تمام انبیاء کی شریعت یکساں ہے۔
اس آیت میں ایک لطیفہ ہے جو قرآن کریم کی صرف ایک اور آیت میں پایا جاتا ہے باقی کسی اور آیت میں نہیں وہ یہ کہ اس میں دس کلمے ہیں جو سب مستقل ہیں الگ الگ ایک ایک کلمہ اپنی ذات میں ایک مستقل حکم ہے یہی بات دوسری آیت یعنی آیت الکرسی میں بھی ہے پس پہلا حکم تو یہ ہوتا ہے کہ جو وحی تجھ پر نازل کی گئی ہے اور وہی وحی تجھ سے پہلے کے تمام انبیاء پر آتی رہی ہے اور جو شرع تیرے لئے مقرر کی گئی ہے اور وہی تجھ سے پہلے تمام انبیاء کرام کے لئے بھی مقرر کی گئی تھی تو تمام لوگوں کو اس کی دعوت دے ہر ایک کو اسی کی طرف بلا اور اسی کے منوانے اور پھیلانے کی کوشش میں لگا رہ اور اللہ…
Read the full tafseer →سورة الشُّوْرٰی 26
یعنی انکو راضی کرنے کے لیے اس دین کے اندر کوئی رد و بدل اور کمی بیشی نہ کرو۔ " کچھ لو اور کچھ دو " کے اصول پر ان گمراہ لوگوں سے کوئی مصالحت نہ کرو۔ ان کے اوہام اور تعصبات اور جاہلانہ طور طریقوں کے لیے دین میں کوئی گنجائش محض اس لالچ میں آ کر نہ نکالو کہ کسی نہ کسی طرح یہ دائرہ اسلام میں آجائیں۔ جس کو ماننا ہے، خدا کے اصلی اور خالص دین کو، جیسا کہ اس نے بھیجا ہے، سیدھی طرح مان لے، ورنہ جس جہنم میں جا کر گرنا چاہے گر جائے۔ خدا کا دین لوگوں کی خاطر نہیں بدلا جاسکتا۔ لوگ اگر اپنی فلاح چاہتے ہیں تو خود اپنے آپ کو بدل کر اس کے مطابق بنائیں۔
سورة الشُّوْرٰی 27
بالفاظ دیگر، میں ان…
Read the full tafseer →(آیت) فَلِذٰلِكَ فَادْعُ ۚ وَاسْتَقِمْ كَمَآ اُمِرْتَ ۚ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاۗءَهُمْ ۭ وَقُلْ اٰمَنْتُ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ ۚ وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَيْنَكُمْ ۭ اَللّٰهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ ۭ لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۭلَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ ۭ اَللّٰهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَ آ وَاِلَيْهِ الْمَصِيْرُ۔
حافظ ابن کثیر نے فرمایا کہ یہ آیت دس مستقل جملوں پر مشتمل ہے اور ہر جملہ خاص احکام پر مشتمل ہے۔ گویا اس ایک آیت میں احکام کی دس فصلیں مذکور ہیں۔ اس کی نظیر پورے قرآن میں ایک آیة الکرسی کے سوا کوئی نہیں۔ آیت الکرسی میں بھی دس احکام کی دس فصلیں آئی ہیں۔
پہلا…
Read the full tafseer →فلذلک فادع واستقم کما امرت ولا تتبع اھوآء ھم وقل امنت بمآ انزل اللہ من کتب وامرت لاعدل بینکم اللہ ربنا و ربکم لنا اعمالنا ولکم اعمالکم لاحجۃ بیننا وبینکم اللہ یجمع بیننا والیہ المصیر (15)
نبی کو استقامت کی
یہ نبی ﷺ کو ہدایت فرمائی کہ تم اس دین حق کی دعوت دو جو تمام انبیاء کا مشترک دین ہے اور تمہارے یہ مخالفین خواہ کتنا ہی زور لگائیں لیکن تم ان کی مطلق پروا نہ کرو، بلکہ ٹھیک ٹھیک اسی طرح جس طرح تمہیں ہدایت ہوئی ہے اس پر جمے رہو۔
ولا تتبع اھوآء ھم یہ اس استقامت کی وضاحت اس کے منفی پہلو سے ہے کہ ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو یعنی اپنی خواہشوں کو دین بنانے کے لئے انہوں نے اللہ کے دین میں جو…
Read the full tafseer →15۔ 1 یعنی اس تفرق اور شک کی وجہ سے، جس کا ذکر پہلے ہوا، آپ ان کو توحید کی دعوت دیں اور اس پر جمے رہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
3: پہلے سے طے شدہ بات یہ تھی کہ ان لوگوں کو ایک دم کسی عذاب سے ہلاک نہیں کیا جائے گا، بلکہ مہلت دی جائے گی جس میں اگر یہ چاہیں تو ایمان لاسکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
آیت نمبر 13 تا 16
کذلک یوحی الیک والی الذین من قبلک اللہ العزیز الحکیم (42 : 3) “ اسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف وحی کرتا رہا ہے ”۔ یہ ایک اجمالی اشارہ تھا کہ وحی الٰہی کا سرچشمہ ایک ہے ۔ اور اس وحی نے جو نظام پیش کیا ہے ، یہ وہی ہے جو سابقہ رسولوں نے پیش کیا تھا ، اور اس وحی کا رخ بھی اسی طرف ہے جس طرف سابقہ انبیاء کا تھا۔ اب اس اشارے کی تفصیلات دی جارہی ہیں کہ اللہ نے مسلمانوں کے لئے جو نظام زندگی اور جو شریعت وضع کی ہے ، وہ عمومی اصولوں میں وہی ہے جو حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کو دی گئی تھی۔ سب کو حکم دیا…
Read the full tafseer →5 یعنی جب دین حق کے متعلق تفریق و اختلاف کے طوفان چاروں طرف سے اٹھ رہے ہیں تو آپ کا فرض یہ ہے کہ غیر متزلزل عزم کے ساتھ اسی دین و آئین کی طرف لوگوں کو بلاتے رہیں جس کی دعوت آدم و نوح اور ان کے بعد تمام انبیاء دیتے چلے آئے ہیں۔ آپ اپنے پروردگار کے حکم سے ذرا ادھر ادھر نہ ہوں۔ قولاً و فعلاً اور علماً و حالاً برابر اسی راستہ پر گامزن رہیں جس پر اب تک رہے ہیں۔ مکذبین اور معاندین کی خواہشات کی ذرا پروا نہ کریں اور صاف اعلان کردیں کہ میں اللہ کی نازل کی ہوئی ہر کتاب پر خواہ وہ تورات ہو یا انجیل یا قرآن یا کوئی صحیفہ جو کسی زمانہ میں کسی پیغمبر پر نازل ہوا ہو سچے دل سے یقین رکھتا ہوں۔ میرا کام پہلی…
Read the full tafseer →آیت 15 { فَلِذٰلِکَ فَادْعُ } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ اسی کی دعوت دیتے رہیے“
یہاں ذٰلِکَ کا اشارہ اوپر آیت 13 میں اَقِیْمُوا الدِّیْنَ کے حکم کی طرف ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو اقامت دین کی جدوجہد کے لیے مسلسل دعوت دیتے رہیے۔
{ وَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ } ”اور جمے رہیے جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے“
آپ ﷺ کی رسالت کا مقصد اور مشن ہی چونکہ اقامت دین ہے ‘ اس لیے آپ ﷺ غلبہ حق کی جدوجہد کی اس راہ میں پوری استقامت اور تندہی کے ساتھ کھڑے رہیں۔ آپ ﷺ کے مخالفین تو چاہیں گے کہ آپ ﷺ کچھ نرم پڑنے کو تیار ہوں تو وہ بھی نرم پڑجائیں : { وَدُّوْا لَوْ تُدْہِنُ فَیُدْہِنُوْنَ۔ القلم۔ مگر آپ ہماری ہدایت و مشیت کے مطابق…
Read the full tafseer →21 یعنی آپ پر اب جو وحی کی جارہی ہے یہ بالکل پاک صاف اور ستھرا دین ہے جو ہر قسم کی آمیزشوں اور آلائشوں سے مبرا ہے۔ لہذا آپ اہل کتاب کی سب باتوں سے بےنیاز ہو کر اسی دین پر ڈٹ جائیے اور اس میں کسی قسم کا رد و بدل اور کمی بیشی گوارا نہ کیجئے۔ نہ ان لوگوں سے کسی قسم کا کوئی مذاکرہ یا سمجھوتہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ ان کے عزائم خطرناک ہیں۔ ایسے لوگوں کو دو ٹوک فیصلہ سنا دیجئے کہ میں تو صرف وہی بات تسلیم کروں گا جو اللہ نے مجھ پر نازل کی ہے۔
22 یعنی تمہارے فرقوں میں سے کسی کا جانبدار نہ بنوں بلکہ انصاف پسندی سے کام لیتے ہوئے صرف حق بات کہوں اور حق کا ہی ساتھ دوں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ میں اس دنیا میں…
Read the full tafseer →20۔ (اور وہی سب کا فیصلہ کردے گا۔ ابھی بحث بیکار ہے۔ البتہ تبلیغ کئے جائیں گے) (آیت) ” لاعدل “۔ ل مرادف ان کے ہے اے امرت ان اعدل (روح) (آیت) ” امرت لاعدل بینکم “۔ یعنی تمہارے حق میں انصاف کو ملوظ رکھو اور تمہارے اوپر اس سے زائد بار نہ ڈالوں جتنے کا شریعت نے تمہیں مکلف کیا ہے، اور ہر حال میں تمہارے معاملہ میں عدل سے کام لیتا رہوں۔ قال ابن عباس ؓ امرت ان لا احیف علیکم باکثرمما افترض اللہ علیکم من الاحکام وقیل لاعدل بینکم فی جمیع الاحوال والاشیاء (معالم) اے فی الحکم کما امرنی اللہ (ابن کثیر) (آیت) ” فلذلک “۔ یعنی ان کے اسی تفرق کی بناء پر۔ فلاجل ذلک التفرق اوالکتب اوالعلم الذی اوتیتہ (بیضاوی)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
آیت نمبر 10 تا 19
ترجمہ : اور جس چیز (یعنی) دین وغیرہ میں کفار کے ساتھ تمہارا اختلاف ہوا، اس کا فیصلہ قیامت کے دن اللہ ہی لوٹے گا، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا، آپ ان سے کہئے یہی اللہ میرا رب ہے، جس پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے، اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں، وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، اس نے تمہارے لئے تمہاری جنس کے جوڑے بنا دئیے ہیں، بایں طور کہ اس نے (حضرت) حواء کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا فرمایا اور چوپایوں کے نرو مادہ کے جوڑے بنائے (یَذْرَءُکُم ْ ) ذال معجمہ کے ساتھ (یعنی ذال کے ساتھ ہے نہ کہ دال کے ساتھ) اور یَذرَءُکُمْ بمعنی یَخْلُقُکُمْ ہے یعنی مذکورہ طریقہ…
Read the full tafseer →فلذلک فادع واستقم کما امرت ولا تتبع اھواء ھم سو آپ ان کو برابر دعوت دئیے جائیے اور خود
بھی راہ مستقیم پر قائم رہئے جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے ‘ اور ان کی (نفسانی) خواہشوں پر نہ چلئے۔
فَلِذٰلِکَ یعنی اہل کتاب کے اس تفرقہ کی وجہ سے۔
فَادْعُ آپ لوگوں کو اقامت دین کی طرف بلاتے رہئے اور دین میں تفرقہ نہ کرنے اور قرآن پر چلنے کی دعوت دئیے جائیے۔
وَلاَ تَتَّبِعْ اَھْوَآءَھُمْ اور ان کی کج رفتار خواہشات پر نہ چلئے۔
وقل امنت بما انزل اللہ من کتب وامرت لاعدل بینکم اللہ ربنا وربکم لنا اعمالنا ولکم
اعمالم لا حجۃ بیننا وبینکم اللہ یجمع بیننا والیہ المصیر اور آپ کہہ دیجئے کہ اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے…
Read the full tafseer →سو آپ اپنے پروردگار کی توحید اور اس کی کتاب کی طرف ان کو برابر بلاتے رہیے اور جس طرح قرآن حکیم میں آپ کو حکم ہوا ہے اسی کی توحید پر قائم رہیے اور یہودیوں کے قبلہ اور ان کے دین پر نہ چلیے۔
اور کہیے اللہ نے جتنی کتابیں انبیاء کرام پر نازل کی ہیں ان پر ایمان لاتا ہوں اور مجھے قرآن کریم میں یہ بھی حکم ہوا کہ توحید کے ساتھ تمہارے درمیان انصاف رکھوں۔
اللہ تعالیٰ ہمارا اور تمہارا پروردگار ہے وہ قیامت کے دن ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کردے گا ہمارے لیے اللہ کی عبادت اور دین اسلام ہے اور تم پر تمہارے اعمال ہیں یعنی بتوں کی پرستش اور شیطانی دین ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی دینی خصومت نہیں، قیامت کے…
Read the full tafseer →(1) فلذلک فادع : مفسر ابن کثیر ؒ نے فرمایا :”یہ آیت کریمہ دس جملوں پر مشتمل ہے، جن میں سے ہر متعلق ہے، پہلے لانے سے اس میں اختصاص پیدا ہو یا، یعنی لوگوں کو کسی اور نہیں بلکہ دین کے اسی طریقے کی دعوت دیں جو اس نے وحی کے ذریعے سے تمام انبیاء کے لئے مقرر فرمایا ہے اور وہ ہے ایک اللہ کی عبادت۔ اس کے دین کو قائم کرنا اور اس میں جدا جدا نہ ہوجانا، بلکہ اکٹھے ہو کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لینا۔
(2) واستقم کما امرت : دوسروں کو دعوت کے لئے خود اس پر عمل اور استقامت ضروری ہے، اس لئے اس پر مضبوطی سے قائم رہنے کا حکم دیا۔ (واستقم“ اور ”کما امرت“ کی تفسیر کیلئے دیکھیے سورة ہود (112)
(3) ولا تتبع…
Read the full tafseer →فلذلک فادع واستقم جب یہ جائز ہے کہ شک یہود اور نصاری کی جانب سے ہے یا شک قریش کی جانب سے ہے اس لیے آپ کو فرمایا : آپ نے ان کے شک کو پہچان لیا ہے پس آپ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیں یعنی اس دین کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے لیے مشروع کیا اور انہیں اس کا تاکیدی حکم دیا۔ یہاں لام ‘ الی کے معنی میں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان : بان ربک اوحی لھا۔ (زلزال) اس میں لھا ‘ الیھا کے معنی میں ہے اور ذلک ‘ ھذا کے معنی میں ہے۔ سورة بقرہ میں یہ بحث گذرچ کی ہے۔ معنی ہے قرآن کی طرف دعوت دیجیے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ جس کا ذکر پہلے گذر چکا ہے اسی وجہ سے تم دعوت اور استقامت کا مظاہرہ کرو۔ حضرت ابن عباس ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
1:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وامرت لاعدل بینکم “ (اور میں حکم دیا گیا ہوں کہ تمہارے درمیان انصاف کروں) اللہ کے نبی ﷺ کو حکم دیا گیا کہ عدل کریں تو آپ نے (ہر معاملہ میں) عدل کیا۔ یہاں تک کہ آپ کی وفات ہوگئی اور عدل کرنا زمین میں اللہ کا ترازو ہے اس کے ذریعہ ظالم سے مظلوم کے لئے بدلہ لیا جاتا ہے اور طاقتور سے کمزور کیلئے اور اسی عدل کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سچ بولنے والے کی تصدیق فرماتے ہیں اور جھوٹ بولنے والے کی تکذیب فرماتے ہیں اور اسی عدل کے ذریعہ حد سے تجاوز کرنے والے کو غلط قرار دینا ہے اور جھڑکنا ہے۔
2:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح)…
Read the full tafseer →فَلِذٰلِكَ [ تو اس کے لئے ہی ] فَادْعُ ۚ [ پھر آپ دعوت دیں ] وَاسْتَقِمْ [ اور آپ قائم (ڈٹے ) رہیں ] كَمَآ [اس کی مانند جو ] اُمِرْتَ ۚ [ آپ کو حکم دیا گیا ] وَلَا تَتَّبِعْ [ اور آپ پیروی مت کریں ] اَهْوَاۗءَهُمْ ۭ [ ان کی خواہشات کی ] وَقُلْ [ اور آپ کہیے ] اٰمَنْتُ بِمَآ [ میں ایمان لایا اس پر جو ] اَنْزَلَ اللّٰهُ [ اتاری اللہ نے ] مِنْ كِتٰبٍ ۚ [ کوئی کتاب ] وَاُمِرْتُ [اور مجھے حکم دیا گیا ] لِاَعْدِلَ [ کہ میں انصاف کروں ] بَيْنَكُمْ ۭ [ تمہارے درمیان ] اَللّٰهُ رَبُّنَا [ اللہ ہمارا رب ہے ] وَرَبُّكُمْ ۭ [ اور تمہارا رب ہے ] لَنَآ اَعْمَالُنَا [ ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں ] وَلَكُمْ…
Read the full tafseer →استقامت اور عدل کا حكم، کافروں سے برات کا اعلان
اوپر جس دین کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے اس کی نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو وصیت کی اور آپ کی طرف اس کی وحی بھیجی اس کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ آپ اسی کی طرف دعوت دیتے رہیں اور آپ کو جس طرح حکم دیا گیا ہے اسی طرح مستقیم رہیں اور مشرکین کی خواہشوں کا اتباع نہ کریں انہیں آپ کا دین ناگوار ہے اور یہ بھی ناگوار ہے کہ آپ انہیں دین توحید کی دعوت دیں اگر آپ کی دعوت میں ذرا سی بھی لچک آگئی اور ان کی کسی بات کو مان لیا تو استقامت ہاتھ سے جاتی رہے گی۔
مزید فرمایا کہ آپ ان کو بتادیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو بھی کتابیں نازل فرمائی ہیں سب پر ایمان لاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
مقصد وحید جملہ ادیان سماویہ توحید خداوندی و قیام عدل و انصاف :
قال اللہ تعالیٰ : شرع لکم من الدین ...... الی ...... ولھم عذاب شدید “۔
(ربط) سورة شوری کی ابتداء حق تعالیٰ شانہ کی عظمت وکبریائی اور توحید کے بیان سے تھی، اسی کے ضمن میں وحی الہی کا اثبات تھا، اور کفر وشرک کا رد اور ابطال اب ان آیات میں ذکر فرمایا جارہا ہے اللہ رب العزت نے جس قدر بھی پیغمبر مبعوث فرمائے، حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) تک اور جتنے ادیان وشرائع مقرر فرمائے ان سب کا مقصد وحید صرف توحید خدا و ندی رہا، بلکہ جملہ ادیان کی بھی تعلیم تھی، اور ہر پیغمبر کی یہی ہدایت تھی، اب اسی تعلیم ہدایت…
Read the full tafseer →14:۔ ” فلذلک فادع “ یہ پہلا امر متفرع ہے یہ اصل میں ” فادع لذلک، لذلک فادع “ پہلے جملے سے ” ادع “ حذف کردیا گیا اور دوسرے سے لذلک کو تاکہ تکرار مع اختصار ہوجائے ” فبذلک فلیفرحوا “ کی ترکیب بھی یہی ہے۔ نقلہ الشیخ (رح) تعالیٰ عن الرضی۔ جب تمام انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت ایک ہی تھی، لیکن باغیوں نے اس میں ضد وعناد سے اختلاف ڈالدیا ہے، تو آپ اسی دین توحید کی دعوت دیتے رہئے جس کی تمام انبیاء (علیہم السلام) کو تاکید کی گئی ” واستقم کما امرت “ یہ دوسرا امر متفرع ہے اور جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے، آپ اسی طرح دعوت پر قائم رہیں۔ ” ولا تتبع اھواءھم “ یہ تیسرا امر متفرع ہے اور ان گمراہ کن پیشوا اؤں…
Read the full tafseer →ربط آیات
گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے اجمالی طور پر بیان کیا کہ نوح (علیہ السلام) سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک تمام انبیاء کا دین یکساں رہا ہے۔ جو دین اللہ نے نوح (علیہ السلام) کو دے کر بھیجا تھا ، وہی دین حضرات ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو بھی عطا فرمایا اور تمام انبیاء کو حکم دیا کہ دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو ۔ ایسا نہ ہونے پائے کہ کوئی شخص دین کو مان لے اور کوئی نہ مانے ۔ یا دین کے بعض حصے کو مان لیا جائے اور بعض سے اعراض کیا جائے۔ فرمایا جو دعوت آپ لے کر آئے ہیں یہ مشرکوں پر گراں گزرتی ہے۔ پھر اللہ نے تفرقہ پیدا کرنے والوں کی مذمت میں فرمایا کہ انہوں نے…
Read the full tafseer →فَلِذٰلِكَ فَادْعُ 0 ۚ وَاسْتَقِمْ كَـمَآ اُمِرْتَ 0 ۚ وَلَا تَتَّبِـعْ اَہْوَاۗءَہُمْ 0 ۭ وَقُلْ اٰمَنْتُ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ مِنْ كِتٰبٍ 0 ۚ وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَيْنَكُمْ 0 ۭ اَللہُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ 0 ۭ لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ 0 ۭ لَا حُجَّۃَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ 0 ۭ اَللہُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا 0 ۚ وَاِلَيْہِ الْمَصِيْرُ 15 ۭ
هذا ( ذَاكَ ذلك)
وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال :
هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
ترکیب : الامن استثناء متصل ای ماتفرقوافی وقت من ما الاوقت مجئی العلم بغیا موصوف بینہم صفۃ وانتصابہ علی انہ مفعول لاجلہ کمایقال قعدت عن الحرب جبناً ولولاشرط سبقت صفۃ لکلمۃ لقضی جواب الشرط لفی شک خبران فلذلک الاشارۃ الی الکتاب اوالعلم فاللام فی موضع الی وصلۃ ادع مذکورۃ صریحا۔
تفسیر : شبہ ہوتا تھا کہ جب تمام انبیاء کو اقامت دین کا متفق بنا کر حکم دیا گیا پھر ان اصول میں کیوں اختلاف پڑا ؟ یہودونصاریٰ مجوس وغیرہ مختلف فرقے پیدا ہوگئے اس کے جواب میں فرماتا ہے وماتفرقوا کہ یہ آپس کی ضد سے لوگوں نے جان بوجھ کر اختلاف ڈالا ہے یہود نے کہا ہم عیٰسی (علیہ السلام) کو کیوں مانیں اور عیسائیوں نے کہا ہم محمد…
Read the full tafseer →فَلِذٰلِکَ فَادْعُ ج وَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ ج وَلاَ تَتَّبِعْ اَھْوَآئَ ھُمْ ج وَقُلْ اٰمَنْتُ بِمَآ اُنْزَلَ اللّٰہُ مِنْ کِتٰبٍ ج وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَـکُمْ ط اَللّٰہُ رَبُّـنَا وَرَبُّـکُمْ ط لَـنَـآ اَعْمَالُـنَا وَلَـکُمْ اَعْمَالُـکُمْ ط لاَحُجَّۃَ بَیْنَنَا وَبَیْنَـکُمْ ط اَللّٰہُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا ج وَاِلَیْہِ الْمَصِیْرُ ۔ (الشوری : 15)
(پس آپ اسی دین کی دعوت دیں اور اس پر جمے رہیں جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے اور ان کی خواہشات کا اتباع نہ کریں اور ان سے کہہ دیجیے کہ اللہ نے جو کتاب اتاری ہے میں اس پر ایمان لایا ہوں، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : پہلی امتوں کے لوگ حسد وبغض کی وجہ سے تفرقہ بازی کا شکار ہوئے۔ جس کے نتیجہ میں اللہ کا دین تقسیم ہوا اور لوگ دین کے بارے میں شک کا شکار ہوگئے۔ افتراق اور شک سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان دین پر پکا رہے۔
دین پر پکا رہنے اور اس میں شک وشبہ سے بچنے کے لیے یہاں چار باتوں کا حکم دیا گیا ہے۔ مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر باربار نبی اکرم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے حکم ہوا ہے کہ آپ کو ان باتوں پر ہر حال میں توجہ دینا اور ان پر قائم رہنا ہوگا۔
1 قرآن مجید اور پہلی کتابوں پر ایمان لانا۔ 2 حالات جیسے بھی ہوں دین پر استقامت اختیار کرنا۔ 3 لوگوں کی خواہشات کی پیروی سے اجتناب کرنا۔ 4 حالات کی…
Read the full tafseer →15: فَلِذٰلِکَ فَادْعُ (پس آپ اسی طرف بلاتے جائیں) لذلک لام اجلیہ ہے اس تفرق کی بناء پر اور اس بناء پر جو کہ پیش آیا کہ کفر مختلف گروہوں میں بٹا ہوا ہے۔ آپ ان کو اتفاق و الفت کی طرف ملت حنیفیہ کے مطابق دعوت دیتے رہیں۔ وَاسْتَقِمْ (اور مستقیم رہیں) اس پر اور اس کی طرف دعوت دینے پر کَمَآ اُمِرْتَ (جس طرح آپ کو حکم ہوا) جیسا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے۔ وَلَا تَتَّبِعْ اَھْوَآ ئَ ھُمْ (اور ان کی خواہشات پر نہ چلیں) جو کہ مختلف اور باطل ہیں۔ وَقُلْ اٰمَنْتُ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنْ کِتٰبٍ (اور کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی کتابیں نازل فرمائی ہیں) یعنی وہ کتابیں جن کے متعلق پختہ یقین ہے کہ…
Read the full tafseer →14، وما تفرقوا، یعنی مختلف ادیان کے لوگوں نے۔ اور ابن عباس ؓ فرماتے یعنی اہل کتاب جیسا کہ ، سورة المنفکین، میں ذکرکیاگیا ہے۔ ، وما تفرق الذین اوتوا الکتاب، الایہ ۔ ، الامن بعد ماجاء ھم العلم ، اس بات کا کہ فرقت گمراہی ہے لیکن پھر بھی انہوں نے یہ کام کیا۔ ، بغیا بینھم ، م سرکشی کی وجہ سے۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی محمد ﷺ پر سرکشی کرتے ہوئے۔ ، ولولاکلمۃ سبت من ربک، ان سے عذاب کو مؤ خر کرنے میں۔ ، الی اجل مسمی، اور وہ قیامت کا دن ہے۔ ، لقضی بینھم، ایمان لانے والوں اور کافروں کے درمیان یعنی دنیا میں مکذبین پر عذاب اتاردیاجاتا ۔
، وان الذین اور ثوا الکتاب، یعنی یہودونصاری۔ ، من بعد ھم، ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
13۔ 15۔ اگرچہ انبیائے اولوالعزم کی تعداد میں علماء مفسرین نے اختلاف کیا ہے لیکن امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس اور ان کے مشہور شاگرد مجاہد کا قول یہی ہے کہ اولوالعزم یہی پانچ نبی ہیں جن کے نام اس آیت میں اور سورة احزاب میں آئے ہیں اوپر یہ تو گزر چکا ہے کہ تفسیر کے باب میں حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول صحابہ میں اور مجاہد کا قول تابعیوں میں بڑا معتبر ہے اس لئے یہی قول اختلاف کے رفع کرنے کے لئے کافی ہے اولوالعزم کے معنی صاحب ہمت کے ہیں ان انبیا کے زمانہ میں بت پرستی کا زور تھا اس لئے ان انبیاء کو بت پرستوں سے بڑی ہمت کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑا اسی واسطے ان پانچ نبیوں کو اولوالعزم کہتے ہیں وصیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
آیت 14
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنے دین پر مجتمع رہنے کا حکم دیا اور تفرقہ سے منع کیا، اس کے بعد انہیں خبردار کیا کہ وہ اس بات پر غرور نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر کتاب نازل فرمائی کیونکہ اہل کتاب نے کتاب نازل ہونے کے بعد جو اجتماع و اتحاد کی موجب تھی، ایک دوسرے سے اختلاف کیا، لہٰذا ان کا عمل کتاب اللہ کے حکم کے خلاف تھا اور یہ سب کچھ ان کی طرف سے بغاوت اور عدوان کی وجہ سے صادر ہوا کیونکہ انہوں نے آپس میں بغض، کینہ اور حسد کا رویہ رکھا جس سے ان کے درمیان عداوت پیدا ہوئی اور اس طرح اختلاف پیدا ہوا۔ اے مسلمانو ! ان جیسا رویہ اختیار کرنے سے بچو۔
(ولولا کلمۃ سبقت من ربک) ” اور اگر تمہارے رب…
Read the full tafseer →40 دعوت حق پر استمرار کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا " پس آپ ﷺ بلاتے رہیں اسی ۔ دین حق ۔ کی طرف "۔ یعنی جب باہمی ضد وعناد کی وجہ سے یہ لوگ حق سے محروم ہو کر دارین کے خسارے میں مبتلا ہوئے تو آپ اسی دین حق کی دعوت دیتے رہیں تاکہ جن کے نصیب میں ہو وہ حق سے سرشار و بہرہ ور ہو سکیں۔ اس لیے آپ اسی دین حق کی طرف دعوت دیتے رہیں کہ یہی دین تمام انبیاء و رسل کا دین ہے۔ اور یہی دین دارین کی سعادت و سرخروئی کا کفیل ہے۔ اور یہی دین دین حق اور دین فطرت ہے۔ سو اس میں پیغمبر کو راہ حق پر استقامت کی تعلیم و تلقین ہے اور آپ کے توسط سے آپ کی امت کے ہر داعی حق کے لیے یہی تعلیم و تلقین ہے کہ دعوت حق پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
اللہ کا غلبہ، قدرت، دانائی اور رحم و کرم سب سے زیادہ ہے
تشریح : پہلی اور دوسری آیات میں حروف مقطعات ہیں۔ اس کے بعد رب ذوالجلال کی صفات کا ذکر ہے۔ توحید پر ایمان لانا انسان کے لیے بہترین راستہ ہے۔ کیونکہ یہی مبارک راستہ انسان کو زندگی کی تمام قباحتوں سے بچاتا ہے۔ انسان کو ایسانظام حیات عطا کرتا ہے کہ جس کی وجہ سے عبادات، اخلاقیات، معاملات، حقوق اور تعزیرات کا ایک بہترین نقشہ انسان کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ یہ نظام حیات انسان کو ظلم زیادتی، کفر و شرک، بےحیائی بد نظمی اور تمام غم، خوف اور پریشانیوں سے محفوظ کردیتا ہے۔ اسی لیے قرآن کو بہت بڑی رحمت اور اسلام کو سلامتی کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس پیغام کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
آیات 10 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
ان لوگوں سے کہیے کہ اگر انہیں توحید باری تعالیٰ میں اختلاف ہے تو اس کا فیصلہ اللہ کریم کے حوالے ہے جس نے دنیا میں دلائل معجزات سے واضح کردیا ہے اور آخرت میں ایمان والوں کو جنت میں اور کفار کو دوزخ میں داخل کردے گا اور جس کی یہ عظمت وشان ہے وہی میرا پروردگار ہے اور کفار سے جس بھی تکلیف کے پہنچنے کا اندیشہ ہوسکتا ہے اس کے لیے میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اپنی ہر ضرورت کے لیے اس کی طرف رجوع کرتا ہوں وہ کائنات کا رب ہے تمہارا بھی وہی ہے کہ زمین و آسمان کو بنانے والا وہی ہے اور تمہیں پیدا کیا اور پھر جوڑے بنایا کہ تمہاری نسل چلے۔ اسی طرح جانوروں کو پیدا کرکے جوڑے…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی انہیں خوش کرنے کے لئے دین میں کسی قسم کی مداہنت نہ کیجئے۔
4 یعنی تمہارے ہر نبی اور ہر کتاب کو مانوں، یا تمہارے مقدمات میں انصاف سے فیصلہ کروں یا تم سب کو ایک نظر سے دیکھوں۔ صحیح کو صحیح اور غلط اور غلط قرار دوں، خواہ کہنے والا کوئی ہو۔
5 یعنی جھگڑا کرنے کی ضرورت نہیں۔ جو بات حق تھی وہ ہم نے واضح کردی اور تم سے سن لی۔ اب ماننا یا نہ ماننا تمہارا کام ہے۔
6 وہاں پورا انصاف ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →(42:15) فلذلک فادع :سببیہ ہے لام علت کے لئے ہے ذلک اسم اشارہ اس کا مشار الیہ منکرین سابقین کا دین کی پیروی میں باہمی رفاقت کی وجہ سے فرقوں میں بٹ جانا اور مابعد کے اہل کتاب کا اپنی ہی کتابوں میں شک و تردد میں پڑجانا ہے۔ پس ان حالات کے پیش نظر ادع تو (ان کو) بلا۔ دعوت دے۔ ادع امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ دعوۃ (باب نصر) مصدر۔ خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے ای ادع علی الاتفاق علی الملۃ الحنفیۃ۔
واستقم : واؤ عاطفہ۔ استقم امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ استقامۃ (استفعال) مصدر۔ تو قائم رہ۔ تو ثابت قدم رہ۔ قوم مادہ۔ ای استقم علی الدعوۃ الی الدین۔
کما امرت : ک تشبیہ کا ہے امرت ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
لغات القرآن آیت نمبر 13 تا 15 : شرع (اس نے مقرر کیا) کبر ( گراں گزرا ، ناگوار لگا) وصی ( وصیت کی) یجتبی ( وہ چن لیتا ہے) بغیا ( ضد ، ہٹ دھرمی) سبقت (گزر گئی ( جو پہلے ہوچکا) اور ثوا ( وارث بنائے گئے) مریب (شک میں ڈالنے والا) اعدل ( میں انصاف کرتا ہوں) حجۃ ( دلیل ، وجہ)
تشریح : آیت نمبر 13 تا 15 :
اس پوری کائنات اور اس کے ذرے ذرے کا خالق ومالک اللہ ہے جس نے اپنے پاکیزہ نفوس پیغمبروں کے ذریعہ دنیا میں زندگی گزارنے کے تمام طریقے ، قاعدے ، قانون اور ضابطے بھیجے ہیں تا کہ ہر ایک کی دنیا اور آخرت دونوں بہتر ہوجائیں ۔ چناچہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک ہر زمانے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ اللہ کے دین اور اس کی کتاب اور اس کی باتوں کی سچائی جب علانیہ ظاہرہوچ کی حتی کہ بہت سے سمجھدار لوگ اس کو قبول کرچکے اور بہتیرے قبول نہ کرنے کے باوجود ان کی سچائی کا اقرار کرنے لگے، اس قدرظہور وضوح حق کے بعد جو لوگ خوامخواہ جھگڑے ڈالتے ہیں یا مسلمانوں سے الجھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کا غصہ ہے اور یہ لوگ قیامت کے دن سخت عذاب کے لائق ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
[11] یعنی بعد اس کے کہ بہت سے لوگ مسلمان ہو کر اسے مان چکے۔ جو لوگ اسلام قبول کرتے تو یہود و نصاریٰ ان کے دلوں میں شبہ ڈال کر ان کو بہکاتے۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →پیغمبر کا استقلال
ارشاد ہے کہ ان لوگوں کی محرومی اور مخالفت کی وجہ سے آپ کے پیغمبرانہ عزائم میں کوئی کمزوری نہیں پیدا ہونی چاہیے ۔ آپ بدستور اللہ کی طرف ان کو بلاتے رہیے ۔ ایسا نہ ہو ۔ کہ آپ کے پائے استقلال میں ذرہ بھی لغزش پیدا ہوجائے ۔ آپ ان کے جذبات اور خیالات کی پرکاہ برابر بھی پرواہ نہ کریں ۔ بس یہی کہتے جائیے ۔ کہ میرا ایمان تو اللہ کی کتاب پر ہے ۔ میں اسی کو مانتا ہوں اور مکلف ومامور ہوں ۔ کہ اسی کی روشنی میں تمہارے درمیان عادلانہ طرز عمل اختیار کروں ۔ اللہ یہ ہمارا تمہارا پروردگار ہے ہم اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں اور تم اپنے اعمال کے ۔ اور اصولاً تم میں اہم میں کوئی جھگڑا نہیں ۔ اللہ…
Read the full tafseer →(15) پس اے پیغمبر آپ لوگوں کو اسی دین کی دعوت اور بلاوا دیتے رہیے اور آپ خود بھی جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے اسی پر قائم رہیے اور آپ ان منکروں کو خواہشات فاسدہ پر نہ چلئے اور ان سے کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی کتابیں نازل فرمائی ہیں میں ان سب پر یقین اور ایمان رکھتا ہوں اور نیز مجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان نصاف کروں اللہ تعالیٰ ہی ہمارا پروردگار ہے اور وہی تمہارا پروردگار ہے ہمارے عمل ہم کو ملنے ہیں اور ہمارے عمل ہمارے لئے ہیں اور تمہارا کیا تم کو ملنا ہے اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں ہمارے تمہارے درمیان کوئی جھگڑا اور بحث نہیں ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو جمع کرے گا اور اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
ف 9۔ مراد اس دین سے اصول دین ہیں جو مشترک ہیں تمام شرائع میں مثل توحید و رسالت و بعث وغیرہ۔
(فائدہ) قائم رکھنا یہ کہ اس کو تبدیل مت کرنا، اس کو ترک مت کرنا، اور تفرق یہ کہ کسی پر ایمان نہ لاویں، یا کوئی ایمان لاوے کوئی نہ لاوے، حاصل یہ کہ توحید وغیرہ دین قدیم ہی کے اول سے اس وقت تک تمام شرائع اس میں متفق رہی ہیں اور اس کے ضمن میں نبوت کی بھی تائید ہوگئی، پس چاہئے تھا کہ اس کو قبول کرنے میں لوگوں کو ذرا پس و پیش نہ ہوتا۔
1۔ یعنی دین حق کو قبول کرنے کی توفیق دے دیتا ہے۔
2۔ مشیت کے بعد اجتباء ہوتا ہے اور اجتباء یعنی توفیق ایمان کے بعد اگر انابت و اطاعت ہو تو اس پر قرب الہی وثواب غیر متناہی مرتب…
Read the full tafseer →نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے ذریعے سے امت کے لیے خاص احکامات
15 ؎ زیر نظر آیت ان نظریات کریمات میں سے ہے جن میں بہت سے احکامات ایک ہی جگہ بیان کردیئے گئے ہیں اور ہر حکم ایک دوسرے سے بالکل جدا اور واضح ہے ہم اس جگہ ہر حکم کو علیحدہ علیحدہ بیان کریں گے تاکہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجائے اور یہ بھی کہ ان احکامات کی پابندی کرنے میں ہم کو مدد مل سکے۔ وہ احکامات درج ذیل ہیں :
1۔ { فلذلک فادع } پس اس طرح آپ ﷺ دعوت دیتے رہیں۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے ہدایت خاص کے طور پر کہا جا رہا ہے کہ جس دین کی دعوت سرے نبی ور سول دیتے رہے اور جس طرح انہوں نے دعوت دی آپ ﷺ بھی اسی طرح اس دعوت کو جاری رکھیں اور آپ ﷺ…
Read the full tafseer →فَلِذَٰلِكَ فَادْعُ ۖ وَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ ۖ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ ۖ وَقُلْ آمَنتُ بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ مِن كِتَابٍ ۖ وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ ۖ اللَّـهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ ۖ لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ ۖ لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ ۖ اللَّـهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا ۖ وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ
"So, (0 prophet,) towards that (faith) invite (people), and be steadfast as you are commanded, and do not follow their desires, and say, "I believe in whatever book Allah has sent down. And I have been ordered to do justice among you. Allah is our Lord and…
Read the full tafseer →26 That is, "Do not make any change nor effect any increase or decrease in this religion only to please them. Do not resort to any compromises with the misguided people on the principle of "give and take": Do not make any room in the Religion for their whims, prejudices and practices of ignorance in the hope that they would embrace Islam. Let the one who wants to accept, accept the original, pure Religion of God, as sent down by Him, straight forwardly; otherwise let him go and enter any hell that he chooses for himself. The Religion of God cannot be changed for the sake of the people; if the…
Read the full tafseer →