Explained with ayahs 25–28
توبہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ
اللہ تعالیٰ اپنا احسان اور اپنا کرم بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے غلاموں پر اس قدر مہربان ہے کہ بد سے بد گنہگار بھی جب اپنی بد کرداری سے باز آئے اور خلوص کے ساتھ اس کے سامنے جھکے اور سچے دل سے توبہ کرے تو وہ اپنے رحم و کرم سے اس کی پردہ پوشی کرتا ہے اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اپنا فضل اس کے شامل حال کردیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا01100) 4۔ النسآء :110) ، جو شخص بد عملی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ اللہ کو غفور و رحیم…
Read the full tafseer →سورة الشُّوْرٰی 49
یہاں ولی سے مراد وہ ہستی ہے جو اپنی پیدا کردہ ساری مخلوق کے معاملات کی متولی ہے، جس نے بندوں کی حاجات و ضروریات پوری کرنے کا ذمہ لے رکھا ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) وَهُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا۔ اور وہ ایسا ہے جو لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد مینہ برساتا ہے) یوں تو اللہ تعالیٰ کی عام عادت ہے کہ جب زمین کو پانی کی شدید ضرورت ہوتی ہے، بارش برسا دیتے ہیں۔ لیکن یہاں ”نا امید ہوجانے کے بعد“ فرما کر اس طرف اشارہ کردیا گیا ہے کہ کبھی کبھی باری تعالیٰ مینہ برسانے میں عام عادت کے خلاف اتنی تاخیر کردیتے ہیں جس سے لوگ ناامید ہونے لگیں۔ اس سے آزمائش کے علاوہ اس بات پر تنبیہ مقصود ہوتی ہے کہ بارش اور قحط سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے، وہ جب چاہتا ہے لوگوں کی بداعمالیوں وغیرہ کی بنا پر بارش روک لیتا ہے تاکہ لوگ اس کی رحمت کی طرف…
Read the full tafseer →وھو الذین ینزل الغیث من بعد ما قنطوا وینشر رحمتہ ط وھو الولی الحمید 28
اوپر کی بات پر دلیل
یہ دلیل ہے اس بات کی جواد پر ارشاد ہوئی ہے کہ اللہ ہی اپنے ادنازے کے مطابق بندوں کے لئے رزق اتارتا ہے، نہ بندوں کو اس معاملے میں کچھ اختیار ہے نہ اس کے مزعومہ شرکاء کو فرمایا کہ اللہ ہی اتارتا ہے بارش بعد اس کے کہ لوگ بالکل مایوس ہوجاتے ہیں۔ بارش کا ذکر خاص طور پر اس وجہ سے فرمایا کہ معاش کا تمام تر انحصار اسی پر ہے۔ اور من بعد ما قنطوا سے مقصود اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ان تمام لوگوں کو جن کو اپنی تدبیر، اپنے استحقاق، اپنے وسائل و ذرائع اور اپنے شرکاء و شفعاء پر ناز ہے، اچھی طرح اندازہ ہوجاتا ہے کہ…
Read the full tafseer →28۔ 1 کار ساز ہے، اپنے نیک بندوں کی چارہ سازی فرماتا ہے، انہیں منافع سے نوازتا ہے اور شرور اور مہلکات سے ان کی حفاطت فرماتا ہے۔ اپنے ان انعامات بےپایاں اور احسنات فراواں پر قابل حمد و ثنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–39
7: یعنی اگر (معاذاللہ) آنحضرت ﷺ اپنی طرف سے گھڑ کر یہ قرآن بنا رہے ہوتے تو اللہ تعالیٰ آپ کے دل پر مہر لگا دیتا ، جس کی وجہ سے آپ کو ایسا کلام پیش کرنے پر قدرت ہی نہ ہوتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نبوت کا جھوٹا دعوی کرے تو اس کی بات کو چلنے نہیں دیتے، اور باطل کو مٹا دیتے ہیں، اس کے برعکس سچے نبی کے دعوے کو اپنے کلمات کے ذریعے ثابت فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 28
یہ ایک دوسرا انداز ہے جو ان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ اس دنیا میں بندوں پر اللہ کے فضل وکرم کے کئی رنگ ہیں۔ بعض اوقات سخت خشک سالی ہوجاتی ہے ، بارشیں بند ہوجاتی ہیں اور وہ زندگی کی پہلی ضرورت کی فراہمی سے بھی عاجز آجاتے ہیں ، زندگی کی پہلی ضرورت پانی ہے۔ حال یہاں تک آپہنچتی ہے کہ یہ مایوس ہونے لگتے ہیں ، اس کے بعد اللہ بارشیں برسا دیتا ہے۔ ان کی حاجت پوری ہوتی ہے۔ اللہ کی رحمت پھیل جاتی ہے ، زمین زندہ اور سر سبز و شاداب ہوجاتی ہے۔ بیج پھوٹنے لگتے ہیں ، نباتات اٹھنے لگتے ہیں۔ فضا لطیف ہوجاتی ہے۔ اور ہر طرف زندگی حرکت کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ چہرے کھل جاتے ہیں ، دل کھل جاتے ہیں ، امیدیں…
Read the full tafseer →1 یعنی بہت مرتبہ ظاہری اسباب و حالات پر نظر کر کے جب لوگ بارش سے مایوس ہوجاتے ہیں اس وقت حق تعالیٰ باران رحمت نازل فرماتا اور اپنی مہربانی کے آثار و برکات چاروں طرف پھیلا دیتا ہے۔ تاکہ بندوں پر ثابت ہوجائے کہ رزق کی طرح اسباب رزق بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں جیسے وہ روزی ایک خاص اندازہ سے عطا کرتا ہے، بارش بھی خاص اوقات اور خاص مقدار میں مرحمت فرماتا ہے۔ بات یہ ہے کہ سب کام اسی کے اختیار میں ہیں اور جو کچھ وہ کرے عین حکمت و صواب ہے کیونکہ تمام خوبیاں اور کمالات اس کی ذات میں جمع ہیں۔ اور ہر قسم کی کارسازی اور اعانت و امداد وہیں سے ہوسکتی ہے۔ (تنبیہ) اللہ کی رحمت وقدرت کی طرف سے مایوس ہوجانا…
Read the full tafseer →آیت 28 { وَہُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْم بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَیَنْشُرُ رَحْمَتَہٗ } ”اور وہی ہے جو بارش برساتا ہے اس کے بعد کہ لوگ مایوس ہوچکے ہوتے ہیں اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے۔“
خشک سالی میں فصلوں کی آبیاری کا وقت ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر جب کسانوں کے دلوں میں مایوسی کے سائے گہرے ہونے لگتے ہیں تو اچانک اللہ کی رحمت کا ظہور ہوتا ہے اور بادل بارش کی نوید لے کر پہنچ جاتے ہیں۔
{ وَہُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ } ”اور وہی ہے جو اپنے بندوں کا مددگار ہے اور وہ اپنی ذات میں آپ ستودہ صفات ہے۔“
Read the full tafseer →42 بارش اور مصنوعی آبپاشی کا تقابل :۔ زمین کو سیراب کرنے کا کام اگرچہ مصنوعی طریقوں سے یعنی کنوئیں، چشمے، نہر یا ٹیوب ویل کے پانی سے بھی چلا لیا جاتا ہے مگر ایک تو اس پر محنت اور خرچ بہت اٹھتا ہے دوسرے اس کے خوشگوار اثرات بارش کی نسبت بہت کمتر ہوتے ہیں۔ مصنوعی طریق آبپاشی کو اللہ کی رحمت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اللہ کی رحمت بارش ہے اور یہ ایک نہیں بیشمار نعمتوں جیسی نعمت ہے۔ پہلے راحت بخش اور ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں۔ جو انسان کو فطری سرور بخشتی ہیں اور اس کی مایوسی کو دور کرتی ہیں۔ بارش ہوتی ہے تو اس سے موسم میں خوشگوار تغیر آجاتا ہے۔ درختوں پر سے گردوغبار دھل جاتا ہے۔ مصنوعی آبپاشی کی طرح بارش…
Read the full tafseer →34۔ یہ کارساز، ستودوہ صفات اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ کوئی پانی برسانے والا دیوتا، اندر وغیرہ نہیں۔ (آیت) ” رحمتہ “۔ رحمت سے یہاں مراد بارش ہے۔ بعض نے تقدیر کلام اثار رحمۃ سمجھی ہے۔ یہ ترکیب مان کر مراد نباتات وثمرات سے ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
آیت نمبر 20 تا 29
ترجمہ : جس کا مقصد اپنے عمل سے آخرت کی کھیتی ہو، یعنی آخرت کی کمائی ہو اور وہ ثواب ہے تو ہم اس کی کھیتی میں (یعنی) نیکیوں میں دس گنے تک (بلکہ) اور اس سے بھی زیادہ اضافہ کر کے ترقی دیں گے اور جو دنیا کی کھیتی کی طلب رکھتا ہو تو ہم اسے اس میں سے بلا اضافے کے بقدر نصیب عطا کریں گے، ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں بلکہ مکہ کے ان کافروں نے کچھ شرکاء تجویز کر رکھے ہیں اور وہ شیاطین ہیں کہ ان شرکاء نے ان کافروں کے لئے دین فاسد تجویز کر رکھا ہے، جس کی خدا نے اجازت نہیں دی (اور وہ دین فاسد) شرک اور انکار بعث ہے اور اگر فیصلے کے دن کا وعدہ نہ ہوچکا ہوتا یعنی پہلے سے فیصلہ نہ ہوچکا…
Read the full tafseer →وھو الذی ینزل الغیث من بعد ما قنطوا وینشر رحمتہ وھو الولی الحمید اور وہ ایسا ہے
جو لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد مینہ برساتا ہے اور اپنی رحمت پھیلاتا ہے اور وہی (سب کا) کارساز ‘ مستحق ستائش ہے۔
الْغَیْثَ مفید بارش ‘ جو کال کے وقت مخلوق کی فریاد رسی کرتی ہے۔
رَحْمَتَہٗ رحمت سے مراد یا مینہ ہے یا وہ خداداد رزق جو میدانوں میں اور پہاڑوں پر پیدا ہوتا ہے ‘ یعنی نباتات اور جانور۔
الْوَلِیُّ کارساز ‘ بندوں پر احسان کرنے والا ‘ ذمہ دار۔
الْحَمِیْدُ مستحق ستائش۔ جس کی ذات فی نفسہٖ بھی مستحق حمد ہے اور چونکہ وہ محسن ہے ‘ اسلئے بھی مستحق ستائش ہے۔
Read the full tafseer →اور وہ ایسا ہے جو بارش سے ناامید ہوجانے کے بعد بارش برساتا ہے اور بارش کے ذریعے اپنی رحمت نازل کرتا ہے اور وہ کارساز ہے کہ ہر سال بارش برساتا ہے اور سب کاموں میں قابل تعریف ہے۔
Read the full tafseer →(1) وھو الذی ینزل الغیث من بعد ما قنطوا :”الغیث“ وہ بارش جو خشک سالی کے بعد آئے کیونکہ اس کے ذریعے سے لاچار اور بےبس انسانوں اور جانوروں کی مدد ہوتی ہے، جیسا کہ فرمایا :(ثم یاتی من بعد ذلک عامر فیہ یغاث الناس) (یوسف : 79)”پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا جس میں لوگوں پر بارش ہوگی۔“ یہ بیان کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو ان کی ضرورت سے زیادہ نہیں دیتا، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ ان کے تقاضے کے مطابق رزق میں اضافہ ان کی سرکشیا ور نظام عالم کی خرابی کا باعث ہے، یہ ذکر فرمایا کہ اگر انہیں بارش کی ضرورت ہو، جس پر تمام جان داروں کی زندگی کا دار و مدار ہے، خواہ انسان ہوں یا حیوان، چرند پرند ہوں یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
(آیت نمبر 27 )
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ آیت کے نزول کے بارے میں ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت اہل صفہ کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے رزق کی وسعت کے بارے میں سوال کیا تھا۔ حضرت حباب بن ارت نے کہا : یہ ہمارے بارے میں آیت نازل ہوئی ہم نے بنو نضیر ‘ بنو قریظہ اور بنو قینقاع کے اموال کو دیکھا تو ہم نے اس کی تمنا کی تو یہ آیت نازل ہوئی (1) ۔
ولو بسط اس کا معنی ہے وسیع کرنا۔ بسط الشیٔ کا معنی ہے اس کو پھیلادیا ‘ جب یہ لفظ سین کی بجائے صاد کے ساتھ ہو تب بھی اس کا یہی معنی ہوتا ہے۔
لبغوا فی الارض وہ سرکش ہوجاتے اور نافرمانی کرتے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : بغیھم سے مراد ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
1:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات بتائی گئی کہ ایک آدمی نے عمر ؓ سے کہا اے امیر المؤمنین ! بارش نہیں ہوئی اور لوگ مایوس ہوگئے عمر ؓ نے فرمایا تب تو ضرور تم پر بارش ہوگی اور یہ (آیت) پڑھی۔ وھو الذی ینزل الغیث من بعد ما قنطوا “ (اور وہ ایسا ہے جو لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد مینہ برساتا ہے)
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” من بعد ما قنطوا “ سے مراد ہے کہ (جب لوگ) مایوس ہوگئے۔
بارش کے وقت دعا کی قبولیت :
3:۔ ابن المنذر (رح) نے ثابت (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی کہ بارش کے وقت…
Read the full tafseer →وَهُوَ الَّذِيْ [ اور وہ، وہ ہے جو ] يُنَزِّلُ الْغَيْثَ [ اتارتا ہے بارش کو ] مِنْۢ بَعْدِ مَا [ اس کے بعد کہ جب ] [ قَنَطُوْا : وہ لوگ مایوس ہوئے ] [وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ ۭ [ اور وہ پھیلاتا ہے اپنی رحمت کو ] وَهُوَ الْوَلِيُّ [ اور وہ ہی کارساز ہے ] الْحَمِيْدُ [ حمد کیا ہوا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
آسمان و زمین اور چوپایوں کی تخلیق میں اللہ کی نشانیاں ہیں
ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی شان تخلیق اور شان ربوبیت بیان فرمائی ہے ارشاد فرمایا کہ انسانوں کا اور زمین کا پیدا فرمانا اور ان کے اندر جو جاندار چیزیں پیدا فرمائی اور پھیلائی ہیں ان کو وجود بخشنا یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی نشانیوں میں سے ہے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ یہ مخلوق جو آسمانوں میں اور زمین میں پھیلی ہوئی ہے کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ ان کو جمع کرنا کیسے ہوسکتا ہے ؟ ان کو جمع کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے اسے اس پر قدرت ہے کہ ان سب کو جمع فرما دے اور قیامت کے دن ایسا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–36
پیغام بشارت و رحمت برائے بندگان خدا درحالت یأس وناامیدی وذکر دلائل قدرت :
قال اللہ تعالیٰ : وھوالذی ینزل الغیث .......... الی ......... وعلی ربھم یتوکلون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں ایسے مجرمین ونافرمانوں کی مذمت تھی، جو خداوند عالم پر چھوٹ بہتان باندھتے ہوں اور ان کی ناکامی و محرومی کا بیان تھا اب ان آیات میں اللہ رب العالمین اپنی ایک خاص رحمت و عنایت کا ذکر فرما رہے ہیں کہ پروردگار عالم اپنی شان ربوبیت کے کس طرح اپنے بندوں پر مایوسی کے عالم میں بھی اپنی رحمت فرماتا ہے اس مضمون سے ایک طرف تو مجرمین کے بالمقابل مطیعین کے لیے رحمت و عنایت کا بیان ہے دوسری طرف آنحضرت ﷺ کے قلب مبارک سے اس رنج وغم کو…
Read the full tafseer →28:۔ ” وھو الذی ینزل “ یہ آیت پہلے دعوے سے متعلق ہے اور توحید پر پہلی عقلی دلیل ہے جب لوگ بارش سے نامید ہوجاتے ہیں اور انہیں خشک سالی کا اندیشہ لاحق ہوجاتا ہے، اس وقت اللہ تعالیٰ ہی باران رحمت نازل فرما کر اپنی رحمت کو عام کردیتا ہے۔ وہی تمام صفات الوہیت کا مالک اور وہی سب کا کارساز ہے۔ ” ومن ایاتہ الخ “ اس کی وحدانیت اور قدرت کاملہ کے دلائل میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا اور زمین دی اور جب چاہے سب کو اکٹھا بھی کرسکتا ہے اور جس طرح اس نے سب کو پہلی بار پیدا کرلیا اسی طرح وہ موت کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ ” فیھما “ ان دونوں میں حالانکہ جس جاندار مخلوق پر لفظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
ربط آیات
پہلے توحید ، معاد اور جزائے عمل کا ذکر ہوا ، اور نیک و بد آدمیوں کا انجام بیان کیا گیا ۔ پھر گزشتہ آیت میں رسالت کا ذکر تھا ۔ اللہ نے حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا لا اسئلکم علیہ اجرا ًمیں اس تبلیغ حق پر تم سے کوئی معاوضہ تو طلب نہیں کرتا ، میں تو صرف قرابتداری کا لحاظ چاہتا ہوں کہ کم از کم مجھے ایذاء تو نہ پہنچائو ۔ اب آج کی پہلی آیت بھی رسالت ہی کے تسلسل میں ہے۔ پھر آگے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں اور جزائے عمل کا تذکرہ ہے۔
افترا علی اللہ کی نفی
ارشاد ہوتا ہے امر یقولون افتری علی اللہ کذبا ً کیا یہ منکرین اور مکذبین کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی نے خدا تعالیٰ پر افتراء باندھا ہے ؟ یعنی…
Read the full tafseer →وَہُوَالَّذِيْ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَہٗ 0 ۭ وَہُوَالْوَلِيُّ الْحَمِيْدُ 28
نزل
النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ.
يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106]
( ن ز ل ) النزول ( ض )
اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
ترکیب : ام بمعنی بل فان یشاء اللہ خذلانک شرط یختم جو ابہ ولذاصارالفعل مخبروما، ویمح اللہ جملۃ مستانفۃ مقررۃ لماقبلھامن نفی الافتراء غیر داخلۃ الجزاء لقبل التوابۃ مفعول اول عن عبادہ مفعول ثان لان المقبول یعدی الی مفعول ثان بمن وعن لتضمۃ معنی الاخذوالانابۃ ویستجیب الذین مفعول فیستجیب بمعنی یجیب وقیل حذف اللام کمافی قولہ و اذا کالو ھم اے کالو الھم وقیل الذین فاعل یستجیب ای ینقادون
تفسیر : اس کے بعد بھی کہ آپ کسی سے اس تبلیغ کی اجرت نہیں مانگتے شبہ باقی رہنا یہ گمان کرنا ہے کہ آپ اپنی طرف سے بنا کر کہتے ہیں اللہ نے وحی نہیں کی اس لیے اس بدگمانی کو دفع کرتا ہے فقال ام یقولون افتری الخ اور یہ بھی…
Read the full tafseer →وَھُوَالَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْ م بَعْدِ مَاقَنَطُوْا وَیَنْشُرُ رَحْمَتَـہٗ ط وَھُوَالْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ ۔ (الشوری : 28)
(اور وہی ہے جو لوگوں کے مایوس ہوجانے کے بعد بارش نازل کرتا ہے اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے اور وہی حقیقی کارساز اور ستودہ صفات ہے۔ )
اوپر جو کچھ فرمایا گیا اس پر دلیل
اوپر جو کچھ فرمایا گیا ہے پیش نظر آیت کریمہ میں اس پر ایسی دلیل قائم کی گئی ہے جس سے ہر شخص کو واسطہ پڑتا ہے۔ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ ایک اندازے کے ساتھ بندوں پر رزق اتارتا ہے اور بندوں کو اس معاملے میں کچھ اختیار نہیں ہوتا کہ کس شخص کو کتنی دولت ملنی چاہیے اور کس شخص کو کتنی۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت و…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جو ” اللہ “ لوگوں کا رزق مقرر کرتا اور انہیں عطا کرتا ہے وہی آسمان سے بارش برساتا ہے۔
صرف ایک ” اللہ “ ہے جو لوگوں کے مایوس ہونے کے وقت آسمان سے بارش نازل کرتا ہے اور اس کے ذریعے اپنی رحمت بکھیر دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہی لوگوں کا والی اور خیرخواہ ہے جو ہر تعر یف کے لائق ہے۔ اس کے سوا کوئی بارش کا ایک قطرہ بھی نہیں برسا سکتا۔ بارش سراسر ” اللہ “ کی رحمت ہے۔ بالخصوص جب لوگ اس کے برسنے سے ناامید ہوجاتے ہی۔ تو پہلے ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں اور اس کے بعد موسلادھار بارش برستی ہے جس کے بارے میں ” یَنْشُرُ رَحْمَتَہٗ “ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ ” یَنْشُرُ “ کے لفظ پر غور…
Read the full tafseer →مایوسی کے بعد بارش :
28: وَھُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ (اور وہ ایسا ہے جو بارش نازل کرتا ہے) ۔
قراءت : یُنَزّلکو مدنی، شامی و عاصم نے پڑھا۔
مِنْم بَعْدِ مَاقَنَطُوْا (اس کے بعد کہ وہ مایوس ہوجاتے ہیں)
قراءت : قَنِطُوا پڑھا گیا ہے۔
وَیَنْشُرُ رَحْمَتَہٗ (وہ اپنی رحمت پھیلاتا ہے) رحمت سے مراد بارش کی برکات اور منافع اور اس سے جو سرسبزی حاصل ہوتی ہے۔
مقولہ فاروقی ؓ :
عمرفاروق ؓ سے کہا گیا۔ قحط زیادہ ہوگیا ہے اور لوگ مایوس ہوگئے تو آپ نے فرمایا اب بارش ملے گی انہوں نے اس آیت کی طرف اشارہ کیا یا انہوں نے ہر شئی میں اللہ تعالیٰ کی جو رحمت ہے اس کا ارادہ کیا۔ وَھُوَ الْوَلِیُّ (اور وہ کارساز…
Read the full tafseer →27، ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ، خباب بن ارت ؓ فرماتے ہیں کہ تو ہم نے اس کی تمنا کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی، ولوبسط اللہ الررز، اللہ تعالیٰ رزق کو کشادہ کریں ۔ ، لعبادہ لبغوا، تو وہ سرکشی کرتے ۔ ، فی الارض، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان کی سرکشی ان کا ایک گھر کے بعد دوسراگھر اور ایک سواری کے بعد دوسری سواری اور لباس کے بعد لباس طلب کرنا ہے۔
، ولکن یننزل، ان کے رزق۔ ، بقدرمایشائ، جیسے چاہتا ہے اپنے بندوں کی طرف نظر کرتے ہوئے اور حکمت کے ساتھ جو اس کی قدرت تقاضا کرتی ہے۔ ، انہ بعبادہ خبیر بصیر،
اولیاء اللہ کی توہین کرنے کا وبال
حضرت انس بن مالک ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بحوالہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
24۔ 29۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ محمد رسول اللہ ﷺ قرآن کی آیتیں خود بنا لیتے ہیں اور یہ مشہور کرتے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے مشرکین کی اس بات کا ایک جواب تو سورة بقر میں گزر چکا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ قرآن ان پڑھ رسول پر اترا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ ان پڑھ شخص تو درکنار کوئی پڑھا ہوا آدمی بھی بغیر آسمانی کتابوں کی مدد کے ایسی باتیں نہیں بتاسکتا اس سے ہر ایک سمجھ دار آدمی سمجھ سکتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ اسی بات کا یہاں یہ جواب دیا ہے کہ جھوٹ اللہ کو بہت ناپسند ہے۔ اسی واسطے قرآن کے مخالف لوگ قرآن کے مقابلہ میں جو جھوٹی باتیں کہتے ہیں ان کو دن بدن اللہ تعالیٰ مٹاتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
آیت 26
یہ اللہ تعالیٰ کے کمال فضل و کرم، اس کی وسعت جود اور اس کے لطف کامل کا بیان ہے کہ وہ اپنے بندوں سے صادر ہونے والی توبہ کو قبول کرتا ہے جب وہ گناہوں کو ترک کر کے ان پر نادم ہوتے ہیں اور ان گناہوں کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرلیتے ہیں۔ جب وہ اس توبہ میں خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کا قصد رکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس توبہ کو قبول کرتا ہے جبکہ یہ گناہ ہلاکت اور دنیاوی و آخروی عذاب کا سبب بن چکے تھے۔
(ویعفوا عن السیات) اللہ تعالیٰ برائیوں کو مٹا دیتا ہے، ان کے برے اثرات اور عقوبات کو بھی ختم کردیتا ہے جن کا تقاضا یہ برائیاں کرتی ہیں اور توبہ کرنے والا اللہ تعالیٰ کے نزدیک دوبارہ اچھے لوگوں کے زمرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–37
محبت برائے قرابت
قول باری ہے (قل لا اسئلکو علیہ اجر ا الا المودۃ فی القربی۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں طلب کرتا، ہاں رشتہ داری کی محبت ہو) حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد، قتادہ ضحاک اور سدی کا قول ہے کہ ” مگر یہ کہ تم مجھ سے اس بنا پر محبت رکھو کہ تمہارے ساتھ میری رشتہ داری اور قرابت ہے۔ “ ان حضرات کا قول ہے کہ قریش کے تمام خاندانوں اور حضور ﷺ کے درمیان قرابت تھی۔ علی بن الحسین اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” مگر یہ کہ تم میرے قرابت داروں سے محبت رکھو۔ “ حسن کا قول ہے۔” مگر یہ کہ عمل صالح کے ذریعے تم اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی دوستی حاصل کرو۔ “
Read the full tafseer →69 بارش کا اتارنا بھی اللہ ہی کے اختیار میں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ وہی ہے جو بارش اتارتا ہے اس کے بعد کہ لوگ مایوس ہوچکے ہوتے ہیں اور وہ ہر طرف پھیلا دیتا ہے اپنی رحمت اور اس کے آثار و نتائج کو اور وہی ہے کارساز اور ہر تعریف کے لائق "۔ سو جس طرح وہ جسمانی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے ظاہری بارش اتارتا ہے اسی طرح وہ دلوں کی زندگی و شادابی کے لئے وحی سماوی کی باران رحمت بھی نازل فرماتا ہے جس سے دلوں کی کھیتیاں زندئہ و تازہ اور ہری بھری ہوجاتی ہیں۔ اور جو اب اپنی کامل اور آخری شکل میں قرآن حکیم کی صورت میں قیامت تک کے لئے تمام بنی نوع انسان کی سیرابی و فیضیابی کے لئے موجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
رزق کی مناسب تقسیم حکمت الہٰی کے مطابق
تشریح : ان آیات سے معلوم ہوا کہ دنیا میں رزق کی مناسب تقسیم حکمت الٰہی کے مطابق ہے اگر اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کو ان کے رزق میں وسعت دے دیتا ان کی ضروریات سے زیادہ انہیں عطا کردیتا تو وہ خرمستی میں آکر ہلڑ مچادیتے اور دنیا کے امن کو تباہ وبرباد کردیتے اور ایک دوسرے کو آگ لگا کر پھونک دیتے، بھون کھاتے، سرکشی اور بغاوت کرتے تکبر اور بےپرواہی میں حد سے آگے بڑھ جاتے یہ سب حکمت الٰہی کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے نبدوں کو مناسب رزق عطا فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
آیات 20 تا 29۔
جو کوئی اپنی محنت کا پھل آخرت میں چاہتا ہے تو اس کے انعامات اور اجر اور زیادہ بڑھادیے جاتے ہیں اور وہ اپنی طلب سے بھی زیادہ پاتا ہے اور جو شخص صرف حصول دنیا کے لیے کوشش کرتا ہے اسے دنیا میں سے کچھ نہ کچھ عطا کردیا جاتا ہے یعنی ضروری نہیں کہ جس انداز یاجتنی مقدار میں اس کی خواہش ہے اسے مل جائے بلکہ یہ اللہ کی مرضی کہ اس کا نصیبہ کیا مقرر کیا ہے وہی ملتا ہے جبکہ یہ سب آخرت کے طلب گار کو بھی ملتا ہے۔ مگر آخرت چھوڑ کر صرف دنیا کے طالب کی خواہش دنیا میں پوری نہیں ہوتی اور آخرت سے محروم رہ جاتا ہے کہ آخرت پر ایمان ہی نہ تھا لہذا آخرت میں کچھ نہیں پاتاگویا مومن دنیا کا کام بھی طلب…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی مینہ برستا ہے اور زمین آباد ہوجاتی ہے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ لوگ سمجھ لیں کہ مینہ برسانا بھی صرف اللہ کے اختیار میں ہے اور پھر مایوسی کے بعد بارش کی خوشی بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ گویا بندوں کو شکر کی دعوت ہے۔
Read the full tafseer →(42:28) ینزل ملاحظہ ہو آیت سابقہ۔
الغیث : بارش۔ غاث یغیث غیث (باب ضرب) مصدر۔ اجوف یائی ہے۔ یہ فعل متعدی ہے۔ کہا جاتا ہے غاثنی : اس نے مجھ پر بارش کی۔ اس کے مشابہ لفظ غوث ہے جو اجوف دادی ہے۔ غوث سے اغاث یغیث (باب افعال) ماضی و مضارع آتا ہے۔ باب استفعال میں پہنچ کر دونوں کی شکل ظاہری ایک ہوجاتی ہے یعنی استغاث یستغیث مدد طلب کرنا۔ یا بارش طلب کرنا۔ قرآن مجید کی آیت وان یستغیثوا یغاثوا بماء کالمہل (18:29) میں دونوں معنی کا احتمال ہے یعنی جب دوزخی مدد طلب کریں یا پانی مانگیں گے تو پگھلے ہوئے تانبے کا پانی ان کو دیا جائے گا۔ یا پگھلے ہوئے تابنے کا پانی دے کر ان کی فریاد رسی کی جائے گی۔
یغاثوا فعل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 29 : افتری (اس نے گھڑ لیا ، بنا لیا) یختم (وہ مہر لگا دیتا ہے) یمح (وہ مٹا ڈالتا ہے) السیئات (خطائیں ، برائیاں) بسط (اس نے کھول دیا) بغوا ( انہوں نے سر کشی ، نافرمانی کی) الغیث ( بارش) قنطوا (وہ مایوس ہوگئے) ینشرا (وہ پھیلاتا ہے) بت (اس نے پھیلا دیا ، اس نے بکھیر دیا)
تشریح : آیت نمبر 24 تا 29 : قرآن کریم کی عظیم تعلیم نبی کریم ﷺ کی اعلیٰ سیرت و کردار اور اس کے اثرات کو مشرکین اور کفاراچھی طرح جانتے اور سمجھتے تھے مگر محض اپنے دلی بغض ، حسد ، ضد اور ہٹ دھرمی ان کو مخالفت کے طوفان کی طرف دھکیل کرلے جاتی تھی وہ اپنی شرمندگی کو سمجھتے تھے مگر محض اپنے دلی بغض ، حسد ،…
Read the full tafseer →(ف 1) اس آیت میں مینہ کے برسنے کا، آسمان و زمین اور آسمان و زمین کی مخلوقات کے پیدا کرنے کا ذکر فرما کر منکرین حشر کو یوں قائل کیا کہ جس صاحب قدرت نے پہلی دفعہ یہ سب کچھ پیدا کیا، دوبارہ پیدا کرنا بھی اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے کہ کیونکہ یہ ہر شخص کا عقلی تجربہ ہے کہ جو کام ایک دفعہ کیا جاچکا وہ دوسری دفعہ آسانی سے کیا جاسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
[19] یعنی جیسے نعمتیں ایک خاص اندازے اور خاص حالات کی رعایت سے دی جاتی ہیں، مصائب کا نزول بھی خاص اسباب و ضوابط کے تحت ہوتا ہے۔ مثلاً انسان کو جو کوئی سختی یا مصیبت آئے اس کا سبب قریب یا بعید انسان کے اپنے بعض اعمال و افعال ہوتے ہیں گویا دنیا کی ہر مصیبت لوگوں کے بعض اعمال ماضیہ کا نتیجہ ہے اور مستقبل میں ان کے لئے تنبیہہ اور امتحان کا موقع بہم پہنچاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–36
آیت 27 تا 36:
حل لغات :۔ بقدر ۔ یعنی ایک انداز کے ساتھ اس طرح کہ کائنات کا نظام باقی رہے اقنطوا ۔ مایوس ہوگئے ۔ قنوط سے ہے ۔ بمعنی مایوسی بٹ ۔ پھیلایا ۔ منتشر کیا دابۃ ۔ حیوان زمین پرچلنے والے جانور ۔ حل لغات :۔ کالا علام ۔ پہاڑوں کی طرح اعلام ۔ جمع علم کی ہے یوبھن ۔ تباہ کردے ۔
مادیات میں غور وفکر
1: قرآن حکیم اس بات پر بڑا زور دیات ہے ۔ کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ان فیوض کو غورو تعمق کی نظر سے دیکھیں جو کارگاہ حیات کو زندگی بخش رہے ہیں ۔ اس کے نزدیک جس طرح یہ ضروری ہے ۔ کہ شریعت اور فقہ کا مطالعہ کیا جائے ۔ معاشری قوانین کی افادیت پر غور کیا جائے ۔ اور سیاست واخلاق کے مسائل کو زیر بحث لایا…
Read the full tafseer →(28) اور وہی ہے جو لوگوں کے ناامید ہوئے پیچھے مینہ برساتا ہے اور اپنی رحمت عام طور پر پھیلاتا ہے اور وہی کارساز اور سزاوار حمدوثنا اور سب خوبیوں سراہا ہے۔ یعنی بسا اوقات لوگ بارش سے ناامید ہوجاتے ہیں تو وہ منہ برساتا ہے اور بارش کردیتا ہے اور اپنی رحمت کے نشانات عام طور سے پھیلاتا ہے یعنی نباتات کی بہتات ہوتی ہے پھول اور پھل بکثرت پیدا ہوتے ہیں یہی اس کی رحمت کے آثار اور نشانات ہیں بھی، ولی، کارساز حمید محمود بالصفات الکاملہ سب خوبیوں سے متصف اور سزاوار حمدوثنا ہے۔
Read the full tafseer →ف 1۔ مراد آثار سے نباتات اور ثمرات ہیں۔
2۔ پس اوپر کی تین صفتوں کے ساتھ تین صفتیں اور ثابت ہوئیں، رحیم، ولی، حمید۔
Read the full tafseer →لوگوں کی احتیاج کو پورا کرنے کے لیے بارش کو برساتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہی برساتا ہے
28 ؎ انسان جوں جوں ترقی کرتا ہے اس کی ساری ترقیاں اس بات کی دلیل ہیں کہ انسان کہاں سے کہاں پہنچ جائے لیکن اس کی محتاجی کبھی ختم نہیں ہو سیتا۔ وہ جتنے وسائل بروئے کار لاسکتا ہے لاتا جائے اور جتنی ترقیاں کرسکتا ہے کرتا جائے پھر بھی وہ محتاج کام حتاج ہے پھر تعجب ہے کہ جوں جوں ترقی کرتا جائے اس کی احتیاج اسی قدر بڑھتی چلی جائے۔ اس نے اس دنیا کا نظام بھی کچھ اس طرح بنایا ہے کہ انسان کی طلب کبھی ختم نہیں ہو سکتی اِلاّ یہ کہ اس زمین کی مٹی اس کے منہ کو بند کر دے اور وہ کبھی بول ہی نہ سکے۔ غور کرو کہ اس نے دریا بہائے ،…
Read the full tafseer →وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِن بَعْدِ مَا قَنَطُوا (And He is the One who sends down rain after they have lost hope - 42:28) ". It is usual for Allah Almighty to send down rain whenever the earth is in severe need of water. But by saying "after they have lost hope", attention is being drawn towards the fact that sometimes Allah Almighty, in deviation from His usual norm, delays sending down rain so much that people begin losing hope. Apart from trial, such a happening is to warn that rain and famine are all in the power of Allah Ta’ ala; whenever He wants, He stops rain because of…
Read the full tafseer →49 Here, the word wali implies the Being who is the Governor of the affairs of all His creations, Who has taken the responsibility of fulfilling all the needs and requirements of His servants.
Read the full tafseer →