Explained with ayahs 32–35
سمندروں کی تسخیر قدرت الہی کی نشانی
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی قدرت کے نشان اپنی مخلوق کے سامنے رکھتا ہے کہ اس نے سمندروں کو مسخر کر رکھا ہے تاکہ کشتیاں ان میں برابر آئیں جائیں۔ بڑی بڑی کشتیاں سمندروں میں ایسی ہی معلوم ہوتی ہیں جیسے زمین میں اونچے پہاڑ۔ ان کشتیوں کو ادھر سے ادھر لے جانے والی ہوائیں اس کے قبضے میں ہیں اگر وہی چاہے تو ان ہواؤں کو روک لے پھر تو بادبان بیکار ہوجائیں اور کشتی رک کر کھڑی ہوجائے ہر وہ شخص جو سختیوں میں صبر کا اور آسانیوں میں شکر کا عادی ہو اس کے لئے تو بڑی عبرت کی جا ہے وہ رب کی عظیم الشان قدرت اور اس کی بےپایاں سلطنت کو ان نشانوں سے سمجھ سکتا ہے اور جس طرح ہوائیں بند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
سورة الشُّوْرٰی 53
" صبر کرنے والے " سے مراد وہ شخص ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھے اور اچھے اور برے تمام حالات میں بندگی کے رویے پر ثابت قدم رہے۔ جس کا حال یہ نہ ہو کہ اچھا وقت آئے تو اپنی ہستی کو بھول کر خدا سے باغی اور بندوں کے حق میں ظالم بن جائے، اور برا وقت آجائے تو دل چھوڑ بیٹھے اور ہر ذلیل سے ذلیل حرکت کرنے پر اتر آئے۔ " شکر کرنے والے " سے مراد وہ شخص ہے جسے تقدیر الہٰی خواہ کتنا ہی اونچا اٹھا لے جائے، وہ اسے اپنا کمال نہیں بلکہ اللہ کا احسان ہی سمجھتا رہے، اور وہ خواہ کتنا ہی نیچے گرا دیا جائے، اس کی نگاہ اپنی محرومیوں کے بجائے ان نعمتوں پر ہی مرکوز رہے جو برے سے برے حالات میں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
(آیت) وَمَآ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ۔ کا یہی مطلب ہے۔ حضرت حسن سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے قبضہ میں میری جان ہے، جس شخص کو کسی لکڑی سے کوئی خراش لگتی ہے، یا کوئی رگ دھڑکتی ہے یا قدم کو لغزش ہوتی ہے، یہ سب اس کے گناہوں کے سبب سے ہوتا ہے اور ہر گناہ کی سزا اللہ تعالیٰ نہیں دیتے بلکہ جو گناہ اللہ تعالیٰ معاف کردیتے ہیں وہ ان سے بہت زیادہ ہیں جن پر کوئی سزا دی جاتی ہے۔ حضرت اشرف المشائخ نے فرمایا کہ جس طرح جسمانی اذیتیں اور تکلیفیں گناہوں کے سبب آتی ہیں اسی طرح باطنی امراض بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
ومن ایتہ الجوار فی البحر کا لاعلام ان یشا یسکن الریع فیظلن رواکد علی ظہرہ ط ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور، ویوبضھن بما کسبوا ویعف عن کثیرہ ویعلم الذین یجادلون فی آیتنا ط مالھم من محیص (35-32)
دنیا کی کامیابی پر مفروروں کے لئے ایک تمثیل
یہ ان لوگوں کے سامنے ایک مثال پیش کی ہے جو اپنی دنیوی کامیابیوں پر مگن ہیں کہ اس دنیا کی زندگی کو کشتی کے سفر کی مانند سمجھو۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کا کرشمہ ہے کہ پہاڑوں کے مانند بھاری بھاری جہازات سمندر کے سینہ پر دوڑتے پھرتے ہیں۔ جن لوگوں کی نظر خدا کی قدرت پر نہیں ہوتی وہ جب جہاز کو رواں داں دیکھتے ہیں تو مگن ہو کر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اس کو کوئی خطرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
34۔ 1 یعنی سمندر کو حکم دے اور اس کی موجوں میں طغیانی آجائے اور یہ ان میں ڈوب جائیں۔
34۔ 2 ورنہ سمندر میں سفر کرنے والا کوئی بھی سلامتی کے ساتھ واپس نہ آسکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–39
7: یعنی اگر (معاذاللہ) آنحضرت ﷺ اپنی طرف سے گھڑ کر یہ قرآن بنا رہے ہوتے تو اللہ تعالیٰ آپ کے دل پر مہر لگا دیتا ، جس کی وجہ سے آپ کو ایسا کلام پیش کرنے پر قدرت ہی نہ ہوتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نبوت کا جھوٹا دعوی کرے تو اس کی بات کو چلنے نہیں دیتے، اور باطل کو مٹا دیتے ہیں، اس کے برعکس سچے نبی کے دعوے کو اپنے کلمات کے ذریعے ثابت فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
آیت نمبر 32 تا 35
پہاڑوں کی طرح دریاؤں میں چلنے پھرنے والے بحری جہاز اللہ کی نشانیوں میں سے مزید نشانیاں ہیں۔ یہ نشانی بھی حاضر و مشہود ہے۔ یہ نشانی ایسی ہے جو اللہ کی بنائی ہوئی نشانیوں میں سے کئی نشانیوں پر قائم ہے اور اس میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے۔ یہ سمندر ، اللہ کے سوا کون ہے جس نے اسے بنایا ؟ انسانوں نے اسے بنایا اور نام نہاد الہٰوں نے ۔ کون ہے جس نے اسے یہ گہرائی ، یہ کثافت اور یہ وسعت دی کہ وہ بڑی بڑی کشتیوں اور جہازوں کے اٹھانے کے قابل ہوگیا۔ پھر جس مواد سے کشتیاں بنتی ہیں ، اس مواد میں ایسی خصوصیت کس نے رکھی کہ وہ سطح سمندر پر تیرتا پھرے اور پھر یہ ہوا جو اس وقت ان بحری جہازوں کو…
Read the full tafseer →8 یعنی ہوا بھی اللہ کے قبضہ میں ہے۔ اگر ہوا کو ٹھہرا رکھے چلنے نہ دے تو تمام بادبانی جہاز دریا کی پیٹھ پر جہاں کے تہاں کھڑے رہ جائیں۔ غرض پانی اور ہوا سب اسی کے زیر فرمان ہیں۔
9 دریائی سفر میں موافق اور ناموافق دونوں قسم کے حالات سے سابقہ پڑتا ہے۔ اس لیے بہت ضروری ہے کہ انسان موافق حالات پر شکر اور ناموافق حالات پر صبر کرتا ہوا اللہ تعالیٰ کی قدرت اور نعمت کو پہچانے۔
Read the full tafseer →آیت 33 { اِنْ یَّشَاْ یُسْکِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاکِدَ عَلٰی ظَہْرِہٖ } ”اگر وہ چاہے تو ہوا کو ساکن کردے سو وہ کھڑے کے کھڑے رہ جائیں سمندر کی سطح پر۔“
{ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ } ”یقینا اس میں نشانیاں ہیں ہر ایک صبر کرنے والے اور شکر کرنے والے کے لیے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
47 قرآن میں اکثر مقامات پر کشتیوں کی روانی کو اللہ کی آیات میں شمار کیا گیا ہے۔ اس لیے کہ قریش مکہ کو تجارتی سلسلہ میں افریقہ کے ساحلی علاقہ سے تجارت کے لیے بحیرہ احمر کا سفر درپیش رہتا تھا۔ اس دور میں بادبانی کشتیاں ہوتی تھیں جن کی روانی اور رفتار کا انحصار باد موافق پر اور اس کی رفتار پر ہوتا تھا۔ انہیں بتایا یہ جارہا ہے کہ تمہاری بےبسی کا یہ عالم ہے کہ جب تمہاری کشتی وسط سمندر میں پہنچ جائے اور اللہ تعالیٰ ہوا کو ساکن کردے تو بتاؤ اس وقت تم کیا کرسکتے ہو ؟
48 صبار اور شکور دونوں مبالغہ کے صیغے ہیں اور یہ دو ایسے الفاظ ہیں جن میں مومن کی ساری زندگی کا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا گیا ہے۔ یعنی مومن…
Read the full tafseer →39۔ یعنی اس کی قدرت وصناعت پر دلالت کرنے والی نشانیاں کہ وہی ہوا کو چلاتا ہے۔ اور ہوا جہاز کو حرکت میں لاتی ہے۔ (آیت) ” الریح “۔ ریح (ہوا) کا مفہوم بہت وسیع ہے دخانی جہازوں کی اسٹیم بھی ہوا ہی کی ایک شکل ہے۔ (آیت) ” صبار شکور “۔ بندہ کے لئے زندگی بھر دو ہی حالتیں ممکن ہیں۔ یا غم و حرمان کی اور یا مسرت و راحت کی۔ مومن پہلی صورت میں صبر و تسلیم سے کام لیتا رہتا ہے۔ اور دوسری صورت میں شکر گزاری سے اور یہ دونوں صورتیں حق تعالیٰ سے جڑے رہنے ہی کی ہیں۔ حق تعالیٰ سے غفلت کا مجرم وہ بہرحال کسی صورت میں بھی نہیں ہوتا۔ وان یکون اما فی البلاء واما فی الالاء فان کان فی البلاء کان من الصابرین وان کان فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–43
آیت نمبر 30 تا 43
ترجمہ : اور جو کچھ تمہیں مصیبت بلا اور شدت پہنچتی ہے خطاب مومنین کو ہے وہ تمہارے ہاتھوں کے کرتوتوں کی وجہ سے ہے یعنی کردہ گناہوں کی وجہ سے ہے (گناہوں) کو ہاتھوں کے کرتوت سے تعبیر کیا ہے، اس لئے کہ اکثر اعمال کے وجود میں ہاتھوں کی کوشش شامل ہوتی ہے، اور بہت سے گناہوں کو تو وہ معاف کردیتا ہے کہ اس کی سزا نہیں دیتا، اللہ تعالیٰ بڑا کرم کرنے والا ہے، اس سے کہ آخرت میں کسی جرم کی سزا دوبارہ دے، رہے بےقصور، تو ان کو دنیا میں جو مصیبت پہنچتی ہے وہ آخرت میں ان کے درجات کو بلند کرنے کے لئے ہے اور اے مشرکو ! تم بھاگ کر اللہ کو زمین میں عاجز نہیں کرسکتے کہ اس سے بچ کر نکل جاؤ اور…
Read the full tafseer →ان یشا یسکن الریح فیظلن رواکد علی ظھرہ ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور۔ اگر اللہ چاہے تو ہوا کو روک دے اور نتیجہ یہ نکلے کہ جہاز سمندر کی سطح پر کھڑے رہ جائیں۔ بلاشبہ اس میں ہر صابر و شاکر (مؤمن) کیلئے (قدرت خداوندی کی) بڑی نشانیاں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
(32۔ 33) اور منجملہ اس کی وحدانیت اور قدرت کی نشانیوں میں سے پہاڑوں کی طرح اونچے جہاز ہیں اگر وہ چاہے تو اس ہوا کو ٹھہرا دے جس سے وہ جہاز چلتے ہیں تو پھر وہ سمندر کی سطح پر کھڑے ہی رہ جائیں۔
ان مذکورہ باتوں میں اطاعت خداوندی پر ثابت قدم رہنے والے اور نعمت خداوندی کا شکر کرنے والے کے لیے نشانیاں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
(1) ان یشا یسکن الریح …:”رواکد“”رکد یرکد رکوداً“ (ن) سے اسم فاعل ”راکدۃ“ کی جمع ہے۔ نزول قرآن کے وقت سمندر میں بادبانی کشتیاں اور جہاز چلتے تھے ، جن کے چلنے نہ چلنے کا اور سست یا تیز رفتار سے چلنے کا دار و مدار ہوا پر ہوتا تھا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے سمندروں میں جہازوں کو چلانے والی ہواؤں کی تین حالتیں بیان فرمائی ہیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ ہوا کو ساکن کر دے اور جہاز جہاں کھڑے ہیں وہیں کھڑے رہ جائیں، پھر اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے جو اس ہوا کو چلا دے ؟
(2) او یو بفھن بما کسبوا : اس کا عطف ”یسکن الریح“ پر ہے، گویا عبارت اس طرح ہے :”ان یشا یکسن الریح او ان یشاء یوبقھن بما کسبوا“ یعنی ”اگر وہ چاہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
ان یشا یسکن الریح اہل مدینہ نے اسی طرح جمع کا صیغہ پڑھا ہے فیظللن رواکد علی ظھرہ کشتیاں سطح سمندر پر ساکن رہتی ہیں وہ چلتی نہیں ہیں رکدالساء رکودا یعنی پانی ٹھہر گیا ‘ اسی طرح ہوا اور کشتی ہے۔ سورج جب دوپہر کو ٹھہر جائے تو اس کے لیے بھی راکد کا لفظ استعمال ہوتا ہے ‘ ہر وہ چیز جو کسی جگہ ثابت ہوا ہے راکد کہتے ہیں راکد المیزان جب وہ جھکنے سے رک جائے ‘ مراکد ان مقامات کو کہتے ہیں جہاں انسان اور دوسری چیزیں ٹھہرتی ہیں۔ قتادہ نے اسے فیظللتن پہلے لام کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے یہ بھی ایک لغت ہے جس طرح ضللت ‘ اضل ہے اور لام کے فتحہ کے ساتھ بھی ہے ؛ یہ قرأت مشہور ہے۔
ان فی ذلک لایت لکل صبارشکور۔ آیات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
3:۔ ابن المنذر (رح) نے عطا کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فیظللن رواکد علی ظہرہ “ (تو وہ جہاز سمندر کی سطح پر کھڑے رہ جائیں) یعنی نہ وہ حرکت کرتی تھیں اور نہ وہ سمندر میں چلتی تھیں۔
4:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” رواکد “ سے مراد ہے وہ ٹھہر جاتی ہیں ” اویوبقھن “ سے مراد ہے کہ وہ ان کو ہلاک کردیتا ہے۔
5:۔ ابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اویوبقھن “ سے مراد ہے کہ وہ ان کو غر ق کردے۔
6:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اویوبقھن “ سے مراد ہے کہ ان کو ہلاک کردے۔
7:۔ ابن…
Read the full tafseer →اِنْ يَّشَاْ [ اگر وہ چاہے ] يُسْكِنِ [ تو وہ ساکن کردے ] الرِّيْحَ [ ہوا کو ] فَيَظْلَلْنَ [ نتیجۃ وہ (کشتیاں) ہوجائیں ] رَوَاكِدَ [ ٹھہری ہوئی ] عَلٰي ظَهْرِهٖ ۭ [ اس (سمندر ) کی پیٹھ پر ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [ بیشک اس میں ] لَاٰيٰتٍ [ یقینا نشانیاں ہیں ] لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ [ہر ایک خوب ثابت قدم رہنے والے ، بہت شکر کرنے والے کے لئے ]
ر ک د : (ن) رکودا ۔ پانی یا ہوا کا ٹھہرنا ۔ راکدۃ ۔ ج : رواکد ، اسم الفاعل ہے ٹھہرنے والی ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 33 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
﴿اَوْ يُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَ يَعْفُ عَنْ كَثِيْرٍٞ0034﴾ میں یہ فرمایا ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ کو یہ قدرت ہے کہ ہوا کو روک دے جس کی وجہ سے کشتیاں سمندر میں کھڑی رہ جائیں تو اسے یہ بھی قدرت ہے کہ جو لوگ کشتیوں میں سوار ہیں ان کے اعمال کی وجہ سے کشتیوں کو تباہ کر دے جس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہوائیں خوب تیز چلنے لگیں اور اس کی وجہ سے کشتیوں میں بھونچال آجائے اور جو لوگ کشتیوں میں سوار ہیں اپنے اعمال کی وجہ سے ہلاک ہوجائیں اور اسے یہ بھی اختیار ہے کہ بہت سوں کو معاف فرما دے یعنی غرق نہ فرمائے دنیا میں مواخذہ نہ فرمائے پھر اپنے قانون کے مطابق جسے چاہے آخرت میں سزا دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–36
پیغام بشارت و رحمت برائے بندگان خدا درحالت یأس وناامیدی وذکر دلائل قدرت :
قال اللہ تعالیٰ : وھوالذی ینزل الغیث .......... الی ......... وعلی ربھم یتوکلون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں ایسے مجرمین ونافرمانوں کی مذمت تھی، جو خداوند عالم پر چھوٹ بہتان باندھتے ہوں اور ان کی ناکامی و محرومی کا بیان تھا اب ان آیات میں اللہ رب العالمین اپنی ایک خاص رحمت و عنایت کا ذکر فرما رہے ہیں کہ پروردگار عالم اپنی شان ربوبیت کے کس طرح اپنے بندوں پر مایوسی کے عالم میں بھی اپنی رحمت فرماتا ہے اس مضمون سے ایک طرف تو مجرمین کے بالمقابل مطیعین کے لیے رحمت و عنایت کا بیان ہے دوسری طرف آنحضرت ﷺ کے قلب مبارک سے اس رنج وغم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
31:۔ ” وما عنداللہ “ یہ بشارت اخرویہ ہے اور یہاں ان تین امور کا بیان بھی ہے جو عذاب خداوندی سے بچاتے ہیں (1) شرک نہ کرو۔ (2) ظلم نہ کرو اور (3) اھسان کرو۔ اللہ کی توحید پر ایمان لانے والوں، شرک نہ کرنے والوں اور ہر معاملے میں اپنے خدا پر بھروسہ کرنے والوں کے لیے اللہ کے یہاں جو اجر وثواب اور انعام وعطاء محفوط ہے وہ دنیوی ساز و سامان سے کہیں بہتر اور پائیدار ہے۔ اس میں عذاب سے بچنے کیلئے امر اول کا بیان ہے۔ ” والذین یجتنبون الخ “ ان کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ کبائر و فواحش سے اجتناب کرتے ہیں۔ ظلم بھی کبیر گناہ ہے اور ان کی تیسری صفت یہ ہے کہ جب ان کو غصہ آجائے تو احسان کرتے اور درگذر کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–36
ربط آیات گزشتہ آیات میں نبوت و رسالت کا ذکر تھا ، اس کے ساتھ دلائل تنشہ اور اللہ کی قدرت کی نشانیوں کا تذکرہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں و زمین کو تخلیق کیا اور پھر زمین پر تمام جانداروں کو پھیلا دیا ۔ جس طرح بنی نوع انسان کو زمین کے مختلف خطوں میں بکھیر دیا ۔ اسی طرح وہ قیامت والے دن سب کو اکٹھا بھی کرے گا پھر محاسبہ کی منزل آئیگی اور جزا و سزا کے فیصلے ہوں گے ، اللہ نے یاد دلایا کہ تمام اختیارات اور تصرفات اسی کے قبضہ میں ہیں اور وہ ہر کام کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔
مصائب نتیجہ اعمال
دنیا میں انسانوں پر ہر قسم کے دو ر آتے ہیں ، کبھی راحت کبھی تکلیف ، کبھی خوشحالی کبھی تنگدستی ، کبھی صحت ، کبھی…
Read the full tafseer →اِنْ يَّشَاْ يُسْكِنِ الرِّيْحَ فَيَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰي ظَہْرِہٖ 0 ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ 33 ۙ
سكن
السُّكُونُ : ثبوت الشیء بعد تحرّك، ويستعمل في الاستیطان نحو : سَكَنَ فلان مکان کذا، أي : استوطنه، واسم المکان مَسْكَنُ ، والجمع مَسَاكِنُ ، قال تعالی: لا يُرى إِلَّا مَساكِنُهُمْ [ الأحقاف/ 25] ،
( س ک ن ) السکون ( ن )
حرکت کے بعد ٹھہر جانے کو سکون کہتے ہیں اور کسی جگہ رہائش اختیار کرلینے پر بھی یہ لفط بولا جاتا ہے اور سکن فلان مکان کذا کے معنی ہیں اس نے فلاں جگہ رہائش اختیار کرلی ۔ اسی اعتبار سے جائے رہائش کو مسکن کہا جاتا ہے اس کی جمع مساکن آتی ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
ترکیب : ما اصابکم شرط فی موضع رفع بالابتد افبماکسبت جو ابہ والمراد بالفعلین الاستقبال ویعفو الخ جملۃ مستانفۃ من ولی اسم مالکم خبر ھا الجواربحذف الیاء من الحظ لانھا من الزوائد دباثبا تھا جمع جارتہ ای سائرۃ والمراد بھا الفلک مبتداء و من آیاۃ خبر ھا فی البحر یتعلق بالجواری ویمکن ان یکون حالامنہ والعامل فیہ الاستقرار۔ کالا علام جمع علم وھوالجبل اوکل شیئٍ مرتفع حال ثابۃ اومن الضمیر فی الجواری یسکن جواب الشرط فیظللن معطوف علیہ و کذلک اویوبقہن ویعف۔ رواکد جمع الراکدوھوالساکن ویقال اوبقہ ای اھل کہ ویعلم بالنصب علی الصرف ای صرف العطف علی للفظ الی العطف علی المعنی قالہ الزجاج ویقرء بالکسر علی ان یکون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
وَمِنْ اٰیٰـتِہِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ کَالْاَعْلاَمِ ۔ اِنْ یَّشَاْ یُسْکِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَـلْنَ رَوَاکِدَعَلٰی ظَھْرِہٖ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّـکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ ۔ اَوْ یُوْبِقْھُنَّ بِمَا کَسَبُوْا وَیَعْفُ عَنْ کَثِیْرٍ ۔ وَّیَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْٓ اٰیٰـتِنَا ط مَالَہُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ ۔ (الشوری : 32 تا 35)
(اور اس کی نشانیوں میں سے سمندروں میں چلنے والے جہاز ہیں پہاڑوں کی مانند۔ اگر وہ چاہے تو ہوا کو ساکن کردے، پس وہ سمندر کی سطح پر کھڑے کے کھڑے رہ جائیں، بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر صبر و شکر کرنے والے کے لیے۔ یا ان کو تباہ کردے ان کے کرتوتوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
فہم القرآن
ربط کلام : جس اللہ کو کوئی عاجز اور بےبس نہیں کرسکتا۔ اسی کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ سمندر میں پہاڑوں کی طرح لمبے، چوڑے اور بلندو بالاجہاز دوڑے پھر رہے ہیں۔
قرآن مجید نے متعدد آیات میں سمندر میں چلنے والی کشتیوں کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ قرار دیا ہے اور کشتیوں میں سفر کرنے والوں کو اس بات پر غور کرنے کا حکم دیا ہے۔ غور کرو ! کہ جو پانی ایک سوئی کا بوجھ برداشت نہیں کرتا وہی پانی ہزاروں ٹن کا بوجھ اٹھائے ہوئے بحری جہازوں اور کشتیوں کو سمندر کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچاتا ہے۔ نزول قرآن کے زمانے میں بادبانی کشتیاں ہوتی تھیں جن کی چوٹیاں دور سے پہاڑوں کی طرح دکھائی دیتی تھیں۔…
Read the full tafseer →صابر و شاکر :
33: اِنْ یَّشَاْ یُسْکِنِ الرِّیْحَ (اگر وہ چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے)
قراءت : مدنی نے الریاح پڑھا ہے۔ فَیَظْلَلْنَ رَوَاکِدَ (وہ کھڑے کے کھڑے رہ جائیں) کھڑے رہیں نہ چل سکیں۔ عَلٰی ظَھْرِہٖ (اس کی سطح پر) سمندر کی سطح پر اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ (بیشک اس میں نشانات ہیں ہر صابر) جو مصائب پر صبر کرتا ہے۔ شَکُوْرٍ (شاکر کیلئے) نعمتوں کا قدردان ہے یعنی ہر مخلص ایمان والے کیلئے۔ ایمان کے دو حصے ہیں نمبر 1۔ آدھا صبر 2۔ آدھا شکر یا اطاعتوں پر جم جانے والا اور نعمتوں کی قدردانی کرنے والا۔
Read the full tafseer →32، ومن آیاتہ الجوار، یعنی کشتیاں اور اس کا واحد، جاریۃ، اور وہ چلنے والی کشتی ، فی البحر کالاعلام، یعنی پہاڑ۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا واحد علم ہے اور خلیل بن احمد (رح) فرماتے ہیں ہر بلند چیز عرب کے نزدیک علم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
31۔ 35۔ اوپر مصیبت کا ذکر تھا اس لئے فرمایا کہ اللہ کی بھیجی ہوئی مصیبت کو کوئی ٹال نہیں سکتا زمین بھر میں کوئی بھاگ بھاگا پھرے جب بھی اللہ تعالیٰ کے دائرہ حکومت سے باہر نہیں جاسکتا اور اللہ تعالیٰ کے دائرہ حکومت میں سوا اللہ تعالیٰ کے کوئی کسی کا یار مددگار بن کر بھی اس مصیبت کو نہیں ٹال نہیں سکتا اب آگے منکرین قدرت کے قائل کرنے کے لئے فرمایا یہ پہاڑ کے پہاڑ کشتیاں پانی کو پھاڑ کر جو دریا میں پھرتی ہیں اللہ چاہے تو ہوا کو روک دے جس سے پانی کی پیٹھ پر وہ کشتیاں ٹھہر جائیں یا کوئی مخالف ہوا چلا کر ان کو بالکل ڈبو دے لیکن اللہ تعالیٰ بہت سے گناہ معاف کردیتا ہے جس سے لوگوں کی اکثر بلائیں ایک وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
آیت 32
یعنی اپنے بندوں پر رحمت اور عنایت کے جملہ دلائل میں سے ایک دلیل (الجوار فی البحر) ” سمندر میں جہاز “ کشتیاں، دخانی اور بادبانی جہاز ہیں جو اپنی بڑی جسامت کی بنا پر (کالا غلام) بڑے بڑے پہاڑ دکھائی دیتے ہیں جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کو مسخر کردیا اور متلاطم موجوں سے ان کی حفاظت کی، یہ کشتیاں انہیں اور ان کے سامان تجارت کو دور دور ملکوں اور شہروں تک لے جاتی ہیں اور ان کے لئے ایسے اسباب مہیا کئے جو ان کو ان ملکوں اور شہروں تک جانے میں مدد دیتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : (ان یشایسکن الریح) ” اگر وہ (اللہ چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–37
محبت برائے قرابت
قول باری ہے (قل لا اسئلکو علیہ اجر ا الا المودۃ فی القربی۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں طلب کرتا، ہاں رشتہ داری کی محبت ہو) حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد، قتادہ ضحاک اور سدی کا قول ہے کہ ” مگر یہ کہ تم مجھ سے اس بنا پر محبت رکھو کہ تمہارے ساتھ میری رشتہ داری اور قرابت ہے۔ “ ان حضرات کا قول ہے کہ قریش کے تمام خاندانوں اور حضور ﷺ کے درمیان قرابت تھی۔ علی بن الحسین اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” مگر یہ کہ تم میرے قرابت داروں سے محبت رکھو۔ “ حسن کا قول ہے۔” مگر یہ کہ عمل صالح کے ذریعے تم اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی دوستی حاصل کرو۔ “
Read the full tafseer →76 جہازوں کا پانی کی پیٹھ پر چلنا قدرت کا ایک عظیم الشان کرشمہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دیو ہیکل جہازوں کی سمندروں کی پیٹھ پر روانگی اور ان کی آمد ورفت اللہ ہی کے کرم واحسان کا نتیجہ وثمرہ اور اس کی قدرت کا ایک عظیم الشان کرشمہ ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ اگر چاہے تو روک دے ہوا کو "۔ جس کے نتیجے میں یہ سارے جہاز اپنی جگہ کھڑے کے کھڑے رہ جائیں۔ اور ایسے کہ نہ آگے جاسکیں نہ پیچھے۔ مگر وہ اپنے حلم بےنہایت اور کرم بیکراں کی بنا پر ایسے نہیں کرتا۔ بلکہ اس نے اپنی عنایت بےنہایت اور رحمت بےغایت سے سمندروں اور ہواؤں وغیرہ کی طرح طرح کی مخلوقات کو طرح طرح سے تمہارے کام اور تمہاری خدمت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–43
مصیبتیں اپنے اعمال کی وجہ سے ہی آتی ہیں
تشریح : ان آیات میں بیشمار حکمت کی باتیں بتائی گئی ہیں جن کو سمجھ لینا اور ان پر عمل کرنا نہ صرف آسان ہے بلکہ زندگی کو آسان بناتا ہے اور پھر اللہ کی خوشنودی کا باعث بھی بنتا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ بڑا رحمن اور رحیم ہے۔ کچھ قدرتی آفات تو اللہ کے حکم سے فضائی رد و بدل کے لیے آتی ہیں۔ کچھ گناہوں کی سزا کے طور پر قدرتی آفات کی شکل میں آتی ہیں مثلاً طوفان نوح وغیرہ اور بہت سی ایسی آفات ہیں جو انسان خود اپنے اوپر مسلط کرلیتا ہے۔ مثال کے طور پر 1945 میں امریکہ نے ناگا سا کی اور ہیرو شیما پر ایٹم بم گرا کر ظلم و ستم اور دہشت و بربریت کی ایسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–43
آیات 30 تا 43۔
اسرار ومعارف۔
اور جو مصیبت بھی لوگوں پر آتی ہے وہ ان کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے اگرچہ بہت سے گناہوں سے درگزر کی جاتی ہے تو اکثر مصائب گناہ کی سزا کے طور پر آتے ہیں اور مومن کے لیے گناہ سے توبہ اور گزشتہ کی بخشش کا سبب بن جاتے ہیں اسی طرح باطنی اور قلبی طور پر بھی ایک گناہ ہوجائے تو وہ دوسرے کا سبب بن جاتا ہے تاآنکہ اس سے توبہ نصیب ہو یہ عام قاعدہ ہے اور اگر اللہ کریم معاف نہ فرماتے اور درگزر کا معاملہ نہ فرماتے تو لوگ زمین میں بھاگ بھاگ کر یا کہیں چھپ چھپ کر اس کے عذاب سے نہیں بچ سکتے تھے اور نہ ہی انہیں کوئی ایسامدد کرنے والایادوست ہاتھ آتا جو انہیں بچاسکتا۔
اور اس کی عظمت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
ف 9 یعنی جسے اگر مصیبت اور بدحالی پہنچی ہے تو صبر کرتا ہے اور اگر نعمت و خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو شکر کرتا ہے، کسی حال میں اللہ تعالیٰ سے غافل نہیں ہوتا اور اپنی بندگی کی حد سے نہیں نکلتا۔
Read the full tafseer →(42:33) ان یشاء ان شرطیہ۔ یشأ مضارع مجزوم (بوجہ عمل ان) واحد مذکر غائب مشیۃ (باب فتح) مصدر۔ اگر وہ چاہے۔
یسکن مضارع مجزوم بوجہ شرط : واحد مذکر غائب کا صیغہ ن مکسور بالوصل اسکان (افعال) مصدر وہ روک دے۔
الریح ہوا۔ اسم مفعول ۔ ریح کی جمع ریاح ہے قرآن مجید میں جہاں ارسال کی ہوائیں مراد ہیں اور اگر واحد کا لفظ ریح استعمال ہوا ہے تو وہاں عذاب کے معنی مراد ہیں۔ ان یشا یسکن الریح جملہ شرطیہ ہے۔
فیظللنجواب شرط کے لئے ہے یظللن مضارع فعل ناقص جمع مؤنث غائب ظل (باب سمع) مصدر وہ ہوجائیں۔ وہ ہوجائیں گی۔ ضمیر جمع مؤنث کا مرجع الجوار ہے۔
رواکد : ایستادہ : ٹھہری ہوئیں۔ تھمی ہوئیں۔ راکد کی جمع ہے رکود (باب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–43
لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 43 : اصاب (پہنچا) کسبت (اس نے کمایا) معجزین ( عاجز ، بےبس کرنے والے) الجوار ( جاری) چلنے والے) الاعلام ( علم) پہاڑ ، اونچی چیز) یسکن ( وہ ٹھہراتا ہے) رواکدا ( راکد) (ٹھہرنے والے) ظھر ( پیٹھ) صبار ( بہت صبر کرنے والا) یوبق ( وہ تباہ کرتا ہے) محیص (چھٹکارا پانے کی جگہ) یجتنبوا ( وہ بچتے ہیں ، پرہیز کرتے ہیں) کبائر الاثم ( بڑے بڑے گناہ) شوریٰ (مشورہ کرنے کا راستہ سمجھانا) ینتصرون (وہ روکتے ہیں) انتصر (اس نے بدلہ لیا ، انتقام لیا) عزم الامور (بڑی بات ، بڑا کام)
تشریح : آیت نمبر 30 تا 43 : دیکھا یہ گیا ہے کہ دنیا میں انسان جیسا عمل کرتا ہے اس کا اچھا یا برا نتیجہ ضرور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
دنیا چند روزہ ہے۔
(ف 3) ان آیتوں میں فرمایا کہ دنیا میں جو کچھ ہے وہ چند روزہ ہے یہ سب دنیا کی جیتی دم کی زینت اور آراستگی ہیں کچھ باقی نہ رہے گا اور آخرت میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے وہ ان سب دنیا کی نعمتوں سے لاکھوں درجے بہتر ہے اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے جس کو کبھی فنا نہیں جانتے ہو کس کے لیے ہے۔
کامل مسلمان کی خوبیاں۔
ہاں وہ ان کے لیے ہے جو رسول قرآن پر ایمان لائے اور اپنے پروردگار پر ہر بات میں بھروسہ رکھتے ہیں اور کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرتے ہیں اور زناوغیرہ سے دور بھاگتے ہیں ، احکام الٰہی کو مانتے ہیں نماز پڑھتے ہیں اور جب کسی بات پر غصہ ہوتے ہیں تو بردباری کرتے ہیں بدلہ نہیں لیتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
[20] کٹ حجتی کرنے سے یہ مراد ہے کہ ایسے لوگ ہر کام کو اپنی تدبیر کی طرف منسوب کیا کرتے ہیں۔ جہاز تباہی میں آئے اور کوئی تدبیر پیش رفت نہ ہو تو سمجھیں کہ سب کچھ اللہ کے حکم سے ہو رہا ہے اور آدمی عاجز ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–36
آیت 27 تا 36:
حل لغات :۔ بقدر ۔ یعنی ایک انداز کے ساتھ اس طرح کہ کائنات کا نظام باقی رہے اقنطوا ۔ مایوس ہوگئے ۔ قنوط سے ہے ۔ بمعنی مایوسی بٹ ۔ پھیلایا ۔ منتشر کیا دابۃ ۔ حیوان زمین پرچلنے والے جانور ۔ حل لغات :۔ کالا علام ۔ پہاڑوں کی طرح اعلام ۔ جمع علم کی ہے یوبھن ۔ تباہ کردے ۔
مادیات میں غور وفکر
1: قرآن حکیم اس بات پر بڑا زور دیات ہے ۔ کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ان فیوض کو غورو تعمق کی نظر سے دیکھیں جو کارگاہ حیات کو زندگی بخش رہے ہیں ۔ اس کے نزدیک جس طرح یہ ضروری ہے ۔ کہ شریعت اور فقہ کا مطالعہ کیا جائے ۔ معاشری قوانین کی افادیت پر غور کیا جائے ۔ اور سیاست واخلاق کے مسائل کو زیر بحث لایا…
Read the full tafseer →(33) اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے اور وہ جہاز سمندر کی پیٹھ پر کھڑے کے کھڑے رہ جائیں ۔ بلا شبہ اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکر بجا لانے والے کے لئے بڑے دلائل ہیں اور بڑی نشانیاں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
ف 4۔ خواہ دونوں جہان میں یا صرف دنیا میں۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ صرف ہوا کو رُک جانے کا حکم دے تو انسان کا سارا نشہ ہرن ہو جائے
33 ؎ اللہ ربِّ ذوالجلال جس کے قبضہء قدرت میں ہر ایک چیز ہے کہ اگر وہ ہوا کو ساکن کر دے اور اس کے اس قدرتی دباؤ اور حرکت کو روک دے تو انسان کا سارا نشہ اتر جائے کیونکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ ہوا ہی کے انحصار پر انسان زندہ ہے اور یہ ہوا ہی کے کردار کے باعث سارا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ ہوا ساکن ہوجائے تو یہ تمہاری کشتیاں پانی کی سطح پر اس طرح رک جائیں کہ کسی قسم کی حرکت کر ہی نہ سکیں۔ اللہ کرے کہ انسان کے حالات سازگار ہی رہیں اور ناسازگار نہ ہوجائیں ورنہ انسان کا سارا کیا کرایا کھیل ختم ہو کر رہ جائے گا۔ بلاشبہ انسان آج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ (And whatever hardship befalls you is because of what your own hands have committed, while He overlooks many [ of your faults ].... 42:30) means exactly the same. Sayyidna Hasan ؓ has narrated that when this verse was revealed, the Holy Prophet ﷺ said "I swear by the Being Who holds my life, that anyone who gets scratched by a piece of wood, or his nerve shivers or his step falters is all due to his sins, and Allah Ta’ ala does not punish for every sin, rather the number of sins He overlooks far exceeds those…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
53. Signs for him who patiently endures, who keeps himself fully under control and remains steadfast on the path of servitude under all circumstances, good or bad; who does not forget himself so as to become rebellious against God and cruel to the people, when favored with good times, and loses heart and stoops to anything when visited by evil times. A grateful person is every such person who regards it as a bounty of Allah and not the result of any merit or excellence in himself when he is exalted to any high place of honor in life by a divine decree, and keeps his mind concentrated on the…
Read the full tafseer →