Explained with ayahs 13–14
امت محمدیہ پر شریعت الٰہی کا انعام
اللہ تعالیٰ نے جو انعام اس امت پر کیا ہے اس کا ذکر یہاں فرماتا ہے کہ تمہارے لئے جو شرع مقرر کی ہے وہ ہے جو حضرت آدم کے بعد دنیا کے سب سے پہلے پیغمبر اور دنیا کے سب سے آخری پیغمبر اور ان کے درمیان کے اولو العزم پیغمبروں کی تھی۔ پس یہاں جن پانچ پیغمبروں کا ذکر ہوا ہے انہی پانچ کا ذکر سورة احزاب میں بھی کیا گیا ہے فرمایا آیت (وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّـبِيّٖنَ مِيْثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُّوْحٍ وَّاِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۠ وَاَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا ۙ) 33۔ الأحزاب :7) ، وہ دین جو تمام انبیاء کا مشترک طور پر ہے وہ اللہ…
Read the full tafseer →سورة الشُّوْرٰی 22
یعنی تفرقے کا سبب یہ نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء نہیں بھیجے تھے اور کتابیں نازل نہیں کی تھیں اس وجہ سے لوگ راہ راست نہ جاننے کے باعث اپنے اپنے الگ مذاہب اور مدارس فکر اور نظام زندگی خود ایجاد کر بیٹھے، بلکہ یہ تفرہ ان میں اللہ کی طرف سے علم آجانے کے بعد رونما ہوا۔ اس لیے اللہ اس کے ذمہ دار نہیں ہے بلکہ وہ لوگ خود اس کے ذمہ دار ہیں جنہوں نے دین کے صاف صاف اصول اور شریعت کے واضح احکام سے ہٹ کر نئے نئے مذاہب و مسالک بنائے۔
سورة الشُّوْرٰی 23
یعنی اس تفرقہ پردازی کا محرک کوئی نیک جذبہ نہیں تھا، بلکہ یہ اپنی نرالی اپج دکھانے کی خواہش، اپنا الگ جھنڈا بلند کرنے کی فکر، آپس کی…
Read the full tafseer →(آیت) وَمَا تَفَرَّقُوْٓا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَهُمُ الْعِلْمُ۔ ما تفرقوا کی ضمیر حضرت ابن عباس نے قریش مکہ کی طرف راجع فرمائی اور مطلب یہ قرار دیا کہ کفار قریش نے جو دین حق اور صراط مستقیم سے علیحدگی اور بیزاری اختیار کی، یہ فی نفسہ بھی سخت نادانی تھی، اس پر مزید یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے علم آجانے کے بعد بھی انہوں نے ایسا کیا۔ علم آجانے سے مراد حضرت ابن عباس کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کا آجانا ہے جو سارے علوم الٰہیہ کے سرچشمہ تھے۔ اور بعض حضرات نے ماتفرقوا کی ضمیر پچھلی امتوں کے لوگوں کی طرف پھیری اور معنی یہ قرار دیئے کہ پچھلی امتوں کے لوگوں نے اپنے اپنے انبیاء کے دین سے تفرق اور علیحدگی…
Read the full tafseer →وما تفرقوا الا من بعد ما جآء ھم العلم بغیا بینھم ولولا کلمۃ سبقت من ربک الی اجل مسمی تقضی بینھم و ان الذین اور ثوا الکتب من بعدھم لفی شک منہ مریب (14)
امتوں کو ملامت
یہ ان امتوں کو ملامت ہے کہ انہوں نے علم الٰہی کی روشنی پانے کے بعد محض اپنی باہمی ضدم ضدا کے ابعث آپس میں اختلاف کیا اور گمراہی میں مبتلال ہوئیں۔ اگر رات کی تاریکی میں کوئی ٹھوکر کھا جائے تو اس کو ایک حد تک معذور قرار دیاجا سکتا ہے لیکن جو شخ پورے دن کی روشنی میں مح اپنی ضد کے سبب سے، ٹھوکر رکھاتا ہے وہ اپنی اس حماقت کا خود ذمہ دار ہے۔ اس تفرق کی نوعیت سمجھنے کے لئے یہ اشارہ غالباً یہاں کافی ہوگا کہ یہود کے علماء اور فقہاء میں…
Read the full tafseer →14۔ 1 یعنی اگر ان کی بابت عقوبیت میں تاخیر کا فیصلہ پہلے سے نہ ہوتا تو فوراً عذاب بھیج کر ان کو ہلاک کردیا جاتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
3: پہلے سے طے شدہ بات یہ تھی کہ ان لوگوں کو ایک دم کسی عذاب سے ہلاک نہیں کیا جائے گا، بلکہ مہلت دی جائے گی جس میں اگر یہ چاہیں تو ایمان لاسکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
آیت نمبر 13 تا 16
کذلک یوحی الیک والی الذین من قبلک اللہ العزیز الحکیم (42 : 3) “ اسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف وحی کرتا رہا ہے ”۔ یہ ایک اجمالی اشارہ تھا کہ وحی الٰہی کا سرچشمہ ایک ہے ۔ اور اس وحی نے جو نظام پیش کیا ہے ، یہ وہی ہے جو سابقہ رسولوں نے پیش کیا تھا ، اور اس وحی کا رخ بھی اسی طرف ہے جس طرف سابقہ انبیاء کا تھا۔ اب اس اشارے کی تفصیلات دی جارہی ہیں کہ اللہ نے مسلمانوں کے لئے جو نظام زندگی اور جو شریعت وضع کی ہے ، وہ عمومی اصولوں میں وہی ہے جو حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کو دی گئی تھی۔ سب کو حکم دیا…
Read the full tafseer →4 یعنی توحید اور اصول دین میں جنہوں نے اختلاف ڈالا اور کتب سماویہ میں تحریف کی، وہ کچھ غلط فہمی یا اشتباہ کی وجہ سے نہ تھی۔ ایسی صاف وصریح اور مجمع علیہ تعلیمات میں اشتباہ و التباس کیا ہوسکتا تھا۔ محض نفسانیت، ضد، عداوت اور طلب مال و جاہ وغیرہ اسباب ہیں جو فی الحقیت اس تفریق و اختلاف مذموم کا باعث ہوئے ہیں۔ بعدہ جب اختلاف قائم ہوگئے اور مختلف مذاہب نے الگ الگ مورچے بنا لیے تو پیچھے آنے والی نسلیں عجیب خبط اور دھوکا میں پڑگئیں اور ایسے شکوک و شبہات پیدا کرلیے گئے جو کسی حال ان کو چین سے بیٹھنے نہیں دیتے۔ مگر یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے بندوں کو ڈھیل دی۔ اگر وہ چاہتا تو…
Read the full tafseer →آیت 14 { وَمَا تَفَرَّقُوْٓا اِلَّا مِنْم بَعْدِ مَا جَآئَ ہُمُ الْعِلْمُ بَغْیًام بَیْنَہُمْ } ”اور انہوں نے تفرقہ نہیں کیا مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آچکا تھا ‘ آپس میں ضدم ّضدا کے باعث۔“
عرب میں حضور ﷺ کی دعوت ِاقامت ِدین کے مخاطبین بنیادی طور پر دو گروہ تھے ‘ یعنی مشرکین اور اہل کتاب۔ ان میں مشرکین کا تو اس دعوت کو ماننا بہت مشکل تھا اور یہ تلخ حقیقت پچھلی آیت میں واضح بھی کردی گئی ہے کہ آپ ﷺ کی یہ دعوت مشرکین پر بہت شاق گزر رہی ہے۔ البتہ اہل کتاب کا اس دعوت پر ایمان لے آنا نسبتاً زیادہ قرین قیاس تھا ‘ کیونکہ وہ تورات و انجیل جیسی الہامی کتابوں سے واقف تھے اور وحی ‘ ملائکہ اور آخرت پر…
Read the full tafseer →18 فرقہ بازی کے اسباب :۔ لوگوں میں اختلاف اور تفرقہ بازی اس وجہ سے نہیں ہوتی کہ اللہ کی کتاب میں کوئی بات مبہم اور مختلف فیہ ہوتی ہے۔ جس کی لوگوں کو پوری طرح سمجھ نہیں آتی بلکہ اس کی اصل وجہ اپنا اپنا جھنڈا بلند کرنے کی خواہش، باہمی ضد، اپنی نرالی اپچ دکھانے کی خواہش، ایک دوسرے کو زک دینے کی کوشش یا مال و جاہ کی طلب ہوتی ہے۔ یہی وہ اسباب تھے جو نئے نئے عقائد اور فلسفے، نئے نئے طرز عبادت اور مذہبی مراسم اور نئے نئے نظام حیات ایجاد کرنے کا محرک بنے اور خلق خدا کے ایک بڑے حصے کو دین کی سیدھی اور کشادہ راہ سے ہٹا کر مختلف راہوں میں پراگندہ کردیا اور امت کے ٹکڑے کر ڈالے۔
19 پہلے سے طے شدہ بات یہ…
Read the full tafseer →17۔ یہاں ایک بار پھر اس حقیقت کا اعادہ ہے کہ دین اصلی اور دین قدیم تو دین توحید ہی ہے۔ اور شرک مبتدع ومخترع ادیان کی ایجاد تو بہت بعد کی چیز ہے اور اس کی بنیاد بھی کسی اجتہادی غلطی پر نہیں بلکہ تمامتر نفسانیت پر ہے۔
18۔ (عملا اور عیانا اسی دنیا میں) (آیت) ” کلمۃ سبقت من ربک “۔ وہ طے شدہ بات یہی کہ پورا عذاب آخرت میں ہوگا۔ آیت مومنین کی تسکین و تسلی کے لئے کہ یہ مجرم جواب تک بچے ہوئے ہیں، یہ اپنے کسی ذاتی استحقاق کی بناء پر نہیں، بلکہ اس لئے کہ اللہ نے اپنی تکوینی حکمتوں اور مصلحتوں سے انکی سزا کو دارالعمل میں نہیں بلکہ دارالجزاء کے لئے ملتوی رکھا ہے۔
19۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کے معاصر اہل کتاب۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
آیت نمبر 10 تا 19
ترجمہ : اور جس چیز (یعنی) دین وغیرہ میں کفار کے ساتھ تمہارا اختلاف ہوا، اس کا فیصلہ قیامت کے دن اللہ ہی لوٹے گا، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا، آپ ان سے کہئے یہی اللہ میرا رب ہے، جس پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے، اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں، وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، اس نے تمہارے لئے تمہاری جنس کے جوڑے بنا دئیے ہیں، بایں طور کہ اس نے (حضرت) حواء کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا فرمایا اور چوپایوں کے نرو مادہ کے جوڑے بنائے (یَذْرَءُکُم ْ ) ذال معجمہ کے ساتھ (یعنی ذال کے ساتھ ہے نہ کہ دال کے ساتھ) اور یَذرَءُکُمْ بمعنی یَخْلُقُکُمْ ہے یعنی مذکورہ طریقہ…
Read the full tafseer →وما تفرقوا الا من بعد ما جاء ھم العلم بغیا بینھم اور بعد اسکے کہ ان کے پاس حکم پہنچ چکا تھا ‘ وہ لوگ
محض آپس کی ضداضدی سے مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔
وَمَا تَفَرَّقُوْا حضرت ابن عباس نے فرمایا : یعنی اہل کتاب کے فرقے فرقے نہیں بنے۔
مِنْم بَعْدِ مَا جَآءَھُمُ الْعِلْمُ مگر اس امر کے بعد کہ آسمانی کتابیں بھیجی جا چکی تھیں جن میں صراحت تھی کہ تمام انبیاء کا دین ایک ہی ہے اور محمد ﷺ کے پاس اللہ نے جو وحی بھیجی ‘ وہ وہی وحی تھی جو حضرت ابراہیم ‘ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کے پاس بھیجی تھی۔
بَغْیًام بَیْنَھُمْ آپس کی ضدا ضدی سے۔ عطاء نے کہا : یعنی رسول اللہ ﷺ کے خلاف وہ مغرور ہوگئے اور تکبر کی وجہ سے…
Read the full tafseer →اور یہود و نصاری نے قرآن کریم اور رسول اکرم اوردین اسلام کے بارے میں جو اختلاف اور رسول اکرم اور قرآن کریم کا انکار کیا اس کے باوجود کہ ان کی کتابوں میں آپ کی نعت و صفت آچکی تھی یہ حسد اور باہمی ضد کی وجہ سے کیا ہے۔
اور اس امت سے ایک معین وقت تک عذاب کے موخر ہونے کی بات پہلے سے قرار نہ پاچکتی تو ابھی تک یہود و نصاری کا فیصلہ ہوچکا ہوتا اور جن لوگوں کو رسولوں یا یہ کہ پچھلی امتوں کے بعد توریت دی گئی وہ اس توریت یا یہ کہ قرآن کریم کی طرف سے بالکل شک میں پڑے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →(1) وما تفرقوا الامن بعد ماجآء ھم العلم : یعنی ان کے فرقوں میں بٹ جانے کا باعث یہ نہیں تھا کہ انھیں اللہ اور اس کے رسول کے احکام کا علم نہیں تھا اور لاعلمی کی وجہ سے انہوں نے اپنے اپنے الگ مذاہب اور مکاتب فکر بنا لئے۔ بلکہ یہ تفرقہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم آجانے کے بعد پیدا ہوا۔
(2) بعیابینھم یعنی الگ الگ گروہ اور فرقے بنانے کا باعث ان کا باہمی حسد، ضد اور عناد تھا، جس کی وجہ سے اللہ کے حکم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے انہوں نے اپنے اپنے قیاس و آراء کی بنیاد پر الگ الگ فرقے بنائے اور تکاب اللہ میں تحریف تک سے گریز نہ کیا، حتیٰ کہ نوبت باہمی اختلاف سے بڑھ کر ایک دوسرے کی مخالفت اور پھر جنگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
شرع لکم من الدین ماوصی بہ نوحا اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ شرع لکم من الدین وہ ذات پاک جس کے قبضہ قدرت میں آسمانوں اور زمین کی چابیاں ہیں اس نے تمہارے لیے وہ دین مقرر فرمایا جو قوم نوح ‘ قوم ابراہیم ‘ قوم موسیٰ اور قوم عیسیٰ (علیہم السلام) کے لیے مقرر فرمایا تھا پھر اس کی وضاحت اپنے اس ارشاد سے بیان کی ان اقیموا الدین اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو بیان کرنا ‘ اس کی اطاعت کرنا ‘ اس کے رسولوں ‘ کتابوں ‘ یوم جواز اور باقی ماندہ تمام امور جنکو بجا لانے سے ایک آدمی مسلمان ہوتا ہے پر ایمان لانا ہے۔ اور شرعی احکام جو امتوں کی مصلحتوں پر قائم ہیں اس طرح وارد نہیں ہوئے وہ مختلف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
1:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحا “ (اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کیا جس کا اس نوح کو حکم دیا تھا) یعنی اے محمد ! ہم نے آپ کو اور اپنے پیارے انبیاء کو ایک ہی دین کا حکم دیا تھا۔
2:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت سے کیا کہ (آیت ) ” شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحا “ (جس کا اس نے نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا یعنی حلال اور حرام کا۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت سے کیا کہ نوح (علیہ السلام) کو حلال کو…
Read the full tafseer →وَمَا تَفَرَّقُوْٓا [ اور وہ الگ الگ نہیں ہوئے ] اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا [ مگر اس کے بعد جو ] جَاۗءَهُمُ [ آیا ان کے پاس ] الْعِلْمُ [ علم ] بَغْيًۢا [ سرکشی کرتے ہوئے ] بَيْنَهُمْ ۭ [ آپس میں ] وَلَوْلَا كَلِمَةٌ [ اور اگر نہ ہوتا ایک ایسا فرمان جو ] سَبَقَتْ [ طے ہوا ] مِنْ رَّبِّكَ [ آپ کے رب (کی طرف) سے ] اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّي [ ایک معین مدت تک کے لئے ] لَّقُضِيَ [ تو ضرور فیصلہ کردیا جاتا ] بَيْنَهُمْ ۭ [ ان کے درمیان ] وَاِنَّ الَّذِيْنَ [ اور بیشک وہ لوگ جو ] اُوْرِثُوا [ وارث بنائے گئے ] الْكِتٰبَ [ کتاب کے ] مِنْۢ بَعْدِهِمْ [ ان لوگوں کے بعد ] لَفِيْ شَكٍّ [ یقینا ایک ایسے شک میں…
Read the full tafseer →علم آنے کے بعد لوگ متفرق ہوئے
﴿وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ ﴾ اور لوگ ضدا ضدی کے باعث اس کے بعد متفرق ہوئے جبکہ ان کے پاس علم آچکا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ قریش مکہ کے بارے میں فرمایا ہے یہ لوگ آرزو کرتے تھے کہ ان کی طرف کوئی نبی بھیجا جائے اور قسمیں کھاتے تھے کہ ہمارے پاس کوئی نبی آگیا تو ہم پرانی امتوں سے بڑھ کر ہدایت والے ہوں گے جب رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوگئی تو منکر ہوگئے آپس کی ضدا ضدی نے ان کے فرقے بنا دئیے کچھ لوگوں نے ایمان قبول کیا اور کچھ لوگ کفر و شرک پر جمے رہے اور حضرت ابن عباس ؓ کا ایک قول یہ ہے کہ اس سے اہل کتاب مراد ہیں یہودیوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
مقصد وحید جملہ ادیان سماویہ توحید خداوندی و قیام عدل و انصاف :
قال اللہ تعالیٰ : شرع لکم من الدین ...... الی ...... ولھم عذاب شدید “۔
(ربط) سورة شوری کی ابتداء حق تعالیٰ شانہ کی عظمت وکبریائی اور توحید کے بیان سے تھی، اسی کے ضمن میں وحی الہی کا اثبات تھا، اور کفر وشرک کا رد اور ابطال اب ان آیات میں ذکر فرمایا جارہا ہے اللہ رب العزت نے جس قدر بھی پیغمبر مبعوث فرمائے، حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) تک اور جتنے ادیان وشرائع مقرر فرمائے ان سب کا مقصد وحید صرف توحید خدا و ندی رہا، بلکہ جملہ ادیان کی بھی تعلیم تھی، اور ہر پیغمبر کی یہی ہدایت تھی، اب اسی تعلیم ہدایت…
Read the full tafseer →13:۔ ” وما تفرقوا “ یہ ایک شبہہ کا جواب ہے کہ جب تمام انبیاء (علیہم السلام) کا دین ایک ہی تھا اور مسئلہ توحید سب کا اجماعی دین تھا، تو جو کتابیں اور صحیفے ان پر نازل ہوئے، ان میں مسئلہ توحید کے خلاف مضامین کیوں پائے جاتے ہیں ؟ اس کا جواب دیا گیا کہ بیشک تمام انبیاء (علیہم السلام) مسئلہ توحید پر متفق تھے اور یہی مسئلہ توحید کے خلاف مضامین کیوں پائے جاتے ہیں ؟ اس کا جواب دیا گیا کہ بیشک تمام انبیاء (علیہم السلام) مسئلہ توحید پر متفق تھے اور یہی مسئلہ ان کی طرف وحی کیا گیا، لیکن بعد میں دنیا پرست، باغی اور گمراہ کن علماء اور پیشواؤں نے حق کو سمجھنے کے بعد جان بوجھ کر کتب سابقہ میں تحریف کر ڈالی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ربط آیات
پہلے وحی الٰہی کی حقانیت کا ذکر ہوا پھر اللہ نے عربی زبان میں نزول قرآن اور اس کی غرض وغایت بیان فرمائی رسالت کا مسئلہ بیان کیا اور شرک کا ذکر فرمایا ۔ متنازعہ مسائل کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا کرو ، پھر اللہ کی ذات پر بھروسہ کرنے کا حکم دیا اور اس کی یہ صفت بیان کی کہ وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے ۔ اللہ نے انسانوں اور جانوروں کو جوڑوں کی شکل میں مذکر و مؤنث پیدا کیا ہے وہ ان ان سب کو اپنی قدرت تامہ سے زمین میں بکھیرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات بےمثل اور بےمثال ہے ۔ تمام چیزوں کی چابیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں اور اسے ہر شے پر تصرف حاصل ہے ۔ رزق میں وسعت اور تنگی بھی وہی فرماتا ہے۔ وحی…
Read the full tafseer →وَمَا تَفَرَّقُوْٓا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَہُمُ الْعِلْمُ بَغْيًۢا بَيْنَہُمْ 0 ۭ وَلَوْلَا كَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّي لَّقُضِيَ بَيْنَہُمْ 0 ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِہِمْ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْہُ مُرِيْبٍ 14
ما
مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف .
فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع .
فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي
نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
ترکیب : الامن استثناء متصل ای ماتفرقوافی وقت من ما الاوقت مجئی العلم بغیا موصوف بینہم صفۃ وانتصابہ علی انہ مفعول لاجلہ کمایقال قعدت عن الحرب جبناً ولولاشرط سبقت صفۃ لکلمۃ لقضی جواب الشرط لفی شک خبران فلذلک الاشارۃ الی الکتاب اوالعلم فاللام فی موضع الی وصلۃ ادع مذکورۃ صریحا۔
تفسیر : شبہ ہوتا تھا کہ جب تمام انبیاء کو اقامت دین کا متفق بنا کر حکم دیا گیا پھر ان اصول میں کیوں اختلاف پڑا ؟ یہودونصاریٰ مجوس وغیرہ مختلف فرقے پیدا ہوگئے اس کے جواب میں فرماتا ہے وماتفرقوا کہ یہ آپس کی ضد سے لوگوں نے جان بوجھ کر اختلاف ڈالا ہے یہود نے کہا ہم عیٰسی (علیہ السلام) کو کیوں مانیں اور عیسائیوں نے کہا ہم محمد…
Read the full tafseer →وَمَا تَفَرَّقُوْٓا اِلاَّ مِنْ م بَعْدِ مَاجَآئَ ھُمُ الْعِلْمُ بَغْیًا م بَیْنَھُمْ ط وَلَوْلاَ کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسْمًّی لَّقُضِیَ بَیْنَھُمْ ط وَاِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْـکِتٰبَ مِنْ م بَعْدِ ھِمْ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مُرِیْبٍ ۔ (الشوری : 14)
(اور وہ لوگ متفرق نہیں ہوئے مگر صحیح علم آچکنے کے بعد محض ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہوئے، اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات ایک مدت معین کے لیے طے نہ پاچکی ہوتی تو ان کے درمیان فوراً فیصلہ کردیا جاتا۔ اور بیشک جو لوگ ان کے بعد کتاب کے وارث بنائے گئے وہ اس کی طرف سے ایک الجھن میں ڈالنے والے شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ )
ہدایت…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : تمام انبیائے کرام (علیہ السلام) کا دین ایک ہی تھا مگر ان کے بعد ان کے نا خلف وارثوں نے باہمی حسد وبغض کی وجہ سے اس میں اختلافات پیدا کردیئے۔
دین کی بنیاد توحید و رسالت پر ہے۔ توحید کا معنٰی ہے کہ ایک اللہ کا حکم مانا جائے اور صرف اسی کی عبادت کی جائے۔ رسالت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے رسول نے جو فرمایا اور کرکے دکھلایا اس کے مطابق عمل کیا جائے۔ ان دونوں چیزوں سے جو شخص جتنا آگے پیچھے ہوگا اتنا ہی وہ اتحاد امت سے دور ہوگا اور عملاً اختلافات کا باعث بنے گا۔ اگر اس اختلاف میں حسد وبغض شامل ہوجائے تو دین اور ملت تفرّقہ بازی کا شکار ہوجائیں گے پہلی امتوں میں یہی کچھ ہوا۔ قرآن…
Read the full tafseer →14: وَمَا تَفَرَّقُوْا (اور وہ متفرق نہیں ہوئے) انبیاء (علیہم السلام) کے بعد اہل کتاب اِلَّا مِنْم بَعْدِ مَا جَآ ئَ ھُمُ الْعِلْمُ (مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم پہنچ چکا تھا) مگر اس بات کے جان لینے کے بعد کہ تفرقہ بازی گمراہی ہے۔ اور یہ ایسی بات ہے جس کے متعلق انبیاء (علیہم السلام) کی زبان پر بار بار وعیدیں اتر چکیں ہیں۔ بَغْیًام بَیْنَھُمْ (آ پس کی ضدا ضدی کی وجہ سے) حسد اور ریاست طلبی اور بلا استحقاقِ حق جتانے کی وجہ سے۔
وَلَوْلَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی (اور اگر آپ کے پروردگار کی طرف ایک وقت معین تک ایک بات پہلے طے نہ پاچکی ہوتی) اور وہ یہ ہے بل الساعۃ…
Read the full tafseer →13، شرع لکم من الدین، بیان کیا اور طریقہ جاری کیا تمہارے لیے۔ ، ماوصی بہ نوحا، یہ انبیاء شریعت میں سے پہلے ہیں۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ہم نے اے محمد ﷺ آپ کو اور ان کو وصیت کی ایک دین کی۔ ، والذی اوحینا الیک، قرآن اور شرائع اسلام میں سے، وما وصینا بہ ابراھیم و موسیٰ و عیسیٰ ، اس آیت کی توجیہ میں مفسرین رحمہم اللہ کا اختلاف ہے۔
قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ حلال کو حلال کرنا اور حرام کو حرام کرنا مراد ہے اور حکم (رح) فرماتے ہیں کہ ماؤں ، بیٹیوں اور ہوبہنوں کو حرام قرار دینا ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو نماز قائم کرنے اور زکوۃ ادا کرنے اور اللہ کی فرمانبرداری کا اقرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
13۔ 15۔ اگرچہ انبیائے اولوالعزم کی تعداد میں علماء مفسرین نے اختلاف کیا ہے لیکن امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس اور ان کے مشہور شاگرد مجاہد کا قول یہی ہے کہ اولوالعزم یہی پانچ نبی ہیں جن کے نام اس آیت میں اور سورة احزاب میں آئے ہیں اوپر یہ تو گزر چکا ہے کہ تفسیر کے باب میں حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول صحابہ میں اور مجاہد کا قول تابعیوں میں بڑا معتبر ہے اس لئے یہی قول اختلاف کے رفع کرنے کے لئے کافی ہے اولوالعزم کے معنی صاحب ہمت کے ہیں ان انبیا کے زمانہ میں بت پرستی کا زور تھا اس لئے ان انبیاء کو بت پرستوں سے بڑی ہمت کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑا اسی واسطے ان پانچ نبیوں کو اولوالعزم کہتے ہیں وصیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
آیت 14
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنے دین پر مجتمع رہنے کا حکم دیا اور تفرقہ سے منع کیا، اس کے بعد انہیں خبردار کیا کہ وہ اس بات پر غرور نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر کتاب نازل فرمائی کیونکہ اہل کتاب نے کتاب نازل ہونے کے بعد جو اجتماع و اتحاد کی موجب تھی، ایک دوسرے سے اختلاف کیا، لہٰذا ان کا عمل کتاب اللہ کے حکم کے خلاف تھا اور یہ سب کچھ ان کی طرف سے بغاوت اور عدوان کی وجہ سے صادر ہوا کیونکہ انہوں نے آپس میں بغض، کینہ اور حسد کا رویہ رکھا جس سے ان کے درمیان عداوت پیدا ہوئی اور اس طرح اختلاف پیدا ہوا۔ اے مسلمانو ! ان جیسا رویہ اختیار کرنے سے بچو۔
(ولولا کلمۃ سبقت من ربک) ” اور اگر تمہارے رب…
Read the full tafseer →36 باہمی ضد اور حسد باعث محرومی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ آپس میں ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہوئے مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم پہنچ گیا تھا " یعنی حق اور حقیقت کا علم۔ سو انہوں نے محض آپس کی ضد اور حسد کی بنا پر اس میں اختلاف کیا اور باہم ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ ورنہ راہ حق و صدق میں کسی طرح کا کوئی خفاء و غموض نہیں تھا۔ مگر آپس کی ضد اور حسد نے ان کا بیڑا غرق کردیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو باہمی ضد و حسد اور عناد و ہٹ دھرمی کا نتیجہ محرومی و ہلاکت اور وہ بھی اس صورت میں کہ علم حق و ہدایت کا نور انکے پاس پہنچ گیا کہ اس کے بعد ایسے لوگوں کا جرم مزید سخت اور زیادہ سنگین ہوجاتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
اللہ کا غلبہ، قدرت، دانائی اور رحم و کرم سب سے زیادہ ہے
تشریح : پہلی اور دوسری آیات میں حروف مقطعات ہیں۔ اس کے بعد رب ذوالجلال کی صفات کا ذکر ہے۔ توحید پر ایمان لانا انسان کے لیے بہترین راستہ ہے۔ کیونکہ یہی مبارک راستہ انسان کو زندگی کی تمام قباحتوں سے بچاتا ہے۔ انسان کو ایسانظام حیات عطا کرتا ہے کہ جس کی وجہ سے عبادات، اخلاقیات، معاملات، حقوق اور تعزیرات کا ایک بہترین نقشہ انسان کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ یہ نظام حیات انسان کو ظلم زیادتی، کفر و شرک، بےحیائی بد نظمی اور تمام غم، خوف اور پریشانیوں سے محفوظ کردیتا ہے۔ اسی لیے قرآن کو بہت بڑی رحمت اور اسلام کو سلامتی کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس پیغام کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
آیات 10 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
ان لوگوں سے کہیے کہ اگر انہیں توحید باری تعالیٰ میں اختلاف ہے تو اس کا فیصلہ اللہ کریم کے حوالے ہے جس نے دنیا میں دلائل معجزات سے واضح کردیا ہے اور آخرت میں ایمان والوں کو جنت میں اور کفار کو دوزخ میں داخل کردے گا اور جس کی یہ عظمت وشان ہے وہی میرا پروردگار ہے اور کفار سے جس بھی تکلیف کے پہنچنے کا اندیشہ ہوسکتا ہے اس کے لیے میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اپنی ہر ضرورت کے لیے اس کی طرف رجوع کرتا ہوں وہ کائنات کا رب ہے تمہارا بھی وہی ہے کہ زمین و آسمان کو بنانے والا وہی ہے اور تمہیں پیدا کیا اور پھر جوڑے بنایا کہ تمہاری نسل چلے۔ اسی طرح جانوروں کو پیدا کرکے جوڑے…
Read the full tafseer →ف 15 یعنی یہ فرقہ بندی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم یعنی واضح ہدایت آجانے کے بعد کی یا اس کا علم ہوجانے کے باوجود کہ فرقہ بندی گمراہی ہے انہوں نے دین میں تفرقہ پیدا کیا۔ ( فتح)
1 یعنی آپ ﷺ کے زمانہ کے یہود و نصاریٰ ۔
2 اور اسی لئے وہ آپ ﷺ پر ایمان نہیں لا رہے۔
Read the full tafseer →(42:14) بغیا : اسم تمیز۔ ضد۔ زیادتی۔ بغیا بینھم : باہمی ضد (کی بناء پر)
ماتفرقوا : ما نافیہ ہے تفرقوا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ تفرق (تفعیل) مصدر سے وہ فرقوں میں بہ بٹ گئے۔
لولا۔ اگر نہ ہوتا۔ کیوں نہ۔ لو شرطیہ اور لا نافیہ سے مرکب ہے۔ یہ حرود تحضیض والعرض میں سے ہے (الا، ھلا، لولا، لوما) نیز ملاحظہ ہو 6:43 ۔
کلمۃ۔ حکم ازلی۔ کلمہ کا صحیح ترجمہ بات ہے۔ بات قول کو بھی کہتے ہیں۔ جیسے میری بات سنو۔ اور فعل کو بھی۔ یہ بات کرو۔ قرآن مجید میں مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے ۔ مثلا وعدہ قیامت۔ یعنی قیامت کے دن فیصلہ ہونے کا حکم ازلی (10:19) بمعنی کلام یا جملہ (23:100) ۔ سبقت : ماضی واحد مؤنث غائب۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
لغات القرآن آیت نمبر 13 تا 15 : شرع (اس نے مقرر کیا) کبر ( گراں گزرا ، ناگوار لگا) وصی ( وصیت کی) یجتبی ( وہ چن لیتا ہے) بغیا ( ضد ، ہٹ دھرمی) سبقت (گزر گئی ( جو پہلے ہوچکا) اور ثوا ( وارث بنائے گئے) مریب (شک میں ڈالنے والا) اعدل ( میں انصاف کرتا ہوں) حجۃ ( دلیل ، وجہ)
تشریح : آیت نمبر 13 تا 15 :
اس پوری کائنات اور اس کے ذرے ذرے کا خالق ومالک اللہ ہے جس نے اپنے پاکیزہ نفوس پیغمبروں کے ذریعہ دنیا میں زندگی گزارنے کے تمام طریقے ، قاعدے ، قانون اور ضابطے بھیجے ہیں تا کہ ہر ایک کی دنیا اور آخرت دونوں بہتر ہوجائیں ۔ چناچہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک ہر زمانے کے…
Read the full tafseer →(ف 2) اہل کتاب نے اپنے انبیاء کے بعد جو دین میں اختلاف ڈالا کہ کسی نے توحید اختیار کی کوئی کافر ہوگیا، اور وہ اس سے پہلے جان چکے تھے کہ اس طرح اختلاف کرنا، اور فرقہ فرقہ ہوجانا گمراہی ہے لیکن باوجود اس کے انہوں نے یہ سب کچھ کیا کہ ان کو پورا پورا علم صفت نبی آخزالزمان کا اور ان کی شان و صورت کا آچکا ہے ، محض عناداوتکبرا وحسدا متفرق ہورہے اور توحید اور نبی آخرالزمان کو نہیں مانتے، اے محبوب اگر خدا کا حکم ازلی سے یونہی ثابت ہوچکا ہوتا کہ اس امت پر عذاب نہ آجائے گا اور ایک وقت معین تک ان کو مہلت ملے گی تو ابھی فیصلہ کردیاجاتا اور یہ سب عذاب الٰہی سے ہلاک کردیے جاتے اور وہ لوگ جن کو ان رسولوں کے…
Read the full tafseer →[9] یعنی نبی ﷺ کے معاصر اہل کتاب۔ [10] مطلب یہ ہے کہ اگلی نسلوں نے تورات و انجیل کو ان کی اصلی عبارت اور زبان میں محفوظ رکھ کر پچھلی نسلوں تک نہیں پہنچایا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پچھلی نسلوں کو یہ کتابیں بالکل متناقص شکل میں ملیں۔ ان کے تراجم ہی رہ گئے اور اصل غائب ہوگئی۔ اس وجہ سے ان لوگوں کا ان کتابوں کی طرف سے شکوک میں مبتلا ہوجانا ایک فطری امر تھا اور یہ چیز مقتضی تھی کہ وہ ان کے شکوک و اختلافات کو رفع کرنے والی کتاب یعنی قرآن کی دل سے قدر کرتے لیکن انہوں نے محض ضد و حسد کی بناء پر اس کی مخالفت کی۔
Read the full tafseer →اہل کتاب کی بددیانتی
یعنی اہل کتاب خوب جانتے ہیں ۔ کہ حضور ﷺ صدق وحقانیت کا پیغام لے کر آئے ہیں ۔ ان پر تمام حجت ہوچکی ہے ۔ یہ تما صائیم ومعارف نبوت کو دیکھ چکے ہیں ۔ انہیں یقین ہے کہ اس میں کسی طرح کے شک وشبہ کو دخل نہیں ہے ۔ یہ محض ان کی ضد ہے ۔ غرور اور فخر ہے ۔ کہ حق کو اپنی صالح ونبوی کی وجہ سے نظرانداز کررہے ہیں ۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بات طے نہ ہوتی ۔ کہ قوموں کو ان کی تکذیب کا بدلہ قیامت میں دیا جائے گا ۔ تو یہ اپنی خیانت اور بددیانتی کی وجہ سے کبھی کے مٹ چکے ہوتے ۔ یہ تو اللہ کا کرم ہے ۔ کہ تما گناہوں کی سزا کو ایک مقرر دن کے اٹھا رکھا ہے ۔ ورنہ یہ ممکن تھا ۔ کہ قانون صدق…
Read the full tafseer →(14) اور وہ امم سابقہ یعنی اہل کتاب بعد اس کے کہ ان کو صحیح علم پہنچ چکا تھا آپس کی ضد بحث اور حسد سے الگ الگ ہوگئے اور اے پیغمبر اگر آپ کے پروردگار کی طرف سے ایک وقت معین کی بات پہلے سے طے شدہ نہ ہوتی تو ان کے درمیان کبھی کا فیصلہ کردیا گیا ہوتا اور وہ لوگ جو ان کے بعد کتاب دی گئی وہ تو اس کتاب کی طرف سے ایک سخت تردد انگیز شک میں مبتلا ہوگئے۔
مطلب یہ ہے کہ باوجود ان اقیم والدین ولا تتفرقوافیہ کا صاف حکم دینے اور ان کے پاس صحیح علم پہنچ جانے کے بعد وہ لوگ تفرقہ اندازی کے مرتکب ہوئے اور یہ تفرقہ بھی محض ضد اور حسد کی وجہ سے ڈالا اور کتب سماویہ میں تحریف اور تغیر بالمعنی کرکے فرقے فرقے ہوگئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
ف 9۔ مراد اس دین سے اصول دین ہیں جو مشترک ہیں تمام شرائع میں مثل توحید و رسالت و بعث وغیرہ۔
(فائدہ) قائم رکھنا یہ کہ اس کو تبدیل مت کرنا، اس کو ترک مت کرنا، اور تفرق یہ کہ کسی پر ایمان نہ لاویں، یا کوئی ایمان لاوے کوئی نہ لاوے، حاصل یہ کہ توحید وغیرہ دین قدیم ہی کے اول سے اس وقت تک تمام شرائع اس میں متفق رہی ہیں اور اس کے ضمن میں نبوت کی بھی تائید ہوگئی، پس چاہئے تھا کہ اس کو قبول کرنے میں لوگوں کو ذرا پس و پیش نہ ہوتا۔
1۔ یعنی دین حق کو قبول کرنے کی توفیق دے دیتا ہے۔
2۔ مشیت کے بعد اجتباء ہوتا ہے اور اجتباء یعنی توفیق ایمان کے بعد اگر انابت و اطاعت ہو تو اس پر قرب الہی وثواب غیر متناہی مرتب…
Read the full tafseer →تفریق ڈالنے والوں نے تفریق نہیں کی مگر سوچ سمجھ کر محض سرکشی کے باعث
14 ؎ حکم الٰہی کیا ہے ؟ یہ کہ { لاتتفرقوا } تفرقہ مت ڈالو۔ جب زیر نظر آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ لوگ جو مختلف فرقوں میں تقسیم ہوئے وہ تقسیم نہیں ہوئے مگر اس کے بعد کہ انہوں نے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا کہ متفرق ہونا اچھا نہیں اس کے باوجود انہوں نے راہ حق سے انحراف کیا اور الگ الگ فرقوں میں بٹ گئے اور جب طرح پڑگئی تو پھر بٹتے ہی چلے گئے۔ اس سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ ان فرقوں کا معرض وجود میں آجانا محض بےعلمی اور غلط فہمی کے باعث نہیں ہوتا بلکہ اکثر و بیشتر اسی انتشار و افتراق کا باعث ان کا باہمی حسد ، عناد ، بغض اور…
Read the full tafseer →وَمَا تَفَرَّقُوا إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ (And they were not divided, in jealousy with each other, but after knowledge had come to them - 42:14). Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ has explained that the pronoun ` they' in this sentence refers to the Quraysh of Makkah, and thus he has taken the verse to mean that the aversion of the infidels of Quraysh to the straight path was in itself a matter of utter ignorance, but on top of it they did so even after knowledge had been imparted by Allah. Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ has held the coming of the Messenger of Allah ﷺ who was the source of…
Read the full tafseer →22 That is, "The divisions were created not because Allah had fAlled to send the Prophets and the Books, and therefore, the people could not know the Right Way and so invented their own separate religions, sects, schools of thought and systems of life, but divisions appeared after knowledge had come to them from Allah. Therefore, Allah is not responsible for it, but the people who abandoned the clear principles of religion and commands of the Shari'ah and created their own creeds and religions arc themselves responsible for it."
23 That is, "The motive for creating the divisions was not good,…
Read the full tafseer →