Ash-Shura 42:34

Ash-Shura · from ayah 34

42:34

اَوْ یُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَیَعْفُ عَنْ كَثِیْرٍ ۟ؗۙاَوۡ يُوۡبِقۡهُنَّ بِمَا كَسَبُوۡا وَيَعۡفُ عَنۡ كَثِيۡرٍ

یا ان کے اعمال کے سبب ان کو تباہ کردے۔ اور بہت سے قصور معاف کردے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or He could destroy them for what they earned; but He pardons much.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 4 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shura

All translations of 42:34

یا (اُن پر سوار ہونے والوں کے) بہت سے گناہوں سے در گزر کرتے ہوئے ان کے چند ہی کرتوتوں کی پاداش میں انہیں ڈبو دے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یا ان کے اعمال کے سبب ان کو تباہ کردے۔ اور بہت سے قصور معاف کردے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یا انہیں ان کے کرتوتوں کے باعﺚ تباه کردے، وه تو بہت سے خطاؤں سے درگزر فرمایا کرتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یا (اگر اللہ چاہے) تو ان جہازوں کو لوگوں کے بعض اعمال کی وجہ سے تباہ ہی کردے، اور بہت سوں سے درگزر کر جائے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یا انہیں تباہ کردے لوگوں کے گناہوں کے سبب اور بہت معاف فرمادے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یا اُن (جہازوں اور کشتیوں) کو اُن کے اعمالِ (بد) کے باعث جو انہوں نے کما رکھے ہیں غرق کر دے، مگر وہ بہت (سی خطاؤں) کو معاف فرما دیتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یا وہ انھیں اس کی وجہ سے ہلاک کر دے جو انھوں نے کمایا اور (چاہے تو) بہت سے لوگوں سے درگزر کردے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یا ان کے برے اعمال کے سبب کشتیوں کو تباہ کردے اور وہ بہت سے لوگوں کو معاف ہی کردیتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یا ان کو تباہ کر دے ان کے اعمال کی پاداش میں اور بہتوں سے درگزر فرمائے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یا وہ ہلاک کر دے ان (پر سوار ہونے والوں) کو ان کے کرتوتوں کی پاداش میں اور بہتوں سے وہ درگزر فرماتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

(چاہے تو) تباہ کردے ان جہازوں کو بسبب ان لوگوں کے کرتوتوں کے اور بہت لوگوں سے درگزر بھی کرجائے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یا وہ (چاہے تو) تباہ کر دے ان (جہازوں) کو لوگوں کے گناہوں کی پاداش میں لیکن وہ بہت سی خطائوں سے درگزر فرماتا رہتا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یا ان کے اعمال کے سبب ان کو تباہ کر دے اور بہت سے قصور معاف کر دے

— محترمہ رفعت اعجاز

He may, while forgiving much of the sins of those that ride these ships, drown them on account of some of their misdeeds.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Or He may destroy them because of what they earned, and may overlook many (whom He may save at least in this world),

— Muhammad Taqi Usmani

Or He may destroy them because of what they earned, and may overlook many (whom He may save at least in this world),

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Or He may destroy them because of that which their (people) have earned. And He pardons much.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Or He causeth them to perish on account of that which they have earned - And He forgiveth much -

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Or He could destroy them for what they earned; but He pardons much.

— Saheeh International

or He could have destroyed them as punishment for the human being's deeds. However, God pardons many sins.

— Muhammad Sarwar

Or He may make them founder for what they have earned, and (even then) pardon most;

— Muhammad Habib Shakir

Or He may destroy them because of that which they have earned, and He may pardon many of them.

— Abdul Majid Daryabadi

Or He can cause them to perish because of the (evil) which (the men) have earned; but much doth He forgive.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 42:34

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 32–35

سمندروں کی تسخیر قدرت الہی کی نشانی اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی قدرت کے نشان اپنی مخلوق کے سامنے رکھتا ہے کہ اس نے سمندروں کو مسخر کر رکھا ہے تاکہ کشتیاں ان میں برابر آئیں جائیں۔ بڑی بڑی کشتیاں سمندروں میں ایسی ہی معلوم ہوتی ہیں جیسے زمین میں اونچے پہاڑ۔ ان کشتیوں کو ادھر سے ادھر لے جانے والی ہوائیں اس کے قبضے میں ہیں اگر وہی چاہے تو ان ہواؤں کو روک لے پھر تو بادبان بیکار ہوجائیں اور کشتی رک کر کھڑی ہوجائے ہر وہ شخص جو سختیوں میں صبر کا اور آسانیوں میں شکر کا عادی ہو اس کے لئے تو بڑی عبرت کی جا ہے وہ رب کی عظیم الشان قدرت اور اس کی بےپایاں سلطنت کو ان نشانوں سے سمجھ سکتا ہے اور جس طرح ہوائیں بند…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 34–35

سورة الشُّوْرٰی 54 قریش کے لوگوں کو اپنے تجارتی کاروبار کے سلسلے میں حبش اور افریقہ کے ساحلی علاقوں کی طرف بھی جانا ہوتا تھا، اور ان سفروں میں وہ باد بانی جہازوں اور کشتیوں پر بحر احمر سے گزرتے تھے جو ایک بڑا خطرناک سمندر ہے۔ اس میں اکثر طوفان اٹھتے رہتے ہیں اور زیر آب چٹانیں کثرت سے ہیں جن سے طوفان کی حالت میں ٹکرا جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس لیے جس کیفیت کا نقشہ اللہ تعالیٰ نے یہاں کھینچا ہے اسے قریش کے لوگ اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں پوری طرح محسوس کرسکتے تھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–35

(آیت) وَمَآ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ۔ کا یہی مطلب ہے۔ حضرت حسن سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے قبضہ میں میری جان ہے، جس شخص کو کسی لکڑی سے کوئی خراش لگتی ہے، یا کوئی رگ دھڑکتی ہے یا قدم کو لغزش ہوتی ہے، یہ سب اس کے گناہوں کے سبب سے ہوتا ہے اور ہر گناہ کی سزا اللہ تعالیٰ نہیں دیتے بلکہ جو گناہ اللہ تعالیٰ معاف کردیتے ہیں وہ ان سے بہت زیادہ ہیں جن پر کوئی سزا دی جاتی ہے۔ حضرت اشرف المشائخ نے فرمایا کہ جس طرح جسمانی اذیتیں اور تکلیفیں گناہوں کے سبب آتی ہیں اسی طرح باطنی امراض بھی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 32–35

ومن ایتہ الجوار فی البحر کا لاعلام ان یشا یسکن الریع فیظلن رواکد علی ظہرہ ط ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور، ویوبضھن بما کسبوا ویعف عن کثیرہ ویعلم الذین یجادلون فی آیتنا ط مالھم من محیص (35-32) دنیا کی کامیابی پر مفروروں کے لئے ایک تمثیل یہ ان لوگوں کے سامنے ایک مثال پیش کی ہے جو اپنی دنیوی کامیابیوں پر مگن ہیں کہ اس دنیا کی زندگی کو کشتی کے سفر کی مانند سمجھو۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کا کرشمہ ہے کہ پہاڑوں کے مانند بھاری بھاری جہازات سمندر کے سینہ پر دوڑتے پھرتے ہیں۔ جن لوگوں کی نظر خدا کی قدرت پر نہیں ہوتی وہ جب جہاز کو رواں داں دیکھتے ہیں تو مگن ہو کر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اس کو کوئی خطرہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 33–34

34۔ 1 یعنی سمندر کو حکم دے اور اس کی موجوں میں طغیانی آجائے اور یہ ان میں ڈوب جائیں۔ 34۔ 2 ورنہ سمندر میں سفر کرنے والا کوئی بھی سلامتی کے ساتھ واپس نہ آسکے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 24–39

7: یعنی اگر (معاذاللہ) آنحضرت ﷺ اپنی طرف سے گھڑ کر یہ قرآن بنا رہے ہوتے تو اللہ تعالیٰ آپ کے دل پر مہر لگا دیتا ، جس کی وجہ سے آپ کو ایسا کلام پیش کرنے پر قدرت ہی نہ ہوتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نبوت کا جھوٹا دعوی کرے تو اس کی بات کو چلنے نہیں دیتے، اور باطل کو مٹا دیتے ہیں، اس کے برعکس سچے نبی کے دعوے کو اپنے کلمات کے ذریعے ثابت فرماتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 32–35

آیت نمبر 32 تا 35 پہاڑوں کی طرح دریاؤں میں چلنے پھرنے والے بحری جہاز اللہ کی نشانیوں میں سے مزید نشانیاں ہیں۔ یہ نشانی بھی حاضر و مشہود ہے۔ یہ نشانی ایسی ہے جو اللہ کی بنائی ہوئی نشانیوں میں سے کئی نشانیوں پر قائم ہے اور اس میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے۔ یہ سمندر ، اللہ کے سوا کون ہے جس نے اسے بنایا ؟ انسانوں نے اسے بنایا اور نام نہاد الہٰوں نے ۔ کون ہے جس نے اسے یہ گہرائی ، یہ کثافت اور یہ وسعت دی کہ وہ بڑی بڑی کشتیوں اور جہازوں کے اٹھانے کے قابل ہوگیا۔ پھر جس مواد سے کشتیاں بنتی ہیں ، اس مواد میں ایسی خصوصیت کس نے رکھی کہ وہ سطح سمندر پر تیرتا پھرے اور پھر یہ ہوا جو اس وقت ان بحری جہازوں کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی چاہے تو مسافروں کے بعض اعمال کی پاداش میں جہازوں کو تباہ کر ڈالے اور اس تباہی کے وقت بھی بعض کو معاف فرما دے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 34 { اَوْ یُوْبِقْہُنَّ بِمَا کَسَبُوْا وَیَعْفُ عَنْ کَثِیْرٍ } ”یا وہ چاہے تو تباہ کر دے ان جہازوں کو لوگوں کے گناہوں کی پاداش میں ‘ لیکن وہ بہت سی خطائوں سے درگزر فرماتا رہتا ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

49 یعنی ہوا کو ایک دو دن کے لیے ساکن اور بند ہی رہنے دے یا باد مخالف چلا دے یا کشی کو بھنور میں پھنسا دے یا سمندر کی تلاطم خیز موجوں سے دو چار کر دے اور کشتی کو ڈبو کو تباہ کر دے تو اس کا سبب کشتی پر سوار لوگوں کی بداعمالیاں ہی ہوتی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان کی بہت بد اعمالیوں سے تو درگزر ہی کرجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

40۔ یعنی جس طرح جہازوں اور عظیم الشان جہازوں کو چلتے چلاتے، متحرک رکھنا اس کی قدرت عظمت، صنعت کی ایک دلیل ہے۔ اسی طرح یہ بھی اس کی مشیت وقدرت میں داخل ہے کہ جب چاہے ان جہاز والوں کی بداعمالی کی پاداش میں ان جہازوں کو طوفان لاکر تندوتیز ہوا چلا چلا کر تباہ بھی کردے۔ (آیت) ” یوبقھن “۔ ھن کا مضاف اھل مقدر ہے۔ اصل ترکیب کلام یوں ہے۔ اویوبق اھلھن والمراد علی ماقال غیر واحد اھلاک اھلھا (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 30–43

آیت نمبر 30 تا 43 ترجمہ : اور جو کچھ تمہیں مصیبت بلا اور شدت پہنچتی ہے خطاب مومنین کو ہے وہ تمہارے ہاتھوں کے کرتوتوں کی وجہ سے ہے یعنی کردہ گناہوں کی وجہ سے ہے (گناہوں) کو ہاتھوں کے کرتوت سے تعبیر کیا ہے، اس لئے کہ اکثر اعمال کے وجود میں ہاتھوں کی کوشش شامل ہوتی ہے، اور بہت سے گناہوں کو تو وہ معاف کردیتا ہے کہ اس کی سزا نہیں دیتا، اللہ تعالیٰ بڑا کرم کرنے والا ہے، اس سے کہ آخرت میں کسی جرم کی سزا دوبارہ دے، رہے بےقصور، تو ان کو دنیا میں جو مصیبت پہنچتی ہے وہ آخرت میں ان کے درجات کو بلند کرنے کے لئے ہے اور اے مشرکو ! تم بھاگ کر اللہ کو زمین میں عاجز نہیں کرسکتے کہ اس سے بچ کر نکل جاؤ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

او یوبقھن بما کسبوا ویعف عن کثیر یا (اگر اللہ چاہے تو) جہازوں کو ان کے (بد) اعمال کی وجہ سے تباہ کر دے اور (ان میں) بہت سے آدمیوں سے درگذر کر جائے۔ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ جہاز جو سمندر میں چلتے ہیں۔ کَالْاَعْلاَمِ ایسے جہاز جو پہاڑوں کی طرح (دکھائی دیتے) ہیں۔ رَوَاکِدَا رکے ہوئے۔ عَلٰی ظَھْرِہٖ سمندر کی پشت پر (یعنی سطح پر) صَبَّارٍ شَکُوْرٍ یعنی مؤمن کیلئے۔ مصیبت اور سختی پر صبر اور راحت و آسائش کے وقت شکر مؤمن کا شیوہ ہے ‘ اسلئے صبار شکور سے مؤمن مراد ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایمان کے دو حصے ہیں ‘ آدھا صبر میں ہے اور آدھا شکر میں ‘ رواہ البیہقی فی شعب الایمان عن انس۔ اَوْیُوْبِقْھُنَّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

یا اگر وہ چاہے تو ان جہازوں کو سمندر میں ان کے سواروں کے اعمال بد کی وجہ سے تباہ کردے مگر وہ تو انتقام لینے میں جلدی نہیں کرتا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 33–34

(1) ان یشا یسکن الریح …:”رواکد“”رکد یرکد رکوداً“ (ن) سے اسم فاعل ”راکدۃ“ کی جمع ہے۔ نزول قرآن کے وقت سمندر میں بادبانی کشتیاں اور جہاز چلتے تھے ، جن کے چلنے نہ چلنے کا اور سست یا تیز رفتار سے چلنے کا دار و مدار ہوا پر ہوتا تھا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے سمندروں میں جہازوں کو چلانے والی ہواؤں کی تین حالتیں بیان فرمائی ہیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ ہوا کو ساکن کر دے اور جہاز جہاں کھڑے ہیں وہیں کھڑے رہ جائیں، پھر اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے جو اس ہوا کو چلا دے ؟ (2) او یو بفھن بما کسبوا : اس کا عطف ”یسکن الریح“ پر ہے، گویا عبارت اس طرح ہے :”ان یشا یکسن الریح او ان یشاء یوبقھن بما کسبوا“ یعنی ”اگر وہ چاہے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 33–35

ان یشا یسکن الریح اہل مدینہ نے اسی طرح جمع کا صیغہ پڑھا ہے فیظللن رواکد علی ظھرہ کشتیاں سطح سمندر پر ساکن رہتی ہیں وہ چلتی نہیں ہیں رکدالساء رکودا یعنی پانی ٹھہر گیا ‘ اسی طرح ہوا اور کشتی ہے۔ سورج جب دوپہر کو ٹھہر جائے تو اس کے لیے بھی راکد کا لفظ استعمال ہوتا ہے ‘ ہر وہ چیز جو کسی جگہ ثابت ہوا ہے راکد کہتے ہیں راکد المیزان جب وہ جھکنے سے رک جائے ‘ مراکد ان مقامات کو کہتے ہیں جہاں انسان اور دوسری چیزیں ٹھہرتی ہیں۔ قتادہ نے اسے فیظللتن پہلے لام کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے یہ بھی ایک لغت ہے جس طرح ضللت ‘ اضل ہے اور لام کے فتحہ کے ساتھ بھی ہے ؛ یہ قرأت مشہور ہے۔ ان فی ذلک لایت لکل صبارشکور۔ آیات…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 33–37

3:۔ ابن المنذر (رح) نے عطا کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فیظللن رواکد علی ظہرہ “ (تو وہ جہاز سمندر کی سطح پر کھڑے رہ جائیں) یعنی نہ وہ حرکت کرتی تھیں اور نہ وہ سمندر میں چلتی تھیں۔ 4:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” رواکد “ سے مراد ہے وہ ٹھہر جاتی ہیں ” اویوبقھن “ سے مراد ہے کہ وہ ان کو ہلاک کردیتا ہے۔ 5:۔ ابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اویوبقھن “ سے مراد ہے کہ وہ ان کو غر ق کردے۔ 6:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اویوبقھن “ سے مراد ہے کہ ان کو ہلاک کردے۔ 7:۔ ابن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَوْ يُوْبِقْهُنَّ [ یا وہ تباہ کردے ان (کشتیوں ) کو ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كَسَبُوْا [ ان لوگوں نے کمائی کی ] وَيَعْفُ [ اور (چاہے تو ) درگزر کرے ] عَنْ كَثِيْرٍ [ بہتوں سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 31–34

﴿اَوْ يُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَ يَعْفُ عَنْ كَثِيْرٍٞ0034﴾ میں یہ فرمایا ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ کو یہ قدرت ہے کہ ہوا کو روک دے جس کی وجہ سے کشتیاں سمندر میں کھڑی رہ جائیں تو اسے یہ بھی قدرت ہے کہ جو لوگ کشتیوں میں سوار ہیں ان کے اعمال کی وجہ سے کشتیوں کو تباہ کر دے جس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہوائیں خوب تیز چلنے لگیں اور اس کی وجہ سے کشتیوں میں بھونچال آجائے اور جو لوگ کشتیوں میں سوار ہیں اپنے اعمال کی وجہ سے ہلاک ہوجائیں اور اسے یہ بھی اختیار ہے کہ بہت سوں کو معاف فرما دے یعنی غرق نہ فرمائے دنیا میں مواخذہ نہ فرمائے پھر اپنے قانون کے مطابق جسے چاہے آخرت میں سزا دے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 28–36

پیغام بشارت و رحمت برائے بندگان خدا درحالت یأس وناامیدی وذکر دلائل قدرت : قال اللہ تعالیٰ : وھوالذی ینزل الغیث .......... الی ......... وعلی ربھم یتوکلون “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں ایسے مجرمین ونافرمانوں کی مذمت تھی، جو خداوند عالم پر چھوٹ بہتان باندھتے ہوں اور ان کی ناکامی و محرومی کا بیان تھا اب ان آیات میں اللہ رب العالمین اپنی ایک خاص رحمت و عنایت کا ذکر فرما رہے ہیں کہ پروردگار عالم اپنی شان ربوبیت کے کس طرح اپنے بندوں پر مایوسی کے عالم میں بھی اپنی رحمت فرماتا ہے اس مضمون سے ایک طرف تو مجرمین کے بالمقابل مطیعین کے لیے رحمت و عنایت کا بیان ہے دوسری طرف آنحضرت ﷺ کے قلب مبارک سے اس رنج وغم کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 33–36

31:۔ ” وما عنداللہ “ یہ بشارت اخرویہ ہے اور یہاں ان تین امور کا بیان بھی ہے جو عذاب خداوندی سے بچاتے ہیں (1) شرک نہ کرو۔ (2) ظلم نہ کرو اور (3) اھسان کرو۔ اللہ کی توحید پر ایمان لانے والوں، شرک نہ کرنے والوں اور ہر معاملے میں اپنے خدا پر بھروسہ کرنے والوں کے لیے اللہ کے یہاں جو اجر وثواب اور انعام وعطاء محفوط ہے وہ دنیوی ساز و سامان سے کہیں بہتر اور پائیدار ہے۔ اس میں عذاب سے بچنے کیلئے امر اول کا بیان ہے۔ ” والذین یجتنبون الخ “ ان کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ کبائر و فواحش سے اجتناب کرتے ہیں۔ ظلم بھی کبیر گناہ ہے اور ان کی تیسری صفت یہ ہے کہ جب ان کو غصہ آجائے تو احسان کرتے اور درگذر کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 30–36

ربط آیات گزشتہ آیات میں نبوت و رسالت کا ذکر تھا ، اس کے ساتھ دلائل تنشہ اور اللہ کی قدرت کی نشانیوں کا تذکرہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں و زمین کو تخلیق کیا اور پھر زمین پر تمام جانداروں کو پھیلا دیا ۔ جس طرح بنی نوع انسان کو زمین کے مختلف خطوں میں بکھیر دیا ۔ اسی طرح وہ قیامت والے دن سب کو اکٹھا بھی کرے گا پھر محاسبہ کی منزل آئیگی اور جزا و سزا کے فیصلے ہوں گے ، اللہ نے یاد دلایا کہ تمام اختیارات اور تصرفات اسی کے قبضہ میں ہیں اور وہ ہر کام کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ مصائب نتیجہ اعمال دنیا میں انسانوں پر ہر قسم کے دو ر آتے ہیں ، کبھی راحت کبھی تکلیف ، کبھی خوشحالی کبھی تنگدستی ، کبھی صحت ، کبھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَوْ يُوْبِقْہُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَيَعْفُ عَنْ كَثِيْرٍ۝ 34 ۡ وبق وَبَقَ : إذا تثبّط فهلك، وَبَقاً ومَوْبِقاً. قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُمْ مَوْبِقاً [ الكهف/ 52] وأَوْبَقَهُ كذا . قال تعالی: أَوْ يُوبِقْهُنَّ بِما كَسَبُوا[ الشوری/ 34] ( و ب ق ) وبق ( ض ) وبقا وموبقا کے معنی ضعیف اور گراں بار ہوکر ہلاک ہوجانے کے ہیں ۔ قرآن پا ک میں ہے ۔ وَجَعَلْنا بَيْنَهُمْ مَوْبِقاً [ الكهف/ 52] اور ہم ان کے بیچ میں ہلاکت کی جگہ بنادیں گے ۔ اوبقتہ کذا ہلاک کرنا ۔ أَوْ يُوبِقْهُنَّ بِما كَسَبُوا[ الشوری/ 34] یا ان کے اعمال کے سبب ان کو تباہ کردے ۔ كسب ( عمل رزق) الكَسْبُ : ما يتحرّاه الإنسان مما فيه…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 30–35

ترکیب : ما اصابکم شرط فی موضع رفع بالابتد افبماکسبت جو ابہ والمراد بالفعلین الاستقبال ویعفو الخ جملۃ مستانفۃ من ولی اسم مالکم خبر ھا الجواربحذف الیاء من الحظ لانھا من الزوائد دباثبا تھا جمع جارتہ ای سائرۃ والمراد بھا الفلک مبتداء و من آیاۃ خبر ھا فی البحر یتعلق بالجواری ویمکن ان یکون حالامنہ والعامل فیہ الاستقرار۔ کالا علام جمع علم وھوالجبل اوکل شیئٍ مرتفع حال ثابۃ اومن الضمیر فی الجواری یسکن جواب الشرط فیظللن معطوف علیہ و کذلک اویوبقہن ویعف۔ رواکد جمع الراکدوھوالساکن ویقال اوبقہ ای اھل کہ ویعلم بالنصب علی الصرف ای صرف العطف علی للفظ الی العطف علی المعنی قالہ الزجاج ویقرء بالکسر علی ان یکون…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 32–35

وَمِنْ اٰیٰـتِہِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ کَالْاَعْلاَمِ ۔ اِنْ یَّشَاْ یُسْکِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَـلْنَ رَوَاکِدَعَلٰی ظَھْرِہٖ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّـکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ ۔ اَوْ یُوْبِقْھُنَّ بِمَا کَسَبُوْا وَیَعْفُ عَنْ کَثِیْرٍ ۔ وَّیَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْٓ اٰیٰـتِنَا ط مَالَہُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ ۔ (الشوری : 32 تا 35) (اور اس کی نشانیوں میں سے سمندروں میں چلنے والے جہاز ہیں پہاڑوں کی مانند۔ اگر وہ چاہے تو ہوا کو ساکن کردے، پس وہ سمندر کی سطح پر کھڑے کے کھڑے رہ جائیں، بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر صبر و شکر کرنے والے کے لیے۔ یا ان کو تباہ کردے ان کے کرتوتوں کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 32–35

فہم القرآن ربط کلام : جس اللہ کو کوئی عاجز اور بےبس نہیں کرسکتا۔ اسی کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ سمندر میں پہاڑوں کی طرح لمبے، چوڑے اور بلندو بالاجہاز دوڑے پھر رہے ہیں۔ قرآن مجید نے متعدد آیات میں سمندر میں چلنے والی کشتیوں کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ قرار دیا ہے اور کشتیوں میں سفر کرنے والوں کو اس بات پر غور کرنے کا حکم دیا ہے۔ غور کرو ! کہ جو پانی ایک سوئی کا بوجھ برداشت نہیں کرتا وہی پانی ہزاروں ٹن کا بوجھ اٹھائے ہوئے بحری جہازوں اور کشتیوں کو سمندر کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچاتا ہے۔ نزول قرآن کے زمانے میں بادبانی کشتیاں ہوتی تھیں جن کی چوٹیاں دور سے پہاڑوں کی طرح دکھائی دیتی تھیں۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

34: اَوْیُوْ بِقْھُنَّ (یا ان کو ہلاک کر دے) یہ یسکن پر معطوف ہے۔ معنی یہ ہے اگر چاہے تو ہوا کو ٹھہرادے پس وہ رک جائیں یا ان کو تیز چلا دے جس سے وہ غرق ہوجائیں بِمَا کَسَبُوْا (ان کے کمائے ہوئے گناہوں کے باعث) وَیَعْفُ عَنْ کَثِیْرٍ (اور وہ بہت سے آدمیوں سے درگزر کرجاتا ہے) بہت سے گناہوں سے درگزر کر کے ان پر سزا نہیں دیتا۔ اس آیت میں عفو و درگزر کو ایباقؔ کے حکم میں داخل کیا گیا اس لئے کہ وہ تو اس کا پختہ ارادہ کرچکا ہے کیونکہ معنی یہ ہے یا اگر وہ چاہے تو کچھ لوگوں کو ہلاک کر دے اور کچھ لوگوں کو بطریق عفو نجات دے دے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

33، ان یشا یسکن الریح، جوان کو چلارہی ہے۔ ، فیضللن، یعنی کشتیاں ، رواکد، ٹھہرجائیں۔ ، علی ظھرہ، سمند رکی پشت پر کہ چل نہ سکیں۔ ، ان فی ذ(رح) لک لایات لکل صبارشکور، یعنی ہرمؤمن کے لیے اس لیے کہ مؤمن کی صفت سختی میں صبرکرنا اور نرمی میں شکر کرنا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 31–35

31۔ 35۔ اوپر مصیبت کا ذکر تھا اس لئے فرمایا کہ اللہ کی بھیجی ہوئی مصیبت کو کوئی ٹال نہیں سکتا زمین بھر میں کوئی بھاگ بھاگا پھرے جب بھی اللہ تعالیٰ کے دائرہ حکومت سے باہر نہیں جاسکتا اور اللہ تعالیٰ کے دائرہ حکومت میں سوا اللہ تعالیٰ کے کوئی کسی کا یار مددگار بن کر بھی اس مصیبت کو نہیں ٹال نہیں سکتا اب آگے منکرین قدرت کے قائل کرنے کے لئے فرمایا یہ پہاڑ کے پہاڑ کشتیاں پانی کو پھاڑ کر جو دریا میں پھرتی ہیں اللہ چاہے تو ہوا کو روک دے جس سے پانی کی پیٹھ پر وہ کشتیاں ٹھہر جائیں یا کوئی مخالف ہوا چلا کر ان کو بالکل ڈبو دے لیکن اللہ تعالیٰ بہت سے گناہ معاف کردیتا ہے جس سے لوگوں کی اکثر بلائیں ایک وقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 32–35

آیت 32 یعنی اپنے بندوں پر رحمت اور عنایت کے جملہ دلائل میں سے ایک دلیل (الجوار فی البحر) ” سمندر میں جہاز “ کشتیاں، دخانی اور بادبانی جہاز ہیں جو اپنی بڑی جسامت کی بنا پر (کالا غلام) بڑے بڑے پہاڑ دکھائی دیتے ہیں جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کو مسخر کردیا اور متلاطم موجوں سے ان کی حفاظت کی، یہ کشتیاں انہیں اور ان کے سامان تجارت کو دور دور ملکوں اور شہروں تک لے جاتی ہیں اور ان کے لئے ایسے اسباب مہیا کئے جو ان کو ان ملکوں اور شہروں تک جانے میں مدد دیتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : (ان یشایسکن الریح) ” اگر وہ (اللہ چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 23–37

محبت برائے قرابت قول باری ہے (قل لا اسئلکو علیہ اجر ا الا المودۃ فی القربی۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں طلب کرتا، ہاں رشتہ داری کی محبت ہو) حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد، قتادہ ضحاک اور سدی کا قول ہے کہ ” مگر یہ کہ تم مجھ سے اس بنا پر محبت رکھو کہ تمہارے ساتھ میری رشتہ داری اور قرابت ہے۔ “ ان حضرات کا قول ہے کہ قریش کے تمام خاندانوں اور حضور ﷺ کے درمیان قرابت تھی۔ علی بن الحسین اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” مگر یہ کہ تم میرے قرابت داروں سے محبت رکھو۔ “ حسن کا قول ہے۔” مگر یہ کہ عمل صالح کے ذریعے تم اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی دوستی حاصل کرو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

78 نعمت اللہ تعالیٰ ہی کے فضل و کرم کا نتیجہ وثمرہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ہر نعمت کا وجود اور نعمت کا نعمت ہونا اللہ تعالیٰ ہی کے فضل و کرم پر موقوف ہے۔ ورنہ نعمت بھی ہلاکت کا سبب اور عذاب کا ذریعہ اور باعث بن جاتی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا " یا وہ غرق کر دے ان کو ان لوگوں کی کمائی کی بنا پر "۔ اور جو جو رنگ رلیاں یہ لوگ جہاز کے اندر کرتے اور مناتے ہیں ان کا مزہ ان کو اس طرح فوری چکھا دے۔ مگر یہ اس کریم مطلق اور حلیم مطلق کے بےپایاں حلم و کرم کا نتیجہ ہے کہ ان لوگوں کو چھوٹ پر چھوٹ ملتی جاتی ہے اور وہ اپنے عفو و درگزر اور جود و سخا اور بخشش و عطا ہی سے کام لیتا جاتا ہے ۔ سبحانہ و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 30–43

مصیبتیں اپنے اعمال کی وجہ سے ہی آتی ہیں تشریح : ان آیات میں بیشمار حکمت کی باتیں بتائی گئی ہیں جن کو سمجھ لینا اور ان پر عمل کرنا نہ صرف آسان ہے بلکہ زندگی کو آسان بناتا ہے اور پھر اللہ کی خوشنودی کا باعث بھی بنتا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ بڑا رحمن اور رحیم ہے۔ کچھ قدرتی آفات تو اللہ کے حکم سے فضائی رد و بدل کے لیے آتی ہیں۔ کچھ گناہوں کی سزا کے طور پر قدرتی آفات کی شکل میں آتی ہیں مثلاً طوفان نوح وغیرہ اور بہت سی ایسی آفات ہیں جو انسان خود اپنے اوپر مسلط کرلیتا ہے۔ مثال کے طور پر 1945 میں امریکہ نے ناگا سا کی اور ہیرو شیما پر ایٹم بم گرا کر ظلم و ستم اور دہشت و بربریت کی ایسی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 30–43

آیات 30 تا 43۔ اسرار ومعارف۔ اور جو مصیبت بھی لوگوں پر آتی ہے وہ ان کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے اگرچہ بہت سے گناہوں سے درگزر کی جاتی ہے تو اکثر مصائب گناہ کی سزا کے طور پر آتے ہیں اور مومن کے لیے گناہ سے توبہ اور گزشتہ کی بخشش کا سبب بن جاتے ہیں اسی طرح باطنی اور قلبی طور پر بھی ایک گناہ ہوجائے تو وہ دوسرے کا سبب بن جاتا ہے تاآنکہ اس سے توبہ نصیب ہو یہ عام قاعدہ ہے اور اگر اللہ کریم معاف نہ فرماتے اور درگزر کا معاملہ نہ فرماتے تو لوگ زمین میں بھاگ بھاگ کر یا کہیں چھپ چھپ کر اس کے عذاب سے نہیں بچ سکتے تھے اور نہ ہی انہیں کوئی ایسامدد کرنے والایادوست ہاتھ آتا جو انہیں بچاسکتا۔ اور اس کی عظمت کی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 34–35

ف 1 شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” جو لوگ ہر چیز اپنی تدبیر سے سمجھتے ہیں اس وقت ( سمندر میں ڈوبتے وقت) عاجز رہ جائیں گے۔ (موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(42:34) او یوبقھن بما کسبوا۔ ای او ان یشاء یوبقھن بما کسبوا ۔ او حرف عطف۔ یوبق مضارع مجزوم (جواب شرط کی وجہ سے) واحد مذکر غائب۔ ایباق (افعال) مصدر وبق مادہ۔ وہ ہلاک کر دے وبق (باب ضرب) بمعنی ضعیف اور گراں ہوکر ہلاک ہونا۔ موبق اسم ظرف مکان۔ ہلاک ہونے کی جگہ جیسے کہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وجعلنا بینھم موبقا (18:52) اور ہم ان کے بیچ میں ہلاکت کی جگہ بنادیں گے۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب کا مرجع الجوار ہے (اور اگر وہ چاہے تو ان کی کرتوتوں کے سبب ان کو ہلاک کر دے) ۔ اس جملہ کا عطف سابقہ جملہ ان یشا یسکن الریح پر ہے۔ ویعف عن کثیر : یہ جملہ معترضہ ہے یا اس کا عطف سابق جملہ ان یشا یسکن الریح پر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 30–43

لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 43 : اصاب (پہنچا) کسبت (اس نے کمایا) معجزین ( عاجز ، بےبس کرنے والے) الجوار ( جاری) چلنے والے) الاعلام ( علم) پہاڑ ، اونچی چیز) یسکن ( وہ ٹھہراتا ہے) رواکدا ( راکد) (ٹھہرنے والے) ظھر ( پیٹھ) صبار ( بہت صبر کرنے والا) یوبق ( وہ تباہ کرتا ہے) محیص (چھٹکارا پانے کی جگہ) یجتنبوا ( وہ بچتے ہیں ، پرہیز کرتے ہیں) کبائر الاثم ( بڑے بڑے گناہ) شوریٰ (مشورہ کرنے کا راستہ سمجھانا) ینتصرون (وہ روکتے ہیں) انتصر (اس نے بدلہ لیا ، انتقام لیا) عزم الامور (بڑی بات ، بڑا کام) تشریح : آیت نمبر 30 تا 43 : دیکھا یہ گیا ہے کہ دنیا میں انسان جیسا عمل کرتا ہے اس کا اچھا یا برا نتیجہ ضرور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 33–36

دنیا چند روزہ ہے۔ (ف 3) ان آیتوں میں فرمایا کہ دنیا میں جو کچھ ہے وہ چند روزہ ہے یہ سب دنیا کی جیتی دم کی زینت اور آراستگی ہیں کچھ باقی نہ رہے گا اور آخرت میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے وہ ان سب دنیا کی نعمتوں سے لاکھوں درجے بہتر ہے اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے جس کو کبھی فنا نہیں جانتے ہو کس کے لیے ہے۔ کامل مسلمان کی خوبیاں۔ ہاں وہ ان کے لیے ہے جو رسول قرآن پر ایمان لائے اور اپنے پروردگار پر ہر بات میں بھروسہ رکھتے ہیں اور کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرتے ہیں اور زناوغیرہ سے دور بھاگتے ہیں ، احکام الٰہی کو مانتے ہیں نماز پڑھتے ہیں اور جب کسی بات پر غصہ ہوتے ہیں تو بردباری کرتے ہیں بدلہ نہیں لیتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 31–35

[20] کٹ حجتی کرنے سے یہ مراد ہے کہ ایسے لوگ ہر کام کو اپنی تدبیر کی طرف منسوب کیا کرتے ہیں۔ جہاز تباہی میں آئے اور کوئی تدبیر پیش رفت نہ ہو تو سمجھیں کہ سب کچھ اللہ کے حکم سے ہو رہا ہے اور آدمی عاجز ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 27–36

آیت 27 تا 36: حل لغات :۔ بقدر ۔ یعنی ایک انداز کے ساتھ اس طرح کہ کائنات کا نظام باقی رہے اقنطوا ۔ مایوس ہوگئے ۔ قنوط سے ہے ۔ بمعنی مایوسی بٹ ۔ پھیلایا ۔ منتشر کیا دابۃ ۔ حیوان زمین پرچلنے والے جانور ۔ حل لغات :۔ کالا علام ۔ پہاڑوں کی طرح اعلام ۔ جمع علم کی ہے یوبھن ۔ تباہ کردے ۔ مادیات میں غور وفکر 1: قرآن حکیم اس بات پر بڑا زور دیات ہے ۔ کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ان فیوض کو غورو تعمق کی نظر سے دیکھیں جو کارگاہ حیات کو زندگی بخش رہے ہیں ۔ اس کے نزدیک جس طرح یہ ضروری ہے ۔ کہ شریعت اور فقہ کا مطالعہ کیا جائے ۔ معاشری قوانین کی افادیت پر غور کیا جائے ۔ اور سیاست واخلاق کے مسائل کو زیر بحث لایا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(34) یا اگر چاہے تو اہل جہاز کے اعمال اور ان کی کمائی کی وجہ سے ان جہازوں کو تباہ کردے اور بہت سے آدمیوں کو معاف بھی کردیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

34 ؎ جس طرح ہوا کا ساکن ہوجانا انسان کے لیے ضرر رساں ہے اسی طرح اگر وہ تیز و تند ہوا کو بھیج دے تو پھر کیا ہو ؟ ظاہر ہے کہ ہلاکت ہی ہو گویا ہوا کا رک جانا ہلاکت اور ہوا کا تندو تیز ہوجانا بھی ہلاکت۔ بلاشبہ انسان نے سٹیم ، بجلی اور ایٹمی توانائی حاصل کرلی ہے لیکن جب امر الٰہی کسی چیز کو ہلاک کرنا چاہے تو کیا ان چیزوں کی طاقت ہے کہ اس کو تباہی سے بچا لیں بلکہ حقیقت آج بھی یہی ہے کہ یہ ساری چیزیں جس طرح حفاظت و نگہبانی کر رہی ہیں اسی طرح وہ ایک چیز کی ہلاکت کا باعث بھی ہو سکتی ہیں کیا اڑتے ہوئے جہاز کریش (Ccash) نہیں ہوتے اور کیا بحری جہاز چلتے چلتے غرق نہیں ہوجاتے۔ آخر وہ کونسی طاقت ہے جو باعث…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 30–35

وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ‌ (And whatever hardship befalls you is because of what your own hands have committed, while He overlooks many [ of your faults ].... 42:30) means exactly the same. Sayyidna Hasan ؓ has narrated that when this verse was revealed, the Holy Prophet ﷺ said "I swear by the Being Who holds my life, that anyone who gets scratched by a piece of wood, or his nerve shivers or his step falters is all due to his sins, and Allah Ta’ ala does not punish for every sin, rather the number of sins He overlooks far exceeds those…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 34–35

54. The Quraish, in connection with their business and trade, had also to visit Habash and the coastal lands of Africa, and in these journeys they used sailing ships and boats for crossing the Red Sea, which is a very dangerous sea. It is generally stormy and abounds in submerged rocks which are a serious hazard for navigation especially during the storms. Therefore, the state that has been depicted here by Allah could be fully realized by the people of the Quraish in the light of their personal experiences.

Read the full tafseer →