Ash-Shura 42:32

Ash-Shura · from ayah 32

42:32

وَمِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِ ۟ؕوَمِنۡ اٰيٰتِهِ الۡجَوَارِ فِى الۡبَحۡرِ كَالۡاَعۡلَامِؕ

اور اسی کی نشانیوں میں سے سمندر کے جہاز ہیں (جو) گویا پہاڑ (ہیں)

— Fateh Muhammad Jalandhari

And of His signs are the ships in the sea, like mountains.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 4 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shura

All translations of 42:32

اُس کی نشانیوں میں سے ہیں یہ جہاز جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح نظر آتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اسی کی نشانیوں میں سے سمندر کے جہاز ہیں (جو) گویا پہاڑ (ہیں)

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور دریا میں چلنے والی پہاڑوں جیسی کشتیاں اس کی نشانیوں میں سے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اس کی نشانیوں میں سے ہیں سمندر میں یہ پہاڑوں جیسے جہاز۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اس کی نشانیوں سے ہیں دریا میں چلنے والیاں جیسے پہاڑیاں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اُس کی نشانیوں میں سے پہاڑوں کی طرح اونچے بحری جہاز بھی ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اسی کی نشانیوں سے سمندر میں چلنے والے جہاز ہیں، جو پہاڑوں جیسے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اس کی نشانیوں میں ایک وہ کشتیاں ہیں جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح (نظر آتی ہیں)

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اسی کی نشانیوں میں سے ہیں سمندروں میں چلنے والے، پہاڑوں کے مانند، جہاز

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اس کی نشانیوں میں پہاڑوں جیسے وہ (عظیم الشان) جہاز بھی ہیں جو چلتے ہیں سمندر میں

— مولانا اسحاق مدنی

اور اس کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے سمندر میں پہاڑ جیسے جہاز ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اس کی نشانیوں میں سے سمندروں میں (چلنے والے) پہاڑوں کے مانند جہا زبھی ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اسی کی نشانیوں میں سے سمندری جہاز ہیں جو گویا پہاڑ ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And of His Signs are the ships that sail in the sea like mountains.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And among His signs are ships in the sea, like mountains.

— Muhammad Taqi Usmani

And among His signs are ships in the sea, like mountains.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And among His signs are the ships in the sea like mountains.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And of His portents are the ships, like banners on the sea;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And of His signs are the ships in the sea, like mountains.

— Saheeh International

Further evidence (of His existence) are the ships which stand as mountains in the sea.

— Muhammad Sarwar

And among His signs are the ships in the sea like mountains.

— Muhammad Habib Shakir

And of His signs are the ships in the sea like landmarks.

— Abdul Majid Daryabadi

And among His Signs are the ships, smooth-running through the ocean, (tall) as mountains.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 42:32

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 32–35

سمندروں کی تسخیر قدرت الہی کی نشانی اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی قدرت کے نشان اپنی مخلوق کے سامنے رکھتا ہے کہ اس نے سمندروں کو مسخر کر رکھا ہے تاکہ کشتیاں ان میں برابر آئیں جائیں۔ بڑی بڑی کشتیاں سمندروں میں ایسی ہی معلوم ہوتی ہیں جیسے زمین میں اونچے پہاڑ۔ ان کشتیوں کو ادھر سے ادھر لے جانے والی ہوائیں اس کے قبضے میں ہیں اگر وہی چاہے تو ان ہواؤں کو روک لے پھر تو بادبان بیکار ہوجائیں اور کشتی رک کر کھڑی ہوجائے ہر وہ شخص جو سختیوں میں صبر کا اور آسانیوں میں شکر کا عادی ہو اس کے لئے تو بڑی عبرت کی جا ہے وہ رب کی عظیم الشان قدرت اور اس کی بےپایاں سلطنت کو ان نشانوں سے سمجھ سکتا ہے اور جس طرح ہوائیں بند…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 31–33

سورة الشُّوْرٰی 53 " صبر کرنے والے " سے مراد وہ شخص ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھے اور اچھے اور برے تمام حالات میں بندگی کے رویے پر ثابت قدم رہے۔ جس کا حال یہ نہ ہو کہ اچھا وقت آئے تو اپنی ہستی کو بھول کر خدا سے باغی اور بندوں کے حق میں ظالم بن جائے، اور برا وقت آجائے تو دل چھوڑ بیٹھے اور ہر ذلیل سے ذلیل حرکت کرنے پر اتر آئے۔ " شکر کرنے والے " سے مراد وہ شخص ہے جسے تقدیر الہٰی خواہ کتنا ہی اونچا اٹھا لے جائے، وہ اسے اپنا کمال نہیں بلکہ اللہ کا احسان ہی سمجھتا رہے، اور وہ خواہ کتنا ہی نیچے گرا دیا جائے، اس کی نگاہ اپنی محرومیوں کے بجائے ان نعمتوں پر ہی مرکوز رہے جو برے سے برے حالات میں بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–35

(آیت) وَمَآ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ۔ کا یہی مطلب ہے۔ حضرت حسن سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے قبضہ میں میری جان ہے، جس شخص کو کسی لکڑی سے کوئی خراش لگتی ہے، یا کوئی رگ دھڑکتی ہے یا قدم کو لغزش ہوتی ہے، یہ سب اس کے گناہوں کے سبب سے ہوتا ہے اور ہر گناہ کی سزا اللہ تعالیٰ نہیں دیتے بلکہ جو گناہ اللہ تعالیٰ معاف کردیتے ہیں وہ ان سے بہت زیادہ ہیں جن پر کوئی سزا دی جاتی ہے۔ حضرت اشرف المشائخ نے فرمایا کہ جس طرح جسمانی اذیتیں اور تکلیفیں گناہوں کے سبب آتی ہیں اسی طرح باطنی امراض بھی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 32–35

ومن ایتہ الجوار فی البحر کا لاعلام ان یشا یسکن الریع فیظلن رواکد علی ظہرہ ط ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور، ویوبضھن بما کسبوا ویعف عن کثیرہ ویعلم الذین یجادلون فی آیتنا ط مالھم من محیص (35-32) دنیا کی کامیابی پر مفروروں کے لئے ایک تمثیل یہ ان لوگوں کے سامنے ایک مثال پیش کی ہے جو اپنی دنیوی کامیابیوں پر مگن ہیں کہ اس دنیا کی زندگی کو کشتی کے سفر کی مانند سمجھو۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کا کرشمہ ہے کہ پہاڑوں کے مانند بھاری بھاری جہازات سمندر کے سینہ پر دوڑتے پھرتے ہیں۔ جن لوگوں کی نظر خدا کی قدرت پر نہیں ہوتی وہ جب جہاز کو رواں داں دیکھتے ہیں تو مگن ہو کر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اس کو کوئی خطرہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

32۔ 1 سمندروں میں پہاڑوں جیسی کشتیاں اور جہاز اس کے حکم سے چلتے ہیں، ورنہ اگر وہ حکم دے تو سمندروں میں ہی کھڑے رہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 24–39

7: یعنی اگر (معاذاللہ) آنحضرت ﷺ اپنی طرف سے گھڑ کر یہ قرآن بنا رہے ہوتے تو اللہ تعالیٰ آپ کے دل پر مہر لگا دیتا ، جس کی وجہ سے آپ کو ایسا کلام پیش کرنے پر قدرت ہی نہ ہوتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نبوت کا جھوٹا دعوی کرے تو اس کی بات کو چلنے نہیں دیتے، اور باطل کو مٹا دیتے ہیں، اس کے برعکس سچے نبی کے دعوے کو اپنے کلمات کے ذریعے ثابت فرماتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 32–35

آیت نمبر 32 تا 35 پہاڑوں کی طرح دریاؤں میں چلنے پھرنے والے بحری جہاز اللہ کی نشانیوں میں سے مزید نشانیاں ہیں۔ یہ نشانی بھی حاضر و مشہود ہے۔ یہ نشانی ایسی ہے جو اللہ کی بنائی ہوئی نشانیوں میں سے کئی نشانیوں پر قائم ہے اور اس میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے۔ یہ سمندر ، اللہ کے سوا کون ہے جس نے اسے بنایا ؟ انسانوں نے اسے بنایا اور نام نہاد الہٰوں نے ۔ کون ہے جس نے اسے یہ گہرائی ، یہ کثافت اور یہ وسعت دی کہ وہ بڑی بڑی کشتیوں اور جہازوں کے اٹھانے کے قابل ہوگیا۔ پھر جس مواد سے کشتیاں بنتی ہیں ، اس مواد میں ایسی خصوصیت کس نے رکھی کہ وہ سطح سمندر پر تیرتا پھرے اور پھر یہ ہوا جو اس وقت ان بحری جہازوں کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی جیسے زمین کی سطح پر پہاڑ ابھرے ہوئے ہیں سمندر کی سطح پر بڑے بڑے جہاز ابھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 32 { وَمِنْ اٰیٰتِہِ الْجَوَارِ فِی الْْبَحْرِکَالْاَعْلَامِ } ”اور اس کی نشانیوں میں سے سمندروں میں چلنے والے پہاڑوں کے مانند جہا زبھی ہیں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 31–33

47 قرآن میں اکثر مقامات پر کشتیوں کی روانی کو اللہ کی آیات میں شمار کیا گیا ہے۔ اس لیے کہ قریش مکہ کو تجارتی سلسلہ میں افریقہ کے ساحلی علاقہ سے تجارت کے لیے بحیرہ احمر کا سفر درپیش رہتا تھا۔ اس دور میں بادبانی کشتیاں ہوتی تھیں جن کی روانی اور رفتار کا انحصار باد موافق پر اور اس کی رفتار پر ہوتا تھا۔ انہیں بتایا یہ جارہا ہے کہ تمہاری بےبسی کا یہ عالم ہے کہ جب تمہاری کشتی وسط سمندر میں پہنچ جائے اور اللہ تعالیٰ ہوا کو ساکن کردے تو بتاؤ اس وقت تم کیا کرسکتے ہو ؟ 48 صبار اور شکور دونوں مبالغہ کے صیغے ہیں اور یہ دو ایسے الفاظ ہیں جن میں مومن کی ساری زندگی کا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا گیا ہے۔ یعنی مومن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

38۔ یعنی ایسے اونچے اونچے جہاز کہ گویا پہاڑ تیرنے لگے۔ ان عظیم الشان جسامت والوں کا پانی پر رواں دواں ہونا حق تعالیٰ کی کمال صناعی کی دلیل ہے جس محل ترغیب پر اور جس سیاق میں ان اونچے اونچے جہازوں کا ذکر آیا ہے اس سے اس پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ جہاز رانی اور جہاز سازی اسلام کی نظر میں مبغوض وناپسندیدہ نہیں، بلکہ گو نہ پسندیدہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 30–43

آیت نمبر 30 تا 43 ترجمہ : اور جو کچھ تمہیں مصیبت بلا اور شدت پہنچتی ہے خطاب مومنین کو ہے وہ تمہارے ہاتھوں کے کرتوتوں کی وجہ سے ہے یعنی کردہ گناہوں کی وجہ سے ہے (گناہوں) کو ہاتھوں کے کرتوت سے تعبیر کیا ہے، اس لئے کہ اکثر اعمال کے وجود میں ہاتھوں کی کوشش شامل ہوتی ہے، اور بہت سے گناہوں کو تو وہ معاف کردیتا ہے کہ اس کی سزا نہیں دیتا، اللہ تعالیٰ بڑا کرم کرنے والا ہے، اس سے کہ آخرت میں کسی جرم کی سزا دوبارہ دے، رہے بےقصور، تو ان کو دنیا میں جو مصیبت پہنچتی ہے وہ آخرت میں ان کے درجات کو بلند کرنے کے لئے ہے اور اے مشرکو ! تم بھاگ کر اللہ کو زمین میں عاجز نہیں کرسکتے کہ اس سے بچ کر نکل جاؤ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ومن ایتہ الجوار فی البحر کالاعلام۔ اور منجملہ اسکی نشانیوں کے وہ جہاز ہیں جو سمندروں میں پہاڑ کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 32–33

(32۔ 33) اور منجملہ اس کی وحدانیت اور قدرت کی نشانیوں میں سے پہاڑوں کی طرح اونچے جہاز ہیں اگر وہ چاہے تو اس ہوا کو ٹھہرا دے جس سے وہ جہاز چلتے ہیں تو پھر وہ سمندر کی سطح پر کھڑے ہی رہ جائیں۔ ان مذکورہ باتوں میں اطاعت خداوندی پر ثابت قدم رہنے والے اور نعمت خداوندی کا شکر کرنے والے کے لیے نشانیاں ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ومن ایتہ الجوار فی البحر کالا غلام :”الجوار“”جاریۃ“ (چلنے والی) کی جمع ہے، یعنی کشتی یا بحری جہاز، جیسا کہ فرمایا :(انا لما طغا المآء حملنکم فی الجاریۃ) (الحاقۃ : 11)”بیشک ہم نے ہی جب پانی حد سے تجاوز کر گیا تمہیں کشتی میں سوار کیا۔“ (الاغلام“ ”علم“ کی جمع ہے، پہاڑ۔ اصل میں کوئی نشان جس سے کسی چیز کا علم ہو، مثلاً جھنڈا وغیرہ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے سمندر میں چلنے والے بحری جہاز بھی ہیں جو پہاڑوں کی طرح بلند ہیں اور دور سے نظر آتے ہیں۔ پانی میں مخصوص حجم اور وزن والی چیز کو اٹھائے رکھنے کی خاصیت اللہ واحد کی پیدا کردہ ہے، جس کی وجہ سے وہ ہز اورں لاکھوں ٹن…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ومن ایتہ الجوار فی البحر کالاعلام۔ ان کی ان علامات میں سے جو اس کی قدرت پر دلالت کرتی ہے وہ سمندر میں چلنے والی کشتیاں ہیں گویا وہ بڑے ہونے میں پہاڑ ہیں۔ اعلام کا معنی پہاڑ ہے جواری کی واحد جاریۃ ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : انا لما طغا المآء حملنکم فی الجاریۃ۔ (الحاقہ) اسے جاریہ نام اس لے دیا گیا کیونکہ وہ پانی میں چلتی ہے۔ جاریہ کا معنی نوجوان لڑکی بھی ہے ‘ اسے یہ نام اس لیے دیا گیا کیونکہ اس میں نوجوانی کا پانی چلتا ہے۔ مجاہد نے کہا : اعلام کا معنی محلات ہیں اس کا واحد علم ہے (1) ‘ یہ ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔ مادردی نے ان سے نقل کیا ہے کہ اس سے مراد پہاڑ ہیں (2) ۔ خلیل نے کہا : عربوں کے ہاں ہر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ ’ ومن ایتہ الجوار فی البحر “ (اور اس کی نشانیوں میں سے وہ جہاز ہیں جو سمندروں میں ہیں) یعنی کشتیاں ” کالا علام “ یعنی پہاڑوں کی طرح۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ اس سمندر کی کشتیاں ہوا کے ساتھ چلتی ہیں جب ان سے ہوا ٹھہر جاتی ہے تو کشتیاں بھی ٹھہر جاتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمِنْ اٰيٰتِهِ [ اور اس کی نشانیوں میں سے ہیں ] الْجَوَارِ [ کشتیاں ] فِي الْبَحْرِ [ سمندر میں ] كَالْاَعْلَامِ [ پہاڑوں کی مانند ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 31–34

﴿اَوْ يُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَ يَعْفُ عَنْ كَثِيْرٍٞ0034﴾ میں یہ فرمایا ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ کو یہ قدرت ہے کہ ہوا کو روک دے جس کی وجہ سے کشتیاں سمندر میں کھڑی رہ جائیں تو اسے یہ بھی قدرت ہے کہ جو لوگ کشتیوں میں سوار ہیں ان کے اعمال کی وجہ سے کشتیوں کو تباہ کر دے جس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہوائیں خوب تیز چلنے لگیں اور اس کی وجہ سے کشتیوں میں بھونچال آجائے اور جو لوگ کشتیوں میں سوار ہیں اپنے اعمال کی وجہ سے ہلاک ہوجائیں اور اسے یہ بھی اختیار ہے کہ بہت سوں کو معاف فرما دے یعنی غرق نہ فرمائے دنیا میں مواخذہ نہ فرمائے پھر اپنے قانون کے مطابق جسے چاہے آخرت میں سزا دے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 28–36

پیغام بشارت و رحمت برائے بندگان خدا درحالت یأس وناامیدی وذکر دلائل قدرت : قال اللہ تعالیٰ : وھوالذی ینزل الغیث .......... الی ......... وعلی ربھم یتوکلون “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں ایسے مجرمین ونافرمانوں کی مذمت تھی، جو خداوند عالم پر چھوٹ بہتان باندھتے ہوں اور ان کی ناکامی و محرومی کا بیان تھا اب ان آیات میں اللہ رب العالمین اپنی ایک خاص رحمت و عنایت کا ذکر فرما رہے ہیں کہ پروردگار عالم اپنی شان ربوبیت کے کس طرح اپنے بندوں پر مایوسی کے عالم میں بھی اپنی رحمت فرماتا ہے اس مضمون سے ایک طرف تو مجرمین کے بالمقابل مطیعین کے لیے رحمت و عنایت کا بیان ہے دوسری طرف آنحضرت ﷺ کے قلب مبارک سے اس رنج وغم کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 31–32

30:۔ ” ومن ایتہ الجوار “ یہ بظاہر تو اللہ کی قدرت کاملہ اور اس کی وحدانیت کے دلائل ہیں، لیکن اس میں تخویف دنیوی کا پہلو بھی نمایاں ہے۔ پہاڑوں کی مانند بلند بحری جہاز اور بادبانی کشتیاں جو سمندروں اور دریاؤں میں چلتی ہیں، اللہ کی قدرت کاملہ کی واضح دلیل ہے۔ ” ان یشا یسکن الریح “ اگر وہ چاہے تو ہوا کو ساکن کردے اور کشتیاں دریا کی سطح پر کھڑی رہیں۔ ہر و شخص جو مصائب پر صابر ہو اور خوشحالی میں شکر گذار ہو، اس کیلئے اس میں اللہ کی قدرت و عظمت کے واضح دلائل ہیں۔ ان المؤمنین لایخلو من ان یکون فی السراء والضراء، فان کان فی الضراء کان من الصابرین وان کان فی السراء کان من الشاکرین (کبیر) ۔” او یوبقہن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 30–36

ربط آیات گزشتہ آیات میں نبوت و رسالت کا ذکر تھا ، اس کے ساتھ دلائل تنشہ اور اللہ کی قدرت کی نشانیوں کا تذکرہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں و زمین کو تخلیق کیا اور پھر زمین پر تمام جانداروں کو پھیلا دیا ۔ جس طرح بنی نوع انسان کو زمین کے مختلف خطوں میں بکھیر دیا ۔ اسی طرح وہ قیامت والے دن سب کو اکٹھا بھی کرے گا پھر محاسبہ کی منزل آئیگی اور جزا و سزا کے فیصلے ہوں گے ، اللہ نے یاد دلایا کہ تمام اختیارات اور تصرفات اسی کے قبضہ میں ہیں اور وہ ہر کام کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ مصائب نتیجہ اعمال دنیا میں انسانوں پر ہر قسم کے دو ر آتے ہیں ، کبھی راحت کبھی تکلیف ، کبھی خوشحالی کبھی تنگدستی ، کبھی صحت ، کبھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمِنْ اٰيٰتِہِ الْجَـــوَارِ فِي الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِ۝ 32 ۭ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری (…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 30–35

ترکیب : ما اصابکم شرط فی موضع رفع بالابتد افبماکسبت جو ابہ والمراد بالفعلین الاستقبال ویعفو الخ جملۃ مستانفۃ من ولی اسم مالکم خبر ھا الجواربحذف الیاء من الحظ لانھا من الزوائد دباثبا تھا جمع جارتہ ای سائرۃ والمراد بھا الفلک مبتداء و من آیاۃ خبر ھا فی البحر یتعلق بالجواری ویمکن ان یکون حالامنہ والعامل فیہ الاستقرار۔ کالا علام جمع علم وھوالجبل اوکل شیئٍ مرتفع حال ثابۃ اومن الضمیر فی الجواری یسکن جواب الشرط فیظللن معطوف علیہ و کذلک اویوبقہن ویعف۔ رواکد جمع الراکدوھوالساکن ویقال اوبقہ ای اھل کہ ویعلم بالنصب علی الصرف ای صرف العطف علی للفظ الی العطف علی المعنی قالہ الزجاج ویقرء بالکسر علی ان یکون…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 32–35

وَمِنْ اٰیٰـتِہِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ کَالْاَعْلاَمِ ۔ اِنْ یَّشَاْ یُسْکِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَـلْنَ رَوَاکِدَعَلٰی ظَھْرِہٖ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّـکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ ۔ اَوْ یُوْبِقْھُنَّ بِمَا کَسَبُوْا وَیَعْفُ عَنْ کَثِیْرٍ ۔ وَّیَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْٓ اٰیٰـتِنَا ط مَالَہُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ ۔ (الشوری : 32 تا 35) (اور اس کی نشانیوں میں سے سمندروں میں چلنے والے جہاز ہیں پہاڑوں کی مانند۔ اگر وہ چاہے تو ہوا کو ساکن کردے، پس وہ سمندر کی سطح پر کھڑے کے کھڑے رہ جائیں، بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر صبر و شکر کرنے والے کے لیے۔ یا ان کو تباہ کردے ان کے کرتوتوں کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 32–35

فہم القرآن ربط کلام : جس اللہ کو کوئی عاجز اور بےبس نہیں کرسکتا۔ اسی کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ سمندر میں پہاڑوں کی طرح لمبے، چوڑے اور بلندو بالاجہاز دوڑے پھر رہے ہیں۔ قرآن مجید نے متعدد آیات میں سمندر میں چلنے والی کشتیوں کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ قرار دیا ہے اور کشتیوں میں سفر کرنے والوں کو اس بات پر غور کرنے کا حکم دیا ہے۔ غور کرو ! کہ جو پانی ایک سوئی کا بوجھ برداشت نہیں کرتا وہی پانی ہزاروں ٹن کا بوجھ اٹھائے ہوئے بحری جہازوں اور کشتیوں کو سمندر کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچاتا ہے۔ نزول قرآن کے زمانے میں بادبانی کشتیاں ہوتی تھیں جن کی چوٹیاں دور سے پہاڑوں کی طرح دکھائی دیتی تھیں۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

32: وَمِنْ ٰایٰتِہِ الْجَوَارِ (اور اس کی من جملہ نشانیوں میں سے جہاز ہیں) الجوار جمع جاریہ کی ہے بمعنی کشتیاں۔ قراءت : مکی، سہل، یعقوب نے ہر دو حالتوں میں الجواری پڑھا ہے۔ مدنی، ابو عمرو نے وصل میں ان کی موافقت کی ہے۔ فِی الْبَحْرِ کَالْاَ عْلَامِ (سمندر میں جیسے پہاڑ)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

31، وما انتم بمعجزین فی الارض ، بھاگ کر۔ یعنی تم جہاں بھی ہو مجھے عاجز نہیں کرسکتے اور نہ مجھ سے بھاگ سکتے ہو۔ ، وما لکم من دون اللہ من ولی ولا نصیر،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 31–35

31۔ 35۔ اوپر مصیبت کا ذکر تھا اس لئے فرمایا کہ اللہ کی بھیجی ہوئی مصیبت کو کوئی ٹال نہیں سکتا زمین بھر میں کوئی بھاگ بھاگا پھرے جب بھی اللہ تعالیٰ کے دائرہ حکومت سے باہر نہیں جاسکتا اور اللہ تعالیٰ کے دائرہ حکومت میں سوا اللہ تعالیٰ کے کوئی کسی کا یار مددگار بن کر بھی اس مصیبت کو نہیں ٹال نہیں سکتا اب آگے منکرین قدرت کے قائل کرنے کے لئے فرمایا یہ پہاڑ کے پہاڑ کشتیاں پانی کو پھاڑ کر جو دریا میں پھرتی ہیں اللہ چاہے تو ہوا کو روک دے جس سے پانی کی پیٹھ پر وہ کشتیاں ٹھہر جائیں یا کوئی مخالف ہوا چلا کر ان کو بالکل ڈبو دے لیکن اللہ تعالیٰ بہت سے گناہ معاف کردیتا ہے جس سے لوگوں کی اکثر بلائیں ایک وقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 32–35

آیت 32 یعنی اپنے بندوں پر رحمت اور عنایت کے جملہ دلائل میں سے ایک دلیل (الجوار فی البحر) ” سمندر میں جہاز “ کشتیاں، دخانی اور بادبانی جہاز ہیں جو اپنی بڑی جسامت کی بنا پر (کالا غلام) بڑے بڑے پہاڑ دکھائی دیتے ہیں جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کو مسخر کردیا اور متلاطم موجوں سے ان کی حفاظت کی، یہ کشتیاں انہیں اور ان کے سامان تجارت کو دور دور ملکوں اور شہروں تک لے جاتی ہیں اور ان کے لئے ایسے اسباب مہیا کئے جو ان کو ان ملکوں اور شہروں تک جانے میں مدد دیتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : (ان یشایسکن الریح) ” اگر وہ (اللہ چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 23–37

محبت برائے قرابت قول باری ہے (قل لا اسئلکو علیہ اجر ا الا المودۃ فی القربی۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں طلب کرتا، ہاں رشتہ داری کی محبت ہو) حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد، قتادہ ضحاک اور سدی کا قول ہے کہ ” مگر یہ کہ تم مجھ سے اس بنا پر محبت رکھو کہ تمہارے ساتھ میری رشتہ داری اور قرابت ہے۔ “ ان حضرات کا قول ہے کہ قریش کے تمام خاندانوں اور حضور ﷺ کے درمیان قرابت تھی۔ علی بن الحسین اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” مگر یہ کہ تم میرے قرابت داروں سے محبت رکھو۔ “ حسن کا قول ہے۔” مگر یہ کہ عمل صالح کے ذریعے تم اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی دوستی حاصل کرو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

75 سمندروں میں چلتے بحری جہازوں میں سامان غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس ۔ قادر مطلق ۔ کی نشانیوں میں سے پہاڑوں جیسے یہ عظیم الشان جہاز بھی ہیں جو رواں دواں ہیں سمندروں میں "۔ جو تمہاری ضروریات و حاجات کو لے کر مشرق و مغرب اور شمال و جنوب ہر طرف رواں دواں ہیں۔ سو جس پانی کی پشت پر ایک چھوٹا سا کنکر بھی نہیں ٹھہرسکتا اس پر ہزاروں ٹن وزن کے یہ دیو پیکر جہاز سمندر کا سینہ چیر کر دوڑے پھر رہے ہیں۔ تو یہ اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کس کی تسخیر و کارستانی کا نتیجہ ہوسکتا ہے ؟ پس بڑی ہی ناانصافی اور نمک حرامی ہوگی اگر انسان اپنے اس ربِّ رحمن کے کرم کو بھول جائے جس نے یہ سب بحر و بر اس کے کام…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 30–43

مصیبتیں اپنے اعمال کی وجہ سے ہی آتی ہیں تشریح : ان آیات میں بیشمار حکمت کی باتیں بتائی گئی ہیں جن کو سمجھ لینا اور ان پر عمل کرنا نہ صرف آسان ہے بلکہ زندگی کو آسان بناتا ہے اور پھر اللہ کی خوشنودی کا باعث بھی بنتا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ بڑا رحمن اور رحیم ہے۔ کچھ قدرتی آفات تو اللہ کے حکم سے فضائی رد و بدل کے لیے آتی ہیں۔ کچھ گناہوں کی سزا کے طور پر قدرتی آفات کی شکل میں آتی ہیں مثلاً طوفان نوح وغیرہ اور بہت سی ایسی آفات ہیں جو انسان خود اپنے اوپر مسلط کرلیتا ہے۔ مثال کے طور پر 1945 میں امریکہ نے ناگا سا کی اور ہیرو شیما پر ایٹم بم گرا کر ظلم و ستم اور دہشت و بربریت کی ایسی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 30–43

آیات 30 تا 43۔ اسرار ومعارف۔ اور جو مصیبت بھی لوگوں پر آتی ہے وہ ان کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے اگرچہ بہت سے گناہوں سے درگزر کی جاتی ہے تو اکثر مصائب گناہ کی سزا کے طور پر آتے ہیں اور مومن کے لیے گناہ سے توبہ اور گزشتہ کی بخشش کا سبب بن جاتے ہیں اسی طرح باطنی اور قلبی طور پر بھی ایک گناہ ہوجائے تو وہ دوسرے کا سبب بن جاتا ہے تاآنکہ اس سے توبہ نصیب ہو یہ عام قاعدہ ہے اور اگر اللہ کریم معاف نہ فرماتے اور درگزر کا معاملہ نہ فرماتے تو لوگ زمین میں بھاگ بھاگ کر یا کہیں چھپ چھپ کر اس کے عذاب سے نہیں بچ سکتے تھے اور نہ ہی انہیں کوئی ایسامدد کرنے والایادوست ہاتھ آتا جو انہیں بچاسکتا۔ اور اس کی عظمت کی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 32–33

ف 9 یعنی جسے اگر مصیبت اور بدحالی پہنچی ہے تو صبر کرتا ہے اور اگر نعمت و خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو شکر کرتا ہے، کسی حال میں اللہ تعالیٰ سے غافل نہیں ہوتا اور اپنی بندگی کی حد سے نہیں نکلتا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(42:32) الجوار : جاریۃ کی جمع اصل میں جاریۃ کی جمع جواری یاء کو بطور زائد حزف کیا گیا ہے ۔ کشتیاں ۔ جہاز۔ جاریۃ اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ جری (باب ضرب) مصدر سے۔ چلنے والی۔ جاری ۔ بہنے والی۔ چونکہ کشتی پانی کی سطح پر ثلتی ہے۔ اس لئے جاریۃ کہلاتی ہے۔ کالاعلام : علم کی جمع۔ پہاڑ۔ علم اصل میں اس علامت کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ سے کسی شے کا علم ہوسکے۔ جیسے نشان راہ کے پتھر۔ اور فوج کا علم اس اعتبار سے پہاڑوں کا نام بھی علم ہوگیا۔ ایک آیت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو علم کہا گیا ہے وانہ لعلم للساعۃ (43:61) بیشک وہ (یعنی حضرت عیسی) قیامت کی نشانی ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 30–43

لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 43 : اصاب (پہنچا) کسبت (اس نے کمایا) معجزین ( عاجز ، بےبس کرنے والے) الجوار ( جاری) چلنے والے) الاعلام ( علم) پہاڑ ، اونچی چیز) یسکن ( وہ ٹھہراتا ہے) رواکدا ( راکد) (ٹھہرنے والے) ظھر ( پیٹھ) صبار ( بہت صبر کرنے والا) یوبق ( وہ تباہ کرتا ہے) محیص (چھٹکارا پانے کی جگہ) یجتنبوا ( وہ بچتے ہیں ، پرہیز کرتے ہیں) کبائر الاثم ( بڑے بڑے گناہ) شوریٰ (مشورہ کرنے کا راستہ سمجھانا) ینتصرون (وہ روکتے ہیں) انتصر (اس نے بدلہ لیا ، انتقام لیا) عزم الامور (بڑی بات ، بڑا کام) تشریح : آیت نمبر 30 تا 43 : دیکھا یہ گیا ہے کہ دنیا میں انسان جیسا عمل کرتا ہے اس کا اچھا یا برا نتیجہ ضرور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) ان آیتوں میں منکرین قدرت کے قائل کرنے کے لیے فرمایا یہ پہاڑ کے پہاڑ کشتیاں پانی کو پھوڑ کر جو دریا میں پھرتی ہیں اللہ چاہے تو ہوا کو روک دے جس سے وہ چلتی ہیں تو وہ ایک ہی جگہ کھڑی رہ جائیں، پانی کے اوپر قائم رہیں ، ان کشتیوں میں خدا کی قدرت کی عجیب نشانیاں ہیں اور نہایت عبرت ونصیحت ہر صبر والے کے لیے جو طاعت ومصیبت پر کرتا ہے اور شکر ادا کرتا ہے اور اگر خدا چاہے تو ان کشتی والوں کی نافرمانی کے سبب اور ان کے برے کاموں کے بدلے دریاؤں میں ان کو ہلاک اور پاش پاش کردے، مگر وہ رحمت کرتا ہے بہت سے گناہ معاف کردیتا ہے جس سے لوگوں کی اکثر بلائیں ایک وقت مقررہ تک ٹل جاتی ہیں خدا یہ باتیں اس لیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 31–35

[20] کٹ حجتی کرنے سے یہ مراد ہے کہ ایسے لوگ ہر کام کو اپنی تدبیر کی طرف منسوب کیا کرتے ہیں۔ جہاز تباہی میں آئے اور کوئی تدبیر پیش رفت نہ ہو تو سمجھیں کہ سب کچھ اللہ کے حکم سے ہو رہا ہے اور آدمی عاجز ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 27–36

آیت 27 تا 36: حل لغات :۔ بقدر ۔ یعنی ایک انداز کے ساتھ اس طرح کہ کائنات کا نظام باقی رہے اقنطوا ۔ مایوس ہوگئے ۔ قنوط سے ہے ۔ بمعنی مایوسی بٹ ۔ پھیلایا ۔ منتشر کیا دابۃ ۔ حیوان زمین پرچلنے والے جانور ۔ حل لغات :۔ کالا علام ۔ پہاڑوں کی طرح اعلام ۔ جمع علم کی ہے یوبھن ۔ تباہ کردے ۔ مادیات میں غور وفکر 1: قرآن حکیم اس بات پر بڑا زور دیات ہے ۔ کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ان فیوض کو غورو تعمق کی نظر سے دیکھیں جو کارگاہ حیات کو زندگی بخش رہے ہیں ۔ اس کے نزدیک جس طرح یہ ضروری ہے ۔ کہ شریعت اور فقہ کا مطالعہ کیا جائے ۔ معاشری قوانین کی افادیت پر غور کیا جائے ۔ اور سیاست واخلاق کے مسائل کو زیر بحث لایا…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

32 ؎ نبی اعظم و آخر ﷺ کے زمانہ میں بھی عربوں کے ہاں بحری تجارت ہوتی تھی اگرچہ وہ اتنے بلند پیمانہ پر نہ تھی تاہم وہ لوگ سمندری کشتیوں میں سفر کرتے تھے اور کشتیاں اگرچہ انسان ہی بناتے ہیں اور انسان ہی سوار ہوتے ہیں لیکن اگر انسان ذرا غور کرے تو اس کو معلوم ہوجائے کہ جس میٹریل (Material) سے یہ کشتایں تیار کی جاتی ہیں وہ کس نے تیار کیا ہے ؟ ایجادات کا سارا انحصار تو خام مال پر ہے اگر یہ خام مال نہ ہوتا تو کوئی شخص کیا کوئی چیز ایجاد کرلیتا ؟ وہ عقل و فکر جس کے بل بوتے پر انسان یہ سب کچھ کر رہا ہے وہ کہاں سے آئی ؟ وہ قدرتی ہوائیں جو ان کشتیوں اور سمندروں کو موافق آنے سے دنوں کا سفر گھنٹوں میں طے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 30–35

وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ‌ (And whatever hardship befalls you is because of what your own hands have committed, while He overlooks many [ of your faults ].... 42:30) means exactly the same. Sayyidna Hasan ؓ has narrated that when this verse was revealed, the Holy Prophet ﷺ said "I swear by the Being Who holds my life, that anyone who gets scratched by a piece of wood, or his nerve shivers or his step falters is all due to his sins, and Allah Ta’ ala does not punish for every sin, rather the number of sins He overlooks far exceeds those…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 31–33

53. Signs for him who patiently endures, who keeps himself fully under control and remains steadfast on the path of servitude under all circumstances, good or bad; who does not forget himself so as to become rebellious against God and cruel to the people, when favored with good times, and loses heart and stoops to anything when visited by evil times. A grateful person is every such person who regards it as a bounty of Allah and not the result of any merit or excellence in himself when he is exalted to any high place of honor in life by a divine decree, and keeps his mind concentrated on the…

Read the full tafseer →