Explained with ayahs 25–28
توبہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ
اللہ تعالیٰ اپنا احسان اور اپنا کرم بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے غلاموں پر اس قدر مہربان ہے کہ بد سے بد گنہگار بھی جب اپنی بد کرداری سے باز آئے اور خلوص کے ساتھ اس کے سامنے جھکے اور سچے دل سے توبہ کرے تو وہ اپنے رحم و کرم سے اس کی پردہ پوشی کرتا ہے اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اپنا فضل اس کے شامل حال کردیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا01100) 4۔ النسآء :110) ، جو شخص بد عملی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ اللہ کو غفور و رحیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
سورة الشُّوْرٰی 48
جس سلسلہ کلام میں یہ بات ارشاد ہوئی ہے اسے نظر میں رکھا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہاں دراصل اللہ تعالیٰ اس بنیادی سبب کی طرف اشارہ فرما رہا ہے جو کفار مکہ کی سرکشی میں کام کر رہا تھا۔ اگرچہ روم و ایران کے مقابلہ میں ان کی کوئی ہستی نہ تھی اور گرد و پیش کی قوموں میں وہ ایک پس ماندہ قوم کے ایک تجارت پیشہ قبیلے، یا بالفاظ دیگر، بنجاروں سے زیادہ حیثیت نہ رکھتے تھے، مگر اپنی اس ذرا سی دنیا میں ان کو دوسرے عربوں کی بہ نسبت جو خوشحالی اور بڑائی نصیب تھی اس نے ان کو اتنا مغرور و متکبر بنادیا تھا کہ وہ اللہ کے نبی کی بات پر کان دھرنے کے لیے کسی طرح تیار نہ تھے، اور ان کے سرداران…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
دوسری آیت میں منکرین و معاندین کو نصیحت کی گئی ہے کہ اب بھی کفر و انکار سے باز آجائیں اور توبہ کرلیں۔ اللہ تعالیٰ بڑا رحیم و کریم ہے، توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرما لیتا ہے اور ان کی خطاؤں کو بخش دیتا ہے۔
توبہ کی حقیقت
توبہ کے لفظی معنی لوٹنے اور رجوع کرنے کے ہیں، اور شرعی اصطلاح میں کسی گناہ سے باز آنے کو توبہ کہتے ہیں۔ اور اس کے صحیح و معتبر ہونے کے لئے تین شرائط ہیں۔
ایک یہ کہ جس گناہ میں فی الحال مبتلا ہے اس کو فوراً ترک کر دے، دوسرے یہ کہ ماضی میں جو گناہ ہوا اس پر نادم ہو، اور تیسرے یہ کہ آئندہ اسے ترک کرنے کا پختہ عزم کرلے اور کوئی شرعی فریضہ چھوڑا ہوا ہے تو اسے ادا یا قضا کرنے میں…
Read the full tafseer →ویستجیب الذین امنوا و عملوا الصلحت ویزید ھم من فضلہ ط والکفرون لھم عذاب شدید (26)
یہ اہل ایمان کی روش اور ان کے انجام کو انکے سامنے رکھا ہے کہ جس طرح انہوں نے اس دعوت پر لبیک کہنے کی توفیق پائی اور اس کے صلہ میں ان پر دنیا و آخرت میں مزید افضال ہوں گے اسی طرح یہ لوگ بھی چاہیں تو ان افضال کے سزا دار بن سکتے ہیں ورنہ یاد رکھیں کہ کفار کے لئے خدا کے ہاں سخت عذاب ہے الذین امنوا یہاں میرے نزدیک مفعول کے محل میں نہیں بلکہ فاعل کے محل میں ہے۔ دوسری جگہ فرمایا : انما یستجیب الذین یسمعون ط والموتی یبعثھم اللہ (الانعام :36) (قبول تو وہی کریں گے جو بات گوش دل سے سنتے ہیں۔ رہے مردہ دل تو اللہ ان کو…
Read the full tafseer →26۔ 1 یعنی ان کی دعائیں سنتا ہے اور ان کی خواہشیں اور آرزوئیں پوری فرماتا ہے۔ بشرطیکہ دعا کے آداب و شرائط کا بھی پورا اہتمام کیا گیا ہو، اور حدیث میں آتا ہے ' اللہ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی سواری مع کھانے پینے کے سامان کے، صحرا، بیابان میں گم ہوجائے اور وہ ناامید ہو کر کسی درخت کے نیچے لیٹ جائے کہ اچانک اسے اپنی سواری مل جائے اور فرط مسرت میں اس کے منہ سے نکل جائے، اے اللہ ! تو میرا بندہ اور میں تیرا رب یعنی شدت فرحت میں غلطی کر جائے (صحیح مسلم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–39
7: یعنی اگر (معاذاللہ) آنحضرت ﷺ اپنی طرف سے گھڑ کر یہ قرآن بنا رہے ہوتے تو اللہ تعالیٰ آپ کے دل پر مہر لگا دیتا ، جس کی وجہ سے آپ کو ایسا کلام پیش کرنے پر قدرت ہی نہ ہوتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نبوت کا جھوٹا دعوی کرے تو اس کی بات کو چلنے نہیں دیتے، اور باطل کو مٹا دیتے ہیں، اس کے برعکس سچے نبی کے دعوے کو اپنے کلمات کے ذریعے ثابت فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
درس نمبر 230 ایک نظر میں
سورت کا یہ دوسرا حصہ انفس ، و آفاق میں موجود دلائل ایمان کے بیان پر مشتمل ہے اور اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ کی رحمت کے آثار کس طرح قدم قدم پر موجود ہیں۔ اور لوگوں کو گھیرے ہوئے ہیں۔ ان آثار کا تعلق ان کی زندگی اور ان کی معیشت کے ساتھ ہے۔ اور پھر اس میں اہل ایمان کی صفات بیان کی گئیں کہ وہ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں کیا کیا امتیازی خصوصیات رکھتے ہیں جبکہ پہلے حصے میں موضوع سخن زیادہ تر وحی و رسالت تھا۔ اس سبق کے آخر میں وحی الٰہی کی شکلیں بیان کی گئی ہیں۔ اس سورت کے دونوں حصوں میں ربط ظاہر ہے اللہ کے دلائل ایمان کا مقصد بھی یہی ہے کہ لوگ وحی و رسالت کے ساتھ منسلک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
6 یعنی نبی خدا کا پیغام پہنچاتا ہے، تم جھوٹ سمجھو یا سچ، اس کے بعد بندوں کا سارا معاملہ خدا سے ہر ایک بندہ سے دنیا اور آخرت میں اس کے حال و استعداد کے موافق معاملہ ہوتا ہے۔ توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور باوجود سب کچھ جاننے کے کتنی برائیوں سے درگزر کرتا ہے جو ایماندار اور نیک بندے اس کی بات سنتے ہیں وہ ان کی دعائیں سنتا اور ان کی طاعات کو شرف قبولیت بخشتا ہے اور جس قدر اجر وثواب کے وہ عام ضابطہ سے مستحق ہوں اپنے فضل سے اس سے کہیں زائد مرحمت فرماتا ہے۔ رہ گئے منکر اور پکے کافر جن کو مرتے دم تک رجوع و توبہ کی توفیق میسر نہیں ہوتی ان کا انجام اگلے جملہ میں مذکور ہے۔
Read the full tafseer →آیت 26 { وَیَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَیَزِیْدُہُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ } ”اور وہ دعائیں قبول کرتا ہے ان لوگوں کی جو ایمان لائیں اور نیک اعمال کریں اور اپنے فضل سے انہیں ایمان واعمالِ صالحہ میں ترقی بھی دیتا ہے۔“
{ وَالْکٰفِرُوْنَ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ} ”اور کافروں کے لیے بہت سخت عذاب ہے۔“
Read the full tafseer →40 دعا کی قبولیت کے لئے نیک اعمال کی شرط :۔ دعا کی قبولیت کے لیے نیک اعمال کی شرط لگائی۔ ان نیک اعمال میں کسب حلال بہت بڑا نیک عمل ہے۔ کیونکہ اگر انسان کی کمائی حلال نہ ہوگی تو اس کی دعا قبول نہ ہوگی جیسا کہ آپ نے فرمایا : ایک شخص دور سے آتا ہے پریشان حال اور پراگندہ بال ہے، اور اگر کعبہ کا غلاف پکڑ کر کہتا ہے کہ یارب، یارب میری دعا قبول فرما۔ مگر اس کی دعا کیسے قبول ہوسکتی ہے جبکہ اس کا کھانا حرام پیناد حرام اور گوشت پوست بھی حرام کمائی سے بنا ہو (مسلم۔ کتاب الزکٰوۃ، باب بیان ان اسم الصدقۃ یقع علی کل نوع من المعروف)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
32۔ یعنی جو عمل نیک ہیں وہ مقبول تو ہوتے ہی ہیں اور ان پر اجر ان کے استحقاق اصلی سے اور زیادہ ملتا رہتا ہے۔ (آیت) ” یقبل .... السیات “۔ چناچہ کوئی کافر اگر کفر سے توبہ کرلے تو اس کی وہ توبہ بھی قبول ہوجائے گی اور جو گناہ اس نے حالت کفر میں کئے ہیں وہ بھی سب معاف ہوجائیں گے۔ (آیت) ” ویعلم ماتفعلون “۔ اور اسی علم کل کا ایک مظہر یہ ہے کہ توبہ کا اخلاص وعدم اخلاص بھی اس سے مخفی نہیں رہتا۔ (آیت) ” ویعفوا عن السیات “۔ یہ گناہ کہیں تو توبہ کے واسطہ سے معاف ہوتے ہیں اور کہیں بلاواسطہ توبہ یوں ہی معاف ہوجاتے ہیں۔ تارۃ یعفوا بواسطۃ قبول التوبۃ وتارۃ یعفوا ابتداء من غیر توبۃ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
آیت نمبر 20 تا 29
ترجمہ : جس کا مقصد اپنے عمل سے آخرت کی کھیتی ہو، یعنی آخرت کی کمائی ہو اور وہ ثواب ہے تو ہم اس کی کھیتی میں (یعنی) نیکیوں میں دس گنے تک (بلکہ) اور اس سے بھی زیادہ اضافہ کر کے ترقی دیں گے اور جو دنیا کی کھیتی کی طلب رکھتا ہو تو ہم اسے اس میں سے بلا اضافے کے بقدر نصیب عطا کریں گے، ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں بلکہ مکہ کے ان کافروں نے کچھ شرکاء تجویز کر رکھے ہیں اور وہ شیاطین ہیں کہ ان شرکاء نے ان کافروں کے لئے دین فاسد تجویز کر رکھا ہے، جس کی خدا نے اجازت نہیں دی (اور وہ دین فاسد) شرک اور انکار بعث ہے اور اگر فیصلے کے دن کا وعدہ نہ ہوچکا ہوتا یعنی پہلے سے فیصلہ نہ ہوچکا…
Read the full tafseer →ویستجیب الذین امنوا وعملوا الصلحت ویزیدھم من فضلہ والکفرون لھم عذاب شدید
اور ان لوگوں کی (عبادت یا دعا) قبول کرتا ہے جو ایمان لائے اور نیک کام کئے اور ان کو اپنے فضل سے اور زیادہ (ثواب) دیتا ہے اور جو لوگ کفر کر رہے ہیں ‘ ان کیلئے سخت عذاب ہے۔
وَیَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یعنی اللہ نیکوکار ایمان داروں کی دعا قبول کرتا ہے۔ الّذین سے پہلے لام محذوف ہے ‘ اصل میں لِلّذین تھا جیسے آیت وَاِذَا کَالُوْھُمْ میں محذوف ہے ‘ اصل میں وَاِذَا کَالُوْالَھُمْ تھا۔
بروایت عطاء ‘ حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ یستجیب کا معنی ہے میثیب ‘ یعنی اللہ ثواب دیتا ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے : استجابت کا معنی ہے طاعت کا ثواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
(25۔ 25) اور ان لوگوں کی مغفرت کرتا ہے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے اور اپنے فضل سے جنت میں ان کو ثواب و اعزاز میں ترقی دیتا ہے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنا دیدار نصیب فرماتا ہے اور ابوجہل وغیرہ کے لیے تو سخت عذاب ہے۔
Read the full tafseer →(1) ویستجیب الذین امنوا و عملوا الصلحت : اجابت کا معنی قبول کرنا ہے اور استجابت میں ”سین“ مبالغے کے لئے ہے۔ یہ لفظ کسی حکم پر بہت جلد عمل کرنے یا کسی دعوت پر بہت جلد ی لبیک کہنے یا کسی دعا کو بہت جلدی قبول کرنے کیلئے آتا ہے۔ (ابن عاشور) یعنی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی دعا بہت جلد اور خوشی سے قبول فرماتا ہے جو ایمان اور عمل صالح سے متصف ہوتے ہیں۔ (دیکھیے بقرہ : 186، 218) ان معنوں میں کفار کی دعا قبول ہوتی ہی نہیں ، جیسا کہ فرمایا :(وما دعآء الکفرین الا فی ضلل) (الرعد : 13)”اور نہیں ہے کافروں کا پکارنا مگر سراسر بےسود۔“ ہاں ، رسی دراز کرنے کے لئے اور حجت تمام کرنے کے لئے کفار کی بھی دعائیں قبول…
Read the full tafseer →(آیت نمبر 26 )
الذین محل نصب میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ اس آدمی کی عبادت قبول فرماتا ہے جس نے دل کے اخلاص کے ساتھ عبادت کی ہو اور اپنے بدن کے ساتھ اطاعت کی ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں تو وہ ان کی عرضداشت کو قبول فرماتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ مومنوں کے حق میں ایک دوسرے کی دعا قبول فرماتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اجاب اور استجاب کا ایک معنی ہے۔ سورة بقرۃ میں یہ بحث گذر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اللہ تعالیٰ مومنوں کی ایک دوسرے کے حق میں شفاعت قبول فرماتا ہے ویزیدھم من فضلہ کا معنی ہے وہ ان کے بھائیوں کے حق میں سفارش قبول فرماتا ہے (3) ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
5:۔ سعید بن منصور وابن سعد بن عبد بن حمید (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے دلائل میں شعبی (رح) سے روایت کیا کہ اکثر لوگ ہمارے پاس اس آیت (آیت ) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی “ کے بارے میں پوچھنے کیلئے آئے میں نے ابن عباس کو دیکھا کہ ہم آپ سے اس بارے میں پوچھتے ہیں تو ابن عباس ؓ نے لکھا کہ رسول اللہ ﷺ قریش میں نسب کے اعتبار سے درمیان میں تھے قریش کا کوئی خاندان ایسا نہیں تھا مگر اس کا آپ کی ذات سے والادت کا تعلق تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا (آیت ) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا “ آپ فرمادیجئے کہ میں تم سے اس پر کسی معاوضہ کا سوال نہیں کرتا ینی…
Read the full tafseer →وَيَسْتَجِيْبُ [ اور وہ جواب دیتا (قبول کرتا ) ہے ] [الَّذِيْنَ : ان لوگوں کو جو ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ [ اور انہوں نے عمل کئے نیکیوں کے ] وَيَزِيْدُهُمْ [ اور وہ زیادہ دیتا ہے ان کو ] مِّنْ فَضْلِهٖ ۭ [ اپنے فضل سے ] وَالْكٰفِرُوْنَ [ اور انکار کرنے والے ] لَهُمْ [ ان کیلئے ] عَذَابٌ شَدِيْدٌ [ ایک شدید عذاب ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
آسمان و زمین اور چوپایوں کی تخلیق میں اللہ کی نشانیاں ہیں
ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی شان تخلیق اور شان ربوبیت بیان فرمائی ہے ارشاد فرمایا کہ انسانوں کا اور زمین کا پیدا فرمانا اور ان کے اندر جو جاندار چیزیں پیدا فرمائی اور پھیلائی ہیں ان کو وجود بخشنا یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی نشانیوں میں سے ہے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ یہ مخلوق جو آسمانوں میں اور زمین میں پھیلی ہوئی ہے کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ ان کو جمع کرنا کیسے ہوسکتا ہے ؟ ان کو جمع کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے اسے اس پر قدرت ہے کہ ان سب کو جمع فرما دے اور قیامت کے دن ایسا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
مذمت افتراء علی اللہ و محرومی بدنصیباں از قبول حق و کامیابی مومنین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ام یقولون افتری ...... الی ....... خبیر بصیر “۔
ّ (ربط) ’ گذشتہ آیات میں طالبین دنیا اور طالبین آخرت کا ذکر تھا اور یہ کہ انبیاء (علیہم السلام) دعوت حق سے آخرت کا فکر پیدا کرنے کے لیے کیسی محنت کرتے ہیں، اور اخلاص وہمدردی کے جذبہ سے ان کی غرض اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتی کہ اللہ کے بندے حق اور ہدایت قبول کرکے نجاتوسعادت حاصل کرلیں، اب ان آیات میں ایسے معاندین و متکبرین کا ذکر ہے جو اپنے عناد وتکبر میں اس قدر غرق ہوتے ہیں کہ قبول حق تو درکنار وہ اللہ رب العزت پر افتراء بہتان پردازی سے بھی باز نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
27:۔ ” ولو بسط اللہ “ یہ سوال مقدر کا جواب ہے جب اللہ تعالیٰ اس قدر مہربان ہے کہ بندوں کی توبہ قبول فرما لیتا ہے اور ان کو روزی بھی دیتا ہے، لیکن سب کی روزی فراخ اور وسیع کیوں نہیں کرتا، فرمایا اگر وہ سب کو وسعت اور فراخی سے دولت دیدے تو سب ہی حدود بندگی کو پھاند کر اللہ کے باغی ہوجائیں اور کبر و غرور میں مست ہو کر شر و فساد پھیلا دیں، لیکن اللہ تعالیٰ اپنی حکمت بالغہ سے ہر شخص کو جتنا چاہتا ہے دیتا ہے، وہ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے، اسے معلوم ہے کہ کون کس مقدار کا مستحق ہے۔ بقدر موصوف، ما یشاء صفت، اور صلہ میں ضمیر عائد محذوف ہے ای یشاءء ہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
ربط آیات
پہلے توحید ، معاد اور جزائے عمل کا ذکر ہوا ، اور نیک و بد آدمیوں کا انجام بیان کیا گیا ۔ پھر گزشتہ آیت میں رسالت کا ذکر تھا ۔ اللہ نے حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا لا اسئلکم علیہ اجرا ًمیں اس تبلیغ حق پر تم سے کوئی معاوضہ تو طلب نہیں کرتا ، میں تو صرف قرابتداری کا لحاظ چاہتا ہوں کہ کم از کم مجھے ایذاء تو نہ پہنچائو ۔ اب آج کی پہلی آیت بھی رسالت ہی کے تسلسل میں ہے۔ پھر آگے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں اور جزائے عمل کا تذکرہ ہے۔
افترا علی اللہ کی نفی
ارشاد ہوتا ہے امر یقولون افتری علی اللہ کذبا ً کیا یہ منکرین اور مکذبین کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی نے خدا تعالیٰ پر افتراء باندھا ہے ؟ یعنی…
Read the full tafseer →وَيَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَيَزِيْدُہُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ 0 ۭ وَالْكٰفِرُوْنَ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ 26
استجاب
والاستجابة قيل : هي الإجابة، وحقیقتها هي التحري للجواب والتهيؤ له، لکن عبّر به عن الإجابة لقلة انفکاکها منها، قال تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ [ الأنفال/ 24] ، وقال : ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ [ غافر/ 60] ، فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي [ البقرة/ 186] ، فَاسْتَجابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ [ آل عمران/ 195] ، وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ الشوری/ 26] وَالَّذِينَ اسْتَجابُوا لِرَبِّهِمْ [ الشوری/ 38] ، وقال تعالی: وَإِذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
ترکیب : ام بمعنی بل فان یشاء اللہ خذلانک شرط یختم جو ابہ ولذاصارالفعل مخبروما، ویمح اللہ جملۃ مستانفۃ مقررۃ لماقبلھامن نفی الافتراء غیر داخلۃ الجزاء لقبل التوابۃ مفعول اول عن عبادہ مفعول ثان لان المقبول یعدی الی مفعول ثان بمن وعن لتضمۃ معنی الاخذوالانابۃ ویستجیب الذین مفعول فیستجیب بمعنی یجیب وقیل حذف اللام کمافی قولہ و اذا کالو ھم اے کالو الھم وقیل الذین فاعل یستجیب ای ینقادون
تفسیر : اس کے بعد بھی کہ آپ کسی سے اس تبلیغ کی اجرت نہیں مانگتے شبہ باقی رہنا یہ گمان کرنا ہے کہ آپ اپنی طرف سے بنا کر کہتے ہیں اللہ نے وحی نہیں کی اس لیے اس بدگمانی کو دفع کرتا ہے فقال ام یقولون افتری الخ اور یہ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
وَھُوَالَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَیَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَیَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ ۔ وَیَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَیَزِیْدُھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ ط وَالْکٰفِرُوْنَ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ۔ (الشوری : 25، 26) (اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور برائیوں سے درگزر کرتا ہے، اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ وہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کی دعا قبول کرتا اور اپنے فضل سے ان کو اور زیادہ دیتا ہے، اور جو منکر ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے۔ )
توبہ اور اصلاح کی ترغیب
گزشتہ آیت میں کفار کو سرزنش کرنے کے بعد پیش نظر آیت کریمہ میں توبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
فہم القرآن
ربط کلام : اسلام کے مخالفین کو تو بہ کرنے کی ترغیب۔
اہل مکہ کے الزام کی تردید کرنے اور قرآن مجید کو ہر قسم کی دست برد سے محفوظ ثابت کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر اہل مکہ کو ترغیب دی گئی ہے کہ اے مکہ والو ! نبی کریم ﷺ پر الزام لگانے سے باز آجاؤ اور اپنے رب کے حضور سچی توبہ کرو اور یقین کرو کہ تمہارا رب توبہ قبول کرنے اور گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔ جو لوگ ایمان لائے اور صالح اعمال کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی دعاؤں کو قبول کرنے کے ساتھ اپنے فضل سے بہت کچھ عطا فرماتا ہے۔ جو کافر ہیں ان کے لیے شدید عذاب وگا۔ پوری طرح جان لو ! جو کچھ تم کرتے ہو اسے اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ ان آیات میں…
Read the full tafseer →26: وَیَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَیَزِیْدُ ھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ (اور ان لوگوں کی عبادت قبول کرتا ہے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اور ان کو اپنے فضل سے زیادہ دیتا ہے) یعنی جب وہ دعا کرتے ہیں تو وہ ان کی دعائوں کو قبول کرتا اور جو وہ طلب کریں وہ ان کو عنایت فرماتا ہے اور ان کے مطلوب سے ان کو بڑھا کردیتا ہے۔ استجاب اور اجاب کا ایک ہی معنی ہے ایسے مواقع پر سین فعل کی تاکید کیلئے لائی جاتی ہے جیسے تم کہو تعظم واستعظم۔ تقدیر کلام یہ ہے ویجیب اللّٰہ الذین امنوا (اللہ تعالیٰ ایمان والوں کی دعائوں کو قبول کرے گا) ۔
ایک قول :
یہ ہے کہ ویستجیب للذین اور قبول کرتا…
Read the full tafseer →توبہ کرنے والوں سے اللہ کتنا خوش ہوتا ہے
25، تو نازل ہوا، وھوالذین یقبل التوبۃ عن عبادہ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس سے اس کے اولیاء اور اہل طاعت مراد ہیں۔ کہا گیا ہے کہ توبہ نیت اور عمل سے گناہوں کو چھوڑنا اور نیت اور عمل سے عبادت پر متوجہ ہونا ہے۔ سہل بن عبد اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ توبہ مذموم احوال سے محمود احوال کی طرف منتقل ہونے کا نام ہے۔ ، ویعفوا عن السیئات ، جب وہ تو نہ کرلیں تو وہ ان سے مؤ اخذہ نہیں کرے گا۔ حارث بن سوید (رح) سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ کی خدمت میں ان کی عیادت کرنے گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
24۔ 29۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ محمد رسول اللہ ﷺ قرآن کی آیتیں خود بنا لیتے ہیں اور یہ مشہور کرتے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے مشرکین کی اس بات کا ایک جواب تو سورة بقر میں گزر چکا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ قرآن ان پڑھ رسول پر اترا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ ان پڑھ شخص تو درکنار کوئی پڑھا ہوا آدمی بھی بغیر آسمانی کتابوں کی مدد کے ایسی باتیں نہیں بتاسکتا اس سے ہر ایک سمجھ دار آدمی سمجھ سکتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ اسی بات کا یہاں یہ جواب دیا ہے کہ جھوٹ اللہ کو بہت ناپسند ہے۔ اسی واسطے قرآن کے مخالف لوگ قرآن کے مقابلہ میں جو جھوٹی باتیں کہتے ہیں ان کو دن بدن اللہ تعالیٰ مٹاتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
آیت 26
یہ اللہ تعالیٰ کے کمال فضل و کرم، اس کی وسعت جود اور اس کے لطف کامل کا بیان ہے کہ وہ اپنے بندوں سے صادر ہونے والی توبہ کو قبول کرتا ہے جب وہ گناہوں کو ترک کر کے ان پر نادم ہوتے ہیں اور ان گناہوں کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرلیتے ہیں۔ جب وہ اس توبہ میں خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کا قصد رکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس توبہ کو قبول کرتا ہے جبکہ یہ گناہ ہلاکت اور دنیاوی و آخروی عذاب کا سبب بن چکے تھے۔
(ویعفوا عن السیات) اللہ تعالیٰ برائیوں کو مٹا دیتا ہے، ان کے برے اثرات اور عقوبات کو بھی ختم کردیتا ہے جن کا تقاضا یہ برائیاں کرتی ہیں اور توبہ کرنے والا اللہ تعالیٰ کے نزدیک دوبارہ اچھے لوگوں کے زمرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–37
محبت برائے قرابت
قول باری ہے (قل لا اسئلکو علیہ اجر ا الا المودۃ فی القربی۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں طلب کرتا، ہاں رشتہ داری کی محبت ہو) حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد، قتادہ ضحاک اور سدی کا قول ہے کہ ” مگر یہ کہ تم مجھ سے اس بنا پر محبت رکھو کہ تمہارے ساتھ میری رشتہ داری اور قرابت ہے۔ “ ان حضرات کا قول ہے کہ قریش کے تمام خاندانوں اور حضور ﷺ کے درمیان قرابت تھی۔ علی بن الحسین اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” مگر یہ کہ تم میرے قرابت داروں سے محبت رکھو۔ “ حسن کا قول ہے۔” مگر یہ کہ عمل صالح کے ذریعے تم اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی دوستی حاصل کرو۔ “
Read the full tafseer →66 اہل ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کی خاص نوازش کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ قبول فرماتا ہے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اور انکو اپنے فضل سے مزید نوازتا ہے "۔ یعنی ان کے استحقاق سے کہیں بڑھ کر وہ ان کو اپنی رحمتوں اور عنایتوں سے نوازتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس ارشاد سے منکرین و مکذبین کے سامنے اہل ایمان کی روش اور انکا انجام رکھ دیا گیا ہے تاکہ اس سے ان کیلئے یہ امر واضح ہوجائے کہ جس طرح انہوں نے دعوت حق پر لبیک کہہ کر اپنے خالق ومالک کی ان عنایات سے سرفرازی حاصل کی اور وہ دنیا و آخرت میں سکے افضال سے سرفراز و فیضیاب ہوئے اسی طرح اگر یہ لوگ بھی چاہیں تو اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
اللہ کے قوانین اٹل ہیں
تشریح : سب سے پہلے تو یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ یہ زندگی ہر انسان کے لیے ایک کھیتی کی طرح ہے۔ یعنی دنیا کے کام کرنا فرض ہے مگر ان کے ساتھ ساتھ اللہ کو یاد کرنا اور ہر دم اللہ سے دنیا وآخرت کی بھلائی مانگنا بھی فرض ہے۔ تو گویا ایک پنتھ دو کاج ہوگئے۔ یوں اللہ تعالیٰ دنیا کے کاموں میں بھی برکت اور بھلائی پیدا کرتا ہے اور آخرت میں بھی بھلائی اور برکت عطا کرتا ہے جو دنیا میں گم ہو کر اسے بھول جاتے ہیں ان کو معلوم ہونا چاہے کہ اس طرح وہ اپنا بہت بڑا نقصان کرلیتے ہیں۔ اللہ کا نظام کائنات ایسا عجیب و غریب ہے اور اس کی نظر اس قدر وسیع اور مضبوط ہے کہ وہ نہ صرف ظاہری اعمال کو ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
آیات 20 تا 29۔
جو کوئی اپنی محنت کا پھل آخرت میں چاہتا ہے تو اس کے انعامات اور اجر اور زیادہ بڑھادیے جاتے ہیں اور وہ اپنی طلب سے بھی زیادہ پاتا ہے اور جو شخص صرف حصول دنیا کے لیے کوشش کرتا ہے اسے دنیا میں سے کچھ نہ کچھ عطا کردیا جاتا ہے یعنی ضروری نہیں کہ جس انداز یاجتنی مقدار میں اس کی خواہش ہے اسے مل جائے بلکہ یہ اللہ کی مرضی کہ اس کا نصیبہ کیا مقرر کیا ہے وہی ملتا ہے جبکہ یہ سب آخرت کے طلب گار کو بھی ملتا ہے۔ مگر آخرت چھوڑ کر صرف دنیا کے طالب کی خواہش دنیا میں پوری نہیں ہوتی اور آخرت سے محروم رہ جاتا ہے کہ آخرت پر ایمان ہی نہ تھا لہذا آخرت میں کچھ نہیں پاتاگویا مومن دنیا کا کام بھی طلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
ف 2 کیونکہ اس وقت کوئی کسی کا محتاج نہ ہوتا۔ اس لئے من مانی کا رروائی کرتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے کہ اس نے دنیا میں بندے کو دوسرے کا محتاج بنایا اور لوگ ایک دوسرے کے ساتھ باہم تعاون سے زندگی بسر کرتے ہیں۔ یا ” لبغوافی الارض “ کا مطلب یہ ہے کہ انسان مزید کی حرص کرتا اور بےصبری سے مال جمع کرتا ” لو کان لا بن ادم وادیان من ذھب لا تبغی ثالثا “ گو کسی کے پاس مال کی دو وادیاں بھری ہوں تو وہ تیسری کا خواہش مندہو۔ ( قرطبی)
3 اس لئے ہر شخص اپنی حد میں رہنے پر مجبور ہے۔ اب جو بعض بندے اپنی ضروریات سے زیادہ روزی پا کر زمین میں فساد برپا کرتے ہیں تو ان کا یہ فساد استثنائی قسم کا ہے عام فساد نہیں…
Read the full tafseer →(42:26) ویستجیب مضارع واحد مذکر غائب۔ استجابۃ (استفعال) مصدر۔ جوب مادہ۔ وہ قبول کرتا ہے ، وہ دعا قبول کرنا ہے۔ ای یستجیب دعاء الذین امنوا ۔۔ اور وہ دعا قبول کرتا ہے ان کی جو ایمان لائے اور نیک کام کئے۔
ویزیدھم : ای ویزید فی ثواب اعمالہم اور ان کے اعمال کے ثواب میں زیادتی کردیتا ہے۔ یعنی ان کی عبادت کے لحاظ سے اجر کئی گناہ دیتا ہے۔ یا اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ : ای اذا دعوہ استجاب دعاء ہم واعطاھم ما طلبوا وزادھم علی مطلوبھم جب وہ دعا کرتے ہیں ان کی دعا قبول کرتا ہے اور جو طلب کرتے ہیں وہ ان کو عطا کرتا ہے اور ان کے مطلوب سے بھی زیادہ دیتا ہے۔ عذاب شدید : موصوف و صفت ۔ شدید صفت مشبہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 29 : افتری (اس نے گھڑ لیا ، بنا لیا) یختم (وہ مہر لگا دیتا ہے) یمح (وہ مٹا ڈالتا ہے) السیئات (خطائیں ، برائیاں) بسط (اس نے کھول دیا) بغوا ( انہوں نے سر کشی ، نافرمانی کی) الغیث ( بارش) قنطوا (وہ مایوس ہوگئے) ینشرا (وہ پھیلاتا ہے) بت (اس نے پھیلا دیا ، اس نے بکھیر دیا)
تشریح : آیت نمبر 24 تا 29 : قرآن کریم کی عظیم تعلیم نبی کریم ﷺ کی اعلیٰ سیرت و کردار اور اس کے اثرات کو مشرکین اور کفاراچھی طرح جانتے اور سمجھتے تھے مگر محض اپنے دلی بغض ، حسد ، ضد اور ہٹ دھرمی ان کو مخالفت کے طوفان کی طرف دھکیل کرلے جاتی تھی وہ اپنی شرمندگی کو سمجھتے تھے مگر محض اپنے دلی بغض ، حسد ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
(ف 1) اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کو انجام خوب معلوم ہے اس سے وہ ہر ایک کی مصلحت کو دیکھ کر رزق کا انتظام فرماتا ہے امیر و غریب سب یکساں ہوجائیں تو کوئی کسی کی نہ سنے اور دنیا کے انتظام میں فتور پڑجائے، اب جس طرح دنیا کا کام چل رہا ہے کہ امیر لوگوں کو غریبوں کے کام کام سے مدد ملتی ہے اور غریبوں کو امیروں کے روپیہ پیسہ سے ، امیروں اور غریبوں کے یکساں ہوجانے میں یہ انتظام قائم نہیں رہ سکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
[19] یعنی جیسے نعمتیں ایک خاص اندازے اور خاص حالات کی رعایت سے دی جاتی ہیں، مصائب کا نزول بھی خاص اسباب و ضوابط کے تحت ہوتا ہے۔ مثلاً انسان کو جو کوئی سختی یا مصیبت آئے اس کا سبب قریب یا بعید انسان کے اپنے بعض اعمال و افعال ہوتے ہیں گویا دنیا کی ہر مصیبت لوگوں کے بعض اعمال ماضیہ کا نتیجہ ہے اور مستقبل میں ان کے لئے تنبیہہ اور امتحان کا موقع بہم پہنچاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
ف 2: یختم علی قلبک ۔ دو معنے ہیں ایک تو یہ کہ آپ سورت اللہ پر افتراء کرسکتے ہیں ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ آپ سے بصیرت چھین لے ۔ اور آپ کے قلب پر مہر کردے ۔ یعنی جس طرح ناممکن ہے ۔ اس رطح یہ ناممکن ہے ۔ کہ آپ غلط ملط باتیں اللہ کی طرف منسوب کریں ۔ دوسرے یہ کہ یہ لوگ تو اس رطح کے الزامات سے آپ کو دل برداشتہ کردیتے ہیں ۔ مگر اللہ چاہے گا تو آپ کے دل پر تسکین ۔ طمانیت می اوز ثبت کردیگا ۔ تاکہ ان اس طرز عمل کا اثر آپ تک نہ پہنچے اور آپ استقلال و عزیمت کے ساتھ اللہ کے پیغام کو دوسروں تک پہنچاتے رہیں ۔
Read the full tafseer →(26) اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کی سنتا اور ان کی دعائیں اور عبادتیں قبول کرتا اور ان کو اپنے فضل سے اور زیادہ ثواب دیتا ہے اور جو منکر ہیں اور جنہوں نے کفر کی روش اختیار کررکھی ہے ان کے لئے سخت عذاب ہے۔
یعنی جو مسلمان ہوا اور نیک عمل کا پابند ہو اس کے تمام نیک اعمال بھی مقبول اور اس کی دعا بھی مقبول عبادت کی قبولیت کے ساتھ ثواب میں بھی زیادتی کا وعدہ اور کافروں کا کوئی عمل مقبول نہیں کیونکہ عمل کی بنیاد یعنی ایمان نہیں اس لئے وہ سخت عذاب کے مستحق ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
ف 4۔ پس اگر کوئی کافر کفر سے توبہ کرلے اور اسلام لے آوے تو ہم اس کا ایمان قبول کرلیں گے۔
5۔ پس اس کو یہ بھی خبر ہے کہ توبہ خالص کی ہے یا غیر خالص کی ہے، تو تم کو توبہ خالص کی کرنی چاہئے۔
Read the full tafseer →ایمان لانے والوں اور اچھے عمل کرنے والوں کو وہ اپنے فضل سے نوازے گا
26 ؎ کوئی شخص بھی جب ایمان لانے کے بعد ربِّ ذوالجلال والا کرام سے اپنے گزشتہ گناہوں کی معافی چاہتا ہے تو یقینا وہ اس کو معاف کردیتا ہے اس لیے کہ وہ اپنے بندوں کی دعائیں سنتا اور ان کو قبولیت بخشتا ہے اور نیک عمل کرنے والوں کے برے اعمال کو وہ مٹا دیتا ہے۔ توبہ کرنے سے پہلے انہوں نے جو کچھ بھی کیا اس میں سے اگر وہ حقوق العباد کے متعلق ہے تو وہ ایمان لانے کے ساتھ اس کا احساس کریں گے کہ اپنی زیادتیوں کی اصلاح کرتے ہوئے ان لوگوں سے معاف کرا لیں جن سے انہوں نے زیادتی کی ہے اور حقوق اللہ میں سے اللہ ربِّ کریم کا پہلے ہی اعلان موجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
The deniers and opponents have been advised in the second verse that there is still time to give up and renounce their disbelief and ` kufr'. Allah is very merciful and Most Beneficent; He accepts the repentance of those who truly repent, and forgives their sins.
The Reality of Taubah' (Repentance)
The literal meaning of ` taubah' is to return and turn to; in religious terminology, giving up and renunciation of any sin is called ` taubah'. There are three conditions for its being proper and genuine.
One is to give up, immediately, the sin one is involved in. The second is to repent for the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
48 If the context in which this thing has been sAld is kept in view, it appears that AlIah here is alluding to the basic factor that was working in the rebellion of the disbelievers of Makkah. Although they were insignificant as agAlnst the mighty Roman and Iranian Empires and their position among the nations of the neighbouring countries was no more than of a commercial tribe of a backward people, the relative prosperity and glory that they enjoyed among the other Arabs had made them so proud and arrogant that they were not inclined even to listen to the Prophet of Allah, and their chiefs of…
Read the full tafseer →