Explained with ayahs 16–18
منکرین قیامت کے لئے وعیدیں
اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو ایمان داروں سے فضول حجتیں کیا کرتے ہیں، انہیں راہ ہدایت سے بہکانا چاہتے ہیں اور اللہ کے دین میں اختلاف پیدا کرتے ہیں۔ ان کی حجت باطل ہے ان پر رب غضبناک ہے۔ اور انہیں قیامت کے روز سخت اور ناقابل برداشت مار ماری جائے گی۔ ان کی طمع پوری ہونی یعنی مسلمانوں میں پھر دوبارہ جاہلیت کی خو بو آنا محال ہے ٹھیک اسی طرح یہود و نصارٰی کا بھی یہ جادو نہیں چلنے دے گا۔ ناممکن ہے کہ مسلمان ان کے موجودہ دین کو اپنے سچے اچھے اصل اور بےکھرے دین پر ترجیح دیں۔ اور اس دین کو لیں جس میں جھوٹ ملا ہوا ہے جو محرف و مبدل ہے۔ پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →سورة الشُّوْرٰی 32
میزان سے مراد اللہ کی شریعت ہے جو ترازو کی طرح تول کر صحیح اور غلط، حق اور باطل، ظلم اور عدل، راستی اور ناراستی کا فرق واضح کردیتی ہے۔ اوپر نبی ﷺ کی زبان سے یہ کہلوایا گیا تھا کہ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَکُمْ (مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمہارے درمیان انصاف کروں)۔ یہاں بتادیا گیا کہ اس کتاب پاک کے ساتھ وہ میزان آگئی ہے جس کے ذریعہ سے یہ انصاف قائم کیا جائے گا۔
سورة الشُّوْرٰی 33
یعنی جس کو سیدھا ہونا ہے بلا تاخیر سیدھا ہوجائے۔ فیصلے کی گھڑی کو دور سمجھ کر ٹالنا نہیں چاہیے۔ ایک سانس کے متعلق بھی آدمی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ اس کے بعد دوسرے سانس کی اسے مہلت ضرور ہی مل جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(آیت) اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بالْحَقِّ وَالْمِيْزَان کتاب سے مراد اس جگہ مطلق آسمانی کتاب ہے جس میں قرآن اور پہلی کتابیں سب داخل ہیں اور حق سے مراد وہ دین حق ہے جس کا ذکر اوپر آیا ہے اور میزان کے لفظی معنی ترازو کے ہیں وہ چونکہ انصاف قائم کرنے اور حق پورا دینے کا ایک آلہ ہے۔ اس لئے حضرت ابن عباس نے میزان کی تفسیر عدل و انصاف سے کی ہے۔ مجاہد امام تفسیر نے فرمایا کہ یہاں میزان سے مراد وہ عام ترازو ہے جس کو لوگ استعمال کرتے ہیں اور مراد اس سے سب کے حقوق کی پوری ادائیگی اور انصاف ہے۔ تو لفظ حق میں سب حقوق اللہ اور لفظ میزان میں سب حقوق العباد کی طرف اشارہ ہوگیا۔
اور یہ جو فرمایا کہ مومنین قیامت سے…
Read the full tafseer →اللہ الذی انزل الکتب بالحق والمیزان ط وما یدریک لعل الساعۃ قریب (17)
قرآن میزن ہے
الکتب سے مراد قرآن اور المیزان اسی کا بیان ہے۔ فرمایا کہ امتوں کے باہمی اختلاف کو رفع کرنے اور حق و باطل کو ممیز کردینے کے لئے اللہ نے قرآن اتارا ہے جو درحقیقت ایک میزان عدل ہے۔ اوپر آیت 15 میں نبی ﷺ کی زبان سے جو یہ اعلان کرایا گیا ہے کہ وقل امنت بما انزل اللہ من کتب و امرت لاعدل بینکم (اور یہ بتا دو کہ اللہ نے جو کتاب اتاری ہے میں اس پر ایمان لایا ہوں اور مجھجے یہ حکم ہوا کہ میں تمہارے درمیان فصلہ کروں) یہ وہی بات دوسرے الفاظ میں فرمائی گئی ہے ظاہر ہے کہ جبی نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اس کام پر مامور فرمایا کہ…
Read the full tafseer →17۔ 1 الْکِتَابَ سے مراد جنس ہے یعنی تمام پیغمبروں پر جتنی کتابیں نازل ہوئیں، وہ سب حق اور سچی تھیں یا بطور خاص قرآن مجید مراد ہے اور اس کی صداقت کو واضح کیا جا رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
3: پہلے سے طے شدہ بات یہ تھی کہ ان لوگوں کو ایک دم کسی عذاب سے ہلاک نہیں کیا جائے گا، بلکہ مہلت دی جائے گی جس میں اگر یہ چاہیں تو ایمان لاسکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
آیت نمبر 17 تا 19
اللہ نے ایک تو کتاب برحق نازل کی اور اس میں عدل نازل کیا۔ اس میزان عدل کے مطابق لوگوں کے اختلافات کے بارے میں حکم دینے اور فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔ یہ فیصلہ لوگوں کی خواہشات و دعا وی کے بارے میں ہو یا ان کی آراء کے بارے میں ہو یا عقائد و نظریات کے بارے میں۔ اور اللہ نے ایک نظام شریعت بھی نازل کیا جس کی اساس عادلانہ فیصلوں پر رکھی۔ قرآن نے عدل کے لئے میزان کا لفظ استعمال کیا۔ یعنی ایسا عدل کہ جس کے مطابق حقوق کا وزن کیا جاسکے۔ اعمال اور تصرفات کو تولا جاسکے۔
اب روئے سخن کتاب و میزان سے قیامت کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ اور مناسبت مضمون واضح ہے کہ کتاب اور شریعت نے بھی لوگوں کے…
Read the full tafseer →2 اللہ نے مادی ترازو بھی اتاری جس میں اجسام تلتے ہیں اور علمی ترازو بھی جسے عقل سلیم کہتے ہیں اور اخلاقی ترازو بھی جسے صفت عدل و انصاف کہا جاتا ہے اور سب سے بڑی ترازو دین حق ہے جو خالق و مخلوق کے حقوق کا ٹھیک ٹھیک تصفیہ کرتا ہے اور جس میں بات پوری تلتی ہے نہ کم نہ زیادہ۔
Read the full tafseer →آیت 17 { اََللّٰہُ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ وَالْمِیْزَانَ } ”اللہ ہی ہے جس نے اتاری ہے کتاب بھی اور میزان بھی حق کے ساتھ۔“
قرآن میں صرف دو ہی مقامات ایسے ہیں جہاں کتاب اور میزان کے الفاظ ایک ساتھ اکٹھے آئے ہیں۔ ایک تو آیت زیر مطالعہ اور دوسری سورة الحدید کی یہ آیت : { لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِج…} آیت 25 ”ہم نے بھیجے اپنے رسول واضح دلیلوں کے ساتھ اور ہم نے نازل کی ان کے ساتھ کتاب اور میزان تاکہ قائم رہیں لوگ عدل پر“۔ میزان دراصل دین حق کے عملی نظام کا نام ہے۔ اس کو یوں سمجھئے کہ…
Read the full tafseer →26 اللہ کے میزان اتارنے کے مختلف مفہوم :۔ یعنی اللہ نے صرف حق ہی نازل نہیں فرمایا بلکہ حق معلوم کرنے کا معیار بھی نازل فرمایا اور یہ معیار میزان ہے۔ اللہ نے مادی میزان یا ترازو بھی اتاری جس میں اجسام تلتے ہیں اور علمی ترازو بھی جسے عقل سلیم کہتے ہیں۔ عقل سلیم سرسری نظر میں ہی معلوم کرلیتی ہے کہ حق کس طرف ہے اور باطل کس طرف یا کسی چیز میں حق کا کتنا حصہ ہے اور باطل کا کتنا ؟ علاوہ ازیں اخلاقی ترازو بھی ہے یعنی عدل و انصاف کی ترازو۔ اور سب سے بڑی ترازو کتاب و سنت ہے۔ جو خالق و مخلوق کے حقوق و فرائض کا ٹھیک ٹھیک تصفیہ کرتی ہے جس میں بات پوری تلتی ہے نہ کم نہ زیادہ۔
27 یعنی شریعت کے ترازو میں رکھ…
Read the full tafseer →22۔ رسول کے علم غیب کلی کا اثبات جس کا دعوی اس زمانہ کے بعض عالم نما جاہلوں نے کیا ہے، ایک بدیہی البطلان دعوی ہے، قرآن مجید نے جہاں اس کی اور بیسیوں طریقوں سے صراحت کی ہے وہاں آپ کی ذات سے وقت قیامت کے علم کی نفی بھی باربار کرکے کی ہے۔ (آیت) ” المیزان “۔ میزان کے معنی عدل کے بھی لئے گئے ہیں اور شریعت کے بھی اور حاصل دونوں کا ایک ہی ہے۔ وھو العدل والانصاف قال مجاھد وقتادۃ (ابن کثیر) قال قتادۃ و مجاھد ومقاتل العدل (معالم) اے العدل کما قال ابن عباس ؓ و مجاھد و قتادۃ وغیرہ اوالشرع الذی یوزن بہ الحقوق (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
آیت نمبر 10 تا 19
ترجمہ : اور جس چیز (یعنی) دین وغیرہ میں کفار کے ساتھ تمہارا اختلاف ہوا، اس کا فیصلہ قیامت کے دن اللہ ہی لوٹے گا، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا، آپ ان سے کہئے یہی اللہ میرا رب ہے، جس پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے، اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں، وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، اس نے تمہارے لئے تمہاری جنس کے جوڑے بنا دئیے ہیں، بایں طور کہ اس نے (حضرت) حواء کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا فرمایا اور چوپایوں کے نرو مادہ کے جوڑے بنائے (یَذْرَءُکُم ْ ) ذال معجمہ کے ساتھ (یعنی ذال کے ساتھ ہے نہ کہ دال کے ساتھ) اور یَذرَءُکُمْ بمعنی یَخْلُقُکُمْ ہے یعنی مذکورہ طریقہ…
Read the full tafseer →اللہ الذی انزل الکتب بالحق والمیزان اللہ ہی تو ہے جس نے یہ کتاب (یعنی قرآن ‘ ترجمہ مولانا تھانوی)
اور انصاف کو نازل فرمایا۔
الْکِتٰبَ بالْحَقِّ یعنی اللہ ہی نے تو کتاب نازل کی جو برحق ہے ‘ یعنی باطل سے بہت دور ہے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ عقائد حقہ اور صحیح احکام کی تعلیم دیتی ہے۔ الکتاب سے مراد جنس کتاب ہے۔
وَالْمِیْزَان قتادہ ‘ مجاہد اور مقاتل نے کہا : میزان سے مراد عدل ہے۔ میزان یعنی ترازو ‘ انصاف اور صحیح مساوات کا آلہ ہوتا ہے (اور عدل کا بھی معنی انصاف ہے) اسلئے عدل کو میزان کہا گیا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اللہ نے پورا پورا تولنے کا حکم دیا اور تول میں کمی کرنے کی ممانعت فرمائی۔
بعض علماء کے…
Read the full tafseer →اللہ ہی ہے جس نے بذریعہ جبریل امین قرآن حکیم نازل کیا ہے جس میں حق و باطل کو اور عدل و انصاف کو بیان کردیا گیا ہے اور محمد آپ کو کیا خبر عجب نہیں کہ قیامت قریب ہو۔
Read the full tafseer →(1) اللہ الذی انزل الکتب بالحق والمیزان :”الکتب“ میں الف لام جنس کا ہو تو مراد تمام روحانی کتابیں ہیں اور اگر عہد کا ہو تو مراد یہ کتاب یعنی قرآن مجید ہے۔ یعنی کیا جانتے بھی ہو کہ جس اللہ کے بارے میں تم جھگڑ رہے ہو وہ کون ہے اور اس کی صفات اور اس کے احکام کیسے معلوم ہوسکتے ہیں ؟ فرمایا اللہ وہی ہے جس نے یہ کتاب یعنی قرآن مجید حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے، اس کی ہر بات حق ہے، اس میں باطل کی آمیزش ہو ہی نہیں سکتی، جیسا کہ فرمایا :(لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ) (حم السجدۃ : 32)”اس کے پا باطل نہ اس کے آگے سے آتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے۔“ اور اسی نے میزان اتارا ہے جس کے ساتھ لوگ اپنے تمام…
Read the full tafseer →اللہ الذی انزل الکتب بالحق والمیزان وما یدریک لعل الساعۃ قریب۔
” اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے نازل کیا ہے کتاب کو حق کے ساتھ اور نازل کیا ہے میزان کو اور تمہیں کیا معلوم کہ شاید وہ گھڑی قریب ہی ہو “۔
اللہ الذیی انزل الکتب قرآن اور باقی کتب منزلہ ہیں۔ بالحق حق سے مراد صدق ہے والمیزان سے مراد عدل ہے ‘ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور اکثر مفسرین کا قول ہے (1) ۔ عد کو میزان کہتے ہیں کیونکہ میزان انصاف اور عدل کا آلہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : میزان سے مراد وہ ہے جو کتاب میں واضح کیا گیا ہے جس پر عمل کرنا انسان پر واجب ہے۔ قتادہ نے کہا : میزان سے مامور اور منہی میں عدل کرنا ہے (2) ۔ یہ تمام اقوام معنی میں قریب…
Read the full tafseer →1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ اللہ الذی انزل الکتب بالحق والمیزان “ (اللہ ہی تو ہے جس نے یہ کتاب (یعنی قرآن) اور عدل کو نازل فرمایا۔
2:۔ حاکم (رح) (وصححہ) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ اور آپ مقام عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے تو سورج کی طرف دیکھا جب وہ غروب ہونے لگا تو ڈھال کی طرح تھا پھر وہ روئے اور ان کا رونا سخت ہوگیا اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول تلاوت کیا (آیت ) ’ اللہ الذی انزل الکتب بالحق والمیزان “ سے لیکر ” العزیز “ تک۔ اس سے کہا گیا کہ آپ کیوں روئے ؟ تو انہوں نے فرمایا مجھے رسول اللہ ﷺ یاد آتے ہیں جبکہ آپ میری اس جگہ میں کھڑے ہوتے…
Read the full tafseer →اَللّٰهُ الَّذِيْٓ [ اللہ وہ ہے جس نے ] [اَنْزَلَ : اتارا ] [ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ [اس کتاب کو حق کے ساتھ ] وَالْمِيْزَانَ ۭ [ اور ترازو کو ] وَمَا يُدْرِيْكَ [ اور آپ کیا جانتے ہیں ] لَعَلَّ السَّاعَةَ [ شاید وہ گھڑی (قیامت )] قَرِيْبٌ [قریب (ہی ) ہو ]
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے کتاب کو اور میزان کو نازل فرمایا
﴿اَللّٰهُ الَّذِيْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بالْحَقِّ وَ الْمِيْزَانَ 1ؕ﴾ اللہ وہی ہے جس نے حق کے ساتھ کتابیں نازل فرمائیں اور میزان کو نازل فرمایا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اور کثر مفسرین نے فرمایا کہ میزان سے عدل و انصاف مراد ہے کیونکہ میزان یعنی ترازو عدل و انصاف کا آلہ ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے جزا و سزا مراد ہے یعنی طاعت پر جو ثواب ملے گا اور معصیت پر جو عذاب ہوگا اسے میزان سے تعبیر فرمایا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ میزان سے ترازو ہی مراد ہے کیونکہ اس کے ذریعے وزن کیا جاتا ہے اور کمی بیشی کا پتہ چلایا جاتا ہے۔
عجب نہیں کہ قیامت قریب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
بیان نزول کتاب باحق وصداقت ونزول میزان برائے عدل و انصاف :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اللہ الذی انزل الکتب بالحق ....... الی ...... وھو القوی العزیز “۔
(ربط) گذشتہ آیات کا حاصل یہ تھا یہ حضور اکرم ﷺ کی وحی انبیاء سابقین اور اولوالعزم رسولوں کی وحی ہی کی طرح ہے، اور آپ ﷺ کا دین بھی اصولا وہی دین ہے، آپ ﷺ کی کتاب بھی جملہ کتب سابقہ کے علوم کی حامل اور مصدق ہے، اب ان آیات میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنی کتاب حق وصداقت کے ساتھ نازل فرما دی ہے اور یہ کتاب الہی درحقیقت حق وصداق کو تولنے کی ترازو ہے، اس ترازو میں حق و باطل کو تولا جاتا ہے، جیسے مادی ترازو میں مادی اشیاء تولی جاتی ہیں،…
Read the full tafseer →17:۔ ” وما یدریک “ یہ تخویف اخروی ہے۔ قیامت سر پر کھڑی ہے اس لیے آپ اللہ کی کتاب پر عمل کریں، اپنی دعوت پیش کرنے میں مصروف رہیں، نہ ماننے والوں کے لیے آخرت کا عذاب تیار ہے۔ ” یستعجل بھا الخ “ جو لوگ قیامت کے آنے پر ایمان نہیں رکھتے وہ ازراہ تمسخر و استہزاء کہتے ہیں قیامت کب آئیگی وہ جلدی کیوں نہیں آتی ؟ لیکن ایمان والے قیامت کا نام سن کر کانپ اٹھتے ہیں کیونکہ وہ قیامت کے آنے پر اور اس کی ہولناکی پر ایمان رکھتے ہیں۔ جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے وہ ہدایت اور راہ راست سے بہت ہی دور ہیں۔ یہاں تک دو دعوے بیان ہوئے۔ اول تمام انبیاء (علیہم السلام) کی طرف اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
ربط آیات
گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت اور جزائے عمل اور خاص طور پر کتاب کا ذکر فرمایا اور اپنے پیغمبر کی زبان سے کہلوایا کہ میں اس پر ایمان لایا ۔ دراصل گزشتہ آیت میں اللہ نے دین کے دس اصول بیان فرمائے ہیں یعنی دعوت الی الدین ، استقامت علی الدین ، خواہشات کا عدم اتباع ، کتب سماویہ پر ایمان قیام عدل ، اللہ تعالیٰ کی ربوبیت ، اعمال کا بدلہ ، قیامت کا اجتماع اور رجوع الی اللہ عدم تنازعات اب ان آیا ت میں بھی کتاب الٰہی اور قیامت کا ذکر ہے اور اللہ تعالیٰ کی بعض صفات بیان کی گئی ہیں۔
دین کے خلاف کمزوری
ارشاد ہوتا ہے والذین یحاجون فی اللہ من بعدی ما استجیب لہ اور وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →اَللہُ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَالْمِيْزَانَ 0 ۭ وَمَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ قَرِيْبٌ 17
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا .
وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ.
فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
ترکیب : قال الکسائی قریب نعت ینعت بھا المذکرو المونث کمافی قولہ ان رحمۃ اللہ قریب من المحسنین ویمکن ان یکون فاعل قریب ایتانھالا الضمیر الراجع الی الساعۃ۔
تفسیر : اس تمام گفتگو کے بعد مسئلہ نبوت کو تمام کر کے دارآخرت کی طرف توجہ دلاتا ہے یا یوں کہو کہ پہلے جو فرمایا تھا کہ جس چیز میں تمہارا اختلاف ہو اس کا فیصلہ اللہ کی طرف مفوض ہے۔ اب اس کی ایک اور وجہ بیان فرماتا ہے کہ اللہ کی طرف اس لیے کہ اس نے کتاب برحق اور عدل کی ترازو نازل کردی ہے اس میں ہر بات کو تول دیکھو۔ المیزان سے مراد کتاب آسمانی ہے اسی میں نیک و بد ‘ اچھا برا کام وزن ہوتا ہے اور اس کے اتارنے سے کیا غرض ہے وہ یہ کہ قیامت کے لیے ہر…
Read the full tafseer →اَللّٰہُ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ الْـکِتٰبَ بِالْحَقِّ وَالْمِیْزَانَ ط وَمَا یُدْرِیْکُ لَعَلَّ السَّاعَۃَ قَرِیْبٌ۔ (الشوری : 17)
(اللہ ہی ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب اتاری اور میزان نازل کی، اور آپ کیا جانیں شاید فیصلے کی گھڑی قریب ہی آلگی ہو۔ )
قرآن حق و باطل میں میزان ہے اس سے متعلق جواب دہی کی فکر کرو
گزشتہ آیت سے پیوستہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی زبان سے یہ اعلان کروایا کہ تم میری حیثیت کو اچھی طرح سمجھ لو، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں۔ چناچہ جس پروردگار نے مجھے اس کا حکم دیا ہے اسی نے مجھ پر ایک ایسی کتاب اتاری ہے کہ جس کو حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے۔ یعنی اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
فہم القرآن
ربط کلام : ” اللہ “ کی ذات اور صفات کے بارے میں جھگڑا کرنے والے لوگ اگر اپنے بےحیثیت دلائل کو حق کے ترازو میں رکھ کر وزن کرتے تو وہ عذاب شدید سے مامون ہوسکتے ہیں۔
ہر جھگڑا کرنے والے کے پاس کوئی نہ کوئی حجّت اور دلیل ہوا کرتی ہے۔ دلیل کو پرکھنے اور حق بات تک پہنچنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اور ایک میزان نازل فرمائی ہے۔ اس لیے کہ لوگ کتاب الٰہی سے راہنمائی حاصل کریں اور اس میزان کے ذریعے اپنی دلیل کا وزن کریں۔ تاکہ انہیں معلوم ہوجائے کہ ان کی حجت اور بات کی حیثیت کیا ہے۔ جہاں تک قیامت کی آمد کا معاملہ ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کس قدر قریب آپہنچی ہے۔ لوگ اپنی بات کا میزان…
Read the full tafseer →حق و میزان اللہ تعالیٰ نے اتارے ہیں :
17: اَللّٰہُ الَّذِیْ اَنْزَلَ الْکِتٰبَ (اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے کتاب کو اتارا) الکتاب سے جنس کتاب مراد ہے۔ بِالْحَقِّ (حق کے ساتھ) سچائی کے ساتھ یعنی اس حال میں کہ وہ حق سے ملنے والی ہے۔ وَالْمِیْزَانَ (اور انصاف کو نازل فرمایا) عدل اور برابری کو اور انزال عدل کا معنی یہ ہے اللہ تعالیٰ نے عدل کو اپنی کتب منزلہ میں نازل فرمایا۔ ایک قول یہ ہے وہ بعینہٖ میزان ہے۔ اس کو نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں اتارا گیا۔ وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ قَرِیْبٌ (اور آپ کو کیا خبر عجب نہیں کہ قیامت قریب ہو) شاید قیامت تمہارے قریب ہو۔ اور تمہیں پتہ بھی نہ ہو۔ مراد…
Read the full tafseer →تفسیر 16۔ ، والذین یحاجون فی اللہ، اللہ تعالیٰ کے دین کے بارے میں اس کے نبی (علیہ السلام) سے جگڑا کرتے ہیں اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ لوگ یہود ہیں انہوں نے کہا ہماری کتاب تمہاری کتاب سے پہلے ہے اور ہمارے نبی (علیہ السلام) بھی تمہارے نبی سے پہلے ہیں توہم تم سے بہتر ہیں تو یہ ان کا جھگڑا ہے۔ ، من بعدمااستجیب لہ، یعنی لوگوں نے اس کو قبول کیا اور اسلام لے آئے اور آپ (علیہ السلام) کے دین میں داخل ہوگئے۔ آپ (علیہ السلام) کے معجزات ظاہرہونے کی وجہ کو قبول کیا اور اسلام لے آئے اور آپ (علیہ السلام) کے دین میں داخل ہوگئے۔ آپ (علیہ السلام) کے معجزات ظاہر ہونے کی وجہ سے ۔ ، حجتھم داحضۃ، ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–22
16۔ 22۔ اوپر فرمایا تھا کہ جو حکم اللہ تعالیٰ نے سب انبیاء کو اور تم کو اللہ کی وحدانیت کے پھیلانے کا دیا ہے اے رسول اللہ کے اس کے موافق لوگوں کو نصیحت کرو ان آیتوں میں فرمایا جو لوگ اس نصیحت کے وقت اللہ کے حکم پر جھگڑا ڈالتے ہیں اور اتنا نہیں سمجھتے کہ ان کے بھائی بندوں اور قوم میں سے جس کسی نے اس نصیحت کو غور سے سنا وہ راہ راست پر آگیا اس لئے ایسے ضدی لوگوں کا جھگڑا کچھ التفات کے قابل نہیں ہے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کا غصہ ہے اور یہ لوگ قیامت کے دن سخت عذاب کے لائق ہیں۔ صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم میں نعمان بن بشیر سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سب سے کم عذاب والے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
آیت 16
یہ آیت اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (لاحجۃ بیننا وبینکم) (الشوری :15/32) کا بیان ہے۔ چناچہ یہاں آگاہ فرمایا : (الذین یحآجون فی اللہ) ” جو لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ “ یعنی باطل دلائل اور متناقض شبہات کے ذریعے سے۔ (من عبدما استجیب لہ) ” اس (اللہ یک ذات) کے تسلیم کئے جانے کے بعد “ یعنی اس کے بعد کہ جب عقل سے بہرہ مند لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی دعوت پر لبیک کہا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے قطعی دلائل اور روشن براہین بیان کردیئے تھے تو وہ لوگ جو حق کے واضح ہوجانے کے بعد حق کے ساتھ مجادلہ کرتے ہیں (حجتھم داحضۃ) ان کی حجت باطل اور ناقابل قبول ہے۔ (عند ربھم) ” ان کے رب کے نزدیک۔ “ کیونکہ یہ…
Read the full tafseer →50 قرآن حکیم میزان خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ہی نے اتارا کتاب کو اور میزان کو لوگوں کی ہدایت و راہنمائی کے لیے اور ان کے حقوق کی تحدید و توضیح کے لیے "۔ سو یہ کتاب حکیم میزان خداوندی ہے۔ پس " المیزان " دراصل " الکتاب " کا بیان ہے۔ پس اس نے میزان کو اتارا، یعنی عدل و انصاف کو۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس اور قتادہ وغیرہ سے مروی ہے۔ اور عدل و انصاف کو میزان سے اس لئے تعبیر فرمایا گیا کہ وہ عدل و انصاف کے قیام کا ذریعہ اور سبب ہے۔ تو یہ تسمیۃ الشی بسببہ کے قبیل سے ہوگا اور یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ سورة حدید کی آیت نمبر 25 میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ (ابن کثیر، صفوہ، مدارک وغیرہ) ۔ اور یہ عدل و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
اللہ کا غلبہ، قدرت، دانائی اور رحم و کرم سب سے زیادہ ہے
تشریح : پہلی اور دوسری آیات میں حروف مقطعات ہیں۔ اس کے بعد رب ذوالجلال کی صفات کا ذکر ہے۔ توحید پر ایمان لانا انسان کے لیے بہترین راستہ ہے۔ کیونکہ یہی مبارک راستہ انسان کو زندگی کی تمام قباحتوں سے بچاتا ہے۔ انسان کو ایسانظام حیات عطا کرتا ہے کہ جس کی وجہ سے عبادات، اخلاقیات، معاملات، حقوق اور تعزیرات کا ایک بہترین نقشہ انسان کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ یہ نظام حیات انسان کو ظلم زیادتی، کفر و شرک، بےحیائی بد نظمی اور تمام غم، خوف اور پریشانیوں سے محفوظ کردیتا ہے۔ اسی لیے قرآن کو بہت بڑی رحمت اور اسلام کو سلامتی کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس پیغام کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
آیات 10 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
ان لوگوں سے کہیے کہ اگر انہیں توحید باری تعالیٰ میں اختلاف ہے تو اس کا فیصلہ اللہ کریم کے حوالے ہے جس نے دنیا میں دلائل معجزات سے واضح کردیا ہے اور آخرت میں ایمان والوں کو جنت میں اور کفار کو دوزخ میں داخل کردے گا اور جس کی یہ عظمت وشان ہے وہی میرا پروردگار ہے اور کفار سے جس بھی تکلیف کے پہنچنے کا اندیشہ ہوسکتا ہے اس کے لیے میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اپنی ہر ضرورت کے لیے اس کی طرف رجوع کرتا ہوں وہ کائنات کا رب ہے تمہارا بھی وہی ہے کہ زمین و آسمان کو بنانے والا وہی ہے اور تمہیں پیدا کیا اور پھر جوڑے بنایا کہ تمہاری نسل چلے۔ اسی طرح جانوروں کو پیدا کرکے جوڑے…
Read the full tafseer →ف 8 المیزان ترازو سے مراد اکثر فمسرین نے عدل و انصاف لیا ہے۔ یعنی کتابیں نازل کرنے کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے عدل و انصاف کا حکم دیا ہے۔ بعض نے اس سے مراد دین حق اور بعض نے جزاو سزا کا قانون لیا ہے مگر یہ سب اقوال با اعتبار مآل ایک ہی ہیں۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ ترازو فرمایا دین کو جس میں بات پوری ہے نہ کم نہ زیادہ (موضح)
9 اس لئے عدل و انصاف کا شیوہ مت چھوڑو۔ حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے سوال کیا کہ قیامت کب ہوگی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” افسوس ہے تجھ پر، تم بتائو کہ اس کے لئے تیاری کیا کی ہے ؟
Read the full tafseer →(42:17) المیزان۔ مصدر یا اسم۔ یہ انزل کا مفعول ثانی ہے اور مفعول اول الکتاب (ای القران) ہے بمعنی ترازو۔ قتادہ، مجاہد، مقاتل نے کہا ہے میزان سے مراد عدل ہے۔ میزان یعنی ترازو انصاف اور صحیح مساوات کا آلہ ہوتا ہے اور عدل کا معنی بھی انصاف ہے۔ اس لئے عدل کو میزان کہا گیا۔
ما یدرک۔ جملہ استفہامیہ ہے ما استفہامیہ ہے ۔ بمعنی ای شیئ ؟ او، من، یدریک مضارع واحد مذکر غائب : ادراء (افعال) مصدر۔ درء اور دری مادہ ثلاثی مجرد (باب ضرب) سے آتا ہے۔
الدرایۃ اس معرفت کو کہتے ہیں جو کسی قسم کے حیلہ یا تدبیر سے حاصل کی جائے۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ تجھے کون چیز سمجھائے (ای شیء یجعلک عالما) تجھے کون بتائے۔ عام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 19 : استجیب ( قبول کیا گیا ، مان لیا گیا) داحضۃ ( غلط ، جھوٹ ، باطل) المیزان ( تولنے کی چیز، ترازو) مایدری (وہ نہیں جانتا) یستعجل ( وہ جلدی کرتا ہے) مشفقون ( ڈرنے والے) یمارون ( وہ جھگڑتے ہیں)
تشریح : آیت نمبر 26 تا 19 : اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قرآن حکیم ایک ایسی بر حق کتاب ہے اور غلط اور صحیح بات کو چھانٹ کر رکھ دینے والی ایک ایسی کسوٹی ہے جس کی عظمت اور عدل و انصاف کی تعلیم کے سامنے ہر شخص جھکنے پر مجبور ہے۔ جس کی عظمت دلوں میں بیٹھ چکی ہے اس لئے تم میں سے بہت سے خوش نصیب لوگوں نے اس سچائی کو قبول کرلیا ہے اور وہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی سعادت حاصل کرچکے…
Read the full tafseer →نیک وبد کا انجام۔
(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ جس طرح ترازو سے ہر ایک چیز کی تول معلوم ہوجاتی ہے اسی طرح قرآن سے حق بات معلوم ہوجاتی ہے اس پر بھی قرآن کی آیتوں میں جو لوگ جھگڑا نکالتے ہیں وہ بڑے نادان ہیں ، جب اللہ کے رسول اپنی نصیحت میں قیامت کا ذکر کرتے تھے تو مشرکین اس میں زیادہ جھگڑتے اور یہ کہتے تھے کہ آخر وہ قیامت کب آئے گی اسی کے جواب میں فرمایا کہ ان لوگوں کے دل میں قیامت کے آنے کا یقین نہیں ہے ، اس لیے یہ لوگ مسخراپن کے طور پر گھڑی گھڑی قیامت کے آنے کا حال پوچھتے ہیں فرمایا کہ کیا تم کیا خبر ہے کہ شائد قیامت کا آنا قریب ہو اور جو لوگ رسول و قرآن پر ایمان لائے وہ تو اسی ہولناک گھڑی کے…
Read the full tafseer →[12] کتاب سے مراد قرآن اور میزان سے مراد عدل ہے۔ یعنی اللہ نے امتوں کے باہمی اختلاف کو رفع کرنے اور حق و باطل کو ممیز کردینے کے لئے قرآن اتارا جو میزان عدل ہے اور ترازو کی طرح تول کر صحیح و غلط، حق و باطل، اور ظلم و عدل کا فرق بالکل واضح کردیتا ہے۔
[13] مطلب یہ ہے کہ خوش قسمت ہوں گے وہ لوگ جو میزان عدل کے فیصلے کے مطابق حق و باطل میں امتیاز کرلیں گے ورنہ قیامت تو بہرحال فیصلہ کر کے رہے گی اور اس قیامت کو بہت دور نہ سمجھو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
حل لغات : ۔ داحضہ ۔ باطل المیزان ۔ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کو نازل فرمایا ہے اسی طرح اس کی صدقتوں کو تولنے کے لئے معیار مقرر فرمائے ہیں ۔
2: اہل کتاب بھولے بھالے مسلمانوں سے کہتے تھے ۔ کہ کیوں نہ ہم اور تم ان انبیاء پر متفق ہوجائیں ۔ جن پر تمہارا بھی ایمان ہے اور حضور ﷺ کی نبوت کو جو مختلف فیہ ہے ۔ چھوڑ دیں ۔ اس کا جواب دیا ہے کہ جبکہ حضور ﷺ میں اور گزشتہ انبیاء میں کوئی فرق نہیں ۔ سب کے پیغام میں یکسانی اور وحدت ہے ۔ اور معجزات وخوارق بھی ان کی تائید میں تم دیکھ چکے ہو ۔ تو پھر کیوں نہ ان کی نبوت کو تسلیم کرلیا جائے ۔
Read the full tafseer →(17) اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے دین حق پر مشتمل کتاب نازل فرمائی اور نیز ترازو نازل فرمائی یعنی عدل و انصاف کا حکم نازل فرمایا اور اپنے پیغمبر آپ کو کیا خبر شاید قیامت قریب ہی ہو۔ یعنی قرآن جو سچے دین کو شامل ہے اور جس میں سچے دین کی تعلیم موجود ہے اور ترازو یعنی عدل و انصاف کا حکم نازل فرمایا ہوسکتا ہے کہ عین ترازو نازل کی گئی ہو۔
جیسا کہ بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ ترازو نوح (علیہ السلام) کے زمانے میں نازل کی گئی ترازو یا میزان ایک آلہ ہے انصاف اور تسویہ کا بہرحال معاملات میں عدل و انصاف چونکہ بہت ضروری ہے اس لئے تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی شرائع میں اس کی تاکید ہے اور چونکہ قیامت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
ف 3۔ یعنی بعد اس کے کہ بہت سے آدمی عقیل و فہیم مسلمان ہو کر اس کو مان چکے جس سے حجت اور زیادہ ظاہر ہوگئی۔
4۔ اور اس سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ اللہ کو اس کے دین کو مانو، اور اس کا ماننا یہ ہے کہ کتاب اللہ کو جو کہ جامع و مشتمل ہے حقوق اللہ و حقوق العباد کو سچ اور واجب العمل جانو۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو حق کے ساتھ نازل کیا جو ایک ترازو کی حیثیت رکھتا ہے
17 ؎ کتاب یعنی قرآن کریم کو حق کے ساتھ نازل کرنے سے کیا مراد ہے ؟ راغب اصفہانی (رح) نے بیان کیا ہے کہ الحق للفعل والقول : الواقع بحسب ما یحب و قدر ما یحب و فی الوقت الذی یحب (مفردات) ” کوئی قول اور فعل اسی وقت حق کہلاتا ہے جب کہ وہ اسی طرح پایا جائے جیسے چاہئے ، اس انداز سے پایا جائے جتنا مناسب اور موزوں ہو اور اسی وقت پایا جائے جب اس کی ضرورت ہو۔ “ (قرآنِ کریم { بالحق } کہہ کر اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کو واضح کردیا کہ قرآن کریم آیا اور اس شان سے آیا جو اس کے شایان شان تھی ، ایسے دلائل وبراہین سے مزین ہو کر آیا جن کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
This fact is stated in the next sentence, أَنزَلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ وَالْمِيزَانَ "has sent down the Book with truth and the Balance as well - 17." Here ` the Book' means the Qur'an, and all the previous revealed Books, and ` truth' means the divine religion mentioned above, and ` the Balance' literally means a weighing balance. Since it is an instrument of weighing one's due and establishing justice, Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ has taken it to mean ` equity' and ` justice'. Mujahid (رح) leading exegete, has said that here the ` Balance' means full payment of everyone's rights and doing…
Read the full tafseer →32 Mizan (Balance): the Shari ah of AIlah, which, like a balance, brings out clearly the distinction between the right and the wrong, the Truth and falsehood, justice and injustice, and righteousness and wickedness. In verse 15 above, the Holy Prophet has been made to say: "I have been commanded to do justice between you." Here, it has been told that with this Holy Book the "Balance" has come by which justice will be established.
33 That is, "The one who is inclined to mend his ways, must mend his ways forthwith: he should not lose. time under the delusion that the Hour of lodgement is yet…
Read the full tafseer →