Ash-Shura 42:30

Ash-Shura · from ayah 30

42:30

وَمَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَیَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ ۟ؕوَمَاۤ اَصَابَكُمۡ مِّنۡ مُّصِيۡبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتۡ اَيۡدِيۡكُمۡ وَيَعۡفُوۡا عَنۡ كَثِيۡرٍؕ

اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے سو تمہارے اپنے فعلوں سے اور وہ بہت سے گناہ تو معاف ہی کردیتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And whatever strikes you of disaster - it is for what your hands have earned; but He pardons much.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 4 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shura

All translations of 42:30

تم پر جو مصیبت بھی آئی ہے، تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آئی ہے، اور بہت سے قصوروں سے وہ ویسے ہی در گزر کر جاتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے سو تمہارے اپنے فعلوں سے اور وہ بہت سے گناہ تو معاف ہی کردیتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وه تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کابدلہ ہے، اور وه تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تمہیں جو کوئی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کیے ہوئے کاموں کی وجہ سے پہنچتی ہے، اور بہت سے کاموں سے تو وہ درگزر ہی کرتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا اور بہت کچھ تو معاف فرمادیتا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو مصیبت بھی تم کو پہنچتی ہے تو اُس (بد اعمالی) کے سبب سے ہی (پہنچتی ہے) جو تمہارے ہاتھوں نے کمائی ہوتی ہے حالانکہ بہت سی(کوتاہیوں) سے تو وہ درگزر بھی فرما دیتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جو بھی تمہیں کوئی مصیبت پہنچی تو وہ اس کی وجہ سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا اور وہ بہت سی چیزوں سے در گزر کرجاتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور تمہیں جو مصیبت بھی آتی ہے تمہارے اپنے ہی کرتوتوں کے سبب سے آتی ہے اور وہ تمہارے بہت سے گناہوں سے درگزر بھی کرجاتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو مصیبت بھی تو کو پہنچتی ہے تمہاری کرتوتوں ہی کی بدلوت پہنچتی ہے اور تمہاری بہت سی برائیوں سے وہ درگزر بھی فرماتا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جو بھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تم کو (اے لوگوں !) وہ خود تمہاری اپنی اس کمائی کا نتیجہ ہوتی ہے جو تم نے اپنے ہاتھوں سے کی ہوتی ہے اور بہت سے (گناہوں سے) تو وہ درگزر فرما دیتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو مصیبت بھی تمہیں پہنچتی ہے وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کئے ہوئے سے پہنچتی ہے اور (اللہ) بہت سے تو درگزر کردیتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تم پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ درحقیقت تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی (اعمال) کے سبب آتی ہے اور (تمہاری خطائوں میں سے) اکثر کو تو وہ معاف بھی کرتا رہتا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے تو وہ تمہارے اپنے ہی کاموں کی وجہ سے آتی ہے اور وہ (اللہ) بہت سے گناہ تو معاف کردیتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Whatever misfortune befalls you is a consequence of your own deeds. But much of it He forgives.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Whatever hardship befalls you is because of what your own hands have committed, while He overlooks many (of your faults).

— Muhammad Taqi Usmani

Whatever hardship befalls you is because of what your own hands have committed, while He overlooks many (of your faults).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And whatever of misfortune befalls you, it is because of what your hands have earned. And He pardons much.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Whatever of misfortune striketh you, it is what your right hands have earned. And He forgiveth much.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And whatever strikes you of disaster - it is for what your hands have earned; but He pardons much.

— Saheeh International

Whatever hardship befalls you is the result of your own deeds. God pardons many of your sins.

— Muhammad Sarwar

And whatever affliction befalls you, it is on account of what your hands have wrought, and (yet) He pardons most (of your faults).

— Muhammad Habib Shakir

And whatsoever of affliction befalleth you is owing to that which your hands have earned; and He pardoneth much.

— Abdul Majid Daryabadi

Whatever misfortune happens to you, is because on the things your hands have wrought, and for many (of them) He grants forgiveness.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 42:30

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 29–31

آفات اور تکالیف سے خطاؤں کی معافی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت قدرت اور سلطنت کا بیان ہو رہا ہے کہ آسمان و زمین اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اور ان میں کئی ساری مخلوق بھی اسی کی پیدا کی ہوئی ہے فرشتے انسان جنات اور مختلف قسموں کے حیوانات جو کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں قیامت کے دن وہ ان سب کو ایک ہی میدان میں جمع کرے گا۔ جبکہ ان کے حواس گم ہوچکے ہوں گے اور ان میں عدل و انصاف کیا جائے گا پھر فرماتا ہے لوگو تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ سب دراصل تمہارے اپنے کئے گناہوں کا بدلہ ہیں اور ابھی تو وہ غفور و رحیم اللہ تمہاری بہت سی حکم عدولیوں سے چشم پوشی فرماتا ہے اور انہیں معاف فرما دیتا ہے اگر ہر اک…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّوْرٰی 52 واضح رہے کہ یہاں تمام انسانی مصائب کی وجہ بیان نہیں کی جا رہی ہے، بلکہ روئے سخن ان لوگوں کی طرف ہے جو اس وقت مکہ معظمہ میں کفر و نافرمانی کا ارتکاب کر رہے تھے۔ ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ اگر اللہ تمہارے سارے قصوروں پر گرفت کرتا تو تمہیں جیتا ہی نہ چھوڑتا، لیکن یہ مصائب جو تم پر نازل ہوئے ہیں (غالباً اشارہ ہے مکہ کے قحط کی طرف) یہ محض بطور تنبیہ ہیں تاکہ تم ہوش میں آؤ، اور اپنے اعمال کا جائزہ لے کر دیکھو کہ اپنے رب کے مقابلے میں تم نے کیا روش اختیار کر رکھی ہے اور یہ سمجھنے کی کوشش کرو کہ جس خدا سے تم بغاوت کر رہے ہو اس کے مقابلے میں تم کتنے بےبس ہو، اور یہ جانو کہ جنہیں تم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–35

(آیت) وَمَآ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ۔ کا یہی مطلب ہے۔ حضرت حسن سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے قبضہ میں میری جان ہے، جس شخص کو کسی لکڑی سے کوئی خراش لگتی ہے، یا کوئی رگ دھڑکتی ہے یا قدم کو لغزش ہوتی ہے، یہ سب اس کے گناہوں کے سبب سے ہوتا ہے اور ہر گناہ کی سزا اللہ تعالیٰ نہیں دیتے بلکہ جو گناہ اللہ تعالیٰ معاف کردیتے ہیں وہ ان سے بہت زیادہ ہیں جن پر کوئی سزا دی جاتی ہے۔ حضرت اشرف المشائخ نے فرمایا کہ جس طرح جسمانی اذیتیں اور تکلیفیں گناہوں کے سبب آتی ہیں اسی طرح باطنی امراض بھی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 30–31

وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ویعضوا من کثیرہ، وما انتم بمعجزین فی الارض ومالکم من دون اللہ من ولی ولا نصیر (31-30) شبہ کا ازار ایک دوسرے پہلو سے یہ اسی اوپر والے شبہ کا ازالہ ایک دوسرے پہلو سے ہے۔ فرمایا کہ خدا کے قانون مجازات کا تجربہ تو تم اپنی روزمرہ میں بھی کرسکتے ہو۔ اس دنیا میں تمہیں جو دکھ بھی پہنچتے ہیں وہ تمہایر اعمال ہی کے نتیجے میں پہنچتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ بہت سی بداعمالیوں سے درگزر بھی فرماتا ہے۔ یہ دکھ جو تمہیں پہنچتے ہیں تمہاری تنبیہ و تذکیر کے لئے پہنچتے ہیں تاکہ تم اس دنیا کو بازیچہ اطفال سمجھ کر اس میں لا ابالیانہ زندگی نہ گزار دو بلکہ ان تنبیہی واقعات سے یہ سبق…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

30۔ 1 بعض گناہوں کا کفارہ تو وہ مصائب بن جاتے ہیں، جو تمہیں گناہوں کی پاداش میں پہنچتے ہیں اور کچھ گناہ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ یوں ہی معاف فرما دیتا ہے اور اللہ کی ذات بڑی کریم ہے، معاف کرنے کے بعد آخرت میں اس پر مؤاخذہ نہیں فرمائے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 24–39

7: یعنی اگر (معاذاللہ) آنحضرت ﷺ اپنی طرف سے گھڑ کر یہ قرآن بنا رہے ہوتے تو اللہ تعالیٰ آپ کے دل پر مہر لگا دیتا ، جس کی وجہ سے آپ کو ایسا کلام پیش کرنے پر قدرت ہی نہ ہوتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نبوت کا جھوٹا دعوی کرے تو اس کی بات کو چلنے نہیں دیتے، اور باطل کو مٹا دیتے ہیں، اس کے برعکس سچے نبی کے دعوے کو اپنے کلمات کے ذریعے ثابت فرماتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 29–31

آیت نمبر 29 تا 31 یہ نشانی ہر وقت انسانی نظروں کے سامنے ہے اور جب وحی آئی تو اس نے اس کی شہادت دی۔ وحی میں تو انہوں نے شک کیا اور جھگڑتے رہے لیکن آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی جو نشانی کی جو نشانی ہے اس میں تو کوئی شک نہیں وہ تو قطعی الدلالہ ہے۔ یہ فطرت انسانی کو فطری زبان میں خطاب کرتی ہے۔ کوئی سنجیدہ گفتگو کرنے والا اس کے بارے میں کوئی اختلاف رائے نہیں رکھ سکتا۔ یہ نشانی یہ بتاتی ہے کہ جس ذات نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی ہے وہ انسان نہیں ہے۔ نہ اللہ کی مخلوق میں سے کوئی اس نشانی کا خالق نظر آتا ہے۔ لہٰذا کسی خالق و مدبر کے تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں ہے۔ اس کائنات کی ہولناک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی جیسی نعمتیں ایک خاص اندازہ اور خاص اوقات و احوال کی رعایت سے دی جاتی ہیں، مصائب کا نزول بھی خاص اسباب و ضوابط کے ماتحت ہوتا ہے۔ مثلاً بندوں کو جو کوئی سختی اور مصیبت پیش آئے اس کا سبب قریب یا بعید بندوں ہی کے بعض اعمال و افعال ہوتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جیسے ایک آدمی غذا وغیرہ میں احتیاط نہ کرنے سے خود بیمار پڑجاتا ہے بلکہ بعض اوقات ہلاک ہوجاتا ہے یا بعض اوقات والدہ کی بدپرہیزی بچہ کو مبتلائے مصیبت کردیتی ہے، یا کبھی کبھی ایک محلے والے یا شہر والے کی بےتدبیری اور حماقت سے پورے محلہ اور شہر کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ ہی حال روحانی اور باطنی بدپرہیزی اور بےتدبیری کا سمجھ لو۔ گویا دنیا کی ہر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 30 { وَمَآ اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ } ”اور تم پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ درحقیقت تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی اعمال کے سبب آتی ہے اور تمہاری خطائوں میں سے اکثر کو تو وہ معاف بھی کرتا رہتا ہے۔“ اللہ تعالیٰ انسانوں کے ساتھ عمومی طور پر عفو و درگزر کا معاملہ فرماتا ہے اور ہر کسی کو ہر غلطی پر نہیں پکڑتا۔ البتہ بعض اوقات بعض نا فرمانیوں کی سزا وہ متعلقہ افراد کو دنیا ہی میں دے دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

45 مصائب کی قسمیں اور مختلف اسباب :۔ یہاں ایک عام اصول بیان کردیا گیا ہے کہ اکثر عذاب مثلاً قحط، وبائیں، زلزلے اور سیلاب وغیرہ لوگوں کے اپنے ہی شامت اعمال کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ ایسا ہی ایک قحط کا عذاب اہل مکہ پر بھی نازل ہوا تھا۔ جو سات سال تک مسلط رہا۔ بارشیں بھی بند ہوگئیں اور باہر سے غلہ آنا بھی بند ہوگیا تھا۔ اس عرصہ میں لوگوں کا یہ حال ہوگیا کہ جانوروں کے چمڑے اور ہڈیاں کھانے تک مجبور ہوگئے۔ شدت بھوک کی وجہ سے یہ حال ہو رہا تھا کہ آسمان کی طرف دیکھتے تو دھواں ہی دھواں نظر آتا تھا۔ اور یہ قحط کفار مکہ پر رسول اللہ کی دعا کی وجہ سے نازل ہوا تھا۔ آخر ابو سفیان نے آپ کے پاس آکر قرابت کا واسطہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

36۔ خطاب عاقل بالغ اہل ذنوب سے ہے۔ بچے، مجنون وغیرہ اس سے خارج ہیں خطاب مع من یفھم ویعقل فلا یدخل فیہ البھائم والاطفال (کبیر) (آیت) ” ما ..... من مصیبۃ “۔ سے یہاں واقعہ و حقیقی مصیبت مراد ہے۔ بعض نعمتیں جو صرف صورۃ ہی مصیبتیں ہیں وہ درحقیقت عیش کے زینہ ہیں، ان پر مصیبت کا اطلاق ہی نہ ہوگا۔ (آیت) ” یعفوا عن کثیر “۔ کثیر سے مراد کثیر من الذنوب بھی ہوسکتی ہے یعنی بہت سے گناہ بےگرفت ومؤاخذہ کے بھی چھودیتا ہے اور کثیر من الناس بھی مراد ہوسکتی ہے، یعنی گرفت ہر بندہ پر نہیں کرتا۔ بہت سے بندوں کو بےگرفت ومواخذہ بھی چھوڑ دیتا ہے۔ اے من الذنوب اوعن کثیر من الناس (مدارک) اے عن الذنوب وجوز کون المراد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 30–43

آیت نمبر 30 تا 43 ترجمہ : اور جو کچھ تمہیں مصیبت بلا اور شدت پہنچتی ہے خطاب مومنین کو ہے وہ تمہارے ہاتھوں کے کرتوتوں کی وجہ سے ہے یعنی کردہ گناہوں کی وجہ سے ہے (گناہوں) کو ہاتھوں کے کرتوت سے تعبیر کیا ہے، اس لئے کہ اکثر اعمال کے وجود میں ہاتھوں کی کوشش شامل ہوتی ہے، اور بہت سے گناہوں کو تو وہ معاف کردیتا ہے کہ اس کی سزا نہیں دیتا، اللہ تعالیٰ بڑا کرم کرنے والا ہے، اس سے کہ آخرت میں کسی جرم کی سزا دوبارہ دے، رہے بےقصور، تو ان کو دنیا میں جو مصیبت پہنچتی ہے وہ آخرت میں ان کے درجات کو بلند کرنے کے لئے ہے اور اے مشرکو ! تم بھاگ کر اللہ کو زمین میں عاجز نہیں کرسکتے کہ اس سے بچ کر نکل جاؤ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما اصابکم من مصیبۃ فبماکسبت ایدیکم ویعفوعن کثیر اور (اے گناہگارو ! ) تم کو جو مصیبت پہنچتی ہے ‘ وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں سے پہنچتی ہے اور بہت سے قصوروں سے تو اللہ درگذر ہی فرماتا ہے۔ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ یعنی تمہارے گناہوں کی وجہ سے۔ مَآ اَصَابَکُمْ میں مَا شرطیہ ہے یا موصولہ ‘ جس کے اندر شرط کا معنی ہے۔ وَیَعْفُوْ عَنْ کَثِیْرٍ اس جملہ کا عطف سابق جملۂ اسمیہ ہے ‘ یا جملہ معترضہ ہے۔ حسن نے کہا : جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قسم نے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! کسی لکڑی کی چبھن اور کسی قدم کی لغزش اور کسی رگ کی پھڑک بغیر گناہ کے نہیں ہوتی اور بہت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

یعنی تمہیں جو بھی کچھ مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے ہی خود کے اعمال سے ہی پہنچتی ہے اور وہ تمہارے بہت سے گناہوں کو معاف کردیتا ہے کہ ان پر وہ تم سے کچھ باز پرس نہیں کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) وما اصابکم من نصیبہ فما کسبت ایدیکم :: اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور نشانیوں کا تذکرہ ہو رہا ہے اس سلسلے میں لوگوں کے بارش سے ناامید ہونے کے بعد بارش برسانے کا ذکر ہوا ہے۔ اس پر سوال ہوسکتا تھا ہ اللہ تعالیٰ اس قدر مہربان ہے تو وہ بارش روک کیوں دیتا ہے ؟ فرمایا، تم پر جو مصیبت بھی آتی ہے وہ تمہاری کمائی کا نتیجہ ہے۔ وہ گناہ بھی ہوسکتے ہیں اور اونچی شان والے حضرات پر اللہ تعالیٰ کے جس قدر انعامات ہیں ان کا حق ادا کرنے میں کسی طرح کی کمی تھی۔ اس لئے پیغمبر بھی اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے ہیں۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ::(واللہ انی لاستغفر اللہ واتوب الیہ فی الیوم اکثر من…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ومآ آصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم نافع اور ابن عامر نے بما کسبت فاء کے بغیر پڑھا ہے یجب کہ باقی قراء نے اسے فاء کے ساتھ پڑھا ہے ؛ ابو عبید اور ابو حاتم نے اسے پسند کیا ہے کیونکہ حرف اور اجر میں زیادتی ہے۔ مہدوی نے کہا : اگر تو یہ مقدر کرے کہ ماموصولہ ہے تو فاء کا حٓذف اور اس کا اثابت جائز ہے اور فاء کو ثابت رکھنا بہت اچھا ہے۔ اگر تو اسے شرطیہ کہتے تو سیبویہ کے نزدیک اس کا حذف جائز نہیں۔ اخفش نے اسے جائز ہے اور فاء کو ثابت رکھنا بہت اچھا ہے۔ اگر تو اسے شرطیہ کہے تو سیبویہ کے نزدیک اس کا حذف جائز نہیں۔ اخفش نے اسے جائز قرار دیا ہے اور اس ارشاد سے استدلال کیا ہے : ان اطعتموھم انکم لمشرکون۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 30–31

1:۔ احمد وابن راہویہ وابن منیع وعبد بن حمید (رح) و حکیم ترمذی وابو یعلی وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) والحاکم (رح) نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ میں تم کو اللہ کی کتاب میں سے سب سے افضل آیات کے بارے میں نہ بتاؤں کہ جس کے بارے میں ہم کو رسول اللہ ﷺ نے بتایا (جب یہ آیت نازل ہوئی) (آیت ) ” وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ویعفوا عن کثیر “ (اور تم کو جو مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں سے پہنچتی ہے اور بہت سے قصوروں سے تو اللہ درگزرہی فرماتا ہے تو آپ نے فرمایا اے علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) میں عنقریب تیرے لئے اس کی تفسیر بیان کروں گا دنیا میں جو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمَآ اَصَابَكُمْ [ اور جو آ لگتی ہے تم لوگوں کو ] مِّنْ مُّصِيْبَةٍ [ کوئی بھی آلگنے والی (مصیبت ) ] فَبِمَا [ تو (وہ ) اس سبب سے ہے جو ] كَسَبَتْ [ کمائی کی ] اَيْدِيْكُمْ [ تمہارے ہاتھوں نے ] وَيَعْفُوْا [ اور وہ (اللہ ) درگزر کرتا ہے ] عَنْ كَثِيْرٍ [ بہتوں سے ] یہ آیت (آیت ۔ 30) ان لوگوں کیلئے مخصوص ہے جن سے گناہ سرزد ہوسکتے ہیں ۔ انبیاء (علیہم السلام) جو گناہوں سے معصوم ہیں یا نابالغ بچے اور مجنون جن سے کوئی گناہ نہیں ہوتا ، ان کو جو تکلیف پہنچتی ہے وہ اس حکم میں داخل نہیں ۔ اس کے دوسرے اسباب اور حکمتیں ہوتی ہیں ۔ (معارف القرآن ) مزید توضیح کے لئے یہ بیان کردینا بھی ضروری ہے کہ مومن…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

جو بھی کوئی مصیبت تمہیں پہنچتی ہے تمہارے اعمال کی وجہ سے ہے پھر فرمایا کہ تم سے جس کسی کو جو بھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے اعمال کی وجہ سے پہنچ جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ ہر گناہ پر تکلیف نہیں بھیجتا اگر ہر گناہ کی وجہ سے مصیبت بھیجی جائے تو ہوسکتا ہے کہ آرام و راحت کا نمبر ہی نہ آئے بہت سے گناہوں سے اللہ تعالیٰ در گزر فرماتا ہے لہٰذا ان کی وجہ سے کوئی مصیبت نہیں آتی۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کسی بھی بندہ کو کوئی ذرا سی تکلیف یا بڑی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو وہ گناہ کی وجہ سے ہوتی ہے، اور اللہ تعالیٰ جن گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے وہ ان گناہوں سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 28–36

پیغام بشارت و رحمت برائے بندگان خدا درحالت یأس وناامیدی وذکر دلائل قدرت : قال اللہ تعالیٰ : وھوالذی ینزل الغیث .......... الی ......... وعلی ربھم یتوکلون “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں ایسے مجرمین ونافرمانوں کی مذمت تھی، جو خداوند عالم پر چھوٹ بہتان باندھتے ہوں اور ان کی ناکامی و محرومی کا بیان تھا اب ان آیات میں اللہ رب العالمین اپنی ایک خاص رحمت و عنایت کا ذکر فرما رہے ہیں کہ پروردگار عالم اپنی شان ربوبیت کے کس طرح اپنے بندوں پر مایوسی کے عالم میں بھی اپنی رحمت فرماتا ہے اس مضمون سے ایک طرف تو مجرمین کے بالمقابل مطیعین کے لیے رحمت و عنایت کا بیان ہے دوسری طرف آنحضرت ﷺ کے قلب مبارک سے اس رنج وغم کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 29–30

29:۔ ” وما اصابکم “ تا ” فمتاع الحیوۃ الدنیا “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ مصیبت سے مراد مشرکین کے لیے عذاب دنیوی ہے جو ان کے عناد و تعنت اور مشرکانہ اعمال کی سزا ہے اور مؤمن کے لیے وہ تکلیفیں مراد ہیں جو بطور امتحان و ابتلاء یا بطور کفارہ گناہ اس پر آتی ہیں۔ یہ مضمون قرآن مجید کی متعدد آیتوں میں مذکور ہے۔ (1) ظہر الفساد فی البرو البحر بما کسبت ایدی الناس لیذیقہم بعض الذی عملوا لعلہم یرجعون (روم رکوع 5) ۔ (2) ما اصاب من مصیبۃ الا باذن اللہ (تغابن رکوع 2) ۔ (3) وما اصاب من مصیبۃ قد اصبتم مثلیھا (آل عمران رکوع 17) ۔ (5) ۔ وما اصابکم یوم التقی الجمعان فباذن اللہ۔ ان تمام آیتوں سے مراد یا مشرکین کے لیے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 30–36

ربط آیات گزشتہ آیات میں نبوت و رسالت کا ذکر تھا ، اس کے ساتھ دلائل تنشہ اور اللہ کی قدرت کی نشانیوں کا تذکرہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں و زمین کو تخلیق کیا اور پھر زمین پر تمام جانداروں کو پھیلا دیا ۔ جس طرح بنی نوع انسان کو زمین کے مختلف خطوں میں بکھیر دیا ۔ اسی طرح وہ قیامت والے دن سب کو اکٹھا بھی کرے گا پھر محاسبہ کی منزل آئیگی اور جزا و سزا کے فیصلے ہوں گے ، اللہ نے یاد دلایا کہ تمام اختیارات اور تصرفات اسی کے قبضہ میں ہیں اور وہ ہر کام کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ مصائب نتیجہ اعمال دنیا میں انسانوں پر ہر قسم کے دو ر آتے ہیں ، کبھی راحت کبھی تکلیف ، کبھی خوشحالی کبھی تنگدستی ، کبھی صحت ، کبھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَآ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَۃٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ۝ 30 ۭ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 30–35

ترکیب : ما اصابکم شرط فی موضع رفع بالابتد افبماکسبت جو ابہ والمراد بالفعلین الاستقبال ویعفو الخ جملۃ مستانفۃ من ولی اسم مالکم خبر ھا الجواربحذف الیاء من الحظ لانھا من الزوائد دباثبا تھا جمع جارتہ ای سائرۃ والمراد بھا الفلک مبتداء و من آیاۃ خبر ھا فی البحر یتعلق بالجواری ویمکن ان یکون حالامنہ والعامل فیہ الاستقرار۔ کالا علام جمع علم وھوالجبل اوکل شیئٍ مرتفع حال ثابۃ اومن الضمیر فی الجواری یسکن جواب الشرط فیظللن معطوف علیہ و کذلک اویوبقہن ویعف۔ رواکد جمع الراکدوھوالساکن ویقال اوبقہ ای اھل کہ ویعلم بالنصب علی الصرف ای صرف العطف علی للفظ الی العطف علی المعنی قالہ الزجاج ویقرء بالکسر علی ان یکون…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 30–31

وَمَـآ اَصَابَـکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْـکُمْ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ ۔ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ صلے ج وَمَا لَـکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلاَ نَصِیْرٍ ۔ (الشوری : 30، 31) (اور تم پر جو مصیبت بھی آتی ہے تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آتی ہے اور تمہاری بہت سی برائیوں سے وہ درگزر بھی کرتا ہے۔ اور نہ تم زمین میں اللہ کو عاجز کردینے والے ہو اور تمہارے لیے اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی کارساز ہے اور نہ مددگار۔ ) مخالفین کے زعم باطل کے ابطال پر دلیل اس آیت کریمہ میں مخالفین کے ایک زعم باطل پر چوٹ لگائی جارہی ہے اور اس کے ابطال پر دلیل بھی دی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 30–31

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ صرف قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرنے پر قادر نہیں بلکہ وہ دنیا میں بھی لوگوں پر ہر قسم کا اختیار رکھتا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اسکی کوتاہی پر پکڑ لیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس سے درگزر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے اپنی مخلوق پر قادر ہے۔ یہ اس کی قدرت کی نشانی اور اختیار ہے کہ جسے چاہے اس کے گناہوں کی پاداش میں پکڑ لے اور جسے چاہے معاف کردے۔ اکثر انسانوں میں ہمیشہ سے یہ کوتاہی اور کمزوری رہی ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کی بجائے اپنے گناہوں، پر اصرار اور ان کا جواز تلاش کرتے ہیں۔ بسا اوقات خدا کے باغی یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں یہ تو لیل ونہار کی گردش اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

30: وَمَآ اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ (اور تم کو جو کچھ مصیبت پہنچتی ہے) غم، دکھ، ناپسند بات فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ (وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں سے ہے) یعنی وہ اس گناہ کے باعث ہے جو تم نے کیے ہیں تاکہ سزا دی جائے۔ قراءت : مدنی، شامی اور علی نے بما کسبت پڑھا ہے۔ نحو : ما ؔ مبتدا اور بماکسبت اس کی خبر بغیر اس کے کہ اس میں شرط کا معنی پایا جائے اور جنہوں نے فاء ؔ کو قائم رکھا انہوں نے شرط کے معنی کو خبر میں متضمن تسلیم کیا ہے۔ اہل تناسخ کا استدلال : اگر بچوں کی اس حالت سے قبل اور کسی شکل میں حالت نہ ہوتی تو ان کو تکالیف نہ آتیں۔ جواب : آیت اپنے سیاق وسباق سے بتلا رہی ہے کہ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

29، ومن آیاتہ خلق السموات والارض ومابث فیھما من دابۃ وھوعلی جمعھم اذا یشاء قدیر، یعنی قیامت کے دن۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

30۔ بعض مفسروں نے لکھا ہے کہ یہ آیت خاص کافروں کی شان میں ہے اور معنی آیت کے ان مفسروں نے یہ بیان کئے گئے ہیں کہ کافروں کے کفر اور مشرکوں کے شرک سے فوراً جو عذاب الٰہی نہیں آتا بلکہ ایک وقت مقررہ پر ان کی شامت اعمال سے کوئی مصیبت آتی ہے اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ ان لوگوں کے بہت سے برے کاموں کو درگزر فرما کر معاف فرما دیتا ہے لیکن یہ قول مرفوع تفسیر کے مخالف ہے کیونکہ مسند امام 3 ؎ احمد مستدرک حاکم مسند اسحاق بن راہویہ مسند ابو یعلی موصلی وغیرہ میں حضرت علی ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا مسلمانوں کے لئے قرآن شریف میں یہ آیت بڑی فضیلت کی آیت ہے کیونکہ میں نے آنحضرت ﷺ سے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 30–31

آیت 30 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ بندوں کو ان کے ابدان، اموال، اولاد اور ان کی محبوب اور عزیز چیزوں میں جو بھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے اس کا سبب ان کے ہاتھوں سے کمائی ہوئی برائیاں ہیں اور وہ برائیاں، جو اللہ تعالیٰ معاف کردیتا ہے، سا سے بھی زیادہ ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا ہے، بندے خود اپنے آپ پر ظلم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ (آیت) ” اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے کرتوتوں پر پکڑتا تو روئے زمین پر کسی جان دار کو نہ چھوڑتا۔ “ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عقوبات کو مؤخر کرنا کسی بھول کی بنا پر ہے نہ عجز کی بنا پر (وما انتم بمعجزین) فی الارض) ” اور تم زمین میں (اسے عاجز) نہیں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 23–37

محبت برائے قرابت قول باری ہے (قل لا اسئلکو علیہ اجر ا الا المودۃ فی القربی۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں طلب کرتا، ہاں رشتہ داری کی محبت ہو) حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد، قتادہ ضحاک اور سدی کا قول ہے کہ ” مگر یہ کہ تم مجھ سے اس بنا پر محبت رکھو کہ تمہارے ساتھ میری رشتہ داری اور قرابت ہے۔ “ ان حضرات کا قول ہے کہ قریش کے تمام خاندانوں اور حضور ﷺ کے درمیان قرابت تھی۔ علی بن الحسین اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” مگر یہ کہ تم میرے قرابت داروں سے محبت رکھو۔ “ حسن کا قول ہے۔” مگر یہ کہ عمل صالح کے ذریعے تم اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی دوستی حاصل کرو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 29–30

72 قانون مجازات کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو بھی کوئی مصیبت تمہیں پہنچتی ہے اے لوگو تو وہ خود تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہوتی ہے "۔ ورنہ اس ربِّ رحمن و رحیم مالک کی رحمت تو عام اور سب کو شامل ہے۔ جیسا کہ اس کا اپنا ارشاد ہے ۔ { رَحْمَتِیْ وسعت کُلَّ شَیْئٍ } ۔ واضح رہے کہ یہاں خطاب بڑوں سے ہے۔ لہذا چھوٹے اور معصوم بچوں کو جو تکلیف بعض اوقات ہوتی ہے اس سے اس پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ اس میں اس کی دوسری حکمتیں کار فرما ہوتی ہیں جن کا احاطہ وہ وحدہ لاشریک ہی فرما سکتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اس دنیا میں جو بھی کوئی مصیبت اور تکلیف تم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 30–43

مصیبتیں اپنے اعمال کی وجہ سے ہی آتی ہیں تشریح : ان آیات میں بیشمار حکمت کی باتیں بتائی گئی ہیں جن کو سمجھ لینا اور ان پر عمل کرنا نہ صرف آسان ہے بلکہ زندگی کو آسان بناتا ہے اور پھر اللہ کی خوشنودی کا باعث بھی بنتا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ بڑا رحمن اور رحیم ہے۔ کچھ قدرتی آفات تو اللہ کے حکم سے فضائی رد و بدل کے لیے آتی ہیں۔ کچھ گناہوں کی سزا کے طور پر قدرتی آفات کی شکل میں آتی ہیں مثلاً طوفان نوح وغیرہ اور بہت سی ایسی آفات ہیں جو انسان خود اپنے اوپر مسلط کرلیتا ہے۔ مثال کے طور پر 1945 میں امریکہ نے ناگا سا کی اور ہیرو شیما پر ایٹم بم گرا کر ظلم و ستم اور دہشت و بربریت کی ایسی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 30–43

آیات 30 تا 43۔ اسرار ومعارف۔ اور جو مصیبت بھی لوگوں پر آتی ہے وہ ان کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے اگرچہ بہت سے گناہوں سے درگزر کی جاتی ہے تو اکثر مصائب گناہ کی سزا کے طور پر آتے ہیں اور مومن کے لیے گناہ سے توبہ اور گزشتہ کی بخشش کا سبب بن جاتے ہیں اسی طرح باطنی اور قلبی طور پر بھی ایک گناہ ہوجائے تو وہ دوسرے کا سبب بن جاتا ہے تاآنکہ اس سے توبہ نصیب ہو یہ عام قاعدہ ہے اور اگر اللہ کریم معاف نہ فرماتے اور درگزر کا معاملہ نہ فرماتے تو لوگ زمین میں بھاگ بھاگ کر یا کہیں چھپ چھپ کر اس کے عذاب سے نہیں بچ سکتے تھے اور نہ ہی انہیں کوئی ایسامدد کرنے والایادوست ہاتھ آتا جو انہیں بچاسکتا۔ اور اس کی عظمت کی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 یعنی تمہارے اپنے برے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔ 7 یہ اس کی رحیمی اور کریمی ہے۔ اگر وہ ہر قصور پر گرفت کرتا تو زمین پر کوئی جاندار باقی نہ رہتا۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : یہ خطاب عاقل بالغ لوگوں کو ہے گنار گاہ ہوں یا نیک، مگر بنی ( اس میں) نہیں داخل اور لڑکے ان کے واسطے اور کچھ ہوگا اور سختی دنیا کی بھی آگئی اور قبر کی اور آخرت کی “۔ بھی ( موضح) حضرت ابو موسیٰ ( علیہ السلام) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بندے کو کوئی چھوٹی یا بڑی مصیبت نہیں پہنچتی مگر وہ اس کے گناہ کی بدولت ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے جو درگزر فرماتا ہے وہ اس سے زیادہ ہوتا ہے “۔ اور پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(42:30) وما اصابکم من مصیبۃ فیما کسبت ایدیکم : ما اسم موصول مبتداء اصابکم من مصیبۃ اس کا صلہ۔ جب مبتداء اسم موصول ہو اور اس صلہ جملہ فعلیہ ہو تو اس کی خبر پر اکثرلاتے ہیں کیونکہ اس (ما) کے اندر شرط کے معنی پائے جاتے ہیں اسی وجہ سے یہاں خبر پراستعمال ہوا ہے۔ اصابکم : اصاب ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر اصابۃ (افعال) مصدر۔ تم کو پہنچے۔ تم کو پہنچا۔ تم کو پیش آیا۔ من مصیبۃ جار مجرور۔ کوئی مصیبت۔ بما میں ب سببیہ ہے اور ما موصولہ ہے ۔ یہ سبب (اس گناہ کے) جو تمہارے ہاتھوں نے کیا۔ کسبت : ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ کسب (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی گناہ اٹھانا کمانا۔ حاصل کرنا۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 30–43

لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 43 : اصاب (پہنچا) کسبت (اس نے کمایا) معجزین ( عاجز ، بےبس کرنے والے) الجوار ( جاری) چلنے والے) الاعلام ( علم) پہاڑ ، اونچی چیز) یسکن ( وہ ٹھہراتا ہے) رواکدا ( راکد) (ٹھہرنے والے) ظھر ( پیٹھ) صبار ( بہت صبر کرنے والا) یوبق ( وہ تباہ کرتا ہے) محیص (چھٹکارا پانے کی جگہ) یجتنبوا ( وہ بچتے ہیں ، پرہیز کرتے ہیں) کبائر الاثم ( بڑے بڑے گناہ) شوریٰ (مشورہ کرنے کا راستہ سمجھانا) ینتصرون (وہ روکتے ہیں) انتصر (اس نے بدلہ لیا ، انتقام لیا) عزم الامور (بڑی بات ، بڑا کام) تشریح : آیت نمبر 30 تا 43 : دیکھا یہ گیا ہے کہ دنیا میں انسان جیسا عمل کرتا ہے اس کا اچھا یا برا نتیجہ ضرور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 29–30

مسلمانوں کی تکالیف ان کے گناہوں کا کفارہ۔ (ف 2) حضرت علی ؓ نے فرمایا، مسلمانوں کے لیے قرآن شریف میں یہ آیت بڑی فضیلت کی آیت ہے کیونکہ میں نے نبی ﷺ سے اس آیت کی تفسیر سنی ہے کہ مسلمانوں کو دنیا میں جو کچھ درد پہنچتا ہے وہ دنیا میں ہی ان کے گناہوں کا بدلہ ہوجاتا ہے اور بہت سے گناہ اللہ تعالیٰ یوں ہی بغیر بدلہ کے معاف کردیتا ہے ۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوسعید خدری اور ابوہریرہ سے جو روایتیں ہیں کہ ایمان دار شخص کو ایک کانٹا چبھنے کی تکلیف ہو تو وہ بھی گناہ کا کفارہ ہے ۔ مسند امام احمد میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان آدمی کے جب گناہ بہت ہوجاتے ہیں تو اللہ ان گناہوں کے کفار…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 25–30

[19] یعنی جیسے نعمتیں ایک خاص اندازے اور خاص حالات کی رعایت سے دی جاتی ہیں، مصائب کا نزول بھی خاص اسباب و ضوابط کے تحت ہوتا ہے۔ مثلاً انسان کو جو کوئی سختی یا مصیبت آئے اس کا سبب قریب یا بعید انسان کے اپنے بعض اعمال و افعال ہوتے ہیں گویا دنیا کی ہر مصیبت لوگوں کے بعض اعمال ماضیہ کا نتیجہ ہے اور مستقبل میں ان کے لئے تنبیہہ اور امتحان کا موقع بہم پہنچاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 27–36

آیت 27 تا 36: حل لغات :۔ بقدر ۔ یعنی ایک انداز کے ساتھ اس طرح کہ کائنات کا نظام باقی رہے اقنطوا ۔ مایوس ہوگئے ۔ قنوط سے ہے ۔ بمعنی مایوسی بٹ ۔ پھیلایا ۔ منتشر کیا دابۃ ۔ حیوان زمین پرچلنے والے جانور ۔ حل لغات :۔ کالا علام ۔ پہاڑوں کی طرح اعلام ۔ جمع علم کی ہے یوبھن ۔ تباہ کردے ۔ مادیات میں غور وفکر 1: قرآن حکیم اس بات پر بڑا زور دیات ہے ۔ کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ان فیوض کو غورو تعمق کی نظر سے دیکھیں جو کارگاہ حیات کو زندگی بخش رہے ہیں ۔ اس کے نزدیک جس طرح یہ ضروری ہے ۔ کہ شریعت اور فقہ کا مطالعہ کیا جائے ۔ معاشری قوانین کی افادیت پر غور کیا جائے ۔ اور سیاست واخلاق کے مسائل کو زیر بحث لایا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(30) اور تم کو جو مصیبت اور سختی پہنچتی ہے سو وہ تمہارے ہی ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے پہنچتی ہے اور بہت سے گناہ تو وہ معاف ہی کردیتا ہے اور درگزر فرمادیتا ہے۔ یہ خطاب مکلفین کو ہے کہ جو مصیبت یا آلام تم کو پہنچتے ہیں وہ تمہاری تقصیرات اور خطائوں کی وجہ سے پہنچتے ہیں خواہ وہ نافرمانی کا کوئی گناہ ہو یا طاعات میں کسی کوتاہی کی پاداش ہو ان تکالیف سے ان تقصیرات کا کفارہ ہوجاتا ہے تکالیف میں دنیا قبر اور حشر مراد ہوسکتے ہیں ہم پانچویں پارے میں من یعمل سوء ایجزبہ کی تسہیل میں مفصلاً عرض کرچکے ہیں اگر کسی مومن کو کانٹا چھبتا ہے یا وہ کوئی چیز رکھ کر بھول جاتا ہے اور اس چیز کے تلاش کرنے میں پریشانی…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو مصیبت بھی انسانوں پر آتی ہے وہ ان کے اپنے ہی ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہے 30 ؎ ” تم پر جو مصیبت بھی آتی ہے تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آتی ہے “۔ یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کے قانون مشیت کا ہے جو اس دار فانی کے لیے بنایا گیا ہے جو نیک و بد اور امیر و غریب سب کے لیے یکساں ہے اور یہ تمام انسانوں کی اجتماعی زندگی کا فیصلہ ہے جو { اصابکم } اور { کسبت ایدیکم } کے الفاظ بالکل واضح ہے اور اس میں سمجھایا گیا ہے کہ اس دار فانی کی معاشرتی زندگی میں ہر انسان دوسرے انسان کے عمل سے متاثر ہوتا ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ ” الف “ کا عمل ” ب “ سے ” ی “ تک سب کو متاثر کر دے اور ” الف “ پر اس کا کوئی اثر نہ پڑے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 30–35

وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ‌ (And whatever hardship befalls you is because of what your own hands have committed, while He overlooks many [ of your faults ].... 42:30) means exactly the same. Sayyidna Hasan ؓ has narrated that when this verse was revealed, the Holy Prophet ﷺ said "I swear by the Being Who holds my life, that anyone who gets scratched by a piece of wood, or his nerve shivers or his step falters is all due to his sins, and Allah Ta’ ala does not punish for every sin, rather the number of sins He overlooks far exceeds those…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

52. One should note that here the cause of all human afflictions is not being stated but the address is directed to the people who were at that time committing disbelief and disobedience at Makkah. They are being told: Had Allah seized you for all your sins and crimes, He would not have even allowed you to live. But the calamities (probably the allusion is to the famine of Makkah) that have descended on you, are only a warning so that you may take heed and examine your actions and deeds to see as to what attitude and conduct you have adopted as against your Lord. And you can try to understand…

Read the full tafseer →