Ash-Shura 42:19

Ash-Shura · from ayah 19

42:19

اَللّٰهُ لَطِیْفٌ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ ۚ— وَهُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ ۟۠اَللّٰهُ لَطِيۡفٌۢ بِعِبَادِهٖ يَرۡزُقُ مَنۡ يَّشَآءُ‌ۚ وَهُوَ الۡقَوِىُّ الۡعَزِيۡزُ

خدا اپنے بندوں پر مہربان ہے وہ جس کو چاہتا ہے رزق دیتا ہے۔ اور وہ زور والا (اور) زبردست ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Allah is Subtle with His servants; He gives provisions to whom He wills. And He is the Powerful, the Exalted in Might.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 2 of surah · Ruku 3 of juzع

Read the whole surah · Surah Ash-Shura

All translations of 42:19

اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے جسے جو کچھ چاہتا ہے دیتا ہے، وہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا اپنے بندوں پر مہربان ہے وہ جس کو چاہتا ہے رزق دیتا ہے۔ اور وہ زور والا (اور) زبردست ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا ہی لطف کرنے واﻻ ہے، جسے چاہتا ہے کشاده روزی دیتا ہے اور وه بڑی طاقت، بڑے غلبہ واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، وہ جس کو چاہتا ہے رزق دیتا ہے، اور وہی ہے جو قوت کا بھی مالک ہے، اقتدار کا بھی مالک ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ اپنے بندوں پر لطف فرماتا ہے جسے چاہے روزی دیتا ہے اور وہی قوت و عزت والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اللہ اپنے بندوں پر بڑا لطف و کرم فرمانے والا ہے، جسے چاہتا ہے رِزق و عطا سے نوازتا ہے اور وہ بڑی قوت والا بڑی عزّت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، رزق دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہی بہت قوت والا، سب پر غالب ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے جسے (جتنا) چاہتا ہے رزق دیتا ہے اور وہ طاقتور اور زبردست ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے وہ رزق بخشتا ہے جس کو چاہتا ہے اور وہ نہایت زور آور اور غالب ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ بڑا ہی مہربان ہے اپنے بندوں پر وہ جسے (جو کچھ) چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور وہی ہے قوت والا سب پر غالب

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ اپنے بندوں کے باریک امور سے خوب باخبر ہے جس کو چاہتا ہے روزی دیتا ہے اور وہ بڑا قوت والا ہے بڑا زبردست ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ اپنے بندوں کے حق میں بہت مہربان ہے وہ رزق دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ } اور وہ تو بہت قوی ہے بہت زبردست ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے وہ جس کو چاہتا ہے رزق دیتا ہے اور وہ زور والا اور زبردست ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah is Most Gentle to His servants and grants sustenance to whomsoever He pleases. He is All-Strong, Most Mighty.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah is kind to His servants. He gives provision to whom He wills, and He is the Strong, the Mighty.

— Muhammad Taqi Usmani

Allah is kind to His servants. He gives provision to whom He wills, and He is the Strong, the Mighty.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Allah is very Gracious and Kind to His servants. He gives provisions to whom He wills. And He is the All-Strong, the Almighty.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Allah is gracious unto His slaves. He provideth for whom He will. And He is the Strong, the Mighty.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Allah is Subtle with His servants; He gives provisions to whom He wills. And He is the Powerful, the Exalted in Might.

— Saheeh International

God is kind to His servants. He gives sustenance to whomever He wants. He is All-powerful and Majestic.

— Muhammad Sarwar

Allah is Benignant to His servants; He gives sustenance to whom He pleases, and He is the Strong, the Mighty.

— Muhammad Habib Shakir

Allah is Gentle Unto His bondmen: He provideth for whomsoever He will, and He is the Strong, the Mighty.

— Abdul Majid Daryabadi

Gracious is Allah to His servants: He gives Sustenance to whom He pleases: and He has power and can carry out His Will.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 42:19

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 19–22

غفورو رحیم اللہ اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے ایک کو دوسرے کے ہاتھ سے روزی پہنچا رہا ہے ایک بھی نہیں جسے اللہ بھول جائے نیک بد ہر ایک اس کے ہاں کا وظیفہ خوار ہے جیسے فرمایا (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ) 11۔ ھود :6) ، زمین پر چلنے والے تمام جانداروں کی روزیوں کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے وہ ہر ایک کے رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے اور سب کچھ لوح محفوظ میں لکھا ہوا بھی ہے وہ جس کے لئے چاہتا ہے کشادہ روزی مقرر کرتا ہے وہ طاقتور غالب ہے جسے کوئی چیز عاجز…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 18–19

سورة الشُّوْرٰی 34 اصل میں لفظ لَطِیْفٌ استعمال ہوا ہے جس کا پورا مفہوم " مہربان " سے ادا نہیں ہوتا۔ اس لفظ میں دو مفہوم شامل ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ اپنے بندوں پر بڑی شفقت و عنایت رکھتا ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ بڑی باریک بینی کے ساتھ ان کی دقیق ترین ضروریات پر بھی نگاہ رکھتا ہے جن تک کسی کی نگاہ نہیں پہنچ سکتی، اور انہیں اس طرح پورا کرتا ہے کہ وہ خود بھی محسوس نہیں کرتے کہ ہماری کونسی ضرورت کب کس نے پوری کردی۔ پھر یہاں بندوں سے مراد محض اہل ایمان نہیں، بلکہ تمام بندے ہیں، یعنی اللہ کا یہ لطف اس کے سب بندوں پر عام ہے۔ سورة الشُّوْرٰی 35 مطلب یہ ہے کہ اس لطیف عام کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ سب بندوں کو سب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور یہ لوگ جو دنیا کی ناز و نعمت پر مغرور ہو کر آخرت کو بھلا بیٹھے ہیں اور یہ سمجھتے اور کہتے ہیں کہ اگر ہمارا عمل اللہ کی رضا کے خلاف ہوتا تو ہم کو یہ عیش و عشرت کیوں دیتا خوب سمجھ لو کہ یہ ان کی بھول ہے، یہ دنیا کی دولت و نعمت دلیل رضا نہیں بلکہ اس کی وجہ تو یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ (دنیا میں) اپنے بندوں پر (عام طور سے) مہربان ہے (اسی رحمت عامہ کے سبب سب کو روزی دیتا ہے صحت و تندرستی دیتا ہے جس میں مصالح و حکمت کی بنا پر کمی و بیشی بھی ہوتی ہے کہ) جس کو (جس قدر) چاہتا ہے روزی دیتا ہے (مگر نفس روزی سب میں مشترک ہے) اور (دنیا میں اس لطف و مہربانی سے یہ سمجھ لینا کہ ان کا طریقہ حق ہے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اللہ لطیف بعبادہ یرزق من یشآء وھو القوی العزیز 19 نافرمانوں کو ڈھیل دینے کی حکمت یہ سبب بیان فرمایا ہے اس بات کا کہ کیوں اللہ تعالیٰ نافرمانوں اور شریروں کو اتنی ڈھیل دیتا ہے کہ وہ دل یر ہو کر عذاب اور قیامت کے لئے جلدی مچانے اور اس کا مطالبہ کرنے لگتے ہیں۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے۔ وہ رحمت کرنے میں سبقت کرتا ہے، عذاب نازل کرنے میں جلد ہی نہیں کرتا۔ وہ نافرمانوں کی نافرمانی کے باوجود ان کو رزق دیتا رہتا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر توبہ و اصلاح کرلیں اور اپنے رب کی ابدی رحمت کے سزا دار بن جائیں۔ وھو القوی العزیز اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ خدا نہایت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

اور جس کا ارادہ آخر کی کھیتی کا ہو ہم اسے اس کی کھیتی میں ترقی دیں گے (1) اور جو دنیا کی کھیتی کی طلب رکھتا ہو ہم اسے اس دنیا میں سے ہی کچھ دے دیں گے ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 14–19

3: پہلے سے طے شدہ بات یہ تھی کہ ان لوگوں کو ایک دم کسی عذاب سے ہلاک نہیں کیا جائے گا، بلکہ مہلت دی جائے گی جس میں اگر یہ چاہیں تو ایمان لاسکیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 17–20

آیت نمبر 17 تا 19 اللہ نے ایک تو کتاب برحق نازل کی اور اس میں عدل نازل کیا۔ اس میزان عدل کے مطابق لوگوں کے اختلافات کے بارے میں حکم دینے اور فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔ یہ فیصلہ لوگوں کی خواہشات و دعا وی کے بارے میں ہو یا ان کی آراء کے بارے میں ہو یا عقائد و نظریات کے بارے میں۔ اور اللہ نے ایک نظام شریعت بھی نازل کیا جس کی اساس عادلانہ فیصلوں پر رکھی۔ قرآن نے عدل کے لئے میزان کا لفظ استعمال کیا۔ یعنی ایسا عدل کہ جس کے مطابق حقوق کا وزن کیا جاسکے۔ اعمال اور تصرفات کو تولا جاسکے۔ اب روئے سخن کتاب و میزان سے قیامت کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ اور مناسبت مضمون واضح ہے کہ کتاب اور شریعت نے بھی لوگوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی باوجود تکذیب و انکار کے روزی کسی کی بند نہیں کرتا۔ بلکہ بندوں کے باریک سے باریک احوال کی رعایت کرتا اور نہایت نرمی اور تدبیر لطیف سے ان کی تربیت فرماتا ہے۔ 6 جس کو چاہے، جتنی چاہے دے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 19 { اَللّٰہُ لَطِیْفٌٌم بِعِبَادِہٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآئُ } ”اللہ اپنے بندوں کے حق میں بہت مہربان ہے ‘ وہ رزق دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔“ لفظ ”لَطِیْفٌ“ میں لطف و کرم اور شفقت و مہربانی کے علاوہ باریک بین ہونے کا مفہوم بھی ہے۔ یعنی وہ بڑی باریک بینی کے ساتھ ان کی دقیق ترین ضروریات پر بھی نگاہ رکھتا ہے۔ آیت زیر مطالعہ کے مندرجہ بالا الفاظ کو اقامت دین کی جدوجہد کے سیاق وسباق میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یعنی اقامت دین کی جدوجہد میں تمہیں یہ فکر نہیں ہونی چاہیے کہ ہم کھائیں گے کہاں سے ‘ پہنیں گے کیا اور ہماری دوسری ضروریات کیسے پوری ہوں گی ؟ اس حوالے سے قبل ازیں سورۃ العنکبوت ‘ آیت 60 کے ذیل میں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

29 لطیف کا مفہوم :۔ لطیف کا معنی عموماً مہربان کرلیا جاتا ہے۔ لیکن اس کا معنی اردو میں کسی ایک لفظ سے ادا نہیں ہوسکتا۔ اس کے مادہ لطف کے بنیادی معنی میں دو باتیں پائی جاتی ہیں (1) دقّت نظر، (2) نرمی، (مقاییس اللغہ) اور لطیف کے معنی میں کبھی صرف ایک ہی بات یعنی دقت نظر یا باریک بینی یا راز یا چھوٹی چھوٹی جزئیات تک سے آگاہی کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ جیسے ( لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ 103۔ ) 6 ۔ الانعام :103) میں ہے۔ اور کبھی دونوں باتیں پائی جاتی ہیں۔ جیسے اس مقام پر دونوں چیزیں موجود ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی چھوٹی چھوٹی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

24۔ (اور ان صفات کا پورا ظہور ان لوگوں کے حق میں آخرت میں ہوگا) اللہ ..... یشآء “۔ یعنی حق تعالیٰ ہی اپنے بندوں کے مصالح خفی ومنافع بعید سے خوب واقف ہے۔ وہی حسب مصالح تکوینی جس کو جس قدر چاہتا ہے روزی دیتا ہے۔ رزق کی افراط یا تفریط، زرومال کی کثرت یا افلاس۔ یہ سب انتظامی امور ہیں۔ انہیں کسی کے حق و باطل ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–19

آیت نمبر 10 تا 19 ترجمہ : اور جس چیز (یعنی) دین وغیرہ میں کفار کے ساتھ تمہارا اختلاف ہوا، اس کا فیصلہ قیامت کے دن اللہ ہی لوٹے گا، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا، آپ ان سے کہئے یہی اللہ میرا رب ہے، جس پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے، اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں، وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، اس نے تمہارے لئے تمہاری جنس کے جوڑے بنا دئیے ہیں، بایں طور کہ اس نے (حضرت) حواء کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا فرمایا اور چوپایوں کے نرو مادہ کے جوڑے بنائے (یَذْرَءُکُم ْ ) ذال معجمہ کے ساتھ (یعنی ذال کے ساتھ ہے نہ کہ دال کے ساتھ) اور یَذرَءُکُمْ بمعنی یَخْلُقُکُمْ ہے یعنی مذکورہ طریقہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اللہ لطیف بعبادہ یرزق من یشاء وھو القوی العزیز اللہ (دنیا میں) اپنے بندوں پر مہربان ہے ‘ جس کو (جس قدر) چاہتا ہے روزی دیتا ہے ‘ اور وہی قوت والا (اور) زبردست ہے۔ اَﷲُ لَطِیْفٌ۔ لطیف کا ترجمہ ابن عباس نے کیا : بڑا مہربان۔ عکرمہ نے کہا : بندوں سے بھلائی کرنے والا۔ سدی نے کہا : نرمی کرنے ولا۔ مقاتل نے کہا : نیکوں اور بدوں پر ‘ سب پر مہربانی کرنے والا کہ بدکاروں کی خطاکاریوں کی وجہ سے کسی کو ہلاک نہ کرتا۔ بعض نے یہ مطلب بیان کیا کہ نفع پہنچانے والا ‘ اور مصائب کا رخ پھیر دینے کی تدبیر وہ اپنے مخفی علی سے کرنے والا ہے۔ بعض نے کہا : اس کا علم دقیقہ رس ہے ‘ اس کا حلم عظیم ہے۔ وہ بندے کی اچھائیاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر خواہ نیک ہوں یا بد مہربان ہے، یا یہ کہ ان کو علم کی دولت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے مال کی وسعت عطا کرتا ہے، وہ بندوں کو رزق دینے میں قوت والا اور کافر کو سزا دینے میں زبردست ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) اللہ لطیف بعبادہ :”لطیف“ ایسی چیز جو گرفت میں نہ آسکے۔ اللہ تعالیٰ کی صفت ”لطیف“ اس لحاظ سے ہے کہ وہ باریک سے باریک چیز کی خبر رکھنے والا ہے اور اس لحاظ سے بھی کہ اس کی تدبیر نہایت باریک ہوتی ہے جو نظر نہیں آتی۔ اس لحاظ سے اس کا معنی طف و کرم کرنے والا بھی ہے کہ وہ ایسے باریک طریقے سے مہربانی فرماتا ہے کہ نظر ہی نہیں آتا کہ یہ کیسے ہوگئی۔ (مفردات) گویا ”لطیف“ میں دو صفتیں جمع ہیں، ایک نہایت باریک بین اور دوسری نہایت مہربانی والا۔ ان کے ضمن میں کمال علم بھی ہے جس کے بغیر باریک بینی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بندوں پر لطیف ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے ان کی کوئی چھوٹی سے چھوٹی مادی یا روحانی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ لطیف بعباد ہ ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ ان پر شفیق ہے۔ عکرمہ نے کہا : وہ ان کے ساتھ نیکی کرنے والا ہے۔ سدی نے کہا : وہ ان کے ساتھ نرمی کرنے والا ہے۔ مقاتل نے کہا : وہ نیک اور فاجر کے ساتھ مہربانی کرنے والا ہے کیونکہ ان کے معاصی کیوجہ سے وہ بھوکوں نہیں مرتے۔ قرظی نے کہا : وہ پیشی اور محاسبہ کے موقع پر شفقت فرمانے والا ہے۔ کہا : غدا عند مولی الخلق للخلق موقف یسا ئلھم فیہ الجلیل و یلطف قیامت کے روز مخلوق نے خالق کے ہاں کھڑا ہونا ہے ‘ اس روز اللہ تعالیٰ ان کے باز پرس کرے گا اور مہربانی فرمائے گا۔ جعفر بن محمد بن علی بن حسین نے کہا : رزق میں دو طریقوں سے مہربانی فرماتا ہے : (1) اس نے تیرا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 18–19

1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تمنا کریں گے اس کی تمنا کرنے والے ان سے کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ کا تو یہ فرمان ہے (آیت ) ” یستعجل بھا الذین لایؤمنون بھا، والذین امنوا مشفقون منھا “ (اس کے جلد آنے کے طلبگار وہی لوگ ہوتے ہیں جو اس کے آنے کا یقین نہیں رکھتے اور جو لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں تو وہ اس سے ڈرتے ہیں) پھر فرمایا کہ وہ لوگ اپنے ایمان کے بارے میں ڈر کی وجہ سے تمنا کریں گے

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَللّٰهُ لَطِيْفٌۢ [ اللہ نرمی کرنے والا ہے ] بِعِبَادِهٖ [ اپنے بندوں پر ] يَرْزُقُ [ وہ روزی دیتا ہے ] مَنْ يَّشَاۗءُ ۚ [ اس کو جسے وہ چاہتا ہے ] وَهُوَ الْقَوِيُّ [ اور وہ ہی قوت والا ہے ] [الْعَزِيْزُ : بالا دست ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربان ہے ﴿اَللّٰهُ لَطِيْفٌۢ بِعِبَادِهٖ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَآءُ 1ۚ﴾ (اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے وہ رزق دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ قوی ہے عزیز ہے اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربان ہے وہ جسے چاہتا ہے رزق دیتا ہے نیک بندوں کو بھی کھلاتا ہے اور کفار و فجار کو بھی کھانے کی چیزیں دیتا ہے، کفار کی معصیت کی وجہ سے وہ اپنا رزق نہیں روکتا مہربانی کی یہ ایک صورت ہے اور اس کے علاوہ اس کی بہت سی مہربانیاں ہیں دنیا میں بھی ان کا مظاہرہ ہوتا رہتا ہے اور آخرت میں بھی اس کی مہربانی کا مظاہرہ ہوگا، علامہ قرطبی (رح) نے لطیف کی تشریح کرتے ہوئے آٹھ دس معانی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–19

بیان نزول کتاب باحق وصداقت ونزول میزان برائے عدل و انصاف : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اللہ الذی انزل الکتب بالحق ....... الی ...... وھو القوی العزیز “۔ (ربط) گذشتہ آیات کا حاصل یہ تھا یہ حضور اکرم ﷺ کی وحی انبیاء سابقین اور اولوالعزم رسولوں کی وحی ہی کی طرح ہے، اور آپ ﷺ کا دین بھی اصولا وہی دین ہے، آپ ﷺ کی کتاب بھی جملہ کتب سابقہ کے علوم کی حامل اور مصدق ہے، اب ان آیات میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنی کتاب حق وصداقت کے ساتھ نازل فرما دی ہے اور یہ کتاب الہی درحقیقت حق وصداق کو تولنے کی ترازو ہے، اس ترازو میں حق و باطل کو تولا جاتا ہے، جیسے مادی ترازو میں مادی اشیاء تولی جاتی ہیں،…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 18–19

18:۔ ” اللہ لطیف۔ الایۃ “ یہ آیت پہلے دعوے سے متعلق ہے اور اس کی تائید ہے۔ القوی القادر علی کل شیء، العزیز ای لایغالب ولا یدافع “ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے حسب حکمت کسی کو زیادہ اور کسی کو کم رزق دیتا ہے، وہ ہر چیز پر قادر اور سب پر غالب ہے۔ لہذا سب کچھ کرنے والا اور کارساز وہی ہے، اس لیے حاجات میں صرف اسی کو پکارو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 16–19

ربط آیات گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت اور جزائے عمل اور خاص طور پر کتاب کا ذکر فرمایا اور اپنے پیغمبر کی زبان سے کہلوایا کہ میں اس پر ایمان لایا ۔ دراصل گزشتہ آیت میں اللہ نے دین کے دس اصول بیان فرمائے ہیں یعنی دعوت الی الدین ، استقامت علی الدین ، خواہشات کا عدم اتباع ، کتب سماویہ پر ایمان قیام عدل ، اللہ تعالیٰ کی ربوبیت ، اعمال کا بدلہ ، قیامت کا اجتماع اور رجوع الی اللہ عدم تنازعات اب ان آیا ت میں بھی کتاب الٰہی اور قیامت کا ذکر ہے اور اللہ تعالیٰ کی بعض صفات بیان کی گئی ہیں۔ دین کے خلاف کمزوری ارشاد ہوتا ہے والذین یحاجون فی اللہ من بعدی ما استجیب لہ اور وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَللہُ لَطِيْفٌۢ بِعِبَادِہٖ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَاۗءُ۝ 0 ۚ وَہُوَالْقَوِيُّ الْعَزِيْزُ۝ 19 ۧ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–20

ترکیب : قال الکسائی قریب نعت ینعت بھا المذکرو المونث کمافی قولہ ان رحمۃ اللہ قریب من المحسنین ویمکن ان یکون فاعل قریب ایتانھالا الضمیر الراجع الی الساعۃ۔ تفسیر : اس تمام گفتگو کے بعد مسئلہ نبوت کو تمام کر کے دارآخرت کی طرف توجہ دلاتا ہے یا یوں کہو کہ پہلے جو فرمایا تھا کہ جس چیز میں تمہارا اختلاف ہو اس کا فیصلہ اللہ کی طرف مفوض ہے۔ اب اس کی ایک اور وجہ بیان فرماتا ہے کہ اللہ کی طرف اس لیے کہ اس نے کتاب برحق اور عدل کی ترازو نازل کردی ہے اس میں ہر بات کو تول دیکھو۔ المیزان سے مراد کتاب آسمانی ہے اسی میں نیک و بد ‘ اچھا برا کام وزن ہوتا ہے اور اس کے اتارنے سے کیا غرض ہے وہ یہ کہ قیامت کے لیے ہر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَللّٰہُ لَطِیْفٌ م بِعِبَادِہٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآئُ ج وَھُوَالْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ ۔ (الشوری : 19) (اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے وہ جس کو چاہتا ہے رزق بخشتا ہے وہ بڑی قوت والا ہے اور زبردست ہے۔ ) نافرمانوں کو ڈھیل دینے کی حکمت گزشتہ آیت کے مضمون پر ایک اعتراض وارد ہوتا ہے کہ جو لوگ قیامت پر واضح دلائل کے باوجود ایمان نہیں لاتے بلکہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں ایسے لوگ اس قابل نہیں کہ انھیں مہلت دی جائے، انھیں تو فوری سزا ملنی چاہیے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات بہت لطیف یعنی مہربان ہے۔ اور یہ مہربان کا لفظ بھی اس کی رأفت کے مضمون کو واضح نہیں کرتا۔ اسی رأفت کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح حق و باطل میں فرق سمجھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک میزان قائم فرمایا ہے اسی طرح اس کے ہاں رزق کے لیے ایک میزان ہے جس کے مطابق اللہ تعالیٰ لوگوں کا رزق کم اور زیادہ کرتا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ننانوے سے زائد اسماء الحسنیٰ ہیں۔ اسم ” اللہ “ کے علاوہ تمام کے تمام صفاتی اسمائے گرامی ہیں۔ ہر اسم اپنے آپ میں ایک متعین معنٰی رکھنے کے باوجود دوسری صفات کی بھی ترجمانی کرتا ہے۔ اسماء عالی مرتبت میں ایک مبارک نام ” اللَّطِیْفُ “ بھی ہے۔ ” اللَّطِیْفُ “ کا معنٰی باریک سے باریک چیز کو جاننے والا اور اپنی مخلوق پر ہمہ وقت لطف و کرم کی برکھا برسانے والا ہے۔ اسی لطف وکرم کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

رزق مصلحت سے : 19: اَللّٰہُ لَطِیْفٌم بِعِبَادِہٖ (اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربان ہے) وہ بڑے لطیف انداز سے اپنے بندوں کو منافع پہنچاتا اور بلائوں کو ان سے ہٹاتا ہے۔ یا ان پر بڑا مہربان ہے اس کی مہربانی تمام کو پہنچنے والی ہے۔ ایک قول یہ ہے : کہ اس کا علم غوامض سے بھی لطیف تر ہے۔ اور اس کا حلم جرائم سے وسیع تر ہے۔ یا وہ مناقب کو پھیلاتا اور گناہوں کو چھپاتا ہے۔ یا وہ اس کو معاف کرنے والا ہے جو لغزشوں کا مرتکب ہے۔ یا وہ بندے کو کفایت سے بڑھ کردیتا ہے اور طاقت سے کم تر طاعت کا ذمہ دار بناتا ہے۔ قولِ جنید (رح) ہے اولیاء پر لطف و کرم کیا تو ان میں پہچان آگئی اگر وہ اپنے اعداء پر بھی نگاہ لطف ڈال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

18، یستعجل بھا الذین لایؤمنون بھا، یہ گمان کرتے ہوئے کہ وہ نہیں آئے گی۔ ، والذین امنوا مشفقون، یعنی ڈرتے ہیں۔ ، منھا ویعلمون انھا الحق، کہ وہ آنے والی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ ، الاان الذین بمارون، جھگڑتے ہیں اور کہا گیا ہے کہ ان کو شک ہوتا ہے۔ ، فی الساعۃ لفی ضلال بعید،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–22

16۔ 22۔ اوپر فرمایا تھا کہ جو حکم اللہ تعالیٰ نے سب انبیاء کو اور تم کو اللہ کی وحدانیت کے پھیلانے کا دیا ہے اے رسول اللہ کے اس کے موافق لوگوں کو نصیحت کرو ان آیتوں میں فرمایا جو لوگ اس نصیحت کے وقت اللہ کے حکم پر جھگڑا ڈالتے ہیں اور اتنا نہیں سمجھتے کہ ان کے بھائی بندوں اور قوم میں سے جس کسی نے اس نصیحت کو غور سے سنا وہ راہ راست پر آگیا اس لئے ایسے ضدی لوگوں کا جھگڑا کچھ التفات کے قابل نہیں ہے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کا غصہ ہے اور یہ لوگ قیامت کے دن سخت عذاب کے لائق ہیں۔ صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم میں نعمان بن بشیر سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سب سے کم عذاب والے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 19–20

آیت 19 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنے لطف و کرم سے آگاہ فرماتا ہے تاکہ وہ اسے پہچانیں، اس سے محبت کریں اور اس کے فضل و کرم کے حصول کے در پے رہیں۔ لطف اللہ تعالیٰ کے اوصاف میں سے ایک وصف ہے جس سے مراد وہ ہستی ہے جو دل کی باتوں اور چھپے ہوئے بھیدوں کو بھی جانتی ہے جو اپنے بندوں کو، خاص طور پر اہل ایمان کو، اس مقام تک پہنچاتی ہے جس کے بارے میں انہیں کوئی علم ہوتا ہے نہ گمان۔ یہ بندہ مومن پر اس کا لطف و کرم ہے کہ اس نے بھلائی کے اسباب مہیا کر کے اسے بھلائی کی راہ دکھائی، جس کا اس کے دل میں خیال تک نہیں آتا، اس کی فطرت میں موجود یہ اسباب محبت حق اور اس کی اطاعت کی طرف بلاتے ہیں، نیز یہ کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 19–20

57 آخرت ہی اصل مقصود ہونی چاہیے ؟ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اصل مقصود آخرت ہی کو بنانا چاہیئے کہ اسی میں دنیا کا بھی بھلا ہے۔ یعنی انسان اپنی اس دنیاوی زندگی میں اچھا برا جو بھی کوئی عمل کرتا ہے وہ اس کی اپنی کمائی ہے۔ کیونکہ دنیاوی زندگی کی یہ فرصت جو آج اسے میسر ہے دراصل ایک کھیتی ہے جسے وہ خود کاشت کر رہا ہے۔ جس کا پھل خود اسی کو ملے گا۔ اچھی کھیتی اور کمائی کا اچھا پھل اور بری کھیتی کا برا پھل ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ۔ " اَلدُّنْیَا مَزْرَعَۃُ اِلْاٰخِرَۃِ " ۔ یعنی " یہ دنیا آخری کی ابدی اور حقیقی زندگی کی کمائی کے لئے ایک عظیم الشان کھیتی ہے "۔ پھر اپنی کمائی کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–19

اللہ کا غلبہ، قدرت، دانائی اور رحم و کرم سب سے زیادہ ہے تشریح : پہلی اور دوسری آیات میں حروف مقطعات ہیں۔ اس کے بعد رب ذوالجلال کی صفات کا ذکر ہے۔ توحید پر ایمان لانا انسان کے لیے بہترین راستہ ہے۔ کیونکہ یہی مبارک راستہ انسان کو زندگی کی تمام قباحتوں سے بچاتا ہے۔ انسان کو ایسانظام حیات عطا کرتا ہے کہ جس کی وجہ سے عبادات، اخلاقیات، معاملات، حقوق اور تعزیرات کا ایک بہترین نقشہ انسان کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ یہ نظام حیات انسان کو ظلم زیادتی، کفر و شرک، بےحیائی بد نظمی اور تمام غم، خوف اور پریشانیوں سے محفوظ کردیتا ہے۔ اسی لیے قرآن کو بہت بڑی رحمت اور اسلام کو سلامتی کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس پیغام کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–19

آیات 10 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ ان لوگوں سے کہیے کہ اگر انہیں توحید باری تعالیٰ میں اختلاف ہے تو اس کا فیصلہ اللہ کریم کے حوالے ہے جس نے دنیا میں دلائل معجزات سے واضح کردیا ہے اور آخرت میں ایمان والوں کو جنت میں اور کفار کو دوزخ میں داخل کردے گا اور جس کی یہ عظمت وشان ہے وہی میرا پروردگار ہے اور کفار سے جس بھی تکلیف کے پہنچنے کا اندیشہ ہوسکتا ہے اس کے لیے میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اپنی ہر ضرورت کے لیے اس کی طرف رجوع کرتا ہوں وہ کائنات کا رب ہے تمہارا بھی وہی ہے کہ زمین و آسمان کو بنانے والا وہی ہے اور تمہیں پیدا کیا اور پھر جوڑے بنایا کہ تمہاری نسل چلے۔ اسی طرح جانوروں کو پیدا کرکے جوڑے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 13 اس لئے ان میں سے بہت سوں کی تکذیب و استہزاء کے باوجود انہیں بھوکا نہیں مارتا بلکہ ان کی تمام ضرورتوں کو اپنے لط و کرم سے پورا کرتا ہے۔ 1 یعنی روزی کے سلسلہ میں کسی کا اس پر زور نہیں ہے کہ وہ دینا چاہیے تو اسے روک سکے اور نہ دینا چاہے تو اس سے لے سکے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(42:19) لطیف : جب یہ کسی جسم کی صفت واقع ہو تو یہ جثل کی ضد ہوتا ہے جس کے معنی بھاری اور ثقیل کے ہیں۔ کہتے ہیں شعر جثل (زیادہ اور بھاری بال) اور کبھی لطافۃ یا لطف سے حرکت خفیفہ اور رقیق امور کا سرانجام دینا مراد ہوتا ہے اور لطائف سے وہ باتیں مراد لی جاتی ہیں جن کا انسانی حواس ادراک نہ کرسکتے ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ کے لطیف ہونے کے معنی یا تو یہ ہیں کہ وہ انسانی حواس کے ادراک سے مافوق اور بالا تر ہے۔ اور یا اسے اس لئے لطیف کہا جاتا ہے کہ وہ باریک سے باریک اور دقیق امر تک سے واقف ہے اور یا یہ کہ وہ انسانوں کو ہدایت دینے میں نہایت نرم انداز اختیار کرتا ہے۔ لطیف کا ترجمہ :۔ بڑا مہربان (ابن عباس :…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–19

لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 19 : استجیب ( قبول کیا گیا ، مان لیا گیا) داحضۃ ( غلط ، جھوٹ ، باطل) المیزان ( تولنے کی چیز، ترازو) مایدری (وہ نہیں جانتا) یستعجل ( وہ جلدی کرتا ہے) مشفقون ( ڈرنے والے) یمارون ( وہ جھگڑتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 26 تا 19 : اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قرآن حکیم ایک ایسی بر حق کتاب ہے اور غلط اور صحیح بات کو چھانٹ کر رکھ دینے والی ایک ایسی کسوٹی ہے جس کی عظمت اور عدل و انصاف کی تعلیم کے سامنے ہر شخص جھکنے پر مجبور ہے۔ جس کی عظمت دلوں میں بیٹھ چکی ہے اس لئے تم میں سے بہت سے خوش نصیب لوگوں نے اس سچائی کو قبول کرلیا ہے اور وہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی سعادت حاصل کرچکے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 18–20

(ف 1) جو بندہ خالصا اللہ عمل کرتا ہے اور اپنے کاموں سے آخرت کا منافع لینا چاہتا ہے اور یہ جانتا ہے کہ جو یہاں بیج بوؤں وہاں کاٹوں تو ہم اس کے کھیت کی پیداوار اور بےحدزائد کرتے ہیں یعنی اس کا ثواب ہزارہا گنادیں گے یا یہ کہ اس کو خوشی اور قوت اچھے کاموں کی زائد کریں گے اور اس کے دل میں اور خلوص بڑھائیں گے یا یہ کہ دنیا میں کبھی دیں گے اور وہاں بھی زائد اور جس کا عمل محض دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو، اور وہ آخرت پر ایمان نہ رکھتا ہو تو ہم اس کو دنیا کا نفع دیتے ہیں اور ظاہر مصیبت دنیا ٹالتے ہیں وہاں جاکر قیامت میں خالی رہے گا کچھ نہ ملے گا کہ کام کرتے وقت اپنے وہاں کے نفع کا خیال نہ تھا اسنے فقط…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–21

[14] یعنی اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے ذریعے دین حق کا راستہ بتلا دیا۔ کیا اس کے سوا کوئی اور ہستی ایسی ہے جسے کوئی دوسرا راستہ مقرر کرنے کا حق اور اختیار حاصل ہو کہ وہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال اور حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام ٹھہرا دے ؟ [15] پھر آخر ان مشرکین نے اللہ کی راہ چھوڑ کر دوسری راہیں کہاں سے نکال لیں ؟ قول فیصل یہ کہ ان پر پورا عذاب آخرت میں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

حل لغات :۔ لطیف ۔ باریک بین اور نہایت درجہ شفیق اور مہربان ۔ اللہ نہایت شفیق ہے 1: اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حق میں بدرجہ غایت مہربان ہے ۔ جس کو چاہتا ہے حسب ضرورت اپنی ربوبیت عامہ سے بہرہ مند کرتا ہے ۔ رزق اور دولت اس کے قبضہ قدرت میں ہے ۔ چاہے ہوں کے ہاتھ میں کاسہ گدائی دے اور چاہے تو فقیروں کی جھولیاں تمدومال سے بھردے ۔ کوئی شخص اس کے ارادوں میں اس کی مزاحمت نہیں کرسکتا ۔ وہ صاحب قوت واقتدار ہے اور ہر چیز پر اس کی قدرت ہے ۔ اگر تم لوگ چاہتے ہو ۔ اور اس کی مہربانیوں کو حاصل کرلو ۔ اور قوت ومنفعت کی گرونقد رحمت کو پالو ۔ تو اس کی صورت یہی ہے کہ اس رب کریم وقدسیہ کی اطاعت کرو ۔ اس کے حکموں پر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(19) اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربانی اور نرمی کرنے والا ہے جس کو جس قدر چاہے روزی دیتا ہے اور وہ بڑی قوت والا بڑے غلبے والا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا دنیا میں عام طور سے سب کے ساتھ نرم برتائو ہے وہ جس کو جس قدر چاہے روزی دیتا ہے اور چونکہ وہ کمال قوت اور کمال غلبہ کا مالک ہے اس نے اس کے معاملات میں کوئی مزاحمت نہیں کرسکتا۔ لطیف کے بہت سے معنی کئے گئے ہیں مثلاً مناقب پھیلانے والا عیبوں کو چھپانے والا گناہوں کو معاف کرنے والا ضرورت سے زیادہ روزی دینے والاطاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالنے والا مہربانی کرنے والا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جس کو چاہے جتنی چاہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ اس لطف فی الدنیا سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کا مسلک حق ہو، اور آخرت میں بھی ان پر لطف ہو، اور عذاب نہ ہو، بلکہ وہاں بوجہ تمکس بالباطل کے معذب ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اور اپنے قانون کے مطابق رزق دیتا ہے 19 ؎ انسانی حوائج و ضروریات سے اللہ تعالیٰ پوری طرح باخبر ہے کیونکہ اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اور وہی ان کا رزاق و منتظم بھی ہے اور اس سے زیادہ کوئی عنایت و شفقت رکھنے والا ہو ہی نہیں سکتا بلاشبہ وہ نہایت ہی باریک بیں ہے جو انسانوں کی مخفی اور پوشیدہ ضرورتوں سے بھی واقف ہے اور ان کی کمزوریوں کو بھی اچھی طرح جانتا ہے اور انسانوں کے اتنا قریب ہے کہ کوئی انسان خود بھی اپنے آپ کو اتنا قریب نہیں ہو سکتا نہ تو اس کا اپنا کیا زیادہ دیر یاد رہتا ہے اور نہ ہی جو ابھی اس نے کرنا ہے اس سے آگاہ ہے لیکن اس کے برعکس اللہ تعالیٰ وہ ذات…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–22

Commentary اللَّـهُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ (Allah is kind to His slaves - 42:19). The word, latif used in the text has more than one lexical meanings. Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ has translated it here as kind, and Sayyidna ` Ikrimah ؓ has translated it as benefactor. Muqatil (رح) has said that Allah Almighty is kind to all His servants, so much so that even the infidels and sinners keep on being showered with His worldly blessings. There are many types and kinds of the divine bounties, graces and favours showered upon His servants. That is why many meanings of the word latif have been stated in the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–19

34 The word "Kind" cannot fully convey the meaning of the word "Latif" as used in the original. This word contains two meanings: First, that Allah is very Kind and Compassionate to His servants; second, that He is a subtle observer and keeps in view even their minutest and most ordinary needs, which none else can see, and He fulfils them in such ways that they themselves do not perceive as to which need of theirs has been fulfilled at what time and by whom. Then the "servants" here dces not imply only the believers but aII servants. That is, Allah is Kind and Compassionate to all His…

Read the full tafseer →