Explained with ayahs 19–22
غفورو رحیم اللہ
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے ایک کو دوسرے کے ہاتھ سے روزی پہنچا رہا ہے ایک بھی نہیں جسے اللہ بھول جائے نیک بد ہر ایک اس کے ہاں کا وظیفہ خوار ہے جیسے فرمایا (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ) 11۔ ھود :6) ، زمین پر چلنے والے تمام جانداروں کی روزیوں کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے وہ ہر ایک کے رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے اور سب کچھ لوح محفوظ میں لکھا ہوا بھی ہے وہ جس کے لئے چاہتا ہے کشادہ روزی مقرر کرتا ہے وہ طاقتور غالب ہے جسے کوئی چیز عاجز…
Read the full tafseer →سورة الشُّوْرٰی 37
گزشتہ آیت میں دو حقیقتیں بیان کی گئی تھیں جن کا مشاہدہ ہم ہر وقت ہر طرف کر رہے ہیں۔ ایک یہ کہ تمام بندوں پر اللہ کا لطف عام ہے۔ دوسرے یہ کہ اس کی عطا و بخشش اور رزق رسانی سب کے لیے یکساں نہیں ہے بلکہ اس میں فرق و تفاوُت پایا جاتا ہے۔ اب اس آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ اس لطف اور رزق رسانی میں جزوع تفاوُت تو بیشمار ہیں مگر ایک بہت بڑا اصولی تفاوت بھی ہے، اور وہ یہ ہے کہ آخرت کے طالب کے لیے ایک طرح کا رزق ہے اور دنیا کے طالب کے لیے دوسری طرح کا رزق۔
یہ ایک بڑی اہم حقیقت ہے جسے ان مختصر الفاظ میں بیان فرمایا گیا ہے۔ ضرورت ہے کہ اسے پوری تفصیل کے ساتھ سمجھ لیا جائے، کیونکہ یہ ہر…
Read the full tafseer →(حاشیہ) شکر نعمت
بسم اللہ الرحمن الرحیم
24 ربیع الثانی 1392 ھ روز چہار شنبہ کی صبح کو ”معارف القرآن“ کی تفسیر یہاں تک پہنچانے اور دارالعلوم کے دوسرے کام کرنے کے بعد نماز ظہر ادا کی اور یہ اوراق تکیہ کے نیچے دبا کر رکھے۔ کہ کھانے کے بعد تھوڑا سا آرام کر کے پھر تفسیر کا کام شروع کروں گا مگر انسان اور اس کے ارادوں کی کمزوری کا اندازہ اس سے کیجئے کہ آج پورے چھپن دن کے بعد 2 جمادی الثانیہ 1392 ھ بروز چہار شنبہ کو دوبارہ اس کاغذ پر قلم لگانے کی نوبت اس کے بعد آئی کہ ایک عرصہ تک زندگی سے مایوسی رہی، اور ڈیڑھ پارہ قرآن کی تفسیر جو لکھنا باقی تھی اس کی تکمیل کی وصیت اپنے برخور دار صالح مولوی محمد تقی…
Read the full tafseer →من کان یرسید حرت الاخرۃ نزدلہ فی حرثہ ومن کان یرید حرث الدین نوتہ منھا ومالہ فی الاخرۃ من نصیب (20)
یہ اسی سنت الٰہی کی مزید وضاحت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یو قاعدہ نہیں ہے کہ وہ اپنے رزق و فضل سے انہی کو نوازے جو اس کی بندگی کرنے والے ہوں بلکہ نیکو کاروں اور بدکاروں دونوں کو وہ روزی دیتا ہے البتہ جو لوگ آخرت کی کھیتی کرتے ہیں اللہ ان کی آخرت کی کھیتی میں بھی برکت دیتا ہے اور اس دنیا کے رزق و فضل میں سے بھی جو کچھ چاہتا ہے دیتا ہے۔ رہے وہ لوگ جو دنیا ہی کے طالب ہوتے ہیں، آخرت کی پروا انہیں نہیں ہوتی تو اللہ ان کو بھی اتنا دے دیتا ہے جتنا اس کی حکمت کا تقاضا ہوتا ہے۔ البتہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
22۔ 1 یعنی قیامت والے دن۔
22۔ 2 حالانکہ ڈرنا بےفائدہ ہوگا کیونکہ اپنے کئے کی سزا تو انہیں بہرحال بھگتنی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
4: یہی مضمون سورة بنی اسرائیل : 18 میں گذرا ہے، وہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو شخص صرف دنیا کی بہتری چاہے، اس کو دنیا کی نعمتیں دی جاتی ہیں، لیکن ہر مانگی ہوئی چیز پھر بھی نہیں ملتی، بلکہ جس کو اللہ تعالیٰ دینا چاہتا ہے، اور جتنا دینا چاہتا ہے، اتنا دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
آیت نمبر 17 تا 19
اللہ نے ایک تو کتاب برحق نازل کی اور اس میں عدل نازل کیا۔ اس میزان عدل کے مطابق لوگوں کے اختلافات کے بارے میں حکم دینے اور فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔ یہ فیصلہ لوگوں کی خواہشات و دعا وی کے بارے میں ہو یا ان کی آراء کے بارے میں ہو یا عقائد و نظریات کے بارے میں۔ اور اللہ نے ایک نظام شریعت بھی نازل کیا جس کی اساس عادلانہ فیصلوں پر رکھی۔ قرآن نے عدل کے لئے میزان کا لفظ استعمال کیا۔ یعنی ایسا عدل کہ جس کے مطابق حقوق کا وزن کیا جاسکے۔ اعمال اور تصرفات کو تولا جاسکے۔
اب روئے سخن کتاب و میزان سے قیامت کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ اور مناسبت مضمون واضح ہے کہ کتاب اور شریعت نے بھی لوگوں کے…
Read the full tafseer →7 ایک نیکی کا دس گناہ ثواب دیں، بلکہ سات سو گنا اور اس سے بھی زیادہ۔ اور دنیا میں ایمان و عمل صالح کی برکت سے جو فراخی و برکت ملے وہ الگ رہی۔
8 دنیا کے واسطے جو محنت کرے موافق قسمت کے ملے، پھر اس محنت کا فائدہ آخرت میں کچھ نہیں۔ کما قال تعالیٰ (مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا) 17 ۔ الاسراء :18)
Read the full tafseer →آیت 20 { مَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَۃِ نَزِدْ لَہٗ فِیْ حَرْثِہٖ } ”جو شخص آخرت کی کھیتی کا طالب ہوتا ہے تو ہم اس کے لیے اس کی کھیتی میں اضافہ کردیتے ہیں۔“
اس مضمون کا کلائمکس سورة بنی اسرائیل میں بایں الفاظ بیان ہوا ہے : { مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَۃَ عَجَّلْنَا لَہٗ فِیْہَا مَا نَشَآئُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَہٗ جَہَنَّمَج یَصْلٰـٹہَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا۔ ”جو کوئی طلب گار بنتا ہے جلدی والی دنیا کا ‘ ہم اس کو جلدی دے دیتے ہیں اس میں جو کچھ ہم چاہتے ہیں ‘ جس کے لیے چاہتے ہیں ‘ پھر ہم مقرر کردیتے ہیں اس کے لیے جہنم ‘ وہ داخل ہوگا اس میں ملامت زدہ ‘ دھتکارا ہوا۔“
{…
Read the full tafseer →31 ایک دنیا دار اور دیندار کے انجام کا موازنہ :۔ اس آیت میں دو آدمیوں کے طرز زندگی کا تقابل پیش کیا گیا ہے۔ جن میں سے ایک تو روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور دوسرا اس سے منکر ہے اور سب کچھ اسی دنیا کو ہی سمجھتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ آخرت پر ایمان رکھنے والا شخص جو کام بھی کرے گا آخرت کے لیے کرے گا اور آخرت کے مفاد کو دنیا کے مفاد پر ترجیح دے گا۔
ایسا شخص جو کچھ بھی اس دنیا کی کھیتی میں آخرت کے دن پھل کاٹنے کے لیے بوئے گا اللہ تعالیٰ اس میں بہت زیادہ اضافہ کر دے گا۔ جیسا کہ اس دنیا میں غلہ کا ایک دانہ بیجنے سے بعض دفعہ سات سو سے بھی زیادہ دانے حاصل ہوجاتے ہیں۔ یہ تو اس کی آخرت کا معاملہ تھا۔ اور…
Read the full tafseer →25۔ (اس لئے کہ آخرت میں حصہ ملنے کی پہلی شرط ایمان ہے اور وہی یہاں مفقود ہے) مطلب یہ ہوا کہ طلب کے قابل صرف آخرت ہے (دنیا اس میں ضمنا خود ہی آجائے گی) نہ کہ دنیا کہ وہ حسب تمنا نصیب نہیں ہوپاتی اور اس میں پڑنے سے آخرت سے بالکل حرمان ہی ہوجاتا ہے۔ (آیت) ” من کان یرید حرث الاخرۃ “۔ یعنی اس کا مطمح نظر تمامتر دنیا ہی ہے۔ اس کی کسی سعی وتدبیر کا آخرت سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ ایسے شخص سے ظاہر ہے کہ ایمان تک مفقود ہوگا۔ اہل ایمان اس کے برعکس نہ دنیا کو سرے سے ترک کردیتے ہیں، نہ اسے اپنا مطمح نظر بنائے رکھتے ہیں بلکہ دنیا کو آخرت کا ذریعہ بناتے ہیں۔ (آیت) ” حرث الدنیا۔ حرث الاخرۃ “۔ خوب خیال کرلیاجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
آیت نمبر 20 تا 29
ترجمہ : جس کا مقصد اپنے عمل سے آخرت کی کھیتی ہو، یعنی آخرت کی کمائی ہو اور وہ ثواب ہے تو ہم اس کی کھیتی میں (یعنی) نیکیوں میں دس گنے تک (بلکہ) اور اس سے بھی زیادہ اضافہ کر کے ترقی دیں گے اور جو دنیا کی کھیتی کی طلب رکھتا ہو تو ہم اسے اس میں سے بلا اضافے کے بقدر نصیب عطا کریں گے، ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں بلکہ مکہ کے ان کافروں نے کچھ شرکاء تجویز کر رکھے ہیں اور وہ شیاطین ہیں کہ ان شرکاء نے ان کافروں کے لئے دین فاسد تجویز کر رکھا ہے، جس کی خدا نے اجازت نہیں دی (اور وہ دین فاسد) شرک اور انکار بعث ہے اور اگر فیصلے کے دن کا وعدہ نہ ہوچکا ہوتا یعنی پہلے سے فیصلہ نہ ہوچکا…
Read the full tafseer →من کان یرید حرث الاخرۃ نزدلہ فی حرثہ ومن کان یرید حرث الدنیا نوتہ منھا وما لہ
فی الاخرۃ من نصیب جو شخص آخرت کی کھیتی کا طالب ہو تو ہم اس کو اس کی کھیتی میں ترقی دیں گے اور جو دنیا کی کھیتی کا طالب ہو تو ہم اس کو دنیا (اگر ہم چاہیں) تو دے دیں گے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہ ہوگا۔
مَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَۃِ ۔ حرث اصل میں زمین میں دانہ بکھیرنے کو کہتے ہیں ‘ لیکن جو کھیتی تخم پاشی سے پیدا ہوتی ہے اس کو بھی حرث کہہ لیا جاتا ہے۔ قاموس میں ہے : حرثکمائی ‘ مال جمع کرنا ‘ کھیتی ‘ اس جگہ ثواب آخرت مراد ہے۔ ثواب آخرت کو زرع سے تشبیہ دی کیونکہ آخرت میں ملنے والا ثواب دنیوی اعمال کا پھل ہے ‘…
Read the full tafseer →جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے نیک اعمال کر کے آخرت میں ثواب چاہتا ہو تو ہم اس کے ثواب یا یہ کہ اس کی قوت و نشاط اور اعمال کی خوبی میں ترقی کرتے ہیں جو اپنے اعمال کے ذریعے سے جو کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر فرض کیے ہیں دنیاوی ترقی کا طالب ہو تو ہم اسے کچھ دنیا دے دیں گے اور جنت میں اسے کچھ ثواب نہ ملے گا کیونکہ اس نے غیر اللہ کے لیے کام کیے ہیں۔
Read the full tafseer →(1) من کان یرید حرث الاخرۃ…: اللہ تعالیٰ نے دنیا کو آدمی کے لئے کھیت بنایا ہے ، وہ اس میں جو بوئے گا وہی کاٹے گا اور جس چیز کا ارادہ کرے گا وہی ملے گی۔ اسی طرح اس نے دنیا کو تجارت کی جگہ بنایا ہے، اگر خیر کا سودا کرے گا تو نفع میں خیر ملے گی، اگر شر کا سودا کرے گا تو نتیجہ میں شر پائے گا۔ اسی طرح دنیا کو آخرت کا راستہ بنایا ہے، اگر خیر کے راستے پر چلے گا توم نزل مراد پالے گا اور ہمیشہ کی جنت میں پہنچ جائے گا، اگر شر کے راستے پر چلے گا تو ہمیشہ کے عذاب اور انفسھم و اموالھم با ن لھم الجنۃ) (التوبۃ : 111)”بیشک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لئے ہیں، اس کے بدلے کہ ان کے لئے…
Read the full tafseer →من کان یرید حرث الاخرۃ نزدلہ فی حزئہ حرث سے مراد عمل اور کسب ہے ‘ اسی معنی میں حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کا قول ہے : تو دنیا کے لیے تگ و دو کر گویا تو نے ہمیشہ رہنا ہے اور اپنی آخرت کے لیے کوشش کرو گے یا تو نے کل ہی مرجانا ہے (1) ۔ اسی وجہ سے انسان کو حارث کہتے ہیں معنی ہے ہم نے اسے رزق دیا ہے جو اسے آخرت کی کھیتی کے طور پر طلب کرتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرتا ہے اور دین کی عزت کی خاطر مال خرچ کرتا ہے تو ہم اس کا ثواب ایک کے بدلہ میں دس گنا ‘ سات سو گنا اور اس سے زیادہ تک دیتے ہیں۔
ومن کان یرید حرث الدنیا تعالیٰ نے اسے جو مال دیا ہے وہ اس کے ذریعہ دنیا کی ریاست چاہتا ہے ممنوعات تک پہنچنے…
Read the full tafseer →1:۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” من کان یرید حرث الاخرۃ “ (جو شخص آخرت کی کھیتی کا ارادہ کرتا ہے) یعنی آخرت کی زندگی کا (آیت ) ” نزدلہ فی حرثہ “ (تو ہم اس میں سے دے دیتے ہیں فرمایا کہ جس نے ترجیح دی اپنی دنیا کو اپنی آخرت پر تو اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا سوائے آگ کے اور دنیا میں سے بھی کسی چیز کا اضافہ نہیں فرمائے گا سوائے اس رزق کے جس کا وہ فیصلہ کرچکے ہیں اور اس کو تقسیم کردیا گیا۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ من کان یرید حرث الاخرۃ “ یعنی جس شخص نے آخرت کی زندگی کا ارادہ کیا تو ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کردیتے ہیں۔ (آیت)…
Read the full tafseer →مَنْ كَانَ [ جو ہے (کہ ) ] يُرِيْدُ [ وہ چاہتا ہے ] حَرْثَ الْاٰخِرَةِ [ آخرت کی کھیتی کو ] نَزِدْ لَهٗ [ تو ہم زیادہ کرتے ہیں اس کے لئے ] فِيْ حَرْثِهٖ ۚ [اس کی کھیتی میں ] وَمَنْ كَانَ [ اور جو ہے (کہ ) ] يُرِيْدُ حَرْثَ الدُّنْيَا [ وہ چاہتا ہے دنیا کی کھیتی کو ] نُؤْتِهٖ [ توہم دیتے ہیں اس کو ] مِنْهَا [ اس میں سے ] وَمَا لَهٗ [ اور نہیں ہے اس کے لئے ] فِي الْاٰخِرَةِ [ آخرت میں ] مِنْ نَّصِيْبٍ [ کوئی بھی حصہ ]
ترکیب : (آیت ۔ 20) کان یرید۔ کو اگر ماضی استمراری مانیں تو آگے نزدلہ بےجوڑ ہوجاتا ہے اور ترجمہ ٹھیک نہیں بنتا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہاں پر کان فعل ناقص ہے اور من شرطیہ کی وجہ سے…
Read the full tafseer →طالب آخرت کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اضافہ ہوگا اور طالب دنیا کو آخرت میں کچھ نہ ملے گا
اس آیت کریمہ میں آخرت کے طلب گاروں اور دنیا داروں کی نیتوں کا اور اعمال کا اور ان کا جو بدلہ ملے گا اس کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ جو شخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہے یعنی دنیا میں ایمان سے متصف ہے اور اعمال صالحہ میں لگا رہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ میرے اعمال کا آخرت میں ثواب دیا جائے اللہ تعالیٰ اسے بہت زیادہ ثواب دے گا ایک نیکی کی کم از کم دس نیکیاں تو لکھی ہی جاتی ہیں اور ایک نیکی کا عوض سات سو گناہ دینے کا قرآن مجید میں ذکر ہے ﴿كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِيْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ترغیب دار آخرت وتنبیہ از طلب دنیا وخسارۂ مجرمین وظالمین :۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” من کان یرید حرث الاخرۃ ...... الی ....... ان اللہ غفور شکور “۔
(ربط) گذشتہ مضمون حق تعالیٰ شانہ کی شان رزاقی اور لطیفی پر ختم فرمایا گیا جس سے بتانا مقصود تھا کہ دنیوی رزق کی تفسیم اللہ رب العرت کے محض رزاق ہونے پر ہے رزق کی کمی اور زیادتی اللہ کے نزدیک پسندیدہ اور ناپسندیدہ ہونے پر مبنی نہیں ہے، اب ان آیات میں یہ ذکر فرمایا جارہا ہے کہ انسان کی سعادت اسی میں مضمر ہے کہ وہ طالب آخرت بنے، اور اسی کو اپنی زندگی کا اصل مقصودس مجھے، طلب دنیا انسانی زندگی کا مقصد نہیں، اس لیے جو شخص اپنی فکر طلب آخرت بنالے گا خدا…
Read the full tafseer →19:۔ ” من کان یرید۔ الایۃ “ اس میں آخرت کی ترغیب اور دنیا سے تنفیر و تزہید ہے۔ جو شخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہے اور اس کے لیے نیک کام کرتا ہے، تو ہم اس کے ثواب میں اضافہ کردیتے ہیں، اور ایک نیکی کے بدلے دس سے لے کر سات سو گنا اور اس سے بھی زیادہ ثواب دیتے ہیں اور جو لوگ دنیا چاہتے ہیں اور آخرت سے انہیں کوئی واسطہ نہیں انہیں دنیا ہی میں سے تھوڑا سا حصہ دے دیتے ہیں لیکن آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ ہوگا، وہاں جہنم کی آگ کے سوا ان کے حصے میں کچھ نہیں آئے گا۔ تائید : ” من کان یرید العاجلۃ عجلنا لہ فیہا ما نشاء لمن نرید ثم جعلنا لہ جہنم “ (بنی سرائیل رکوع 2) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ربط آیات
پہلے قرآن پاک پر ایمان لانے کا ذکر ہوا اور اس کتاب کی عظمتوں کا بیان ہوا پھر گزشتہ درس میں قیامت اور محاسبے کا ذکر تھا اللہ نے منکرین قیامت کا رد فرمایا ۔ نیز فرمایا کہ تمام تصرفات اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں ۔ اس کی تدبیر بہت باریک ہے ۔ وہ جس کو چاہتا ہے روزی پہنچاتا ہے وہ تمام قوتوں کا سر چشمہ اور غالب ہے۔
آخرت اور دنیا کی کھیتی
آج کی پہلی آیت میں وقوع قیامت اور جزائے عمل ہی کا بیان ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے من کان یرید حرث الاخرۃ جو شخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہے نزدلہ فی حرثہ تو اس کے لیے ہم اس کو کھیتی میں اضافہ کردیں گے ۔ کھیتی سے مراد کاشتکاری ہے اور یہ ایک ایسا کام ہے جس میں انسان…
Read the full tafseer →مَنْ كَانَ يُرِيْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَۃِ نَزِدْ لَہٗ فِيْ حَرْثِہٖ 0 ۚ وَمَنْ كَانَ يُرِيْدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِہٖ مِنْہَا وَمَا لَہٗ فِي الْاٰخِرَۃِ مِنْ نَّصِيْبٍ 20
كان
كَانَ «3» : عبارة عمّا مضی من الزمان، وفي كثير من وصف اللہ تعالیٰ تنبئ عن معنی الأزليّة، قال : وَكانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيماً [ الأحزاب/ 40] ، وَكانَ اللَّهُ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيراً
[ الأحزاب/ 27] وما استعمل منه في جنس الشیء متعلّقا بوصف له هو موجود فيه فتنبيه علی أن ذلک الوصف لازم له، قلیل الانفکاک منه . نحو قوله في الإنسان : وَكانَ الْإِنْسانُ كَفُوراً [ الإسراء/ 67] وَكانَ الْإِنْسانُ قَتُوراً [ الإسراء/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
ترکیب : قال الکسائی قریب نعت ینعت بھا المذکرو المونث کمافی قولہ ان رحمۃ اللہ قریب من المحسنین ویمکن ان یکون فاعل قریب ایتانھالا الضمیر الراجع الی الساعۃ۔
تفسیر : اس تمام گفتگو کے بعد مسئلہ نبوت کو تمام کر کے دارآخرت کی طرف توجہ دلاتا ہے یا یوں کہو کہ پہلے جو فرمایا تھا کہ جس چیز میں تمہارا اختلاف ہو اس کا فیصلہ اللہ کی طرف مفوض ہے۔ اب اس کی ایک اور وجہ بیان فرماتا ہے کہ اللہ کی طرف اس لیے کہ اس نے کتاب برحق اور عدل کی ترازو نازل کردی ہے اس میں ہر بات کو تول دیکھو۔ المیزان سے مراد کتاب آسمانی ہے اسی میں نیک و بد ‘ اچھا برا کام وزن ہوتا ہے اور اس کے اتارنے سے کیا غرض ہے وہ یہ کہ قیامت کے لیے ہر…
Read the full tafseer →مَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَۃِ نَزِدْلَـہٗ فِیْ حَرْثِہٖ ج وَمَنْ کَانَ یُرْیِدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِہٖ مِنْھَا وَمَا لَـہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنْ نَّصِیْبٍ ۔ (الشوری : 20)
(جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ہم اس کی کھیتی کو بڑھاتے ہیں، اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے اسے دنیا ہی میں سے دے دیتے ہیں، اور آخرت میں اس کے لیے کوئی حصہ نہیں۔ )
انسان ایک کسان ہے محنت کے مطابق پھل پائے گا
گزشتہ آیت کریمہ میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح اپنے ہر بندے کو وجود بخشا اور اس کے امکانات عطا کیے اور ضرورت کے مطابق صلاحیتوں سے نوازا ہے، اسی طرح ہم نے ہر بندے کو رزق بھی عطا کیا ہے۔…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اس میں کوئی شک نہیں کہ صرف ” اللہ “ ہی رزق دینے والا ہے۔ لیکن اس نے انسان کو رزق کے حصول کے لیے محنت کرنے کا حکم دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے محنت کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کا ارشاد ہے کہ انسان وہی کچھ پائے گا جس کے لیے وہ محنت کرے گا۔ (النّجم : 39) دنیا اور آخرت کے حصول کو ” حرث “ کہا گیا ہے۔ ” حرث “ کا معنٰی کھیتی ہے۔ جس میں ہر قسم کی فصل اور پودا جات شامل ہیں۔ کھیتی پر غور فرمائیں تو اس سے غلّہ حاصل کرنے میں زمیندار کو کتنے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ بار بار ہل چلاکر زمین کو بیج کے قابل بنانا، صحیح وقت پر اسے سیراب کرنا، جڑی بوٹیوں اور کیڑوں مکوڑوں…
Read the full tafseer →دو طلبگار :
20: مَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَۃِ (جو شخص آخرت کی کھیتی کا طالب ہو) وہ عمل جس سے عمل کرنے والا فائدہ کا خواہشمند ہے۔ اس کو مجازاً حرث سے تعبیر کیا۔ نَزِدْلَہٗ فِیْ حَرْثِہٖ (ہم اس کی کھیتی میں ترقی دیں گے) اس کے عمل میں توفیق شامل فرما کر یا اس کی نیکیوں کو دوگنا کردیں گے یا اس سے دنیا وآخرت پائے گا۔ وَمَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا (اور جو دنیا کی کھیتی کا طالب ہو) یعنی جس کا عمل دنیا کیلئے ہوا اور آخرت پر ایمان نہ لایا۔ نُؤْتِہٖ مِنْھَا (تو ہم اس کو کچھ دنیا دے دیں گے) منھاؔ یعنی کچھ اس دنیا میں سے۔ کیونکہ مِنْ تبعیض کیلئے ہے اور اس سے مراد اس کا وہ رزق ہے جو اس…
Read the full tafseer →19، اللہ لطیف بعبادہ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ بڑا مہربان۔ عکرمہ نے کہا بندوں سے بھلائی کرنے والا۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ لطیف بمعنی نرمی کرنے والا ہے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ نیک وگناہ گار پر مہربانی کرنے والا ہے کہ ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان کو بھوک سے ہلاک نہیں کرتا ۔ اس پر قول باری تعالیٰ ، یرزق من یشائ، دالالت کرتا ہے اور مؤمن وکافر اور ہر ذی روح جس کو اللہ تعالیٰ رزق دیتے ہیں۔ پس وہ ان میں سے جس کو اللہ چاہے تو رزق دے۔ جعفربن محمد صادق (رح) فرماتے ہیں کہ رزق میں اللہ تعالیٰ کالطف دوطریقوں سے ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ تیرا رزق پاکیزہ چیزوں میں سے مقرر کیا اور دوسرایہ کہ یکبارگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–22
16۔ 22۔ اوپر فرمایا تھا کہ جو حکم اللہ تعالیٰ نے سب انبیاء کو اور تم کو اللہ کی وحدانیت کے پھیلانے کا دیا ہے اے رسول اللہ کے اس کے موافق لوگوں کو نصیحت کرو ان آیتوں میں فرمایا جو لوگ اس نصیحت کے وقت اللہ کے حکم پر جھگڑا ڈالتے ہیں اور اتنا نہیں سمجھتے کہ ان کے بھائی بندوں اور قوم میں سے جس کسی نے اس نصیحت کو غور سے سنا وہ راہ راست پر آگیا اس لئے ایسے ضدی لوگوں کا جھگڑا کچھ التفات کے قابل نہیں ہے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کا غصہ ہے اور یہ لوگ قیامت کے دن سخت عذاب کے لائق ہیں۔ صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم میں نعمان بن بشیر سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سب سے کم عذاب والے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
آیت 19
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنے لطف و کرم سے آگاہ فرماتا ہے تاکہ وہ اسے پہچانیں، اس سے محبت کریں اور اس کے فضل و کرم کے حصول کے در پے رہیں۔ لطف اللہ تعالیٰ کے اوصاف میں سے ایک وصف ہے جس سے مراد وہ ہستی ہے جو دل کی باتوں اور چھپے ہوئے بھیدوں کو بھی جانتی ہے جو اپنے بندوں کو، خاص طور پر اہل ایمان کو، اس مقام تک پہنچاتی ہے جس کے بارے میں انہیں کوئی علم ہوتا ہے نہ گمان۔ یہ بندہ مومن پر اس کا لطف و کرم ہے کہ اس نے بھلائی کے اسباب مہیا کر کے اسے بھلائی کی راہ دکھائی، جس کا اس کے دل میں خیال تک نہیں آتا، اس کی فطرت میں موجود یہ اسباب محبت حق اور اس کی اطاعت کی طرف بلاتے ہیں، نیز یہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
نرم طلب دنیا، اجر آخرت سے محرومی ہے
قول باری ہے (ومن کان یرید حرث الدنیا نوتہ منھا ومالہ فی الاخرۃ من نصیب۔ اور جو کوئی دنیا کی کھیتی کا طالب ہے ہم اسے کچھ دنیا میں سے دیں گے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہ ہوگا) آیت میں اس کام کے لئے اجرت پر کسی کو رکھنے کے بطلان پر دلالت موجود ہے جس کی انجام وہی صرف تقرب الٰہی کی بنیاد پر ہوتی ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ جو شخص دنیا کی کھیتی کا طالب ہوتا ہے آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوتا، اس بنا پر وہ کام تقرب الٰہی اور عبادت کے دائرے سے خارج ہوجائے گا۔ اس لئے اس کا جواز باقی نہیں رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
57 آخرت ہی اصل مقصود ہونی چاہیے ؟ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اصل مقصود آخرت ہی کو بنانا چاہیئے کہ اسی میں دنیا کا بھی بھلا ہے۔ یعنی انسان اپنی اس دنیاوی زندگی میں اچھا برا جو بھی کوئی عمل کرتا ہے وہ اس کی اپنی کمائی ہے۔ کیونکہ دنیاوی زندگی کی یہ فرصت جو آج اسے میسر ہے دراصل ایک کھیتی ہے جسے وہ خود کاشت کر رہا ہے۔ جس کا پھل خود اسی کو ملے گا۔ اچھی کھیتی اور کمائی کا اچھا پھل اور بری کھیتی کا برا پھل ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ۔ " اَلدُّنْیَا مَزْرَعَۃُ اِلْاٰخِرَۃِ " ۔ یعنی " یہ دنیا آخری کی ابدی اور حقیقی زندگی کی کمائی کے لئے ایک عظیم الشان کھیتی ہے "۔ پھر اپنی کمائی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
اللہ کے قوانین اٹل ہیں
تشریح : سب سے پہلے تو یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ یہ زندگی ہر انسان کے لیے ایک کھیتی کی طرح ہے۔ یعنی دنیا کے کام کرنا فرض ہے مگر ان کے ساتھ ساتھ اللہ کو یاد کرنا اور ہر دم اللہ سے دنیا وآخرت کی بھلائی مانگنا بھی فرض ہے۔ تو گویا ایک پنتھ دو کاج ہوگئے۔ یوں اللہ تعالیٰ دنیا کے کاموں میں بھی برکت اور بھلائی پیدا کرتا ہے اور آخرت میں بھی بھلائی اور برکت عطا کرتا ہے جو دنیا میں گم ہو کر اسے بھول جاتے ہیں ان کو معلوم ہونا چاہے کہ اس طرح وہ اپنا بہت بڑا نقصان کرلیتے ہیں۔ اللہ کا نظام کائنات ایسا عجیب و غریب ہے اور اس کی نظر اس قدر وسیع اور مضبوط ہے کہ وہ نہ صرف ظاہری اعمال کو ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
آیات 20 تا 29۔
جو کوئی اپنی محنت کا پھل آخرت میں چاہتا ہے تو اس کے انعامات اور اجر اور زیادہ بڑھادیے جاتے ہیں اور وہ اپنی طلب سے بھی زیادہ پاتا ہے اور جو شخص صرف حصول دنیا کے لیے کوشش کرتا ہے اسے دنیا میں سے کچھ نہ کچھ عطا کردیا جاتا ہے یعنی ضروری نہیں کہ جس انداز یاجتنی مقدار میں اس کی خواہش ہے اسے مل جائے بلکہ یہ اللہ کی مرضی کہ اس کا نصیبہ کیا مقرر کیا ہے وہی ملتا ہے جبکہ یہ سب آخرت کے طلب گار کو بھی ملتا ہے۔ مگر آخرت چھوڑ کر صرف دنیا کے طالب کی خواہش دنیا میں پوری نہیں ہوتی اور آخرت سے محروم رہ جاتا ہے کہ آخرت پر ایمان ہی نہ تھا لہذا آخرت میں کچھ نہیں پاتاگویا مومن دنیا کا کام بھی طلب…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی دنیا میں نیک کاموں کی زیادہ توفیق دیتے ہیں اور آخرت میں دس سے سات سو گنا تک اس کا اجر بڑھائیں گے۔
3 کیونکہ اس نے جو اعمال کئے ان سے ان کی نیت یہ تھی ہی نہیں کہ آخرت کا ثواب حاصل کیا جائے۔ ایک حدیث میں بھی ہے کہ جو شخص آخرت کا عمل کر کے دنیا چاہے گا اس کے لئے آخرت میں کچھ حصہ نہ ہوگا۔ دیکھئے اسرائیل آیت 18) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” دنیا کے واسطے جو محنت کرے موافق قسمت کے ملے، یہ اس محنت کا فائدہ، آخرت میں نہیں “۔
Read the full tafseer →(42:20) من شرطیہ ہے۔
کان یرید۔ ماضی استمراری واحد مذکر غائب ارادۃ (افعال) مصدر (جو دنیا میں) چاہتا تھا۔ چاہا کرتا تھا۔
حرث الاخرۃ مضاف مضاف الیہ دونوں مل کر کان یرید کا مفعول ۔ آخرت کی کھیتی۔ یعنی جو نیک کام دنیا میں اس نیت سے کیا کرتا تھا کہ اسے اس کا پھل آخرت میں ملے نزد (مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط صیغہ جمع متکلم۔ زیادۃ مصدر باب ضرب) لہ فی حرثہ ہم اس کی کھیتی کے پھل یعنی ثواب (آخرت) میں اضافہ کریں گے۔ یعنی بڑھا دیں گے۔
حرث کھیتی، زراعت، حرث یحرث (باب ضرب) سے مصدر ہے۔ بیج ڈالنا کھیتی کرنا۔ کھیت۔
نؤتہ۔ مضارع جمع متکلم ایتاء (افعال) مصدر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب ہم اس کو عطا کریں گے۔
منھا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
لغات القرآن آیت نمبر 20 تا 23 : حرت ( کھیتی) نصیب (حصہ) یاذن (وہ اجازت دیتا ہے) کلمۃ الفصل (فیصلے کی بات) کسبوا (انہوں نے کمایا) واقع ( پڑنے والا ، واقع ہونے والا) روضت ( روضۃ) (باغ، کیا ریاں) لا اسئل (میں سوال نہیں کرتا) المودۃ (محبت ، لحاظ) یقترف (وہ کماتا ہے)
تشریح : آیت نمبر 20 تا 23 : یہ اللہ کا سب سے بڑا احسان ہے کہ اس نے آدمی کو دنیا کی مختصر سی زندگی گزارنے کے بہت سے اسباب اور وسائل عطاء کئے ہیں تا کہ آدمی ان اسباب کو آخرت کی تعمیر میں استعمال کر کے اس کے رحم و کرم کا مستحق اور حق دار بن جائے۔
اللہ کا یہ نظام ہے کہ اگر کسی شخص کی جدوجہد ، کوشش اور بھاگ دوڑ محض دنیا حاصل کرنے کے لئے ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
(ف 1) جو بندہ خالصا اللہ عمل کرتا ہے اور اپنے کاموں سے آخرت کا منافع لینا چاہتا ہے اور یہ جانتا ہے کہ جو یہاں بیج بوؤں وہاں کاٹوں تو ہم اس کے کھیت کی پیداوار اور بےحدزائد کرتے ہیں یعنی اس کا ثواب ہزارہا گنادیں گے یا یہ کہ اس کو خوشی اور قوت اچھے کاموں کی زائد کریں گے اور اس کے دل میں اور خلوص بڑھائیں گے یا یہ کہ دنیا میں کبھی دیں گے اور وہاں بھی زائد اور جس کا عمل محض دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو، اور وہ آخرت پر ایمان نہ رکھتا ہو تو ہم اس کو دنیا کا نفع دیتے ہیں اور ظاہر مصیبت دنیا ٹالتے ہیں وہاں جاکر قیامت میں خالی رہے گا کچھ نہ ملے گا کہ کام کرتے وقت اپنے وہاں کے نفع کا خیال نہ تھا اسنے فقط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
[14] یعنی اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے ذریعے دین حق کا راستہ بتلا دیا۔ کیا اس کے سوا کوئی اور ہستی ایسی ہے جسے کوئی دوسرا راستہ مقرر کرنے کا حق اور اختیار حاصل ہو کہ وہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال اور حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام ٹھہرا دے ؟
[15] پھر آخر ان مشرکین نے اللہ کی راہ چھوڑ کر دوسری راہیں کہاں سے نکال لیں ؟ قول فیصل یہ کہ ان پر پورا عذاب آخرت میں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
زندگی کی دو راہیں
1: کہ دو قسم کی زندگیاں ہیں اب یہ تمہارے انتخاب پر موقوف ہے کہ تم لوگ کس نوع کی زندگی کو اپنے لئے پسند کرتے ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے اختیار وانتخاب میں پوری پوری آزادی دے رکھی ہے ۔ اگر کشت آخرت چاہتے ہو ۔ تو اللہ کی مہربانیاں تمہارے شامل حال ہونگی ۔ اور تم کو ہر نوع کی اعانت سے نوازا جائیگا ۔ اور اگر کشت آخرت کی ضرورت نہیں ہے ۔ دنیا کی خوبصورتی پر پھرگئے ہو اور اسی زندگی کا بھلا چاہتے ہو ۔ تو یہ بھی تم کو مل سکتی ہے ۔ مگر یہ یاد رکھو آخرت کے حصوں میں تم دنیا کی کسی مسرت سے محروم نہیں رہوں گے ۔ وہ اگر تم نے صرف دنیا کو حاصل کیا ۔ تو پھر وہاں کچھ نہیں ملے گا ۔ ان دونوں باتوں کو خوب…
Read the full tafseer →(20) جو شخص آخرت کی کھیتی کا خواہش مند ہو اور آخرت کی کھیتی چاہتا ہو ہم اس کے لئے اس کی کھیتی بڑھا دیتے ہیں اور ترقی کردیتے ہیں اور جو شخص دنیا کا خواستگار ہو اور دنیا کی کھیتی چاہتا ہو تو ہم اسی میں سے اس کو کچھ دے دیتے ہیں اور آخرت میں اس شخص کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔ اعمال پر جو اثر مرتب ہوتا ہے اس کو کھیتی سے تعبیر کیا جس طرح بیج ڈالنے سے کھیتی پیدا ہوتی ہے اسی طرح اعمال سے جزا ملتی ہے اس لئے فرمایا جو شخص عمل آخرت کے نفع کے لئے کرتا ہے اور اس عالم کا فائدہ چاہتا ہے تو ہم اس کو کھیتی کو ترقی دیتے ہیں یعنی اعمال خیر کو مزید توفیق ملتی ہے یا ثواب دو چندوسہ چند اور اس سے بھی زیادہ بڑھا دیا جاتا…
Read the full tafseer →ف 6۔ یعنی ثواب آخرت کا طالب ہو۔
7۔ یعنی اعمال پر اس کو ثواب دیں گے اور اس ثواب کو مضاعف کریں گے۔
8۔ یعنی تدبر و سعی سے غرض اس کی متاع دنیا ہو، اور آخرت کے لئے کچھ سعی نہ کرے حتی کہ ایمان بھی نہ لاوے۔
Read the full tafseer →جو آخرت کا طالب ہے اس کو دنیا اور آخرت دونوں دی جاتی ہیں
20 ؎ ہر شخص جس چیز کی طلب کرتا ہے اسی چیز کا اس کو طالب کہا جاتا ہے اور سنت اللہ اس معاملہ میں یہ ہے کہ تلاش کرنے والا ہی حاصل کرتا ہے جیسا کہ جوئندہ یا بندہ عام محاورہ ہے۔ اسی اصول کے تحت زیر نظر آیت میں کہا گیا ہے کہ جو شخص آخرت کو طلب کرتا ہے قانون الٰہی کے مطابق اس کو یقینا آخرت ملنی چاہئے اور وہ بہرحال ملے گی اور جو کچھ اس نے آخرت کے لیے کیا ہوگا اگر وہ صحیح کیا ہے تو ہم اس کا بدلہ اس کو اس کی طلب سے بھی بڑھ کردیں گے لیکن اس کے برعکس جو شخص صرف اور صرف دنیا ہی کی طلب رکھتا ہے اس کے لیے دنیا میں وہ سب کچھ ہم نے تیار کر رکھا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
Commentary
اللَّـهُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ (Allah is kind to His slaves - 42:19). The word, latif used in the text has more than one lexical meanings. Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ has translated it here as kind, and Sayyidna ` Ikrimah ؓ has translated it as benefactor.
Muqatil (رح) has said that Allah Almighty is kind to all His servants, so much so that even the infidels and sinners keep on being showered with His worldly blessings. There are many types and kinds of the divine bounties, graces and favours showered upon His servants. That is why many meanings of the word latif have been stated in the…
Read the full tafseer →37 Two of the truths have been mentioned in the previous verse, which we arc observing everywhere at aII times: (1) That Allah is Kind and Compassionate to aII His servants; ard (2) that the measure of His provisions is not the same for everybody, but it varies from man to tnan. Now, in this verse it is being told that although the partial differences in kindness and measures of Provisions are countless, there is also a difference of fundamental nature, which is: there is one kind of the provision for the seeker of the Hereafter and of another kind for the seeker of the world.
This is a very…
Read the full tafseer →