Ash-Shura 42:25

Ash-Shura · from ayah 25

42:25

وَهُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَیَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَیَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ ۟ۙوَهُوَ الَّذِىۡ يَقۡبَلُ التَّوۡبَةَ عَنۡ عِبَادِهٖ وَيَعۡفُوۡا عَنِ السَّيِّاٰتِ وَيَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُوۡنَ

اور وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور (ان کے) قصور معاف فرماتا ہے اور جو تم کرتے ہو (سب) جانتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And it is He who accepts repentance from his servants and pardons misdeeds, and He knows what you do.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 3 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shura

All translations of 42:25

وہی ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتا ہے اور برائیوں سے درگزر کرتا ہے، حالانکہ تم لوگوں کے سب افعال کا اُ سے علم ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور (ان کے) قصور معاف فرماتا ہے اور جو تم کرتے ہو (سب) جانتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے اور جو کچھ تم کررہے ہو (سب) جانتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے، اور گناہوں کو معاف کرتا ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو، اس کا پورا علم رکھتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور لغزشوں سے درگزر فرماتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو (اسے) جانتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہی ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتا ہے اور برائیوں سے در گزر کرتا ہے اور جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور (ان کی) برائیوں کو معاف کرتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ اسے جانتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور برائیوں سے درگزر فرماتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور وہ وہی ہے جو توبہ قبول فرماتا ہے اپنے بندوں سے اور وہ درگزر فرماتا ہے ان کی (خطاؤں اور) برائیوں سے اور وہ جانتا ہے وہ سب کچھ جو تم لوگ کرتے ہو

— مولانا اسحاق مدنی

اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور وہ گناہوں کو معاف کردیتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس سب کو جانتا ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہی ہے کہ جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور ان کی بہت سی برائیوں سے درگزر کرتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کے قصور معاف فرماتا ہے اور جو تم کرتے ہو سب جانتا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

He it is Who accepts repentance from His servants and forgives sins and knows all what you do,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And He is the One who accepts repentance from His servants and forgives evil deeds and knows whatever you do.

— Muhammad Taqi Usmani

And He is the One who accepts repentance from His servants and forgives evil deeds and knows whatever you do.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And He it is Who accepts repentance from His servants, and forgives sins, and He knows what you do.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And He it is Who accepteth repentance from His bondmen, and pardoneth the evil deeds, and knoweth what ye do,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And it is He who accepts repentance from his servants and pardons misdeeds, and He knows what you do.

— Saheeh International

It is He who accepts the repentance of His servants, forgives their evil deeds and knows all about what you do.

— Muhammad Sarwar

And He it is Who accepts repentance from His servants and pardons the evil deeds and He knows what you do;

— Muhammad Habib Shakir

And He it is Who accepteth repentances from His bondmen, and pardoneth the evil deeds and knoweth that which ye do.

— Abdul Majid Daryabadi

He is the One that accepts repentance from His Servants and forgives sins: and He knows all that ye do.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 42:25

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 25–28

توبہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنا احسان اور اپنا کرم بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے غلاموں پر اس قدر مہربان ہے کہ بد سے بد گنہگار بھی جب اپنی بد کرداری سے باز آئے اور خلوص کے ساتھ اس کے سامنے جھکے اور سچے دل سے توبہ کرے تو وہ اپنے رحم و کرم سے اس کی پردہ پوشی کرتا ہے اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اپنا فضل اس کے شامل حال کردیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا01100) 4۔ النسآء :110) ، جو شخص بد عملی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ اللہ کو غفور و رحیم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّوْرٰی 47 پچھلی آیت کے معاً بعد توبہ کی ترغیب دینے سے خود بخود یہ مضمون نکلتا ہے کہ ظالمو، سچے نبی پر یہ جھوٹے الزامات رکھ کر کیوں اپنے آپ کو اور زیادہ خدا کے عذاب کا مستحق بناتے ہو، اب بھی اپنی ان حرکتوں سے باز آجاؤ اور توبہ کرلو تو اللہ معاف فرما دے گا۔ توبہ کے ایک معنی یہ ہیں کہ آدمی اپنے کیے پر نادم ہو، جس برائی کا وہ مرتکب ہوا ہے یا ہوتا رہا ہے اس سے باز آجائے، اور آئندہ اس کا ارتکاب نہ کرے۔ نیز یہ بھی سچی توبہ کا لازمی تقاضا ہے کہ جو برائی کسی شخص نے پہلے کی ہے اس کی تلافی کرنے کی وہ اپنی حد تک پوری کوشش کرے، اور جہاں تلافی کی کوئی صورت ممکن نہ ہو، وہاں اللہ سے معافی مانگے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 25–26

دوسری آیت میں منکرین و معاندین کو نصیحت کی گئی ہے کہ اب بھی کفر و انکار سے باز آجائیں اور توبہ کرلیں۔ اللہ تعالیٰ بڑا رحیم و کریم ہے، توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرما لیتا ہے اور ان کی خطاؤں کو بخش دیتا ہے۔ توبہ کی حقیقت توبہ کے لفظی معنی لوٹنے اور رجوع کرنے کے ہیں، اور شرعی اصطلاح میں کسی گناہ سے باز آنے کو توبہ کہتے ہیں۔ اور اس کے صحیح و معتبر ہونے کے لئے تین شرائط ہیں۔ ایک یہ کہ جس گناہ میں فی الحال مبتلا ہے اس کو فوراً ترک کر دے، دوسرے یہ کہ ماضی میں جو گناہ ہوا اس پر نادم ہو، اور تیسرے یہ کہ آئندہ اسے ترک کرنے کا پختہ عزم کرلے اور کوئی شرعی فریضہ چھوڑا ہوا ہے تو اسے ادا یا قضا کرنے میں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

توبہ اور اصلاح کی ترغیب وھو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہ ویعصوا عن السیات ویعلم ماتفعلون (25) توبہ اور اصلاح کی ترغیب یہ ان لوگوں کو توبہ اور اصلاح کی ترغیب ہے کہ اب بھی موقع بای ہے کہ تم چاہو تو توبہ و اصلاح کر کے اپنے کو خدا کے غضب سے بچا سکتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نہایت ہی مہربان اور اپنے بندوں کے گناہوں سے درگزر فرمانے والا ہے۔ ورنہ یادرکھو کہ جو تم کر رہے ہو اس سے وہ اچھی طرح واقف ہے۔ اپنا کوئی جرم بھی اس سے چھپا نہ سکو گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

25۔ 1 توبہ کا مطلب ہے، معصیت پر ندامت کا اظہار اور آئندہ اس کو نہ کرنے کا عزم محض زبان سے توبہ توبہ کرلینا یا اس گناہ اور معصیت کے کام کو تو نہ چھوڑنا اور توبہ کا اظہار کئے جانا، توبہ نہیں ہے۔ یہ استہزاء اور مذاق ہے۔ تاہم خالص اور سچی توبہ اللہ تعالیٰ یقینا قبول فرماتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 24–39

7: یعنی اگر (معاذاللہ) آنحضرت ﷺ اپنی طرف سے گھڑ کر یہ قرآن بنا رہے ہوتے تو اللہ تعالیٰ آپ کے دل پر مہر لگا دیتا ، جس کی وجہ سے آپ کو ایسا کلام پیش کرنے پر قدرت ہی نہ ہوتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نبوت کا جھوٹا دعوی کرے تو اس کی بات کو چلنے نہیں دیتے، اور باطل کو مٹا دیتے ہیں، اس کے برعکس سچے نبی کے دعوے کو اپنے کلمات کے ذریعے ثابت فرماتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 25–27

درس نمبر 230 ایک نظر میں سورت کا یہ دوسرا حصہ انفس ، و آفاق میں موجود دلائل ایمان کے بیان پر مشتمل ہے اور اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ کی رحمت کے آثار کس طرح قدم قدم پر موجود ہیں۔ اور لوگوں کو گھیرے ہوئے ہیں۔ ان آثار کا تعلق ان کی زندگی اور ان کی معیشت کے ساتھ ہے۔ اور پھر اس میں اہل ایمان کی صفات بیان کی گئیں کہ وہ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں کیا کیا امتیازی خصوصیات رکھتے ہیں جبکہ پہلے حصے میں موضوع سخن زیادہ تر وحی و رسالت تھا۔ اس سبق کے آخر میں وحی الٰہی کی شکلیں بیان کی گئی ہیں۔ اس سورت کے دونوں حصوں میں ربط ظاہر ہے اللہ کے دلائل ایمان کا مقصد بھی یہی ہے کہ لوگ وحی و رسالت کے ساتھ منسلک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 25–26

6 یعنی نبی خدا کا پیغام پہنچاتا ہے، تم جھوٹ سمجھو یا سچ، اس کے بعد بندوں کا سارا معاملہ خدا سے ہر ایک بندہ سے دنیا اور آخرت میں اس کے حال و استعداد کے موافق معاملہ ہوتا ہے۔ توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور باوجود سب کچھ جاننے کے کتنی برائیوں سے درگزر کرتا ہے جو ایماندار اور نیک بندے اس کی بات سنتے ہیں وہ ان کی دعائیں سنتا اور ان کی طاعات کو شرف قبولیت بخشتا ہے اور جس قدر اجر وثواب کے وہ عام ضابطہ سے مستحق ہوں اپنے فضل سے اس سے کہیں زائد مرحمت فرماتا ہے۔ رہ گئے منکر اور پکے کافر جن کو مرتے دم تک رجوع و توبہ کی توفیق میسر نہیں ہوتی ان کا انجام اگلے جملہ میں مذکور ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 25 { وَہُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَیَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَیَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْن } ”اور وہی ہے کہ جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور ان کی بہت سی برائیوں سے درگزر کرتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

39 توبہ کی شرائط :۔ یہ خطاب صرف ایمانداروں سے نہیں بلکہ ان کافروں کو بھی شامل ہے جو آپ پر الزام تراشیاں کرتے تھے۔ اس آیت میں انہیں اپنے انہی بداعمالیوں سے توبہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ کافروں کی توبہ اسلام لانا ہے۔ اسلام لانے سے ہی ان کے سابقہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اور اگر اس کا خطاب ایمانداروں سے ہو تو توبہ کی شرائط اپنے گناہ پر نادم ہونا، پھر اللہ کی طرف رجوع اور توبہ استغفار کرنا اور آئندہ اس کام کو مطلقاً چھوڑ دینے کا عہد کرنا ہے۔ توبہ کی سب سے اہم شرط یہی ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے یہ کام چھوڑا جائے۔ اور کوئی شخص کسی دوسری وجہ سے کوئی گناہ کا کام چھوڑ دے تو اس پر توبہ کا اطلاق نہیں ہوگا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 25–26

32۔ یعنی جو عمل نیک ہیں وہ مقبول تو ہوتے ہی ہیں اور ان پر اجر ان کے استحقاق اصلی سے اور زیادہ ملتا رہتا ہے۔ (آیت) ” یقبل .... السیات “۔ چناچہ کوئی کافر اگر کفر سے توبہ کرلے تو اس کی وہ توبہ بھی قبول ہوجائے گی اور جو گناہ اس نے حالت کفر میں کئے ہیں وہ بھی سب معاف ہوجائیں گے۔ (آیت) ” ویعلم ماتفعلون “۔ اور اسی علم کل کا ایک مظہر یہ ہے کہ توبہ کا اخلاص وعدم اخلاص بھی اس سے مخفی نہیں رہتا۔ (آیت) ” ویعفوا عن السیات “۔ یہ گناہ کہیں تو توبہ کے واسطہ سے معاف ہوتے ہیں اور کہیں بلاواسطہ توبہ یوں ہی معاف ہوجاتے ہیں۔ تارۃ یعفوا بواسطۃ قبول التوبۃ وتارۃ یعفوا ابتداء من غیر توبۃ (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 20–29

آیت نمبر 20 تا 29 ترجمہ : جس کا مقصد اپنے عمل سے آخرت کی کھیتی ہو، یعنی آخرت کی کمائی ہو اور وہ ثواب ہے تو ہم اس کی کھیتی میں (یعنی) نیکیوں میں دس گنے تک (بلکہ) اور اس سے بھی زیادہ اضافہ کر کے ترقی دیں گے اور جو دنیا کی کھیتی کی طلب رکھتا ہو تو ہم اسے اس میں سے بلا اضافے کے بقدر نصیب عطا کریں گے، ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں بلکہ مکہ کے ان کافروں نے کچھ شرکاء تجویز کر رکھے ہیں اور وہ شیاطین ہیں کہ ان شرکاء نے ان کافروں کے لئے دین فاسد تجویز کر رکھا ہے، جس کی خدا نے اجازت نہیں دی (اور وہ دین فاسد) شرک اور انکار بعث ہے اور اگر فیصلے کے دن کا وعدہ نہ ہوچکا ہوتا یعنی پہلے سے فیصلہ نہ ہوچکا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وھو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہ ویعفو عن السیات ویعلم ما تفعلون اور وہ ایسا (رحیم) ہے کہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور تمام (گذشتہ) گناہ معاف کردیتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو ‘ اس (سب) کو جانتا ہے۔ عَنْ عِبَادِہٖ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یعنی اپنے اولیاء اور طاعت گذار بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ عرب کہتے ہیں : قبلت منہ الشیء میں نے اس سے وہ چیز لے لی اور قبلت عنہ الشیء میں نے وہ چیز اس سے الگ کردی۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ توبہ کے معنی ہیں دل سے معاصی کو ترک کرنے کا پکا ارادہ کرنا اور عملاً گناہ کو ترک کرنا اور دل سے طاعت کی پختہ نیت کرنا اور عملاً طاعت کرنا۔ سہل بن عبد اللہ نے کہا :…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 25–26

(25۔ 25) اور ان لوگوں کی مغفرت کرتا ہے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے اور اپنے فضل سے جنت میں ان کو ثواب و اعزاز میں ترقی دیتا ہے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنا دیدار نصیب فرماتا ہے اور ابوجہل وغیرہ کے لیے تو سخت عذاب ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) وھو الذی یقبل الثوبۃ عن عبادہ : پچھلی آیت میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو رسول اللہ ﷺ کو جھٹلاتے تھے اور کہتے تھے کہ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے، اب اپنی توبہ قبول کرنے کی صفت فرمئای کہ توبہ قبول کرنا اور گناہوں سے درگزر کرنا صرف اللہ تعالیٰ کی شان ہے (دیکھیے توبہ : 104) اور یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کیونکہ اگر وہ چاہے تو مجرم کے معافی ماگننے پر بھی اسے معاف نہ کرے۔ مقصود انھیں توبہ کی ترغیب دلانا اور کفر پر اصرار کے انجام بد سے ڈرانا ہے۔ کفر سے توبہ اسلامق بول کرنے سے ہوتی ہے اور گناہ سے توبہ میں تین چیزیں شامل ہیں، ایک پچھلے گناہ پر ندامت، دوسرا اسے ترک کردینا، تیسرا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب آیت قل لا اسئلکم علیہ اجرا نازل ہوئی کچھ لوگوں نے اپنے دلوں میں سوچا آپ ﷺ یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ اپنے بعد ہمیں اپنے قریبی رشتہ داروں کی اتباع پر برانگیختہ کررہے ہیں جبریل امین نے اس بارے میں نبی کریم ﷺ کو آگاہ کردیا کہ انہوں نے آپ ﷺ پر تہمت لگائی ہے تو یہ آیت ام یقولون افتری علی اللہ کذبا نازل ہوئی تو ان لوگوں نے عرض کی : یارسول اللہ ! ﷺ ہم یہ گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ سچے ہیں اور ہم توبہ کرتے ہیں۔ تو یہ آیت نازل ہوئی (1) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ اپنے اولیاء اور اہل اطاعت کی توبہ قبول فرماتا ہے ‘ آیت عام ہے (2) ۔ توبہ کے معنی اور اس کے احکام کے متعلق گفتگو گذر چکی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 23–26

5:۔ سعید بن منصور وابن سعد بن عبد بن حمید (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے دلائل میں شعبی (رح) سے روایت کیا کہ اکثر لوگ ہمارے پاس اس آیت (آیت ) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی “ کے بارے میں پوچھنے کیلئے آئے میں نے ابن عباس کو دیکھا کہ ہم آپ سے اس بارے میں پوچھتے ہیں تو ابن عباس ؓ نے لکھا کہ رسول اللہ ﷺ قریش میں نسب کے اعتبار سے درمیان میں تھے قریش کا کوئی خاندان ایسا نہیں تھا مگر اس کا آپ کی ذات سے والادت کا تعلق تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا (آیت ) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا “ آپ فرمادیجئے کہ میں تم سے اس پر کسی معاوضہ کا سوال نہیں کرتا ینی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَهُوَ [ اور وہ ] الَّذِيْ [ وہ ہے جو ] يَقْبَلُ التَّوْبَةَ [ قبول کرتا ہے توبہ کو ] عَنْ عِبَادِهٖ [ اپنے بندوں سے ] وَيَعْفُوْا [ اور وہ درگزر کرتا ہے ] عَنِ السَّـيِّاٰتِ [ برائیوں سے ] وَيَعْلَمُ [ اور وہ جانتا ہے ] مَا [ اس کو جو ] تَفْعَلُوْنَ [ تم لوگ کرتے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرماتا ہے اور تمہارے اعمال کو جانتا ہے، اپنی مشیت کے مطابق روزی نازل فرماتا ہے اور جب ناامید ہوجائیں، بارش برساتا ہے ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی صفات جلیلہ اور نعمت ہائے عظیمہ بیان فرمائی ہے، اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہوں کو معاف فرماتا ہے۔ دوم یہ فرمایا کہ تم جو بھی کچھ عمل کرتے ہو وہ اسے جانتا ہے (اسے سچی توبہ کا بھی علم ہے اور صرف زبانی توبہ کو بھی جانتا ہے) سوم یہ فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے اللہ تعالیٰ ان کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے (نیک اعمال میں یہ بھی داخل ہے کہ دعا کرنے والا حرام روزی سے بچتا ہو)…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–27

مذمت افتراء علی اللہ و محرومی بدنصیباں از قبول حق و کامیابی مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ام یقولون افتری ...... الی ....... خبیر بصیر “۔ ّ (ربط) ’ گذشتہ آیات میں طالبین دنیا اور طالبین آخرت کا ذکر تھا اور یہ کہ انبیاء (علیہم السلام) دعوت حق سے آخرت کا فکر پیدا کرنے کے لیے کیسی محنت کرتے ہیں، اور اخلاص وہمدردی کے جذبہ سے ان کی غرض اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتی کہ اللہ کے بندے حق اور ہدایت قبول کرکے نجاتوسعادت حاصل کرلیں، اب ان آیات میں ایسے معاندین و متکبرین کا ذکر ہے جو اپنے عناد وتکبر میں اس قدر غرق ہوتے ہیں کہ قبول حق تو درکنار وہ اللہ رب العزت پر افتراء بہتان پردازی سے بھی باز نہیں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

26:۔ ” وھو الذی یقبل “ یہ آیت پہلے دعوے سے متعلق ہے۔ وہ اپنے بندوں پر ایسا مہربان ہے کہ ان کی توبہ قبول فرماتا اور ان کے گناہوں سے درگذر کرتا ہے اور ان کے تمام اعمال و افعال کو جانتا ہے۔ وہی کارساز اور غیب داں ہے، اس لیے حاجات میں اسی کو پکارنا چاہئے۔ ” ویستجیب الذین امنوا الخ “ یہ بشارت دنیوی واخرویہ ہے۔ ایمان والے اللہ تعالیٰ سے جب دعاء مانگتے ہیں، تو وہ ان کی دعائیں قبول فرماتا اور محض اپنے فضل و احسان سے ان کے سوا و استحقاق سے زیادہ عطاء فرماتا ہے۔ ای ویجیب اللہ تعالیٰ الذین امنوا اذا دعوا وحاصلہ یجیب دعاءھم۔ (ویزیدھم) علی ما سالوا واستحقوا (من فضلہ) الواسع جل شانہ (روح ج 25 ص 37) ۔ ”…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 24–29

ربط آیات پہلے توحید ، معاد اور جزائے عمل کا ذکر ہوا ، اور نیک و بد آدمیوں کا انجام بیان کیا گیا ۔ پھر گزشتہ آیت میں رسالت کا ذکر تھا ۔ اللہ نے حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا لا اسئلکم علیہ اجرا ًمیں اس تبلیغ حق پر تم سے کوئی معاوضہ تو طلب نہیں کرتا ، میں تو صرف قرابتداری کا لحاظ چاہتا ہوں کہ کم از کم مجھے ایذاء تو نہ پہنچائو ۔ اب آج کی پہلی آیت بھی رسالت ہی کے تسلسل میں ہے۔ پھر آگے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں اور جزائے عمل کا تذکرہ ہے۔ افترا علی اللہ کی نفی ارشاد ہوتا ہے امر یقولون افتری علی اللہ کذبا ً کیا یہ منکرین اور مکذبین کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی نے خدا تعالیٰ پر افتراء باندھا ہے ؟ یعنی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَہُوَالَّذِيْ يَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَيَعْفُوْا عَنِ السَّـيِّاٰتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ۝ 25 ۙ قبل ( تقبل) قَبُولُ الشیء علی وجه يقتضي ثوابا کا لهديّة ونحوها . قال تعالی: أُولئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ ما عَمِلُوا[ الأحقاف/ 16] ، وقوله : إِنَّما يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ [ المائدة/ 27] ، تنبيه أن ليس كل عبادة مُتَقَبَّلَةً ، بل إنّما يتقبّل إذا کان علی وجه مخصوص . قال تعالی: إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ ما فِي بَطْنِي مُحَرَّراً فَتَقَبَّلْ مِنِّي [ آل عمران/ 35] . وقیل للکفالة : قُبَالَةٌ فإنّ الکفالة هي أوكد تَقَبُّلٍ ، وقوله : فَتَقَبَّلْ مِنِّي…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 24–28

ترکیب : ام بمعنی بل فان یشاء اللہ خذلانک شرط یختم جو ابہ ولذاصارالفعل مخبروما، ویمح اللہ جملۃ مستانفۃ مقررۃ لماقبلھامن نفی الافتراء غیر داخلۃ الجزاء لقبل التوابۃ مفعول اول عن عبادہ مفعول ثان لان المقبول یعدی الی مفعول ثان بمن وعن لتضمۃ معنی الاخذوالانابۃ ویستجیب الذین مفعول فیستجیب بمعنی یجیب وقیل حذف اللام کمافی قولہ و اذا کالو ھم اے کالو الھم وقیل الذین فاعل یستجیب ای ینقادون تفسیر : اس کے بعد بھی کہ آپ کسی سے اس تبلیغ کی اجرت نہیں مانگتے شبہ باقی رہنا یہ گمان کرنا ہے کہ آپ اپنی طرف سے بنا کر کہتے ہیں اللہ نے وحی نہیں کی اس لیے اس بدگمانی کو دفع کرتا ہے فقال ام یقولون افتری الخ اور یہ بھی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 25–26

وَھُوَالَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَیَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَیَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ ۔ وَیَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَیَزِیْدُھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ ط وَالْکٰفِرُوْنَ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ۔ (الشوری : 25، 26) (اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور برائیوں سے درگزر کرتا ہے، اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ وہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کی دعا قبول کرتا اور اپنے فضل سے ان کو اور زیادہ دیتا ہے، اور جو منکر ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے۔ ) توبہ اور اصلاح کی ترغیب گزشتہ آیت میں کفار کو سرزنش کرنے کے بعد پیش نظر آیت کریمہ میں توبہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 25–26

فہم القرآن ربط کلام : اسلام کے مخالفین کو تو بہ کرنے کی ترغیب۔ اہل مکہ کے الزام کی تردید کرنے اور قرآن مجید کو ہر قسم کی دست برد سے محفوظ ثابت کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر اہل مکہ کو ترغیب دی گئی ہے کہ اے مکہ والو ! نبی کریم ﷺ پر الزام لگانے سے باز آجاؤ اور اپنے رب کے حضور سچی توبہ کرو اور یقین کرو کہ تمہارا رب توبہ قبول کرنے اور گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔ جو لوگ ایمان لائے اور صالح اعمال کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی دعاؤں کو قبول کرنے کے ساتھ اپنے فضل سے بہت کچھ عطا فرماتا ہے۔ جو کافر ہیں ان کے لیے شدید عذاب وگا۔ پوری طرح جان لو ! جو کچھ تم کرتے ہو اسے اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ ان آیات میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

25: وَھُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ (اور وہ ایسا ہے کہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے) عرب کہتے ہیں قبلت منہ الشیٔ جبکہ وہ اس سے لے اور سب سے پہلے لے۔ کہتے ہیں : قبلتہ عنہ یعنی میں نے اس سے اعراض کیا اور جدائی اختیار کی۔ التوبۃؔ برائی اور خلل واجب سے ان پر اظہار ندامت کرتے ہوے لوٹنا اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کرنا، اور اگر کسی بندے کا حق ہو تو اس کے طریقے پر پڑتال میں بھی کوئی حرج نہیں۔ قولِ علی ؓ : التوبہ کا لفظ چھ معنوں میں استعمال ہوتا ہے : فرائض کے ضائع کرنے پر پشیمانی۔ فرائض کو دوبارہ ادا کرنا۔ حقوق لوٹا کر دے دینا۔ جس طرح نفس کو گناہوں میں گھلایا ہو اسی طرح نفس کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 24۔ ، ام یقولون، بلکہ وہ یعنی کفار مکہ کہتے ہیں۔ ، افتری علی اللہ کذبافان یشا اللہ یختم علی قلبک، مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ہم کے دل کو صبر سے باندھ دیتے ہیں تاکہ ان کی تکلیفیں آپ پر گراں نہ ہوں۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی آپ کے دل پر مہرلگادیں گے تو آپ کو قرآن اور جو کچھ آپ کو دیا ہے وہ بھلادیتے ۔ پس ان کو خبردی کہ اگر وہ اللہ پر جھوٹ گھڑلیتا تو اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ویسا کرتے جس کی خبر اس آیت میں دی ہے۔ پھر ابتداء کی اور فرمایا ، ویمح اللہ الباطل، کسائی (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت میں تقدیم و تاخیر ہے۔ ، تقدیر عبارت یوں ہے، واللہ بمحوا الباطل، پس یہ محل رفع میں ہے لیکن اس سے واؤ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 24–29

24۔ 29۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ محمد رسول اللہ ﷺ قرآن کی آیتیں خود بنا لیتے ہیں اور یہ مشہور کرتے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے مشرکین کی اس بات کا ایک جواب تو سورة بقر میں گزر چکا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ قرآن ان پڑھ رسول پر اترا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ ان پڑھ شخص تو درکنار کوئی پڑھا ہوا آدمی بھی بغیر آسمانی کتابوں کی مدد کے ایسی باتیں نہیں بتاسکتا اس سے ہر ایک سمجھ دار آدمی سمجھ سکتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ اسی بات کا یہاں یہ جواب دیا ہے کہ جھوٹ اللہ کو بہت ناپسند ہے۔ اسی واسطے قرآن کے مخالف لوگ قرآن کے مقابلہ میں جو جھوٹی باتیں کہتے ہیں ان کو دن بدن اللہ تعالیٰ مٹاتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 24–25

آیت 24 کیا رسول ﷺ کو جھٹلانے والے یہ لوگ اپنی جسارت کذب بیانی کی بنا پر کہتے ہیں : (افتری علی اللہ کذباً ) ” اس (رسول) نے اللہ پر جھوٹ باندھ لیا ہے ؟ “ پس انہوں نے آپ پر بدترین اور قبیح ترین بہتان لگایا، وہ یہ کہ آپ نے نبوت کا دعویٰ کر کے اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے جبکہ آپ اس سے بری ہیں، حالانکہ وہ آپ کی صداقت اور امانت کو خوب جانت یہیں، وہ اس صریح جھوٹ کی کیوں کر جرأت کر رہے ہیں ؟ بلکہ اس ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں جرح و قدح ہے کہ اس نے آپ کے لئے اس عظیم دعوت کو ممکن بنایا جو ان کے زعم کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 23–37

محبت برائے قرابت قول باری ہے (قل لا اسئلکو علیہ اجر ا الا المودۃ فی القربی۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں طلب کرتا، ہاں رشتہ داری کی محبت ہو) حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد، قتادہ ضحاک اور سدی کا قول ہے کہ ” مگر یہ کہ تم مجھ سے اس بنا پر محبت رکھو کہ تمہارے ساتھ میری رشتہ داری اور قرابت ہے۔ “ ان حضرات کا قول ہے کہ قریش کے تمام خاندانوں اور حضور ﷺ کے درمیان قرابت تھی۔ علی بن الحسین اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” مگر یہ کہ تم میرے قرابت داروں سے محبت رکھو۔ “ حسن کا قول ہے۔” مگر یہ کہ عمل صالح کے ذریعے تم اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی دوستی حاصل کرو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

64 توبہ اور اصلاح احوال کی ترغیب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ توبہ قبول کرتا ہے اپنے بندوں سے اور درگزر فرماتا ہے ان کی برائیوں سے "۔ لہٰذا کسی کے لئے بھی اس کی بارگہ سے مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ بلکہ سچے دل اور صحیح طریقے سے اس کی طرف انابت و رجوع کی ضرورت ہے ۔ اللّٰہم وَفّقِنْا لما تُحِبُّ وَتَرضٰی من القول والعمل ۔ سو اس ارشاد میں منکرین و مکذبین کیلئے توبہ اور اصلاح کی ترغیب و تلقین ہے کہ اگر تم چاہو تو توبہ اور رجوع الی اللہ کے ذریعے اب بھی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کے عذاب سے بچا سکتے ہو کہ وہ بڑا ہی مہربان اور اپنے بندوں کے گناہوں سے درگزر فرمانے والا ہے۔ اس کے یہاں کسی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 20–26

اللہ کے قوانین اٹل ہیں تشریح : سب سے پہلے تو یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ یہ زندگی ہر انسان کے لیے ایک کھیتی کی طرح ہے۔ یعنی دنیا کے کام کرنا فرض ہے مگر ان کے ساتھ ساتھ اللہ کو یاد کرنا اور ہر دم اللہ سے دنیا وآخرت کی بھلائی مانگنا بھی فرض ہے۔ تو گویا ایک پنتھ دو کاج ہوگئے۔ یوں اللہ تعالیٰ دنیا کے کاموں میں بھی برکت اور بھلائی پیدا کرتا ہے اور آخرت میں بھی بھلائی اور برکت عطا کرتا ہے جو دنیا میں گم ہو کر اسے بھول جاتے ہیں ان کو معلوم ہونا چاہے کہ اس طرح وہ اپنا بہت بڑا نقصان کرلیتے ہیں۔ اللہ کا نظام کائنات ایسا عجیب و غریب ہے اور اس کی نظر اس قدر وسیع اور مضبوط ہے کہ وہ نہ صرف ظاہری اعمال کو ہی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 20–29

آیات 20 تا 29۔ جو کوئی اپنی محنت کا پھل آخرت میں چاہتا ہے تو اس کے انعامات اور اجر اور زیادہ بڑھادیے جاتے ہیں اور وہ اپنی طلب سے بھی زیادہ پاتا ہے اور جو شخص صرف حصول دنیا کے لیے کوشش کرتا ہے اسے دنیا میں سے کچھ نہ کچھ عطا کردیا جاتا ہے یعنی ضروری نہیں کہ جس انداز یاجتنی مقدار میں اس کی خواہش ہے اسے مل جائے بلکہ یہ اللہ کی مرضی کہ اس کا نصیبہ کیا مقرر کیا ہے وہی ملتا ہے جبکہ یہ سب آخرت کے طلب گار کو بھی ملتا ہے۔ مگر آخرت چھوڑ کر صرف دنیا کے طالب کی خواہش دنیا میں پوری نہیں ہوتی اور آخرت سے محروم رہ جاتا ہے کہ آخرت پر ایمان ہی نہ تھا لہذا آخرت میں کچھ نہیں پاتاگویا مومن دنیا کا کام بھی طلب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یعنی بندوں کے تمام اعمال کا علم رکھنے کے باوجود وہ ان کی توبہ قبول کرتا اور ان کی برائیاں معاف فرماتا ہے بشرطیکہ وہ صدق دل سے اس کی طرف رجوع کریں۔ اس آیت میں توبہ کی ترغیب ہے اور ایک حدیث میں بھی ہے۔ جب بندہ اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی بنسبت کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جس کا اونٹ کسی جنگل بیابان میں گم ہوگیا۔ اس اونٹ کی پیٹھ پر اسکا کھانے پینے کا سامان بھی تھا، جب وہ مایوس ہو کر مرنے کو ایک درخت کے نیچے لیٹ گیا تو یکایک کیا دیکھتا ہے کہ اس کی سواری اس کے سامنے کھڑی ہے وہ فرط مسرت سے اللہ تعالیٰ کو یوں خطاب کرتا ہے، اے اللہ تو میرا بندہ اور میں تیرا رب ہوں۔ ( ابن…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 24–25

(42:24) ام : ام منقطعہ بمعنی بل : ام یقولون۔ ای بل یقول کفار مکۃ (الخازن) (کفار مکہ معاوضہ رسالت تو داد نہیں کرتے) بلکہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ :۔ (افتری علی اللہ کذبا) ۔ افتری : ماضی واھد مذکر غائب افتراء (افتعال) مصدر۔ اس نے جھوٹ باندھا۔ اس نے بہتان تراشا۔ر ی مادہ الفری (باب نصر) کے معنی چمڑے کو سینے اور درست کرنے کے لئے اسے کاٹنے کے ہیں ۔ افراء (افعال) بمعنی خراب کرنے کے لئے کاٹنے کے ہیں۔ اور باب افتعال سے ادتراء کا لفظ اصلاح اور فساد ، دونوں کے لئے آتا ہے۔ لیکن اس کا زیادہ تر استعمال فساد ہی کے معنوں میں آتا ہے۔ اسی لئے قرآن مجید میں جھوٹ، شرک، ظلم کے موقعوں پر استعمال کیا گیا ہے۔ چناچہ قرآن…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 24–29

لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 29 : افتری (اس نے گھڑ لیا ، بنا لیا) یختم (وہ مہر لگا دیتا ہے) یمح (وہ مٹا ڈالتا ہے) السیئات (خطائیں ، برائیاں) بسط (اس نے کھول دیا) بغوا ( انہوں نے سر کشی ، نافرمانی کی) الغیث ( بارش) قنطوا (وہ مایوس ہوگئے) ینشرا (وہ پھیلاتا ہے) بت (اس نے پھیلا دیا ، اس نے بکھیر دیا) تشریح : آیت نمبر 24 تا 29 : قرآن کریم کی عظیم تعلیم نبی کریم ﷺ کی اعلیٰ سیرت و کردار اور اس کے اثرات کو مشرکین اور کفاراچھی طرح جانتے اور سمجھتے تھے مگر محض اپنے دلی بغض ، حسد ، ضد اور ہٹ دھرمی ان کو مخالفت کے طوفان کی طرف دھکیل کرلے جاتی تھی وہ اپنی شرمندگی کو سمجھتے تھے مگر محض اپنے دلی بغض ، حسد ،…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 25–27

(ف 1) اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کو انجام خوب معلوم ہے اس سے وہ ہر ایک کی مصلحت کو دیکھ کر رزق کا انتظام فرماتا ہے امیر و غریب سب یکساں ہوجائیں تو کوئی کسی کی نہ سنے اور دنیا کے انتظام میں فتور پڑجائے، اب جس طرح دنیا کا کام چل رہا ہے کہ امیر لوگوں کو غریبوں کے کام کام سے مدد ملتی ہے اور غریبوں کو امیروں کے روپیہ پیسہ سے ، امیروں اور غریبوں کے یکساں ہوجانے میں یہ انتظام قائم نہیں رہ سکتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 25–30

[19] یعنی جیسے نعمتیں ایک خاص اندازے اور خاص حالات کی رعایت سے دی جاتی ہیں، مصائب کا نزول بھی خاص اسباب و ضوابط کے تحت ہوتا ہے۔ مثلاً انسان کو جو کوئی سختی یا مصیبت آئے اس کا سبب قریب یا بعید انسان کے اپنے بعض اعمال و افعال ہوتے ہیں گویا دنیا کی ہر مصیبت لوگوں کے بعض اعمال ماضیہ کا نتیجہ ہے اور مستقبل میں ان کے لئے تنبیہہ اور امتحان کا موقع بہم پہنچاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 24–26

ف 2: یختم علی قلبک ۔ دو معنے ہیں ایک تو یہ کہ آپ سورت اللہ پر افتراء کرسکتے ہیں ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ آپ سے بصیرت چھین لے ۔ اور آپ کے قلب پر مہر کردے ۔ یعنی جس طرح ناممکن ہے ۔ اس رطح یہ ناممکن ہے ۔ کہ آپ غلط ملط باتیں اللہ کی طرف منسوب کریں ۔ دوسرے یہ کہ یہ لوگ تو اس رطح کے الزامات سے آپ کو دل برداشتہ کردیتے ہیں ۔ مگر اللہ چاہے گا تو آپ کے دل پر تسکین ۔ طمانیت می اوز ثبت کردیگا ۔ تاکہ ان اس طرز عمل کا اثر آپ تک نہ پہنچے اور آپ استقلال و عزیمت کے ساتھ اللہ کے پیغام کو دوسروں تک پہنچاتے رہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(25) اور وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور وہ تمام گناہوں کو معاف کردیتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس سب کا جانتا ہے۔ یعنی جو کفر سے توبہ کرکے اسلام قبول کرلیتا ہے وہ پہلے تمام گناہوں کو معاف کردیتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اس کو جانتا ہے یعنی جس نیت سے توبہ کرو گے اس کو بھی بخوبی جانتا ہے کہ صدق دلی سے توبہ کرکے اسلام میں داخل ہوئے یا نفاق دل میں رکھ کر توبہ کا اظہار کیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی نبی پیغام پہنچاتا ہے اور بندوں کو سب معاملت اپنے رب سے ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 25–26

ف 4۔ پس اگر کوئی کافر کفر سے توبہ کرلے اور اسلام لے آوے تو ہم اس کا ایمان قبول کرلیں گے۔ 5۔ پس اس کو یہ بھی خبر ہے کہ توبہ خالص کی ہے یا غیر خالص کی ہے، تو تم کو توبہ خالص کی کرنی چاہئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ نے اپنے قانون کے مطابق ان کو ڈھیل دے رکھی ہے اگر وہ توبہ کرنا چاہیں تو کر لیں 25 ؎ مخالفین جب آپ ﷺ پر اس طرح کے الزامات دے رہے تھے ان میں بلاشبہ ایسے لوگ بھی تھے جو بعد میں ایمان لانے والے تھے اس لیے اس بذات الصدور ذات نے ان کے ایمان لانے کے لیے خود ہی گنجائش پیدا کردی کہ یہ گنجائش پہلے ہی پیدا کی جا چکی تھی اس وقت اس کے اعلان کا وقت تھا اس لیے بروقت اس کا اعلان کردیا کہ اگر وہ سب یا ان میں سے کوئی بھی جو سچے دل سے توبہ کرنا چاہے وہ توبہ کر کے اپنے کیے اور کہے پر خود ربر پھیر دے یا لکیر لگا دے تو یقینا اس کو معاف کردیا جائے گا کیونکہ اللہ ربِّ کریم سب کا اللہ اور رب ہے اور بندے خواہ کتنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 25–26

The deniers and opponents have been advised in the second verse that there is still time to give up and renounce their disbelief and ` kufr'. Allah is very merciful and Most Beneficent; He accepts the repentance of those who truly repent, and forgives their sins. The Reality of Taubah' (Repentance) The literal meaning of ` taubah' is to return and turn to; in religious terminology, giving up and renunciation of any sin is called ` taubah'. There are three conditions for its being proper and genuine. One is to give up, immediately, the sin one is involved in. The second is to repent for the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

47 Calling the people's attention to repentance immediately after the preceding verse by itself gives the meaning, as if to say: "O wicked people: Why are you making yourselves still more worthy of God's punishment by falsely accusing the true Prophet? If you desist from your misdeeds even now, and offer true repentance Allah will forgive you." Repentance means that one should feel remorse for the evil one has done, and should refrAln and desist from it in the future. Moreover, it is also an inevitable demand of true repentance that one should try one's utmost to compensate for the evil one…

Read the full tafseer →