Ash-Shura 42:8

Ash-Shura · from ayah 8

42:8

وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ ؕ— وَالظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیْرٍ ۟وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰـكِنۡ يُّدۡخِلُ مَنۡ يَّشَآءُ فِىۡ رَحۡمَتِهٖ‌ؕ وَالظّٰلِمُوۡنَ مَا لَهُمۡ مِّنۡ وَّلِىٍّ وَّلَا نَصِيۡرٍ

اور اگر خدا چاہتا تو ان کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کا نہ کوئی یار ہے اور نہ مددگار

— Fateh Muhammad Jalandhari

And if Allah willed, He could have made them [of] one religion, but He admits whom He wills into His mercy. And the wrongdoers have not any protector or helper.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shura

All translations of 42:8

اگر اللہ چاہتا تو اِن سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، مگر وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے، اور ظالموں کا نہ کوئی ولی ہے نہ مدد گار

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اگر خدا چاہتا تو ان کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کا نہ کوئی یار ہے اور نہ مددگار

— مولانا فتح محمد جالندہری

اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان سب کو ایک ہی امت کا بنا دیتا لیکن وه جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ﻇالموں کا حامی اور مددگار کوئی نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ایک ہی جماعت بنا دیتا، لیکن وہ جس کو چاہتا ہے، اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے، اور جو ظالم لوگ ہیں ان کا نہ کوئی رکھوالا ہے، نہ کوئی مددگار ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اللہ چاہتا تو ان سب کو ایک دین پر کردیتا لیکن اللہ اپنی رحمت میں لیتا ہے جسے چاہے اور ظالموں کا نہ کوئی دوست نہ مددگار

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر اللہ چاہتا تو اُن سب کو ایک ہی امّت بنا دیتا لیکن وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل فرماتا ہے، اور ظالموں کے لئے نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اگر اللہ چاہتا تو ضرور انھیں ایک امت بنا دیتا اور لیکن وہ اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور جو ظالم ہیں ان کے لیے نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مدد گار۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اگر اللہ چاہتا تو انہیں ایک ہی امت رہنے دیتا مگر وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے۔ اور ظالموں کے لئے نہ کوئی کارساز ہوگا اور نہ مددگار

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ داخل کرتا ہے اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے اور جو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں نہ ان کا کوئی کار ساز ہوگا اور نہ مددگار

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ داخل فرماتا ہے اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے اور ظالموں کا نہ کوئی یار ہے نہ مددگار

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو وہ ان سب کو ایک ہی طریقہ کا بنا دیتا لیکن جس کے لئے اس کی مشیت ہوتی ہے اسی کو وہ اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے اور ان ظالموں کا کوئی نہ حمایتی نکلے گا نہ مددگار۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اگر اللہ چاہتا تو انہیں ایک ہی امت بنا دیتا لیکن اللہ داخل کرتا ہے اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے۔ اور جو ظالم (کافر و مشرک) ہوں گے ان کے لیے نہ کوئی حمایتی ہوگا اور نہ کوئی مددگار۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اگر اللہ چاہتا تو ان کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ جس کو چاہتا ہے (یعنی جو خود چاہتا ہے اسے ہدایت دیتا ہے) اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کا نہ کوئی دوست ہے نہ مدد گار۔

— محترمہ رفعت اعجاز

If Allah had so willed, He could have made them all a single community. But He admits whomsoever He pleases into His Mercy. As to those given to wrong-doing, they shall have none as protector or helper.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Had Allah willed, He would have made all of them a single group; but He admits whomsoever He wills into His mercy. As for the wrongdoers, they have neither a patron nor a helper.

— Muhammad Taqi Usmani

Had Allah willed, He would have made all of them a single group; but He admits whomsoever He wills into His mercy. As for the wrongdoers, they have neither a patron nor a helper.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And if Allah had willed, He could have made them one nation, but He admits whom He wills to His mercy. And the wrongdoers will have neither a protector nor a helper.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Had Allah willed, He could have made them one community, but Allah bringeth whom He will into His mercy. And the wrong-doers have no friend nor helper.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And if Allah willed, He could have made them [of] one religion, but He admits whom He wills into His mercy. And the wrongdoers have not any protector or helper.

— Saheeh International

Had God wanted, He could have made them all one single nation, but He grants mercy to whomever He wills. The unjust will have no guardian or helper.

— Muhammad Sarwar

And if Allah had pleased He would surely have made them a single community, but He makes whom He pleases enter into His mercy, and the unjust it is that shall have no guardian or helper.

— Muhammad Habib Shakir

And had Allah willed, He would have made them one community; but He causeth whomsoever He will to enter into His mercy. And the wrong doers! for them there shall be no patron or helper.

— Abdul Majid Daryabadi

If Allah had so willed, He could have made them a single people; but He admits whom He will to His Mercy; and the Wrong-doers will have no protector nor helper.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 42:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–8

قیامت کا آنا یقینی ہے یعنی جس طرح اے نبی آخر الزماں تم سے پہلے انبیاء پر وحی الٰہی آتی رہی تم پر بھی یہ قرآن وحی کے ذریعہ نازل کیا گیا ہے۔ یہ عربی میں بہت واضح بالکل کھلا ہوا اور سلجھے ہوئے بیان والا ہے تاکہ تو شہر مکہ کے رہنے والوں کو احکام الٰہی اور اللہ کے عذاب سے آگاہ کر دے نیز تمام اطراف عالم کو۔ آس پاس سے مراد مشرق و مغرب کی ہر سمت ہے مکہ شریف کو ام القرٰی اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ تمام شہروں سے افضل و بہتر ہے اس کے دلائل بہت سے ہیں جو اپنی اپنی جگہ مذکور ہیں ہاں ! یہاں پر ایک دلیل جو مختصر بھی ہے اور صاف بھی ہے سن لیجئے۔ ترمذی نسائی، ابن ماجہ، مسند احمد وغیرہ میں ہے حضرت عبداللہ بن عدی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّوْرٰی 11 یہ مضمون اس سلسلہ کلام میں تین مقاصد کے لیے آیا ہے اولاً ، اس سے مقصود نبی ﷺ کو تعلیم اور تسلی دینا ہے۔ اس میں حضور ﷺ کو یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ آپ کفار مکہ کی جہالت و ضلالت اور اوپر سے ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کو دیکھ دیکھ کر اس قدر زیادہ نہ کڑھیں، اللہ کی مرضی یہی ہے کہ انسانوں کو اختیار و انتخاب کی آزادی عطا کی جائے، پھر جو ہدایت چاہے اسے ہدایت ملے اور جو گمراہ ہی ہونا پسند کرے اسے جانے دیا جائے جدھر وہ جانا چاہتا ہے۔ اگر یہ اللہ کی مصلحت نہ ہوتی تو انبیاء اور کتابیں بھیجنے کی حاجت ہی کیا تھی، اس کے لیے تو اللہ جل شانہ کا ایک تخلیقی اشارہ کافی تھا، سارے انسان اسی طرح مطیع…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–9

(آیت) لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى۔ ام القریٰ کے معنی میں ساری بستیوں اور شہروں کی اصل اور بنیاد، مراد مکہ مکرمہ ہے۔ اس کا نام ام القریٰ اس لئے رکھا گیا کہ یہ شہر ساری دنیا کے شہروں اور بستیوں سے اور ساری زمین سے اللہ کے نزدیک اشرف و افضل ہے۔ جیسا کہ امام احمد نے مسند میں حضرت عدی بن حمرا زہری سے روایت کی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس وقت سنا جبکہ آپ (مکہ مکرمہ سے ہجرت کر رہے تھے اور) بازار مکہ کے مقام حزورہ پر تھے کہ آپ نے مکہ مکرمہ کو خطاب کر کے فرمایا۔ تو میرے نزدیک اللہ کی ساری زمین سے بہتر ہے اور ساری زمین سے زیادہ محبوب ہے، اگر مجھے اس زمین سے نکالا نہ جاتا تو میں اپنی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ولو شآء اللہ لجعلھم امۃ واحدۃ و لکن یدخل من یشآء فی رحمتہ والظلمون مالھم من ولی ولانصیر (8) ایک شبہ کا جواب اب یہ ایک شبہ کا جواب دیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ایک ہی دین دیا تو اس نے یہ کیوں نہیں پسند فرمایا کہ سب اسی دین پر رہتے ؟ اس نے یہ موقع کیوں دیا کہ لوگ اس میں اختلاف برپا کریں اور اس اختلاف کا نتیجہ بالآخر یہ نکلے کہ ایک گروہ تو جنت کا حقدار ٹھہرے اور دوسرا دوزخ کا سزا وار قرار پائے ؟ اس کا جواب یہ دیا کہ اللہ تعالیٰ ایسا کرنا چاہتا تو کرسکتا تھا، کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں تھا۔ لیکن اس نے یہ نہیں پسند فرمایا کہ وہ لوگوں کو اپنی ہدایت قبول کرنے پر مجبور کرے بلکہ اس نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

8۔ 1 اس صورت میں قیامت والے دن صرف ایک ہی گروہ ہوتا یعنی اہل ایمان اور اہل جنت کا لیکن اللہ کی حکمت و مشیت نے اس جبر کو پسند نہیں کیا بلکہ انسانوں کو آزمانے کے لئے اس نے انسانوں کو ارادہ و اختیار کی آزادی دی، جس نے آزادی کا صحیح استعمال کیا، وہ اللہ کی رحمت کا مستحق ہوگیا، اور جس نے اس کا غلط استعمال کیا، اس نے ظلم کا ارتکاب کیا کہ اللہ کی دی ہوئی آزادی اور اختیار کو اللہ ہی کی نافرمانی میں استعمال کیا۔ چناچہ ایسے ظالموں کا قیامت والے دن کوئی مددگار نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–13

2: یعنی سب کو زبردستی مسلمان بنا دیتا، لیکن انسان کو پیدا کرنے کا اصل مقصد ہی یہ تھا کہ لوگ زبردستی نہیں، بلکہ خود اپنے اختیار سے سوچ سمجھ کر حق قبول کریں۔ اسی میں ان کا امتحان ہے جس پر آخرت کی جزاء اور سزا مرتب ہونے والی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے کسی کو زبردستی مسلمان بنانا نہیں چاہا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 7–9

آیت نمبر 7 تا 9 وکذلک اوحینا الیک قرانا عربیاً ( 42 : 7) “ ہاں ، اسی طرح اے نبی یہ قرآن عربی ہم نے تمہاری طرف وحی کیا ہے ”۔ تا کہ تم بستیوں کے مرکزی شہر مکہ کے لوگوں کو ڈراؤ ۔ یہ فقرہ معطوف ہے ، اس فقرے پر جس سے سورت کا آغاز ہوا۔ یعنی کذلک یوحی پر۔ سورت کے آغاز میں آنے والے اس کذلک سے مراد حروف مقطعات تھے۔ یہاں معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان مناسبت حروف مقطعات اور قرآن عربی کی ہے۔ یہ مناسبت ظاہر ہے ۔ یعنی یہ حروف عربی ہیں اور یہ قرآن عربی ہے۔ وحی نے ان حروف سے یہ قرآن بنایا ہے تا کہ وہ اپنا مقصد پورا کرے اور غرض وغایت کیا ہے۔ لتنذر ام القری ومن حولھا (42 : 7) “ تا کہ تم بستیوں کے مرکز (شہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی بیشک اس کو قدرت تھی اگر چاہتا تو سب کو ایک طرح کا بنا دیتا اور ایک ہی راستہ پر ڈال دیتا۔ لیکن اس کی حکمت اسی کو مقتضی ہوئی کہ اپنی رحمت و غضب دونوں قسم کی صفات کا اظہار فرمائے۔ اس لیے بندوں کے احوال میں اختلاف و تفاوت رکھا کسی کو اس کی فرمانبرداری کی وجہ سے اپنی رحمت کا مورد بنایا اور کسی کو اس کے ظلم و عصیان کی بناء پر رحمت سے دور پھینک دیا۔ جو لوگ رحمت سے دور ہو کر غضب کے مستحق ہوئے اور حکمت الٰہیہ ان پر سزا جاری کرنے کو مقتضی ہوئی ان کا ٹھکانا کہیں نہیں۔ نہ کوئی رفیق اور مددگار ان کو مل سکتا ہے جو اللہ کی سزا سے بچا دے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 8 { وَلَوْ شَآئَ اللّٰہُ لَجَعَلَہُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً } ”اور اگر اللہ چاہتا تو انہیں ایک ہی امت بنا دیتا“ اللہ ایسے بھی کرسکتا تھا کہ دنیا کے تمام انسان مومن ہوتے۔ { وَّلٰکِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآئُ فِیْ رَحْمَتِہٖ } ”لیکن اللہ داخل کرتا ہے اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے۔“ ان الفاظ کا ترجمہ یوں بھی ہوسکتا ہے : ”لیکن اللہ داخل کرتا ہے اپنی رحمت میں اس کو جو چاہتا ہے“۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی رحمت یا مغفرت اور جنت کی نعمتیں صرف اسی کو عطا کرتا ہے جو ان کی خواہش رکھتا ہو اور اپنی محنت کی صورت میں ان کی قیمت بھی ادا کرنے کو تیار ہو۔ اس حوالے سے سورة التوبہ کی آیت 111 کے یہ الفاظ بھی ہر اہل…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 انسان کو اختیار دینے کا نتیجہ اختلاف اور گروہ بندی :۔ اس کی بڑی آسان صورت یہ تھی کہ اللہ انسانوں کو قوت ارادہ و اختیار نہ بخشتا۔ پھر جس طرح کائنات کی باقی سب چیزیں اللہ کی مطیع فرمان ہیں اور ان کی یہ اطاعت اضطراری ہے انسان بھی اسی طرح اللہ کا مطیع فرمان ہوتا۔ اور اختلاف یا فرقوں میں بٹنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔ مگر اللہ کی مشیئت تو یہ تھی کہ ایک ایسی مخلوق پیدا کی جائے جس کو اختیار دیا جائے اور پھر دیکھا جائے کہ کون اپنے اختیار سے اس کی اطاعت کرتا ہے اور کون نافرمانی کرتا ہے۔ اور یہ اختیار ہی وہ چیز ہے جو اختلاف کا سبب بنتا ہے۔ پھر جو لوگ اپنے اختیار سے اللہ کے فرمانبردار بن جاتے ہیں۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

9۔ مطلب یہ ہوا کہ اگر مشیت تکوینی یوں ہی ہوتی تو سب ایک ہی دینی طریق پر خلق کئے جاتے لیکن بیشمار حکمتوں اور مصلتحوں سے یہ منظور نہ ہوا۔ اب سب کے سب اضطرار ہدایت یاب نہ ہوں گے، بلکہ صرف وہی مخصوص گروہ ہدایت یاب ہوگا، جس پر مخصوص رحمت الہی بھی ہوگی اور منکرین وکافرین قیامت کے دن بالکل بےسہارے کے ہوں گے۔ (آیت) ” والظلمون “۔ ظالمون سے یہاں بھی مراد اہل کفر وشرک ہیں۔ اے الکافرون (معالم)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–9

آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰم۔ عسق اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے اسی طرح یعنی اس وحی بھیجنے کے مانند اللہ تعالیٰ جو زبردست ہے اپنے ملک میں حکمت والا ہے، اپنی صنعت میں تیری طرف اور تجھ سے اگلوں کی طرف وحی بھیجتا رہا ہے، اللہ ایحاء کا فاعل ہے، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے ملکیت کے اعتبار سے، تخلیق کے اعتبار سے، اور مملوکیت کے اعتبار سے، اور وہ اپنی مخلوق پر برتر اور عظیم الشان ہے، قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں (تکاد) تاء اور یاء کے ساتھ ہے (یَنْفَطِرنَ ) نون کے ساتھ ہے، اور ایک قراءت میں (نون کے بجائے) تاء مع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولو شاء اللہ لجعلھم امۃ واحدۃ اور اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک ہی طریقہ کا بنا دیتا۔ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً کی تفسیر میں حضرت ابن عباس نے فرمایا : سب کو ایک دین پر کردیتا۔ مقاتل نے کہا : سب کو دین اسلام پر کردیتا۔ اللہ نے دوسری روایت میں فرمایا ہے : ولو شاء اللہ لجمعھم علی الھدی (اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کردیتا۔ اس سے مقاتل کے قول کی تائید ہوتی ہے) ۔ ولکن یدخل من یشاء فی رحمتہ لیکن وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کردیتا ہے۔ یعنی دین اسلام کی ہدایت کردیتا ہے۔ والظلمون ما لھم من ولی ولا نصیر اور ان ظالموں کا (قیامت کے دن) نہ کوئی حامی ہوگا ‘ نہ مددگار۔ الظَّلِمُوْنَ یعنی کافر۔ مطلب…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو یہود و نصاری اور مشرکین سب کو ایک طریقہ کا یعنی دین اسلام کو قبول کرنے والا بنا دیتا۔ باقی وہ جس کو چاہتا ہے دین اسلام کی دولت نصیب کرتا ہے اور یہود و نصاری اور مشرکین کا نہ کوئی فائدہ پہنچانے والا دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار کہ ان کو اس عذاب سے بچا سکے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ولو شآء اللہ لجعلھم امۃ واحدۃ : یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک فریق جنتی اور ایک جہنمی کیوں بنایا، سبھی کو ایک جیسا کیوں نہیں بنادیا۔ یعنی اللہ تعالیٰ چاہتا تو جس طرح اس نے کائنات کی تمام چیزوں کو بےاختیار بنایا ہے وہ جن وانس کو بھی کسی قسم کا اختیار نہ دیتا۔ اگر وہ ایسا کرتا تو وہ سب دین حق پر ہوتے، مگر اس نے انہیں اختیار اور ارادہ میں آزادی دے کر پیدا فرمایا، تاکہ ان کا امحتان ہو اور اس کی صفات رحمت، غضب اور عدل کا ظہور ہو۔ یہ اس کی مشینت ہے، جس میں بیشمار حکمتیں ہیں، جنہیں پوری طرح وہی جانتا ہے، انسان چاہے بھی تو ان کی تہ تک نہیں پہنچ سکتا، وہ اتنا ہی جان سکتا ہے جتنا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ضحاک نے کہا : امۃ واحدۃ سے مراد ایک دین والے، یعنی سب گمراہ یا سب ہدایت یافتہ۔ حضرت انس مالک نے کہا : رحمت سے مراد اسلام ہے والظلمون مبتدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے اس کی خبر ما بعد مالھم من ولی ولا نصیر۔ ہے نصیر کا عطف لفظ پر ہے اسے لانصیر پڑھنا بھی جائز ہے اس صورت میں اس کا عطف محل پے ہوگا اور من زائد ہوگا۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 7–9

جنت اور جہنم کے باشندے متعین ہیں : قولہ تعالیٰ : فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر “ 8:۔ احمد (رح) و ترمذی (رح) (وصححہ) و نسائی (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس اس حال میں تشریف لائے کہ آپ کے ہاتھ میں دو کتابیں تھیں آپ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کتابیں ہم نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم کو نہیں بتائیں گے (کہ یہ کتابیں کیا ہیں) آپ نے فرمایا جو کتاب میرے داہنے ہاتھ میں ہے یہ رب العالمین کی طرف سے ہے جنت والوں اور ان کے آباء اور ان کے قبیلوں کے نام ہیں پھر آخرتک اجمالی طور پر خبردی کہ اب اس میں کبھی بھی زیادتی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ [ اور اگر چاہتا اللہ ] لَجَعَلَهُمْ [ تو ضرور بناتا ان کو ] اُمَّةً وَّاحِدَةً [ ایک (ہی ) امت ] وَّلٰكِنْ يُّدْخِلُ [ اور لیکن وہ داخل کرتا ہے ] مَنْ يَّشَاۗءُ [ اس کو جس کو وہ چاہتا ہے ] فِيْ رَحْمَتِهٖ ۭ [ اپنی رحمت میں ] وَالظّٰلِمُوْنَ [ اور ظلم کرنے والے ] مَا لَهُمْ [ نہیں ہے ان کے لئے ] مِّنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ [ کوئی بھی کارساز اور نہ ہی کوئی مددگار ] نوٹ ۔ 1: آیت 8 ۔ کے مضمون کا مقصد اہل ایمان کو ان مشکلات کی حقیقت سمجھانا ہے جو تبلیغ دین اور اصلاح خلق کی راہ میں اکثر پیش آتی ہیں ۔ جو لوگ اللہ کی دی ہوئی آزادی انتخاب و ارادہ اور اس کی بنا پر طبائع اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد فرمایا ﴿وَ لَوْ شَآء اللّٰهُ ﴾ (الآیۃ) یعنی ہر فیصلہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق ہوتا ہے اگر وہ چاہتا تو سب کو ایک ہی جماعت بنا دیتا یعنی سب اہل ایمان ہی ہوتے، وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل فرما دیتا ہے اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ اس دنیا میں اہل ایمان بھی رہیں اور اہل کفر بھی۔ سورة الم سجدۃ میں فرمایا ﴿وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا ﴾ اور اگر ہم چاہتے ہر نفس کو اس کی ہدیات دے دیتے۔ ﴿وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِيٍّ وَّ لَا نَصِيْرٍ 008﴾ (اور ظالموں کے لیے کوئی دوست اور مددگار نہ ہوگا) اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت اپنی جگہ ہے لیکن انسانوں کو ہوش اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–12

اثبات وحی الہی مع بیان عظمت رب کبریاو وعید بہ شرک ونافرمانی : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” حم عسق ....... الی ....... انہ بکل شیء علیم “۔ (ربط) ” گذشہ سورت کے مضامین کا حاصل مخالفین کے اعتراضات کا رد اور ان پر توبیخ وتنبیہ تھا، اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی رسالت اور وحی کی عظمت کو ثابت کیا جارہا ہے، اور اسی کے ضمن میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے، اور مجرمین ومنکرین پر توبیخ ووعید بھی ہے کہ یہ اپنے افعال قبیحہ کی سزا سے ہرگز نہیں بچ سکتے ارشاد ہے ، (آیت ) ” حم عسق “۔ اللہ رب العزت ہی اس کی مراد خوب جاننے والا ہے، اصول دین اور احکام شریعت کی تعیین اور تحقیق کے لیے جیسے آپ ﷺ پر یہ سورت نازل کی جارہی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

7:۔ ” ول شاء اللہ۔ الایۃ “۔ اللہ تعالیٰ قادر و متصرف ہے، اگر وہ چاہتا تو تمام بنی آدم کو جبراً توحید پر قائم کردیتا اور اس طرح ساری انسانیت ایک ہی امت ہوتی، لیکن جبری ایمان مطلوب نہیں، اس طرح جزاء و سزا کی حکمت فوت ہوجاتی ہے اور امتحان وابتلاء کا سلسلسہ ختم ہوجاتا ہے جس کی خاطر انسان کو پیدا فرمایا۔ ” الذی خلق الموت والحیوۃ لیبوکم ایکم احسن عملا (ملک رکوع 1) ۔ اور سورة مائدہ (رکوع 7) میں ارچشاد ہے۔ ” ولو شاء اللہ لجعلکم امۃ واحدۃ ولکن لیبلوکم فی ما اتاکم۔ الایۃ “ ” ولکن یدخل الخ “ یہ اسی امتحان وابتلاء کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی انسان کو اختیار دیدیا اور دونوں راستے اس پر واضح کردئیے گئے۔ اب وہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 7–12

وحی الٰہی کی حقانیت وحی الٰہی پر ایمان لانا دین کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔ سورة ہذا کی ابتداء بھی وحی الٰہی کی حقانیت سے ہوئی جیسا کہ گزشتہ درس میں فرمایا کذلک یوحی الیک والی الدین من قبلک اسی طرح ہم نے وحی بھیجی آپ کی طرف جیسا کہ وحی بھیجی آپ سے پہلے لوگوں کی طرف ، اور اب اس درس کا آغاز بھی درس الٰہی کی حقانیت سے ہو رہا ہے ۔ البتہ سابقہ درس کی نسبت وحی الٰہی کا ذکر اس مقام پر قدرے تفصیل سے ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وکذلک اوحیان الیک قرانا عریبا اور اسی طرح ہم نے وحی نازل کی ہے آپ کی طرف ایک قرآن جو عربی زبان میں ہے۔ قرآن پاک میں وحی الٰہی اور دوسرے بنیادی عقائد کا تذکرہ بار ہا آ رہا ہے تا کہ بات…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَوْ شَاۗءَ اللہُ لَجَعَلَہُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّلٰكِنْ يُّدْخِلُ مَنْ يَّشَاۗءُ فِيْ رَحْمَتِہٖ۝ 0 ۭ وَالظّٰلِمُوْنَ مَا لَہُمْ مِّنْ وَّلِيٍّ وَلَا نَصِيْرٍ۝ 8 لو لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] . ( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–13

ترکیب : قرآنا مفعول لاوحینا لتنذر متعلق باوحینا فریق خبرمبتدء محذوف ای بعضھم فریق فی الجنۃ و الظالمون مبتدء ومابعدہ خبرہ اولیاء بالنصب علی انہ مفعول لاتخذوامن دونہ حال منہ ای حال کون الاولیاء غیر اللہ الولی خبر فاللہ ھو ضمیر الفصل للتاکید۔ تفسیر : پھر مسئلہ نبوت کا ذکر کرتا ہے وکذلک اوحینا الخ کہ جس طرح انبیائِ سابقین پر وحی کی گئی تھی اسی طرح اے محمد ﷺ ! ہم نے تیری طرف عربی زبان میں قرآن وحی کیا کس لیے لتنذرام القرٰی تاکہ تو اہل مکہ کو اور اس کے آس پاس والوں کو خبردار کر دے ڈراوے کہ تم پر اگر باز نہ آؤ گے بلا آنے والی ہے اور ان کو قیامت کے دن سے بھی ڈراوے کہ جس میں کوئی شک نہیں کہ اس روز ایک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَوْشَـآئَ اللّٰہُ لَجَعَلَھُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّلٰـکِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآئُ فِیْ رَحْمَتِہٖط وَالظّٰلِمُوْنَ مَا لَھُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّلاَ نَصِیْرٍ ۔ (الشوری : 8) (اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، لیکن وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے، اور ظالموں کا نہ کوئی کارساز ہوگا اور نہ مددگار۔ ) ایک شبہ کا جواب اس آیت کریمہ میں ایک شبہ کا جواب دیا گیا ہے جسے علمی زبان میں دفع دخل مقدر کہتے ہیں۔ شبہ یہ ہے کہ قرآن کریم یا دوسری کتابوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نوع انسانی کی ہدایت کے لیے ہر دور میں ایک ہی دین نازل فرمایا۔ اور اس دین کے اتباع پر دنیوی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–9

فہم القرآن ربط کلام : اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو لوگ جہنّمی نہ بنتے اور سب کے سب لوگ جنت میں داخل ہوتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو حق پر مجبور کرنے کی بجائے اس نے لوگوں کو حق و باطل میں انتخاب کا اختیار دے رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر زمین میں حکمرانی عطا فرمائی اور ہر چیز کو اس کی خدمت پر لگا دیا۔ اشرف المخلوقات اور زمین پر خلیفہ ہونے کی حیثیت سے اسے اس کی ذات کے بارے میں ایک حد تک اختیارات عطا فرمائے ہیں۔ جس میں سب سے بڑا اختیار یہ دیا کہ یہ چاہے تو ” اللہ “ کی نازل کردہ ہدایت قبول کرے نہ چاہے تو گمراہی کا راستہ اختیار کرلے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کے سامنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

8: وَلَوْ شَآئَ اللّٰہُ لَجَعَلَھُمْ اُمَّۃً وَّ احِدَۃً (اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو ان سب کو ایک ہی طریقہ کا بنا دیتا) یعنی تمام مومن ہوتے وَّ لٰکِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآ ئُ فِیْ رَحْمَتِہٖ (مگر وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے) اسلام کی سعادت سے جس کو چاہتا ہے فیض یاب کردیتا ہے۔ وَالظّٰلِمُوْنَ (اور ظالموں کا) یعنی کافروں کا مَا لَھُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ (کوئی حامی نہیں) یعنی شفاعت کرنے والا وَّ لَا نَصِیْرٍ (اور نہ مددگار) مدافعت کرنے والا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7، وکذلک، اس کی مثل جو ہم نے ذکر کیا۔ ، اوحینا الیک قرآنا عربیا لتنذر ام القری، مکہ کے رہنے والوں کو۔ ومن حولھا، یعنی تمام زمین کے علاقوں کو۔ ، وتنذریوم الجمع ، یعنی تاکہ آپ (علیہ السلام) ان کو جمع ہونے کے دن یعنی قیامت کے دن سے ڈرائیں کہ اس دن اللہ تعالیٰ اولین وآخرین اور آسمان والوں اور زمین والوں کو جمع کریں گے۔ ، لاریب فیہ ، اس جمع ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، یہ ہوکر رہے گا۔ پھر جمع کے بعد وہ جداکیے جائیں گے۔ ، فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر، یہ کتابیں کون سی تھیں اور ان میں کیا تھا حضرت عبد اللہ بن عمر وؓ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس گھر سے تشریف لائے، اپنی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–12

8۔ 12۔ اکثر علما کے نزدیک مشیت اور ارادے کے ایک ہی معنی ہیں۔ اس تفسیر میں ایک جگہ گزر چکا ہے کہ ارادہ علم کا تابع ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے ہر ایک کام کا انجام جان لیا جاتا ہے پھر اس کام کا ارادہ کیا جاتا ہے مثلاً کھیتی کرنے اور باغ لگانے سے پہلے یہ انجام سوچ لیا جاتا ہے کہ جس زمین میں کھیتی یا باغ کا ارادہ ہے اس زمین میں کھیتی اور باغ کی پیداوار ہوجائے گی تو پھر اس زمین میں کھیتی کے کرنے کا یا باغ کے لگانے کا ارادہ کیا جاتا ہے اس بنا پر پہلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو سب نافرمان لوگوں کو فرمان بردار بنا کر تمام مخلوقات کو نیک کردیتا لیکن اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں جو لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–9

آیت 1 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے یہ قرآن عظیم نبی کریم ﷺ کی طرف وحی کیا ہے جس طرح آپ سے پہلے انبیاء ومرسلین کی طرف وحی کی۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا ذکر ہے کہ اس نے گزشتہ زمانوں میں اور بعد میں آنے والے زمانوں میں کتابیں نازل کیں اور انبیاء و رسل مبعوث کئے، نیز یہ کہ محمد مصطفیٰ ﷺ کوئی انوکھے رسول نہیں، آپ کا طریقہ وہی ہے جوپ ہلے انبیاء ومرسلین کا طریقہ تھا۔ آپ کے احوال گزشتہ انبیاء کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں۔ جو دعوت آپ لے کر آئے ہیں وہ گزشتہ انبیاء کی دعوت سے مشابہت رکھتی ہے کیونکہ ان کی دعوت اور آپ کی دعوت سب حق اور سچے ہے اور یہ کتابیں اس ہستی کی طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

17 ہدایت سے سرفرازی کا دار و مدار انسان کی اپنی چاہت و طلب پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر اللہ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا "۔ یعنی جبراً وقہرا اور تکوینی طور پر۔ جیسا کہ کائنات کی بیشمار مخلوق جبری عبادت و فرمانبرداری میں مصروف ہے۔ سورج اپنے مدار میں لگاتار چل رہا ہے اور چاند اپنے مدار میں۔ دریا و سمندر اور پہاڑو جنگل وغیرہ سب مخلوق اپنے اپنے دائرے میں پابند حکم خداوندی اور مصروف عبادت و بندگی ہے۔ سو اگر تمام انسانوں کو اپنے خالق ومالک کی عبادت و بندگی میں اسی طرح لگا دیا جاتا تو اللہ تعالیٰ کے لئے کیا مشکل تھا۔ مگر ایسا جبری اور قہری ایمان تو حضرت انسان سے مطلوب ہی نہیں کہ اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–19

اللہ کا غلبہ، قدرت، دانائی اور رحم و کرم سب سے زیادہ ہے تشریح : پہلی اور دوسری آیات میں حروف مقطعات ہیں۔ اس کے بعد رب ذوالجلال کی صفات کا ذکر ہے۔ توحید پر ایمان لانا انسان کے لیے بہترین راستہ ہے۔ کیونکہ یہی مبارک راستہ انسان کو زندگی کی تمام قباحتوں سے بچاتا ہے۔ انسان کو ایسانظام حیات عطا کرتا ہے کہ جس کی وجہ سے عبادات، اخلاقیات، معاملات، حقوق اور تعزیرات کا ایک بہترین نقشہ انسان کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ یہ نظام حیات انسان کو ظلم زیادتی، کفر و شرک، بےحیائی بد نظمی اور تمام غم، خوف اور پریشانیوں سے محفوظ کردیتا ہے۔ اسی لیے قرآن کو بہت بڑی رحمت اور اسلام کو سلامتی کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس پیغام کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

آیات 1 تا 9۔ اسرار ومعارف۔ حروف مقطعات کے معنی علم الٰہی میں ہیں ، اسی طرح دلائل کے ساتھ حقائق بیان کرنے کے لیے اور حق کو ثابت کرنے کے لیے آپ سے پہلے انبیاء پر بھی وحی نازل کی گئی جس طرح آپ پر نازل ہوئی ہے کہ اللہ زبردست اور غالب اور بڑی حکمتوں والا ہے سب اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے جو کچھ زمین میں ہے اور سب پر اسی کی حکمرانی ہے وہی عظیم ہے ساری کائنات میں جس طرح اس کا حکم جاری ہے اور خود انسان کے تقدیری امور میں بھی اگر چاہتا تو سب سے حکما منوالیتا مگر اس کی حکمت کہ انسان کو اختیار دیا اور راہنمائی کے لیے انبیاء (علیہم السلام) اور وحی کا سلسلہ جاری فرمایا ورنہ اس کی عبادت وتسبیح کرنے کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یعنی اللہ تعالیٰ کو یہ قدرت تو تھی کہ دوسری مخلوقات کی طرح انسانوں کو بھی بےاختیار پیدا کرتا۔ اگر وہ ایسا کرتا تو تمام انسان ایک ہی دین ( دین حق) پر ہوتے اور ان میں اختلاف نہ ہوتا، مگر اس نے انسان کو اختیار و ارادہ میں آزادی دیکر پیدا کیا تاکہ امتحان ہو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(42:8) ولوشاء اللّٰہ لجعلہم امۃ واحدۃ۔ پہلا جملہ شرط اور دوسرا جواب شرط ہے۔ لو حرف شرط ہے دو جملوں پر آتا ہے۔ اور دونوں جملے ماضیہ ہوتے ہیں ۔ اگر ایسا ہوگیا ہوتا ۔ لام جواب شرط کے لئے ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور اگر خدا چاہتا تو ان کو ایک ہی جماعت کردیتا ۔ (لو پر مزید تفصیل کے لئے ملاحظ ہو 3:159) ۔ امۃ واحدۃ موصوف صفت ہوکر مفعول ہے جعل کا۔ امۃ واحدۃ یعنی سب کو دین اسلام پر کردینا۔ جیسا کہ اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ ولو شاء اللّٰہ لجمعھم علی الھدی اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کردیتا۔ والظلمون مالہم من ولی ولا نصیر : الظلمون مبتدا۔ باقی جملہ اس کی خبر ہے۔ الظلمون ظلم کرنے والے۔ ظلم سے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–9

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 9 : تکاد ( قریب ہے) یتفطرن (پھٹ پڑیں) ام القریٰ (مکہ مکرمہ (شہروں کی ماں) یوم الجمع (جمع ہونے کا دن ( قیامت کا دن) السعیر ( دھکتی آگ) تشریح : آیت نمبر 1 تا 9 : اس سورت کا آغاز ان حروف سے کیا گیا ہے جو الگ الگ کر کے پڑھے جاتے ہیں۔ ان کو حروف مقطعات کہا جاتا ہے ۔ اس سے پہلے اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ کو ہے۔ یہ آیات متشابہات میں سے ہیں ۔ ان کے معنی کا علم ممکن ہے نبی کریم ﷺ کو دیا گیا ہو مگر آپ نے ان کے معنی کسی کو نہیں بتائے۔ اگر امت کے لئے ضروری ہوتا تو نبی کریم ﷺ ان حروف کے معنی ضرور ارشاد فرماتے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 4) پہلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو سب نافرمان لوگوں کو فرماں بردار بناکرتمام مخلوقات کو نیک کردیتا مگر نہیں اسکی حکمت ایسی نہیں بلکہ وہ جس کو چاہتا ہے اپنے دین کا اکرام کرتا ہے اپنی رحمت میں اپنے مقبول مذہب میں داخل فرماتا ہے اور یہ نافرمان لوگ شرک میں گرفتار ہیں اور کہتے ہیں کہ اول تو ہم حشر کے قائل نہیں اور اگر ایسا ہوا تو جن بتوں کو ہم پوجا کرتے ہیں وہ ہم کو اس دن عذاب سے بچالیوں گے ان مشرکوں کی اس بات کے جواب میں یہاں مختصر طور پرانا ہی فرمایا کہ اس دن مشرکوں کانہ کوئی ولی ہوگا کہ قیامت میں ان کو نفع دے نہ کوئی مددگار ، کہ عذاب سے بچائے۔ پھر فرمایا یہ ان لوگوں کی نادانی ہے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 7–8

حل لغات :۔ ام القری ۔ مکہ یعنی آس پاس کے دیہات کا مرکز اس طرف کی بستیوں میں سب سے پہلے آیا ہوا ہے ۔ یوم الجمع ۔ قیامت کا دن جبکہ لوگ ان کے حضور جمع ہونگے ۔ یعنی قرآن کتب سابقہ کی طرح صداقت اور حقانیت کا حال ہے ۔ اس کو عربی میں اس لئے نازل کیا گیا ہے ۔ تاکہ مکہ والوں کے لئے اتمام حجت ہوجائے اور وہ یہ عذر نہ کرسکیں ۔ کہ ہم قرآن کو سمجھ نہیں پاتے ۔ اسی طرح ان کے آس پاس کے رہنے والے لوگوں یہ اعتراض نہ کریں ۔ کہ عجمیت ہماری راہ میں حائل ہوئی ۔ اگر ہماری بولی میں قرآن نازل ہوتا تو ہم ضرور تسلیم کرتے اس کے یہ معنی نہیں ہیں ۔ کہ قرآن حکیم کے فیوض صرف اہل عرب کے لئے ہیں بلکہ غرض یہ ہے کہ کم از کم ایک…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(8) اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا اور اس کو منظور ہوتا تو ان سب کو ایک فرقہ ایک ہی جماعت اور ایک ہی طریقہ کا بنادیتا لیکن وہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور جو ظالم اور نافرمان ہیں ان کا نہ کوئی یارہوگا نہ مددگار۔ یعنی یہ کفرو اسلام مشیت الٰہی پر موقوف ہے وہ چاہتا تو سب کو ایک طریقہ کا بناکر ایک ہی فرقہ کردیتا لیکن وہ جس کو چاہے اپنی رحمت و ہدایت کے سائے میں داخل فرمالیتا ہے اور جو لوگ کافر ہیں اور جن کا شیوہ ہی کفر ہے ان کا نہ کوئی دلی جو ان کی شفاعت کرے اور نہ کوئی مددگار جو عذاب کو دفع کرے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر اللہ چاہتا تو سب کے سب انسانوں کو ایک ہی جماعت بنا سکتا تھا 8 ؎ جس طرح دنیا میں جتنے حیوانات پیدا کیے گئے ہیں ان میں سے ہر جنس حیوان کو ایک امت بنایا ہے جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ ؎ کند جنس باہم جنس پرواز کبوتر با کبوتر باز باباز اس طرح اگر اس کی مشیت کا فیصلہ اسی طرح ہوتا تو وہ سارے انسانوں کو بھی ایک جماعت بنا دیتا اور وہ مجبور محض ہوتے کہ جس طرح دنیا کے حیوانوں کی تمام امتیں مجبور محض ہیں اور وہ صرف اور صرف ایک ہی امت ہیں گویا ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو انسانوں کو بھی ارادہ کی آزادی اور اختیار نہ دیتا جس طرح دوسری مخلوقات بےچون و چرا اس کے احکام کی تعمیل کر رہی ہیں اسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–9

لِّتُنذِرَ‌ أُمَّ الْقُرَ‌ىٰ (So that you may warn the town that is the mother of all towns) - Umm-ul- Qura (mother of all the towns) means the origin and foundation of all habitations and cities which is Makkah. This title has been given to this city because, to Allah Almighty, it is more distinguished and more excellent than all other cities, habitations and the whole earth. Imam Ahmad has narrated in Musnad, with the authority of Sayyidna ` Adiyy Ibn Hamra' Az-zuhri ؓ that he heard the Messenger of Allah at a market of Makkah when he ﷺ was migrating from the city. He ﷺ was addressing…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

11 This theme has three objects in this context: First, it is meant to instruct and console the Holy Prophet, as if to say: "Do not grieve so much at the ignorance and deviation of the disbelievers of Makkah and their stubbornness and obduracy. It is Allah's will that man should be granted the freedom of choice and action: then whoever desires to have guidance should be given guidance, and whoever wants to remain. astray should be allowed to go astray. Had this not been Allah's will, there was no need whatever of sending the Prophets and the Book; for this only a creative hint of Allah…

Read the full tafseer →