ہے۔ اور شرعی احکام جو امتوں کی مصلحتوں پر قائم ہیں اس طرح وارد نہیں ہوئے وہ مختلف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
1:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحا “ (اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کیا جس کا اس نوح کو حکم دیا تھا) یعنی اے محمد ! ہم نے آپ کو اور اپنے پیارے انبیاء کو ایک ہی دین کا حکم دیا تھا۔
2:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت سے کیا کہ (آیت ) ” شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحا “ (جس کا اس نے نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا یعنی حلال اور حرام کا۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت سے کیا کہ نوح (علیہ السلام) کو حلال کو…
Read the full tafseer →شَرَعَ لَكُمْ [ اس نے قانون بنایا تمہارے لئے ] مِّنَ الدِّيْنِ [ نظام حیات میں سے ] مَا [ اس کو ] وَصّٰى بِهٖ [ اس نے تاکید کی جس کی ] نُوْحًا [ نوح کو ] وَّالَّذِيْٓ [ اور اس کو (بھی ) جو ] اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ [ ہم نے وحی کیا آپ کی طرف ] وَمَا [ اور اس کو (بھی ) ] وَصَّيْنَا بِهٖٓ [ ہم نے تاکید کی جس کی ] اِبْرٰهِيْمَ [ ابراہیم کو ] وَمُوْسٰى [ اور موسیٰ کو ] وَعِيْسٰٓى [ اور عیسیٰ کو ] اَنْ اَقِيْمُوا [ کہ تم لوگ قائم رکھو ] الدِّيْنَ [ اس نظام حیات کو ] وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ ۭ [ اور الگ الگ مت ہو اس میں ] كَبُرَ [ بڑی گراں گزری ] عَلَي الْمُشْرِكِيْنَ [ شرک کرنے والوں پر ] مَا [ وہ…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے وہی دین مشروع فرمایا ہے جس کی وصیت فرمائی نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ ۔ کو :
اللہ تعالیٰ کی توحید اور فرمانبرداری اور اس کے رسولوں اور کتابوں اور فرشتوں اور قیامت کے دن پر اور تقدیر پر ایمان لانا یہ اصل دین ہے اور یہی تمام انبیائے کرام کا دین ہے اور ان امور پر متفق ہوتے ہوئے مسائل فرعیہ متعلقہ عبادات اور معاشرت وغیرہ میں اختلاف رہا ہے اس بات کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم نے تمہارے لیے اسی دین کو مشروع یعنی مقرر فرمایا جس کی نوح کو وصیت کی اور ابراہیم کو اور موسیٰ اور عیسیٰ کو وصیت کی اور یہی دین آپ ﷺ کی طرف وحی کے ذریعے بھیجا اسی دین پر قائم رہو اسی دین کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
مقصد وحید جملہ ادیان سماویہ توحید خداوندی و قیام عدل و انصاف :
قال اللہ تعالیٰ : شرع لکم من الدین ...... الی ...... ولھم عذاب شدید “۔
(ربط) سورة شوری کی ابتداء حق تعالیٰ شانہ کی عظمت وکبریائی اور توحید کے بیان سے تھی، اسی کے ضمن میں وحی الہی کا اثبات تھا، اور کفر وشرک کا رد اور ابطال اب ان آیات میں ذکر فرمایا جارہا ہے اللہ رب العزت نے جس قدر بھی پیغمبر مبعوث فرمائے، حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) تک اور جتنے ادیان وشرائع مقرر فرمائے ان سب کا مقصد وحید صرف توحید خدا و ندی رہا، بلکہ جملہ ادیان کی بھی تعلیم تھی، اور ہر پیغمبر کی یہی ہدایت تھی، اب اسی تعلیم ہدایت…
Read the full tafseer →12:۔ ” شرع لکم من الدین۔ الایۃ “ تمہارے لیے ہم نے وہی دین مقرر کیا ہے جس کو قائم کرنے کا نوح کو حکم دیا تھا، اور جس کا آپ کو وحی کے ذریعے سے حکم دیا ہے اور جسے قائم کرنے کا ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو حکم دیا تھا۔ ہم نے ان تمام اولو العزم پیغمبروں کو حکم دیا تھا کہ اس (دین توحید) کو قائم کرو اور اس میں اختلاف نہ کرو۔ دین کو قائم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی توحید اور تمام ضروریات دین پر ایمان لائیں اور اس کے احکام کی اطاعت کریں۔ ای دین الاسلام الذی ھو توحید اللہ وطاعتہ والایمات بکتبہ ورسلہ وبیوم الجزاء وسائر مایکون العبد بہ مومنا (روح ج 25 ص 21) ۔ ” فیہ ای فی التوحید۔ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ربط آیات
پہلے وحی الٰہی کی حقانیت کا ذکر ہوا پھر اللہ نے عربی زبان میں نزول قرآن اور اس کی غرض وغایت بیان فرمائی رسالت کا مسئلہ بیان کیا اور شرک کا ذکر فرمایا ۔ متنازعہ مسائل کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا کرو ، پھر اللہ کی ذات پر بھروسہ کرنے کا حکم دیا اور اس کی یہ صفت بیان کی کہ وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے ۔ اللہ نے انسانوں اور جانوروں کو جوڑوں کی شکل میں مذکر و مؤنث پیدا کیا ہے وہ ان ان سب کو اپنی قدرت تامہ سے زمین میں بکھیرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات بےمثل اور بےمثال ہے ۔ تمام چیزوں کی چابیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں اور اسے ہر شے پر تصرف حاصل ہے ۔ رزق میں وسعت اور تنگی بھی وہی فرماتا ہے۔ وحی…
Read the full tafseer →شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰى بِہٖ نُوْحًا وَّالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِہٖٓ اِبْرٰہِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسٰٓى اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْہِ 0 ۭ كَبُرَ عَلَي الْمُشْرِكِيْنَ مَا تَدْعُوْہُمْ اِلَيْہِ 0 ۭ اَللہُ يَجْتَبِيْٓ اِلَيْہِ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَہْدِيْٓ اِلَيْہِ مَنْ يُّنِيْبُ 13
شرع
الشَّرْعُ : نهج الطّريق الواضح . يقال : شَرَعْتُ له طریقا، والشَّرْعُ : مصدر، ثم جعل اسما للطریق النّهج فقیل له : شِرْعٌ ، وشَرْعٌ ، وشَرِيعَةٌ ، واستعیر ذلک للطریقة الإلهيّة . قال تعالی:
لِكُلٍّ جَعَلْنا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهاجاً [ المائدة/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
ترکیب : قرآنا مفعول لاوحینا لتنذر متعلق باوحینا فریق خبرمبتدء محذوف ای بعضھم فریق فی الجنۃ و الظالمون مبتدء ومابعدہ خبرہ اولیاء بالنصب علی انہ مفعول لاتخذوامن دونہ حال منہ ای حال کون الاولیاء غیر اللہ الولی خبر فاللہ ھو ضمیر الفصل للتاکید۔
تفسیر : پھر مسئلہ نبوت کا ذکر کرتا ہے وکذلک اوحینا الخ کہ جس طرح انبیائِ سابقین پر وحی کی گئی تھی اسی طرح اے محمد ﷺ ! ہم نے تیری طرف عربی زبان میں قرآن وحی کیا کس لیے لتنذرام القرٰی تاکہ تو اہل مکہ کو اور اس کے آس پاس والوں کو خبردار کر دے ڈراوے کہ تم پر اگر باز نہ آؤ گے بلا آنے والی ہے اور ان کو قیامت کے دن سے بھی ڈراوے کہ جس میں کوئی شک نہیں کہ اس روز ایک…
Read the full tafseer →شَرَعَ لَـکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحًا وَّالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَـآ اِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہٖٓ اِبْرٰھِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰٓی اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلاَ تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ ط کَبُرَ عَلَی الْمُشْرِکِیْنَ مَا تَدْعُوْھُمْ اِلَیْہِ ط اَللّٰہُ یَجْتَبِیْٓ اِلَیْہِ مَنْ یَّشَآئُ وَیَھْدِیْٓ اِلَیْہِ مَنْ یُّـنِیْبُ ۔ (الشوری : 13)
(اس نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا، اور جس کی وحی ہم نے آپ کی طرف کی اور جس کی ہدایت ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دی کہ اس دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقہ نہ پیدا کرو، مشرکین پر وہ چیز شاق گزر رہی ہے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے جس طرح لوگوں کی روزی کا بندوبست کیا ہے اسی طرح ہی اس نے ان کی راہنمائی کا انتظام فرمایا ہے۔
انسان کا وجود بنیادی طور پر دو چیزوں پر مشتمل ہے۔ اس کا جسم مٹی سے بنایا گیا ہے۔ جسم کی بنیادی ضروریات مٹی کے ساتھ تعلّق رکھتی ہیں۔ انسان کے وجود کو جو چیز حرکت میں رکھتی ہے اس کا نام ” اَلرُّوْحُ “ ہے۔ ” اَلرُّوْحُ “ کا تعلق اللہ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ ہے۔ جسے اہل علم نے ملکوتی چیز قرار دیا ہے۔ ” اَلرُّوْحُ “ کی خوراک اور راہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام (علیہ السلام) پر وحی کا سلسلہ جاری فرمایا۔ جو نبی آخر الزماں ﷺ پر مکمل ہوا۔ اس راہنمائی کا نام ”…
Read the full tafseer →13: شَرَعَ (اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا) لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْ اَوْ حَیْنَآ اِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَآ بِہٖٓ اِبْرٰھِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰٓی (تم لوگوں کیلئے وہی دین جس کا اس نے حکم دیا تھا نوح کو اور جس کو ہم نے آپ کے پاس وحی کے ذریعہ بھیجا ہے اور جس کا ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا) یعنی تمہارے لئے دین میں مقرر کیا دین نوح اور دین محمد اور ان انبیاء (علیہم السلام) کا دین جو ان کے درمیان ہوئے۔ پھر دین کی اس مشترک قدر کی تفسیر ذکر کی جو ان انبیاء (علیہم السلام) کے درمیان رہا ہے فرمایا :
دین کی مشترک قدریں :
اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ (کہ تم…
Read the full tafseer →تفسیر 12۔ ، لہ مقالید السموات والارض، آسمان و زمین میں پوشیدہ رزق کو چابیاں۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ بارش اور نباتات، یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر، اس لیے کہ رزق کی چابیاں اس کے ہاتھ میں ہیں۔ ، انہ بکل شیء علیم،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
13۔ 15۔ اگرچہ انبیائے اولوالعزم کی تعداد میں علماء مفسرین نے اختلاف کیا ہے لیکن امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس اور ان کے مشہور شاگرد مجاہد کا قول یہی ہے کہ اولوالعزم یہی پانچ نبی ہیں جن کے نام اس آیت میں اور سورة احزاب میں آئے ہیں اوپر یہ تو گزر چکا ہے کہ تفسیر کے باب میں حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول صحابہ میں اور مجاہد کا قول تابعیوں میں بڑا معتبر ہے اس لئے یہی قول اختلاف کے رفع کرنے کے لئے کافی ہے اولوالعزم کے معنی صاحب ہمت کے ہیں ان انبیا کے زمانہ میں بت پرستی کا زور تھا اس لئے ان انبیاء کو بت پرستوں سے بڑی ہمت کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑا اسی واسطے ان پانچ نبیوں کو اولوالعزم کہتے ہیں وصیت…
Read the full tafseer →آیت 13
یہ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے جس سے اس نے اپنے بندوں کو سرفراز فرمایا۔ اس نے ان کے لئے دین اسلام پسند کیا جو تمام ادیان میں سب سے افضل اور سب سے پاک دین ہے۔ دین اسلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنے چنے ہوئے بندوں کے لئے مشروع کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے چنے ہوئے بندوں میں سے بھی خاص بندوں کے لئے اس دین کو مشروع کیا اور وہ اولوالعزم انبیاء و مرسلنی ہیں جن کا اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا جو ہر لحاظ سے تمام مخلوق میں سب سے کامل اور جن کا درجہ سب سے بلند ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جو دین ان کے لئے مشروع فرمایا، ضروری ہے کہ وہ مقدس ہستیوں کے مناسب حال اور ان کے کمال کے موافق ہو بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو…
Read the full tafseer →31 یہی دین تمام انبیاء و رسل کا دین ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی نے مقرر فرمایا تمہارے لیے دین کا وہ طریقہ جس کا حکم وہ اس سے پہلے نوح اور دوسرے انبیاء ورسل کو دے چکا ہے "۔ کہ اصول و مبادی ان سب ادیان کے ایک ہی ہیں۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں فرمایا کہ ہم انبیاء کی جماعت آپس میں علاتی بھائی ہیں۔ کہ دین تو سب کا ایک ہی ہے۔ البتہ شریعتیں یعنی فروعی احکام و مسائل مختلف ہیں۔ (صحیح بخاری، کتاب الانبیائ) اور حضرت نوح کی تخصیص اس لئے فرمائی گئی کہ آپ (علیہ السلام) سب سے پہلے صاحب شریعت رسول ہیں۔ اور آپ (علیہ السلام) کو توحید کی دعوت اور شرک کی تردید و مذمت کی ذمہ داری کے علاوہ حلال و حرام کے احکام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
اللہ کا غلبہ، قدرت، دانائی اور رحم و کرم سب سے زیادہ ہے
تشریح : پہلی اور دوسری آیات میں حروف مقطعات ہیں۔ اس کے بعد رب ذوالجلال کی صفات کا ذکر ہے۔ توحید پر ایمان لانا انسان کے لیے بہترین راستہ ہے۔ کیونکہ یہی مبارک راستہ انسان کو زندگی کی تمام قباحتوں سے بچاتا ہے۔ انسان کو ایسانظام حیات عطا کرتا ہے کہ جس کی وجہ سے عبادات، اخلاقیات، معاملات، حقوق اور تعزیرات کا ایک بہترین نقشہ انسان کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ یہ نظام حیات انسان کو ظلم زیادتی، کفر و شرک، بےحیائی بد نظمی اور تمام غم، خوف اور پریشانیوں سے محفوظ کردیتا ہے۔ اسی لیے قرآن کو بہت بڑی رحمت اور اسلام کو سلامتی کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس پیغام کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
آیات 10 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
ان لوگوں سے کہیے کہ اگر انہیں توحید باری تعالیٰ میں اختلاف ہے تو اس کا فیصلہ اللہ کریم کے حوالے ہے جس نے دنیا میں دلائل معجزات سے واضح کردیا ہے اور آخرت میں ایمان والوں کو جنت میں اور کفار کو دوزخ میں داخل کردے گا اور جس کی یہ عظمت وشان ہے وہی میرا پروردگار ہے اور کفار سے جس بھی تکلیف کے پہنچنے کا اندیشہ ہوسکتا ہے اس کے لیے میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اپنی ہر ضرورت کے لیے اس کی طرف رجوع کرتا ہوں وہ کائنات کا رب ہے تمہارا بھی وہی ہے کہ زمین و آسمان کو بنانے والا وہی ہے اور تمہیں پیدا کیا اور پھر جوڑے بنایا کہ تمہاری نسل چلے۔ اسی طرح جانوروں کو پیدا کرکے جوڑے…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی دین ” اسلام “ یا ” توحید “ جس کی طرف آنحضرت ﷺ دعوت دے رے ہیں، کوئی نیادین نہیں ہے بلکہ یہ وہی دین ہے جس کا حکم نوح ( علیہ السلام) ، ابراہیم ( علیہ السلام) ، موسیٰ ( علیہ السلام) ، عیسیٰ ( علیہ السلام) اور پچھلے تمام پیغمبروں ( علیہ السلام) کو دیا گیا تھا۔ یہ تمام پیغمبر ( علیہ السلام) اصول عقائد میں متفق تھے اور لوگوں کو انہی چیزوں پر ایمان لانے کی دعوت دیتے تھے جن پر ایمان لانے کی دعوت آج محمد ﷺ دے رہے ہیں۔ ( قرطبی وغیرہ) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” اصل دین ہمیشہ سے ایک ہی ہے اس کے قائم کرنے کے طریق ہر وقت ( یعنی زمانہ) میں جدا ٹھہر دیئے ہیں اللہ نے اور انہی طرق کو شرائع کیا جاتا…
Read the full tafseer →(42:13) شرع۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ شرع (باب فتح) مصدر۔ شریعت جاری کرنا۔ قانون بنانا۔ دین مقرر کرنا۔ اس نے شریعت جاری کی۔ اس نے دین مقرر کیا۔
ما وصی بہ نوحا : ما موصولہ ہے وصی ماضی واحد مذکر غائب توصیۃ (تفعیل) مصدر۔ اس نے حکم دیا۔ وصی بمعنی وصیت کرنا جیسے ووصی بھا ابراہیم بنیہ و یعقوب (2:132) اور ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی اس بات کی اور حضرت یعقوب (علیہما السلام) نے بھی۔ نوحا مفعول وصی کا۔
اللہ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کیا جس کا اس نے (حضرت) نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا۔
والذی اوحینا۔ واؤ عاطفہ ہے الذی اسم موصول اوحینا ماضی جمع متکلم (ایحائ) (افعال) مصدر۔ ہم نے وحی کی۔ یعنی اور جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
لغات القرآن آیت نمبر 13 تا 15 : شرع (اس نے مقرر کیا) کبر ( گراں گزرا ، ناگوار لگا) وصی ( وصیت کی) یجتبی ( وہ چن لیتا ہے) بغیا ( ضد ، ہٹ دھرمی) سبقت (گزر گئی ( جو پہلے ہوچکا) اور ثوا ( وارث بنائے گئے) مریب (شک میں ڈالنے والا) اعدل ( میں انصاف کرتا ہوں) حجۃ ( دلیل ، وجہ)
تشریح : آیت نمبر 13 تا 15 :
اس پوری کائنات اور اس کے ذرے ذرے کا خالق ومالک اللہ ہے جس نے اپنے پاکیزہ نفوس پیغمبروں کے ذریعہ دنیا میں زندگی گزارنے کے تمام طریقے ، قاعدے ، قانون اور ضابطے بھیجے ہیں تا کہ ہر ایک کی دنیا اور آخرت دونوں بہتر ہوجائیں ۔ چناچہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک ہر زمانے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
نافرمانوں کا حال۔
(ف 1) اے لوگو، تمہارے لیے کوئی نئی بات نازل نہیں ہوئی ہے بلکہ وہی قدیم دین کہ جس پر حضرت ابراہیم موسی، عیسیٰ مامور تھے اے محبوب ﷺ حضرت نوح سے اب تک جتنے انبیاء ہوئے سب کے لیے ہم نے دین کی ایک راہ مقرر کی جس میں وہ سب متفق ہیں وہ راہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی اطاعت اس پر اور اس کے رسولوں پر اور اس کی کتابوں پر اور رز جزا پر اور باقی تمام ضروریات دین پر ایمان لانا لازم کریں، کہ یہ امور تمام انبیاء کی امت کے لیے یکساں لازم ہے۔ اور دین الٰہی کو اپنے قول عمل سے قائم رکھیں اور اصل دین میں کسی طرح کی تفریق واختلاف وپھوٹ نہ ڈالیں۔
(ف 1) اس آیت میں فرمایا : اے محبوب ﷺ…
Read the full tafseer →[7] یعنی نوح (علیہ السلام) سے لے کر محمد ﷺ تک جتنے انبیاء ہوئے وہ سب ایک ہی دین یعنی دین اسلام لے کر آئے جس میں توحید و رسالت پر ایمان، کتب الٰہی پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، قیامت اور بہشت و دوزخ پر ایمان لازم ہے۔ نیز نماز، روزہ، حج، جہاد، اقامت دین، عدل و انصاف، حرمت زنا، نافرمانوں پر حدود، یہ تمام امور اس دین کی بیخ و بنیاد رہے ہیں اور تمام انبیاء کا ان پر اتفاق ہے۔ البتہ بعض فروع میں حسب مصلحت زمانہ و حالات کچھ فرق رہا ہے۔ نیز دین کے قائم کرنے کے طور و طریق ہر زمانے میں اللہ تعالیٰ نے جدا جدا ٹھہرا دئیے جیسا کہ سورة مائدہ میں فرمایا ہم نے تم میں سے ہر امت کے لئے ایک شریعت اور ایک راہ مقرر…
Read the full tafseer →حل لغات :۔ وصی ۔ تاکیدفرمائی ۔ وحدت اویان کی طرف تلمیح ہے ۔ کہ جو کچھ آپ کو دیا گیا ہے ۔ سی صداقت کے اعتبار سے بالکل یہی چیزیں پہلے انبیاء کو وہی گئیں ۔ صبعقت ۔ یعنے پہلے طے ہوچکا ۔
Read the full tafseer →(13) اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کے لئے وہی دین مقرر کیا ہے اور دین میں تمہارے لئے وہی راہ ڈال دی ہے جس دین کا حکم اس نے نوح (علیہ السلام) کو دیا تھا اور جس کو ہم نے آپ کے پاس بھی وحی کے ذریعہ بھیجا ہے اور جس دین کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو بھی دیا تھا اور ان کی امتوں کو یہ کہا تھا کہ تم سب اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا اور متفرق نہ ہونا ان مشرکوں پر وہ بات جس کی طرف آپ ان کو بلاتے اور دعوت دیتے ہیں بہت گراں اور بھاری گزرتی ہے اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور چن لیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرے وہ اس کی جانب رہنمائی کرتا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
ف 9۔ مراد اس دین سے اصول دین ہیں جو مشترک ہیں تمام شرائع میں مثل توحید و رسالت و بعث وغیرہ۔
(فائدہ) قائم رکھنا یہ کہ اس کو تبدیل مت کرنا، اس کو ترک مت کرنا، اور تفرق یہ کہ کسی پر ایمان نہ لاویں، یا کوئی ایمان لاوے کوئی نہ لاوے، حاصل یہ کہ توحید وغیرہ دین قدیم ہی کے اول سے اس وقت تک تمام شرائع اس میں متفق رہی ہیں اور اس کے ضمن میں نبوت کی بھی تائید ہوگئی، پس چاہئے تھا کہ اس کو قبول کرنے میں لوگوں کو ذرا پس و پیش نہ ہوتا۔
1۔ یعنی دین حق کو قبول کرنے کی توفیق دے دیتا ہے۔
2۔ مشیت کے بعد اجتباء ہوتا ہے اور اجتباء یعنی توفیق ایمان کے بعد اگر انابت و اطاعت ہو تو اس پر قرب الہی وثواب غیر متناہی مرتب…
Read the full tafseer →تمہارا وہی دین ہے جو تم سے پہلے نوح (علیہ السلام) اور دوسرے نبیوں (علیہ السلام) کو وحی کیا گیا
13 ؎ اس سورت کی تیسری آیت کو ایک بار نگاہ میں لاؤ جس سے سلسلہ مضمون شروع کیا گیا تھا کیونکہ پہلی دونوں آیتیں تو صرف چوکنا کرنے کے لیے اور خبردار کرنے کے لیے تھیں اور جس مضمون کے لیے خبردار کیا گیا وہ تیسری آیت سے شروع ہوا جو نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے بیان کیا اور فرمایا تھا کہ آپ ﷺ کو اے پیغمبر اسلام اس دین حق کی طرف وحی کی جا رہی ہے جس کی وحی آپ ﷺ سے پہلے دوسرے نبیوں اور رسولوں کو کی گئی تھی۔ اب زیر نظر آیت سے اس کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے اور اس وضاحت کے لیے مخاطبین اوّل قریش اور اہل عرب ہیں…
Read the full tafseer →Commentary
شَرَعَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِ نُوحًا (He has ordained for you the same religion as He had enjoined upon Nuh (علیہ السلام) -- 42:13) Allah Almighty's obvious and material blessings were stated in the previous verses. Stated from here are the inner and spiritual blessings. That is, He has blessed you with that very cogent and infallible religion which has been common between all the prophets (علیہم السلام) . Five of the prophets (علیہم السلام) have been mentioned in the verse. Sayyidna Nuh (علیہ السلام) has been mentioned first, and our Prophet ﷺ in the end, while…
Read the full tafseer →20 Here the same thing as already mentioned in the first verse has been further elaborated. It clearly states that Muhammad (upon whom be Allah's peace) is not the founder of any new religion, nor was any of the Prophets a founder of a separate religion, but it has been one and the same Religion which all the Prophets have been presenting from Allah from the very beginning, and the same is being presented by Muhammad (upon whom be Allah's peace). In this regard, the first name mentioned is of the Prophet Noah, who was the first Prophet after the Flood. After him the Holy Prophet Muhammad…
Read the full tafseer →