Explained with ayahs 25–28
توبہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ
اللہ تعالیٰ اپنا احسان اور اپنا کرم بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے غلاموں پر اس قدر مہربان ہے کہ بد سے بد گنہگار بھی جب اپنی بد کرداری سے باز آئے اور خلوص کے ساتھ اس کے سامنے جھکے اور سچے دل سے توبہ کرے تو وہ اپنے رحم و کرم سے اس کی پردہ پوشی کرتا ہے اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اپنا فضل اس کے شامل حال کردیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا01100) 4۔ النسآء :110) ، جو شخص بد عملی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ اللہ کو غفور و رحیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
سورة الشُّوْرٰی 48
جس سلسلہ کلام میں یہ بات ارشاد ہوئی ہے اسے نظر میں رکھا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہاں دراصل اللہ تعالیٰ اس بنیادی سبب کی طرف اشارہ فرما رہا ہے جو کفار مکہ کی سرکشی میں کام کر رہا تھا۔ اگرچہ روم و ایران کے مقابلہ میں ان کی کوئی ہستی نہ تھی اور گرد و پیش کی قوموں میں وہ ایک پس ماندہ قوم کے ایک تجارت پیشہ قبیلے، یا بالفاظ دیگر، بنجاروں سے زیادہ حیثیت نہ رکھتے تھے، مگر اپنی اس ذرا سی دنیا میں ان کو دوسرے عربوں کی بہ نسبت جو خوشحالی اور بڑائی نصیب تھی اس نے ان کو اتنا مغرور و متکبر بنادیا تھا کہ وہ اللہ کے نبی کی بات پر کان دھرنے کے لیے کسی طرح تیار نہ تھے، اور ان کے سرداران…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (اللہ تعالیٰ کی صفت حکمت کے آثار میں سے یہ ہے کہ اس نے سب آدمیوں کو زیادہ مال نہیں دیا، کیونکہ) اگر اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں کے لئے (بحالات موجودہ جیسی ان کی طبیعتیں ہیں) روزی فراخ کردیتا تو وہ دنیا میں (بالعموم) شرارت کرنے لگتے (کیونکہ جب سارے انسان مالدار ہوتے اور کوئی کسی کا مطلق محتاج نہ ہوتا تو کوئی بھی کسی سے نہ دبتا) لیکن (یہ بھی نہیں کیا کہ بالکل ہی کسی کو کچھ نہ دیا ہو، بلکہ) جتنا رزق چاہتا ہے انداز (مناسب) سے (ہر ایک کے لئے) اتارتا ہے، (کیونکہ) وہ اپنے بندوں کے (مصالح) کو جاننے والا (اور ان کا حال) دیکھنے والا ہے اور وہ ایسا (رحیم) ہے جو (بسا اوقات) لوگوں کے ناامید…
Read the full tafseer →ولولابسط اللہ الرزق بعبادہ لبغوا فی الارض ولکن ینزل بقدر ما یشآء انہ بعبادہ خبیر بصیر (27)
ایک مغالطہ کی اصلاح
یعنی یہ لوگ اگر اپنی دنیا کی دولت اور ثروت کو اپنے برحق ہونے کی دلیل سمجھے بیٹھے ہیں اور اس غرے میں پیغمبر ﷺ اور اس کے غریب ساتھیوں کو خاطر میں نہیں لا رہے ہیں تو یہ محض ان کی خود فریبی ہے۔ دنیا کی دولت و ثروت کسی کے برحق ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ یہ چیز محض امتحان کے لئے ہے اور اللہ اپنی حکمت و مصلحت کے مطابق کا فرو مومن دونوں کو یہ دیتا ہے اور دونوں کا امتحان کرتا ہے۔ یہ چیز تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ وہ بندوں کے حالات و مصالح سے اچھی طرح باخبر ہے اس وجہ سے اپنی حکمت و مصلحت کے…
Read the full tafseer →27۔ 1 یعنی اللہ ہر شخص کی حاجت و ضرورت سے زیادہ یکساں طور پر وسائل رزق عطا فرما دیتا تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ کوئی کسی کی ماتحتی قبول نہ کرتا، ہر شخص شرو فساد اور دشمنی میں ایک سے بڑھ کر ایک ہوتا، جس سے زمین فساد سے بھر جاتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–39
7: یعنی اگر (معاذاللہ) آنحضرت ﷺ اپنی طرف سے گھڑ کر یہ قرآن بنا رہے ہوتے تو اللہ تعالیٰ آپ کے دل پر مہر لگا دیتا ، جس کی وجہ سے آپ کو ایسا کلام پیش کرنے پر قدرت ہی نہ ہوتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نبوت کا جھوٹا دعوی کرے تو اس کی بات کو چلنے نہیں دیتے، اور باطل کو مٹا دیتے ہیں، اس کے برعکس سچے نبی کے دعوے کو اپنے کلمات کے ذریعے ثابت فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
درس نمبر 230 ایک نظر میں
سورت کا یہ دوسرا حصہ انفس ، و آفاق میں موجود دلائل ایمان کے بیان پر مشتمل ہے اور اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ کی رحمت کے آثار کس طرح قدم قدم پر موجود ہیں۔ اور لوگوں کو گھیرے ہوئے ہیں۔ ان آثار کا تعلق ان کی زندگی اور ان کی معیشت کے ساتھ ہے۔ اور پھر اس میں اہل ایمان کی صفات بیان کی گئیں کہ وہ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں کیا کیا امتیازی خصوصیات رکھتے ہیں جبکہ پہلے حصے میں موضوع سخن زیادہ تر وحی و رسالت تھا۔ اس سبق کے آخر میں وحی الٰہی کی شکلیں بیان کی گئی ہیں۔ اس سورت کے دونوں حصوں میں ربط ظاہر ہے اللہ کے دلائل ایمان کا مقصد بھی یہی ہے کہ لوگ وحی و رسالت کے ساتھ منسلک…
Read the full tafseer →7 خدا کے خزانوں میں کسی چیز کی کمی نہیں۔ اگر چاہے تو اپنے تمام بندوں کو غنی اور تونگر بنا دے لیکن اس کی حکمت مقتضی نہیں کہ سب کو بےاندازہ روزی دے کر خوش عیش رکھا جائے۔ ایسا کیا جاتا تو عموماً لوگ طغیان و تمرد اختیار کر کے دنیا میں اودھم مچا دیتے۔ نہ خدا کے سامنے جھکتے نہ اس کی مخلوق کو خاطر میں لاتے، جو سامان دیا جاتا کوئی اس پر قناعت نہ کرتا حرص اور زیادہ بڑھ جاتی جیسا کہ ہم بحالت موجودہ بھی عموماً مرفہ الحال لوگوں میں مشاہدہ کرتے ہیں، جتنا آجائے اس سے زیادہ کے طالب رہتے ہیں، کوشش اور تمنا یہ ہوتی ہے کہ سب کے گھر خالی کر کے اپنا گھر بھر لیں۔ ظاہر ہے کہ ان جذبات کے ماتحت عام غنا اور خوشحالی…
Read the full tafseer →آیت 27 { وَلَوْ بَسَطَ اللّٰہُ الرِّزْقَ لِعِبَادِہٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ } ”اور اگر اللہ کشادہ کردیتا رزق اپنے سب بندوں کے لیے تو وہ زمین میں سرکشی کرتے“
یقینا اللہ کے خزانے بہت وسیع ہیں ‘ لیکن اگر وہ ان خزانوں کو سب کے لیے کھول دیتا اور ہر کسی کو اس کی خواہش اور مرضی کے مطابق با فراغت اور با سہولت رزق ملنا شروع ہوجاتا تو انسانوں کی اکثریت اللہ سے سرکشی پر اتر آتی۔ کیونکہ اب جب کہ دو وقت کی روٹی کمانے کے لیے دن رات مشقت میں جتے رہنے کے باوجود بھی ان میں سے اکثر اللہ کے نافرمان ہیں تو فکر معاش سے فراغت تو ان کو بالکل ہی باغی بنا دیتی۔
{ وَلٰکِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآئُ اِنَّہٗ…
Read the full tafseer →41 رزق کی کمی بیشی میں اللہ کی حکمتیں :۔ پنجابی زبان کی ایک مختصر سی مثال اس آیت کے مفہوم کو پوری طرح واضح کردیتی ہے۔ مثال یہ ہے رج آؤن تے کد آؤن یعنی ایک عام دنیادار انسان کی عادت یہ ہے کہ اگر اللہ اسے خوشحالی سے ہمکنار کرے تو وہ کسی کو بھی حتیٰ کہ اللہ کو بھی خاطر میں نہیں لاتا اور سرکشی کی راہ اختیار کرتا ہے۔ صورت حال سرداران قریش کی تھی جو دیہاتی قبائل عرب کی نسبت خوشحال تھے اور اسی خوشحالی نے ان کے دماغوں کو خراب کر رکھا تھا اور اس آیت میں بتایا یہ گیا ہے کہ اگر اللہ سارے ہی لوگوں کو وافر رزق عطا کردے تو اس سے اس کے خزانوں میں تو کچھ کمی نہ آئے گی۔ لیکن لوگ دولت کی مستی میں ہر جگہ اودھم…
Read the full tafseer →33۔ یعنی اللہ سے بڑھ کر اپنے بندوں کی مصلحتوں، صلاحیتوں، استعدادوں کا جاننے والا اور ان کے احوال و اعمال پر نظر رکھنے والا اور کون ہوگا، وہ ہر بندہ کو اس کے ظرف، ضرورت ومصلحت کے لائق ہی روزی دیتا ہے۔ ورنہ اگر وہ بےتحاشا سب کو خوشحال ہی بنا دے تو انسان کے عام طبائع ایسے ہیں کہ بجائے امن وآشتی کے فتنہ و فساد برپا ہوجائے اور سب ایک دوسرے کے دشمن ہو کر کفر ونافرمانی میں مبتلا ہوجائیں۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ اسی طرح بسط باطنی بھی بعض طالب حق کے حق میں مضر ہوتا ہے۔ اس لئے اس کے نہ ہونے سے مغموم نہ ہونا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
آیت نمبر 20 تا 29
ترجمہ : جس کا مقصد اپنے عمل سے آخرت کی کھیتی ہو، یعنی آخرت کی کمائی ہو اور وہ ثواب ہے تو ہم اس کی کھیتی میں (یعنی) نیکیوں میں دس گنے تک (بلکہ) اور اس سے بھی زیادہ اضافہ کر کے ترقی دیں گے اور جو دنیا کی کھیتی کی طلب رکھتا ہو تو ہم اسے اس میں سے بلا اضافے کے بقدر نصیب عطا کریں گے، ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں بلکہ مکہ کے ان کافروں نے کچھ شرکاء تجویز کر رکھے ہیں اور وہ شیاطین ہیں کہ ان شرکاء نے ان کافروں کے لئے دین فاسد تجویز کر رکھا ہے، جس کی خدا نے اجازت نہیں دی (اور وہ دین فاسد) شرک اور انکار بعث ہے اور اگر فیصلے کے دن کا وعدہ نہ ہوچکا ہوتا یعنی پہلے سے فیصلہ نہ ہوچکا…
Read the full tafseer →ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض ولکن ینزل بقدر ما یشاء انہ بعبادہ خبیر
بصیر اور اگر اللہ اپنے (سب) بندوں کیلئے روزی فراخ کردیتا تو وہ دنیا میں شرارت کرنے لگے ‘ لیکن وہ اندازے کے مطابق جتنا (رزق) چاہتا ہے ‘ اتارتا ہے۔ بلاشبہ وہ اپنے بندوں (کے مصالح) کو جاننے والا ‘ دیکھنے والا ہے۔
وَلَوْ بَسَطَ اللہ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت خباب بن ارت نے فرمایا : یہ آیت ہمارے حق میں اتری تھی۔ ہم نے دیکھا کہ بنی قریظہ ‘ بنی نضیر اور بنی قینقاع بڑے کشادہ حال ہیں ‘ ان کو دیکھ کر ہمارے دل میں بھی یہ خواہش پیدا ہوئی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
لَبَغَوْا یعنی دولت کے غرور میں آجاتے اور ملک میں تباہی مچاتے ‘ یا…
Read the full tafseer →اور اگر اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں کو مال کی وسعت عطا کردیتا ہے تو وہ دنیا میں سرکشی کرنے لگتے لیکن جس پر چاہتا ہے فراخی کرتا ہے وہ اپنے بندوں کی مصلحتوں اور ان کے اعمال سے باخبر ہے۔
Read the full tafseer →(1) ولوبسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض : یہ ایک سوال کا جواب ہے جو یہاں ذہن میں پیدا ہوسکتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ایمان اور عمل صالح والوں کی دعا بہت جلدی قبول فرماتا ہے تو یہ لوگ تو رزق کی فراخی کی دعا بھی کرتے ہیں، اس کے باوجود ان پر زق کی تنگی کیوں ہے ؟ ابتدائے اسلام میں ایمان والوں پر رزق کی بہت تنگی آئی ، خصوصاً جب کفار نے ان کے ساتھ میل جول اور خریدو فروخت، غرض تمام چیزوں کا بائیکاٹ کردیا۔ جواب یہ دیا گیا کہ ایسا نہیں ہے کہ وہ جتنا رزق مانگیں انھیں اتنا ہی دے دیا جائے، بلکہ اللہ تعالیٰ ان کا رزق ان کی مصلحت کے مطابق ایک اندازے کے ساتھ جتنا چاہتا ہے نازل فرماتا ہے۔ اگر وہ ان کے تقاضے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
(آیت نمبر 27 )
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ آیت کے نزول کے بارے میں ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت اہل صفہ کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے رزق کی وسعت کے بارے میں سوال کیا تھا۔ حضرت حباب بن ارت نے کہا : یہ ہمارے بارے میں آیت نازل ہوئی ہم نے بنو نضیر ‘ بنو قریظہ اور بنو قینقاع کے اموال کو دیکھا تو ہم نے اس کی تمنا کی تو یہ آیت نازل ہوئی (1) ۔
ولو بسط اس کا معنی ہے وسیع کرنا۔ بسط الشیٔ کا معنی ہے اس کو پھیلادیا ‘ جب یہ لفظ سین کی بجائے صاد کے ساتھ ہو تب بھی اس کا یہی معنی ہوتا ہے۔
لبغوا فی الارض وہ سرکش ہوجاتے اور نافرمانی کرتے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : بغیھم سے مراد ہے…
Read the full tafseer →1:۔ ابن المنذر (رح) و سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) و طبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) و ابونعیم فی الحلیہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں صحیح سند کے ساتھ ابوہانی الخولانی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عمرو بن حریث اور ان کے علاوہ (دوسرے لوگوں کو) یہ کہتے ہوئے سنا کہ یہ آیت اصحاب صفہ کے بارے میں نازل ہوئی (آیت ) ” ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض “ (اگر اللہ اپنے بندوں کے لئے روزی فراخ کردیتا ہے تو وہ دنیا میں شرارت کرنے لگتے) اور یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے کہا : اگر ہمارے لئے مال ہوتا۔ اور انہوں نے دنیا کی تمنا کی۔
2:۔ حاکم (وصححہ) اور بیہقی (رح) نے علی ؓ…
Read the full tafseer →وَلَوْ بَسَطَ اللّٰهُ [ اور اگر کشادہ کردے اللہ ] الرِّزْقَ [ روزی کو ] لِعِبَادِهٖ [ اپنے بندوں کے لئے ] لَبَغَوْا [ تو وہ ضرور سرکشی کریں گے ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] وَلٰكِنْ يُّنَزِّلُ [ اور لیکن وہ اتارتا ہے ] بِقَدَرٍ [ ایک اندازے سے ] مَّا [ اتنی جتنی ] يَشَاۗءُ ۭ [ وہ چاہتا ہے ] اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ [ یقینا وہ اپنے بندوں کی ] خَبِيْرٌۢ [خبر رکھنے والا ہے ] بَصِيْرٌ [ دیکھنے والا ہے ]
نوٹ ۔ 1: جیسے نعتیں ایک خاص اندازہ وحوال کی رعایت سے دی جاتی ہیں (آیت ۔ 27) مصائب کا نزول بھی خاص اسباب و ضوابط کے تحت ہوتا ہے ۔ بندوں کو جو کوئی سختی اور مصیبت پیش آئے اس کا سبب قریب یا بعید بندوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
آسمان و زمین اور چوپایوں کی تخلیق میں اللہ کی نشانیاں ہیں
ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی شان تخلیق اور شان ربوبیت بیان فرمائی ہے ارشاد فرمایا کہ انسانوں کا اور زمین کا پیدا فرمانا اور ان کے اندر جو جاندار چیزیں پیدا فرمائی اور پھیلائی ہیں ان کو وجود بخشنا یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی نشانیوں میں سے ہے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ یہ مخلوق جو آسمانوں میں اور زمین میں پھیلی ہوئی ہے کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ ان کو جمع کرنا کیسے ہوسکتا ہے ؟ ان کو جمع کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے اسے اس پر قدرت ہے کہ ان سب کو جمع فرما دے اور قیامت کے دن ایسا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
مذمت افتراء علی اللہ و محرومی بدنصیباں از قبول حق و کامیابی مومنین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ام یقولون افتری ...... الی ....... خبیر بصیر “۔
ّ (ربط) ’ گذشتہ آیات میں طالبین دنیا اور طالبین آخرت کا ذکر تھا اور یہ کہ انبیاء (علیہم السلام) دعوت حق سے آخرت کا فکر پیدا کرنے کے لیے کیسی محنت کرتے ہیں، اور اخلاص وہمدردی کے جذبہ سے ان کی غرض اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتی کہ اللہ کے بندے حق اور ہدایت قبول کرکے نجاتوسعادت حاصل کرلیں، اب ان آیات میں ایسے معاندین و متکبرین کا ذکر ہے جو اپنے عناد وتکبر میں اس قدر غرق ہوتے ہیں کہ قبول حق تو درکنار وہ اللہ رب العزت پر افتراء بہتان پردازی سے بھی باز نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
27:۔ ” ولو بسط اللہ “ یہ سوال مقدر کا جواب ہے جب اللہ تعالیٰ اس قدر مہربان ہے کہ بندوں کی توبہ قبول فرما لیتا ہے اور ان کو روزی بھی دیتا ہے، لیکن سب کی روزی فراخ اور وسیع کیوں نہیں کرتا، فرمایا اگر وہ سب کو وسعت اور فراخی سے دولت دیدے تو سب ہی حدود بندگی کو پھاند کر اللہ کے باغی ہوجائیں اور کبر و غرور میں مست ہو کر شر و فساد پھیلا دیں، لیکن اللہ تعالیٰ اپنی حکمت بالغہ سے ہر شخص کو جتنا چاہتا ہے دیتا ہے، وہ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے، اسے معلوم ہے کہ کون کس مقدار کا مستحق ہے۔ بقدر موصوف، ما یشاء صفت، اور صلہ میں ضمیر عائد محذوف ہے ای یشاءء ہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
ربط آیات
پہلے توحید ، معاد اور جزائے عمل کا ذکر ہوا ، اور نیک و بد آدمیوں کا انجام بیان کیا گیا ۔ پھر گزشتہ آیت میں رسالت کا ذکر تھا ۔ اللہ نے حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا لا اسئلکم علیہ اجرا ًمیں اس تبلیغ حق پر تم سے کوئی معاوضہ تو طلب نہیں کرتا ، میں تو صرف قرابتداری کا لحاظ چاہتا ہوں کہ کم از کم مجھے ایذاء تو نہ پہنچائو ۔ اب آج کی پہلی آیت بھی رسالت ہی کے تسلسل میں ہے۔ پھر آگے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں اور جزائے عمل کا تذکرہ ہے۔
افترا علی اللہ کی نفی
ارشاد ہوتا ہے امر یقولون افتری علی اللہ کذبا ً کیا یہ منکرین اور مکذبین کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی نے خدا تعالیٰ پر افتراء باندھا ہے ؟ یعنی…
Read the full tafseer →وَلَوْ بَسَطَ اللہُ الرِّزْقَ لِعِبَادِہٖ لَبَغَوْا فِي الْاَرْضِ وَلٰكِنْ يُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا يَشَاۗءُ 0 ۭ اِنَّہٗ بِعِبَادِہٖ خَبِيْرٌۢ بَصِيْرٌ 27
لو
لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] .
( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
ترکیب : ام بمعنی بل فان یشاء اللہ خذلانک شرط یختم جو ابہ ولذاصارالفعل مخبروما، ویمح اللہ جملۃ مستانفۃ مقررۃ لماقبلھامن نفی الافتراء غیر داخلۃ الجزاء لقبل التوابۃ مفعول اول عن عبادہ مفعول ثان لان المقبول یعدی الی مفعول ثان بمن وعن لتضمۃ معنی الاخذوالانابۃ ویستجیب الذین مفعول فیستجیب بمعنی یجیب وقیل حذف اللام کمافی قولہ و اذا کالو ھم اے کالو الھم وقیل الذین فاعل یستجیب ای ینقادون
تفسیر : اس کے بعد بھی کہ آپ کسی سے اس تبلیغ کی اجرت نہیں مانگتے شبہ باقی رہنا یہ گمان کرنا ہے کہ آپ اپنی طرف سے بنا کر کہتے ہیں اللہ نے وحی نہیں کی اس لیے اس بدگمانی کو دفع کرتا ہے فقال ام یقولون افتری الخ اور یہ بھی…
Read the full tafseer →وَلَوْبَسَطَ اللّٰہُ الرِّزْقَ لِعِبَادِہٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَلٰـکِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّایَشَآئُ ط اِنَّـہٗ بِعِبَادِہٖ خَبِیْرٌ م بَصِیْرٌ۔ (الشوری : 27)
(اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لیے رزق کو کھول دیتا تو وہ زمین میں سرکشی کا طوفان برپا کردیتے مگر وہ ایک اندازے کے ساتھ جتنا چاہتا ہے نازل کرتا ہے، بیشک وہ اپنے بندوں سے باخبر اور ان کو دیکھنے والا ہے۔ )
قریش کے رویئے پر تنبیہ اور مسلمانوں کی فکری کوتاہی پر توجہ
گزشتہ آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے اور نیک اعمال کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی دعائیں قبول فرماتا ہے۔ اور اصحابِ صفہ اور حضرت خباب ( رض)…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے فضل کی ایک صورت بارش بھی ہے اس لیے یہاں بارش کا ذکر کیا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہر قسم کے دلائل سے ثابت کیا ہے کہ ” اللہ “ ہی اپنی پوری مخلوق کو رزق دینے والا ہے اور وہی اپنے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق اپنے بندوں کو رزق عطا کرتا ہے۔ اس کے رزق عطا کرنے کے اصولوں میں ایک اصول یہ ہے کہ وہ کسی کو ایک حد سے بڑھ کر رزق عطا نہیں کرتا۔ اگر وہ لامحدود طریقہ سے کسی کو رزق عطا کرے تو لوگ زمین میں بغاوت کرنے لگیں۔ وہ اپنے بندوں کو پوری طرح جانتا اور ہر وقت انہیں دیکھنے والا ہے۔ یہ بات تو اللہ ہی جانتا ہے کہ اس نے ہر انسان کے لیے اس کے رزق کی کیا حد مقرر…
Read the full tafseer →مالداری سرکشی کا سبب ہے :
27: وَلَوْبَسَطَ اللّٰہُ الرِّزْقَ لِعِبَادِہٖ ( اور اگر اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں کیلئے روزی فراخ کردیتا) یعنی اگر تمام کو مالدار بنا دیتا لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ (تو وہ دنیا میں شرارت کرنے لگتے) بغواؔ یہ بغی سے ہے جس کا معنی ظلم ہے یعنی ایک دوسرے پر سرکشی کرنا کیونکہ مالداری تکبر اور سرکشی میں ڈال دیتی ہے۔ اس میں عبرت کیلئے فرعون کا حال کافی ہے۔ یا بغی بمعنی تکبر سے ہے ضرور زمین میں بڑائی کرتے وَلٰکِنْ یُّنَزِّلُ (لیکن وہ اتارتا ہے )
قراءت : مکی، ابو عمرو نے یَنْزِلُ تخفیف سے پڑھا ہے۔ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآ ئُ (اندازہ سے جتنا چاہتا ہے) عرب کہتے ہیں قدرہ قَدْرًا…
Read the full tafseer →تفسیر 26۔ ، ویستجیب الذین امنوا، یعنی جو ایمان لائے ان کو جواب دیتا۔ ، وعملوا الصالحات، جب وہ اس کو پکاریں اور عطاء (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ، وثبت الذین امنوا،۔۔۔۔۔۔ ، ویزید ھم من فضلہ، ان کے اعمال کے ثواب کے علاوہ اس کے فضل سے اور ابوصالح (رح) نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ان کے بھائیوں کے حق میں ان کی سفارش قبول کریں گے اور ان کو اپنا فضل زیادہ کریں گے۔ ، والکافرون لھم عذاب شدید،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
24۔ 29۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ محمد رسول اللہ ﷺ قرآن کی آیتیں خود بنا لیتے ہیں اور یہ مشہور کرتے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے مشرکین کی اس بات کا ایک جواب تو سورة بقر میں گزر چکا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ قرآن ان پڑھ رسول پر اترا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ ان پڑھ شخص تو درکنار کوئی پڑھا ہوا آدمی بھی بغیر آسمانی کتابوں کی مدد کے ایسی باتیں نہیں بتاسکتا اس سے ہر ایک سمجھ دار آدمی سمجھ سکتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ اسی بات کا یہاں یہ جواب دیا ہے کہ جھوٹ اللہ کو بہت ناپسند ہے۔ اسی واسطے قرآن کے مخالف لوگ قرآن کے مقابلہ میں جو جھوٹی باتیں کہتے ہیں ان کو دن بدن اللہ تعالیٰ مٹاتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
آیت 26
یہ اللہ تعالیٰ کے کمال فضل و کرم، اس کی وسعت جود اور اس کے لطف کامل کا بیان ہے کہ وہ اپنے بندوں سے صادر ہونے والی توبہ کو قبول کرتا ہے جب وہ گناہوں کو ترک کر کے ان پر نادم ہوتے ہیں اور ان گناہوں کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرلیتے ہیں۔ جب وہ اس توبہ میں خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کا قصد رکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس توبہ کو قبول کرتا ہے جبکہ یہ گناہ ہلاکت اور دنیاوی و آخروی عذاب کا سبب بن چکے تھے۔
(ویعفوا عن السیات) اللہ تعالیٰ برائیوں کو مٹا دیتا ہے، ان کے برے اثرات اور عقوبات کو بھی ختم کردیتا ہے جن کا تقاضا یہ برائیاں کرتی ہیں اور توبہ کرنے والا اللہ تعالیٰ کے نزدیک دوبارہ اچھے لوگوں کے زمرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–37
محبت برائے قرابت
قول باری ہے (قل لا اسئلکو علیہ اجر ا الا المودۃ فی القربی۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں طلب کرتا، ہاں رشتہ داری کی محبت ہو) حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد، قتادہ ضحاک اور سدی کا قول ہے کہ ” مگر یہ کہ تم مجھ سے اس بنا پر محبت رکھو کہ تمہارے ساتھ میری رشتہ داری اور قرابت ہے۔ “ ان حضرات کا قول ہے کہ قریش کے تمام خاندانوں اور حضور ﷺ کے درمیان قرابت تھی۔ علی بن الحسین اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” مگر یہ کہ تم میرے قرابت داروں سے محبت رکھو۔ “ حسن کا قول ہے۔” مگر یہ کہ عمل صالح کے ذریعے تم اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی دوستی حاصل کرو۔ “
Read the full tafseer →67 رزق و روزی کا معاملہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ اگر اپنے بندوں کے لیے روزی کشادہ کردیتا تو یہ یقینا بغاوت و سرکشی کا طوفان بپا کردیتے اس کی زمین میں۔ لیکن اللہ روزی اتارتا ہے ایک خاص اندازے کے ساتھ جتنی چاہتا ہے "۔ کیونکہ وہی وحدہ لاشریک جانتا ہے کہ کس کے لئے کیا مناسب ہے۔ کتنا مناسب ہے اور کس شکل میں مناسب ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ لہذا جو لوگ اپنی دنیاوی مال و دولت کو اپنے برحق ہونے کی دلیل سمجھے بیٹھے ہیں اور اس غرے میں یہ لوگ حق سے منہ موڑے ہوئے ہیں اور اہل حق کو خاطر میں نہیں لاتے یہ سراسر دھوکے اور فریب میں مبتلا ہیں۔ کیونکہ دنیاوی مال و دولت کا کسی کو مل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
رزق کی مناسب تقسیم حکمت الہٰی کے مطابق
تشریح : ان آیات سے معلوم ہوا کہ دنیا میں رزق کی مناسب تقسیم حکمت الٰہی کے مطابق ہے اگر اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کو ان کے رزق میں وسعت دے دیتا ان کی ضروریات سے زیادہ انہیں عطا کردیتا تو وہ خرمستی میں آکر ہلڑ مچادیتے اور دنیا کے امن کو تباہ وبرباد کردیتے اور ایک دوسرے کو آگ لگا کر پھونک دیتے، بھون کھاتے، سرکشی اور بغاوت کرتے تکبر اور بےپرواہی میں حد سے آگے بڑھ جاتے یہ سب حکمت الٰہی کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے نبدوں کو مناسب رزق عطا فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
آیات 20 تا 29۔
جو کوئی اپنی محنت کا پھل آخرت میں چاہتا ہے تو اس کے انعامات اور اجر اور زیادہ بڑھادیے جاتے ہیں اور وہ اپنی طلب سے بھی زیادہ پاتا ہے اور جو شخص صرف حصول دنیا کے لیے کوشش کرتا ہے اسے دنیا میں سے کچھ نہ کچھ عطا کردیا جاتا ہے یعنی ضروری نہیں کہ جس انداز یاجتنی مقدار میں اس کی خواہش ہے اسے مل جائے بلکہ یہ اللہ کی مرضی کہ اس کا نصیبہ کیا مقرر کیا ہے وہی ملتا ہے جبکہ یہ سب آخرت کے طلب گار کو بھی ملتا ہے۔ مگر آخرت چھوڑ کر صرف دنیا کے طالب کی خواہش دنیا میں پوری نہیں ہوتی اور آخرت سے محروم رہ جاتا ہے کہ آخرت پر ایمان ہی نہ تھا لہذا آخرت میں کچھ نہیں پاتاگویا مومن دنیا کا کام بھی طلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
ف 2 کیونکہ اس وقت کوئی کسی کا محتاج نہ ہوتا۔ اس لئے من مانی کا رروائی کرتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے کہ اس نے دنیا میں بندے کو دوسرے کا محتاج بنایا اور لوگ ایک دوسرے کے ساتھ باہم تعاون سے زندگی بسر کرتے ہیں۔ یا ” لبغوافی الارض “ کا مطلب یہ ہے کہ انسان مزید کی حرص کرتا اور بےصبری سے مال جمع کرتا ” لو کان لا بن ادم وادیان من ذھب لا تبغی ثالثا “ گو کسی کے پاس مال کی دو وادیاں بھری ہوں تو وہ تیسری کا خواہش مندہو۔ ( قرطبی)
3 اس لئے ہر شخص اپنی حد میں رہنے پر مجبور ہے۔ اب جو بعض بندے اپنی ضروریات سے زیادہ روزی پا کر زمین میں فساد برپا کرتے ہیں تو ان کا یہ فساد استثنائی قسم کا ہے عام فساد نہیں…
Read the full tafseer →(42:27) ولو بسط اللّٰہ الرزق لعبادہ۔ جملہ شرطیہ ہے لو حرف شرط ہے۔ بسط ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب بسط (باب نصر) مصدر۔ اس نے کشادہ کیا۔ اور اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی روزی فراخ کر دے۔
لبغوا فی الارض : جواب شرط۔ لام جواب شرط کا ہے۔ بغوا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ بغی (باب ضرب) مصدر۔ اس نے بغاوت کی۔ اس نے سرکشی کی اس نے زیادتی کی۔ تو وہ زمین میں سرکشی کرنے لگیں گے۔
ینزل : مضارع واحد مذکر غائب۔ تنزیل (تفعیل) مصدر۔ وہ نازل کرتا ہے۔ وہ اتارتا ہے۔
قدر۔ اندازہ شدہ۔ مقدار۔ مقدار مقررہ۔ اللہ کا حکم جو وہ اپنے بندوں کے لئے مقدد کرچکا ہے۔ فعل بمعنی مفعول۔
خبیر ۔ خبر سے فعیل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 29 : افتری (اس نے گھڑ لیا ، بنا لیا) یختم (وہ مہر لگا دیتا ہے) یمح (وہ مٹا ڈالتا ہے) السیئات (خطائیں ، برائیاں) بسط (اس نے کھول دیا) بغوا ( انہوں نے سر کشی ، نافرمانی کی) الغیث ( بارش) قنطوا (وہ مایوس ہوگئے) ینشرا (وہ پھیلاتا ہے) بت (اس نے پھیلا دیا ، اس نے بکھیر دیا)
تشریح : آیت نمبر 24 تا 29 : قرآن کریم کی عظیم تعلیم نبی کریم ﷺ کی اعلیٰ سیرت و کردار اور اس کے اثرات کو مشرکین اور کفاراچھی طرح جانتے اور سمجھتے تھے مگر محض اپنے دلی بغض ، حسد ، ضد اور ہٹ دھرمی ان کو مخالفت کے طوفان کی طرف دھکیل کرلے جاتی تھی وہ اپنی شرمندگی کو سمجھتے تھے مگر محض اپنے دلی بغض ، حسد ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
(ف 1) اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کو انجام خوب معلوم ہے اس سے وہ ہر ایک کی مصلحت کو دیکھ کر رزق کا انتظام فرماتا ہے امیر و غریب سب یکساں ہوجائیں تو کوئی کسی کی نہ سنے اور دنیا کے انتظام میں فتور پڑجائے، اب جس طرح دنیا کا کام چل رہا ہے کہ امیر لوگوں کو غریبوں کے کام کام سے مدد ملتی ہے اور غریبوں کو امیروں کے روپیہ پیسہ سے ، امیروں اور غریبوں کے یکساں ہوجانے میں یہ انتظام قائم نہیں رہ سکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
[19] یعنی جیسے نعمتیں ایک خاص اندازے اور خاص حالات کی رعایت سے دی جاتی ہیں، مصائب کا نزول بھی خاص اسباب و ضوابط کے تحت ہوتا ہے۔ مثلاً انسان کو جو کوئی سختی یا مصیبت آئے اس کا سبب قریب یا بعید انسان کے اپنے بعض اعمال و افعال ہوتے ہیں گویا دنیا کی ہر مصیبت لوگوں کے بعض اعمال ماضیہ کا نتیجہ ہے اور مستقبل میں ان کے لئے تنبیہہ اور امتحان کا موقع بہم پہنچاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–36
آیت 27 تا 36:
حل لغات :۔ بقدر ۔ یعنی ایک انداز کے ساتھ اس طرح کہ کائنات کا نظام باقی رہے اقنطوا ۔ مایوس ہوگئے ۔ قنوط سے ہے ۔ بمعنی مایوسی بٹ ۔ پھیلایا ۔ منتشر کیا دابۃ ۔ حیوان زمین پرچلنے والے جانور ۔ حل لغات :۔ کالا علام ۔ پہاڑوں کی طرح اعلام ۔ جمع علم کی ہے یوبھن ۔ تباہ کردے ۔
مادیات میں غور وفکر
1: قرآن حکیم اس بات پر بڑا زور دیات ہے ۔ کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ان فیوض کو غورو تعمق کی نظر سے دیکھیں جو کارگاہ حیات کو زندگی بخش رہے ہیں ۔ اس کے نزدیک جس طرح یہ ضروری ہے ۔ کہ شریعت اور فقہ کا مطالعہ کیا جائے ۔ معاشری قوانین کی افادیت پر غور کیا جائے ۔ اور سیاست واخلاق کے مسائل کو زیر بحث لایا…
Read the full tafseer →(27) اور اگر اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں کے لئے روزی فراغ کردیتا ہے تو وہ ضرور عام طور سے دنیا میں شرارت کرنے لگتے لیکن وہ جس قدر چاہتا ہے ایک مناسب انداز سے رزق اتارتا ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حال کا دانا بینا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر ایک کی روزی فراخ ہوجائے گی تو احتیاج باہمی کا نظام ٹوٹ جائے اور ہر شخص دوسرے سے مستغنی ہوجائے تو نظام عالم گڑ بڑ ہوجائے اور ایک دسورے سے بغاوت کردے اور شرارت شروع ہوجائے۔ امن کی بجائے فسادات شروع ہوجائیں۔
اللہ تعالیٰ ایک انداز سے روزی نازل فرماتا ہے کیونکہ وہ اپنے بندوں کے تمام احوال سے باخبر اور ان کو دیکھنے والا ہے یعنی بندوں کی مصالح سے باخبر اور ان کی…
Read the full tafseer →ف 6۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی صفت حکمت کے آثار میں سے یہ ہے کہ اس نے سب آدمیوں کو زیادہ مال نہیں دیا، اور ظاہر ہے کہ اگر غنا عام ہوجائے تو مال کی احتیاج تو کسی کو کسی سے باقی نہ رہے اور کام کسی کا کوئی کرے نہیں، تو جانبین سے احتیاج جاتی رہے، پھر کون کسی سے دبے۔
7۔ اس کے علاوہ حکیم ہونے کے خبیر وبصیر دو صفتیں اور ثابت ہوئیں۔
Read the full tafseer →رزق کی تقسیم میں اگر باقاعدہ ایک نظام قائم نہ ہوتا تو زمین میں فساد بپا ہو جاتا
27 ؎ انسان کو جو کچھ اس دنیوی زندگی میں دیا گیا ہے وہ سب کا سب رزق ہی کے ضمن میں آتا ہے خواہ وہ سونے چاندی کے ذخائر ہوں یا غلہ جات کے ڈھیر ہوں۔ خواہوہ اولاد ہو اور خواہ اقتدار کے عہدے ہوں مختصر یہ کہ انسان کو جو کچھ بھی ملا ہے یا مل سکتا ہے سب چیزوں پر رزق کا اطلاق ہوتا ہے اگر اس رزق میں سے ہر طرح کا رزق یا کسی خاص قسم کا رزق اس طرح فراخ کردیا جاتا کہ اس کے لیے تگ و دو کرنے کا قانون نہ بنایا ہوتا اور انسانی سعی و کوشش کا اس میں عمل دخل نہ رکھا جاتا تو بلاشبہ زمین میں بغاوت پھیل جاتی اور سینگ والی بکری بےسینگ بکری…
Read the full tafseer →Commentary
Sequence and background of Revelation
In these verses, Allah Almighty has given the proof of His Oneness by pointing out to the perfection of His Wisdom through which He has tied up the whole universe with a stable system, which is surely being supervised by a Being who is All-Wise and All-Aware.
Allah Almighty has opened this subject by pointing towards the economic system which He, in His Wisdom, has established in this world. This subject bears a relationship with the previous verses wherein it had been stated that Allah Almighty accepts the worships of the believers which…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
48 If the context in which this thing has been sAld is kept in view, it appears that AlIah here is alluding to the basic factor that was working in the rebellion of the disbelievers of Makkah. Although they were insignificant as agAlnst the mighty Roman and Iranian Empires and their position among the nations of the neighbouring countries was no more than of a commercial tribe of a backward people, the relative prosperity and glory that they enjoyed among the other Arabs had made them so proud and arrogant that they were not inclined even to listen to the Prophet of Allah, and their chiefs of…
Read the full tafseer →