Explained with ayahs 16–18
منکرین قیامت کے لئے وعیدیں
اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو ایمان داروں سے فضول حجتیں کیا کرتے ہیں، انہیں راہ ہدایت سے بہکانا چاہتے ہیں اور اللہ کے دین میں اختلاف پیدا کرتے ہیں۔ ان کی حجت باطل ہے ان پر رب غضبناک ہے۔ اور انہیں قیامت کے روز سخت اور ناقابل برداشت مار ماری جائے گی۔ ان کی طمع پوری ہونی یعنی مسلمانوں میں پھر دوبارہ جاہلیت کی خو بو آنا محال ہے ٹھیک اسی طرح یہود و نصارٰی کا بھی یہ جادو نہیں چلنے دے گا۔ ناممکن ہے کہ مسلمان ان کے موجودہ دین کو اپنے سچے اچھے اصل اور بےکھرے دین پر ترجیح دیں۔ اور اس دین کو لیں جس میں جھوٹ ملا ہوا ہے جو محرف و مبدل ہے۔ پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
سورة الشُّوْرٰی 34
اصل میں لفظ لَطِیْفٌ استعمال ہوا ہے جس کا پورا مفہوم " مہربان " سے ادا نہیں ہوتا۔ اس لفظ میں دو مفہوم شامل ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ اپنے بندوں پر بڑی شفقت و عنایت رکھتا ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ بڑی باریک بینی کے ساتھ ان کی دقیق ترین ضروریات پر بھی نگاہ رکھتا ہے جن تک کسی کی نگاہ نہیں پہنچ سکتی، اور انہیں اس طرح پورا کرتا ہے کہ وہ خود بھی محسوس نہیں کرتے کہ ہماری کونسی ضرورت کب کس نے پوری کردی۔ پھر یہاں بندوں سے مراد محض اہل ایمان نہیں، بلکہ تمام بندے ہیں، یعنی اللہ کا یہ لطف اس کے سب بندوں پر عام ہے۔
سورة الشُّوْرٰی 35
مطلب یہ ہے کہ اس لطیف عام کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ سب بندوں کو سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(آیت) اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بالْحَقِّ وَالْمِيْزَان کتاب سے مراد اس جگہ مطلق آسمانی کتاب ہے جس میں قرآن اور پہلی کتابیں سب داخل ہیں اور حق سے مراد وہ دین حق ہے جس کا ذکر اوپر آیا ہے اور میزان کے لفظی معنی ترازو کے ہیں وہ چونکہ انصاف قائم کرنے اور حق پورا دینے کا ایک آلہ ہے۔ اس لئے حضرت ابن عباس نے میزان کی تفسیر عدل و انصاف سے کی ہے۔ مجاہد امام تفسیر نے فرمایا کہ یہاں میزان سے مراد وہ عام ترازو ہے جس کو لوگ استعمال کرتے ہیں اور مراد اس سے سب کے حقوق کی پوری ادائیگی اور انصاف ہے۔ تو لفظ حق میں سب حقوق اللہ اور لفظ میزان میں سب حقوق العباد کی طرف اشارہ ہوگیا۔
اور یہ جو فرمایا کہ مومنین قیامت سے…
Read the full tafseer →یستعجل بھا الذین لامنون بھا ج والذین امنوا مشفقون منھا لا یعلمون انھا الحق ط الا ان الذین یمارون فی الساعۃ لفی ضلل بعید (18)
یعنی یہ لوگ قیامت کو محض ایک خیالی ڈراوا سمجھتے ہیں اس وجہ سے ان کو اس کی کوئی پروا نہیں ہے بلکہ ڈھیٹ ہو کر یہ کہتے ہیں کہ اگر اس کو آنا ہے تو آ کیوں نہیں جاتی ؟ فرمایا کہ جو لوگ قیامت پر ایمان نہیں رکھتے وہ تو اس کے لئے جلدی مچاتے ہیں۔ گویا ان کے نزدیک وہ محض ایک مذاق ہے۔ مگر جو لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کی ہولناکی کو سمجھتے اور اس سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔
ان الذین یمارون فی الساعۃ لفی ضلل بعید یہ ان لوگوں کی محرومی پر اظہار حسرت ہے جو قیامت جیسی واضح حقیقت کے…
Read the full tafseer →18۔ 1 یعنی استہزاد کے طور پر یہ سمجھتے ہوئے کہ اس کو آنا ہی کہاں سے ہے ؟ اس لئے کہتے ہیں کہ قیامت جلدی آئے۔
18۔ 2 اس لئے کہ وہ ان دلائل پر غور و فکر ہی نہیں کرتے جو ایمان لانے کے موجب بن سکتے ہیں حالانکہ یہ دلائل روز و شب ان کے مشاہدے میں آتے ہیں۔ ان کی نظروں سے گزرتے ہیں اور ان کی عقل و فہم میں آسکتے ہیں۔ اس لئے وہ حق سے بہت دور جا پڑے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
3: پہلے سے طے شدہ بات یہ تھی کہ ان لوگوں کو ایک دم کسی عذاب سے ہلاک نہیں کیا جائے گا، بلکہ مہلت دی جائے گی جس میں اگر یہ چاہیں تو ایمان لاسکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
آیت نمبر 17 تا 19
اللہ نے ایک تو کتاب برحق نازل کی اور اس میں عدل نازل کیا۔ اس میزان عدل کے مطابق لوگوں کے اختلافات کے بارے میں حکم دینے اور فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔ یہ فیصلہ لوگوں کی خواہشات و دعا وی کے بارے میں ہو یا ان کی آراء کے بارے میں ہو یا عقائد و نظریات کے بارے میں۔ اور اللہ نے ایک نظام شریعت بھی نازل کیا جس کی اساس عادلانہ فیصلوں پر رکھی۔ قرآن نے عدل کے لئے میزان کا لفظ استعمال کیا۔ یعنی ایسا عدل کہ جس کے مطابق حقوق کا وزن کیا جاسکے۔ اعمال اور تصرفات کو تولا جاسکے۔
اب روئے سخن کتاب و میزان سے قیامت کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ اور مناسبت مضمون واضح ہے کہ کتاب اور شریعت نے بھی لوگوں کے…
Read the full tafseer →4 یعنی اپنے اعمال و احوال کو کتاب اللہ کی کسوٹی پر کس کر اور دین حق کے ترازو میں تول کر دیکھ لو، کہاں تک کھرے اور پورے اترتے ہیں۔ کیا معلوم ہے کہ قیامت کی گھڑی بالکل قریب ہی آلگی ہو، آخر دیر کیا ہے ؟ جلدی کیوں نہیں آجاتی ؟ لیکن جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان و یقین سے بہرہ ور کیا ہے، وہ اس ہولناک گھڑی کے تصور سے لرزتے اور کا پنتے ہیں اور خوب سمجھتے ہیں کہ یہ چیز ہونے والی ہے کسی کے ٹلائے ٹل نہیں سکتی۔ اسی لیے اس کی تیاری میں لگے رہتے ہیں۔ اسی سے سمجھ لو کہ ان جھگڑنے والے منکرین کا حشر کیا ہونا ہے۔ جب ایک شخص کو قیامت کے آنے کا یقین ہی نہیں وہ تیاری کیا خاک کرے گا۔ ہاں جتنا اس حقیقت کا مذاق اڑائے…
Read the full tafseer →آیت 18 { یَسْتَعْجِلُ بِہَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِہَا } ”اس قیامت کے لیے جلدی تو وہی مچا رہے ہیں جو اس پر ایمان نہیں رکھتے۔“
{ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْہَا وَیَعْلَمُوْنَ اَنَّہَا الْحَقُّ } ”اور جو لوگ ایمان رکھتے ہیں وہ تو اس سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ وہ حق ہے۔“
قیامت کے تصور سے اللہ کے مقرب بندوں کے خوف کی کیفیت کا ذکر سورة النور میں یوں آیا ہے : { یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْہِ الْقُلُوْبُ وَالْاَبْصَارُ۔ } ”وہ لرزاں و ترساں رہتے ہیں اس دن کے تصور سے جس دن الٹ جائیں گے دل اور نگاہیں۔“
{ اَلَآ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَۃِ…
Read the full tafseer →28 یعنی جو لوگ عذاب آخرت اور قیامت کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اور بار بار پوچھتے ہیں کہ وہ کب آئے گی اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ روز آخرت اور اعمال کی باز پرس پر یقین نہیں رکھتے۔ اگر انہیں اس بات کا یقین ہوتا تو کبھی عذاب کے لیے جلدی نہ مچاتے۔ اور جو لوگ روز آخرت پر اور اعمال کی جواب دہی پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ تو اپنے محاسبہ سے ڈرتے رہتے ہیں۔ اور یقین نہ رکھنے والوں کو چونکہ اپنے اعمال کے محاسبہ کا کچھ خوف نہیں ہوتا اس لیے وہ گناہ کے کاموں پر دلیر ہوتے ہیں اور حق اور عدل و انصاف کی راہ سے ہٹ کر اپنی سرکشی اور گمراہی میں بہت آگے نکل جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →23۔ یعنی قیامت کو اگر آنا ہے تو آکیوں نہیں جاتی۔ تقاضا بطور استہزاء تو منکرین ہی کی طرف سے ہوتا رہتا ہے۔ باقی جو اہل ایمان ویقین ہیں وہ تو اس کے یقینی وقوع سے اور اپنے اعمال کی کوتاہیوں پر نظر کرکے ہمیشہ اس سے عقلا خائف ہی رہتے ہیں (گو کبھی حالا واضطرار اس کا شوق غالب بھی آجائے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
آیت نمبر 10 تا 19
ترجمہ : اور جس چیز (یعنی) دین وغیرہ میں کفار کے ساتھ تمہارا اختلاف ہوا، اس کا فیصلہ قیامت کے دن اللہ ہی لوٹے گا، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا، آپ ان سے کہئے یہی اللہ میرا رب ہے، جس پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے، اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں، وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، اس نے تمہارے لئے تمہاری جنس کے جوڑے بنا دئیے ہیں، بایں طور کہ اس نے (حضرت) حواء کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا فرمایا اور چوپایوں کے نرو مادہ کے جوڑے بنائے (یَذْرَءُکُم ْ ) ذال معجمہ کے ساتھ (یعنی ذال کے ساتھ ہے نہ کہ دال کے ساتھ) اور یَذرَءُکُمْ بمعنی یَخْلُقُکُمْ ہے یعنی مذکورہ طریقہ…
Read the full tafseer →یستعجل بھا الذین لایومنون بھاوالذین امنوا مشفقون منھا ویعلمون انھا الحق الا ان الذین یمارون فی الساعۃ لفی ضلل بعید اس کے جلد آنے کے طلبگار وہی لوگ ہوتے ہیں جو اس کے آنے کا یقین نہیں رکھتے ‘ اور جو لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں ‘ وہ تو اس سے ڈرتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ قیامت برحق ہے۔ یاد رکھو کہ جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑتے ہیں وہ بڑی گمراہی میں ہیں۔
لَعَلَّ السَّاعَۃَ قَرِیْبٌ یعنی ممکن ہے کہ قیامت کا آنا قریب ہو ‘ اسلئے آپ اس کتاب پر چلئے ‘ شریعت پر عمل کیجئے ‘ عدل کی پابندی کیجئے ‘ اس سے پہلے کہ قیامت کی گھڑی اچانک آجائے (اور عمل کرنے کا وقت ختم ہوجائے) اس وقت تمہارے اعمال تو لے جائیں گے…
Read the full tafseer →ابوجہل وغیرہ جو اس کا یقین نہیں کرتے وہ قیامت کے قائم ہونے کی جلدی مچاتے ہیں اور حضرت ابوبکر صدیق اور ان کے ساتھی جو رسول اکرم اور قرآن کریم اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں وہ قیامت کے قیام اور اس کی سختیوں سے ڈرتے ہیں اور اس بات کا اعتقاد رکھتے ہیں کہ قیامت ضرور قائم ہوگی۔ یاد رکھو جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑتے اور شک کرتے ہیں، وہ حق و ہدایت سے بڑی دور گمراہی میں ہیں۔
Read the full tafseer →(1) یستعجل بھا الذین لایومنون بھا :”استعجال“ کا معنی ہے کسی چیز کے وقت سے پہلے اس کے لانے کا مطالبہ۔ رسول اللہ ﷺ قیامت سے اور اس کیق ریب ہونے سے ڈراتے تو کفار اسے جلد از جلد لانے کا مطالبہ کرتے۔ مقصد ان کا صرف قیامت کا انکار اور اس کا مذاق اڑانا ہوتا تھا کہ جب وہ ان کے مطالبے پر فوراً بپا نہیں ہوگیو تو وہ اسے جھٹلائیں گے اور اس کا مذاق اڑائیں گے کہ اگر قیامت ہوتی تو ہمارے مطالبے پر آجاتی، حالانکہ وہ ان کی فرمائش پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ وقت پر آئے گی جس کا اس کے سوا کسی کو علم نہیں۔ اس آیت میں ان کی اس جرأت کی وجہ بیان فرمائی کہ ان کے اس مطالبے کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن…
Read the full tafseer →یستعجل بھا الذین لا یؤمنون بھا وہ یہ کلام استہزاء کے طور پر کرتے ‘ ان کا گمان یہ تھا کہ قیامت واقع نہ ہوگی یا کمزور لوگوں کو وہم دلاتے تھے کہ وہ واقع نہ ہوگی مشفقون منھا وہ اس سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ خیال کرتے ہیں کہ اطاعت میں جس طرح انہیں کوشش کرنی چاہیے اس میں انہوں نے کوتاہی کی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ فرمان ہے : والذین یؤتون مآاتوائو قلوبھم و جلۃ انھم الی ربھم رجعون۔ (مومنون) ویعلمون انھا الحق یعنی اس میں کوئی شک نہیں۔
الا ان الذین یمارون فی الساعۃ وہ قیامت کے برپا ہونے میں شک کرتے ہیں اور اس میں مخاصمت کرتے ہیں لفی ضلل بعید۔ وہ حق اور عبرت کے راستہ سے بہت بعید ہیں کیونکہ اگر وہ سوچ و بچار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تمنا کریں گے اس کی تمنا کرنے والے ان سے کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ کا تو یہ فرمان ہے (آیت ) ” یستعجل بھا الذین لایؤمنون بھا، والذین امنوا مشفقون منھا “ (اس کے جلد آنے کے طلبگار وہی لوگ ہوتے ہیں جو اس کے آنے کا یقین نہیں رکھتے اور جو لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں تو وہ اس سے ڈرتے ہیں) پھر فرمایا کہ وہ لوگ اپنے ایمان کے بارے میں ڈر کی وجہ سے تمنا کریں گے
Read the full tafseer →يَسْتَعْجِلُ بِهَا [ جلدی مچاتے ہیں اس کی ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ] لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا ۚ [ ایمان نہیں رکھتے اس پر ] وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [ اور جو لوگ ایمان لائے ] مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا ۙ [ (وہ) ڈرنے والے ہیں اس سے ] وَيَعْلَمُوْنَ [ اور وہ جانتے ہیں ] اَنَّهَا [ کہ وہ (قیامت ) ] الْحَقُّ ۭ [ برحق ہے ] اَلَآ اِنَّ الَّذِيْنَ [ خبردار ! بیشک جو لوگ ] يُمَارُوْنَ [ جھگڑا کرتے ہیں ] فِي السَّاعَةِ [ اس گھڑی (کے بارے ) میں ] لَفِيْ ضَلٰلٍۢ بَعِيْدٍ [ (وہ) یقینا ایک دور کی گمراہی میں ہیں ]
Read the full tafseer →﴿يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا 1ۚ﴾ (جو لوگ قیامت پر ایمان نہیں لاتے وہ قیامت آنے کی جلدی مچاتے ہیں) چونکہ اس کے آنے کا یقین نہیں ہے اس لیے بار بار یوں کہتے ہیں کہ کیوں نہیں آجاتی جلدی آجانی چاہیے ﴿وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا 1ۙ وَ يَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ 1ؕ﴾ (اور جو لوگ ایمان لائے وہ وقوع قیامت سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ حق ہے) ﴿اَلَاۤ اِنَّ الَّذِيْنَ يُمَارُوْنَ فِي السَّاعَةِ لَفِيْ ضَلٰلٍۭ بَعِيْدٍ 0018﴾ (خبردار جو لوگ شک کرتے ہیں قیامت کے بارے میں وہ دور کی گمراہی میں ہیں) دلائل کے قائم ہوجانے کے باوجود بھی انکار پر اصرار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
بیان نزول کتاب باحق وصداقت ونزول میزان برائے عدل و انصاف :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اللہ الذی انزل الکتب بالحق ....... الی ...... وھو القوی العزیز “۔
(ربط) گذشتہ آیات کا حاصل یہ تھا یہ حضور اکرم ﷺ کی وحی انبیاء سابقین اور اولوالعزم رسولوں کی وحی ہی کی طرح ہے، اور آپ ﷺ کا دین بھی اصولا وہی دین ہے، آپ ﷺ کی کتاب بھی جملہ کتب سابقہ کے علوم کی حامل اور مصدق ہے، اب ان آیات میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنی کتاب حق وصداقت کے ساتھ نازل فرما دی ہے اور یہ کتاب الہی درحقیقت حق وصداق کو تولنے کی ترازو ہے، اس ترازو میں حق و باطل کو تولا جاتا ہے، جیسے مادی ترازو میں مادی اشیاء تولی جاتی ہیں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
18:۔ ” اللہ لطیف۔ الایۃ “ یہ آیت پہلے دعوے سے متعلق ہے اور اس کی تائید ہے۔ القوی القادر علی کل شیء، العزیز ای لایغالب ولا یدافع “ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے حسب حکمت کسی کو زیادہ اور کسی کو کم رزق دیتا ہے، وہ ہر چیز پر قادر اور سب پر غالب ہے۔ لہذا سب کچھ کرنے والا اور کارساز وہی ہے، اس لیے حاجات میں صرف اسی کو پکارو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
ربط آیات
گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت اور جزائے عمل اور خاص طور پر کتاب کا ذکر فرمایا اور اپنے پیغمبر کی زبان سے کہلوایا کہ میں اس پر ایمان لایا ۔ دراصل گزشتہ آیت میں اللہ نے دین کے دس اصول بیان فرمائے ہیں یعنی دعوت الی الدین ، استقامت علی الدین ، خواہشات کا عدم اتباع ، کتب سماویہ پر ایمان قیام عدل ، اللہ تعالیٰ کی ربوبیت ، اعمال کا بدلہ ، قیامت کا اجتماع اور رجوع الی اللہ عدم تنازعات اب ان آیا ت میں بھی کتاب الٰہی اور قیامت کا ذکر ہے اور اللہ تعالیٰ کی بعض صفات بیان کی گئی ہیں۔
دین کے خلاف کمزوری
ارشاد ہوتا ہے والذین یحاجون فی اللہ من بعدی ما استجیب لہ اور وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →يَسْتَعْجِلُ بِہَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِہَا 0 ۚ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْہَا 0 ۙ وَيَعْلَمُوْنَ اَنَّہَا الْحَقُّ 0 ۭ اَلَآ اِنَّ الَّذِيْنَ يُمَارُوْنَ فِي السَّاعَۃِ لَفِيْ ضَلٰلؚ بَعِيْدٍ 18
عجل
العَجَلَةُ : طلب الشیء وتحرّيه قبل أوانه، وهو من مقتضی الشّهوة، فلذلک صارت مذمومة في عامّة القرآن حتی قيل : «العَجَلَةُ من الشّيطان» «2» . قال تعالی: سَأُرِيكُمْ آياتِي فَلا تَسْتَعْجِلُونِ [ الأنبیاء/ 37] ،
( ع ج ل ) العجلۃ
کسی چیز کو اس کے وقت سے پہلے ہی حاصل کرنے کی کوشش کرنا اس کا تعلق چونکہ خواہش نفسانی سے ہوتا ہے اس لئے عام طور پر قرآن میں اس کی مذمت کی گئی ہے حتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
ترکیب : قال الکسائی قریب نعت ینعت بھا المذکرو المونث کمافی قولہ ان رحمۃ اللہ قریب من المحسنین ویمکن ان یکون فاعل قریب ایتانھالا الضمیر الراجع الی الساعۃ۔
تفسیر : اس تمام گفتگو کے بعد مسئلہ نبوت کو تمام کر کے دارآخرت کی طرف توجہ دلاتا ہے یا یوں کہو کہ پہلے جو فرمایا تھا کہ جس چیز میں تمہارا اختلاف ہو اس کا فیصلہ اللہ کی طرف مفوض ہے۔ اب اس کی ایک اور وجہ بیان فرماتا ہے کہ اللہ کی طرف اس لیے کہ اس نے کتاب برحق اور عدل کی ترازو نازل کردی ہے اس میں ہر بات کو تول دیکھو۔ المیزان سے مراد کتاب آسمانی ہے اسی میں نیک و بد ‘ اچھا برا کام وزن ہوتا ہے اور اس کے اتارنے سے کیا غرض ہے وہ یہ کہ قیامت کے لیے ہر…
Read the full tafseer →یَسْتَعْجِلُ بِھَا الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِھَا ج وَالَّدِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْھَا لا وَیَعْلَمُوْنَ اَنَّھَا الْحَقُّ ط اَلَآ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَۃِ لَفِیْ ضَلٰـلٍ م بَعِیْدٍ ۔ (الشوری : 18)
(اس کے لیے جلدی مچاتے ہیں وہ لوگ جو اس پر ایمان نہیں رکھتے، اور جو لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ بیشک وہ آنے والی ہے، خبردار بیشک جو لوگ اس گھڑی کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں وہ بہت دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ )
قیامت سے متعلق فکری اصلاح ضروری ہے
قیامت کے بارے میں لوگوں کا رویہ عجیب ہے اور وہ بےسبب نہیں، اصل بات یہ ہے کہ جو لوگ قیامت کے آنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
فہم القرآن
ربط کلام : ” اللہ “ کی ذات اور صفات کے بارے میں جھگڑا کرنے والے لوگ اگر اپنے بےحیثیت دلائل کو حق کے ترازو میں رکھ کر وزن کرتے تو وہ عذاب شدید سے مامون ہوسکتے ہیں۔
ہر جھگڑا کرنے والے کے پاس کوئی نہ کوئی حجّت اور دلیل ہوا کرتی ہے۔ دلیل کو پرکھنے اور حق بات تک پہنچنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اور ایک میزان نازل فرمائی ہے۔ اس لیے کہ لوگ کتاب الٰہی سے راہنمائی حاصل کریں اور اس میزان کے ذریعے اپنی دلیل کا وزن کریں۔ تاکہ انہیں معلوم ہوجائے کہ ان کی حجت اور بات کی حیثیت کیا ہے۔ جہاں تک قیامت کی آمد کا معاملہ ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کس قدر قریب آپہنچی ہے۔ لوگ اپنی بات کا میزان…
Read the full tafseer →قیامت کی حقانیت پر صحیح قول کی گمراہی :
18: یَسْتَعْجِلُ بِھَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِھَا (جو لوگ اس کا یقین نہیں رکھتے وہ اس کا تقاضا کرتے ہیں) وہ بھی بطور استہزاء وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْھَا (اور جو لوگ یقین رکھنے والے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں) قیامت کے ہول و ڈر سے لرزاں و ترساں ہیں۔ وَیَعْلَمُوْنَ اَنَّھَا الْحَقُّ (اور وہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ برحق ہے) ہر صورت میں آنے والی ہے۔ اَ لَآ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَۃِ (یاد رکھو کہ جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑتے ہیں) المما راتؔ اونٹنی کے تھنوں کو زور سے دبانا۔ کیونکہ ہر فریق دوسرے فریق کو اپنی بات سے دبانے…
Read the full tafseer →17، اللہ الذی انزل الکتاب بالحق والمیزان، قتادہ، مجاہد اور مقاتل رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ انصاف کے ساتھ۔ عدل کا نام میزان (ترازو) رکھا گیا ہے اس لیے کہ میزان انصاف اور برابری کا آلہ (پیمانہ) ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پوری چیزدینے کا حکم دیا ہے اور کمی کرنے سے روکا ہے۔
، ومایدریک لعل الساعۃ قریب، یہاں، قریبۃ، مؤنث نہیں ذکر کیا۔ اس لیے کہ الساعۃ مؤنث غیر حقیقی ہے اور عبارت کی اصل الوقت قریب ہے اور کسائی (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا آنا قریب ہے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے قیامت کا تذکرہ کیا۔ آپ (علیہ السلام) کے پاس مشرکین کی ایک جماعت بیٹھی تھی تو وہ جھٹلانے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–22
16۔ 22۔ اوپر فرمایا تھا کہ جو حکم اللہ تعالیٰ نے سب انبیاء کو اور تم کو اللہ کی وحدانیت کے پھیلانے کا دیا ہے اے رسول اللہ کے اس کے موافق لوگوں کو نصیحت کرو ان آیتوں میں فرمایا جو لوگ اس نصیحت کے وقت اللہ کے حکم پر جھگڑا ڈالتے ہیں اور اتنا نہیں سمجھتے کہ ان کے بھائی بندوں اور قوم میں سے جس کسی نے اس نصیحت کو غور سے سنا وہ راہ راست پر آگیا اس لئے ایسے ضدی لوگوں کا جھگڑا کچھ التفات کے قابل نہیں ہے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کا غصہ ہے اور یہ لوگ قیامت کے دن سخت عذاب کے لائق ہیں۔ صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم میں نعمان بن بشیر سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سب سے کم عذاب والے…
Read the full tafseer →(آیت 18)
یہ واضح کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ کے دلائل واضح اور روشن ہیں، کیونکہ ہر وہ شخص ان کو قبول کرتا ہے جس میں کچھ بھی بھلائی ہے، ان دلائل کا قاعدہ اور اصول بیان کیا بلکہ تمام دلائل کا جو اس نے بندوں کو عطا کئے ہیں، لہٰذا فرمایا : (آیت) ” اللہ ہی تو ہے جس نے سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور میزان “ کتاب سے مراد قرآن عظیم ہے جو حق کے ساتھ نازل ہوا اور یہ حق، صدق اور یقین پر مشتمل ہے۔ تمام مطالب الٰہیہ اور قعئاد دینیہ کے بارے میں وہ روشن نشانیوں اور واضح دلائل پر مشتمل ہے یہ کتاب عظیم بہترین مسائل اور واضح ترین دلائل لے کر آئی ہے۔
میزان سے مراد قیاس صحیح اور عقل راجح کے ذریعے سے عدل و…
Read the full tafseer →52 منکرین قیامت کی لاپرواہی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " قیامت کے بارے میں جلدی وہی لوگ مچاتے ہیں جو اس پر ایمان نہیں رکھتے وہ اس کو محض ایک خیالی ڈراوا سمجھتے ہیں "۔ کیونکہ وہ اس کی ہولناکی اور اس میں پیش آنے والے احوال واہوال سے بیخبر اور بےخوف ہیں۔ اس لئے وہ استہزاء کے طور پر اور لاپرواہی کی بناء پر ایسے کہتے اور کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسے لوگ ڈھیٹ بن کر کہتے ہیں کہ اس کو اگر آنا ہے تو وہ آتی کیوں نہیں ؟ اس کو کس نے اور کیوں روک رکھا ہے ؟ اس کا جہاز آخر کب آکر لنگرانداز ہوگا ۔ { اَیَّانَ مُرْسٰہٰا } ۔ وغیرہ وغیرہ۔
53 ایمان کا تقاضا خوف آخرت : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
اللہ کا غلبہ، قدرت، دانائی اور رحم و کرم سب سے زیادہ ہے
تشریح : پہلی اور دوسری آیات میں حروف مقطعات ہیں۔ اس کے بعد رب ذوالجلال کی صفات کا ذکر ہے۔ توحید پر ایمان لانا انسان کے لیے بہترین راستہ ہے۔ کیونکہ یہی مبارک راستہ انسان کو زندگی کی تمام قباحتوں سے بچاتا ہے۔ انسان کو ایسانظام حیات عطا کرتا ہے کہ جس کی وجہ سے عبادات، اخلاقیات، معاملات، حقوق اور تعزیرات کا ایک بہترین نقشہ انسان کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ یہ نظام حیات انسان کو ظلم زیادتی، کفر و شرک، بےحیائی بد نظمی اور تمام غم، خوف اور پریشانیوں سے محفوظ کردیتا ہے۔ اسی لیے قرآن کو بہت بڑی رحمت اور اسلام کو سلامتی کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس پیغام کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
آیات 10 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
ان لوگوں سے کہیے کہ اگر انہیں توحید باری تعالیٰ میں اختلاف ہے تو اس کا فیصلہ اللہ کریم کے حوالے ہے جس نے دنیا میں دلائل معجزات سے واضح کردیا ہے اور آخرت میں ایمان والوں کو جنت میں اور کفار کو دوزخ میں داخل کردے گا اور جس کی یہ عظمت وشان ہے وہی میرا پروردگار ہے اور کفار سے جس بھی تکلیف کے پہنچنے کا اندیشہ ہوسکتا ہے اس کے لیے میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اپنی ہر ضرورت کے لیے اس کی طرف رجوع کرتا ہوں وہ کائنات کا رب ہے تمہارا بھی وہی ہے کہ زمین و آسمان کو بنانے والا وہی ہے اور تمہیں پیدا کیا اور پھر جوڑے بنایا کہ تمہاری نسل چلے۔ اسی طرح جانوروں کو پیدا کرکے جوڑے…
Read the full tafseer →ف 10 اس لئے کہ وہ اس کے آنے کو محال سمجھتے ہیں اور بطور استہزاء کہتے ہیں کہ اگر وہ واقعی آنے والی ہے تو جلد کیوں نہیں آجاتی۔ روایات میں ہے کہ ایک مجلس میں آنحضرت ﷺ نے قیامت کا ذکر فرمایا، کچھ مشرکین بھی وہاں موجود تھے۔ وہ ازراہ تکذیب کہنے لگے ’ ’ قیامت کب آئیگی “ ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں ( شوکانی)
11 اس لئے کہ انہیں اس میں محاسبہ کا ڈر ہے۔
12 وہ چونکہ ایمان لانے اور نیک اعمال اختیار کرنے کو بیکار سمجھتے ہیں۔ اس لئے نڈر ہو کر گناہ کرتے ہیں اور جس ٹیڑھی راہ پر چاہتے ہیں اندھا دھند چلتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →(42:18) یستعجل بھا : یستعجل مضارع واحد مذکر غائب (یہاں جمع کے لئے استعمال ہوا ہے) استعجال (استفعال) مصدر۔ وہ جلدی مانگ رہے ہیں وہ جلدی مچاتے ہیں۔ وہ تعجیل چاہتے ہیں عجلۃ بمعنی جلدی۔ بھا میں ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع الساعۃ۔ القیامۃ ہے۔
الذین لایؤمنون بھا۔ وہ لوگ جو اس (قیامت) پر ایمان نہیں رکھتے یہ جملہ اپنے اسم موصول اور صلہ سے مل کر فاعل ہے فعل یستعجل کا
والذین امنوا مشفقون منھا : الذین امنوا۔ اسم موصول و صلہ مل کر مبتداء مشفقون منھا خبر۔ اور جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ تو اس سے ڈرتے ہیں ۔ مشفقون اسم فاعل جمع مذکر اشفاق (افعال) مصدر۔ مشفق واحد۔
شفق کا معنی ہے غروب آفتاب کے وقت روشنی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 19 : استجیب ( قبول کیا گیا ، مان لیا گیا) داحضۃ ( غلط ، جھوٹ ، باطل) المیزان ( تولنے کی چیز، ترازو) مایدری (وہ نہیں جانتا) یستعجل ( وہ جلدی کرتا ہے) مشفقون ( ڈرنے والے) یمارون ( وہ جھگڑتے ہیں)
تشریح : آیت نمبر 26 تا 19 : اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قرآن حکیم ایک ایسی بر حق کتاب ہے اور غلط اور صحیح بات کو چھانٹ کر رکھ دینے والی ایک ایسی کسوٹی ہے جس کی عظمت اور عدل و انصاف کی تعلیم کے سامنے ہر شخص جھکنے پر مجبور ہے۔ جس کی عظمت دلوں میں بیٹھ چکی ہے اس لئے تم میں سے بہت سے خوش نصیب لوگوں نے اس سچائی کو قبول کرلیا ہے اور وہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی سعادت حاصل کرچکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
(ف 1) جو بندہ خالصا اللہ عمل کرتا ہے اور اپنے کاموں سے آخرت کا منافع لینا چاہتا ہے اور یہ جانتا ہے کہ جو یہاں بیج بوؤں وہاں کاٹوں تو ہم اس کے کھیت کی پیداوار اور بےحدزائد کرتے ہیں یعنی اس کا ثواب ہزارہا گنادیں گے یا یہ کہ اس کو خوشی اور قوت اچھے کاموں کی زائد کریں گے اور اس کے دل میں اور خلوص بڑھائیں گے یا یہ کہ دنیا میں کبھی دیں گے اور وہاں بھی زائد اور جس کا عمل محض دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو، اور وہ آخرت پر ایمان نہ رکھتا ہو تو ہم اس کو دنیا کا نفع دیتے ہیں اور ظاہر مصیبت دنیا ٹالتے ہیں وہاں جاکر قیامت میں خالی رہے گا کچھ نہ ملے گا کہ کام کرتے وقت اپنے وہاں کے نفع کا خیال نہ تھا اسنے فقط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
[14] یعنی اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے ذریعے دین حق کا راستہ بتلا دیا۔ کیا اس کے سوا کوئی اور ہستی ایسی ہے جسے کوئی دوسرا راستہ مقرر کرنے کا حق اور اختیار حاصل ہو کہ وہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال اور حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام ٹھہرا دے ؟
[15] پھر آخر ان مشرکین نے اللہ کی راہ چھوڑ کر دوسری راہیں کہاں سے نکال لیں ؟ قول فیصل یہ کہ ان پر پورا عذاب آخرت میں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
حل لغات : ۔ داحضہ ۔ باطل المیزان ۔ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کو نازل فرمایا ہے اسی طرح اس کی صدقتوں کو تولنے کے لئے معیار مقرر فرمائے ہیں ۔
2: اہل کتاب بھولے بھالے مسلمانوں سے کہتے تھے ۔ کہ کیوں نہ ہم اور تم ان انبیاء پر متفق ہوجائیں ۔ جن پر تمہارا بھی ایمان ہے اور حضور ﷺ کی نبوت کو جو مختلف فیہ ہے ۔ چھوڑ دیں ۔ اس کا جواب دیا ہے کہ جبکہ حضور ﷺ میں اور گزشتہ انبیاء میں کوئی فرق نہیں ۔ سب کے پیغام میں یکسانی اور وحدت ہے ۔ اور معجزات وخوارق بھی ان کی تائید میں تم دیکھ چکے ہو ۔ تو پھر کیوں نہ ان کی نبوت کو تسلیم کرلیا جائے ۔
Read the full tafseer →(18) قیامت کو وہی لوگ جلدی چاہتے ہیں جو اس کے آنے کا یقین نہیں رکھتے اور جو لوگ اس پر یقین رکھتے ہیں وہ تو اس سے ڈرتے اور خوف کھاتے ہیں اور وہ یہ جانتے ہیں کہ اس قیامت کا وقوع ایک غیر مشتبہ حقیقت ہے آگاہ رہو جو لوگ قیامت کے بارے میں اور قیامت کے وقوع میں جھگڑا کرتے ہیں وہ یقینا پرلے درجے کی گمراہی میں مبتلا ہیں یعنی قیامت کے آنے کی وہی لوگ تعجیل کرتے ہیں اور جلدی مچاتے ہیں جن کو قیامت پر ایمان نہیں اور جو لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ ڈرتے اور کانپتے رہتے ہیں اور اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ قیامت کا وقوع ایک غیر مشتبہ حقیقت ہے وہ یقینی طور پر آنے والی ہے۔
پھر تاکیداً فرمایا کہ جو لوگ قیامت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
ف 3۔ یعنی بعد اس کے کہ بہت سے آدمی عقیل و فہیم مسلمان ہو کر اس کو مان چکے جس سے حجت اور زیادہ ظاہر ہوگئی۔
4۔ اور اس سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ اللہ کو اس کے دین کو مانو، اور اس کا ماننا یہ ہے کہ کتاب اللہ کو جو کہ جامع و مشتمل ہے حقوق اللہ و حقوق العباد کو سچ اور واجب العمل جانو۔
Read the full tafseer →قیامت پر ایمان نہ لانے والوں ہی کو جلدی ہے کہ وہ آ کیوں نہیں جاتی
18 ؎ جن لوگوں کو قیامت کے آنے پر تعجب ہے اور وہ قیامت کے وارد ہونے ہی سے انکاری ہیں تعجب تو ان پر ہونا چاہئے کہ ایک طرف تو وہ قیامت کے آنے پر یقین ہی نہیں رکھتے بلکہ برملا کہتے ہیں کہ قیامت ویامت کچھ بھی نہیں یہ تو صرف ملاؤں کی باتوں میں سے ایک بات ہے جس کا سر ہے نہ پیر وہی اس معاملہ میں جلدی کر رہے ہیں اور بار بار کہتے نظر آتے ہیں کہ اگر اس کو آنا ہی ہے تو وہ آخر آ کیوں نہیں جاتی ؟ کوئی ان سے پوچھے کہ ایک طرف تو تم کو اس کے آنے پر یقین ہی نہیں آ رہا اور دوسری طرف تمہارا مطالبہ یہ بھی ہے کہ اگر اس کو آنا ہی ہے تو پھر آ کیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
This fact is stated in the next sentence, أَنزَلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ وَالْمِيزَانَ "has sent down the Book with truth and the Balance as well - 17." Here ` the Book' means the Qur'an, and all the previous revealed Books, and ` truth' means the divine religion mentioned above, and ` the Balance' literally means a weighing balance. Since it is an instrument of weighing one's due and establishing justice, Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ has taken it to mean ` equity' and ` justice'. Mujahid (رح) leading exegete, has said that here the ` Balance' means full payment of everyone's rights and doing…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
34 The word "Kind" cannot fully convey the meaning of the word "Latif" as used in the original. This word contains two meanings: First, that Allah is very Kind and Compassionate to His servants; second, that He is a subtle observer and keeps in view even their minutest and most ordinary needs, which none else can see, and He fulfils them in such ways that they themselves do not perceive as to which need of theirs has been fulfilled at what time and by whom. Then the "servants" here dces not imply only the believers but aII servants. That is, Allah is Kind and Compassionate to all His…
Read the full tafseer →