Explained with ayahs 29–31
آفات اور تکالیف سے خطاؤں کی معافی ہوتی ہے
اللہ تعالیٰ کی عظمت قدرت اور سلطنت کا بیان ہو رہا ہے کہ آسمان و زمین اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اور ان میں کئی ساری مخلوق بھی اسی کی پیدا کی ہوئی ہے فرشتے انسان جنات اور مختلف قسموں کے حیوانات جو کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں قیامت کے دن وہ ان سب کو ایک ہی میدان میں جمع کرے گا۔ جبکہ ان کے حواس گم ہوچکے ہوں گے اور ان میں عدل و انصاف کیا جائے گا پھر فرماتا ہے لوگو تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ سب دراصل تمہارے اپنے کئے گناہوں کا بدلہ ہیں اور ابھی تو وہ غفور و رحیم اللہ تمہاری بہت سی حکم عدولیوں سے چشم پوشی فرماتا ہے اور انہیں معاف فرما دیتا ہے اگر ہر اک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
سورة الشُّوْرٰی 53
" صبر کرنے والے " سے مراد وہ شخص ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھے اور اچھے اور برے تمام حالات میں بندگی کے رویے پر ثابت قدم رہے۔ جس کا حال یہ نہ ہو کہ اچھا وقت آئے تو اپنی ہستی کو بھول کر خدا سے باغی اور بندوں کے حق میں ظالم بن جائے، اور برا وقت آجائے تو دل چھوڑ بیٹھے اور ہر ذلیل سے ذلیل حرکت کرنے پر اتر آئے۔ " شکر کرنے والے " سے مراد وہ شخص ہے جسے تقدیر الہٰی خواہ کتنا ہی اونچا اٹھا لے جائے، وہ اسے اپنا کمال نہیں بلکہ اللہ کا احسان ہی سمجھتا رہے، اور وہ خواہ کتنا ہی نیچے گرا دیا جائے، اس کی نگاہ اپنی محرومیوں کے بجائے ان نعمتوں پر ہی مرکوز رہے جو برے سے برے حالات میں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
(آیت) وَمَآ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ۔ کا یہی مطلب ہے۔ حضرت حسن سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے قبضہ میں میری جان ہے، جس شخص کو کسی لکڑی سے کوئی خراش لگتی ہے، یا کوئی رگ دھڑکتی ہے یا قدم کو لغزش ہوتی ہے، یہ سب اس کے گناہوں کے سبب سے ہوتا ہے اور ہر گناہ کی سزا اللہ تعالیٰ نہیں دیتے بلکہ جو گناہ اللہ تعالیٰ معاف کردیتے ہیں وہ ان سے بہت زیادہ ہیں جن پر کوئی سزا دی جاتی ہے۔ حضرت اشرف المشائخ نے فرمایا کہ جس طرح جسمانی اذیتیں اور تکلیفیں گناہوں کے سبب آتی ہیں اسی طرح باطنی امراض بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ویعضوا من کثیرہ، وما انتم بمعجزین فی الارض ومالکم من دون اللہ من ولی ولا نصیر (31-30)
شبہ کا ازار ایک دوسرے پہلو سے
یہ اسی اوپر والے شبہ کا ازالہ ایک دوسرے پہلو سے ہے۔ فرمایا کہ خدا کے قانون مجازات کا تجربہ تو تم اپنی روزمرہ میں بھی کرسکتے ہو۔ اس دنیا میں تمہیں جو دکھ بھی پہنچتے ہیں وہ تمہایر اعمال ہی کے نتیجے میں پہنچتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ بہت سی بداعمالیوں سے درگزر بھی فرماتا ہے۔ یہ دکھ جو تمہیں پہنچتے ہیں تمہاری تنبیہ و تذکیر کے لئے پہنچتے ہیں تاکہ تم اس دنیا کو بازیچہ اطفال سمجھ کر اس میں لا ابالیانہ زندگی نہ گزار دو بلکہ ان تنبیہی واقعات سے یہ سبق…
Read the full tafseer →31۔ 1 یعنی تم بھاگ کر کسی ایسی جگہ نہیں جاسکتے کہ جہاں تم ہماری گرفت میں نہ آسکو یا جو مصیبت ہم تم پر نازل کرنا چاہیں، اس سے تم بچ جاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–39
7: یعنی اگر (معاذاللہ) آنحضرت ﷺ اپنی طرف سے گھڑ کر یہ قرآن بنا رہے ہوتے تو اللہ تعالیٰ آپ کے دل پر مہر لگا دیتا ، جس کی وجہ سے آپ کو ایسا کلام پیش کرنے پر قدرت ہی نہ ہوتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نبوت کا جھوٹا دعوی کرے تو اس کی بات کو چلنے نہیں دیتے، اور باطل کو مٹا دیتے ہیں، اس کے برعکس سچے نبی کے دعوے کو اپنے کلمات کے ذریعے ثابت فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
آیت نمبر 29 تا 31
یہ نشانی ہر وقت انسانی نظروں کے سامنے ہے اور جب وحی آئی تو اس نے اس کی شہادت دی۔ وحی میں تو انہوں نے شک کیا اور جھگڑتے رہے لیکن آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی جو نشانی کی جو نشانی ہے اس میں تو کوئی شک نہیں وہ تو قطعی الدلالہ ہے۔ یہ فطرت انسانی کو فطری زبان میں خطاب کرتی ہے۔ کوئی سنجیدہ گفتگو کرنے والا اس کے بارے میں کوئی اختلاف رائے نہیں رکھ سکتا۔ یہ نشانی یہ بتاتی ہے کہ جس ذات نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی ہے وہ انسان نہیں ہے۔ نہ اللہ کی مخلوق میں سے کوئی اس نشانی کا خالق نظر آتا ہے۔ لہٰذا کسی خالق و مدبر کے تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں ہے۔ اس کائنات کی ہولناک…
Read the full tafseer →6 یعنی محض اپنی مہربانی سے معاف کرتا ہے ورنہ جس جرم پر سزا دینا چاہے، مجرم بھاگ کر کہیں روپوش نہیں ہوسکتا۔ اور نہ اس کے سوا کوئی دوسرا حمایت و امداد کے لیے کھڑا ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 31 { وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِج } ”اور تم زمین میں اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو۔“
یہاں اس فقرے کے بعد ”وَلَا فِی السَّمَائِ“ کے الفاظ گویا محذوف ہیں۔ جیسا کہ سورة العنکبوت میں فرمایا : { وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآئِز } آیت 22 ”اور تم اسے عاجز کرنے والے نہیں ہو زمین میں اور نہ آسمان میں“۔ بہر حال اللہ کی مشیت کو کوئی نہیں روک سکتا ‘ وہ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ ہے۔ وہ جو ارادہ کرلیتا ہے کر گزرتا ہے ‘ اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکتا۔
{ وَمَا لَـکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیْرٍ } ”اور تمہارے لیے اللہ کے سوا نہ کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
47 قرآن میں اکثر مقامات پر کشتیوں کی روانی کو اللہ کی آیات میں شمار کیا گیا ہے۔ اس لیے کہ قریش مکہ کو تجارتی سلسلہ میں افریقہ کے ساحلی علاقہ سے تجارت کے لیے بحیرہ احمر کا سفر درپیش رہتا تھا۔ اس دور میں بادبانی کشتیاں ہوتی تھیں جن کی روانی اور رفتار کا انحصار باد موافق پر اور اس کی رفتار پر ہوتا تھا۔ انہیں بتایا یہ جارہا ہے کہ تمہاری بےبسی کا یہ عالم ہے کہ جب تمہاری کشتی وسط سمندر میں پہنچ جائے اور اللہ تعالیٰ ہوا کو ساکن کردے تو بتاؤ اس وقت تم کیا کرسکتے ہو ؟
48 صبار اور شکور دونوں مبالغہ کے صیغے ہیں اور یہ دو ایسے الفاظ ہیں جن میں مومن کی ساری زندگی کا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا گیا ہے۔ یعنی مومن…
Read the full tafseer →37۔ یہ سب مشرک، جاہلی قوموں کے رد میں ہے۔ جو سمجھتے تھے کہ فلاں جگہ پناہ لے لینے سے خدائی گرفت کی دسترس سے باہر ہوجائیں گے یا بعد موت فلاں فلاں دیوی دیوتا گاڑھے وقت کام آجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–43
آیت نمبر 30 تا 43
ترجمہ : اور جو کچھ تمہیں مصیبت بلا اور شدت پہنچتی ہے خطاب مومنین کو ہے وہ تمہارے ہاتھوں کے کرتوتوں کی وجہ سے ہے یعنی کردہ گناہوں کی وجہ سے ہے (گناہوں) کو ہاتھوں کے کرتوت سے تعبیر کیا ہے، اس لئے کہ اکثر اعمال کے وجود میں ہاتھوں کی کوشش شامل ہوتی ہے، اور بہت سے گناہوں کو تو وہ معاف کردیتا ہے کہ اس کی سزا نہیں دیتا، اللہ تعالیٰ بڑا کرم کرنے والا ہے، اس سے کہ آخرت میں کسی جرم کی سزا دوبارہ دے، رہے بےقصور، تو ان کو دنیا میں جو مصیبت پہنچتی ہے وہ آخرت میں ان کے درجات کو بلند کرنے کے لئے ہے اور اے مشرکو ! تم بھاگ کر اللہ کو زمین میں عاجز نہیں کرسکتے کہ اس سے بچ کر نکل جاؤ اور…
Read the full tafseer →وما انتم بمعجزین فی الارض وما لکم من دون اللہ من ولی ولا نصیر اور تم زمین میں (پناہ
لے کر) اس کو ہرا نہیں سکتے اور اللہ کے سوا کوئی تمہارا حامی و مددگار نہیں۔
وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ یعنی جن مصائب کا فیصلہ تمہارے لئے کردیا گیا ‘ اس سے تم چھوٹ نہیں سکتے (بچ نہیں سکتے) اللہ کے مقابلے میں تمہارا کوئی حامی نہیں جو تم کو بچا سکے ‘ نہ کوئی مددگار ہے کہ مصائب کو دفع کرسکے۔
Read the full tafseer →اور تم عذاب الہی سے بچ نہیں سکتے اور عذاب الہی کے سامنے کوئی رشتہ دار تمہارے کام نہیں آسکتا اور نہ کوئی مددگار تم سے اس عذاب کو دور کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →وما انتم بمعجزین فی الارض …: اس کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة نور (57) اور سورة عنکبوت (22) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →ومالکم من دون اللہ من ولی ولا نصیر۔ اس کی بحث کئی مواقع پر گذرچ کی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
1:۔ احمد وابن راہویہ وابن منیع وعبد بن حمید (رح) و حکیم ترمذی وابو یعلی وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) والحاکم (رح) نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ میں تم کو اللہ کی کتاب میں سے سب سے افضل آیات کے بارے میں نہ بتاؤں کہ جس کے بارے میں ہم کو رسول اللہ ﷺ نے بتایا (جب یہ آیت نازل ہوئی) (آیت ) ” وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ویعفوا عن کثیر “ (اور تم کو جو مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں سے پہنچتی ہے اور بہت سے قصوروں سے تو اللہ درگزرہی فرماتا ہے تو آپ نے فرمایا اے علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) میں عنقریب تیرے لئے اس کی تفسیر بیان کروں گا دنیا میں جو…
Read the full tafseer →وَمَآ اَنْتُمْ [ اور تم لوگ نہیں ہو ] بِمُعْجِزِيْنَ [ عاجز کرنے والے ] فِي الْاَرْضِ ښ [ زمین میں ] وَمَا لَكُمْ [ اور نہیں ہے تمہارے لئے ] مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] مِنْ وَّلِيٍّ [ کوئی بھی کارساز ] وَّلَا نَصِيْرٍ [ اور نہ کوئی مددگار ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
﴿اَوْ يُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَ يَعْفُ عَنْ كَثِيْرٍٞ0034﴾ میں یہ فرمایا ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ کو یہ قدرت ہے کہ ہوا کو روک دے جس کی وجہ سے کشتیاں سمندر میں کھڑی رہ جائیں تو اسے یہ بھی قدرت ہے کہ جو لوگ کشتیوں میں سوار ہیں ان کے اعمال کی وجہ سے کشتیوں کو تباہ کر دے جس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہوائیں خوب تیز چلنے لگیں اور اس کی وجہ سے کشتیوں میں بھونچال آجائے اور جو لوگ کشتیوں میں سوار ہیں اپنے اعمال کی وجہ سے ہلاک ہوجائیں اور اسے یہ بھی اختیار ہے کہ بہت سوں کو معاف فرما دے یعنی غرق نہ فرمائے دنیا میں مواخذہ نہ فرمائے پھر اپنے قانون کے مطابق جسے چاہے آخرت میں سزا دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–36
پیغام بشارت و رحمت برائے بندگان خدا درحالت یأس وناامیدی وذکر دلائل قدرت :
قال اللہ تعالیٰ : وھوالذی ینزل الغیث .......... الی ......... وعلی ربھم یتوکلون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں ایسے مجرمین ونافرمانوں کی مذمت تھی، جو خداوند عالم پر چھوٹ بہتان باندھتے ہوں اور ان کی ناکامی و محرومی کا بیان تھا اب ان آیات میں اللہ رب العالمین اپنی ایک خاص رحمت و عنایت کا ذکر فرما رہے ہیں کہ پروردگار عالم اپنی شان ربوبیت کے کس طرح اپنے بندوں پر مایوسی کے عالم میں بھی اپنی رحمت فرماتا ہے اس مضمون سے ایک طرف تو مجرمین کے بالمقابل مطیعین کے لیے رحمت و عنایت کا بیان ہے دوسری طرف آنحضرت ﷺ کے قلب مبارک سے اس رنج وغم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
30:۔ ” ومن ایتہ الجوار “ یہ بظاہر تو اللہ کی قدرت کاملہ اور اس کی وحدانیت کے دلائل ہیں، لیکن اس میں تخویف دنیوی کا پہلو بھی نمایاں ہے۔ پہاڑوں کی مانند بلند بحری جہاز اور بادبانی کشتیاں جو سمندروں اور دریاؤں میں چلتی ہیں، اللہ کی قدرت کاملہ کی واضح دلیل ہے۔ ” ان یشا یسکن الریح “ اگر وہ چاہے تو ہوا کو ساکن کردے اور کشتیاں دریا کی سطح پر کھڑی رہیں۔ ہر و شخص جو مصائب پر صابر ہو اور خوشحالی میں شکر گذار ہو، اس کیلئے اس میں اللہ کی قدرت و عظمت کے واضح دلائل ہیں۔ ان المؤمنین لایخلو من ان یکون فی السراء والضراء، فان کان فی الضراء کان من الصابرین وان کان فی السراء کان من الشاکرین (کبیر) ۔” او یوبقہن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–36
ربط آیات گزشتہ آیات میں نبوت و رسالت کا ذکر تھا ، اس کے ساتھ دلائل تنشہ اور اللہ کی قدرت کی نشانیوں کا تذکرہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں و زمین کو تخلیق کیا اور پھر زمین پر تمام جانداروں کو پھیلا دیا ۔ جس طرح بنی نوع انسان کو زمین کے مختلف خطوں میں بکھیر دیا ۔ اسی طرح وہ قیامت والے دن سب کو اکٹھا بھی کرے گا پھر محاسبہ کی منزل آئیگی اور جزا و سزا کے فیصلے ہوں گے ، اللہ نے یاد دلایا کہ تمام اختیارات اور تصرفات اسی کے قبضہ میں ہیں اور وہ ہر کام کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔
مصائب نتیجہ اعمال
دنیا میں انسانوں پر ہر قسم کے دو ر آتے ہیں ، کبھی راحت کبھی تکلیف ، کبھی خوشحالی کبھی تنگدستی ، کبھی صحت ، کبھی…
Read the full tafseer →وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ فِي الْاَرْضِ 0 ۚ ۖ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ مِنْ وَّلِيٍّ وَلَا نَصِيْرٍ 31
ما
مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف .
فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع .
فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي
نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
ترکیب : ما اصابکم شرط فی موضع رفع بالابتد افبماکسبت جو ابہ والمراد بالفعلین الاستقبال ویعفو الخ جملۃ مستانفۃ من ولی اسم مالکم خبر ھا الجواربحذف الیاء من الحظ لانھا من الزوائد دباثبا تھا جمع جارتہ ای سائرۃ والمراد بھا الفلک مبتداء و من آیاۃ خبر ھا فی البحر یتعلق بالجواری ویمکن ان یکون حالامنہ والعامل فیہ الاستقرار۔ کالا علام جمع علم وھوالجبل اوکل شیئٍ مرتفع حال ثابۃ اومن الضمیر فی الجواری یسکن جواب الشرط فیظللن معطوف علیہ و کذلک اویوبقہن ویعف۔ رواکد جمع الراکدوھوالساکن ویقال اوبقہ ای اھل کہ ویعلم بالنصب علی الصرف ای صرف العطف علی للفظ الی العطف علی المعنی قالہ الزجاج ویقرء بالکسر علی ان یکون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
وَمَـآ اَصَابَـکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْـکُمْ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ ۔ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ صلے ج وَمَا لَـکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلاَ نَصِیْرٍ ۔ (الشوری : 30، 31)
(اور تم پر جو مصیبت بھی آتی ہے تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آتی ہے اور تمہاری بہت سی برائیوں سے وہ درگزر بھی کرتا ہے۔ اور نہ تم زمین میں اللہ کو عاجز کردینے والے ہو اور تمہارے لیے اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی کارساز ہے اور نہ مددگار۔ )
مخالفین کے زعم باطل کے ابطال پر دلیل
اس آیت کریمہ میں مخالفین کے ایک زعم باطل پر چوٹ لگائی جارہی ہے اور اس کے ابطال پر دلیل بھی دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ صرف قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرنے پر قادر نہیں بلکہ وہ دنیا میں بھی لوگوں پر ہر قسم کا اختیار رکھتا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اسکی کوتاہی پر پکڑ لیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس سے درگزر کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے اپنی مخلوق پر قادر ہے۔ یہ اس کی قدرت کی نشانی اور اختیار ہے کہ جسے چاہے اس کے گناہوں کی پاداش میں پکڑ لے اور جسے چاہے معاف کردے۔
اکثر انسانوں میں ہمیشہ سے یہ کوتاہی اور کمزوری رہی ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کی بجائے اپنے گناہوں، پر اصرار اور ان کا جواز تلاش کرتے ہیں۔ بسا اوقات خدا کے باغی یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں یہ تو لیل ونہار کی گردش اور…
Read the full tafseer →31: وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ (اور تم زمین میں ہرا نہیں سکتے) یعنی جن مصائب کا تمہارے لئے فیصلہ کردیا گیا ان سے بچ نہیں سکتے۔ وَمَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَّ لِیٍّ وَّلَا نَصِیْرٍ (اور اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارا کوئی حامی و مددگار نہیں ہے) جو کہ اس وقت عذاب دور کر دے جب وہ تم پر اتر پڑے۔
Read the full tafseer →30، وما اصابکم من مصیبۃ فبماکسبت ایدیکم ، اہل مدینہ اور اہل شام نے، بما کسبت ، بغیرفاء کے پڑھا ہے اور اسی طرح ان کے مصاحف میں ہے۔ پس جس نے فاء کو حذف کیا ہے تو اس نے آیت کے پہلے حصہ کو، الذی اصابکم بماکسبت ایدیکم ، کے معنی میں کیا ہے۔ یعنی جو چیز تم کو پہنچی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے بدلہ میں ہے۔ ، ویعفواعن کثیر، حسن (رح) فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے۔ لکڑی کی خراش اور قدم کا پھسلنا اور کسی رگ کا پھڑکنا کسی نہ کسی گناہ کی وجہ سے ہوتا ہے اور جن گناہوں سے اللہ تعالیٰ درگزر کرتے ہیں وہ اس سے زیادہ ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
31۔ 35۔ اوپر مصیبت کا ذکر تھا اس لئے فرمایا کہ اللہ کی بھیجی ہوئی مصیبت کو کوئی ٹال نہیں سکتا زمین بھر میں کوئی بھاگ بھاگا پھرے جب بھی اللہ تعالیٰ کے دائرہ حکومت سے باہر نہیں جاسکتا اور اللہ تعالیٰ کے دائرہ حکومت میں سوا اللہ تعالیٰ کے کوئی کسی کا یار مددگار بن کر بھی اس مصیبت کو نہیں ٹال نہیں سکتا اب آگے منکرین قدرت کے قائل کرنے کے لئے فرمایا یہ پہاڑ کے پہاڑ کشتیاں پانی کو پھاڑ کر جو دریا میں پھرتی ہیں اللہ چاہے تو ہوا کو روک دے جس سے پانی کی پیٹھ پر وہ کشتیاں ٹھہر جائیں یا کوئی مخالف ہوا چلا کر ان کو بالکل ڈبو دے لیکن اللہ تعالیٰ بہت سے گناہ معاف کردیتا ہے جس سے لوگوں کی اکثر بلائیں ایک وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
آیت 30
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ بندوں کو ان کے ابدان، اموال، اولاد اور ان کی محبوب اور عزیز چیزوں میں جو بھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے اس کا سبب ان کے ہاتھوں سے کمائی ہوئی برائیاں ہیں اور وہ برائیاں، جو اللہ تعالیٰ معاف کردیتا ہے، سا سے بھی زیادہ ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا ہے، بندے خود اپنے آپ پر ظلم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ (آیت) ” اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے کرتوتوں پر پکڑتا تو روئے زمین پر کسی جان دار کو نہ چھوڑتا۔ “
اللہ تعالیٰ کی طرف سے عقوبات کو مؤخر کرنا کسی بھول کی بنا پر ہے نہ عجز کی بنا پر (وما انتم بمعجزین) فی الارض) ” اور تم زمین میں (اسے عاجز) نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–37
محبت برائے قرابت
قول باری ہے (قل لا اسئلکو علیہ اجر ا الا المودۃ فی القربی۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں طلب کرتا، ہاں رشتہ داری کی محبت ہو) حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد، قتادہ ضحاک اور سدی کا قول ہے کہ ” مگر یہ کہ تم مجھ سے اس بنا پر محبت رکھو کہ تمہارے ساتھ میری رشتہ داری اور قرابت ہے۔ “ ان حضرات کا قول ہے کہ قریش کے تمام خاندانوں اور حضور ﷺ کے درمیان قرابت تھی۔ علی بن الحسین اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” مگر یہ کہ تم میرے قرابت داروں سے محبت رکھو۔ “ حسن کا قول ہے۔” مگر یہ کہ عمل صالح کے ذریعے تم اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی دوستی حاصل کرو۔ “
Read the full tafseer →74 اللہ کے مقابلے میں کوئی کسی کا یار و مددگار نہیں ہوسکتا : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر فرمایا گیا کہ " اللہ کے مقابلے میں تمہارا نہ کوئی یار ہوسکتا ہے نہ مددگار "۔ جو اس کے مقابلے میں تمہارے کچھ کام آسکے۔ یا کم سے کم زبانی کلامی ہی تمہاری حمایت کا دم بھر سکے۔ پس تم اسی سے ڈرتے اور بچتے رہو جو کہ سب کا خالق ومالک ہے اور جس کے قبضہ قدرت و اختیار میں سب کچھ اور ہر کسی کی باگ ڈور ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جو فرضی اور خودساختہ سہارے تم لوگوں نے مختلف ناموں سے گھڑ رکھے ہیں وہ سب دھوکے کا سامان ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی تمہارے کچھ بھی کام آنے والا نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جیسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–43
مصیبتیں اپنے اعمال کی وجہ سے ہی آتی ہیں
تشریح : ان آیات میں بیشمار حکمت کی باتیں بتائی گئی ہیں جن کو سمجھ لینا اور ان پر عمل کرنا نہ صرف آسان ہے بلکہ زندگی کو آسان بناتا ہے اور پھر اللہ کی خوشنودی کا باعث بھی بنتا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ بڑا رحمن اور رحیم ہے۔ کچھ قدرتی آفات تو اللہ کے حکم سے فضائی رد و بدل کے لیے آتی ہیں۔ کچھ گناہوں کی سزا کے طور پر قدرتی آفات کی شکل میں آتی ہیں مثلاً طوفان نوح وغیرہ اور بہت سی ایسی آفات ہیں جو انسان خود اپنے اوپر مسلط کرلیتا ہے۔ مثال کے طور پر 1945 میں امریکہ نے ناگا سا کی اور ہیرو شیما پر ایٹم بم گرا کر ظلم و ستم اور دہشت و بربریت کی ایسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–43
آیات 30 تا 43۔
اسرار ومعارف۔
اور جو مصیبت بھی لوگوں پر آتی ہے وہ ان کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے اگرچہ بہت سے گناہوں سے درگزر کی جاتی ہے تو اکثر مصائب گناہ کی سزا کے طور پر آتے ہیں اور مومن کے لیے گناہ سے توبہ اور گزشتہ کی بخشش کا سبب بن جاتے ہیں اسی طرح باطنی اور قلبی طور پر بھی ایک گناہ ہوجائے تو وہ دوسرے کا سبب بن جاتا ہے تاآنکہ اس سے توبہ نصیب ہو یہ عام قاعدہ ہے اور اگر اللہ کریم معاف نہ فرماتے اور درگزر کا معاملہ نہ فرماتے تو لوگ زمین میں بھاگ بھاگ کر یا کہیں چھپ چھپ کر اس کے عذاب سے نہیں بچ سکتے تھے اور نہ ہی انہیں کوئی ایسامدد کرنے والایادوست ہاتھ آتا جو انہیں بچاسکتا۔
اور اس کی عظمت کی…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی وہ گرفت کرنا چاہیے تو اس سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتے۔
Read the full tafseer →(42:31) وما انتم واؤ عاطفہ۔ ما نافیہ ہے۔ معجزین ۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ اعجاز (افعال) مصدر۔ عاجز بنا دینے والے۔ ہرانے والے۔ عجز مادہ۔ من دون اللّٰہ۔ اللہ کے سوا۔ اللہ کے درے۔
ولی۔ کا معنی ہے متولیا لشیء من امروکم بالاستقلال یحمیکم من المصائب یعنی وہ ذات جو تمہارے کسی کام کی متولی ہو اور تمہیں مصیبتوں سے بچائے۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–43
لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 43 : اصاب (پہنچا) کسبت (اس نے کمایا) معجزین ( عاجز ، بےبس کرنے والے) الجوار ( جاری) چلنے والے) الاعلام ( علم) پہاڑ ، اونچی چیز) یسکن ( وہ ٹھہراتا ہے) رواکدا ( راکد) (ٹھہرنے والے) ظھر ( پیٹھ) صبار ( بہت صبر کرنے والا) یوبق ( وہ تباہ کرتا ہے) محیص (چھٹکارا پانے کی جگہ) یجتنبوا ( وہ بچتے ہیں ، پرہیز کرتے ہیں) کبائر الاثم ( بڑے بڑے گناہ) شوریٰ (مشورہ کرنے کا راستہ سمجھانا) ینتصرون (وہ روکتے ہیں) انتصر (اس نے بدلہ لیا ، انتقام لیا) عزم الامور (بڑی بات ، بڑا کام)
تشریح : آیت نمبر 30 تا 43 : دیکھا یہ گیا ہے کہ دنیا میں انسان جیسا عمل کرتا ہے اس کا اچھا یا برا نتیجہ ضرور…
Read the full tafseer →(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ جو مصیبتیں تمہارے لیے مقدور ہوچکی ہیں ان سے کہیں بھاگ نہیں سکتے، کہ اس کے عذاب سے بچ کر کہیں بھاگ جاؤ اور خدا کے عذاب سے کوئی تمہارا رشتہ دار، عزیز قریب نفع دینے والا، اور نہ کوئی گناہ گار جو مدد کرے اور بچالے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
[20] کٹ حجتی کرنے سے یہ مراد ہے کہ ایسے لوگ ہر کام کو اپنی تدبیر کی طرف منسوب کیا کرتے ہیں۔ جہاز تباہی میں آئے اور کوئی تدبیر پیش رفت نہ ہو تو سمجھیں کہ سب کچھ اللہ کے حکم سے ہو رہا ہے اور آدمی عاجز ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–36
آیت 27 تا 36:
حل لغات :۔ بقدر ۔ یعنی ایک انداز کے ساتھ اس طرح کہ کائنات کا نظام باقی رہے اقنطوا ۔ مایوس ہوگئے ۔ قنوط سے ہے ۔ بمعنی مایوسی بٹ ۔ پھیلایا ۔ منتشر کیا دابۃ ۔ حیوان زمین پرچلنے والے جانور ۔ حل لغات :۔ کالا علام ۔ پہاڑوں کی طرح اعلام ۔ جمع علم کی ہے یوبھن ۔ تباہ کردے ۔
مادیات میں غور وفکر
1: قرآن حکیم اس بات پر بڑا زور دیات ہے ۔ کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ان فیوض کو غورو تعمق کی نظر سے دیکھیں جو کارگاہ حیات کو زندگی بخش رہے ہیں ۔ اس کے نزدیک جس طرح یہ ضروری ہے ۔ کہ شریعت اور فقہ کا مطالعہ کیا جائے ۔ معاشری قوانین کی افادیت پر غور کیا جائے ۔ اور سیاست واخلاق کے مسائل کو زیر بحث لایا…
Read the full tafseer →(31) اور تم زمین میں کہیں بھاگ کر ہرا اور تھکا نہیں سکتے اور اللہ تعالیٰ کے سوا نہ تمہارا کوئی کارساز ہے اور نہ مددگار۔ یعنی تم چاہو کہ کہیں بھاگ کر اللہ تعالیٰ کو عاجز کردو اور اس کو تھکا دو یا اس کو ہرادو تو یہ ممکن نہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں عاجز کرنے والے یعنی جو کچھ ہم نے مصیبتیں مقرر کی ہیں چاہے تم ان سے بھاگ سکو اور ہم کو تھکا دو سو ممکن نہیں اور نہ مددگار کو دفع کرے تم سے عذاب جب کہ وہ اترے تم پر۔ آگے پھر دلائل توحید مذکور ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
ف 4۔ خواہ دونوں جہان میں یا صرف دنیا میں۔
Read the full tafseer →تمہارے کیے کا وبال بھی تم انسانوں ہی پر پڑتا ہے تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے
31 ؎ یہ بات بھی تمام نسل انسانی کو مخاطب کر کے کی جا رہی ہے کہ تمہاری ان کارستانیوں اور بداعتدالیوں کا وبال بھی تم ہی لوگوں پر پڑتا ہے تم اللہ تعالیٰ کو کسی معاملہ میں عاجز نہیں کرسکتے اس نے جو قوانین بنا دیئے ہیں ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے سے اللہ تعالیٰ کا کوئی نقصان نہیں ہے جتنا نقصان ہے وہ انسانوں کا اپنا ہی نقصان ہے۔ یہ اعمال انسانی کے نتائج کا ذکر ہے ورنہ کوئی کافر سے کافر انسان بھی بزبان قال یہ نہیں کہتا کہ میں اللہ کو عاجز کرنے کے لیے یہ کام کرنا چاہتا ہوں یہ دوسری بات ہے کہ کوئی ربِّ کریم کی ذات ہی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ (And whatever hardship befalls you is because of what your own hands have committed, while He overlooks many [ of your faults ].... 42:30) means exactly the same. Sayyidna Hasan ؓ has narrated that when this verse was revealed, the Holy Prophet ﷺ said "I swear by the Being Who holds my life, that anyone who gets scratched by a piece of wood, or his nerve shivers or his step falters is all due to his sins, and Allah Ta’ ala does not punish for every sin, rather the number of sins He overlooks far exceeds those…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
53. Signs for him who patiently endures, who keeps himself fully under control and remains steadfast on the path of servitude under all circumstances, good or bad; who does not forget himself so as to become rebellious against God and cruel to the people, when favored with good times, and loses heart and stoops to anything when visited by evil times. A grateful person is every such person who regards it as a bounty of Allah and not the result of any merit or excellence in himself when he is exalted to any high place of honor in life by a divine decree, and keeps his mind concentrated on the…
Read the full tafseer →