Explained with ayahs 23–24
رسول اللہ سے قرابت داری کی فضیلت
اوپر کی آیتوں میں جنت کی نعمتوں کا ذکر کر کے بیان فرما رہا ہے کہ ایمان دار نیک کار بندوں کو اس کی بشارت ہو پھر اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ قریش کے مشرکین سے کہہ دو کہ اس تبلیغ پر اور اس تمہاری خیر خواہی پر میں تم سے کچھ طلب تو نہیں کر رہا۔ تمہاری بھلائی تو ایک طرف رہی تم اگر اپنی برائی سے ہی ٹل جاؤ اور مجھے رب کی رسالت پہنچانے دو اور قرابت داری کے رشتے کو سامنے رکھ کر میری ایذاء رسانی سے ہی رک جاؤ تو یہی بہت ہے صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت ابن عباس سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی گئی تو حضرت سعید بن جبیر ؒ نے کہا اس سے مراد قرابت آل محمد ﷺ ہے یہ سن کر آپ نے فرمایا تم…
Read the full tafseer →سورة الشُّوْرٰی 43
اس سوالیہ فقرے میں سخت ملامت کا انداز پایا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے نبی، کیا یہ لوگ اس قدر جری اور بےباک ہیں کہ تم جیسے شخص پر افترا، اور وہ بھی افتراء علی اللہ جیسے گھناؤنے فعل کا الزام رکھتے ہوئے انہیں ذرا شرم نہیں آتی ؟ یہ تم پر تہمت لگا تے ہیں کہ تم اس قرآن کو خود تصنیف کر کے جھوٹ موٹ اللہ کی طرف منسوب کرتے ہو ؟
سورة الشُّوْرٰی 44
یعنی اتنے بڑے جھوٹ صرف وہی لوگ بولا کرتے ہیں جن کے دلوں پر مہر لگی ہوئی ہے۔ اگر اللہ چاہے تو تمہیں بھی ان میں شامل کر دے۔ مگر اس کا یہ فضل ہے کہ اس نے تمہیں اس گروہ سے الگ رکھا ہے۔ اس جواب میں ان لوگوں پر شدید طنز ہے جو نبی ﷺ پر یہ الزام رکھ…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
کیا یہ لوگ (آپ کی نسبت نعوذ باللہ) یوں کہتے ہیں کہ انہوں نے خدا پر جھوٹ بہتان باندھ رکھا ہے (کہ نبوت اور وحی کا خلاف واقع دعویٰ کیا ہے) سو (ان کا یہ قول خود افترا ہے، اس لئے کہ آپ کی زبان حق ترجمان سے اللہ کا یہ معجز کلام جاری ہو رہا ہے جو سچے نبی کے سوا کسی کی زبان پر جاری نہیں ہو سکتا۔ اگر معاذ اللہ آپ اپنے دعوائے رسالت میں سچے نہ ہوتے تو اللہ یہ کلام آپ پر جاری نہیں کرسکتا تھا، چنانچہ) خدا (کو یہ قدرت حاصل ہے کہ) اگر (وہ) چاہے تو آپ کے دل پر بند لگا دے (اور یہ کلام آپ کے قلب پر نہ القا ہو، نہ باقی رہے، بلکہ سلب ہوجائے، اور آپ بالکل بھول جائیں، اور اس صورت میں ظاہر ہے کہ زبان سے…
Read the full tafseer →ام یقولون افتری علی اللہ کذباً فان یشاء اللہ یختم علی قلبک دویمح اللہ الباطل و یحق الحق بکلمتہ ط انہ علیم بذات الصدور (24)
ایک حقیقت نفس الامری کا اظہار
یعنی اگر اس میزان عدل (قرآن) کے خلاف انہوں نے یہ فتنہ اٹھایا ہے کہ یہ ہے تو تمہاری ایجاد لیکن محض لوگوں کو مرعوب کرنے کے لئے تم نے اس کو جھوٹ موٹ اللہ سے نسبت دے رکھی ہے تو تمہارے اطمینان کے لئے یہ چیز بس کرتی ہے کہ نہ تم نے اپنی خواہش سے یہ چیز پائی ہے اور نہ اپنی خاہش سے اس کو پا سکتے ہو بلکہ خدا ہی نے اس چشمہ فیض کو تمہارے اندر جاری کیا ہے اور وہ جب بھی چاہے اس کو روک سکتا ہے۔ یہی مضمون سورة نبی اسرائیل میں یوں گزر چکا ہے۔
ولئن شئنا لنذھبن…
Read the full tafseer →24۔ 1 یعنی اس الزام میں اگر صداقت ہوتی تو ہم آپ کے دل پر مہر لگا دیتے، جس سے وہی محو ہوجاتا جس کے گھڑنے کا انتساب آپ کی طرف کیا جاتا ہے، مطلب یہ ہے کہ ہم آپ کو اس کی سخت ترین سزا دیتے۔
24۔ 2 یہ قرآن بھی اگر باطل ہوتا (جیسا کہ مکذبین کا دعویٰ ہے) تو یقینا اللہ تعالیٰ اس کو بھی مٹا ڈالتا، جیسا کہ اس کی عادت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–39
7: یعنی اگر (معاذاللہ) آنحضرت ﷺ اپنی طرف سے گھڑ کر یہ قرآن بنا رہے ہوتے تو اللہ تعالیٰ آپ کے دل پر مہر لگا دیتا ، جس کی وجہ سے آپ کو ایسا کلام پیش کرنے پر قدرت ہی نہ ہوتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نبوت کا جھوٹا دعوی کرے تو اس کی بات کو چلنے نہیں دیتے، اور باطل کو مٹا دیتے ہیں، اس کے برعکس سچے نبی کے دعوے کو اپنے کلمات کے ذریعے ثابت فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 24
اب یہاں مشرکین کے آخری اعتراض کو لیا جاتا ہے۔ وحی کے بارے میں ان کا جو رویہ تھا اس پر یہ ان کی آخری دلیل تھی ، اس سے قبل وحی کے مصدر اور سرچشمہ ، وحی کے مزاج و ماہیت اور وحی کے اغراض و مقاصد کے مفصل بیان کے بعد اب یہ ان کا آخری سوال ہے۔
ام یقولون افتری علی اللہ کذباً (42 : 34) ” کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اللہ پر جھوٹا بہتان گھڑ لیا ہے “۔ اور اصل وجہ یہ ہے کہ وہ قرآن کی تصدیق نہیں کرتے ۔ کیونکہ ان کا زعم یہ ہے کہ یہ وحی نہیں ہے ، اللہ کی طرف سے کوئی بات نہیں آرہی۔
یہ سوال اس لیے پردرد ہے کہ اللہ کس طرح ایسے شخص کو اجازت دے سکتا ہے کہ وہ اللہ کی مملکت میں اللہ کے نام پر یہ…
Read the full tafseer →5 یعنی بفرض محال اگر کوئی بات بھی خدا کی نسبت جھوٹ بنا کر کہہ دے تو اللہ کو قدرت ہے کہ تیرے دل پر مہر کر دے، پھر فرشتہ یہ کلام معجزے لے کر تیرے قلب پر نہ اتر سکے اور سلسلہ وحی کا بند ہوجائے۔ بلکہ پہلا دیا ہوا بھی سلب کرلیا جائے کما قال (وَلَىِٕنْ شِـئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَيْنَا وَكِيْلًا 86ۙ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ ۭ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَيْكَ كَبِيْرًا 87) 17 ۔ الاسراء :86) مگر چونکہ واقع میں قطعاً کذب و افتراء کا شائبہ نہیں۔ اس لیے محض بدبختوں کی قدر ناشناسی اور طعن وتشنیع کی بناء پر یہ فیض منقطع نہیں کیا جاسکتا۔ بیشک…
Read the full tafseer →آیت 24 { اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا } ”کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اللہ کے اوپر جھوٹ گھڑلیا ہے ؟“
یعنی یہ کہ محمد ﷺ نے قرآن خود بنا کر اللہ کی طرف منسوب کردیا ہے۔
{ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰہُ یَخْتِمْ عَلٰی قَلْبِکَ } ”تو اگر اللہ چاہے تو آپ کے قلب پر مہر لگا دے۔“
یہ خطاب بظاہر محمد رسول اللہ ﷺ سے ہے لیکن اصل میں مخالفین کو سنانا مقصود ہے کہ یہ قرآن وحی کی صورت میں محمد ﷺ کے قلب پر نازل ہو رہا ہے۔ یہ خالص ایک وہبی صلاحیت ہے اور آپ ﷺ کو اس بارے میں ہرگز کوئی اختیار نہیں ہے۔ کجا یہ کہ آپ ﷺ خود اس کو گھڑیں یا تصنیف کریں۔ چناچہ اگر اللہ چاہے تو یہ صلاحیت آپ ﷺ سے واپس لے کر آپ ﷺ کے…
Read the full tafseer →36 ایک عام آدمی پر بھی ایسا الزام لگانا شدید جرم ہے مگر یہ لوگ اس قدر بےباک ہوگئے ہیں کہ آپ پر بھی الزام لگانے سے نہیں چوکتے اور کہتے ہیں کہ یہ قرآن اس نے خود ہی تصنیف کر ڈالا ہے۔ یہ بدبخت آپ کو بھی اپنے ہی جیسا سمجھتے ہیں اور اللہ ایسے ہی بدبختوں کے دلوں پر مہر لگا دیا کرتا ہے۔ اور اگر ان کا الزام درست ہوتا تو اللہ آپ کے دل پر بھی مہر لگا دیتا۔ آپ کے دل پر مہر نہ لگنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہی بدبخت جھوٹے اور الزام تراش ہیں۔
37 یعنی اللہ تعالیٰ باطل کو کبھی پائیداری نصیب نہیں کرتا اور وہ سرنگوں ہو کے رہتا ہے۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حق از خود ثابت اور برقرار ہوجاتا ہے۔ لہذا آپ ان کے…
Read the full tafseer →30۔ (اور نعوذ باللہ وحی ونبوت کا دعوی خلاف واقع کردیا ہے)
31۔ (چہ جائیکہ زبان سے ادا ہونے والے الفاظ واقوال) مطلب یہ ہوا کہ اگر اس احتمال میں شائبہ بھی صداقت کا ہوتا، تو اللہ ایسے مدعی کاذب کو پھلنے پھولنے، کامیاب ہونے ہی کیوں دیتا۔ اس کی زبان سے ادا ہونے والے خارق عادت پیام کو پھیلنے کا موقع ہی نہ دیتا اور مدعی کاذب کی زبان ہی خاموش کردیتا۔ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا، بلکہ وہ تو اس کے برعکس ان رسول کے ہاتھ تائیدی معجزات سے اور زیادہ قوی کرتا جاتا ہے۔ اسی سے معلوم ہوا کہ یہ سرتا سر حق و صداقت پر ہیں۔ اور جو دلوں کے اندر تک کے بھید جانتا ہو۔ اس کے لئے الفاظ ظاہر پر گرفت کرنا کیا مشکل تھا۔ (آیت)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
آیت نمبر 20 تا 29
ترجمہ : جس کا مقصد اپنے عمل سے آخرت کی کھیتی ہو، یعنی آخرت کی کمائی ہو اور وہ ثواب ہے تو ہم اس کی کھیتی میں (یعنی) نیکیوں میں دس گنے تک (بلکہ) اور اس سے بھی زیادہ اضافہ کر کے ترقی دیں گے اور جو دنیا کی کھیتی کی طلب رکھتا ہو تو ہم اسے اس میں سے بلا اضافے کے بقدر نصیب عطا کریں گے، ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں بلکہ مکہ کے ان کافروں نے کچھ شرکاء تجویز کر رکھے ہیں اور وہ شیاطین ہیں کہ ان شرکاء نے ان کافروں کے لئے دین فاسد تجویز کر رکھا ہے، جس کی خدا نے اجازت نہیں دی (اور وہ دین فاسد) شرک اور انکار بعث ہے اور اگر فیصلے کے دن کا وعدہ نہ ہوچکا ہوتا یعنی پہلے سے فیصلہ نہ ہوچکا…
Read the full tafseer →ام یقولون افتری علی اللہ کذبا کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نے (یعنی محمد رسول اللہ ﷺ نے) اللہ پر دروغ بافی کی ہے ؟ یعنی کفار مکہ معاوضۂ رسالت تو ادا نہیں کرتے بلکہ یوں کہتے ہیں کہ محمد ﷺ نے اللہ پر بہتان تراشی کی ہے کہ نبوت کا مدعی بن بیٹھا ہے ‘ یا قرآن کو اللہ کی کتاب کہتا ہے۔
فان یشا اللہ یختم علی قبلک سو اللہ اگر چاہے تو آپ کے دل پر بند لگا دے۔ یعنی محمد ﷺ جیسے شخص
سے کذب تراشی اور بہتان بندی کا صدور بعید (ازعقل) ہے۔ دروغ بندی کی جرأت تو وہی کرسکتا ہے جس کے دل پر اللہ کی طرف سے گمراہی کی مہر لگ چکی ہو اور اپنے رب کو پہچانتا نہ ہو ‘ لیکن جو صاحب بصیرت اور خدا شناس ہو وہ ایسی حرکت نہیں کرسکتا۔…
Read the full tafseer →اور یہ تو یوں کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ محمد نے اللہ پر بہتان لگایا ہے ان کفار کی یہ بات سن کر رسول اکرم غمگین ہوئے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اگر وہ چاہے تو آپ کے دل پر بند لگا دے یا یہ کہ آپ کے قلب مبارک کو محفوظ رکھے۔
اور اللہ تعالیٰ تو شرک اور اس کے ماننے والوں کو ہلاک کرتا ہے اور اپنے دین اسلام کو اپنی تائید سے غلبہ دیا کرتا ہے اور وہ دلوں میں بھی جو نیکی اور برائی ہے سب کو جانتا ہے اور وہ تو ایسا ہے جو کچھ تم نیکی اور برائی کرتے ہو سب کو جانتا ہے۔
شان نزول : اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا (الخ)
امام طبرانی نے سند ضعیف کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے…
Read the full tafseer →(1) ام یقولون افتری علی اللہ کذباً :”ام“ کے لفظ سے پہلے ایک جملہ ظاہر یا مقدر ہوتا ہے جو ہمزہ استفہام سے شروع ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات واضح کرنے کے بعد کہ تمہیں دین کی دعوت دینے سے مقصود سراسر تمہارا فائدہ اور تمہاری نجات ہے، اس میں تم سے میری کوئی ذاتی غرض نہیں، نہ ہی میں اس پر تم سے کسی مزدوری کا سوال کرتا ہوں۔ ہاں یہ ضرور کہتا ہوں کہ کم از کم رشتہ داری کی وجہ سے میرا دوستی کا حق تو ادا کرو۔ اس سے آگے اس مفہوم کی عبارت مقدر مانی جائے گی کہ آیا وہ یہ دعوت قبول کرتے ہوئے آپ پر ایمان لاتے ہیں ”ام یقولون افتری“ یا ضد اور عناد پر قائم رہ کر یہی بات کہے جاتے ہیں کہ اس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا…
Read the full tafseer →ام یقولون افتری علی اللہ کذبا ‘ ام میں میم زائد ہے تقدیر کلام یہ ہے أیقولون افتری کلام ما قبل کے ساتھ متصل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وقل امنت بمآ انزل اللہ من کتب (الشوری :15) اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اللہ الذی انزل الکتب بالحق (شوری :17) بیان کو مکمل کرنے کے لیے ارشاد فرمایا : ام یقولون افتری علی اللہ کذبا وائو ضمیر سے مراد کفار قریش ہیں انہوں نے کہا : (حضرت) محمد ﷺ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے۔
فان یشا اللہ یختم علی قلبک یہ شرط اور جواب ہے۔ قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ تیرے دل پر مہر لگا دے گا اور تجھے قرآن بھلا دے گا ‘ اللہ تعالیٰ نے انہیں خبردی اگر حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
5:۔ سعید بن منصور وابن سعد بن عبد بن حمید (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے دلائل میں شعبی (رح) سے روایت کیا کہ اکثر لوگ ہمارے پاس اس آیت (آیت ) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی “ کے بارے میں پوچھنے کیلئے آئے میں نے ابن عباس کو دیکھا کہ ہم آپ سے اس بارے میں پوچھتے ہیں تو ابن عباس ؓ نے لکھا کہ رسول اللہ ﷺ قریش میں نسب کے اعتبار سے درمیان میں تھے قریش کا کوئی خاندان ایسا نہیں تھا مگر اس کا آپ کی ذات سے والادت کا تعلق تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا (آیت ) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا “ آپ فرمادیجئے کہ میں تم سے اس پر کسی معاوضہ کا سوال نہیں کرتا ینی…
Read the full tafseer →اَمْ يَقُوْلُوْنَ [یا وہ لوگ کہتے ہیں ] افْتَرٰى [ اس نے گھڑا ] عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا ۚ [ اللہ پر ایک جھوٹ ] فَاِنْ يَّشَاِ اللّٰهُ [ پھر اگر چاہتا اللہ ] يَخْتِمْ [ تو وہ مہرلگا دیتا ] عَلٰي قَلْبِكَ ۭ [ آپ کے دل پر ] وَيَمْــحُ اللّٰهُ [ اور مٹاتا ہے اللہ ] الْبَاطِلَ [ باطل کو ] وَيُحِقُّ [ اور وہ ثابت کرتا ہے ] الْحَقَّ [ سچائی کو ] بِكَلِمٰتِهٖ ۭ [ اپنے فرمانوں سے ] اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ [ یقینا وہ جاننے والا ہے ] بِذَاتِ الصُّدُوْرِ [ سینوں والی (بات ) کو ]
Read the full tafseer →قرآن کو افتراء علی اللہ بتانے والوں کی تردید
چوتھی آیت میں ارشاد فرمایا ﴿اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا 1ۚ﴾ (کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے) یہ استفہام تقریری ہے یعنی یہ لوگ ایسا کہتے ہیں، اس کے جواب میں فرمایا ﴿فَاِنْ يَّشَاِ اللّٰهُ يَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ 1ؕ﴾ (سو اگر اللہ چاہے تو آپ کے دل پر بند لگا دے) یعنی آپ کو قرآن بھلا دے۔ لیکن وہ آپ پر برابر قرآن نازل فرما رہا ہے جو رحمتیں ابتدائے نبوت سے جاری تھیں وہ اب بھی جاری ہیں لہٰذا ان لوگوں کے قول سے رنجیدہ نہ ہوں آپ پر برابر وحی آتی رہنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ لوگ اپنی اس بات میں جھوٹے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
مذمت افتراء علی اللہ و محرومی بدنصیباں از قبول حق و کامیابی مومنین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ام یقولون افتری ...... الی ....... خبیر بصیر “۔
ّ (ربط) ’ گذشتہ آیات میں طالبین دنیا اور طالبین آخرت کا ذکر تھا اور یہ کہ انبیاء (علیہم السلام) دعوت حق سے آخرت کا فکر پیدا کرنے کے لیے کیسی محنت کرتے ہیں، اور اخلاص وہمدردی کے جذبہ سے ان کی غرض اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتی کہ اللہ کے بندے حق اور ہدایت قبول کرکے نجاتوسعادت حاصل کرلیں، اب ان آیات میں ایسے معاندین و متکبرین کا ذکر ہے جو اپنے عناد وتکبر میں اس قدر غرق ہوتے ہیں کہ قبول حق تو درکنار وہ اللہ رب العزت پر افتراء بہتان پردازی سے بھی باز نہیں…
Read the full tafseer →24:۔ ” ام یقولون “ یہ شکوی ہے مشرکین ازراہ عناد و مکابرہ کا الزام لگاتے ہیں کہ محمد ﷺ خدا پر افتراء کرتا ہے یعنی اس کا یہ کہنا کہ خدا نے مجھے اس بات کی تبلیغ کرنے کا حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی کارساز نہیں اور اس کے سوا کسی کو حاجات میں غائبانہ مت پکارو یہ خدا پر افتراء ہے۔ ” فان یشا اللہ الخ “ یہ جواب شکوی ہے اور آپ کے مفتری ہونے کا رد ہے۔ اللہ پر افتراء وہی کرسکتا ہے جس کے دل پر مہر ثبت ہو یعنی وہ نور بصیرت اور معرفت الٰہیہ سے بےبہرہ ہو اور آپ نے جو دعوت پیش کی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی کارساز نہیں اور اس کے سوا کسی کو مت پکارو، یہ سراسر عقل کے مطابق اور انبیاء سابقین کی تعلیمات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
ربط آیات
پہلے توحید ، معاد اور جزائے عمل کا ذکر ہوا ، اور نیک و بد آدمیوں کا انجام بیان کیا گیا ۔ پھر گزشتہ آیت میں رسالت کا ذکر تھا ۔ اللہ نے حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا لا اسئلکم علیہ اجرا ًمیں اس تبلیغ حق پر تم سے کوئی معاوضہ تو طلب نہیں کرتا ، میں تو صرف قرابتداری کا لحاظ چاہتا ہوں کہ کم از کم مجھے ایذاء تو نہ پہنچائو ۔ اب آج کی پہلی آیت بھی رسالت ہی کے تسلسل میں ہے۔ پھر آگے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں اور جزائے عمل کا تذکرہ ہے۔
افترا علی اللہ کی نفی
ارشاد ہوتا ہے امر یقولون افتری علی اللہ کذبا ً کیا یہ منکرین اور مکذبین کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی نے خدا تعالیٰ پر افتراء باندھا ہے ؟ یعنی…
Read the full tafseer →اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَي اللہِ كَذِبًا 0 ۚ فَاِنْ يَّشَاِ اللہُ يَخْتِمْ عَلٰي قَلْبِكَ 0 ۭ وَيَمْحُ اللہُ الْبَاطِلَ وَيُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِہٖ 0 ۭ اِنَّہٗ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ 24
أَمْ»حرف
إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه :
أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
ترکیب : ام بمعنی بل فان یشاء اللہ خذلانک شرط یختم جو ابہ ولذاصارالفعل مخبروما، ویمح اللہ جملۃ مستانفۃ مقررۃ لماقبلھامن نفی الافتراء غیر داخلۃ الجزاء لقبل التوابۃ مفعول اول عن عبادہ مفعول ثان لان المقبول یعدی الی مفعول ثان بمن وعن لتضمۃ معنی الاخذوالانابۃ ویستجیب الذین مفعول فیستجیب بمعنی یجیب وقیل حذف اللام کمافی قولہ و اذا کالو ھم اے کالو الھم وقیل الذین فاعل یستجیب ای ینقادون
تفسیر : اس کے بعد بھی کہ آپ کسی سے اس تبلیغ کی اجرت نہیں مانگتے شبہ باقی رہنا یہ گمان کرنا ہے کہ آپ اپنی طرف سے بنا کر کہتے ہیں اللہ نے وحی نہیں کی اس لیے اس بدگمانی کو دفع کرتا ہے فقال ام یقولون افتری الخ اور یہ بھی…
Read the full tafseer →اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا ج فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰہُ یَخْتِمْ عَلٰی قَلْبِکَ ط وَیَمْحُ اللّٰہُ الْبَاطِلَ وَیُحِقُّ الْحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ ط اِنَّـہٗ عَلِیْمٌ م بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۔ (الشوری : 24)
(کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے، پس اگر اللہ چاہے تو تیرے دل پر مہر کردے، اور اللہ باطل کو مٹاتا ہے اور حق کو ثابت کرتا ہے، اپنے کلمات کے ذریعے سے، بیشک وہ دلوں کے بھیدوں کو جاننے والا ہے۔ )
مخالفین کا قرآن کو افتراء قرار دینے کا جواب
آنحضرت ﷺ کی دعوت کو بےاثر کرنے کے لیے مخالفین لوگوں کو یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ یہ شخص جس کتاب کو منزل من اللہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : سابقہ آیات میں ظالموں کی سزا اور نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہوا۔ اب یہ اعلان ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ باطل کو مٹائے گا اور حق کو حق ثابت کر دکھائے گا۔ وہ جانتا ہے کون حق کو قبول کرتا ہے اور کون اس کا انکار کرتا ہے۔ وہ لوگوں کے سینے کے راز جانتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کے بارے میں کفار اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ ﷺ نے نبوت سے پہلے بھی نہ کسی کے ساتھ غلط بیانی کی اور نہ ہی کسی معاملے میں آپ سے کوئی خیانت سرزد ہوئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو قبل از نبوت بھی ہر قسم کے عیب سے پاک رکھا۔ جس کا اہل مکہ برملا اعتراف کرتے تھے۔ اس حقیقت کا اعتراف کرنے کے باوجود کفار آپ ﷺ پر الز ام لگاتے کہ آپ…
Read the full tafseer →تسلی ٔ رسول ﷺ :
24: اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا (کیا یہ لوگ اس طرح کہتے ہیں کہ اس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ و بہتان باندھ رکھا ہے) ام منقطعہ ہے ہمزہ تو بیخ کیلئے ہے گویا اس طرح فرمایا : ایتمالکون ان ینسبوا مثلہ الی الا فتراء ثم الی الافتراء علی اللہ الذی ھو اعظم الفری وافحشہا ؟ کیا وہ قابو نہیں رکھتے کہ اس جیسی شخصیت کی طرف افتراء کی نسبت کریں پھر اس اللہ تعالیٰ پر افتراء کا الزام جو سب سے بڑا اور سب سے قبیح بہتان ہے۔ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰہُ یَخْتِمْ عَلٰی قَلْبِکَ (پس اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو آپ کے دل پر ُ مہر لگا دے)
قولِ مجاہد۔ :
یختم کا معنی یربط ہے۔ آپ کے دل پر صبر کا بند…
Read the full tafseer →23، ذلک الذی، جو میں نے جنت کی نعمتوں کا تذکرہ کیا ۔ ، یبشر اللہ عبادہ الذین امنواعملوالصالحات، کیوں کہ اس کے اہل ہیں ۔ ، قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی،
الاالمودۃ فی القربی کی تفسیر
طاؤس نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ، الا المودۃ فی القربی، کے بارے میں سوال کیا گیا تو ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ مجھے تعجب ہے کہ قریش کی کوئی ایسی شاخ نہ تھی جس میں نبی کریم ﷺ کی رشتہ داری نہ ہو تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم میری اور اپنی رشتہ داری کو ملاؤ۔ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں کہ آل محمد ﷺ کے قریبی رشتہ دار اور اسی طرح شعبی اور طاؤس رحمہما اللہ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
24۔ 29۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ محمد رسول اللہ ﷺ قرآن کی آیتیں خود بنا لیتے ہیں اور یہ مشہور کرتے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے مشرکین کی اس بات کا ایک جواب تو سورة بقر میں گزر چکا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ قرآن ان پڑھ رسول پر اترا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ ان پڑھ شخص تو درکنار کوئی پڑھا ہوا آدمی بھی بغیر آسمانی کتابوں کی مدد کے ایسی باتیں نہیں بتاسکتا اس سے ہر ایک سمجھ دار آدمی سمجھ سکتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ اسی بات کا یہاں یہ جواب دیا ہے کہ جھوٹ اللہ کو بہت ناپسند ہے۔ اسی واسطے قرآن کے مخالف لوگ قرآن کے مقابلہ میں جو جھوٹی باتیں کہتے ہیں ان کو دن بدن اللہ تعالیٰ مٹاتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
آیت 24
کیا رسول ﷺ کو جھٹلانے والے یہ لوگ اپنی جسارت کذب بیانی کی بنا پر کہتے ہیں : (افتری علی اللہ کذباً ) ” اس (رسول) نے اللہ پر جھوٹ باندھ لیا ہے ؟ “ پس انہوں نے آپ پر بدترین اور قبیح ترین بہتان لگایا، وہ یہ کہ آپ نے نبوت کا دعویٰ کر کے اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے جبکہ آپ اس سے بری ہیں، حالانکہ وہ آپ کی صداقت اور امانت کو خوب جانت یہیں، وہ اس صریح جھوٹ کی کیوں کر جرأت کر رہے ہیں ؟ بلکہ اس ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں جرح و قدح ہے کہ اس نے آپ کے لئے اس عظیم دعوت کو ممکن بنایا جو ان کے زعم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–37
محبت برائے قرابت
قول باری ہے (قل لا اسئلکو علیہ اجر ا الا المودۃ فی القربی۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں طلب کرتا، ہاں رشتہ داری کی محبت ہو) حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد، قتادہ ضحاک اور سدی کا قول ہے کہ ” مگر یہ کہ تم مجھ سے اس بنا پر محبت رکھو کہ تمہارے ساتھ میری رشتہ داری اور قرابت ہے۔ “ ان حضرات کا قول ہے کہ قریش کے تمام خاندانوں اور حضور ﷺ کے درمیان قرابت تھی۔ علی بن الحسین اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” مگر یہ کہ تم میرے قرابت داروں سے محبت رکھو۔ “ حسن کا قول ہے۔” مگر یہ کہ عمل صالح کے ذریعے تم اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی دوستی حاصل کرو۔ “
Read the full tafseer →62 قرآن حکیم محض عطیہ اور احسان خداوندی ہے : ورنہ پیغمبر نے نہ کبھی اس کی خواہش کی اور نہ ہی محض اپنی خواہش سے اس کو پایا جاسکتا ہے۔ بلکہ خداوند قدوس نے محض اپنی رحمت و عنایت سے اس چشمہ فیض کو پیغمبر کے اندر جاری فرمایا ہے۔ ورنہ اللہ اگر چاہتا تو مہر کردیتا تمہارے دل پر اے پیغمبر۔ اور آپ ﷺ سے علوم نبوت سلب کردیتا۔ کیونکہ اللہ پاک کا قانون یہی ہے کہ جو اس پر جھوٹ باندھتا ہے اس کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ سورة الحاقۃ میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الاَقَاوِیْلِ لَأَخَذْنَا مِنْہُ بالْیَمِیْنِ ، ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْن، فَمَا مِنْکُمْ مِّنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
اللہ کے قوانین اٹل ہیں
تشریح : سب سے پہلے تو یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ یہ زندگی ہر انسان کے لیے ایک کھیتی کی طرح ہے۔ یعنی دنیا کے کام کرنا فرض ہے مگر ان کے ساتھ ساتھ اللہ کو یاد کرنا اور ہر دم اللہ سے دنیا وآخرت کی بھلائی مانگنا بھی فرض ہے۔ تو گویا ایک پنتھ دو کاج ہوگئے۔ یوں اللہ تعالیٰ دنیا کے کاموں میں بھی برکت اور بھلائی پیدا کرتا ہے اور آخرت میں بھی بھلائی اور برکت عطا کرتا ہے جو دنیا میں گم ہو کر اسے بھول جاتے ہیں ان کو معلوم ہونا چاہے کہ اس طرح وہ اپنا بہت بڑا نقصان کرلیتے ہیں۔ اللہ کا نظام کائنات ایسا عجیب و غریب ہے اور اس کی نظر اس قدر وسیع اور مضبوط ہے کہ وہ نہ صرف ظاہری اعمال کو ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
آیات 20 تا 29۔
جو کوئی اپنی محنت کا پھل آخرت میں چاہتا ہے تو اس کے انعامات اور اجر اور زیادہ بڑھادیے جاتے ہیں اور وہ اپنی طلب سے بھی زیادہ پاتا ہے اور جو شخص صرف حصول دنیا کے لیے کوشش کرتا ہے اسے دنیا میں سے کچھ نہ کچھ عطا کردیا جاتا ہے یعنی ضروری نہیں کہ جس انداز یاجتنی مقدار میں اس کی خواہش ہے اسے مل جائے بلکہ یہ اللہ کی مرضی کہ اس کا نصیبہ کیا مقرر کیا ہے وہی ملتا ہے جبکہ یہ سب آخرت کے طلب گار کو بھی ملتا ہے۔ مگر آخرت چھوڑ کر صرف دنیا کے طالب کی خواہش دنیا میں پوری نہیں ہوتی اور آخرت سے محروم رہ جاتا ہے کہ آخرت پر ایمان ہی نہ تھا لہذا آخرت میں کچھ نہیں پاتاگویا مومن دنیا کا کام بھی طلب…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کردیا اور قرآن خود تصنیف کر کے خدا کی طرف منسوب کردیا۔
9 یعنی آپ ﷺ کے قلب کو مائوف کر دے اور اب تک اتارا ہوا سارا قرآن سلب کرلے، مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ پر یہ الزام قطعی غلط ہے۔ اگر آپ ﷺ خدا پر ادنیٰ سا بہتان بھی باندھتے تو وہ آپ ﷺ کو ہرگز پنپنے نہ دیتا اور آپ ﷺ سے پوری طرح انتقام لیتا۔ ( نیز دیکھئے الحاقہ : 44، 47) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” یعنی اللہ اپنے اوپر کیوں جھوٹ بولنے دے۔ دل کو بند کر دے مضمون نہ آوے “۔
10 یعنی اللہ تعالیٰ کا قاعدہ ہے کہ وہ باطل کو پائیداری نہیں بخشتا اور آخر کار اپنے کلام ہی کے ذریعہ ( یعنی قرآن اتار کر) حق ہی کو غالب کر کے چھوڑے گا، اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
(42:24) ام : ام منقطعہ بمعنی بل : ام یقولون۔ ای بل یقول کفار مکۃ (الخازن) (کفار مکہ معاوضہ رسالت تو داد نہیں کرتے) بلکہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ :۔ (افتری علی اللہ کذبا) ۔
افتری : ماضی واھد مذکر غائب افتراء (افتعال) مصدر۔ اس نے جھوٹ باندھا۔ اس نے بہتان تراشا۔ر ی مادہ الفری (باب نصر) کے معنی چمڑے کو سینے اور درست کرنے کے لئے اسے کاٹنے کے ہیں ۔ افراء (افعال) بمعنی خراب کرنے کے لئے کاٹنے کے ہیں۔ اور باب افتعال سے ادتراء کا لفظ اصلاح اور فساد ، دونوں کے لئے آتا ہے۔ لیکن اس کا زیادہ تر استعمال فساد ہی کے معنوں میں آتا ہے۔ اسی لئے قرآن مجید میں جھوٹ، شرک، ظلم کے موقعوں پر استعمال کیا گیا ہے۔
چناچہ قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 29 : افتری (اس نے گھڑ لیا ، بنا لیا) یختم (وہ مہر لگا دیتا ہے) یمح (وہ مٹا ڈالتا ہے) السیئات (خطائیں ، برائیاں) بسط (اس نے کھول دیا) بغوا ( انہوں نے سر کشی ، نافرمانی کی) الغیث ( بارش) قنطوا (وہ مایوس ہوگئے) ینشرا (وہ پھیلاتا ہے) بت (اس نے پھیلا دیا ، اس نے بکھیر دیا)
تشریح : آیت نمبر 24 تا 29 : قرآن کریم کی عظیم تعلیم نبی کریم ﷺ کی اعلیٰ سیرت و کردار اور اس کے اثرات کو مشرکین اور کفاراچھی طرح جانتے اور سمجھتے تھے مگر محض اپنے دلی بغض ، حسد ، ضد اور ہٹ دھرمی ان کو مخالفت کے طوفان کی طرف دھکیل کرلے جاتی تھی وہ اپنی شرمندگی کو سمجھتے تھے مگر محض اپنے دلی بغض ، حسد ،…
Read the full tafseer →گناہوں کا کفارہ۔
(ف 2) مشرکین مکہ کہتے کہ محمد ﷺ قرآن کی آیتیں خود بنالیتے ہیں اور یہ مشہور کرتے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے مشرکین کی اس بات کا جواب تو سورة بقرہ میں گزرچکا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ قرآن امی رسول پر اترا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ امی شخص تو درکنار کوئی پڑھا ہوا آدمی بھی ایسی غیب کی باتیں نہیں بتلاسکتا، اس لیے ہر ایک سمجھدار آدمی سمجھ سکتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے اسی بات کا جواب یہاں دیا ہے کہ جھوٹ اللہ کو بہت ناپسند ہے اسی واسطے قرآن کے مخالف لوگ قرآن کے مقابلہ میں جو چھوٹی باتیں کہتے ہیں ان کو دن بدن اللہ تعالیٰ مٹاتا ہے اور قران کی باتوں کو پھیلاتا ہے اس سے ہر…
Read the full tafseer →[17] یعنی اس قرآن کو تصنیف کر کے جھوٹ موٹ اللہ کی طرف منسوب کیا ہے۔
[18] یعنی بفرض محال اگر کوئی بات بھی اللہ کی نسبت جھوٹ بنا کر کہہ دو تو اللہ کو قدرت ہے کہ تمہارے دل پر مہر کر دے پھر فرشتہ یہ کلام لے کر تمہارے قلب پر نہ اتر سکے اور سلسلہ وحی بند ہوجائے بلکہ دیا ہوا بھی سلب کرلیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
ف 2: یختم علی قلبک ۔ دو معنے ہیں ایک تو یہ کہ آپ سورت اللہ پر افتراء کرسکتے ہیں ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ آپ سے بصیرت چھین لے ۔ اور آپ کے قلب پر مہر کردے ۔ یعنی جس طرح ناممکن ہے ۔ اس رطح یہ ناممکن ہے ۔ کہ آپ غلط ملط باتیں اللہ کی طرف منسوب کریں ۔ دوسرے یہ کہ یہ لوگ تو اس رطح کے الزامات سے آپ کو دل برداشتہ کردیتے ہیں ۔ مگر اللہ چاہے گا تو آپ کے دل پر تسکین ۔ طمانیت می اوز ثبت کردیگا ۔ تاکہ ان اس طرز عمل کا اثر آپ تک نہ پہنچے اور آپ استقلال و عزیمت کے ساتھ اللہ کے پیغام کو دوسروں تک پہنچاتے رہیں ۔
Read the full tafseer →(24) یہ دین حق کے منکریوں کہتے ہیں کہ اس شخص نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹا افترا کیا ہے سو اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو آپ کے قلب پر مہر لگادے اور اللہ تعالیٰ باطل کو مٹاتا ہے اور حق کو اپنے احکام اور اپنی باتوں سے ثابت کرتا ہے بلا شبہ وہ سینوں کی چھپی ہوئی باتوں کو جانتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اللہ اپنے اوپر کیوں جھوٹ بولنے دے دل کو بند کردے مضمون نہ آنے دے جس کو باندھے اور یوں ہی چاہے تو کفر کو مٹادے بن پیغام بھیجے مگر وہ اپنی باتوں سے دین کو ثابت کرتا ہے اس واسطے نبی پر کلام بھیجتا ہے۔
خلاصہ : یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کاذب کی مدد نہیں کیا کرتا اور جھوٹے مدعی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
ف 3۔ یعنی اتنا چاہتا ہوں کہ میرے تمہارے جو تعلقات رشتہ داری کے ہیں جو کہ تمام قریش میں بلکہ تمام عرب میں پھیلے ہوئے تھے ان کے حقوق کا تو خیال رکھو۔
Read the full tafseer →کفار آپ ﷺ پر الزام لگاتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے
24۔ مثل ہے کہ چور کو چور ہی سوجھتا ہے۔ جن لوگوں کا کام دن رات نئے نئے جھوٹ گھڑتا ہے کیا ان کو نبی اعظم و آخر ﷺ بھی اپنے ہی جیسا ایک جھوٹ گھڑنے والا آدمی نظر آیا ہے ؟ ان کو معلوم نہیں کہ جھوٹ کے پاؤں کہاں ؟ کیا یہ نہیں جانتے کہ جھوٹ کی ناؤ نہیں چلتی ؟ دراصل یہ خود جھوٹے ہیں اس لیے اگر یہ لوگ جھوٹ نہ بولیں تو ان کے پیٹ اپھر جاتے ہیں لیکن ان کو اچھی طرح سن لینا چاہئے کہ جھوٹے کا منہ کالا ، سچے کا بول بالا بھی مثال عام ہے۔ کفار نے آپ ﷺ کے دعویٰ رسالت کو جھٹلاتے ہوئے کہا کہ محمد ﷺ نے یہ جو دعویٰ رسالت کیا ہے تو یہ سرا سر اللہ پر…
Read the full tafseer →1. It means that the miraculous Qur'an recited by the unlettered Prophet is in itself a clear proof of its being revealed by Allah Ta’ ala. Allah's practice is such that if a person falsely claims to be a prophet, He does not let him show any miracle. Therefore, had there been, God forbid, something forged by the Holy Prophet ﷺ in the Qur'an, Allah would have put a seal on his heart, and he would have never been able to come up with such a miraculous discourse.
Commentary
The first verse conveys Allah Almighty's reply to those who held the prophethood and messenger-ship of the Holy Prophet ﷺ…
Read the full tafseer →43 In this interrogative sentence the style is of severe reproach. It means: "O Prophet: Have these people become so bold and fearless that they do not feel any shame in accusing you of inventing a lie, and that too of a heinous sin of alit against Allah? They calumniate you that you are forging the Qur'an yourself and then falsely attributing to Allah. "
44 That is, "Such big lies are only uttered by those whose hearts havc been sealed up. If Allah wills, He may include you also among them, but it is His mercy that He has kept you away from them. This answer contains a seven satire against…
Read the full tafseer →