Explained with ayahs 19–22
غفورو رحیم اللہ
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے ایک کو دوسرے کے ہاتھ سے روزی پہنچا رہا ہے ایک بھی نہیں جسے اللہ بھول جائے نیک بد ہر ایک اس کے ہاں کا وظیفہ خوار ہے جیسے فرمایا (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ) 11۔ ھود :6) ، زمین پر چلنے والے تمام جانداروں کی روزیوں کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے وہ ہر ایک کے رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے اور سب کچھ لوح محفوظ میں لکھا ہوا بھی ہے وہ جس کے لئے چاہتا ہے کشادہ روزی مقرر کرتا ہے وہ طاقتور غالب ہے جسے کوئی چیز عاجز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
سورة الشُّوْرٰی 40
" اس کام " سے مراد وہ کوشش ہے جو نبی ﷺ لوگوں کو خدا کے عذاب سے بچانے اور جنت کی بشارت کا مستحق بنانے کے لیے کر رہے تھے۔
سورة الشُّوْرٰی 41
اصل الفاظ ہیں اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی۔ یعنی میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا مگر " قربٰی " کی محبت ضرور چاہتا ہوں۔ اس لفظ " قربٰی " کی تفسیر میں مفسرین کے درمیان بڑا اختلاف واقع ہوگیا ہے۔
ایک گروہ نے اس کو قرابت (رشت دری) کے معنی میں لیا ہے اور آیت کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ " میں تم سے اس کام پر کوئی اجر نہیں چاہتا، مگر یہ ضرور چاہتا ہوں کہ تم لوگ (یعنی اہل قریش) کم از کم اس رشتہ داری کا تو لحاظ کرو جو میرے اور تمہارے درمیان ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
خلاصہ تفسیر
دین حق کو تو خدا نے مشروع و مقرر فرمایا ہے، مگر یہ لوگ جو اس کو نہیں مانتے تو) کیا ان کے (تجویز کئے ہوئے) کچھ شریک (خدائی ہیں) جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کردیا ہے جس کی خدا نے اجازت نہیں دی (مطلب یہ ہے کہ کوئی ذات اس قابل نہیں کہ خدا کے خلاف اس کا مقرر کیا ہوا دین معتبر ہو سکے) اور اگر (خدا کی طرف سے) ایک قول فیصل (ٹھہرا ہوا) نہ ہوتا (یعنی یہ کہ ان پر اصل عذاب موت کے بعد ہوگا) تو (دنیا ہی میں) ان کا (عملی) فیصلہ ہوچکا ہوتا اور (آخرت میں) ان ظالموں کو ضرور دردناک عذاب ہوگا (اس روز) آپ ان ظالموں کو دیکھیں گے کہ اپنے اعمال (کے وبال) سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ (وبال) ان پر (ضرور)…
Read the full tafseer →تری الظلمین مشفقین مما کسبوا و ھو واقع بھم والذین امنوا و عملوا الصلحت فی روضت الجنت۔ لھم ما یشآئون عند ربھم ذلک ھو الفضل الکبیر (22)
آخرت میں آدمی کو اپنے اعمال سے سابقہ پیش آئے گا
یعنی آج تو یہ مشرکین اپنے مزعومہ شرکاء کے بل پر آخرت سے نچنت بیٹھے ہیں سمجھتے ہیں کہ اگر آخرت ہوئی تو ان کے شرکاء ان کی مدد کریں گے، انہیں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن جب قیامت آجائے گی اور یہ دیکھیں گے کہ یہاں کوئی کسی کا شریک و شفیع نہیں ہے بلکہ ہر ایک کا واسطہ اس کے اعمال سے پڑنے والا ہے تو وہ اپنے اعمال کے وبال سے لرزاں ہوں گے لیکن ان کا یہ لرزاں وترساں ہونا بالکل بےسود ہوگا۔ ان کے اعمال کا وبال لازمًا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
22۔ 1 یعنی قیامت والے دن۔
22۔ 2 حالانکہ ڈرنا بےفائدہ ہوگا کیونکہ اپنے کئے کی سزا تو انہیں بہرحال بھگتنی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
4: یہی مضمون سورة بنی اسرائیل : 18 میں گذرا ہے، وہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو شخص صرف دنیا کی بہتری چاہے، اس کو دنیا کی نعمتیں دی جاتی ہیں، لیکن ہر مانگی ہوئی چیز پھر بھی نہیں ملتی، بلکہ جس کو اللہ تعالیٰ دینا چاہتا ہے، اور جتنا دینا چاہتا ہے، اتنا دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
آیت نمبر 20 تا 23
پچھلے پیراگراف میں یہ کہا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے لئے جو نظام زندگی اور شریعت تجویز کی تھی وہ وہی ہے جس کے بارے میں نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو تاکید کی گئی تھی۔ وہی بات حضرت محمد ﷺ کی طرف بھی وحی کی گئی۔ اب اس پیرے میں ان سے گرفت کے انداز میں پوچھا جاتا ہے کہ تم بتاؤ تمہاری شریعت اور قانون اور نظام اور نظریہ کا ماخذ کیا ہے ؟ تمہاری شریعت کس نے بنائی ہے۔ یہ تم جس نظام کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہو ، یہ تو شریعتوں کے خلاف ہے۔
ام لھم شرکاء شرعوا ۔۔۔۔ بہ اللہ (42 : 21) ” کیا کچھ لوگ ایسے شریک خدا ہیں جنہوں نے ان کے لئے دین کی نوعیت رکھنے والا…
Read the full tafseer →11 یعنی اپنی کرتوت کے نتائج سے خواہ آج نہ ڈریں مگر اس دن ڈرتے ہوں گے اور یہ ڈر ان پر ضرور پڑ کر رہے گا۔ کوئی سبیل رہائی اور فرار کی نہ ہوگی۔
12 یعنی جنت میں ہر قسم کی جسمانی اور روحانی راحتیں اور اپنے رب کا قرب، یہ ہی بڑا فضل ہے۔ دنیا کے عیش اس کے سامنے کیا حقیقت رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 22 { تَرَی الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا کَسَبُوْا } ”تم دیکھو گے ان ظالموں کو کہ وہ اپنے کرتوتوں کے سبب ڈر رہے ہوں گے“
قیامت کے دن کفار و مشرکین اپنے غلط عقائد اور برے اعمال کے سبب خوف زدہ ہوں گے۔ دراصل نیکی و بدی کے بارے میں انسان کا ضمیر بہت حساس ّہے : { بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ۔ القیامۃ ”بلکہ انسان اپنے نفس پر خود گواہ ہے“۔ یہ آیت بہت واضح انداز میں ہمیں بتاتی ہے کہ انسانی ضمیر اپنے اندر کی گہرائیوں میں جھانک کر بغیر کسی مصلحت اور تعصب کے غلط اور درست کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چناچہ قیامت کے دن تمام غلط کار انسان اپنے اعمال کو دیکھتے ہوئے حساب و کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
34 الا المودّۃ فی القربیٰ کے مختلف مفہوم :۔ اس جملہ کی کئی تفسیریں بیان کی گئی ہیں مگر بہترین تفسیر وہی ہے جو صحیحین میں سیدنا ابن عباس ؓ سے منقول ہے اور وہ یہ ہے :
سیدنا ابن عباس ؓ سے کسی نے پوچھا کہ (اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى 23) 42 ۔ الشوری :23) کا کیا مطلب ہے ؟ سعید بن جبیر نے (جھٹ) کہہ دیا کہ اس سے آپ کی آل مراد ہے۔ ابن عباس ؓ کہنے لگے : تم جلد بازی کرتے ہو۔ بات یہ ہے کہ قریش کا کوئی قبیلہ ایسا نہ تھا جس سے آپ کی کچھ نہ کچھ قرابت نہ ہو تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر سے فرمایا کہ انہیں کہیے کہ اگر تم اور کچھ نہیں کرتے (مسلمان نہیں ہوتے) تو کم از کم قرابت ہی کا لحاظ رکھو۔ (اور…
Read the full tafseer →27۔ (نہ کہ وہ عیش و آرام جو اسی دنیا میں تک محمود ومخصوص رہے) (آیت) ” الظلمین “۔ یہاں بھی مراد کافر ہی ہیں اے المشرکین۔ (معالم) دنیا میں ہیبت حق سے اہل ایمان ڈرتے رہتے ہیں اور منکرو کافر آخرت کی طرف سے بےفکر رہتے ہیں۔ آخرت میں جب مشاہدہ احوال ہونے لگے گا یہ ترتیب الٹ جائے گی۔ منومنین کے چہرہ پر اطمینان وبشاشت کے انوار ہوں گے اور کافروں منکروں کے منہ پر ہوائیاں اڑ رہی ہوں گی۔ (آیت) ” الجنت “۔ جنات کو صیغہ جمع میں اس لئے لائے کہ بہشت کے مختلف طبقہ اور درجہ ہیں۔ ہر ہر طبقہ خود ایک بہشت ہے، پھر ہر طبقہ کے اندر باغات متعدد ہیں۔ اپنے اپنے درجہ و مرتبہ کے مطابق کوئی کہیں ہوگا اور کوئی کہیں۔ (آیت) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
آیت نمبر 20 تا 29
ترجمہ : جس کا مقصد اپنے عمل سے آخرت کی کھیتی ہو، یعنی آخرت کی کمائی ہو اور وہ ثواب ہے تو ہم اس کی کھیتی میں (یعنی) نیکیوں میں دس گنے تک (بلکہ) اور اس سے بھی زیادہ اضافہ کر کے ترقی دیں گے اور جو دنیا کی کھیتی کی طلب رکھتا ہو تو ہم اسے اس میں سے بلا اضافے کے بقدر نصیب عطا کریں گے، ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں بلکہ مکہ کے ان کافروں نے کچھ شرکاء تجویز کر رکھے ہیں اور وہ شیاطین ہیں کہ ان شرکاء نے ان کافروں کے لئے دین فاسد تجویز کر رکھا ہے، جس کی خدا نے اجازت نہیں دی (اور وہ دین فاسد) شرک اور انکار بعث ہے اور اگر فیصلے کے دن کا وعدہ نہ ہوچکا ہوتا یعنی پہلے سے فیصلہ نہ ہوچکا…
Read the full tafseer →تری الظلمین مشفقین مما کسبوا وھو واقع بھم (قیامت کے دن) آپ ظالموں (یعنی مشرکوں)
کو دیکھیں گے کہ وہ اپنے کئے ہوئے کاموں (یعنی شرک و معاصی) کی سزا سے ڈر رہے ہوں گے ‘ لیکن وہ (اعمال کا بدلہ اور عذاب) تو ان پر پڑ کر رہے گا ‘ یعنی ڈرنے سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
والذین امنوا وعملوا الصلحت فی روضت الجنت لھم ما یشاؤن عند ربھم ذلک ھو
الفضل الکبیر اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے ‘ وہ جنتوں کے باغوں میں ہوں گے ‘ ان کے رب کے پاس وہ سب کچھ ملے گا جس کے وہ خواہش مند ہوں گے۔ یعنی اللہ کا بڑا فضل ہوگا۔
رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ یعنی جنت کے اندر سب سے عمدہ اور تفریح کے مقامات۔
ذٰلِکَ یعنی جنت کی یہ نعمت جس کا…
Read the full tafseer →آپ قیامت کے دن ان کافروں کو دیکھیں گے کہ اپنے اعمال و اقوال کفریہ کے وبال سے ڈر رہے ہوں گے اور جس سے ڈر رہے ہیں وہ ان پر ضرور ہوگا اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے یعنی حضرت ابوبکر صدیق وہ جنت کے باغوں میں ہوں گے اور وہ جنت میں جس چیز کی خواہش و تمنا کریں گے وہ ان کو ملے گی یہی جنت بہت بڑا احسان ہے۔
Read the full tafseer →(1) تری الظلمین مشفقین مما کسبوا…:”الظلمین“ سے یہاں بھی وہی ظالم یعنی کافر و مشرک مراد ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا ہے، کیونکہ اسم معروف باللام ہو کر دوبارہ آئے تو اس سے پہلا ہی مراد ہوتا ہے اور اس لئے کہ ان کے مقابلے میں ایمان اور عمل صالح والے لوگوں کا ذکر آرہا ہے، یعنی ”والذین امنوا و عملوا الصلحت …“ اس آیت میں قیامت کے دن ان مشرکین کی حلات کا نقشہ کھینچا ہے۔ عذاب سے پہلے اس کا شدید خوف بجائے خود ایک بڑا عذاب ہے، پھر ہر حال میں ان کے کفر و شرک کا وبال ان پر آکر رہنے والا ہے، خواہ ڈریں یا نہ ڈریں۔ دنیا میں کفار قیامت سے بےخوف تھے اور اس کا مذاق اڑاتے تھے، جیسا کہ پیچھے گزرا ہے، (یستعجل بھا الذین…
Read the full tafseer →مشفقین کا معنی ڈر نے والے ہیں۔ مما کسبوا جو کچھ انہوں نے کیا اس کی جزا۔ یہاں ظالمون سے مراد کافرون ہیں ‘ کیونکہ مومن اور کافر کے درمیان تقسیم والی دلیل موجود ہے۔
واقع بھم ان پر نا زل ہونے والا ہے روضت سے مراد ایسی جگہ ہے جہاں بہت زیادہ سر سبزی ہوتی ہے۔ سورة روم میں یہ بحث گذر چکی ہے لھم ما یشآء ون عند ربھم یعنی ان کے لیے ان کے رب کے ہاں نعمتیں اور عظیم ثواب ہے۔
ذلک ھوالفضل الکبیر۔ اس کا وصف بیان نہیں کیا جاسکتا اور عقلیں اس کی صفت کی کنہ تک نہیں پہنچ سکتیں۔ جب اللہ تعالیٰ کسی کے لیے کبیر کا لفظ استعمال کرے تو کون اس کا اندازہ لگائے گا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولولا کلمۃ الفضل “ (اگر ایک قول فیصل نہ ہوتا) یعنی قیامت کا دن کہ اس وقت تک ان کو مہلت دی گئی (تو دنیا میں ان کا فیصلہ ہوجاتا ہے) اور (آیت ) ” فی روضت الجنت “ سے مراد ایسا مکان ہے جو ان کی شان کے مطابق ہوگا۔
2:۔ ابن جریر (رح) نے ابو ظبیہ (رح) سے روایت کیا کہ اہل جنت کی ایک جماعت کو بادل سایہ کرلے گا تو کہے گا میں تم پر بارش نہ کروں تو اس قوم میں سے کوئی بھی آدمی کسی چیز کا سوال نہیں کرے گا مگر وہ اس پر بارش برسائے گا یہاں تک کہ ایک کہنے والا ان میں سے کہے گا کہ ہم پر اٹھے ہوئے پستانوں اور ہم عمر عورتوں جیسا بادل…
Read the full tafseer →تَرَى [آپ دیکھیں گے ] الظّٰلِمِيْنَ [ ظالم لوگوں کو ] مُشْفِقِيْنَ [ ڈرنے والا ہوتے ہوئے ] مِمَّا كَسَبُوْا [ اس سے جو انھوں نے کمائی کی ] وَهُوَ [ حالانکہ وہ ] وَاقِـــعٌۢ بِهِمْ ۭ [ پڑنے والی ہے ان پر ] وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [ اور جو لوگ ایمان لائے ] وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ [ اور انہوں نے عمل کئے نیکیوں کے ] فِيْ رَوْضٰتِ الْجَـنّٰتِ ۚ [ (وہ لوگ ) جنتوں کے سبزہ زاروں میں ہوں گے ] لَهُمْ مَّا [ ان کے لئے وہ ہے جو ] يَشَاۗءُوْنَ [ وہ لوگ چاہیں گے ] عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ [ اپنے رب کے پاس ] ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيْرُ [ یہ ہی (سب سے ) بڑا فضل ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
دعوت و تبلیغ کے عوض تم سے کچھ طلب نہیں کرتا
اس کے بعد فرمایا ﴿قُلْ لَّاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى ﴾ (آپ فرما دیجیے کہ میں اس پر تم سے کسی عوض کا سوال نہیں کرتا بجز رشتہ داری کی محبت کے) اس کا مطلب یہ ہے کہ میں جو کچھ تمہیں توحید کی دعوت دیتا ہوں اور ایمان لانے کی باتیں کرتا ہوں میری یہ محنت اور کوشش صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے میں تم سے کچھ بھی نہیں چاہتا ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ میری تمہاری رشتہ داریاں ہیں رشتہ داری کے اصول پر جو تمہاری ذمہ داری ہے اسے پورا کرو، صلہ رحمی کو سامنے رکھ کر مجھے تکلیف نہ پہنچاؤ تو یہ دوسری بات ہے : فھو استثناء منقطع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ترغیب دار آخرت وتنبیہ از طلب دنیا وخسارۂ مجرمین وظالمین :۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” من کان یرید حرث الاخرۃ ...... الی ....... ان اللہ غفور شکور “۔
(ربط) گذشتہ مضمون حق تعالیٰ شانہ کی شان رزاقی اور لطیفی پر ختم فرمایا گیا جس سے بتانا مقصود تھا کہ دنیوی رزق کی تفسیم اللہ رب العرت کے محض رزاق ہونے پر ہے رزق کی کمی اور زیادتی اللہ کے نزدیک پسندیدہ اور ناپسندیدہ ہونے پر مبنی نہیں ہے، اب ان آیات میں یہ ذکر فرمایا جارہا ہے کہ انسان کی سعادت اسی میں مضمر ہے کہ وہ طالب آخرت بنے، اور اسی کو اپنی زندگی کا اصل مقصودس مجھے، طلب دنیا انسانی زندگی کا مقصد نہیں، اس لیے جو شخص اپنی فکر طلب آخرت بنالے گا خدا…
Read the full tafseer →21:۔ ” والذین امنوا “ تا ” ومعلوا الصالحات “ یہ ایمان والوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے۔ قیامت کے دن وہ جنت کے باغوں میں خوش وخرم ہوں گے، جنت میں وہ جو چاہیں گے، انہیں پروردگار کی طرف سے ملے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اتنا بڑا فضل و احسان ہے کہ حد بیان سے باہر ہے۔ یہ ہے اس کا فضل و احسان اور انعام و اکرام جس کی وہ اپنے ان بندوں کو خوشخبری دیتا ہے، جو اس کی توحید پر اور تمام اعتقادیات پر ایمان لائیں اور اس کے شرائع و احکام کی پیروی کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ربط آیات
پہلے قرآن پاک پر ایمان لانے کا ذکر ہوا اور اس کتاب کی عظمتوں کا بیان ہوا پھر گزشتہ درس میں قیامت اور محاسبے کا ذکر تھا اللہ نے منکرین قیامت کا رد فرمایا ۔ نیز فرمایا کہ تمام تصرفات اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں ۔ اس کی تدبیر بہت باریک ہے ۔ وہ جس کو چاہتا ہے روزی پہنچاتا ہے وہ تمام قوتوں کا سر چشمہ اور غالب ہے۔
آخرت اور دنیا کی کھیتی
آج کی پہلی آیت میں وقوع قیامت اور جزائے عمل ہی کا بیان ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے من کان یرید حرث الاخرۃ جو شخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہے نزدلہ فی حرثہ تو اس کے لیے ہم اس کو کھیتی میں اضافہ کردیں گے ۔ کھیتی سے مراد کاشتکاری ہے اور یہ ایک ایسا کام ہے جس میں انسان…
Read the full tafseer →تَرَى الظّٰلِـمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَہُوَوَاقِـــعٌۢ بِہِمْ 0 ۭ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِيْ رَوْضٰتِ الْجَـنّٰتِ 0 ۚ لَہُمْ مَّا يَشَاۗءُوْنَ عِنْدَ رَبِّہِمْ 0 ۭ ذٰلِكَ ہُوَالْفَضْلُ الْكَبِيْرُ 22
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] .
والثالث : بالتّفكّر،
نحو : إِنِّي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
ترکیب : ام منقطقہ و قیل بمعنی ھمزۃ الاستفہام الظالمین مفعول اول لتری مشفقین مفعول ثان لہ وھوالضمیر راجع الی ماکسبوا بتقدیر مضاف علی قول الزجاج و الجملۃ حالیہ عندربہم ظرف لیشائون الذین امنوابدل من عبادہ الا المودۃ استثناء متصل ای لا اسئلکم شیئا الا اللمودۃ الثابتہ فی اھل القرابۃ وقیل منقطع۔
تفسیر : پہلی آیات میں یہ بتلایا گیا تھا کہ فیصلہ کرنے کا مستحق اللہ ہے اس نے دنیا میں دستور العمل و صراط مستقیم و میزان عدل قائم کر کے سب بندوں کو اصول حسنات پر چلنے کا حکم دیا اور یہ اصول حسنات تمام انبیائِ سابقین کا طریقہ قدیمہ ہے۔ مشرکین مکہ اس راہ راست کو چھوڑ کر نئے نئے دستورات کے پابند تھے اس لیے اب…
Read the full tafseer →تَرَی الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا کَسَبُوْا وَھُوَ وَاقِعٌ م بِہِمْ ط وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوالصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ ج لَھُمْ مَّایَشَآئُ وْنَ عِنْدَ رَبِّہِمْ ط ذٰلِکَ ھُوَالْفَضْلُ الْـکَبِیْرُ ۔ (الشوری : 22)
(آپ ظالموں کو دیکھیں گے کہ وہ اپنے اعمال کے انجام سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ ان پر آکر رہے گا، اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے وہ بہشتوں کے باغیچوں میں ہوں گے اور ان کے لیے ان کے رب کے پاس وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے، یہی وہ سب سے بڑا فضل ہے۔ )
آخرت میں ہر شخص کو اپنے اعمال سے سابقہ پیش آئے گا
آنحضرت ﷺ سے خطاب ہے یا ہر مخاطب سے جو اہل جنت میں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : ظالموں کی سزا اور نیک لوگوں کی جزا کا ذکر۔
قرآن مجید یہاں بھی اپنے اسلوب کے مطابق ظالموں کی سزا کا تذکرہ کرنے کے بعد جنتیوں کی جزا کا ذکر کرتا ہے لہٰذا ارشاد ہوتا ہے کہ آپ ﷺ ظالموں کو دیکھیں گے کہ جوں ہی وہ جہنم کا عذاب دیکھیں گے جو ان پر وارد ہونے والا ہوگا تو اپنے اعمال کے انجام پر خوف زدہ ہوں گے۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ ایمان لائے اور صالح اعمال کرتے رہے وہ جنت کے لہلہاتے اور مہکتے ہوئے باغات میں ہوں گے اور جو چاہیں گے پائیں گے یہ ان کے رب کا ان پر بڑا فضل ہوگا۔
مسائل
1۔ جہنّم کا عذاب دیکھ کر ظالم اپنے انجام سے خوف زدہ ہوں گے۔
2۔ صالح اعمال کرنے والے ایماندار جنت کے…
Read the full tafseer →ظالمین اور صالحین کا انجام :
22: تَرَی الظّٰلِمِیْنَ (آپ ان ظالموں کو دیکھیں گے) آخرت میں مشرکین کو مُشْفِقِیْنَ (وہ ڈر رہے ہونگے) مِمَّا کَسَبُوْا (اپنے اعمال سے) یعنی اپنے کفر کی سزا سے وَھُوَ وَاقِعٌ0 بِھِمْ ( اور وہ ان پر پڑ کر رہے گا) وہ عذاب ان پر بہر صورت نازل ہوگا۔ خواہ وہ ڈریں یا نہ ڈریں۔ وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ ( اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے وہ بہشتوں کے باغوں میں ہونگے) گویا مومن کی جنت کا عمدہ ترین حصہ اور سب سے زیادہ نزہت والا حصہ روضہ ہوگا۔ لَھُمْ مَّا یَشَآ ئُ وْنَ عِنْدَ رَبِّھِمْ (اور وہ جس چیز کو چاہیں ان…
Read the full tafseer →21، ام لھم شرکاء شرعوالھم من الدین مالم یاذن بہ اللہ ، یعنی کفار مکہ ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کیا ان کے معبود ہیں جنہوں نے ان کے لیے ایسادین مقرر کیا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہیں دی ؟ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ انہوں نے ان کے لیے اسلام کے علاوہ دین مقررکیا ہے۔ ، ولو لاکلمۃ الفصل، اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے درمیان کلمہ فصل کرنے میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان سے عذاب قیامت کے دن تک مؤ خر کردیں۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا :، لقضی بینھم، تو ان لوگوں کے عذاب سے فراغت ہوچکی ہوتی جو آپ (علیہ السلام) کی دنیا میں تکذیب کرتے ہیں۔
وان الظالمین، مشرکین، لھم عذاب الیم، آخرت میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–22
16۔ 22۔ اوپر فرمایا تھا کہ جو حکم اللہ تعالیٰ نے سب انبیاء کو اور تم کو اللہ کی وحدانیت کے پھیلانے کا دیا ہے اے رسول اللہ کے اس کے موافق لوگوں کو نصیحت کرو ان آیتوں میں فرمایا جو لوگ اس نصیحت کے وقت اللہ کے حکم پر جھگڑا ڈالتے ہیں اور اتنا نہیں سمجھتے کہ ان کے بھائی بندوں اور قوم میں سے جس کسی نے اس نصیحت کو غور سے سنا وہ راہ راست پر آگیا اس لئے ایسے ضدی لوگوں کا جھگڑا کچھ التفات کے قابل نہیں ہے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کا غصہ ہے اور یہ لوگ قیامت کے دن سخت عذاب کے لائق ہیں۔ صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم میں نعمان بن بشیر سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سب سے کم عذاب والے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
آیت 21
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ مشرکین نے اللہ تعالیٰ کے شریک بنا لئے جن کے ساتھ وہ دوستی رکھتے ہیں اور وہ کفر کے داعی انسانی شیاطین کے ساتھ کفر اور اعمال کفر میں شریک ہیں (شرعوا لھم من الدین مالم یاذن بہ اللہ) ” انہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کا اللہ نے انہیں حکم نہیں دیا۔ “ یعنی شرک اور بدعات کو رواج دیا، اپنی خواہشات نفس کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرایا اور اس کی محرمات کو حلال قرار دیا، حالانکہ دین وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ دین قرار دے تاکہ لوگ اسے دین بنائیں اور اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کریں۔ اس بارے میں اصول یہ ہے کہ ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
نرم طلب دنیا، اجر آخرت سے محرومی ہے
قول باری ہے (ومن کان یرید حرث الدنیا نوتہ منھا ومالہ فی الاخرۃ من نصیب۔ اور جو کوئی دنیا کی کھیتی کا طالب ہے ہم اسے کچھ دنیا میں سے دیں گے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہ ہوگا) آیت میں اس کام کے لئے اجرت پر کسی کو رکھنے کے بطلان پر دلالت موجود ہے جس کی انجام وہی صرف تقرب الٰہی کی بنیاد پر ہوتی ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ جو شخص دنیا کی کھیتی کا طالب ہوتا ہے آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوتا، اس بنا پر وہ کام تقرب الٰہی اور عبادت کے دائرے سے خارج ہوجائے گا۔ اس لئے اس کا جواز باقی نہیں رہے گا۔
Read the full tafseer →59 آخرت میں ہر کسی کا اپنے اعمال سے سابقہ : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ آخرت کے اس یوم حساب میں ہر کسی کو اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے سے سابقہ پیش آئے گا۔ منکرین تو اس دن اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کی بنا پر اس دردناک عذاب سے سہمے ہوئے ہوں گے مگر اس نے ان پر بہرحال واقع ہو کر رہنا ہے۔ جبکہ اس کے برعکس وہ لوگ جنہوں نے ایمان لایا ہوگا اور انہوں نے اس کے مطابق نیک کام بھی کیے ہوں گے وہ بہشت کے عظیم الشان باغوں میں ہوں گے۔ اور ان کو اپنے رب کے یہاں ہر وہ چیز ملے گی جو وہ چاہیں گے۔ سو یہی ہے وہ بڑا فضل جو کہ سب سے بڑا، اصل اور حقیقی فضل اور انعام و احسان ہے۔ جو کہ ہر لحاظ سے کامل و مکمل اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
اللہ کے قوانین اٹل ہیں
تشریح : سب سے پہلے تو یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ یہ زندگی ہر انسان کے لیے ایک کھیتی کی طرح ہے۔ یعنی دنیا کے کام کرنا فرض ہے مگر ان کے ساتھ ساتھ اللہ کو یاد کرنا اور ہر دم اللہ سے دنیا وآخرت کی بھلائی مانگنا بھی فرض ہے۔ تو گویا ایک پنتھ دو کاج ہوگئے۔ یوں اللہ تعالیٰ دنیا کے کاموں میں بھی برکت اور بھلائی پیدا کرتا ہے اور آخرت میں بھی بھلائی اور برکت عطا کرتا ہے جو دنیا میں گم ہو کر اسے بھول جاتے ہیں ان کو معلوم ہونا چاہے کہ اس طرح وہ اپنا بہت بڑا نقصان کرلیتے ہیں۔ اللہ کا نظام کائنات ایسا عجیب و غریب ہے اور اس کی نظر اس قدر وسیع اور مضبوط ہے کہ وہ نہ صرف ظاہری اعمال کو ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
آیات 20 تا 29۔
جو کوئی اپنی محنت کا پھل آخرت میں چاہتا ہے تو اس کے انعامات اور اجر اور زیادہ بڑھادیے جاتے ہیں اور وہ اپنی طلب سے بھی زیادہ پاتا ہے اور جو شخص صرف حصول دنیا کے لیے کوشش کرتا ہے اسے دنیا میں سے کچھ نہ کچھ عطا کردیا جاتا ہے یعنی ضروری نہیں کہ جس انداز یاجتنی مقدار میں اس کی خواہش ہے اسے مل جائے بلکہ یہ اللہ کی مرضی کہ اس کا نصیبہ کیا مقرر کیا ہے وہی ملتا ہے جبکہ یہ سب آخرت کے طلب گار کو بھی ملتا ہے۔ مگر آخرت چھوڑ کر صرف دنیا کے طالب کی خواہش دنیا میں پوری نہیں ہوتی اور آخرت سے محروم رہ جاتا ہے کہ آخرت پر ایمان ہی نہ تھا لہذا آخرت میں کچھ نہیں پاتاگویا مومن دنیا کا کام بھی طلب…
Read the full tafseer →ف 6 دنیا کے عیش و آرام کی اس کے سامنے کوئی حقیقت نہیں۔
Read the full tafseer →(42:22) مشفقین : اسم فاعل جمع مذکر ڈرنے والے (ملاحظہ ہو آیت 18 متذکرۃ الصدر۔ تری کا مفعول ثانی ہے۔
مما کسبوا۔ مما۔ من اور ما سے مرکب ہے۔ ما موصولہ کسبوا صلہ ہے اپنے موصول کا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے کسب (باب ضرب) مصدر۔ جو انہوں نے کھایا۔ (جو کام شرک و معاصی کے انہوں نے کئے ہوں گے) ۔
وھو واقع بھم۔ جملہ حالیہ ہے ھو کی ضمیر ماکسبوا کی طرف راجع ہے حال یہ کہ وہ ان پر پڑ کر ہی رہیگا۔ یعنی ان کے کئے کا وبال۔ روضت الجنت : مضاف مضاف الیہ۔ جنتوں کے باغات۔ الروض اصل میں اس جگہ کو کہتے ہیں کہ جہاں پانی جمع ہو اور سبزہ بھی ہو۔ باغ۔
مایشاء ون : جو وہ چاہیں گے۔ ما موصولہ ۔ یشاء ون مضارع جمع مذکر غائب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
لغات القرآن آیت نمبر 20 تا 23 : حرت ( کھیتی) نصیب (حصہ) یاذن (وہ اجازت دیتا ہے) کلمۃ الفصل (فیصلے کی بات) کسبوا (انہوں نے کمایا) واقع ( پڑنے والا ، واقع ہونے والا) روضت ( روضۃ) (باغ، کیا ریاں) لا اسئل (میں سوال نہیں کرتا) المودۃ (محبت ، لحاظ) یقترف (وہ کماتا ہے)
تشریح : آیت نمبر 20 تا 23 : یہ اللہ کا سب سے بڑا احسان ہے کہ اس نے آدمی کو دنیا کی مختصر سی زندگی گزارنے کے بہت سے اسباب اور وسائل عطاء کئے ہیں تا کہ آدمی ان اسباب کو آخرت کی تعمیر میں استعمال کر کے اس کے رحم و کرم کا مستحق اور حق دار بن جائے۔
اللہ کا یہ نظام ہے کہ اگر کسی شخص کی جدوجہد ، کوشش اور بھاگ دوڑ محض دنیا حاصل کرنے کے لئے ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
(ف 1) شان نزول :
حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ مدینہ طیبہ رونق افروز ہوئے اور انصار نے دیکھا کہ نبی ﷺ کے ذمہ مصارف ہیں اور مال میں کچھ بھی نہیں ہے تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور حضور کے حقوق و احسانات یاد کرکے حضور کی خدمت میں پیش کرنے کے لیے بہت سامال جمع کیا اور اس کو لے کر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ حضور کی بدولت ہمیں ہدایت ہوئی ہم نے گمراہی سے نجات پائی ہم یہ مال خدام آستانہ کی خدمت میں نذر کرنے کے لیے لائے قبول فرماکرہماری عزت افزائی کی جائے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور حضور نے وہ اموال واپس فرمادیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
[16] یعنی تم سے جو میرے نسبی اور خاندانی تعلقات ہیں ان کو تو نظرانداز نہ کرو۔ اگر تم میری بات نہیں مانتے تو نہ مانو لیکن کم از کم قرابت داری کا خیال کر کے ظلم اور ایذا رسانی سے تو باز رہو۔ یہ کیا ستم ہے کہ سب سے بڑھ کر تم ہی میری دشمنی پر تل گئے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
زندگی کی دو راہیں
1: کہ دو قسم کی زندگیاں ہیں اب یہ تمہارے انتخاب پر موقوف ہے کہ تم لوگ کس نوع کی زندگی کو اپنے لئے پسند کرتے ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے اختیار وانتخاب میں پوری پوری آزادی دے رکھی ہے ۔ اگر کشت آخرت چاہتے ہو ۔ تو اللہ کی مہربانیاں تمہارے شامل حال ہونگی ۔ اور تم کو ہر نوع کی اعانت سے نوازا جائیگا ۔ اور اگر کشت آخرت کی ضرورت نہیں ہے ۔ دنیا کی خوبصورتی پر پھرگئے ہو اور اسی زندگی کا بھلا چاہتے ہو ۔ تو یہ بھی تم کو مل سکتی ہے ۔ مگر یہ یاد رکھو آخرت کے حصوں میں تم دنیا کی کسی مسرت سے محروم نہیں رہوں گے ۔ وہ اگر تم نے صرف دنیا کو حاصل کیا ۔ تو پھر وہاں کچھ نہیں ملے گا ۔ ان دونوں باتوں کو خوب…
Read the full tafseer →(22) اے پیغمبر آپ ان ظالموں کو دیکھیں گے کہ یہ اپنے اعمال کے وبال اور اپنی کمائی کے نکال سے ڈر رہے ہوں گے۔ حالانکہ وہ ان کی کمائی کا وبال ان پر پڑنے والا ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کے پابند رہے وہ بہشت کے باغوں میں ہوں گے ان کو ان کے پروردگار کے ہاں ہر وہ چیز ملے گی اور میسر ہوگی جس کی وہ خواہش کریں گے اور جو چاہیں گے وہ حاصل ہوگا، یہ ہر خواہش کریں گے اور جو چاہیں گے وہ حاصل ہوگا۔ یہ ہر خواہش کا پورا ہونا ہی بڑی بزرگی اور بڑا انعام ہے۔ آج تو یہ مشرک قیامت کی اور اس عذاب کی جلدی کررہے ہیں لیکن اس دن آپ ان کو دیکھیں کے کہ جب ان کی کمائی اور ان کے کسب کا وبال ان کے سامنے آئے گا تو…
Read the full tafseer →ف 2۔ نہ وہ جو دنیا میں عیش و عشرت موجود ہے۔
Read the full tafseer →یہ ظالم جب اپنے کیے میں پھنسے ہوں گے تو ان کی حالت دیدنی ہوگی
22 ؎ آج تو یہ ظالم ان وقت کے فرعونوں کے ساتھ مل کر قارون کا کردار ادا کرر ہے ہیں اور دولت کے ڈھیر جمع کر کے بہت خوش ہیں اور اپنے حواریوں میں بیٹھے پھولے نہیں سماتے ، ان کی حالت اس وقت دیدنی ہوگی جب وہ اپنے ان کرتوتوں کے باعث دھر لیے جائیں گے اور ان کو مشرکوں کو دیئے جانے والے عذاب میں برابر کا شریک قرار دیا جائے گا اور مشرکوں کے ان سارے گروہوں میں وہ بھی شریک نظر آئیں گے اور ان کے مقابلہ میں وہ لوگ جو سچے دل سے اللہ پر ایمان لائے اور وہ شرک کی ان ساری اقسام میں سے کسی قسم میں بھی داخل نہیں ہوئے وہ جنت کے باغوں میں خوشیاں منا رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
Commentary
اللَّـهُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ (Allah is kind to His slaves - 42:19). The word, latif used in the text has more than one lexical meanings. Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ has translated it here as kind, and Sayyidna ` Ikrimah ؓ has translated it as benefactor.
Muqatil (رح) has said that Allah Almighty is kind to all His servants, so much so that even the infidels and sinners keep on being showered with His worldly blessings. There are many types and kinds of the divine bounties, graces and favours showered upon His servants. That is why many meanings of the word latif have been stated in the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
40 "This work": Every effort that the Holy prophet was making to save the people from Allah's punishment and to enable them to become worthy of the promise of Paradise.
41 The word qurba in the original has been interpreted differently by the different commentators. One section of them takes it in the meaning of kinship and has given this meaning to the verse "I do not ask of you any reward for this service, but I do desire that you (O people of Quraish) should show some regard tar the kinship that there is between me and you. You should have accepted my invitation. but if you do not accept…
Read the full tafseer →