Explained with ayahs 29–31
آفات اور تکالیف سے خطاؤں کی معافی ہوتی ہے
اللہ تعالیٰ کی عظمت قدرت اور سلطنت کا بیان ہو رہا ہے کہ آسمان و زمین اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اور ان میں کئی ساری مخلوق بھی اسی کی پیدا کی ہوئی ہے فرشتے انسان جنات اور مختلف قسموں کے حیوانات جو کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں قیامت کے دن وہ ان سب کو ایک ہی میدان میں جمع کرے گا۔ جبکہ ان کے حواس گم ہوچکے ہوں گے اور ان میں عدل و انصاف کیا جائے گا پھر فرماتا ہے لوگو تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ سب دراصل تمہارے اپنے کئے گناہوں کا بدلہ ہیں اور ابھی تو وہ غفور و رحیم اللہ تمہاری بہت سی حکم عدولیوں سے چشم پوشی فرماتا ہے اور انہیں معاف فرما دیتا ہے اگر ہر اک…
Read the full tafseer →سورة الشُّوْرٰی 50
یعنی زمین میں بھی اور آسمانوں میں بھی۔ یہ کھلا اشارہ ہے اس طرف کہ زندگی صرف زمین پر ہی نہیں پائی جاتی، بلکہ دوسرے سیاروں میں بھی جاندار مخلوقات موجود ہیں۔
سورة الشُّوْرٰی 51
یعنی جس طرح وہ انہیں پھیلا دینے پر قادر ہے اسی طرح وہ انہیں جمع کرلینے پر بھی قادر ہے، لہٰذا یہ خیال کرنا غلط ہے کہ قیامت نہیں آسکتی اور تمام اولین و آخرین کو بیک وقت اٹھا کر اکٹھا نہیں کیا جاسکتا۔
Read the full tafseer →وَمَا بَثَّ فِيْهِمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ ۭ۔ دابة اصل لغت میں ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو اپنے اختیار سے چلنے اور حرکت کرنے والی ہو، بعد میں یہ لفظ صرف جانوروں کے لئے استعمال ہونے لگا ہے۔ اس آیت میں آسمان اور زمین دونوں کی طرف نسبت کر کے یہ کہا گیا ہے کہ ان میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی چلنے والی مخلوقات پیدا کی ہیں۔ زمین پر چلنے والی مخلوقات تو ظاہر ہیں، آسمان میں ان سے مراد ملائکہ بھی ہو سکتے ہیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ آسمانوں میں کچھ ایسے جانور موجود ہوں جو ابھی تک انسان کے علم میں نہیں آسکے۔
بہرکیف، مقصد یہ ہے کہ گو نظام عالم کی مصلحت ہے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو مال و دولت میں وسعت عطا نہیں کی،…
Read the full tafseer →ومن ایتہ خلق السموت والارض وما بث فیھما من دآبۃ وھو علی جمھم اذا یشآء قدیر (29)
ایک اور مغالطے کی اصلاح
یعنی کسی کو یہ مغالطہ بھی نہیں ہونا چاہئے کہ ان کو عذاب و قیامت سے جو ڈرایا جا رہا ہے یہ محض ڈھم کی ہے جس خدا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے وہ لوگوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر بدرجہ اولی قادر ہے۔ یہ وہی دلیل ہے جو دوسرے مقام میں یوں ارشاد ہوئی، انتم اشد خلقا ام السمآء بنھا (النزعت :37) (کیا تمہارا پیدا کرتا زیادہ مشکل ہے۔ یا اس آسمان کا جس کو بلند کیا۔)
لفظ دآبۃ زمین کی جاندار چیزوں کے لئے آتا ہے اس وجہ سے ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ کیا آسمانوں میں بھی اس طرح کی کوئی مخلوق…
Read the full tafseer →29۔ 1 یعنی روئے زمین پر پھیلے ہوئے، جن و انس تمام جاندار حیوانات شامل ہیں ان سب کو اللہ تعالیٰ قیامت والے دن ایک ہی میدان میں جمع فرما دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–39
7: یعنی اگر (معاذاللہ) آنحضرت ﷺ اپنی طرف سے گھڑ کر یہ قرآن بنا رہے ہوتے تو اللہ تعالیٰ آپ کے دل پر مہر لگا دیتا ، جس کی وجہ سے آپ کو ایسا کلام پیش کرنے پر قدرت ہی نہ ہوتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نبوت کا جھوٹا دعوی کرے تو اس کی بات کو چلنے نہیں دیتے، اور باطل کو مٹا دیتے ہیں، اس کے برعکس سچے نبی کے دعوے کو اپنے کلمات کے ذریعے ثابت فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
آیت نمبر 29 تا 31
یہ نشانی ہر وقت انسانی نظروں کے سامنے ہے اور جب وحی آئی تو اس نے اس کی شہادت دی۔ وحی میں تو انہوں نے شک کیا اور جھگڑتے رہے لیکن آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی جو نشانی کی جو نشانی ہے اس میں تو کوئی شک نہیں وہ تو قطعی الدلالہ ہے۔ یہ فطرت انسانی کو فطری زبان میں خطاب کرتی ہے۔ کوئی سنجیدہ گفتگو کرنے والا اس کے بارے میں کوئی اختلاف رائے نہیں رکھ سکتا۔ یہ نشانی یہ بتاتی ہے کہ جس ذات نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی ہے وہ انسان نہیں ہے۔ نہ اللہ کی مخلوق میں سے کوئی اس نشانی کا خالق نظر آتا ہے۔ لہٰذا کسی خالق و مدبر کے تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں ہے۔ اس کائنات کی ہولناک…
Read the full tafseer →2 یعنی جس طرح رزق پہنچانا اور اس کے اسباب (بارش وغیرہ کا) مہیا کرنا اس کے قبضہ میں ہیں۔ ان اسباب کے اسباب سماویہ و ارضیہ اور ان کے آثار و نتائج بھی اسی کی مخلوق ہیں۔
3 آیت سے ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی طرح آسمانوں پر بھی جانوروں کی قسم سے کوئی مخلوق پائی جاتی ہے۔
4 یعنی جس نے بکھیرے وہ سب کو اکٹھا کرسکتا ہے۔ اور یہ قیامت کے دن ہوگا۔
Read the full tafseer →آیت 29 { وَمِنْ اٰیٰتِہٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَثَّ فِیْہِمَا مِنْ دَآبَّۃٍ } ”اور اس کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور ان دونوں میں اس نے جو جان دار پھیلادیے ہیں۔“
یعنی آسمانوں میں فرشتے جبکہ زمین اور اس کی فضا میں موجود بیشمار مخلوقات اس کی نشانیوں میں سے ہیں۔
{ وَہُوَ عَلٰی جَمْعِہِمْ اِذَا یَشَآئُ قَدِیْرٌ} ”اور وہ جب چاہے ان سب کو جمع کرنے پر قادر ہے۔“
اس نے اپنی مرضی اور مشیت سے ان سب کو زمین و آسمان کی وسعتوں میں پھیلا رکھا ہے۔ البتہ جب وہ چاہے گا ان سب کو اپنے حضور حاضر کرلے گا۔
Read the full tafseer →43 اس جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمانوں میں اللہ کی بیشمار مخلوق موجود ہے۔ جن میں فرشتے سرفہرست ہیں اور درمیانی فضا میں بھی۔ اور اگر آسمانوں اور زمین سے مراد پوری کائنات لی جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جاندار مخلوق صرف زمین پر ہی موجود نہیں بلکہ اور بھی کئی اجرام میں موجود ہے۔ جس کا انسان کو تاحال علم نہیں ہوسکا۔
44 یعنی اگر وہ اپنی مخلوق مثلاً انسان کو تمام روئے زمین پر بکھیر سکتا ہے تو پھر انہیں اکٹھا بھی کرسکتا ہے اور اکٹھا کرکے اپنے حضور حاضر بھی کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →35۔ (چنانچہ قیامت کے دن سب کو دوبارہ زندہ کرکے اکٹھا کرے گا) (آیت) ” فیھما من دآبۃ “۔ سے یہ لازم نہیں آتا کہ دو جگہیں فردا فردا مراد ہوں بلکہ ہوسکتا ہے کہ صرف دونوں کا مجموعہ مراد ہو۔ اور وجود حیوانات کا مستقر مانا ہے جائے تو جنت میں تو آخر حیوانات ہیں ہی۔” اور اگر (آیت) ” دآبۃ “۔ مجازا بمعنی مطلق ذی روح لیاجائے تب تو آسمان پر ملائکہ کا ذی روح ہونا ظاہر ہے “۔ (تھانوی (رح) ستاروں میں حیوانی آبادی اگر کسی دلیل قوی سے ثابت ہوجائے تو آیت کے معنی پر مزید روشنی پڑجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
آیت نمبر 20 تا 29
ترجمہ : جس کا مقصد اپنے عمل سے آخرت کی کھیتی ہو، یعنی آخرت کی کمائی ہو اور وہ ثواب ہے تو ہم اس کی کھیتی میں (یعنی) نیکیوں میں دس گنے تک (بلکہ) اور اس سے بھی زیادہ اضافہ کر کے ترقی دیں گے اور جو دنیا کی کھیتی کی طلب رکھتا ہو تو ہم اسے اس میں سے بلا اضافے کے بقدر نصیب عطا کریں گے، ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں بلکہ مکہ کے ان کافروں نے کچھ شرکاء تجویز کر رکھے ہیں اور وہ شیاطین ہیں کہ ان شرکاء نے ان کافروں کے لئے دین فاسد تجویز کر رکھا ہے، جس کی خدا نے اجازت نہیں دی (اور وہ دین فاسد) شرک اور انکار بعث ہے اور اگر فیصلے کے دن کا وعدہ نہ ہوچکا ہوتا یعنی پہلے سے فیصلہ نہ ہوچکا…
Read the full tafseer →ومن ایتہ خلق السموت والارض ومابث فیہمامن دابۃ وھو علی جمعھم اذا یشاء قدیر
اور منجملہ اس کی نشانیوں کے آسمانوں کا اور زمین کا اور ان جانداروں کا پیدا کرنا جن کو اس نے آسمان و زمین میں پھیلا رکھا ہے اور وہ جب چاہے ان کو جمع کرنے پر قادر ہے۔
وَمِنْ اٰیٰتِہٖ اور اللہ کے وجود ‘ وحدانیت ‘ قدرت اور صفات کاملہ کی نشانیوں میں سے آسمان و زمین کو پیدا کرنا بھی ہے۔ آسمان و زمین کی ذات ‘ کیفیات اور حالات اللہ کے وجود پر اور خالق و صانع اور قادر و دانا ہونے پر دلالت کر رہی ہیں۔
مِنْ دَآبَّۃً ‘ دابّہ سے مراد ہے جاندار (دابۃ کا لغوی معنی ہے رینگنے والا اور زندگی ہی رینگنے کا سبب ہے) پس مسبب بول کر سبب مراد…
Read the full tafseer →اور اس کی وحدانیت اور قدرت کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا ہے اور ان جانداروں کا پیدا کرنا ہے جو کہ اس نے زمین میں پھیلا رکھے ہیں یہ سب تمہارے لیے نشانیاں ہیں اور وہ ان سب کے زندہ کرنے پر بھی جب چاہے قدر ہے۔
Read the full tafseer →(1) ومن ایتہ خلق السموت والارض : اس کی تفسیر متعدد مقامات پر گزر چکی ہے۔
(2) وما بث فیھما من دآبۃ :”’ آبۃ“ ”’ دب بدب دبا و دبیبا“ (ض) سے اسم فاعل ہے۔ یہ لفظ ”’ اب“ کا مونث ہے، مگر مذکر و مونث دونوں کے لئے استعمال ہتا ہے۔ جمع ”’ واب“ ہے، کیونکہ اس میں تاء وحدت کے لئے ہے، یعنی چلنے والا جانور خواہ سانپ کی طرح پیٹ کے بل چلے یا دو یا چار ٹانگوں پر چلے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(واللہ خلق کل دآبۃ من مآء فمنھم من یمشی علی بطنہ ومنھم من یمشی علی رجلین ومنھم من یمشی علی اربح، یخلق اللہ مایشآء ان اللہ علی کل شیء قدیر) (النور : 75) ”اور اللہ نے ہر چلنے والا (جاندار) ایک قسم کے پانی سے پیدا کیا، پھر ان…
Read the full tafseer →(آیت نمبر 29 )
آیات سے مراد وہ علامات ہیں جو اس کی قدرت کی دلالت کرتی ہیں من دآبۃ میں فرشتے اور انسان بھی داخل ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ویخلق مالا تعلمون۔ (النحل) فراء نے کہا : یہاں مراد زمین میں پھیلائی جانے والی چیزیں ہیں نہ کہ وہ چیزیں جو آسمان میں ہیں جس طرح یہ فرمان ہے یخرج منھما اللؤ لؤ والمرجان۔ (الرحمن) یہ نمکین سمندر سے نکلتے ہیں میٹھے سمندر سے نہیں نکلتے ہیں۔ ابو علی نے کہا : اس کی تقدیر یوں ہے جو ان میں سے ایک میں پھیلائیں ‘ تو مضاف کو حذف کردیا گیا یخرج منھما یعنی من احمد ھما قیامت کے روز ان کے جمع کرنے پر قادر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
1:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات بتائی گئی کہ ایک آدمی نے عمر ؓ سے کہا اے امیر المؤمنین ! بارش نہیں ہوئی اور لوگ مایوس ہوگئے عمر ؓ نے فرمایا تب تو ضرور تم پر بارش ہوگی اور یہ (آیت) پڑھی۔ وھو الذی ینزل الغیث من بعد ما قنطوا “ (اور وہ ایسا ہے جو لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد مینہ برساتا ہے)
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” من بعد ما قنطوا “ سے مراد ہے کہ (جب لوگ) مایوس ہوگئے۔
بارش کے وقت دعا کی قبولیت :
3:۔ ابن المنذر (رح) نے ثابت (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی کہ بارش کے وقت…
Read the full tafseer →وَمِنْ اٰيٰتِهٖ [ اور اس کی نشانیوں میں سے ہے ] خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [ زمین اور آسمانوں کا پیدا کرنا ] وَمَا [ اور وہ (بھی ) جو ] بَثَّ [ اس نے بکھیرا ] فِيْهِمَا [ ان دونوں میں ] مِنْ دَاۗبَّةٍ ۭ [ چلنے والے جاندار میں سے ] وَهُوَ [اور وہ ] عَلٰي جَمْعِهِمْ [ ان سب کو جمع کرنے پر ] اِذَا يَشَاۗءُ [ جب بھی وہ چاہے گا ] قَدِيْرٌ [ قدرت رکھنے والا ہے ]
نوٹ ۔ 1: دابۃ لغت میں ہراس چیز کو کہتے ہیں جو اپنے اختیار سے چلنے اور حرکت کرنے والی ہو ۔ اس آیت میں (آیت ۔ 29) آسمان اور زمین دونوں کی طرف نسبت کرکے (فیہما ) یہ کہا گیا ہے کہ ان میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی چلنے والی مخلوقات پیدا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
آسمان و زمین اور چوپایوں کی تخلیق میں اللہ کی نشانیاں ہیں
ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی شان تخلیق اور شان ربوبیت بیان فرمائی ہے ارشاد فرمایا کہ انسانوں کا اور زمین کا پیدا فرمانا اور ان کے اندر جو جاندار چیزیں پیدا فرمائی اور پھیلائی ہیں ان کو وجود بخشنا یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی نشانیوں میں سے ہے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ یہ مخلوق جو آسمانوں میں اور زمین میں پھیلی ہوئی ہے کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ ان کو جمع کرنا کیسے ہوسکتا ہے ؟ ان کو جمع کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے اسے اس پر قدرت ہے کہ ان سب کو جمع فرما دے اور قیامت کے دن ایسا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–36
پیغام بشارت و رحمت برائے بندگان خدا درحالت یأس وناامیدی وذکر دلائل قدرت :
قال اللہ تعالیٰ : وھوالذی ینزل الغیث .......... الی ......... وعلی ربھم یتوکلون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں ایسے مجرمین ونافرمانوں کی مذمت تھی، جو خداوند عالم پر چھوٹ بہتان باندھتے ہوں اور ان کی ناکامی و محرومی کا بیان تھا اب ان آیات میں اللہ رب العالمین اپنی ایک خاص رحمت و عنایت کا ذکر فرما رہے ہیں کہ پروردگار عالم اپنی شان ربوبیت کے کس طرح اپنے بندوں پر مایوسی کے عالم میں بھی اپنی رحمت فرماتا ہے اس مضمون سے ایک طرف تو مجرمین کے بالمقابل مطیعین کے لیے رحمت و عنایت کا بیان ہے دوسری طرف آنحضرت ﷺ کے قلب مبارک سے اس رنج وغم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
29:۔ ” وما اصابکم “ تا ” فمتاع الحیوۃ الدنیا “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ مصیبت سے مراد مشرکین کے لیے عذاب دنیوی ہے جو ان کے عناد و تعنت اور مشرکانہ اعمال کی سزا ہے اور مؤمن کے لیے وہ تکلیفیں مراد ہیں جو بطور امتحان و ابتلاء یا بطور کفارہ گناہ اس پر آتی ہیں۔ یہ مضمون قرآن مجید کی متعدد آیتوں میں مذکور ہے۔ (1) ظہر الفساد فی البرو البحر بما کسبت ایدی الناس لیذیقہم بعض الذی عملوا لعلہم یرجعون (روم رکوع 5) ۔ (2) ما اصاب من مصیبۃ الا باذن اللہ (تغابن رکوع 2) ۔ (3) وما اصاب من مصیبۃ قد اصبتم مثلیھا (آل عمران رکوع 17) ۔ (5) ۔ وما اصابکم یوم التقی الجمعان فباذن اللہ۔ ان تمام آیتوں سے مراد یا مشرکین کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
ربط آیات
پہلے توحید ، معاد اور جزائے عمل کا ذکر ہوا ، اور نیک و بد آدمیوں کا انجام بیان کیا گیا ۔ پھر گزشتہ آیت میں رسالت کا ذکر تھا ۔ اللہ نے حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا لا اسئلکم علیہ اجرا ًمیں اس تبلیغ حق پر تم سے کوئی معاوضہ تو طلب نہیں کرتا ، میں تو صرف قرابتداری کا لحاظ چاہتا ہوں کہ کم از کم مجھے ایذاء تو نہ پہنچائو ۔ اب آج کی پہلی آیت بھی رسالت ہی کے تسلسل میں ہے۔ پھر آگے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں اور جزائے عمل کا تذکرہ ہے۔
افترا علی اللہ کی نفی
ارشاد ہوتا ہے امر یقولون افتری علی اللہ کذبا ً کیا یہ منکرین اور مکذبین کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی نے خدا تعالیٰ پر افتراء باندھا ہے ؟ یعنی…
Read the full tafseer →وَمِنْ اٰيٰتِہٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَثَّ فِيْہِمَا مِنْ دَاۗبَّۃٍ 0 ۭ وَہُوَعَلٰي جَمْعِہِمْ اِذَا يَشَاۗءُ قَدِيْرٌ 29 ۧ
الآية
والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع .
الایۃ ۔
اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو…
Read the full tafseer →1 ؎ مابث فیھا من وآبۃ پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ آسمانوں میں تو ملائکہ ہیں ان کے حق میں دبیب نہیں پایا جاتا ہے نہ ان کو دابۃ کہتے ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ تغلیبافیہما کا لفظ بولا گیا جیسا کہ چاند اور سورج کو قمرین کہتے ہیں ماں باپ کو ابوین اور دبیب کے معنی خاص طور پر چلنا ہی نہیں بلکہ جس کے لیے جیسا چلنا مناسب ہو پس فرشتے بھی آسمانوں میں چلتے پھرتے ہیں یا وہاں بھی حیوانات ہوں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَمِنْ اٰیٰـتِہٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَثَّ فِیْھِمَا مِنْ دَآ بَّۃٍ ط وَھُوَعَلٰی جَمْعِھِمْ اِذَا یَشَآئُ قَدِیْرٌ۔ (الشوری : 29)
(اور اس کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور جو اس نے ان دونوں میں جاندار مخلوقات پھیلا رکھی ہیں اور وہ ان کے جمع کرنے پر بھی قادر ہے جب ان کو جمع کرنا چاہے۔ )
مخالفین کو ترہیب
آنحضرت ﷺ کی دعوت میں ترغیب کے ساتھ ساتھ ترہیب سے بھی باقاعدہ کام لیا جاتا ہے۔ اور بار بار مخالفین کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ اگر تم نے اپنے رویئے کو بدلنے کی کوشش نہ کی تو سوچ لو پھر قیامت کے دن اس کا کیا جواب دو گے۔ اور اگر تمہاری سرکشی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلی آیات میں رزق اور بارش کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ یہ آسمان سے نازل ہوتے ہیں۔ رزق اور بارش کا تعلق زمین کے ساتھ بھی ہے اس لیے زمینوں آسمانوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیاں قرار دیا ہے۔ جس طرح بارش اللہ کی قدرت کی نشانی ہے اسی طرح چوپائے بھی اس کی قدرت کا کرشمہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں کی ہیت اور تخلیق کے بارے میں بارہا دفعہ ارشاد فرمایا ہے کہ لوگو ! ان پر غور کرو کہ زمین و آسمان کی تخلیق کس طرح ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں کس طرح قائم کر رکھا ہے اور پھر ان دونوں میں بیشمار مخلوقات کو پھیلا دیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے لشکر ہیں جنہیں اللہ…
Read the full tafseer →چلنے والے جاندار آسمان و زمین میں :
29: وَمِنْ ٰایٰتِہٖ (من جملہ اور اس کی نشانیوں میں سے) یعنی علامات قدرت میں سے خَلقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (آسمان و زمین کا پیدا کرنا ہے) ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود۔ وَمَا بَثَّ (اور وہ جاندار جو اس نے پھیلا دیے) ما جائز ہے کہ مرفوع ہو اور مجرور ہو مضاف پر محمول کر کے یا مضاف الیہ پر فِیْھِمَا ( آسمانوں اور زمین میں) مِنْ دَآ بَّۃٍ دواب تو صرف زمین کے اندر ہیں مگر کسی چیز کو مجموعہ کی طرف منسوب کرنا جائز ہے اگرچہ وہ بعض سے متعلق ہو۔ جیسا کہا جاتا ہے بنو تمیم فیھم شاعر مجید انما ھو فخذ من افخاذ ھم۔ بنو تمیم میں شاعر وہ ایک قبیلہ ہے ان کے قبائل میں سے۔…
Read the full tafseer →تفسیر 28۔ ، وھو الذی ینزل الغیب، بارش، من بعد ماقنطوا، یعنی لوگوں کے اس سے مایوس ہونے کے بعد ۔ اور یہ چیزان کو شکر کی طرف داعی ہے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ سے سات سال بارش کو روکے رکھا یہاں تک کہ وہ ناامید ہوگئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بارش برسائی اور ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت یاددلائی۔ ، وینشررحمۃ، اپنی بارش کو برساتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا، وھوالذی یرسل الریاح بشرابین یدی رحمۃ،۔۔۔۔۔۔۔۔ ، وھوالولی، اس کی اطاعت کرنے والوں کے لیے۔ ، ا (رح) لحمید، اپنی مخلوق کے ہاں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
24۔ 29۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ محمد رسول اللہ ﷺ قرآن کی آیتیں خود بنا لیتے ہیں اور یہ مشہور کرتے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے مشرکین کی اس بات کا ایک جواب تو سورة بقر میں گزر چکا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ قرآن ان پڑھ رسول پر اترا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ ان پڑھ شخص تو درکنار کوئی پڑھا ہوا آدمی بھی بغیر آسمانی کتابوں کی مدد کے ایسی باتیں نہیں بتاسکتا اس سے ہر ایک سمجھ دار آدمی سمجھ سکتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ اسی بات کا یہاں یہ جواب دیا ہے کہ جھوٹ اللہ کو بہت ناپسند ہے۔ اسی واسطے قرآن کے مخالف لوگ قرآن کے مقابلہ میں جو جھوٹی باتیں کہتے ہیں ان کو دن بدن اللہ تعالیٰ مٹاتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
آیت 26
یہ اللہ تعالیٰ کے کمال فضل و کرم، اس کی وسعت جود اور اس کے لطف کامل کا بیان ہے کہ وہ اپنے بندوں سے صادر ہونے والی توبہ کو قبول کرتا ہے جب وہ گناہوں کو ترک کر کے ان پر نادم ہوتے ہیں اور ان گناہوں کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرلیتے ہیں۔ جب وہ اس توبہ میں خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کا قصد رکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس توبہ کو قبول کرتا ہے جبکہ یہ گناہ ہلاکت اور دنیاوی و آخروی عذاب کا سبب بن چکے تھے۔
(ویعفوا عن السیات) اللہ تعالیٰ برائیوں کو مٹا دیتا ہے، ان کے برے اثرات اور عقوبات کو بھی ختم کردیتا ہے جن کا تقاضا یہ برائیاں کرتی ہیں اور توبہ کرنے والا اللہ تعالیٰ کے نزدیک دوبارہ اچھے لوگوں کے زمرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–37
محبت برائے قرابت
قول باری ہے (قل لا اسئلکو علیہ اجر ا الا المودۃ فی القربی۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں طلب کرتا، ہاں رشتہ داری کی محبت ہو) حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد، قتادہ ضحاک اور سدی کا قول ہے کہ ” مگر یہ کہ تم مجھ سے اس بنا پر محبت رکھو کہ تمہارے ساتھ میری رشتہ داری اور قرابت ہے۔ “ ان حضرات کا قول ہے کہ قریش کے تمام خاندانوں اور حضور ﷺ کے درمیان قرابت تھی۔ علی بن الحسین اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” مگر یہ کہ تم میرے قرابت داروں سے محبت رکھو۔ “ حسن کا قول ہے۔” مگر یہ کہ عمل صالح کے ذریعے تم اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی دوستی حاصل کرو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
72 قانون مجازات کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو بھی کوئی مصیبت تمہیں پہنچتی ہے اے لوگو تو وہ خود تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہوتی ہے "۔ ورنہ اس ربِّ رحمن و رحیم مالک کی رحمت تو عام اور سب کو شامل ہے۔ جیسا کہ اس کا اپنا ارشاد ہے ۔ { رَحْمَتِیْ وسعت کُلَّ شَیْئٍ } ۔ واضح رہے کہ یہاں خطاب بڑوں سے ہے۔ لہذا چھوٹے اور معصوم بچوں کو جو تکلیف بعض اوقات ہوتی ہے اس سے اس پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ اس میں اس کی دوسری حکمتیں کار فرما ہوتی ہیں جن کا احاطہ وہ وحدہ لاشریک ہی فرما سکتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اس دنیا میں جو بھی کوئی مصیبت اور تکلیف تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
رزق کی مناسب تقسیم حکمت الہٰی کے مطابق
تشریح : ان آیات سے معلوم ہوا کہ دنیا میں رزق کی مناسب تقسیم حکمت الٰہی کے مطابق ہے اگر اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کو ان کے رزق میں وسعت دے دیتا ان کی ضروریات سے زیادہ انہیں عطا کردیتا تو وہ خرمستی میں آکر ہلڑ مچادیتے اور دنیا کے امن کو تباہ وبرباد کردیتے اور ایک دوسرے کو آگ لگا کر پھونک دیتے، بھون کھاتے، سرکشی اور بغاوت کرتے تکبر اور بےپرواہی میں حد سے آگے بڑھ جاتے یہ سب حکمت الٰہی کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے نبدوں کو مناسب رزق عطا فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
آیات 20 تا 29۔
جو کوئی اپنی محنت کا پھل آخرت میں چاہتا ہے تو اس کے انعامات اور اجر اور زیادہ بڑھادیے جاتے ہیں اور وہ اپنی طلب سے بھی زیادہ پاتا ہے اور جو شخص صرف حصول دنیا کے لیے کوشش کرتا ہے اسے دنیا میں سے کچھ نہ کچھ عطا کردیا جاتا ہے یعنی ضروری نہیں کہ جس انداز یاجتنی مقدار میں اس کی خواہش ہے اسے مل جائے بلکہ یہ اللہ کی مرضی کہ اس کا نصیبہ کیا مقرر کیا ہے وہی ملتا ہے جبکہ یہ سب آخرت کے طلب گار کو بھی ملتا ہے۔ مگر آخرت چھوڑ کر صرف دنیا کے طالب کی خواہش دنیا میں پوری نہیں ہوتی اور آخرت سے محروم رہ جاتا ہے کہ آخرت پر ایمان ہی نہ تھا لہذا آخرت میں کچھ نہیں پاتاگویا مومن دنیا کا کام بھی طلب…
Read the full tafseer →ف 5 مراد تمام فرشتے، انسانوں، جن اور حیوانات ہیں جو زمین کے علاوہ آسمانوں کے بھی مختلف طبقات میں پھیلے ہوئے ہیں اور سب کی زبانیں شکلیں، رنگ اور جنسیں مختلف ہیں۔ یا دابہ سے مراد وہ جانور ہیں جو زمین پر رہتے ہیں مگر ” فیھما “ لفظ تثنیہ سے تعبیر فرمادیا ہے جیسا کہ آیت ” یخرج منھما لولو المرجان “ میں منھما فرمایا ہے حالانکہ موتی صرف کھاری سمندر سے نکلتے ہیں۔
Read the full tafseer →(42:29) وما بث فیہما۔ جملہ معطوف ہے اس کا عطف السموت پر ہے ما موصولہ ہے بث ماضی واحد مذکر غائب بث (باب نصر و ضرب) مصدر۔ اس نے بکھیر دیا۔ اس نے پھیلا دیا۔ اصل میں بث کے معنی کسی چیز کے پراگندہ کرنے اور ابھارنے کے ہیں۔ اسی لئے ہوا سے خاک اڑنے، غم سے بےقرار ہوجانے اور راز کے افشاء کرنے کے لئے بث کا استعمال ہوتا ہے۔
دابۃ۔ جانور۔ چلنے والا۔ پاؤں دھرنے والا۔ رینگنے والا۔ دب ودبب (باب ضرب) سے اسم فاعل کا صیغہ مذکر و مؤنث دونوں کے لئے مستعمل ہے اس کی جمع دواب ہے اگرچہ عرف یہ لفظ گھوڑے کے لئے مخصوص ہے مگر سب جانوروں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اور قرآن مجید میں جو لفظ دابۃ آیا ہے تو اس میں ہر ایک حیوان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 29 : افتری (اس نے گھڑ لیا ، بنا لیا) یختم (وہ مہر لگا دیتا ہے) یمح (وہ مٹا ڈالتا ہے) السیئات (خطائیں ، برائیاں) بسط (اس نے کھول دیا) بغوا ( انہوں نے سر کشی ، نافرمانی کی) الغیث ( بارش) قنطوا (وہ مایوس ہوگئے) ینشرا (وہ پھیلاتا ہے) بت (اس نے پھیلا دیا ، اس نے بکھیر دیا)
تشریح : آیت نمبر 24 تا 29 : قرآن کریم کی عظیم تعلیم نبی کریم ﷺ کی اعلیٰ سیرت و کردار اور اس کے اثرات کو مشرکین اور کفاراچھی طرح جانتے اور سمجھتے تھے مگر محض اپنے دلی بغض ، حسد ، ضد اور ہٹ دھرمی ان کو مخالفت کے طوفان کی طرف دھکیل کرلے جاتی تھی وہ اپنی شرمندگی کو سمجھتے تھے مگر محض اپنے دلی بغض ، حسد ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
مسلمانوں کی تکالیف ان کے گناہوں کا کفارہ۔
(ف 2) حضرت علی ؓ نے فرمایا، مسلمانوں کے لیے قرآن شریف میں یہ آیت بڑی فضیلت کی آیت ہے کیونکہ میں نے نبی ﷺ سے اس آیت کی تفسیر سنی ہے کہ مسلمانوں کو دنیا میں جو کچھ درد پہنچتا ہے وہ دنیا میں ہی ان کے گناہوں کا بدلہ ہوجاتا ہے اور بہت سے گناہ اللہ تعالیٰ یوں ہی بغیر بدلہ کے معاف کردیتا ہے ۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوسعید خدری اور ابوہریرہ سے جو روایتیں ہیں کہ ایمان دار شخص کو ایک کانٹا چبھنے کی تکلیف ہو تو وہ بھی گناہ کا کفارہ ہے ۔
مسند امام احمد میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان آدمی کے جب گناہ بہت ہوجاتے ہیں تو اللہ ان گناہوں کے کفار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
[19] یعنی جیسے نعمتیں ایک خاص اندازے اور خاص حالات کی رعایت سے دی جاتی ہیں، مصائب کا نزول بھی خاص اسباب و ضوابط کے تحت ہوتا ہے۔ مثلاً انسان کو جو کوئی سختی یا مصیبت آئے اس کا سبب قریب یا بعید انسان کے اپنے بعض اعمال و افعال ہوتے ہیں گویا دنیا کی ہر مصیبت لوگوں کے بعض اعمال ماضیہ کا نتیجہ ہے اور مستقبل میں ان کے لئے تنبیہہ اور امتحان کا موقع بہم پہنچاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–36
آیت 27 تا 36:
حل لغات :۔ بقدر ۔ یعنی ایک انداز کے ساتھ اس طرح کہ کائنات کا نظام باقی رہے اقنطوا ۔ مایوس ہوگئے ۔ قنوط سے ہے ۔ بمعنی مایوسی بٹ ۔ پھیلایا ۔ منتشر کیا دابۃ ۔ حیوان زمین پرچلنے والے جانور ۔ حل لغات :۔ کالا علام ۔ پہاڑوں کی طرح اعلام ۔ جمع علم کی ہے یوبھن ۔ تباہ کردے ۔
مادیات میں غور وفکر
1: قرآن حکیم اس بات پر بڑا زور دیات ہے ۔ کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ان فیوض کو غورو تعمق کی نظر سے دیکھیں جو کارگاہ حیات کو زندگی بخش رہے ہیں ۔ اس کے نزدیک جس طرح یہ ضروری ہے ۔ کہ شریعت اور فقہ کا مطالعہ کیا جائے ۔ معاشری قوانین کی افادیت پر غور کیا جائے ۔ اور سیاست واخلاق کے مسائل کو زیر بحث لایا…
Read the full tafseer →(29) اور منجملہ اس کی قدرت کی نشانیوں کے آسمانوں کا اور زمین کا پیدا کرنا اور ان جانداروں کا پیدا کرنا ہے جو اس نے آسمان اور زمین کے درمیان پھیلا رکھے ہیں وہ جب چاہے ان سب کے جمع کرلینے پر قادر ہے۔ یعنی اس اللہ تعالیٰ کے دلائل توحید اور نشانہائے قدرت میں سے آسمان و زمین کا پیدا کرنا اور ان کے درمیان جانداروں کا پیدا کرنا اور پھیلانا ہے۔
دابۃ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو زمین پر چلے جیسا کہ ہم بارھویں پارے میں عرض کرچکے ہیں۔
حضرت مجاہدہ نے فرمایا یہاں آدمی اور فرشتے مراد ہیں بہرچال جو سب کے پیدا کرنے اور پھیلانے پر قادر ہے وہ سب کو جمع کرنے اور سمیٹ لینے پر بھی قادر ہے یہ اشارہ قیامت اور میدان حشر…
Read the full tafseer →ف 3۔ اس سے اوپر کی چھ صفات کے ساتھ خالق ہونا بھی ثابت ہوا۔
Read the full tafseer →زمین کی طرح آسمانوں میں بھی ذی روح اور چلنے پھرنے والی مخلوق موجود ہے
29 ؎ { بثَّ } کا مادہ ب ث ث ہے اور { بثَّ } کا لفظ قرآن کریم میں چار بار استعمال ہوا ہے۔ سورة البقرہ کی آیت 164 ، سورة النساء کی آیت 1 ، سورة لقمان کی آیت 10 میں اور ایک بار اس جگہ سورة الشوریٰ میں اور اس مادہ کے الفاظ قرآن کریم میں جو استعمال ہوئے ہیں { یبثُّ } (الجاثیہ :4) { المبثوث } (القارعہ :4) { مبثوثۃٌ} (الغاشیہ :16) { منبثاًّ } (القواقعہ :6) { بثی } (یوسف :86) صرف ایک ایک بار استعمال ہوئے ہیں۔ بث اس نے بکھیرا ، اس نے پھیلایا۔ بث سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب اور دراصل { بث } کے معنی کسی چیز کے پراگندہ کرنے اور…
Read the full tafseer →وَمَا بَثَّ فِيهِمَا مِن (and the creatures He has spread in them - 29). The original lexical meaning of دَابَّةٍ ` dabbah' (used in the text and translated as ` creatures' ) is anything which moves about of its own will; later on this word began to be used for animals. This verse states that Allah Almighty has created many creatures which move about on the earth as well as in the sky. The creatures which move about on the earth are all too visible; the ones which move about in the sky could well be the angels as well, and it is quite possible that there may be some animals in the sky so far…
Read the full tafseer →50 "In both": In both the earth and the heavens. This is a clear pointer to the fact that life does not only exist on the earth but on other planets as well.
51 That is, "Just as He has the power to scatter them, so He has also the power to gather them all together. Therefore, it is wrong to think that Resurrection cannot take place, and aII the former and the latter generations cannot be raised up and gathered all together. "
Read the full tafseer →