Explained with ayahs 23–24
رسول اللہ سے قرابت داری کی فضیلت
اوپر کی آیتوں میں جنت کی نعمتوں کا ذکر کر کے بیان فرما رہا ہے کہ ایمان دار نیک کار بندوں کو اس کی بشارت ہو پھر اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ قریش کے مشرکین سے کہہ دو کہ اس تبلیغ پر اور اس تمہاری خیر خواہی پر میں تم سے کچھ طلب تو نہیں کر رہا۔ تمہاری بھلائی تو ایک طرف رہی تم اگر اپنی برائی سے ہی ٹل جاؤ اور مجھے رب کی رسالت پہنچانے دو اور قرابت داری کے رشتے کو سامنے رکھ کر میری ایذاء رسانی سے ہی رک جاؤ تو یہی بہت ہے صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت ابن عباس سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی گئی تو حضرت سعید بن جبیر ؒ نے کہا اس سے مراد قرابت آل محمد ﷺ ہے یہ سن کر آپ نے فرمایا تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
سورة الشُّوْرٰی 40
" اس کام " سے مراد وہ کوشش ہے جو نبی ﷺ لوگوں کو خدا کے عذاب سے بچانے اور جنت کی بشارت کا مستحق بنانے کے لیے کر رہے تھے۔
سورة الشُّوْرٰی 41
اصل الفاظ ہیں اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی۔ یعنی میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا مگر " قربٰی " کی محبت ضرور چاہتا ہوں۔ اس لفظ " قربٰی " کی تفسیر میں مفسرین کے درمیان بڑا اختلاف واقع ہوگیا ہے۔
ایک گروہ نے اس کو قرابت (رشت دری) کے معنی میں لیا ہے اور آیت کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ " میں تم سے اس کام پر کوئی اجر نہیں چاہتا، مگر یہ ضرور چاہتا ہوں کہ تم لوگ (یعنی اہل قریش) کم از کم اس رشتہ داری کا تو لحاظ کرو جو میرے اور تمہارے درمیان ہے۔…
Read the full tafseer →معارف و مسائل
(آیت) قُلْ لَّآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى۔ اس آیت کی جو تفسیر مذکور الصدر خلاصہ میں آ چکی ہے۔ یہی جمہور مفسرین سے منقول و ماثور اور مختار ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ میرا اصل حق تم سب پر تو یہ ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تم اس کا اعتراف کرو اور اپنی صلاح و فلاح کے لئے میری اطاعت کرو۔ مگر میری نبوت و رسالت کو تم تسلیم نہیں کرتے تو نہ سہی مگر میرا ایک انسانی اور خاندانی حق بھی تو ہے جس کا تم انکار نہیں کرسکتے کہ تمہارے اکثر قبائل میں میری رشتہ داری اور قرابتیں ہیں۔ قرابت کے حقوق اور صلہ رحمی کی ضرورت سے تمہیں بھی انکار نہیں تو میں تم سے اپنی اس…
Read the full tafseer →ذلک الذی یبشر اللہ عبادۃ الذین امنوا وعملوا الصلحت قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی ومن یقترف حسنۃ نزدلہ فیھا حسناً ط ان اللہ غفور شکور (23)
یہ اس فضل عظیم کی عظمت وضاح فرمائی ہے کہ اللہ اپنے باایمان بندوں کو ایک ابدی بادشاہی کی بشارت دے رہا ہے تو وہ اس کے لئے جدوجہد کریں اور ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑیں جو اسی دنیا کے خوف ریزوں پر ریجھے ہوئے ہیں۔
قل لا اسئلکم علیہ اجراً الا المودۃ فی الرقبی یہاں استثناء میرے نزدیک مقنطع اور قربی مصدر کے مفہوم میں ہے جس طرح زلفی اور بشریٰ وغیرہ اس وزن کے دوسرے الفاظ ہیں۔
قریش کے لیڈروں کو آگاہی
مطلب یہ ہے کہ قریش کے ان برخود غلط لیڈروں کو آگاہ…
Read the full tafseer →23۔ 1 یعنی اجر وثواب میں اضافہ کریں گے یا نیکی کے بعد اس کا بدلہ مزید نیکی کی توفیق کی صورت میں دیں گے جس طرح بدی کا بدلہ مذید بدیوں کا ارتکاب ہے۔
23۔ 2 اس لئے وہ پردہ پوشی فرماتا اور معاف کردیتا ہے اور زیادہ سے زیادہ اجر دیتا ہے۔
Read the full tafseer →5: قریش مکہ سے آنحضرت ﷺ کی جو رشتہ داریاں تھیں، ان کے حوالے سے فرمایا جارہا ہے کہ میں تم سے تبلیغ کی کوئی اجرت تو نہیں مانگتا، لیکن کم از کم اتنا تو کرو کہ تم پر میری رشتہ داری کے جو حقوق ہیں، ان کا لحاظ کرتے ہوئے مجھے تکلیف نہ دو ، اور میرے راستے میں رکاوٹیں پیدا نہ کرو۔
6: یعنی اس بھلائی پر جتنا اجر ملنا چاہیے تھا، اس سے زیادہ دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
آیت نمبر 20 تا 23
پچھلے پیراگراف میں یہ کہا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے لئے جو نظام زندگی اور شریعت تجویز کی تھی وہ وہی ہے جس کے بارے میں نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو تاکید کی گئی تھی۔ وہی بات حضرت محمد ﷺ کی طرف بھی وحی کی گئی۔ اب اس پیرے میں ان سے گرفت کے انداز میں پوچھا جاتا ہے کہ تم بتاؤ تمہاری شریعت اور قانون اور نظام اور نظریہ کا ماخذ کیا ہے ؟ تمہاری شریعت کس نے بنائی ہے۔ یہ تم جس نظام کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہو ، یہ تو شریعتوں کے خلاف ہے۔
ام لھم شرکاء شرعوا ۔۔۔۔ بہ اللہ (42 : 21) ” کیا کچھ لوگ ایسے شریک خدا ہیں جنہوں نے ان کے لئے دین کی نوعیت رکھنے والا…
Read the full tafseer →2 یعنی اللہ جو خوشخبری دے وہ لامحالہ واقع ہو کر رہے گی۔
3 یعنی قرآن جیسی دولت تم کو دے رہا ہوں اور ابدی نجات و فلاح کا راستہ بتلاتا اور جنت کی خوشخبری سناتا ہوں۔ یہ سب محض بوجہ اللہ ہے۔ اس خیر خواہی اور احسان کا تم سے کچھ بدلہ نہیں مانگتا۔ صرف ایک بات چاہتا ہوں کہ تم سے جو میرے نسبی و خاندانی تعلقات ہیں کم ازکم ان کو نظر انداز نہ کرو۔ آخر تمہارا معاملہ اقارب اور رشتہ داروں کے ساتھ کیا ہوتا ہے، بسا اوقات ان کی بےموقع بھی حمایت کرتے ہو۔ میرا کہنا یہ ہے کہ تم اگر میری بات نہیں مانتے نہ مانو، میرا دین قبول نہیں کرتے، یا میری تائید و حمایت میں کھڑے نہیں ہوتے، نہ سہی۔ لیکن کم ازکم قرابت و رحم کا…
Read the full tafseer →آیت 23 { ذٰلِکَ الَّذِیْ یُـبَشِّرُ اللّٰہُ عِبَادَہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ } ”یہ ہے وہ انجامِ نیک جس کی بشارت دے رہا ہے اللہ اپنے ان بندوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے۔“
{ قُلْ لَّآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا“
میں سالہا سال سے تم تک یہ پیغام پہنچانے کا فریضہ انجام دے رہا ہوں مگر میں نے کبھی تم لوگوں سے اس کا کوئی صلہ یا انعام طلب نہیں کیا۔
{ اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْْقُرْبٰی } ”سوائے قرابت داری کے لحاظ کے۔“
اہل ِتشیع نے ان الفاظ کا یہ مطلب نکال لیا ہے کہ حضور ﷺ کی طرف سے اپنے قرابت داروں حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
34 الا المودّۃ فی القربیٰ کے مختلف مفہوم :۔ اس جملہ کی کئی تفسیریں بیان کی گئی ہیں مگر بہترین تفسیر وہی ہے جو صحیحین میں سیدنا ابن عباس ؓ سے منقول ہے اور وہ یہ ہے :
سیدنا ابن عباس ؓ سے کسی نے پوچھا کہ (اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى 23) 42 ۔ الشوری :23) کا کیا مطلب ہے ؟ سعید بن جبیر نے (جھٹ) کہہ دیا کہ اس سے آپ کی آل مراد ہے۔ ابن عباس ؓ کہنے لگے : تم جلد بازی کرتے ہو۔ بات یہ ہے کہ قریش کا کوئی قبیلہ ایسا نہ تھا جس سے آپ کی کچھ نہ کچھ قرابت نہ ہو تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر سے فرمایا کہ انہیں کہیے کہ اگر تم اور کچھ نہیں کرتے (مسلمان نہیں ہوتے) تو کم از کم قرابت ہی کا لحاظ رکھو۔ (اور…
Read the full tafseer →28۔ (اے اہل قریش) عزیزوں، قریبوں کی محبت اور ایک دوسرے کی خیر خواہی ضرب المثل کی حد تک شہرت رکھتی ہے۔ عرب میں حقوق قرابت کی پاسداری اور زیادہ بڑھی ہوئی تھی، یہ انہیں کے جذبات شرافت سے اپیل ہے۔ گویا رسول اللہ ﷺ ان سے یہ کہہ رہے ہیں۔ اور کچھ نہ سہی، تو عزیز داری ہی کا خیال کرکے میرے اوپر ظلم و زیادتی سے باز رہو۔ صحیح بخاری و، صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے ایسے ہی معنی بیان ہوئے ہیں۔ قال ابن عباس ؓ و مجاھد وقتادۃ والضحاک والسدی معناہ الا ان لا تؤذونی لقرابتی منکم (جصاص) وبہ قال مجاھد وعکرمۃ وقتادۃ والسدی وابو مالک وعبد الرحمن بن زید بن اسلم وغیرھم (ابن کثیر) (آیت) ” فی القربی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
آیت نمبر 20 تا 29
ترجمہ : جس کا مقصد اپنے عمل سے آخرت کی کھیتی ہو، یعنی آخرت کی کمائی ہو اور وہ ثواب ہے تو ہم اس کی کھیتی میں (یعنی) نیکیوں میں دس گنے تک (بلکہ) اور اس سے بھی زیادہ اضافہ کر کے ترقی دیں گے اور جو دنیا کی کھیتی کی طلب رکھتا ہو تو ہم اسے اس میں سے بلا اضافے کے بقدر نصیب عطا کریں گے، ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں بلکہ مکہ کے ان کافروں نے کچھ شرکاء تجویز کر رکھے ہیں اور وہ شیاطین ہیں کہ ان شرکاء نے ان کافروں کے لئے دین فاسد تجویز کر رکھا ہے، جس کی خدا نے اجازت نہیں دی (اور وہ دین فاسد) شرک اور انکار بعث ہے اور اگر فیصلے کے دن کا وعدہ نہ ہوچکا ہوتا یعنی پہلے سے فیصلہ نہ ہوچکا…
Read the full tafseer →ذلک الذی یبشر اللہ عبادہ الذین امنوا وعملوا الصلحت یہی ہے وہ جس کی بشارت اللہ اپنے
بندوں کو دے رہا ہے جو ایمان لائے اور نیک کام کئے۔
قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی (اے محمد ﷺ ! ) آپ (ان سے) کہہ دیجئے
کہ بجز رشتہ داری کی دوستی کے ‘ میں تم سے اس (ہدایت) کی کوئی اجرت (نفع) نہیں چاہتا۔ یعنی صرف اتنا چاہتا ہوں کہ قرابت دار ہونے کے ناتے سے تم مجھ سے مودّت رکھو۔
بخاری نے صحیح میں طاؤس کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباس سے المودۃ فی القربٰی کا مطلب پوچھا گیا تو سعید بن جبیر نے کہا : القربٰی (سے مراد) آل محمد ﷺ ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : تم نے (جواب دینے میں) جلدی کی۔ بات یہ تھی کہ…
Read the full tafseer →یہی فضیلت ہے جس کی بشارت اللہ تعالیٰ دنیا میں اپنے ان بندوں کو دے رہا ہے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے۔
اے محمد آپ اپنے اصحاب یا مکہ والوں سے یوں کہیے کہ میں توحید و قرآن پر تم سے اور کوئی مطلب نہیں چاہتا سوائے اس بات کے کہ میرے بعد رشتہ داری کا پاس رکھو اور حسن بصری نے یہ تفسیر فرمائی کہ سوائے اس کے کہ تم بذریعہ توحید اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرو اور فراء نے فرمایا یہ مطلب ہے کہ سوائے اس کے کہ تم بذریعہ مورت اللہ کا قرب حاصل کرو اور جو شخص ایک نیکی کرے گا تو ہم اس میں نو نیکیوں کا اضافہ کردیں گے اللہ تعالیٰ تائب کی مغفرت فرمانے والا اور بڑا قدردان ہے کہ معمولی چیز کو قبول فرماتا…
Read the full tafseer →(1) ذلک الذی یبشر اللہ عبادہ …: یہ پانچویں وجہ ہے۔”ذلک“ اسم اشارہ بعید اس ثواب کی عظمت کے بیان کے لئے ہے۔ جنتوں کے باغوں اور ان کی نعمتوں کی طرف اشارہ کر کے ان کی طرف دوبارہ توجہ دلانے سے مقصود ان کی عظمت کا اظہار ہے اور ساتھ ہی ایمان اور عمل صالح کا ذکر اس لئے ہے کہ اتنی بڑی نعمتوں کے حصول کے لئے ایمان اور عمل صالح ضروری ہے۔
(2) قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی :”قرب یقرب قربا و قربانا و قرباناً“ (س ، ک) قریب ہونا۔ ”قربی“ اور ”قرابۃ“ بھی مصدر ہیں، جیسے ”بشری“ اور ”رجعی“ ہیں۔ ان کا معنی رشتہ داری اور قرابت ہے۔ رشتہ دار اور قرابت دار کے لئے ”ذوالقربی“ (قرابت والا) کا لفظ استعمال…
Read the full tafseer →ذلک الذی یبشر اللہ عبادہ الذین امنوا ‘ یبشر کو باب تفعل سے یبشر باب افعال سے یبشر اور مجرد سے یبشر بھی پڑھا گیا ہے اس میں حذف ہے یعنی اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اس کی بشارت دیتا ہے تاکہ انہیں جلدی خوشنودی حاصل ہو اور اطاعت میں وہ زیادہ شوق و محبت پائیں۔
قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قل لا اسئلکم علیہ اجرا اے محمد ! ﷺ آپ کہہ دیجیے میں رسالت کی تبلیغ پر تم سے انعام کا سوال نہیں کرتا۔
زجاج نے کہا : الا المودۃ مستثنی ہے معنی یہ بنتا ہے میں تم سے کسی اجر کا مطالبہ نہیں کرتا مگر یہ کہ تم میری قرابت کی وجہ سے مجھ سے محبت کرو اور میری حفاظت کرو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
5:۔ سعید بن منصور وابن سعد بن عبد بن حمید (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے دلائل میں شعبی (رح) سے روایت کیا کہ اکثر لوگ ہمارے پاس اس آیت (آیت ) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی “ کے بارے میں پوچھنے کیلئے آئے میں نے ابن عباس کو دیکھا کہ ہم آپ سے اس بارے میں پوچھتے ہیں تو ابن عباس ؓ نے لکھا کہ رسول اللہ ﷺ قریش میں نسب کے اعتبار سے درمیان میں تھے قریش کا کوئی خاندان ایسا نہیں تھا مگر اس کا آپ کی ذات سے والادت کا تعلق تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا (آیت ) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا “ آپ فرمادیجئے کہ میں تم سے اس پر کسی معاوضہ کا سوال نہیں کرتا ینی…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ الَّذِيْ [ یہ وہ ہے جس کی ] يُبَشِّرُ اللّٰهُ [ بشارت دیتا ہے اللہ ] عِبَادَهُ الَّذِيْنَ [ اپنے ان بندوں کو جو ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۭ [ اور انھوں نے عمل کئے نیکیوں کے ] قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] لَّآ اَسْـَٔــلُكُمْ [ میں نہیں مانگتا تم لوگوں سے ] عَلَيْهِ [ اس (تبلیغ کے کام ) پر ] اَجْرًا [ کوئی اجرت ] اِلَّا الْمَوَدَّةَ [ مگر خیر خواہی (مروت ) ] فِي الْقُرْبٰى ۭ [ قرابت (رشتہ داری ) میں ] وَمَنْ يَّــقْتَرِفْ [ اور جو ارتکاب کرتا ہے ] حَسَنَةً [ کسی نیکی کا ] نَّزِدْ لَهٗ فِيْهَا [ توہم زیادہ کرتے ہیں اس کے لیے اس میں ] حُسْنًا ۭ [ بھلائی کو ] اِنَّ اللّٰهَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
دعوت و تبلیغ کے عوض تم سے کچھ طلب نہیں کرتا
اس کے بعد فرمایا ﴿قُلْ لَّاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى ﴾ (آپ فرما دیجیے کہ میں اس پر تم سے کسی عوض کا سوال نہیں کرتا بجز رشتہ داری کی محبت کے) اس کا مطلب یہ ہے کہ میں جو کچھ تمہیں توحید کی دعوت دیتا ہوں اور ایمان لانے کی باتیں کرتا ہوں میری یہ محنت اور کوشش صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے میں تم سے کچھ بھی نہیں چاہتا ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ میری تمہاری رشتہ داریاں ہیں رشتہ داری کے اصول پر جو تمہاری ذمہ داری ہے اسے پورا کرو، صلہ رحمی کو سامنے رکھ کر مجھے تکلیف نہ پہنچاؤ تو یہ دوسری بات ہے : فھو استثناء منقطع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ترغیب دار آخرت وتنبیہ از طلب دنیا وخسارۂ مجرمین وظالمین :۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” من کان یرید حرث الاخرۃ ...... الی ....... ان اللہ غفور شکور “۔
(ربط) گذشتہ مضمون حق تعالیٰ شانہ کی شان رزاقی اور لطیفی پر ختم فرمایا گیا جس سے بتانا مقصود تھا کہ دنیوی رزق کی تفسیم اللہ رب العرت کے محض رزاق ہونے پر ہے رزق کی کمی اور زیادتی اللہ کے نزدیک پسندیدہ اور ناپسندیدہ ہونے پر مبنی نہیں ہے، اب ان آیات میں یہ ذکر فرمایا جارہا ہے کہ انسان کی سعادت اسی میں مضمر ہے کہ وہ طالب آخرت بنے، اور اسی کو اپنی زندگی کا اصل مقصودس مجھے، طلب دنیا انسانی زندگی کا مقصد نہیں، اس لیے جو شخص اپنی فکر طلب آخرت بنالے گا خدا…
Read the full tafseer →22:۔ ” قل لا اسئلکم “ یہ تصدیق رسالت اور اعمال صالحہ کی ترغیب ہے۔ ” القربی “ سے قرابت مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ تم میری قرابت اور رشتہ داری کا لحاظ کرو اور صلہ رحمی کے طور پر میری تصدیق کرو یا کم از کم مجھے اذیت نہ پہنچاؤ اور میرے کام میں روڑے نہ اٹکاؤ۔ لا اسئلکم علی ھذا البلاغ والنصح لکم ما لا تعطونیہ وانما اطلب منکم ان تکفوا شرکم عنی وتذرونی ابلغ رسالات ربی ان لم تنصرونی فلا توذونی بما بینی وبینکم من القرابۃ (ابن کثیر ج 4 ص 112) ۔ عن ابن عباس یعنی ان تحفظونی لقرابتی وتودونی و تصلوا رحمی (مظہری ج 8 ص 317) ۔ ان تودونی فی قرابتی منکم، ای تراعوا ما بینی و بینکم فتصدقونی (قرطبی ج 16 ص 21) ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ربط آیات
پہلے قرآن پاک پر ایمان لانے کا ذکر ہوا اور اس کتاب کی عظمتوں کا بیان ہوا پھر گزشتہ درس میں قیامت اور محاسبے کا ذکر تھا اللہ نے منکرین قیامت کا رد فرمایا ۔ نیز فرمایا کہ تمام تصرفات اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں ۔ اس کی تدبیر بہت باریک ہے ۔ وہ جس کو چاہتا ہے روزی پہنچاتا ہے وہ تمام قوتوں کا سر چشمہ اور غالب ہے۔
آخرت اور دنیا کی کھیتی
آج کی پہلی آیت میں وقوع قیامت اور جزائے عمل ہی کا بیان ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے من کان یرید حرث الاخرۃ جو شخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہے نزدلہ فی حرثہ تو اس کے لیے ہم اس کو کھیتی میں اضافہ کردیں گے ۔ کھیتی سے مراد کاشتکاری ہے اور یہ ایک ایسا کام ہے جس میں انسان…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ الَّذِيْ يُبَشِّرُ اللہُ عِبَادَہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ 0 ۭ قُلْ لَّآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْہِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِي الْقُرْبٰى 0 ۭ وَمَنْ يَّــقْتَرِفْ حَسَـنَۃً نَّزِدْ لَہٗ فِيْہَا حُسْـنًا 0 ۭ اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ 23
هذا ( ذَاكَ ذلك)
وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال :
هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
ترکیب : ام منقطقہ و قیل بمعنی ھمزۃ الاستفہام الظالمین مفعول اول لتری مشفقین مفعول ثان لہ وھوالضمیر راجع الی ماکسبوا بتقدیر مضاف علی قول الزجاج و الجملۃ حالیہ عندربہم ظرف لیشائون الذین امنوابدل من عبادہ الا المودۃ استثناء متصل ای لا اسئلکم شیئا الا اللمودۃ الثابتہ فی اھل القرابۃ وقیل منقطع۔
تفسیر : پہلی آیات میں یہ بتلایا گیا تھا کہ فیصلہ کرنے کا مستحق اللہ ہے اس نے دنیا میں دستور العمل و صراط مستقیم و میزان عدل قائم کر کے سب بندوں کو اصول حسنات پر چلنے کا حکم دیا اور یہ اصول حسنات تمام انبیائِ سابقین کا طریقہ قدیمہ ہے۔ مشرکین مکہ اس راہ راست کو چھوڑ کر نئے نئے دستورات کے پابند تھے اس لیے اب…
Read the full tafseer →ذٰلِکَ الَّذِیْ یُبَشِّرُاللّٰہُ عِبَادَہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ط قُلْ لَّآ اَسْئَلُـکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا اِلاَّ الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی ط وَمَنْ یَّفْتَرِفْ حَسَنَۃً نَّزِدْلَـہٗ فِیْھَا حُسْنًا ط اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ شَکُوْرٌ۔ (الشوری : 23)
(یہ ہے وہ چیز جس کی بشارت اللہ اپنے ان بندوں کو دیتا ہے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے۔ اے پیغمبر کہہ دیجیے کہ میں اس پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں، بس قرابت کا حق ہے جو ادا کررہا ہوں جو شخص کوئی نیکی کرے گا تو ہم اس کے لیے اس بھلائی میں خوبی کا اضافہ کردیں گے، بیشک اللہ بڑا درگزر کرنے والا اور بڑی قدرافزائی کرنے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : نبی ﷺ کی بعثت کا مقصد برے لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرانا اور صاحب ایمان اور صالح اعمال لوگوں کو ان کے تابناک مستقبل کی بشارت دینا تھا۔ اس پر آپ ﷺ کسی معاوضہ کے طلب گار نہ تھے۔
آپ ﷺ برے لوگوں کو ڈرانے اور نیک لوگوں کو بشارت دینے کے ساتھ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ میں اس دعوت کے بدلے تم سے کسی اجر کا طلبگار نہیں ہوں۔ البتہ تمہیں قرابت داری کا لحاظ تو رکھنا چاہیے۔ جو شخص نیکی کرے گا اللہ تعالیٰ اسے نیکی کرنے کی مزید توفیق عنایت فرمائے گا۔ اگر نیک لوگوں سے بتقاضأ بشریّت کوئی غلطی ہوگی تو اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمائے گا۔ کیونکہ وہ معاف فرمانے والا، نیکی اور نیک لوگوں کی قدر…
Read the full tafseer →23: ذٰلِکَ (یہی ہے) مشارالیہ فضل کبیر ہے۔ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰہُ عِبَادَہُ (جس کی بشارت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دے رہا ہے)
قراءت :ـ مکی، ابو عمرو، حمزہ، علی نے یَبْشُر پڑھا ہے۔
الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے) یعنی اس کی بشارت دیتا ہے۔ بہٖ جار کو حذف کردیا جیسا کہ اس ارشاد میں واختارموسٰی قومہ سبعین ] الاعراف : 155[ پھر وہ ضمیر بھی حذف کردی جو اسم موصول کی طرف لوٹنے والی تھی۔ جیسا کہ اس ارشاد میں أھذا الذی بعث اللّٰہ رسولا ] الفرقان : 41[ ای بعثہ۔
مشرکین کے قول کی تردید :
مشرکین نے جب یہ واو یلا کیا کہ کیا محمد (ﷺ) یہ چاہتے ہیں کہ رسالت کا…
Read the full tafseer →22، تری الظالمین، مشرکین کو قیامت کے دن ، مشفقین، کا پنتے ہوئے۔ ، مماکسبواوھو واقع بھم، ان کے اعمال کی جزاء ان پر واقع ہوگی ۔ ، والذین امنو اعملوا الصالحات فی روضات الجنات لھم مایشاؤن عند ربھم ذ(رح) لک ھوالفضل الکبیر،
Read the full tafseer →23۔ فارسی اور اردو فائدہ میں جو شان نزول اس آیت کی اور ترجموں میں جو معنی آیت کے بیان کئے گئے ہیں یہ شان نزول اور معنی اس روایت کے موافق ہیں جو صیحہ بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت سے ہیں اور یہی شان نزول اور معنی نہایت صحیح ہیں کیونکہ تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں دوسری روایت حضرت عبد 1 ؎ اللہ بن عباس کی سعید بن جبیر کے حوالہ سے جو ذکر کی ہے اور اس روایت کے موافق معنی آیت کے یہ ٹھہرے ہیں کہ اس آیت میں قریش کو آنحضرت ﷺ سے قرابت داری کی دوستی قائم رکھنے اور ایذا نہ پہنچانے کا حکم نہیں ہے بلکہ یہ آیت اہل بیت کی شان میں ہے اور عام مسلمانوں کو اس آیت میں اہل بیت سے محبت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
آیت 21
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ مشرکین نے اللہ تعالیٰ کے شریک بنا لئے جن کے ساتھ وہ دوستی رکھتے ہیں اور وہ کفر کے داعی انسانی شیاطین کے ساتھ کفر اور اعمال کفر میں شریک ہیں (شرعوا لھم من الدین مالم یاذن بہ اللہ) ” انہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کا اللہ نے انہیں حکم نہیں دیا۔ “ یعنی شرک اور بدعات کو رواج دیا، اپنی خواہشات نفس کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرایا اور اس کی محرمات کو حلال قرار دیا، حالانکہ دین وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ دین قرار دے تاکہ لوگ اسے دین بنائیں اور اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کریں۔ اس بارے میں اصول یہ ہے کہ ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–37
محبت برائے قرابت
قول باری ہے (قل لا اسئلکو علیہ اجر ا الا المودۃ فی القربی۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں طلب کرتا، ہاں رشتہ داری کی محبت ہو) حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد، قتادہ ضحاک اور سدی کا قول ہے کہ ” مگر یہ کہ تم مجھ سے اس بنا پر محبت رکھو کہ تمہارے ساتھ میری رشتہ داری اور قرابت ہے۔ “ ان حضرات کا قول ہے کہ قریش کے تمام خاندانوں اور حضور ﷺ کے درمیان قرابت تھی۔ علی بن الحسین اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” مگر یہ کہ تم میرے قرابت داروں سے محبت رکھو۔ “ حسن کا قول ہے۔” مگر یہ کہ عمل صالح کے ذریعے تم اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی دوستی حاصل کرو۔ “
Read the full tafseer →60 { مؤّدۃ فی القربیٰ } سے مقصود و مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ میں اس کام پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا بجز رشتہ داری کی محبت کے "۔ یعنی اصل مطلوب تو تم لوگوں سے یہ تھا اور یہ ہے کہ تم اس پیغام حق و ہدایت کو صدق دل سے قبول کر کے اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرو جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے۔ لیکن اگر تم لوگ ایسا نہیں کرتے تو کم از کم اتنا تو کرو کہ اس قرابت و رشتہ داری کا لحاظ کر کے میری راہ میں روڑے نہ اٹکاؤ جو کہ نسبی، نسلی اور خاندانی لحاظ سے میری تمہارے ساتھ ہے۔ اور اس کا خیال کرکے تم میری ایذا رسانی سے باز رہو۔ سو یہ ان ظالموں کے ضمیروں کو جھنجھوڑنے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
اللہ کے قوانین اٹل ہیں
تشریح : سب سے پہلے تو یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ یہ زندگی ہر انسان کے لیے ایک کھیتی کی طرح ہے۔ یعنی دنیا کے کام کرنا فرض ہے مگر ان کے ساتھ ساتھ اللہ کو یاد کرنا اور ہر دم اللہ سے دنیا وآخرت کی بھلائی مانگنا بھی فرض ہے۔ تو گویا ایک پنتھ دو کاج ہوگئے۔ یوں اللہ تعالیٰ دنیا کے کاموں میں بھی برکت اور بھلائی پیدا کرتا ہے اور آخرت میں بھی بھلائی اور برکت عطا کرتا ہے جو دنیا میں گم ہو کر اسے بھول جاتے ہیں ان کو معلوم ہونا چاہے کہ اس طرح وہ اپنا بہت بڑا نقصان کرلیتے ہیں۔ اللہ کا نظام کائنات ایسا عجیب و غریب ہے اور اس کی نظر اس قدر وسیع اور مضبوط ہے کہ وہ نہ صرف ظاہری اعمال کو ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
آیات 20 تا 29۔
جو کوئی اپنی محنت کا پھل آخرت میں چاہتا ہے تو اس کے انعامات اور اجر اور زیادہ بڑھادیے جاتے ہیں اور وہ اپنی طلب سے بھی زیادہ پاتا ہے اور جو شخص صرف حصول دنیا کے لیے کوشش کرتا ہے اسے دنیا میں سے کچھ نہ کچھ عطا کردیا جاتا ہے یعنی ضروری نہیں کہ جس انداز یاجتنی مقدار میں اس کی خواہش ہے اسے مل جائے بلکہ یہ اللہ کی مرضی کہ اس کا نصیبہ کیا مقرر کیا ہے وہی ملتا ہے جبکہ یہ سب آخرت کے طلب گار کو بھی ملتا ہے۔ مگر آخرت چھوڑ کر صرف دنیا کے طالب کی خواہش دنیا میں پوری نہیں ہوتی اور آخرت سے محروم رہ جاتا ہے کہ آخرت پر ایمان ہی نہ تھا لہذا آخرت میں کچھ نہیں پاتاگویا مومن دنیا کا کام بھی طلب…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی اس تبلیغ رسالت پر میں تم سے کسی دنیوی مفاد کا طالب نہیں ہوں مگر اتنا تو کرو کہ قرابت کا پاس رکھو اور مجھے ناحق نہ ستائو۔ آیت کے یہ معنی صحیحین اور حدیث کی دوسری کتابوں میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقول ہیں اور یہی راحج ہیں۔ شاہ صاحب (رح) نے بھی اپنی توضیح اسی کو اختیار کیا ہے۔ بعض نے قربی سے اطاعت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا تقریب مراد لیا ہے اور یہ معنی سورة فرقان کی آیت 57 کے مطابق ہیں۔ بعض مفسرین نے ” المودۃ فی القربی “ کے یہ معنی کئے ہیں کہ ماسواء اس کے کہ ” میرے اہل بیت سے محبت کرو “ بلا شبہ اہل بیت کی محبت و تعظیم اپنی جگہ پر ہے اور ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ مگر آیت کے یہ معنی کسی اعتبار…
Read the full tafseer →(42:23) ذلک۔ ای الفضل الکبیر : یہی فضل کبیر ہے ۔ جس کی اللہ نے اپنے بندوں کو بشارت دیتا ہے۔
الذین امنوا وعملوا الصلحت یہ بدل ہے عبادہ کا۔ ” اسی کے بندوں “ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور نیک کام کئے۔ قل : ای قل یا محمد ﷺ للمشرکین۔
لا اسئلکم : لا اسئل۔ مضارع منفی واحد متکلم۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ علیہ ای علی تبلیغ الرسالۃ یعنی تبلیغ رسالت پر (میں کچھ اجرت نہیں مانگتا) ۔ اجرا۔ مفعول ثانی لا اسئلکم کا۔ اجرت۔ معاوضہ۔
الا المودۃ فی القربی : الا حرف استثناء یہ استثناء متصل ہے (تفسیر حقانی) المودۃ فی القربی مستثنیٰ ۔ سوائے قرابت کی محبت کے۔ صاحب ضیاء القرآن لکھتے ہیں :۔
الا حرف استثناء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
لغات القرآن آیت نمبر 20 تا 23 : حرت ( کھیتی) نصیب (حصہ) یاذن (وہ اجازت دیتا ہے) کلمۃ الفصل (فیصلے کی بات) کسبوا (انہوں نے کمایا) واقع ( پڑنے والا ، واقع ہونے والا) روضت ( روضۃ) (باغ، کیا ریاں) لا اسئل (میں سوال نہیں کرتا) المودۃ (محبت ، لحاظ) یقترف (وہ کماتا ہے)
تشریح : آیت نمبر 20 تا 23 : یہ اللہ کا سب سے بڑا احسان ہے کہ اس نے آدمی کو دنیا کی مختصر سی زندگی گزارنے کے بہت سے اسباب اور وسائل عطاء کئے ہیں تا کہ آدمی ان اسباب کو آخرت کی تعمیر میں استعمال کر کے اس کے رحم و کرم کا مستحق اور حق دار بن جائے۔
اللہ کا یہ نظام ہے کہ اگر کسی شخص کی جدوجہد ، کوشش اور بھاگ دوڑ محض دنیا حاصل کرنے کے لئے ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
(ف 1) شان نزول :
حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ مدینہ طیبہ رونق افروز ہوئے اور انصار نے دیکھا کہ نبی ﷺ کے ذمہ مصارف ہیں اور مال میں کچھ بھی نہیں ہے تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور حضور کے حقوق و احسانات یاد کرکے حضور کی خدمت میں پیش کرنے کے لیے بہت سامال جمع کیا اور اس کو لے کر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ حضور کی بدولت ہمیں ہدایت ہوئی ہم نے گمراہی سے نجات پائی ہم یہ مال خدام آستانہ کی خدمت میں نذر کرنے کے لیے لائے قبول فرماکرہماری عزت افزائی کی جائے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور حضور نے وہ اموال واپس فرمادیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
[16] یعنی تم سے جو میرے نسبی اور خاندانی تعلقات ہیں ان کو تو نظرانداز نہ کرو۔ اگر تم میری بات نہیں مانتے تو نہ مانو لیکن کم از کم قرابت داری کا خیال کر کے ظلم اور ایذا رسانی سے تو باز رہو۔ یہ کیا ستم ہے کہ سب سے بڑھ کر تم ہی میری دشمنی پر تل گئے ہو۔
Read the full tafseer →حضور ﷺ کے اقرباء کی محبت
1: اہل بیت سے محبت اور عقیدت رکھنا بلاریب جزو ایمان ہے ۔ اور کون بد بخت ہے جو اس سعادت سے محروم رہنا پسند کریگا ۔ حضور ﷺ کے اقارب سے تعلقات ارادت اس بات کی علامت ہے ۔ کہ دلوں میں تقویٰ اور پاکیزگی موجود ہے ۔ اور حب پیغمبر کا جذبہ موجزن ہے ۔ اور درحقیقت یہ عشق نبوی کا لازمی نتیجہ ہے ۔ جب حضور ﷺ سے محبت ہوگی ۔ تو پھر آپ کے اقرباء سے محبت نہ رکھنا کوئی معنے ہی نہیں رکھتا ۔ یہ ایسا پاک جذبہ ہے کہ امام شافعی (رح) باوجود تستن کے اس بات پر فخر وناز کرتے ہیں ۔ کہ ؎
ان کنان دلان حبا ال محمد
فلیشھد اسقلان انی رافضی
کہ اگر آل محمد ﷺ سے محبت رکھنا رفض ہے تو کونین اس پر گواہ ہیں ۔…
Read the full tafseer →(23) یہی وہ نعمت ہے جس کی بشارت اور خوشخبری اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کو دیتا ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے آپ ان سے فرمائیے کہ میں اسلامی تبلیغ پر بجز رشتہ داری کی محبت کے کوئی صلہ نہیں مانگتا اور جو کوئی نیکی کرے گا اور بھلائی کمائے گا تو ہم اس شخص کے لئے اس نیکی میں اور خوبی بڑھادیں گے بیشک اللہ تعالیٰ بڑی بخشش کرنے والا بڑا قدردان ہے۔
یعنی یہی وہ احسانات و انعامات ہیں جن کی بشارتوں سے اللہ تعالیٰ اپنے ایمان دار بندو کو نوازتا اور خوشخبری دیا کرتا ہے میں تم سے صرف رشتہ داری کی محبت کا برتائو کا مطالبہ کرتا ہوں یعنی اسلام کی اور قرآن کی تبلیغ پر کوئی اجرت تو طلب ہی نہیں کرتا جیسا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
ف 3۔ یعنی اتنا چاہتا ہوں کہ میرے تمہارے جو تعلقات رشتہ داری کے ہیں جو کہ تمام قریش میں بلکہ تمام عرب میں پھیلے ہوئے تھے ان کے حقوق کا تو خیال رکھو۔
Read the full tafseer →فضل الکبیر کی مزید وضاحت جو ربِّ کریم نے خود فرما دی
23 ؎ قیامت کے روز جو اللہ تعالیٰ کے فضل کبیر کے مستحق قرار پائیں گے اس کی وضاحت خود اللہ تعالیٰ نے فرما دی ہے کہ یہی وہ اصل خوشخبری ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کو سنائی جا رہی ہے۔ ہاں ! اللہ کے وہ بندے جو اللہ پر ایمان لائے اور اچھے اعمال کیے وہ آج ہی ان خوشخبریوں میں اس قدر مگن ہیں کہ وہ دنیا کے ان فرعونوں اور قارونوں کو دیکھ کر خوش ہونے والوں کو بزبان قال کہہ دیتے ہیں۔ { و یلکم ثواب اللہ خیرٌ لمن امن و عمل صالحاً و لا یلقھا الا الصبرون } (80:28) ” افسوس ! تم پر اللہ کا دیا ہوا بدلہ اس کے لیے بہتر ہے جو ایمان لاتا ہے اور نیک عمل…
Read the full tafseer →Commentary
قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ (Say, "I do not ask you any fee for it, except the love of kinship - 42:23 ). The explanation of this verse that has been adopted by most of the exegetes is that the Holy Prophet ﷺ has been directed to say the following to the infidels of Quraish, "My real right over all of you is that I am the Messenger of Allah, and you should admit it and obey me for your reformation and betterment; but even if you do not accept my prophethood and messenger-ship, there is still one more right I have over you which you…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
40 "This work": Every effort that the Holy prophet was making to save the people from Allah's punishment and to enable them to become worthy of the promise of Paradise.
41 The word qurba in the original has been interpreted differently by the different commentators. One section of them takes it in the meaning of kinship and has given this meaning to the verse "I do not ask of you any reward for this service, but I do desire that you (O people of Quraish) should show some regard tar the kinship that there is between me and you. You should have accepted my invitation. but if you do not accept…
Read the full tafseer →