Ash-Shura 42:16

Ash-Shura · from ayah 16

42:16

وَالَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّلَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ ۟وَالَّذِيۡنَ يُحَآجُّوۡنَ فِى اللّٰهِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا اسۡتُجِيۡبَ لَهٗ حُجَّتُهُمۡ دَاحِضَةٌ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ وَعَلَيۡهِمۡ غَضَبٌ وَّلَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ

اور جو لوگ خدا (کے بارے) میں بعد اس کے کہ اسے (مومنوں نے) مان لیا ہو جھگڑتے ہیں ان کے پروردگار کے نزدیک ان کا جھگڑا لغو ہے۔ اور ان پر (خدا کا) غضب اور ان کے لئے سخت عذاب ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And those who argue concerning Allah after He has been responded to - their argument is invalid with their Lord, and upon them is [His] wrath, and for them is a severe punishment.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 2 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shura

All translations of 42:16

اللہ کی دعوت پر لبیک کہے جانے کے بعد جو لوگ (لبیک کہنے والوں سے) اللہ کے دین کے معاملہ میں جھگڑے کرتے ہیں، اُن کی حجت بازی اُن کے رب کے نزدیک باطل ہے، اور اُن پر اس کا غضب ہے اور اُن کے لیے سخت عذاب ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو لوگ خدا (کے بارے) میں بعد اس کے کہ اسے (مومنوں نے) مان لیا ہو جھگڑتے ہیں ان کے پروردگار کے نزدیک ان کا جھگڑا لغو ہے۔ اور ان پر (خدا کا) غضب اور ان کے لئے سخت عذاب ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی باتوں میں جھگڑا ڈالتے ہیں اس کے بعد کہ (مخلوق) اسے مان چکی ان کی کٹ حجتی اللہ کے نزدیک باطل ہے، اور ان پر غضب ہے اور ان کے لیے سخت عذاب ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو لوگ اللہ کے بارے میں بحثیں نکالتے ہیں جبکہ لوگ اس کی بات مان چکے ہیں، ان کی بحث ان کے پروردگار کے نزدیک باطل ہے، اور ان پر (اللہ کا) غضب ہے، اور ان کے لیے سخت عذاب ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں بعد اس کے کہ مسلمان اس کی دعوت قبول کرچکے ہیں ان کی دلیل محض بے ثبات ہے ان کے رب کے پاس اور ان پر غضب ہے اور ان کے لیے سخت عذاب ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو لوگ اللہ (کے دین کے بارے) میں جھگڑتے ہیں بعد اِس کے کہ اسے قبول کر لیا گیا اُن کی بحث و تکرار اُن کے رب کے نزدیک باطل ہے اور اُن پر (اللہ کا) غضب ہے اور اُن کے لئے سخت عذاب ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جو لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں، اس کے بعد کہ اس کی دعوت قبول کرلی گئی، ان کی دلیل ان کے رب کے نزدیک باطل ہے اور ان پر بڑا غضب ہے اور ان کے لیے بہت سخت سزا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو لوگ اللہ (کی ہستی) کو تسلیم کر لئے جانے کے بعد اس کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں ان کی حجت ان کے پروردگار کے ہاں باطل ہے ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لئے سخت عذاب ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو لوگ اللہ کے باب میں حجت کر رہے ہیں بعد اس کے کہ اس کو مانا جا چکا ہے، ان کی حجت ان کے رب کے آگے بالکل پسپا ہے اور ان پر غضب اور ان کے لئے عذاب شدید ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جو لوگ جھگڑے کرتے ہیں اللہ (کے دین) کے بارے میں اس کے بعد کہ اس کو قبول کرلیا گیا تو ان کی حجت بازی باطل ہے ان کے رب کے نزدیک ان پر اس کا بھاری غضب ہے اور ان کے لئے بڑا ہی سخت عذاب ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو لوگ اللہ کے باب میں جھگڑے نکالتے ہیں بعد اس کے کہ اس کو مان لیا گیا ان کی حجت ان کے پروردگار کے نزدیک باطل ہے اور ان پر غضب (نازل ہونے والا) ہے اور ان کے لئے عذاب سخت ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ لوگ جو اللہ کے بارے میں حجت بازی میں لگے رہے اس کے بعد کہ اس کی دعوت پر لبیک کہہ دی گئی ہے ان کی حجت بازی ان کے رب کے نزدیک بالکل پسپا ہے اور ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لیے بہت سخت عذاب بھی ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو لوگ اللہ کے بارے میں اس کے بعد کہ مومنوں نے اس کو مان لیا ہے جھگڑتے ہیں تو ان کے رب کے نزدیک ان کا جھگڑا لغو ہے۔ ان پر اللہ کا غضب اور ان کے لیے سخت عذاب ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Those who contend concerning Allah (after His call has been responded to), their contention is absolutely void in the sight of their Lord. Allah's wrath is upon them and a grievous chastisement awaits them.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Those who argue about Allah after He has been responded to, 5 their argument is void in the sight of their Lord, and upon them is wrath, and for them is a severe punishment.

— Muhammad Taqi Usmani

Those who argue about Allah after He has been responded to, 5 their argument is void in the sight of their Lord, and upon them is wrath, and for them is a severe punishment.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And those who dispute concerning Allah, after it has been accepted, of no use is their dispute before their Lord and on them is wrath, and for them will be a severe torment.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And those who argue concerning Allah after He hath been acknowledged, their argument hath no weight with their Lord, and wrath is upon them and theirs will be an awful doom.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And those who argue concerning Allah after He has been responded to - their argument is invalid with their Lord, and upon them is [His] wrath, and for them is a severe punishment.

— Saheeh International

The disputes of those who quarrel about God, after pledging obedience to Him, will be void in the eyes of their Lord. Such people will be subject to His wrath and will suffer a severe torment.

— Muhammad Sarwar

And (as for) those who dispute about Allah after that obedience has been rendered to Him, their plea is null with their Lord, and upon them is wrath, and for them is severe punishment.

— Muhammad Habib Shakir

And those who contend respecting the religion of Allah after it hath been acknowledged, their contention is void in the sight of their Lord, and upon them shall befall wrath, and theirs shall be a severe torment.

— Abdul Majid Daryabadi

But those who dispute concerning Allah after He has been accepted,- futile is their dispute in the Sight of their Lord: on them will be a Penalty terrible.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 42:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 16–18

منکرین قیامت کے لئے وعیدیں اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو ایمان داروں سے فضول حجتیں کیا کرتے ہیں، انہیں راہ ہدایت سے بہکانا چاہتے ہیں اور اللہ کے دین میں اختلاف پیدا کرتے ہیں۔ ان کی حجت باطل ہے ان پر رب غضبناک ہے۔ اور انہیں قیامت کے روز سخت اور ناقابل برداشت مار ماری جائے گی۔ ان کی طمع پوری ہونی یعنی مسلمانوں میں پھر دوبارہ جاہلیت کی خو بو آنا محال ہے ٹھیک اسی طرح یہود و نصارٰی کا بھی یہ جادو نہیں چلنے دے گا۔ ناممکن ہے کہ مسلمان ان کے موجودہ دین کو اپنے سچے اچھے اصل اور بےکھرے دین پر ترجیح دیں۔ اور اس دین کو لیں جس میں جھوٹ ملا ہوا ہے جو محرف و مبدل ہے۔ پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّوْرٰی 31 یہ اشارہ ہے اس صورت حال کی طرف جو مکہ میں اس وقت آئے دن پیش آ رہی تھی۔ جہاں کسی کے متعلق لوگوں کو معلوم ہوجاتا کہ وہ مسلمان ہوگیا ہے، ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑجاتے، مدتوں اس کی جان ضیق میں کیے رکھتے، نہ گھر میں اسے چین لینے دیا جاتا نہ محلے اور برادری میں، جہاں بھی وہ جاتا ایک نہ ختم ہونے والی بحث چھڑ جاتی جس کا مدعا یہ ہوتا کہ کسی طرح وہ محمد ﷺ کا ساتھ چھوڑ کر اسی جاہلیت میں پلٹ آئے جس سے وہ نکلا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور جو لوگ اللہ تعالیٰ (کے دین) کے بارے میں (مسلمانوں سے) جھگڑے نکالتے ہیں۔ بعد اس کے کہ وہ مان لیا گیا (یعنی بہت سے سمجھدار ذی عقل آدمی مسلمان ہو کر اس کو مان چکے ہیں۔ اور حجت واضح ہوجانے کے بعد مجادلہ اور زیادہ مذموم ہے سو) ان لوگوں کی حجت ان کے رب کے نزدیک باطل ہے اور ان پر (خدا کی طرف سے) غضب (آنے والا) ہے اور ان کے لئے (قیامت میں) سخت عذاب (ہونے والا) ہے (اور اس سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ اللہ کو اور اس کے دین کو مانو، یعنی اس کی کتاب جو حقوق اللہ اور حقوق العباد سب پر حاوی ہے اس کو واجب العمل جانو کیونکہ) اللہ ہی ہے جس نے (اس) کتاب (یعنی قرآن) کو حق کے ساتھ اور (اس میں جو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

والذین یعآجون فی اللہ من بعد ما استجیب لہ حجتھم دا حضۃ عند ربھم وعلیکم غضب ولھم عذاب شدید (16) ’ محاجۃ کے معنی مجادلہ اور کٹ حجتی کرنے کے ہیں اور فی اللہ میں مضاف محدوف ہے یعنی فی توحید اللہ، اس لئے کہ جھگڑا جن سے بھی تھا اللہ کے باب میں نہیں بلکہ اس کی توحید ہی کے باب میں تھا۔ اہل کتاب تو درکنار مشرکین عرب بھی خدا کے منکر نہیں تھے۔ لیکن خدا کو شرک کے ساتھ ماننا دین میں معتبر نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ اس کی توحید کے ساتھ اس پر ایمان لایا جائے گا اگر کوئی توحید کے معاملہ میں جھگڑتا ہے تو وہ گویا خدا ہی کے باب میں جھگڑتا ہے اور اسی کی نفی کر رہا ہے۔ من بعد ما استجیب لہ کا مفہوم کم و بیش وہی ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

16۔ 1 یعنی یہ مشرکین مسلمانوں سے لڑتے جھگڑتے ہیں، جنہوں نے اللہ اور رسول کی بات مان لی، تاکہ انہیں پھر راہ ہدایت سے ہٹا دیں۔ یا مراد یہود انصاریٰ ہیں جو مسلمانوں سے جھگڑتے تھے اور کہتے تھے کہ ہمارا دین تمہارے دین سے بہتر ہے اور ہمارا نبی بھی تمہارے نبی سے پہلے ہوا ہے، اس لئے ہم تم سے بہتر ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 14–19

3: پہلے سے طے شدہ بات یہ تھی کہ ان لوگوں کو ایک دم کسی عذاب سے ہلاک نہیں کیا جائے گا، بلکہ مہلت دی جائے گی جس میں اگر یہ چاہیں تو ایمان لاسکیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 13–16

آیت نمبر 13 تا 16 کذلک یوحی الیک والی الذین من قبلک اللہ العزیز الحکیم (42 : 3) “ اسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف وحی کرتا رہا ہے ”۔ یہ ایک اجمالی اشارہ تھا کہ وحی الٰہی کا سرچشمہ ایک ہے ۔ اور اس وحی نے جو نظام پیش کیا ہے ، یہ وہی ہے جو سابقہ رسولوں نے پیش کیا تھا ، اور اس وحی کا رخ بھی اسی طرف ہے جس طرف سابقہ انبیاء کا تھا۔ اب اس اشارے کی تفصیلات دی جارہی ہیں کہ اللہ نے مسلمانوں کے لئے جو نظام زندگی اور جو شریعت وضع کی ہے ، وہ عمومی اصولوں میں وہی ہے جو حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کو دی گئی تھی۔ سب کو حکم دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی اللہ کے دین، اس کی کتاب، اور اس کی باتوں کی سچائی جب اعلانیہ ظاہر ہوچکی، حتی کہ بہت سے سمجھدار لوگ اس کو قبول کرچکے اور بہترے قبول نہ کرنے کے باوجود ان کی سچائی کا اقرار کرنے لگے۔ اس قدر ظہور و ضوع حق کے بعد جو لوگ خواہ مخواہ جھگڑے ڈالتے یا ماننے والوں سے الجھتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے غضب اور سخت عذاب کے مستوجب ہیں اور ان کے سب جھگڑے جھوٹے اور سب بحثیں باطل ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 16{ وَالَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰہِ مِنْم بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَہٗ } ”اور وہ لوگ جو اللہ کے بارے میں حجت بازی میں لگے رہے ‘ اس کے بعد کہ اس کی دعوت پر لبیک کہہ دی گئی ہے“ یعنی اَلسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ تو روز اوّل ہی سے استقامت کے پہاڑ بنے کھڑے ہیں اور اب تو انتظار ہے وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍ کے قافلے کا کہ ہر طرف سے لوگ جوق درجوق اور فوج در فوج دین میں داخل ہوں۔ لیکن جو لوگ اب بھی ٹس سے مس نہیں ہو رہے اور ہٹ دھرمی کی اپنی پرانی مسندیں سنبھالے حجت بازی کیے جا رہے ہیں : { حُجَّتُھُمْ دَاحِضَۃٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ } ”ان کی حجت بازی ان کے رب کے نزدیک بالکل پسپا ہے“ {…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

25 دحض کا لغوی مفہوم :۔ اس آیت میں حُجَّۃٌ کے بجائے دَاحِضَۃٌ کا لفظ استعمال ہوا ہے اور دحض کے مفہوم میں تین باتیں پائی جاتی ہیں۔ (1) پھسلنا، (2) کمزور ہونا اور (3) زائل ہوجانا، اور یہ دحض الرجل سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں کہ پاؤں نے ٹھوکر کھائی اور اپنی جگہ سے پھسل گیا اور داحِضَۃٌ کے معنی میں ایسی دلیل ہے جو حق کے مقابلہ میں اپنے پاؤں پر قائم نہ رہ سکے، پھسل کر کمزور اور زائل ہوجائے، یعنی زائل ہوجانے والی اور بودی دلیل۔ مکہ میں اگر کوئی شخص مسلمان ہوجاتا تو اس کے مشرک دوست اور لواحقین ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑجاتے اور اس سے بحثیں اور لڑائی جھگڑے کر کر کے اسے زچ کردیتے اور اس بات پر مجبور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

21۔ فی اللہ یعنی اللہ کے دین و شریعت کے باب میں۔ (آیت) ” من بعد مااستجیب لہ “۔ لہ میں ضمیر اللہ یا اس کے دین کی طرف ہے۔ اے من بعد ما استجاب الناس للہ عزوجل اولدینہ ودخلوفیہ (روح) (آیت) ” حجتھم ...... ربھم “۔ اس بطلان حجت کا ظہور کامل حشر میں ہوگا۔ (آیت) ” یحآجون فی اللہ “۔ یعنی حق تعالیٰ کے دین حق کے باب میں جھگڑا مسلمانوں سے نکالتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” یحآجون ..... لہ “۔ فقہاء نے باشارۃ النص اس سے یہ نکلا ہے کہ اجماع امت کا انکار ضلالت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–19

آیت نمبر 10 تا 19 ترجمہ : اور جس چیز (یعنی) دین وغیرہ میں کفار کے ساتھ تمہارا اختلاف ہوا، اس کا فیصلہ قیامت کے دن اللہ ہی لوٹے گا، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا، آپ ان سے کہئے یہی اللہ میرا رب ہے، جس پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے، اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں، وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، اس نے تمہارے لئے تمہاری جنس کے جوڑے بنا دئیے ہیں، بایں طور کہ اس نے (حضرت) حواء کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا فرمایا اور چوپایوں کے نرو مادہ کے جوڑے بنائے (یَذْرَءُکُم ْ ) ذال معجمہ کے ساتھ (یعنی ذال کے ساتھ ہے نہ کہ دال کے ساتھ) اور یَذرَءُکُمْ بمعنی یَخْلُقُکُمْ ہے یعنی مذکورہ طریقہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والذین یحاجون فی اللہ من بعدما استجیب لہ حجتھم داحضۃ عندربھم وعلیھم غضب ولھم عذاب شدید اور جو لوگ اللہ کے (دین کے) معاملہ میں (مسلمانوں سے) جھگڑے نکالتے ہیں بعد اسکے کہ وہ (رسول اللہ ﷺ مان لئے گئے ‘ ان کی حجت ان کے رب کے نزدیک باطل ہے اور ان پر (ا اللہ کا) غضب (آنے والا) ہے ‘ اور ان کیلئے سخت عذاب ہے۔ وَالَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللہ یعنی اللہ کے دین میں جھگڑے نکالتے ہیں۔ عبدالرزاق نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ جھگڑا نکالنے والوں سے مراد ہیں یہودی اور عیسائی (یعنی اہل کتاب) انہوں نے کہا تھا : ہماری کتاب تمہاری کتاب سے پہلے اور ہمارا پیغمبر تمہارے پیغمبر سے ہے ‘ اسلئے ہم تم سے بہتر ہیں۔ یہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور یہود و نصاری جو دین خداوندی میں جھگڑے نکالتے ہیں بعد اس کے کہ وہ کتاب میں مان لیا گیا یا یہ کہ وہ مشرکین ہیں جو کہ اس میں جھگڑے نکالتے ہیں بعد اس کے کہ وہ میثاق کے دن تسلیم کرلیا گیا سو ان کی دشمنی غلط ہے ان پر اللہ کا غصہ اور سخت عذاب ہوگا۔ شان نزول : وَالَّذِيْنَ يُحَاۗجُّوْنَ فِي اللّٰهِ (الخ) ابن منذر نے عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ جس وقت اذا جاء نصر اللہ والفتح نازل ہوئی تو مشرکین نے مکہ مکرمہ میں ان مسلمانوں سے کہا جو وہاں متیم تھے کہ اللہ تعالیٰ کے دین میں جماعتوں کی شکل میں داخل ہورہے ہیں تو ہمارے دمیان سے نکلو پھر کیوں یہاں ٹھہرے ہوئے ہو اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی عینی جو لوگ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) والذین یحآجون فی اللہ من بعد …:”’ احضۃ“ ”’ حص یدحص دحضا ودخوضا (ف)”حضت الحجۃ“ دلیل باطل ہونا اور ”’ حضت الرجل“ پاؤں کا پھسل جانا۔ ”حجۃ“ کا معنی جھگڑا بھی ہے اور دلیل بھی۔ پچھلی آیت میں فرمایا :(لاحجۃ بیننا وبینکم) کہ ”ہمارے درمیان اور تمہارے دریمان کوئی جھگڑا نہیں، کیونکہ جو بات حق تھی وہ ہم نے تمہیں پہنچا دی، اب جھگڑے کا کوئی فائدہ نہیں، اس آیت میں فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کی بات قبول کرلی گی، اس کا حق ہونا واضح ہوگیا ، حتیٰ کہ بہت سے سمجھ دار لوگ اسے قبول کرچکے اور بہ سے دل میں تسلیم کرچکے ہیں تو لوگ اب بھی اللہ تعالیٰ کے بارے میں خواہ مخواہ جھگڑ رہے ہیں اور اپنے خیال میں بڑی مضبوط…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

والذین یحآجون فی اللہ من بعد ما استجیب لہ مشرکین کی طرف رجوع کیا۔ مجاہد نے کہا : لوگوں کے اسلام لانے کے بعد اللہ تعالیٰ کے دین میں حجت بازیاں کرتے ہیں۔ کہا : ان لوگوں نے وہم کیا کہ جاہلیت لوٹ آئے گی (3) قتادہ نے کہا : جو لوگ اللہ تعالیٰ کی دین کے بارے میں حجت بازیاں کرتے ہیں وہ یہودو نصاری ہیں (4) ان کی حجت بازی ان کا یہ قول تھا : ہمارا نبی تمہارے نبی سے پہلے ہے اور ہماری کتاب تمہاری کتاب سے پہلے ہے ‘ وہ اپنی فضیلت کا تصور رکھتے تھے کیونکہ وہ اہل کتاب تھے اور انبیاء کی اولاد ہیں مشرکین کہتے ہیں ای الفریقین خیر مقاما و احسن ندیا۔ (مریم) تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : والذین یحآجون فی اللہ من…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 15–16

1:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وامرت لاعدل بینکم “ (اور میں حکم دیا گیا ہوں کہ تمہارے درمیان انصاف کروں) اللہ کے نبی ﷺ کو حکم دیا گیا کہ عدل کریں تو آپ نے (ہر معاملہ میں) عدل کیا۔ یہاں تک کہ آپ کی وفات ہوگئی اور عدل کرنا زمین میں اللہ کا ترازو ہے اس کے ذریعہ ظالم سے مظلوم کے لئے بدلہ لیا جاتا ہے اور طاقتور سے کمزور کیلئے اور اسی عدل کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سچ بولنے والے کی تصدیق فرماتے ہیں اور جھوٹ بولنے والے کی تکذیب فرماتے ہیں اور اسی عدل کے ذریعہ حد سے تجاوز کرنے والے کو غلط قرار دینا ہے اور جھڑکنا ہے۔ 2:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالَّذِيْنَ يُحَاۗجُّوْنَ [ اور جو لوگ دلیل بازی کرتے ہیں ] فِي اللّٰهِ [ اللہ (کے بارے ) میں ] مِنْۢ بَعْدِ مَا [ اس کے بعد کہ جو ] اسْتُجِيْبَ [ مان لیا گیا ] لَهٗ [ اس کو ] حُجَّــتُهُمْ [ ان کی دلیل ] دَاحِضَةٌ [ رد ہونے والی ہے ] عِنْدَ رَبِّهِمْ [ ان کے رب کے پاس ] وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ [ اور ان پر ایک غضب ہے ] وَّلَهُمْ [ اور ان کے لئے ] عَذَابٌ شَدِيْدٌ [ ایک شدید عذاب ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

معاندین کی دلیل باطل ہے ﴿وَ الَّذِيْنَ يُحَآجُّوْنَ فِي اللّٰهِ﴾ (الآیۃ) اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑتے ہیں یعنی اس کے بھیجے ہوئے دین کو قبول کرنے میں حجت بازی کر رہے ہیں حالانکہ بہت سے عقل و فہم والے لوگوں نے اسے مان لیا ہے ان جھگڑا کرنے والوں کی دلیلیں باطل ہیں ان کی کوئی دلیل ایسی نہیں جو توحید کے خلاف عقیدہ رکھنے کو ثابت کردے اگرچہ اپنی جہالت سے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری دلیل کام دینے والی ہے لیکن جب بارگاہ خداوندی میں حاضر ہوں گے تو اس وقت پتہ چل جائے گا کہ ان کی دلیل باطل تھی اس پر باطل بھروسہ کیے رہے اور دنیا میں کفر و شرک پر جمے رہے اللہ تعالیٰ کا ان پر بڑا غصہ ہے اور قیامت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–16

مقصد وحید جملہ ادیان سماویہ توحید خداوندی و قیام عدل و انصاف : قال اللہ تعالیٰ : شرع لکم من الدین ...... الی ...... ولھم عذاب شدید “۔ (ربط) سورة شوری کی ابتداء حق تعالیٰ شانہ کی عظمت وکبریائی اور توحید کے بیان سے تھی، اسی کے ضمن میں وحی الہی کا اثبات تھا، اور کفر وشرک کا رد اور ابطال اب ان آیات میں ذکر فرمایا جارہا ہے اللہ رب العزت نے جس قدر بھی پیغمبر مبعوث فرمائے، حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) تک اور جتنے ادیان وشرائع مقرر فرمائے ان سب کا مقصد وحید صرف توحید خدا و ندی رہا، بلکہ جملہ ادیان کی بھی تعلیم تھی، اور ہر پیغمبر کی یہی ہدایت تھی، اب اسی تعلیم ہدایت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

16:۔ ” والذین یحاجون “ یہ ایک سوال کا جواب ہے کہ جب بعد کے لوگوں نے پہلے لوگوں کی تحریرات کو پڑھا اور گمراہ ہوگئے، تو کہ وہ اس معاملے میں معذور نہیں ہوں گے۔ فرمایا وہ معذور نہیں ہیں، ان کا یہ عذر اللہ کے نزدیک ساقط اور مردود ہے، فی اللہ ای فی توحید اللہ۔ ان کا یہ عذر قبول نہ ہونے کی دو دلیلیں بیان کی گئی ہیں۔ دلیل اول ” من بعد ما استجیب لہ “ اس مسئلے کو تو علماء اہل کتاب بھی مان چکے ہیں، مراد وہ علماء ہیں جو اسلام لا چکے تھے تو علماء و ثقات کا اسے مان لینا اس کے حق ہونے کی دلیل ہے، تو ان لوگوں نے ان باغیوں اور گمراہوں کی بات کیوں مانی، ان علماء ثقات کے نقش قدم پر کیوں نہیں چلے ؟ جب ان کے حق…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 16–19

ربط آیات گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت اور جزائے عمل اور خاص طور پر کتاب کا ذکر فرمایا اور اپنے پیغمبر کی زبان سے کہلوایا کہ میں اس پر ایمان لایا ۔ دراصل گزشتہ آیت میں اللہ نے دین کے دس اصول بیان فرمائے ہیں یعنی دعوت الی الدین ، استقامت علی الدین ، خواہشات کا عدم اتباع ، کتب سماویہ پر ایمان قیام عدل ، اللہ تعالیٰ کی ربوبیت ، اعمال کا بدلہ ، قیامت کا اجتماع اور رجوع الی اللہ عدم تنازعات اب ان آیا ت میں بھی کتاب الٰہی اور قیامت کا ذکر ہے اور اللہ تعالیٰ کی بعض صفات بیان کی گئی ہیں۔ دین کے خلاف کمزوری ارشاد ہوتا ہے والذین یحاجون فی اللہ من بعدی ما استجیب لہ اور وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْنَ يُحَاۗجُّوْنَ فِي اللہِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِيْبَ لَہٗ حُجَّــتُہُمْ دَاحِضَۃٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَعَلَيْہِمْ غَضَبٌ وَّلَہُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ۝ 16 حاجَّة : أن يطلب کلّ واحد أن يردّ الآخر عن حجّته ومحجّته، قال تعالی: وَحاجَّهُ قَوْمُهُ قالَ : أَتُحاجُّونِّي فِي اللَّهِ [ الأنعام/ 80] ، فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَكَ [ آل عمران/ 61] ، وقال تعالی: لِمَ تُحَاجُّونَ فِي إِبْراهِيمَ [ آل عمران/ 65] ، وقال تعالی: ها أَنْتُمْ هؤُلاءِ حاجَجْتُمْ فِيما لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَاجُّونَ فِيما لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ [ آل عمران/ 66] ، وقال تعالی: وَإِذْ يَتَحاجُّونَ فِي…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 14–16

ترکیب : الامن استثناء متصل ای ماتفرقوافی وقت من ما الاوقت مجئی العلم بغیا موصوف بینہم صفۃ وانتصابہ علی انہ مفعول لاجلہ کمایقال قعدت عن الحرب جبناً ولولاشرط سبقت صفۃ لکلمۃ لقضی جواب الشرط لفی شک خبران فلذلک الاشارۃ الی الکتاب اوالعلم فاللام فی موضع الی وصلۃ ادع مذکورۃ صریحا۔ تفسیر : شبہ ہوتا تھا کہ جب تمام انبیاء کو اقامت دین کا متفق بنا کر حکم دیا گیا پھر ان اصول میں کیوں اختلاف پڑا ؟ یہودونصاریٰ مجوس وغیرہ مختلف فرقے پیدا ہوگئے اس کے جواب میں فرماتا ہے وماتفرقوا کہ یہ آپس کی ضد سے لوگوں نے جان بوجھ کر اختلاف ڈالا ہے یہود نے کہا ہم عیٰسی (علیہ السلام) کو کیوں مانیں اور عیسائیوں نے کہا ہم محمد…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَالَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰہِ مِنْ م بَعْدِ مَااسْتُجِیْبَ لَـہٗ حُجَّتُھُمْ دَاحِضَۃٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَعَلَیْہِمْ غَضَبٌ وَّلَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ۔ (الشوری : 16) (اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے دین کے معاملے میں حجت کررہے ہیں، بعد اس کے کہ اس کو قبول کیا جاچکا ہے ان کی حجت ان کے رب کے پاس بالکل باطل ہے اور ان پر اس کا غضب ہے اور ان کے لیے سخت عذاب ہے۔ ) یُحَآجُّوْنَکا مصدر مُحَآجَّۃٌ ہے۔ اس کا معنی مجادلہ اور کٹ حجتی کرنا ہے۔ فِی اللّٰہِاس میں اللہ سے پہلے مضاف محذوف ہے۔ یعنی فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ یا فِیْ تَوْحِیدِاللّٰہِ ۔ کٹ حجتی اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں مکہ کا جب کوئی شخص آنحضرت ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : ” اللہ “ کی ذات اور آیات کے بارے میں جھگڑا کرنے والوں کی سزا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہر قسم کے دلائل دیتے ہوئے ثابت فرمایا ہے کہ وہ اپنی ذات، صفات اور اختیارات میں اکیلا ہے۔ زمین و آسمان میں کوئی ذات ایسی نہیں جو کسی اعتبار سے اس کی معاون اور شریک ہو۔ اتنی ٹھوس اور واضح بات ہونے کے باوجود کافر اپنے رب کی ذات کا انکار کرتے ہیں اور مشرک اس کی ذات، صفات اور اختیارات کے بارے میں اہل توحید کے ساتھ جھگڑا کرتے ہوئے لایعنی قسم کے دلائل دیتے ہیں۔ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ کفار اور مشرکین کے دلائل اس قدر بوسیدہ اور بےہودہ ہیں۔ جیسے کسی چیز کو پاؤں تلے مسل دیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مخاصمت یہود و نصاریٰ : 16: وَالَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰہِ (اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے متعلق جھگڑے نکالتے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ کے دین کے متعلق مخاصمت کرتے ہیں۔ مِنْم بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَہٗ (اس کے بعد کہ اس کو مان لیا گیا ہے) لوگوں نے قبول کرلیا اور وہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کو دین جاہلیت کی طرف واپس کردیں جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے ود کثیر من اھل الکتاب لو یردونکم من بعد ایمانکم کفارًا ] البقرۃ : 109[ یہود و نصاری مسلمانوں کو کہا کرتے تھے۔ ہماری کتابیں تمہاری کتاب سے پہلے کی ہیں۔ اور ہمارا پیغمبر تمہارے پیغمبر سے پہلے ہوا ہے پس ہم تم سے بہتر ہیں۔ اور حق کے زیادہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

15، فلذلک فادع، یعنی اس کی طرف جیسا کہ کہا جاتا ہے دعوت الی فلان ولفلان۔ یعنی میں نے فلاں اور فلاں کی طرف دعوت دی اور یہ اشارہ ہے اس کی طرف جو انبیاء (علیہم السلام) کو توحید کی وصیت کی گئی تھی۔ ، واستقم کما امرت ، یعنی اس دین پر ثابت قدم رہیں جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے ۔ ، ولا تتبع اھواء ھم وقل امنت بما انزل اللہ من کتاب، یعنی میں اللہ کی تمام کتابوں پر ایمان لاتاہوں۔ ، وامرت لاعدل بینکم ، اس کا کہ تمہارے درمیان انصاف کروں۔ ابن عباس ؓ عنہمافرماتے ہیں کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تم پر اللہ نے جو احکام فرض کیے ہیں اس سے زیادہ نہ کروں اور کہا گیا ہے کہ تاکہ میں تمہارے درمیان تمام حالات اور چیزوں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–22

16۔ 22۔ اوپر فرمایا تھا کہ جو حکم اللہ تعالیٰ نے سب انبیاء کو اور تم کو اللہ کی وحدانیت کے پھیلانے کا دیا ہے اے رسول اللہ کے اس کے موافق لوگوں کو نصیحت کرو ان آیتوں میں فرمایا جو لوگ اس نصیحت کے وقت اللہ کے حکم پر جھگڑا ڈالتے ہیں اور اتنا نہیں سمجھتے کہ ان کے بھائی بندوں اور قوم میں سے جس کسی نے اس نصیحت کو غور سے سنا وہ راہ راست پر آگیا اس لئے ایسے ضدی لوگوں کا جھگڑا کچھ التفات کے قابل نہیں ہے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کا غصہ ہے اور یہ لوگ قیامت کے دن سخت عذاب کے لائق ہیں۔ صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم میں نعمان بن بشیر سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سب سے کم عذاب والے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 16–17

آیت 16 یہ آیت اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (لاحجۃ بیننا وبینکم) (الشوری :15/32) کا بیان ہے۔ چناچہ یہاں آگاہ فرمایا : (الذین یحآجون فی اللہ) ” جو لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ “ یعنی باطل دلائل اور متناقض شبہات کے ذریعے سے۔ (من عبدما استجیب لہ) ” اس (اللہ یک ذات) کے تسلیم کئے جانے کے بعد “ یعنی اس کے بعد کہ جب عقل سے بہرہ مند لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی دعوت پر لبیک کہا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے قطعی دلائل اور روشن براہین بیان کردیئے تھے تو وہ لوگ جو حق کے واضح ہوجانے کے بعد حق کے ساتھ مجادلہ کرتے ہیں (حجتھم داحضۃ) ان کی حجت باطل اور ناقابل قبول ہے۔ (عند ربھم) ” ان کے رب کے نزدیک۔ “ کیونکہ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

47 اللہ کی توحید کے بارے میں کٹ حجتی کرنے والوں کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ جھگڑتے ہیں اللہ کے بارے میں "۔ یعنی اس کے دین حق اور اس کی توحید اور وحدانیت مطلقہ کے بارے میں تاکہ اس طرح وہ لوگوں کو راہ حق و ہدایت سے روک سکیں۔ اور جن گھٹا ٹوپ اندھیروں میں وہ خود ڈوبے ہوئے ہیں ان میں وہ دوسروں کو بھی غرق کردیں ۔ والعیاذ باللہ العزیز۔ " محاجۃ " کے معنیٰ " مجادلہ " اور کٹ حجتی کے آتے ہیں۔ اور { فی اللہ } میں یہاں پر " فی " کے بعد مضاف محذوف ہے ۔ ای فی توحید اللہ ۔ یعنی اللہ کی توحید کے بارے میں۔ کیونکہ مخالفین کا جھگڑا اصل میں اس وحدہ لاشریک کی توحید ہی میں تھا۔ ورنہ اس کے وجود باوجود…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–19

اللہ کا غلبہ، قدرت، دانائی اور رحم و کرم سب سے زیادہ ہے تشریح : پہلی اور دوسری آیات میں حروف مقطعات ہیں۔ اس کے بعد رب ذوالجلال کی صفات کا ذکر ہے۔ توحید پر ایمان لانا انسان کے لیے بہترین راستہ ہے۔ کیونکہ یہی مبارک راستہ انسان کو زندگی کی تمام قباحتوں سے بچاتا ہے۔ انسان کو ایسانظام حیات عطا کرتا ہے کہ جس کی وجہ سے عبادات، اخلاقیات، معاملات، حقوق اور تعزیرات کا ایک بہترین نقشہ انسان کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ یہ نظام حیات انسان کو ظلم زیادتی، کفر و شرک، بےحیائی بد نظمی اور تمام غم، خوف اور پریشانیوں سے محفوظ کردیتا ہے۔ اسی لیے قرآن کو بہت بڑی رحمت اور اسلام کو سلامتی کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس پیغام کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–19

آیات 10 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ ان لوگوں سے کہیے کہ اگر انہیں توحید باری تعالیٰ میں اختلاف ہے تو اس کا فیصلہ اللہ کریم کے حوالے ہے جس نے دنیا میں دلائل معجزات سے واضح کردیا ہے اور آخرت میں ایمان والوں کو جنت میں اور کفار کو دوزخ میں داخل کردے گا اور جس کی یہ عظمت وشان ہے وہی میرا پروردگار ہے اور کفار سے جس بھی تکلیف کے پہنچنے کا اندیشہ ہوسکتا ہے اس کے لیے میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اپنی ہر ضرورت کے لیے اس کی طرف رجوع کرتا ہوں وہ کائنات کا رب ہے تمہارا بھی وہی ہے کہ زمین و آسمان کو بنانے والا وہی ہے اور تمہیں پیدا کیا اور پھر جوڑے بنایا کہ تمہاری نسل چلے۔ اسی طرح جانوروں کو پیدا کرکے جوڑے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 اور جب خدا کو اس کے بندے مان چکے یعنی جب کہ اللہ کے دین اور اس کی کتاب کی صداقت واضح ہوچکی ہے حتیٰ کہ بہت سے تجربہ کار اور سمجھ دار لوگ اسے قبول کرچکے ہیں تو اس کے باوجود جو لوگ ایمان لانے والوں سے الجھتے جھگڑتے اور اس کو اللہ کے دین سے وکتے رہتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے غضب اور سخت عذاب کے مستحق ہیں۔ ان کے سب جھگڑے باطل اور تمام بحثیں واہی و لغو ہیں۔ ان جھگڑنے والوں سے مراد یا تو وہ مشرکین ہیں جو اسلام کا روز افزوں غلبہ دیکھنے کے باوجود یہ خیال کرتے تھ کہ شاید جاہلیت کا دور پھر پلٹ آئے۔ اور یا ان سے یہود و نصاری ہیں جو مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ ہمارا نبی مہراے نبی سے پہلے ہے اور اپنے آپ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(42:16) یحاجون : مضارع جمع مذکر غائب محاجۃ (مفاعلۃ) مصدر وہ جھگڑتے ہیں وہ جحت کرتے ہیں۔ وہ بحث کرتے ہیں۔ فی اللّٰہ۔ یعنی اللہ کے دین و شریعت کے باب میں ۔ یعنی جو لوگ اللہ کے باب (یعنی اس کے دین و شریعت کے باب میں) مسلمانوں سے جھگڑا کرتے رہتے ہیں۔ من بعد ما میں ما زائدہ ہے۔ تاکید کے لئے آیا ہے۔ استجیب لہ۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب استجابۃ (استفعال) قبول کرنا۔ مان لینا۔ اسے مان لیا گیا۔ اسے قبول کرلیا گیا۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع یا تو الدین ہے ۔ جس کی دعوت کے لئے رسول کریم ﷺ کو استقامت کے لئے حکم دیا گیا۔ یعنی بعد اس کے کہ لوگوں نے اس کی دعوۃ الی الدین قبول کرلی۔ یا رسول اللہ ﷺ کی ذات ہے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–19

لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 19 : استجیب ( قبول کیا گیا ، مان لیا گیا) داحضۃ ( غلط ، جھوٹ ، باطل) المیزان ( تولنے کی چیز، ترازو) مایدری (وہ نہیں جانتا) یستعجل ( وہ جلدی کرتا ہے) مشفقون ( ڈرنے والے) یمارون ( وہ جھگڑتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 26 تا 19 : اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قرآن حکیم ایک ایسی بر حق کتاب ہے اور غلط اور صحیح بات کو چھانٹ کر رکھ دینے والی ایک ایسی کسوٹی ہے جس کی عظمت اور عدل و انصاف کی تعلیم کے سامنے ہر شخص جھکنے پر مجبور ہے۔ جس کی عظمت دلوں میں بیٹھ چکی ہے اس لئے تم میں سے بہت سے خوش نصیب لوگوں نے اس سچائی کو قبول کرلیا ہے اور وہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی سعادت حاصل کرچکے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–16

(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ اللہ کے دین اور اس کی کتاب اور اس کی باتوں کی سچائی جب علانیہ ظاہرہوچ کی حتی کہ بہت سے سمجھدار لوگ اس کو قبول کرچکے اور بہتیرے قبول نہ کرنے کے باوجود ان کی سچائی کا اقرار کرنے لگے، اس قدرظہور وضوح حق کے بعد جو لوگ خوامخواہ جھگڑے ڈالتے ہیں یا مسلمانوں سے الجھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کا غصہ ہے اور یہ لوگ قیامت کے دن سخت عذاب کے لائق ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 15–16

[11] یعنی بعد اس کے کہ بہت سے لوگ مسلمان ہو کر اسے مان چکے۔ جو لوگ اسلام قبول کرتے تو یہود و نصاریٰ ان کے دلوں میں شبہ ڈال کر ان کو بہکاتے۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 16–18

حل لغات : ۔ داحضہ ۔ باطل المیزان ۔ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کو نازل فرمایا ہے اسی طرح اس کی صدقتوں کو تولنے کے لئے معیار مقرر فرمائے ہیں ۔ 2: اہل کتاب بھولے بھالے مسلمانوں سے کہتے تھے ۔ کہ کیوں نہ ہم اور تم ان انبیاء پر متفق ہوجائیں ۔ جن پر تمہارا بھی ایمان ہے اور حضور ﷺ کی نبوت کو جو مختلف فیہ ہے ۔ چھوڑ دیں ۔ اس کا جواب دیا ہے کہ جبکہ حضور ﷺ میں اور گزشتہ انبیاء میں کوئی فرق نہیں ۔ سب کے پیغام میں یکسانی اور وحدت ہے ۔ اور معجزات وخوارق بھی ان کی تائید میں تم دیکھ چکے ہو ۔ تو پھر کیوں نہ ان کی نبوت کو تسلیم کرلیا جائے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(16) اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے دین میں بعد اس کے کہ وہ دین لوگوں میں مقبول ہوچکا اور خلق میں مان لیا گیا مسلمانوں سے جھگڑے نکالتے ہیں اور کٹ حجتی کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کی کج بحثی اللہ تعالیٰ کے نزدیک باطل ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کا غضب واقع ہونے والا ہے اور آخرت میں ان کے لئے سخت عذاب ہے۔ یعنی لوگوں میں اللہ تعالیٰ کا دین مقبول ہوچکا پھر اس کے بعدجو لوگ مسلمانوں سے خواہ مخواہ کی کج بحثی کرتے ہیں اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کی کج بحثی اللہ تعالیٰ کے نزدیک باطل ہے ایسے لوگوں پر دنیا میں اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہونے والا ہے اور آخرت میں یہ سخت سزا کے مستحق…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 16–18

ف 3۔ یعنی بعد اس کے کہ بہت سے آدمی عقیل و فہیم مسلمان ہو کر اس کو مان چکے جس سے حجت اور زیادہ ظاہر ہوگئی۔ 4۔ اور اس سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ اللہ کو اس کے دین کو مانو، اور اس کا ماننا یہ ہے کہ کتاب اللہ کو جو کہ جامع و مشتمل ہے حقوق اللہ و حقوق العباد کو سچ اور واجب العمل جانو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جن کا جھگڑا بالکل بےکار جھگڑا ہے ان کا ذکر اور انجام 16 ؎ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑا اور مجادلہ کرتے ہیں ان کے جھگڑنے اور مجادلہ کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ اللہ کے بارے میں جھگڑا کس نے کیا اور کیوں کیا اور کیسا کیا ؟ اللہ کے بارے میں جھگڑا سب سے پہلے نبی اعظم و آخر ﷺ کے مخاطبین اوّل قریش نے کیا اور محض اس لیے کیا کہ جو کچھ ان کے آباؤ اجداد اللہ کے بارے میں کہتے آ رہے تھے آپ ﷺ نے اس کے خلاف ان کو اللہ رب ذوالجلال والا کرام کا تعارف کرایا حالانکہ فی نفسہٖ وہ اللہ تعالیٰ کو مانتے تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے سینکڑوں سے بھی متجاوز اپنے حاجت روا اور مشکل کشا بنا رکھے تھے اور پھر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

1. i.e. after many people responded to the call of His prophets by accepting Islam. Commentary In the previous verses, all the people of the whole world had been invited towards the original ` din' (religion) common between all the revealed Books and between all the prophets (علیہم السلام) ، and were advised to be faithful to it and be steadfast in it. But some infidels, who had no intention of listening and accepting, started arguing with the Muslims, even at this invitation. Some narrations have it that some people of the Book, the Jews and the Christians, put forward the argument that our…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

31 This is an allusion to the state of affairs that was being experienced in Makkah at that time almost daily. Whenever it became known about somebody that he had become a Muslim, the people would start treating him mercilessly: they would worry and vex him, would neither Iet him have peace in the house nor in the street nor in society; wherever he went, they would start an endless discussion with the object to somehow make him abandon Muhammad (upon whom be Allah's peace) and return to the same creed of ignorance which he had rejected.

Read the full tafseer →