Ash-Shura 42:21

Ash-Shura · from ayah 21

42:21

اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْ بِهِ اللّٰهُ ؕ— وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ ؕ— وَاِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ۟اَمۡ لَهُمۡ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوۡا لَهُمۡ مِّنَ الدِّيۡنِ مَا لَمۡ يَاۡذَنۡۢ بِهِ اللّٰهُ‌ؕ وَلَوۡلَا كَلِمَةُ الۡفَصۡلِ لَقُضِىَ بَيۡنَهُمۡ‌ؕ وَاِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ

کیا ان کے وہ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کا خدا نے حکم نہیں دیا۔ اور اگر فیصلے (کے دن) کا وعدہ نہ ہوتا تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور جو ظالم ہیں ان کے لئے درد دینے والا عذاب ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or have they other deities who have ordained for them a religion to which Allah has not consented? But if not for the decisive word, it would have been concluded between them. And indeed, the wrongdoers will have a painful punishment.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 3 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shura

All translations of 42:21

کیا یہ لوگ کچھ ایسے شریک خدا رکھتے ہیں جنہوں نے اِن کے لیے دین کی نوعیت رکھنے والا ایک ایسا طریقہ مقرر کر دیا ہے جس کا اللہ نے اِذن نہیں دیا؟ اگر فیصلے کی بات پہلے طے نہ ہو گئی ہوتی تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا یقیناً اِن ظالموں کے لیے درد ناک عذاب ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا ان کے وہ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کا خدا نے حکم نہیں دیا۔ اور اگر فیصلے (کے دن) کا وعدہ نہ ہوتا تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور جو ظالم ہیں ان کے لئے درد دینے والا عذاب ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا ان لوگوں نے ایسے (اللہ کے) شریک (مقرر کر رکھے) ہیں جنہوں نے ایسے احکام دین مقرر کر دیئے ہیں جو اللہ کے فرمائے ہوئے نہیں ہیں۔ اگر فیصلے کے دن کا وعده نہ ہوتا تو (ابھی ہی) ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ یقیناً (ان) ﻇالموں کے لیے ہی دردناک عذاب ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا ان (کافروں) کے کچھ ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے ایسا دین طے کردیا ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی ہے ؟ اور اگر (اللہ کی طرف سے) فیصلہ کن بات طے شدہ نہ ہوتی تو ان کا معاملہ چکا دیا گیا ہوتا۔ اور یقین رکھو کہ ان ظالموں کے لیے بڑا دردناک عذاب ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یا ان کے لیے کچھ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے وہ دین نکال دیا ہے کہ اللہ نے اس کی اجازت نہ دی اور اگر ایک فیصلہ کا وعدہ نہ ہوتا تو یہیں ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور بیشک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا اُن کے لئے کچھ (ایسے) شریک ہیں جنہوں نے اُن کے لئے دین کا ایسا راستہ مقرر کر دیا ہو جس کا اللہ نے حکم نہیں دیا تھا، اور اگر فیصلہ کا فرمان (صادر) نہ ہوا ہوتا تو اُن کے درمیان قصہ چکا دیا جاتا، اور بیشک ظالموں کے لئے دردناک عذاب ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یا ان کے لیے کچھ ایسے شریک ہیں جنھوں نے ان کے لیے دین کا وہ طریقہ مقرر کیا ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی اور اگر فیصلہ شدہ بات نہ ہوتی تو ضرور ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا اور بیشک جو ظالم ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا ان لوگوں کے ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے دین کا ایسا طریقہ مقرر کیا ہو جس کا اللہ نے اذن نہیں دیا ؟ اور اگر فیصلے کی بات طے شدہ نہ ہوتی تو ان کا فیصلہ کردیا گیا ہوتا۔ یقینا ان ظالموں کے لئے دردناک عذاب ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا ان کے کچھ شریک خدا ہیں جنہوں نے ان کے لئے وہ دین ٹھہرایا ہے جس کا اذن اللہ نے نہیں دیاڈ اور اگر فیصلہ کی مدت طے نہ پا چکی ہوتی تو ان کا فیصلہ کردیا جاتا اور بیشک ان ظالموں کے لئے ایک درد ناک عذاب ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا ان لوگوں کے کچھ ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے دین کا وہ طریقہ نکال لیا ہے جس کی اجازت اللہ نے نہیں دی اور اگر فیصلے کی بات پہلے سے طے نہ ہوچکی ہوتی تو یقینا ان کے درمیان کبھی کا فیصلہ کردیا گیا ہوتا اور اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ ظالموں کے لئے ایک بڑا ہی دردناک عذاب ہے

— مولانا اسحاق مدنی

تو کیا ان کے (تجویز کئے ہوئے) کچھ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کردیا ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی ہے ؟ اور اگر ایک قول فیصل نہ ہوتا تو ان کے درمیان (عملی) فیصلہ اب تک ہوچکا ہوتا اور کافروں کو ضرور عذاب دردناک ہوگا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا ان کے کچھ ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین کا کوئی ایسا راستہ طے کردیا ہو جس کا اذن اللہ نے نہیں دیا ؟ } اور اگر ایک قطعی حکم پہلے سے طے نہ ہوچکا ہوتا تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا۔ اور ظالموں کے لیے تو بہت دردناک عذاب ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا ان کے وہ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کا اللہ نے حکم نہیں دیا اور اگر فیصلے کے دن کا وعدہ نہ ہوتا تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور جو ظالم ہیں ان کے لئے درد دینے والا عذاب ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Do they have any associates (of Allah) who have laid down for them a way pertaining to faith which Allah did not sanction? But for the fact that a decree had already been made, the matter between them would have been decided once and for all. Surely a grievous chastisement awaits the wrong-doers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Is it that they have associate-gods who have prescribed for them a religion that is not sanctioned by Allah? Had it not been for a decisive word, the matter would have been decided between them (here in this world). And of course, for the wrongdoers there is a painful punishment (in the Hereafter).

— Muhammad Taqi Usmani

Is it that they have associate-gods who have prescribed for them a religion that is not sanctioned by Allah? Had it not been for a decisive word, the matter would have been decided between them (here in this world). And of course, for the wrongdoers there is a painful punishment (in the Hereafter).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Or have they partners with Allah who have instituted for them a religion which Allah has not ordained And had it not been for a decisive Word, the matter would have been judged between them. And verily, for the wrongdoers there is a painful torment.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Or have they partners (of Allah) who have made lawful for them in religion that which Allah allowed not? And but for a decisive word (gone forth already), it would have been judged between them. Lo! for wrong-doers is a painful doom.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Or have they other deities who have ordained for them a religion to which Allah has not consented? But if not for the decisive word, it would have been concluded between them. And indeed, the wrongdoers will have a painful punishment.

— Saheeh International

Do they have idols who have established a religion without the permission of God? Had not it been for your Lord's giving them respite for an appointed time, He would certainly have settled their differences once and for all. The unjust will certainly suffer a painful torment.

— Muhammad Sarwar

Or have they associates who have prescribed for them any religion that Allah does not sanction? And were it not for the word of judgment, decision would have certainly been given between them; and surely the unjust shall have a painful punishment.

— Muhammad Habib Shakir

Have they associate-gods who have instituted for them a religion which Allah hath not allowed? And had there net been a decisive Word, the affair would have been judged between them. And verily the wrong-doers? theirs shall be a torment afflictive.

— Abdul Majid Daryabadi

What! have they partners (in godhead), who have established for them some religion without the permission of Allah? Had it not been for the Decree of Judgment, the matter would have been decided between them (at once). But verily the Wrong-doers will have a grievous Penalty.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 42:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 19–22

غفورو رحیم اللہ اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے ایک کو دوسرے کے ہاتھ سے روزی پہنچا رہا ہے ایک بھی نہیں جسے اللہ بھول جائے نیک بد ہر ایک اس کے ہاں کا وظیفہ خوار ہے جیسے فرمایا (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ) 11۔ ھود :6) ، زمین پر چلنے والے تمام جانداروں کی روزیوں کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے وہ ہر ایک کے رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے اور سب کچھ لوح محفوظ میں لکھا ہوا بھی ہے وہ جس کے لئے چاہتا ہے کشادہ روزی مقرر کرتا ہے وہ طاقتور غالب ہے جسے کوئی چیز عاجز…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّوْرٰی 38 اس آیت میں شُرَکَاء سے مراد، ظاہر بات ہے کہ وہ شریک نہیں ہیں جن سے لوگ دعائیں مانگتے ہیں، یا جن کی نذر و نیاز چڑھاتے ہیں، یا جن کے آگے پوجا پاٹ کے مراسم ادا کرتے ہیں۔ بلکہ لامحالہ ان سے مراد وہ انسان ہیں جن کو لوگوں نے شریک فی الحکم ٹھہرا لیا ہے، جن کے سکھائے ہوئے افکار و عقائد اور نظریات اور فلسفوں پر لوگ ایمان لاتے ہیں، جن کی دی ہوئی قدروں کو مانتے ہیں، جن کے پیش کیے ہوئے اخلاقی اصولوں اور تہذیب و ثقافت کے معیاروں کو قبول کرتے ہیں، جن کے مقرر کیے ہوئے قوانین اور طریقوں اور ضابطوں کو اپنے مذہبی مراسم اور عبادات میں، اپنی شخصی زندگی میں، اپنی معاشرت میں، اپنے تمدن میں، اپنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 21–22

خلاصہ تفسیر دین حق کو تو خدا نے مشروع و مقرر فرمایا ہے، مگر یہ لوگ جو اس کو نہیں مانتے تو) کیا ان کے (تجویز کئے ہوئے) کچھ شریک (خدائی ہیں) جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کردیا ہے جس کی خدا نے اجازت نہیں دی (مطلب یہ ہے کہ کوئی ذات اس قابل نہیں کہ خدا کے خلاف اس کا مقرر کیا ہوا دین معتبر ہو سکے) اور اگر (خدا کی طرف سے) ایک قول فیصل (ٹھہرا ہوا) نہ ہوتا (یعنی یہ کہ ان پر اصل عذاب موت کے بعد ہوگا) تو (دنیا ہی میں) ان کا (عملی) فیصلہ ہوچکا ہوتا اور (آخرت میں) ان ظالموں کو ضرور دردناک عذاب ہوگا (اس روز) آپ ان ظالموں کو دیکھیں گے کہ اپنے اعمال (کے وبال) سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ (وبال) ان پر (ضرور)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

-4 آگے کا مضمون آیات :36-21 اوپر کے پیرے میں یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ تمام نبیوں اور رسولوں نے اسی دین توحید کی تعلیم دی ہے جس کی تعلیم یہ پیغمبر (محمد ﷺ دے رہے ہیں۔ اب آگے یہ واضح فرمایا جا رہا ہے کہ اگر ان مشرکین کی مزعومہ شرکاء نے ان کے لئے کوئی الگ دین ایجاد کیا ہے تو یہ دنیا خدا کے ہاں کام آنے والا نہیں ہے۔ جزائے اعمال کے دن یہ لوگ اپنی بدبختی پر اپنے سرپیٹیں گے۔ اس دن کی کامیابی صرف ان لوگوں کا حصہ ہوگی جو ایمان و عمل صالح کی راہ اختیار کر کے اس دن کے لئے کچھ کمائی کرلیں گے۔ اس کے بعد مخلافین کے تین اعتراضوں کے علی الترتیب جواب دیئے ہیں۔ ایک اس اعتراض کا کہ اس جوش و گرمی کے ساتھ یہ (محمد…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 20–22

22۔ 1 یعنی قیامت والے دن۔ 22۔ 2 حالانکہ ڈرنا بےفائدہ ہوگا کیونکہ اپنے کئے کی سزا تو انہیں بہرحال بھگتنی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 20–22

4: یہی مضمون سورة بنی اسرائیل : 18 میں گذرا ہے، وہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو شخص صرف دنیا کی بہتری چاہے، اس کو دنیا کی نعمتیں دی جاتی ہیں، لیکن ہر مانگی ہوئی چیز پھر بھی نہیں ملتی، بلکہ جس کو اللہ تعالیٰ دینا چاہتا ہے، اور جتنا دینا چاہتا ہے، اتنا دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 21–23

آیت نمبر 20 تا 23 پچھلے پیراگراف میں یہ کہا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے لئے جو نظام زندگی اور شریعت تجویز کی تھی وہ وہی ہے جس کے بارے میں نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو تاکید کی گئی تھی۔ وہی بات حضرت محمد ﷺ کی طرف بھی وحی کی گئی۔ اب اس پیرے میں ان سے گرفت کے انداز میں پوچھا جاتا ہے کہ تم بتاؤ تمہاری شریعت اور قانون اور نظام اور نظریہ کا ماخذ کیا ہے ؟ تمہاری شریعت کس نے بنائی ہے۔ یہ تم جس نظام کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہو ، یہ تو شریعتوں کے خلاف ہے۔ ام لھم شرکاء شرعوا ۔۔۔۔ بہ اللہ (42 : 21) ” کیا کچھ لوگ ایسے شریک خدا ہیں جنہوں نے ان کے لئے دین کی نوعیت رکھنے والا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی اللہ تعالیٰ نے نبیوں کی زبانی آخرت کا اور دین حق کا راستہ بتلا دیا۔ کیا اس کے سوا کوئی اور ہستی ایسی ہے جسے کوئی دوسرا راستہ مقرر کرنے کا حق اور اختیار حاصل ہو کہ وہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال اور حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام ٹھہرا دے۔ پھر آخر ان مشرکین نے اللہ کی وہ راہ چھوڑ کر جو انبیاء (علیہم السلام) نے بتلائی تھی دوسری راہیں کہاں سے نکال لیں۔ 10 یعنی فیصلہ کا وعدہ ہے اپنے وقت پر۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 21 { اَمْ لَہُمْ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوْا لَہُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْم بِہِ اللّٰہُ } ”کیا ان کے کچھ ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین کا کوئی ایسا راستہ طے کردیا ہو جس کا اذن اللہ نے نہیں دیا ؟“ شرک کے حوالے سے یہ نکتہ قرآن میں بار بار دہرایا گیا ہے کہ مشرک لوگ جنہیں اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں اللہ نے ان کے لیے نہ تو کوئی سند اتاری ہے اور نہ ہی کسی الہامی کتاب میں ان کے لیے کوئی دلیل موجود ہے۔ اس سورت کا عمود چونکہ نظام شریعت میزان سے متعلق ہے اس لیے یہاں شرک کا ابطال اس مضمون کی دلیل کے ساتھ بالکل منفرد انداز میں آیا ہے کہ اللہ نے تو اپنے بندوں کے لیے ایک مکمل ضابطہ حیات نازل…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

32 اللہ کے مقابلہ میں کن کن لوگوں کا حکم چلتا ہے ؟:۔ ظاہر ہے کہ یہاں شریک سے مراد پتھر کے بت نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ وہ نہ سن سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں وہ کسی کو کوئی قانون یا ضابطہ کیا دیں گے ؟ لامحالہ اس سے مراد، انسان یا انسانوں کی جماعت ہی ہوسکتی ہے۔ جنہوں نے اللہ کی شریعت کے مقابلہ میں اپنی شریعت چلا رکھی ہو۔ حرام و حلال کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے رکھے ہوں یا لوگوں کے لیے وہ ضابطہ حیات، فلسفے یا نظام پیش کرتے ہوں جو اللہ کی شریعت کے خلاف ہوں اور پھر انہیں لوگوں میں رائج اور نافذ بھی کرتے ہوں۔ اور ایسے لوگ پارلیمنٹ یا ایوانوں کے ممبر بھی ہوسکتے ہیں۔ خود سر حکمران بھی، آستانوں اور مزاروں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

26۔ (آخرت میں) (آیت) ” شرعوا ...... اللہ “۔ شرک کے ساتھ ساتھ آیت کے اس جزء میں بدعت یعنی دین میں اپنی طرف سے بات نکالنے کا بھی استیصال ہے۔ (آیت) ” ان الظلمین “۔ ظالمین۔ یہاں بھی قرآن مجید کے اکثر مقامات کی طرح کافروں کے معنی میں ہیں۔ اے المشرکین (معالم)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 20–29

آیت نمبر 20 تا 29 ترجمہ : جس کا مقصد اپنے عمل سے آخرت کی کھیتی ہو، یعنی آخرت کی کمائی ہو اور وہ ثواب ہے تو ہم اس کی کھیتی میں (یعنی) نیکیوں میں دس گنے تک (بلکہ) اور اس سے بھی زیادہ اضافہ کر کے ترقی دیں گے اور جو دنیا کی کھیتی کی طلب رکھتا ہو تو ہم اسے اس میں سے بلا اضافے کے بقدر نصیب عطا کریں گے، ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں بلکہ مکہ کے ان کافروں نے کچھ شرکاء تجویز کر رکھے ہیں اور وہ شیاطین ہیں کہ ان شرکاء نے ان کافروں کے لئے دین فاسد تجویز کر رکھا ہے، جس کی خدا نے اجازت نہیں دی (اور وہ دین فاسد) شرک اور انکار بعث ہے اور اگر فیصلے کے دن کا وعدہ نہ ہوچکا ہوتا یعنی پہلے سے فیصلہ نہ ہوچکا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ام لھم شرکاء شرعوا لھم من الدین ما لم یاذن بہ اللہ ولولا کلمۃ الفصل لقضی بینھم کیا انکے کچھ شریک (خدائی میں) ایسے ہیں جنہوں نے ان کیلئے ایسا دین مقرر کردیا ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی ؟ اور اگر (ا اللہ کی طرف سے) ایک قول فیصل (ٹھیرایا ہوا) نہ ہوتا تو (دنیا میں ہی) ان کا فیصلہ ہوچکا ہوتا۔ اَمْ لَھُمْ شُرَکَآءُ ۔ ام منقطعہ بمعنی بَلْ اور ہمزہ انکاری ہے۔ لَھُمْ شُرَکَآء یعنی ان کے مفروضہ اور خودساختہ شرکاء۔ مَا لَمْ یَاْذَنَم بِہِ اللہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یعنی اسلام کے سوا دوسرا دین جس میں شرک ‘ انکار قیامت اور صرف دنیا کیلئے عمل کرنے کی تعلیم دی گئی ہو۔ کَلِمَۃُ الْفَصْلِ یعنی پہلے کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

کیا ان کفار مکہ کے کچھ ایسے معبود ہیں جنہوں نے ان کافروں یعنی ابوجہل وغیرہ کے لیے ایسا دین پسند کیا ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں دیا اور اگر اس امت سے تاخیر عذاب کا فیصلہ نہ ہوگیا ہوتا تو ان کا خاتمہ ہوچکا ہوتا اور ان کافروں یعنی ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کو دردناک عذاب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ام لھم شرکوآء شرعوا لھم …: ظاہر ہے اس آیت میں شرکوآء“ سے مراد وہ شریک نہیں ہیں جن سے لوگ دعائیں مانگتے یا جن کی نذر و نیاز چڑھاتے اور پوجا باٹ کرتے ہیں، کیونکہ وہ دین کا کوئی طریقہ مقرر کرسکتے ہیں نہ حلال و حرام قرار دینے میں ان کا کوئی دخل ہے اور نہ وہ کوئی قانون یا ضابطہ مقرر کرسکتے ہیں۔ لامحالہ اس سے مراد کوئی انسان یا انسانوں کی کوئی جماعت ہی ہے جنہوں نے اللہ کی شریعت کے مقابلے میں اپنی شریعت چلا رکھی ہو ، حرام و حلال قرار دینے کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے رکھے ہوں اور لوگوں کے لئے ایسے نظام اور قانون مقرر کرتے ہوں جو اللہ تعالیٰ کی شریعت کے خلاف ہوں، پھر انھیں لوگوں میں رائج اور نافذ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ام لھم شراکؤ ام میں میم زائدہ ہے اور ہمزہ تقریع کے لیے ہے یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان : شرع لکم من الدین ماوصی بہ نوحا اور اللہ الذی انزل الکتب بالحق والمیزان کے ساتھ متعلق ہے۔ وہ اس پر ایمان نہیں رکھتے تھے کیا ان کے اپنے معبود ہیں جنہوں نے انکے لیے شرک مشروع کیا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہیں دی جب یہ محال ہے تو اللہ تعالیٰ نے شرک کو مشروع نہیں کیا تو پھر تم کس طرح اس کو اپناتے ہو۔ ولولا کلمۃ الفصل اس سے مراد یوم قیامت ہے کیونکہ ارشاد فرمایا : بل الساعۃ موعدھم (قمر :46) لقضی بینھم دنیا میں ہی ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا یعنی ظالم کو جلدی عذاب دیتا اور اطاعت شعار کو ثواب دیتا۔ ظالمین سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 21–22

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولولا کلمۃ الفضل “ (اگر ایک قول فیصل نہ ہوتا) یعنی قیامت کا دن کہ اس وقت تک ان کو مہلت دی گئی (تو دنیا میں ان کا فیصلہ ہوجاتا ہے) اور (آیت ) ” فی روضت الجنت “ سے مراد ایسا مکان ہے جو ان کی شان کے مطابق ہوگا۔ 2:۔ ابن جریر (رح) نے ابو ظبیہ (رح) سے روایت کیا کہ اہل جنت کی ایک جماعت کو بادل سایہ کرلے گا تو کہے گا میں تم پر بارش نہ کروں تو اس قوم میں سے کوئی بھی آدمی کسی چیز کا سوال نہیں کرے گا مگر وہ اس پر بارش برسائے گا یہاں تک کہ ایک کہنے والا ان میں سے کہے گا کہ ہم پر اٹھے ہوئے پستانوں اور ہم عمر عورتوں جیسا بادل…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَمْ لَهُمْ شُرَكٰۗؤُا [ کیا ان کے کچھ ایسے شریک ہیں ] شَرَعُوْا لَهُمْ [ جنھوں نے قانون بنایا ان کے لیے ] مِّنَ الدِّيْنِ [ دین میں سے ] مَا [ اس کو ] لَمْ يَاْذَنْۢ [ اجازت نہیں دی ] بِهِ [ جس کی ] اللّٰهُ ۭ [ اللہ نے ] وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ [ اور اگر نہ ہوتا فیصلے کا فرمان ] لَـقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۭ [ تو ضرور فیصلہ کردیا جاتا ان کے درمیان ] وَاِنَّ الظّٰلِمِيْنَ [ اور یقینا ظالم لوگ ] لَهُمْ [ ان کے لیے ہی ہے ] عَذَابٌ اَلِيْمٌ [ ایک درد ناک عذاب ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 21 میں شرکوا سے مراد شریک نہیں ہیں جن سے لوگ دعائیں مانگتے ہیں یا جن کی نذرونیاز چڑھاتے ہیں یا جن کے آگے پوجا پاٹ کے مراسم…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

قیامت کے دن ظالم لوگ اپنے اعمال بد کی وجہ سے ڈر رہے ہوں گے اور اہل ایمان اعمال صالحہ والے جنتوں کے باغیچوں میں ہوں گے اوپر چار آیات کا ترجمہ لکھا گیا ہے پہلی آیت میں مشرکین کو تنبیہ فرمائی ہے کہ جنہوں نے اللہ کے لیے شریک تجویز کر رکھے ہیں کیا انہوں نے ان آیات کے لیے ایسے دینی احکام مشروع و مقرر کیے ہیں جن کی اللہ نے اجازت نہ دی ہو ؟ یہ استفہام انکاری ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جو مخلوق کے لیے کوئی دین مشروع و مقرر کردے نہ کوئی ایسا کرسکتا ہے اور نہ کسی کو اس کا حق ہے اللہ تعالیٰ ہی کو اس کا حق ہے کہ اپنی مخلوق کے لیے دین مشروع فرمائے جب ان بنائے ہوئے شریکوں میں سے کسی نے ان کے لیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–23

ترغیب دار آخرت وتنبیہ از طلب دنیا وخسارۂ مجرمین وظالمین :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” من کان یرید حرث الاخرۃ ...... الی ....... ان اللہ غفور شکور “۔ (ربط) گذشتہ مضمون حق تعالیٰ شانہ کی شان رزاقی اور لطیفی پر ختم فرمایا گیا جس سے بتانا مقصود تھا کہ دنیوی رزق کی تفسیم اللہ رب العرت کے محض رزاق ہونے پر ہے رزق کی کمی اور زیادتی اللہ کے نزدیک پسندیدہ اور ناپسندیدہ ہونے پر مبنی نہیں ہے، اب ان آیات میں یہ ذکر فرمایا جارہا ہے کہ انسان کی سعادت اسی میں مضمر ہے کہ وہ طالب آخرت بنے، اور اسی کو اپنی زندگی کا اصل مقصودس مجھے، طلب دنیا انسانی زندگی کا مقصد نہیں، اس لیے جو شخص اپنی فکر طلب آخرت بنالے گا خدا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

20:۔ ” ام لہم شرکاء “ یہ دوسرے دعوے م سے متعلق ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی شریعت تو یہی تھی کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور صرف اسی کو پکارو، تو کیا ان کے گمراہ پیشواؤں نے اللہ کی شریعت کے خلاف کوئی ایسی شریعت کے ان کے لیے بنا دی ہے اور ان کو غیر اللہ کو پکارنے کی اجازت دی ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی ؟ حاصل یہ ہے کہ شریعت حقہ وہی ہے جو اللہ نے تمام رسولوں کے پاس بھیجی اس کے خلاف کسی کو اپنی طرف سے اختراع و ایجاد کی اجازت نہیں۔ ” ولولا کلمۃ الفصل “ تا ” وھو واقع بہم “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” کلمۃ الفصل “ یعنی عذاب کے لیے اجل معین اگر ان کے عذاب کے لیے وقت معین نہ ہوتا، تو کبھی کا ان کا قصہ پاک کیا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 20–23

ربط آیات پہلے قرآن پاک پر ایمان لانے کا ذکر ہوا اور اس کتاب کی عظمتوں کا بیان ہوا پھر گزشتہ درس میں قیامت اور محاسبے کا ذکر تھا اللہ نے منکرین قیامت کا رد فرمایا ۔ نیز فرمایا کہ تمام تصرفات اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں ۔ اس کی تدبیر بہت باریک ہے ۔ وہ جس کو چاہتا ہے روزی پہنچاتا ہے وہ تمام قوتوں کا سر چشمہ اور غالب ہے۔ آخرت اور دنیا کی کھیتی آج کی پہلی آیت میں وقوع قیامت اور جزائے عمل ہی کا بیان ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے من کان یرید حرث الاخرۃ جو شخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہے نزدلہ فی حرثہ تو اس کے لیے ہم اس کو کھیتی میں اضافہ کردیں گے ۔ کھیتی سے مراد کاشتکاری ہے اور یہ ایک ایسا کام ہے جس میں انسان…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَمْ لَہُمْ شُرَكٰۗؤُا شَرَعُوْا لَہُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَنْۢ بِہِ اللہُ۝ 0 ۭ وَلَوْلَا كَلِمَۃُ الْفَصْلِ لَـقُضِيَ بَيْنَہُمْ۝ 0 ۭ وَاِنَّ الظّٰلِـمِيْنَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۝ 21 شرك ( شريك) الشِّرْكَةُ والْمُشَارَكَةُ : خلط الملکين، وقیل : هو أن يوجد شيء لاثنین فصاعدا، عينا کان ذلک الشیء، أو معنی، كَمُشَارَكَةِ الإنسان والفرس في الحیوانيّة، ومُشَارَكَةِ فرس وفرس في الکمتة، والدّهمة، يقال : شَرَكْتُهُ ، وشَارَكْتُهُ ، وتَشَارَكُوا، واشْتَرَكُوا، وأَشْرَكْتُهُ في كذا . قال تعالی: وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي[ طه/ 32] ، وفي الحدیث : «اللهمّ أَشْرِكْنَا في دعاء الصّالحین» «1» .…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 21–23

ترکیب : ام منقطقہ و قیل بمعنی ھمزۃ الاستفہام الظالمین مفعول اول لتری مشفقین مفعول ثان لہ وھوالضمیر راجع الی ماکسبوا بتقدیر مضاف علی قول الزجاج و الجملۃ حالیہ عندربہم ظرف لیشائون الذین امنوابدل من عبادہ الا المودۃ استثناء متصل ای لا اسئلکم شیئا الا اللمودۃ الثابتہ فی اھل القرابۃ وقیل منقطع۔ تفسیر : پہلی آیات میں یہ بتلایا گیا تھا کہ فیصلہ کرنے کا مستحق اللہ ہے اس نے دنیا میں دستور العمل و صراط مستقیم و میزان عدل قائم کر کے سب بندوں کو اصول حسنات پر چلنے کا حکم دیا اور یہ اصول حسنات تمام انبیائِ سابقین کا طریقہ قدیمہ ہے۔ مشرکین مکہ اس راہ راست کو چھوڑ کر نئے نئے دستورات کے پابند تھے اس لیے اب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَمْ لَھُمْ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوْا لَہُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَالَمْ یَاْذَنْ م بِہِ اللّٰہُ ط وَلَوْ لاَ کَلِمَۃُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَھُمْ ط وَاِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (الشوری : 21) (کیا ان لوگوں کے ایسے شریک خدا بھی ہیں جنھوں نے ان کے لیے دین کی نوعیت رکھنے والا ایک ایسا طریقہ مقرر کردیا ہے جس کا اذن اللہ نے نہیں دیا، اگر فیصلہ کی مدت پہلے طے نہ ہوگئی ہوتی تو ان کا فیصلہ کردیا جاتا، بیشک ان ظالموں کے لیے ایک دردناک عذاب ہے۔ ) دینِ مشرک پر اظہارِتعجب نہایت تعجب کے انداز میں پروردگار مشرکین کے حوالے سے یہ ارشاد فرما رہا ہے کہ تمام دنیا کے وہ لوگ جو مذہب سے رشتہ رکھتے ہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا ان لوگوں میں سرفہرست مشرک ہیں۔ ” اَلدِّیْنِ “ اللہ تعالیٰ کے احکام اور نبی ﷺ کے ارشادات پر مبنی ہے۔ جس میں زندگی گزارنے کا مکمل ضابطہ دیا گیا ہے۔ اس میں کسی چھوٹے، بڑے، نیک اور بد یہاں تک کہ نبی ﷺ کو بھی یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ آپ ﷺ اس میں اپنی مرضی سے بال برابر بھی کمی بیشی کرسکیں۔ آپ نے جو کچھ فرمایا اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق ارشاد فرمایا۔ اس قدر واضح اور ٹھوس اصول ہونے کے باوجود مشرکین نے کچھ لوگوں کو یہ اختیار دے رکھا ہے کہ وہ دین کے نام پر جو چاہیں مسائل بناتے اور چلاتے رہیں۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہاں شرکاء سے پہلی مراد وہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

21: اَمْ لَھُمْ شُرَکٰٓؤُا (کیا ان کے کچھ شریک ہیں) ایک قول یہ ہے کہ یہ ام منقطعہ ہے تقدیر عبارت یہ ہے بل ألھم شرکاء (بلکہ کیا ان کے کچھ شریک ہیں) ۔ اور ایک قول یہ ہے یہ ام الف استفہام کا معادل آیا ہے۔ کلام میں اضمار ہے تقدیر کلام اس طرح ہے أیقبلون ماشرع اللہ فی الدین (کیا وہ قبول کرتے ہیں اس دین کو جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے مقرر کیا) یا ان کے معبود ہیں۔ شَرَعُوْا لَھُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَالَمْ یَاْذَنْ 0 بِہِ اللّٰہُ (جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کردیا۔ جس کی اللہ تعالیٰ نے ان کو اجازت نہیں دی) یعنی انہوں نے اس کا حکم نہیں دیا۔ وَلَوْلَا کَلِمَۃُ الْفَصْلِ (اور اگر فیصلہ کن بات نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 20۔ ، من کان یرید حرث الاخرۃ، حرث کا معنی لغت میں کمائی کرنا۔ یعنی جو شخص اپنے عمل سے آخرت کا اراد کرے۔ ، نزدلہ فی حرثہ، دوگناکرکے ایک کے بدلہ میں دس اور اس سے بھی زیادہ جہاں تک اللہ تعالیٰ چاہیں۔ ، ومن کان یرید حرث الدنیا، اپنے عمل سے دنیا کا ارادہ کرے۔ ، نؤتہ منھا، قتادہ (رح) فرماتے ہیں یعنی ہم اس کو اتنی مقدار دیں گے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے تقسیم کی ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا :، عجلنا لہ فیھا مانشاء لمن نرین، ومالہ فی الاخرۃ من نصیب، اس لیے کہ اس نے آخرت کے لیے عمل نہیں کیا۔ حضرت ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس امت کو بلندی ، مدد اور زمین پر قدرت دینے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–22

16۔ 22۔ اوپر فرمایا تھا کہ جو حکم اللہ تعالیٰ نے سب انبیاء کو اور تم کو اللہ کی وحدانیت کے پھیلانے کا دیا ہے اے رسول اللہ کے اس کے موافق لوگوں کو نصیحت کرو ان آیتوں میں فرمایا جو لوگ اس نصیحت کے وقت اللہ کے حکم پر جھگڑا ڈالتے ہیں اور اتنا نہیں سمجھتے کہ ان کے بھائی بندوں اور قوم میں سے جس کسی نے اس نصیحت کو غور سے سنا وہ راہ راست پر آگیا اس لئے ایسے ضدی لوگوں کا جھگڑا کچھ التفات کے قابل نہیں ہے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کا غصہ ہے اور یہ لوگ قیامت کے دن سخت عذاب کے لائق ہیں۔ صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم میں نعمان بن بشیر سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سب سے کم عذاب والے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 21–23

آیت 21 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ مشرکین نے اللہ تعالیٰ کے شریک بنا لئے جن کے ساتھ وہ دوستی رکھتے ہیں اور وہ کفر کے داعی انسانی شیاطین کے ساتھ کفر اور اعمال کفر میں شریک ہیں (شرعوا لھم من الدین مالم یاذن بہ اللہ) ” انہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کا اللہ نے انہیں حکم نہیں دیا۔ “ یعنی شرک اور بدعات کو رواج دیا، اپنی خواہشات نفس کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرایا اور اس کی محرمات کو حلال قرار دیا، حالانکہ دین وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ دین قرار دے تاکہ لوگ اسے دین بنائیں اور اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کریں۔ اس بارے میں اصول یہ ہے کہ ہر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 20–22

نرم طلب دنیا، اجر آخرت سے محرومی ہے قول باری ہے (ومن کان یرید حرث الدنیا نوتہ منھا ومالہ فی الاخرۃ من نصیب۔ اور جو کوئی دنیا کی کھیتی کا طالب ہے ہم اسے کچھ دنیا میں سے دیں گے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہ ہوگا) آیت میں اس کام کے لئے اجرت پر کسی کو رکھنے کے بطلان پر دلالت موجود ہے جس کی انجام وہی صرف تقرب الٰہی کی بنیاد پر ہوتی ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ جو شخص دنیا کی کھیتی کا طالب ہوتا ہے آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوتا، اس بنا پر وہ کام تقرب الٰہی اور عبادت کے دائرے سے خارج ہوجائے گا۔ اس لئے اس کا جواز باقی نہیں رہے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

58 دین شرک کے لیے کوئی گنجائش نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا اور استفہام استعجاب و استنکار کے ساتھ فرمایا کیا کہ " کیا ان لوگوں کے کوئی ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کیلئے دین کا کوئی ایسا طریقہ نکال لیا ہو جس کی اجازت اللہ نے نہیں دی ؟ "۔ اور ظاہر ہے کہ ان کے ایسے کوئی شریک ہوسکتے ہی نہیں۔ تو پھر یہ لوگ اس دین حق کی اتباع و پیروی کیوں نہیں کرتے جو اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے نازل فرمایا ہے۔ جو ان کے لئے دارین کی سعادتوں کا ضامن و کفیل ہے۔ اس صورت میں یہ استفہام انکاری ہوگا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اَمْ لَہُمْ اٰلِہَۃٌ تَمْنَعُہُمْ مِّنْ دُوْنِنَا } ۔ (الانبیاء :43) اور یا یہ " اَمْ "…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 20–26

اللہ کے قوانین اٹل ہیں تشریح : سب سے پہلے تو یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ یہ زندگی ہر انسان کے لیے ایک کھیتی کی طرح ہے۔ یعنی دنیا کے کام کرنا فرض ہے مگر ان کے ساتھ ساتھ اللہ کو یاد کرنا اور ہر دم اللہ سے دنیا وآخرت کی بھلائی مانگنا بھی فرض ہے۔ تو گویا ایک پنتھ دو کاج ہوگئے۔ یوں اللہ تعالیٰ دنیا کے کاموں میں بھی برکت اور بھلائی پیدا کرتا ہے اور آخرت میں بھی بھلائی اور برکت عطا کرتا ہے جو دنیا میں گم ہو کر اسے بھول جاتے ہیں ان کو معلوم ہونا چاہے کہ اس طرح وہ اپنا بہت بڑا نقصان کرلیتے ہیں۔ اللہ کا نظام کائنات ایسا عجیب و غریب ہے اور اس کی نظر اس قدر وسیع اور مضبوط ہے کہ وہ نہ صرف ظاہری اعمال کو ہی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 20–29

آیات 20 تا 29۔ جو کوئی اپنی محنت کا پھل آخرت میں چاہتا ہے تو اس کے انعامات اور اجر اور زیادہ بڑھادیے جاتے ہیں اور وہ اپنی طلب سے بھی زیادہ پاتا ہے اور جو شخص صرف حصول دنیا کے لیے کوشش کرتا ہے اسے دنیا میں سے کچھ نہ کچھ عطا کردیا جاتا ہے یعنی ضروری نہیں کہ جس انداز یاجتنی مقدار میں اس کی خواہش ہے اسے مل جائے بلکہ یہ اللہ کی مرضی کہ اس کا نصیبہ کیا مقرر کیا ہے وہی ملتا ہے جبکہ یہ سب آخرت کے طلب گار کو بھی ملتا ہے۔ مگر آخرت چھوڑ کر صرف دنیا کے طالب کی خواہش دنیا میں پوری نہیں ہوتی اور آخرت سے محروم رہ جاتا ہے کہ آخرت پر ایمان ہی نہ تھا لہذا آخرت میں کچھ نہیں پاتاگویا مومن دنیا کا کام بھی طلب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4” جیسے شرک اور گناہ کا کام “۔ 5 یعنی شرک جس کا یہ ارتکاب کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں اتنی بڑی جسارت ہے کہ اگر اللہ نے یہ طے نہ کردیا ہوتا کہ ان کا فیصلہ قیامت کے روز کیا جائے تو کبیھ کا دنیا ہی میں ان عذاب آچکا ہوتا اور یہ سب لوگ تباہ ہوچکے ہوتے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(42:21) ام۔ حرف عطف ہے بمعنی کیا۔ یہاں ہمزہ استفہام کے معنی میں آیا ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے ایقبلون ما شرع اللّٰہ لہم من الدین ام لہم شرکاء شرعوا لہم من الدین ۔۔ الخ کیا وہ اس دین کو مانتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے۔ یا انہوں نے اللہ تعالیٰ کے جو شریک (باطل) بنا رکھے ہیں انہوں نے ان کے لئے کوئی (نیا) دین مقرر کر رکھا ہے ۔۔ (نیز ملاحظہ ہو 18:9) مالم یاذن بد اللّٰہ : ما اسم موصول ہے باقی جملہ اس کا صلہ۔ لم یاذن مضارع نفی جحد بلم۔ بمعنی ماضی منفی اذن (باب سمع) مصدر (جس کی اللہ نے) اجازت نہیں دہ ہے۔ لولا : اگر نہ ہوتا۔ (نیز ملاحظہ ہو آیت 14 متذکرۃ الصدر و 6:43) کلمۃ الفصل۔ مضاف مضاف الیہ۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 20–23

لغات القرآن آیت نمبر 20 تا 23 : حرت ( کھیتی) نصیب (حصہ) یاذن (وہ اجازت دیتا ہے) کلمۃ الفصل (فیصلے کی بات) کسبوا (انہوں نے کمایا) واقع ( پڑنے والا ، واقع ہونے والا) روضت ( روضۃ) (باغ، کیا ریاں) لا اسئل (میں سوال نہیں کرتا) المودۃ (محبت ، لحاظ) یقترف (وہ کماتا ہے) تشریح : آیت نمبر 20 تا 23 : یہ اللہ کا سب سے بڑا احسان ہے کہ اس نے آدمی کو دنیا کی مختصر سی زندگی گزارنے کے بہت سے اسباب اور وسائل عطاء کئے ہیں تا کہ آدمی ان اسباب کو آخرت کی تعمیر میں استعمال کر کے اس کے رحم و کرم کا مستحق اور حق دار بن جائے۔ اللہ کا یہ نظام ہے کہ اگر کسی شخص کی جدوجہد ، کوشش اور بھاگ دوڑ محض دنیا حاصل کرنے کے لئے ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) یہ کفار جو بت پرستی، وغیرہ بری بری باتیں کرتے ہیں تو کیا ان کے لیے سوا خدا کے اور کوئی معبود مالک ہے جن کو یہ خدا کا شریک بتاتے ہیں اور اپنا حامی کہ ان کو انہوں نے کوئی دین بتایا ہے اور ان کے لیے مقرر کردیا ہے جس کا خدا نے ان کو حکم نہیں دیا، اگر خدا کا حکم ازلی جو حق و باطل میں فاصل ہے اور یقینی ہے انکی تاخیر عذاب کے بارہ میں ثابت نہ ہوچکا ہوتا، اور یہ بات تقدیر میں نہ مقرر ہوچکی ہوتی کہ اس امت پر اگلوں کا سا عذاب نہ آئے گا تو کبھی کا عذاب آچکتا ، اور یہ سب مرکرخاک میں بھی مل چکتے، اور بیشک ظالم کافروں کو آخرت میں سخت عذاب پہنچے گا، اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے تو ایسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–21

[14] یعنی اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے ذریعے دین حق کا راستہ بتلا دیا۔ کیا اس کے سوا کوئی اور ہستی ایسی ہے جسے کوئی دوسرا راستہ مقرر کرنے کا حق اور اختیار حاصل ہو کہ وہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال اور حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام ٹھہرا دے ؟ [15] پھر آخر ان مشرکین نے اللہ کی راہ چھوڑ کر دوسری راہیں کہاں سے نکال لیں ؟ قول فیصل یہ کہ ان پر پورا عذاب آخرت میں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 20–22

زندگی کی دو راہیں 1: کہ دو قسم کی زندگیاں ہیں اب یہ تمہارے انتخاب پر موقوف ہے کہ تم لوگ کس نوع کی زندگی کو اپنے لئے پسند کرتے ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے اختیار وانتخاب میں پوری پوری آزادی دے رکھی ہے ۔ اگر کشت آخرت چاہتے ہو ۔ تو اللہ کی مہربانیاں تمہارے شامل حال ہونگی ۔ اور تم کو ہر نوع کی اعانت سے نوازا جائیگا ۔ اور اگر کشت آخرت کی ضرورت نہیں ہے ۔ دنیا کی خوبصورتی پر پھرگئے ہو اور اسی زندگی کا بھلا چاہتے ہو ۔ تو یہ بھی تم کو مل سکتی ہے ۔ مگر یہ یاد رکھو آخرت کے حصوں میں تم دنیا کی کسی مسرت سے محروم نہیں رہوں گے ۔ وہ اگر تم نے صرف دنیا کو حاصل کیا ۔ تو پھر وہاں کچھ نہیں ملے گا ۔ ان دونوں باتوں کو خوب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(21) کیا ان کافروں کے کچھ ایسے خود ساختہ شریک ہیں جنہوں ان کے لئے ایسا دین مقرر کردیا ہے اور دین کی کوئی ایسی راہ ڈالی ہے کہ جس دین کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہیں دی اور اللہ تعالیٰ نے اس دین کا حکم نہیں دیا اور اگر وہ فیصلے کی بات نہ ہوچکی ہوتی تو ان کے درمیان یقینا فیصلہ کردیا گیا ہوتا اور بلاشبہ ان ظالموں کے لئے دردناک عذاب ہے ۔ اوپرشرعلکممن الدین ماوصی بہ گزرا ہے اسی سلسلے میں ارشاد ہے اور استفہام انکاری کے طور پر فرمایا کہ کیا ان کے تجویز کردہ معبودوں نے کوئی اور ایسا دین ان کے لئے تجویز کردیا اور کوئی اور راستہ دین کے نام سے بنادیا ہے جس دین کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا۔ کلمۃ الفصل سے وہی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ مقصود استفہام انکار سے یہ ہے کہ کوئی اس قابل نہیں کہ خدا کے خلاف اس کا مقرر کیا ہوا دین معتبر ہوسکے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا ان کے لیے ایسے شرکاء بھی ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین بنانے کا ذمہ لیا ہے ؟ 21 ؎ { شرعوا } انہوں نے راہ ڈالی شرعٌ سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ اس صورت کی آیت 13 میں گزر چکا ہے کہ { شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحاً والذی او حینا الیک } الخ۔ ” اس نے تمہارے لیے دین کا وحی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا اور اے پیغمبر اسلام ! ہم نے آپ ﷺ کی طرف اس کو وحی کیا ہے۔ “ اس آیت میں دوسرے کئی ایک نبیوں اور رسولوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ شریعت انہیں باتوں کا نام ہے جو انبیاء و رسل کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سینازل کی گئیں اور ان کے مطابق اعمال کرنے کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–22

Commentary اللَّـهُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ (Allah is kind to His slaves - 42:19). The word, latif used in the text has more than one lexical meanings. Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ has translated it here as kind, and Sayyidna ` Ikrimah ؓ has translated it as benefactor. Muqatil (رح) has said that Allah Almighty is kind to all His servants, so much so that even the infidels and sinners keep on being showered with His worldly blessings. There are many types and kinds of the divine bounties, graces and favours showered upon His servants. That is why many meanings of the word latif have been stated in the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

38 In this verse the word shuraka (associates) obviously does not mean those beings whom the people invoke, or those in whose names they make offerings, or those before whom they carry out rites of worship, but inevitably it refers to those men whom the people regard as associates in the authority and sovereignty of Allah, whose thoughts, creeds, ideologies and philosophies they believe in, whose values they adroit, whose moral precepts and norms of civilization and culture they accept, and whose laws and rules and regulations they adopt to their rituals and rites of worship, in their…

Read the full tafseer →