Explained with ayahs 7–8
قیامت کا آنا یقینی ہے
یعنی جس طرح اے نبی آخر الزماں تم سے پہلے انبیاء پر وحی الٰہی آتی رہی تم پر بھی یہ قرآن وحی کے ذریعہ نازل کیا گیا ہے۔ یہ عربی میں بہت واضح بالکل کھلا ہوا اور سلجھے ہوئے بیان والا ہے تاکہ تو شہر مکہ کے رہنے والوں کو احکام الٰہی اور اللہ کے عذاب سے آگاہ کر دے نیز تمام اطراف عالم کو۔ آس پاس سے مراد مشرق و مغرب کی ہر سمت ہے مکہ شریف کو ام القرٰی اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ تمام شہروں سے افضل و بہتر ہے اس کے دلائل بہت سے ہیں جو اپنی اپنی جگہ مذکور ہیں ہاں ! یہاں پر ایک دلیل جو مختصر بھی ہے اور صاف بھی ہے سن لیجئے۔ ترمذی نسائی، ابن ماجہ، مسند احمد وغیرہ میں ہے حضرت عبداللہ بن عدی…
Read the full tafseer →سورة الشُّوْرٰی 8
وہی بات پھر دہرا کر زیادہ زور دیتے ہوئے کہی گئی ہے جو آغاز کلام میں کہی گئی تھی۔ اور " قرآن عربی " کہہ کر سامعین کو متنبہ کیا گیا ہے کہ یہ کسی غیر زبان میں نہیں ہے، تمہاری اپنی زبان میں ہے۔ تم براہ راست اسے خود سمجھ سکتے ہو، اس کے مضامین پر غور کر کے دیکھو کہ یہ پاک صاف اور بےغرض رہنمائی کیا خداوند عالم کے سوا کسی اور کی طرف سے بھی ہو سکتی ہے۔
سورة الشُّوْرٰی 9
یعنی انہیں غفلت سے چونکا دو اور متنبہ کردو کہ افکار و عقائد کی جن گمراہیوں اور اخلاق و کردار کی جن خرابیوں میں تم لوگ مبتلا ہو، اور تمہاری انفرادی اور قومی زندگی جن فاسد اصولوں پر چل رہی ہے ان کا انجام تباہی کے سوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
(آیت) لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى۔ ام القریٰ کے معنی میں ساری بستیوں اور شہروں کی اصل اور بنیاد، مراد مکہ مکرمہ ہے۔ اس کا نام ام القریٰ اس لئے رکھا گیا کہ یہ شہر ساری دنیا کے شہروں اور بستیوں سے اور ساری زمین سے اللہ کے نزدیک اشرف و افضل ہے۔ جیسا کہ امام احمد نے مسند میں حضرت عدی بن حمرا زہری سے روایت کی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس وقت سنا جبکہ آپ (مکہ مکرمہ سے ہجرت کر رہے تھے اور) بازار مکہ کے مقام حزورہ پر تھے کہ آپ نے مکہ مکرمہ کو خطاب کر کے فرمایا۔
تو میرے نزدیک اللہ کی ساری زمین سے بہتر ہے اور ساری زمین سے زیادہ محبوب ہے، اگر مجھے اس زمین سے نکالا نہ جاتا تو میں اپنی…
Read the full tafseer →وکذلک اوحینا الیک قرانا عربیا لتنذرام القری ومن حولھا وتنذرریمہ الجمع لاریب فیہ ط فریق فی الجنۃ و فریق فی السعیر (7)
اس کذلک کا اشارہ آیت 1 کے مضمون کی طرف ہے کہ جس طرح ہم نے تم سے پہلے آنے والے نبیوں اور رسولوں کو اپنی وحی سے سرفراز کیا اسی طرح ہم نے تمہاری طرف بھی یہ قرآن بزبان عربی اتارا ہے تاکہ تم عرب کی مرکز بستی اور اس کے گرد و پیش کے لوگوں کو آگاہ کر دو۔
قرآن کے ساتھ عربی کی صفت بطور امتنان اور اتمام حجت ہے، جیسا کہ حم السجدۃ کی آیت 24 میں گزر چکا ہے کہ اہل عرب کے لئے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے کہ ان کے لئے اللہ کے دین کی پوری وضاحت نہیں کی گئی۔
ام القری میں اتمام حجت کا پہلو
ام القریٰ…
Read the full tafseer →7۔ 1 یعنی جس طرح ہم نے ہر رسول اس کی قوم کی زبان میں بھیجا، اسی طرح ہم نے آپ پر عربی زبان میں قرآن نازل کیا ہے، کیونکہ آپ کی قوم یہی زبان بولتی اور سمجھتی ہے۔
7۔ 2 قیامت والے دن کو جمع ہونے والا دن اس لئے کہا کہ اس میں اگلے پچھلے تمام انسان جمع ہونگیں علاوہ ازیں ظالم مظلوم اور مومن و کافر سب جمع ہونگے اور اپنے اپنے اعمال کے مطابق جزا و سزا سے بہرہ ور ہونگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
1: مطلب یہ ہے کہ آسمانوں میں اللہ تعالیٰ کے فرشتے اتنی بڑی تعداد میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف ہیں کہ ایسا لگتا ہے جیسے ان کے بوجھ سے آسمان پھٹ پڑیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
آیت نمبر 7 تا 9 وکذلک اوحینا الیک قرانا عربیاً ( 42 : 7) “ ہاں ، اسی طرح اے نبی یہ قرآن عربی ہم نے تمہاری طرف وحی کیا ہے ”۔ تا کہ تم بستیوں کے مرکزی شہر مکہ کے لوگوں کو ڈراؤ ۔ یہ فقرہ معطوف ہے ، اس فقرے پر جس سے سورت کا آغاز ہوا۔ یعنی کذلک یوحی پر۔ سورت کے آغاز میں آنے والے اس کذلک سے مراد حروف مقطعات تھے۔ یہاں معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان مناسبت حروف مقطعات اور قرآن عربی کی ہے۔ یہ مناسبت ظاہر ہے ۔ یعنی یہ حروف عربی ہیں اور یہ قرآن عربی ہے۔ وحی نے ان حروف سے یہ قرآن بنایا ہے تا کہ وہ اپنا مقصد پورا کرے اور غرض وغایت کیا ہے۔
لتنذر ام القری ومن حولھا (42 : 7) “ تا کہ تم بستیوں کے مرکز (شہر…
Read the full tafseer →1 " ام القریٰ " (بڑا گاؤں) فرمایا مکہ معظمہ کو کہ سارے عرب کا مجمع وہاں ہوتا ہے اور ساری دنیا میں اللہ کا گھر وہیں ہے۔ اور وہی گھر روئے زمین پر سب سے پہلی عبادت گاہ قرار پائی۔ بلکہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائے آفرینش میں اللہ تعالیٰ نے زمین کو اسی جگہ سے پھیلانا شروع کیا جہاں خانہ کعبہ واقع ہے۔ اور مکہ کے آس پاس سے اول ملک عرب اس کے بعد ساری دنیا مراد ہے۔
2 یعنی آگاہ کردیں کہ ایک دن آنے والا ہے جب تمام اگلے پچھلے خدا کی پیشی میں حساب کے لیے جمع ہوں گے۔ یہ ایک یقینی اور طے شدہ بات ہے۔ جس میں کوئی دھوکا، فریب اور شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ چاہیے کہ اس دن کے لیے آدمی تیار ہوجائے اس وقت کل…
Read the full tafseer →آیت 7 { وَکَذٰلِکَ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا } ”اور اسی طرح ہم نے وحی کیا ہے آپ کی طرف یہ قرآن عربی“
آیت 3 کی طرح یہاں پر بھی وحی کے ذکر کے ساتھ لفظ کَذٰلِکَ آیا ہے۔ اس کی وضاحت قبل ازیں کی جاچکی ہے۔
{ لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰی وَمَنْ حَوْلَہَا } ”تاکہ آپ خبردار کردیں بستیوں کے مرکز اور اس کے ارد گرد رہنے والوں کو“
بالکل یہی الفاظ سورة الانعام کی آیت 92 میں بھی آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی قوم پر اتمامِ حجت کرنے کا یہ وہی طریقہ اور اصول ہے جس کا ذکر سورة القصص کی آیت 59 میں اس طرح ہوا ہے : { وَمَا کَانَ رَبُّکَ مُہْلِکَ الْقُرٰی حَتّٰی یَبْعَثَ فِیْٓ اُمِّہَا رَسُوْلًا }…
Read the full tafseer →5 قرآن ساری دنیا کی ہدایت کے لئے :۔ اُمُّ الْقُرَیٰ سے مراد مرکزی بستی یا بڑا شہر اور اس سے مراد مکہ معظمہ ہے۔ جہاں اللہ کا گھر موجود ہے۔ اور تمام دنیا کے لوگوں کے جمع ہونے کے لیے مرکز بنادیا گیا ہے۔ اور اس کے گرد سے مراد صرف آس پاس کے علاقے یا ملک نہیں بلکہ پوری روئے زمین ہی مراد ہے۔ کیونکہ یہ پوری روئے زمین کا مرکز بنایا گیا ہے۔ گویا اس آیت میں چند بنیادی باتوں کا نہایت اختصار کے ساتھ ذکر کردیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ قرآن اہل عرب کی اپنی ہی زبان میں نازل کیا گیا ہے۔ تاکہ اس کے سمجھنے سمجھانے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے اور لوگ مخصوص قسم کے علماء کے محتاج ہو کر نہ رہ جائیں بلکہ تمام اہل عرب اس سے…
Read the full tafseer →7۔ (آیت) ” ام القری “۔ ام۔ عربی میں ہر وہ چیز ہے جو دوسری چیزوں کا مبداء مرکز ومصدر ہو، والعرب تسمی اصل کل شیء امہ (کبیر) یقال لکل ما کان اصلا لوجود شیء او تربیتہ اواصلاحہ اومبدۂ (راغب) تو ام القری کے لفظی معنی بستیوں کی ماں یا آبادیوں کے مرکز کے ہوئے۔ مراد شہر مکہ سے ہے قیل لمکۃ ام القری وذلک لما روی ان الدنیا دحیت من تحتھا (راغب) وھی مکۃ وسمیت بھذا الاسم اجلا لالھا (کبیر) لفظ سورة الانعام پ 7 میں قریب ختم پارہ کے آیا ہے۔ وہاں کا حاشیہ ملاحظہ کرلیا جائے۔ (آیت) ” ومن حولھا “۔ صرف آس پاس ہی کی بستیاں اور آبادیاں مراد نہیں، بلکہ سارا عالم مراد ہے۔ مرکز سے قطر نزدیک ہو یا دور۔ بہرحال اس مرکز ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
آیت نمبر 1 تا 9
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰم۔ عسق اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے اسی طرح یعنی اس وحی بھیجنے کے مانند اللہ تعالیٰ جو زبردست ہے اپنے ملک میں حکمت والا ہے، اپنی صنعت میں تیری طرف اور تجھ سے اگلوں کی طرف وحی بھیجتا رہا ہے، اللہ ایحاء کا فاعل ہے، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے ملکیت کے اعتبار سے، تخلیق کے اعتبار سے، اور مملوکیت کے اعتبار سے، اور وہ اپنی مخلوق پر برتر اور عظیم الشان ہے، قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں (تکاد) تاء اور یاء کے ساتھ ہے (یَنْفَطِرنَ ) نون کے ساتھ ہے، اور ایک قراءت میں (نون کے بجائے) تاء مع…
Read the full tafseer →وکذلک اوحینا الیک قرانا عربیا لتنذر ام القری ومن حولھا وتنذر یوم الجمع لاریب
فیہ فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر اور ہم نے اسی طرح آپ پر (یہ) عربی زبان میں قرآن وحی کے ذریعہ سے نازل کیا تاکہ آپ (سب سے پہلے) مکہ کے رہنے والوں کو اور ان لوگوں کو جو مکہ کے آس پاس رہنے والے ہیں (ا اللہ کی نافرمانی سے) ڈرائیں اور جمع ہونے والے دن (روز قیامت) کا خوف دلائیں جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ‘ ایک گروہ جنت میں داخل ہوجائے گا اور ایک گروہ دہکتی آگ میں ہوگا۔
لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰی تاکہ آپ ام القرٰی کے رہنے والوں کو ڈرائیں۔ عرب کی اکثر بستیاں مکہ سے ہی نکلی ہیں۔ عرب میں سب سے اول مکہ کی آبادی ہوئی ‘ اسلئے…
Read the full tafseer →اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں کہ ان کے بجائے آپ کی پکڑ کی جائے اور اسی طرح ہم نے بذریعہ جبریل امین آپ پر قرآن عربی نازل کیا ہے تاکہ آپ قرآن کریم کے ذریعے سے سب سے پہلے مکہ والوں اور اس کے گرد و نواح میں رہنے والوں کو ڈرائیں اور جمع ہونے کے دن کی آفتوں سے بھی ڈرائیں جس میں تمام آسمان و زمین والے جمع ہوں گے جس دن میں کوئی شک نہیں ان جمع ہونے والوں میں سے مسلمانوں کا گروہ جنت میں اور ایک گروہ کافروں کا دہکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔
Read the full tafseer →(1) وکذلک اوحینا الیک قرانا عربیناً : قرآن عربی زبان میں نازل کرنے کی چند حکمتوں کیے جاننے کے لئے دیکھیں سورة یوسف کی آیت (2) کی تفسیر۔
(2) لتنذر ام القریٰ ومن حولھا :”ام القریٓ“ کا معنی بستیوں کی ماں یا بستیوں کی جڑ یا اصل ہے، یعنی بستیوں کا مرکز۔ مراد مکہ معظمہ ہے، کیونکہ زمین پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے سب سے پہلا گھر یہیں تعمیر ہوا، جسے تمام دنیا کی ہدایت کا مرکز قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ فرمایا :(ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبرکا وھدی للعلمین) (آل عمران : 96)”بیشک پہلا گھر جو لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا، یقیناً وہی ہے جو مکہ میں ہے، بہت بابرکت اور جہانوں کے لئے ہدایت ہے۔“ تمام دنیا کے…
Read the full tafseer →جس طرح ہم نے آپ کی طرف اور آپ سے پہلے انبیاء کی طرف ان معافی کو وحی کیا اسی طرح ہم نے آپ کی طرف عربی قرآن وحی کیا ہم نے اسے لغت عرب میں بیان کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم نے آپ پر قرآن عربی آپ کی قوم کی زبان میں نازل کیا جس طرح ہم نے ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان میں بیغام دے کر بھیجا۔ معنی ایک ہی ہے۔
ام القری سے مراد مکہ مکرمہ ہے۔ مکہ کو ام القری اس لیے کہتے ہیں کیونکہ زمین اسی کے نیچے سے پھیلائی گئی ہے ومن ھولھا یعنی باقی مخلوق۔ وتنذر یوم الجمع یوم الجمع سے مراد یوم قیامت ہے لا ریب فیہ اس میں کوئی شک نہیں فریق فی الجنۃ و فریق فی السعیر۔ یہ مبتدا ہے۔ کسائی نے نصب کو جائز قرار دیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
جنت اور جہنم کے باشندے متعین ہیں :
قولہ تعالیٰ : فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر “
8:۔ احمد (رح) و ترمذی (رح) (وصححہ) و نسائی (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس اس حال میں تشریف لائے کہ آپ کے ہاتھ میں دو کتابیں تھیں آپ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کتابیں ہم نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم کو نہیں بتائیں گے (کہ یہ کتابیں کیا ہیں) آپ نے فرمایا جو کتاب میرے داہنے ہاتھ میں ہے یہ رب العالمین کی طرف سے ہے جنت والوں اور ان کے آباء اور ان کے قبیلوں کے نام ہیں پھر آخرتک اجمالی طور پر خبردی کہ اب اس میں کبھی بھی زیادتی…
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ [ اور اس طرح ہم نے وحی کیا آپ کی طرف ] قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا [ عربی قرآن ] لِّتُنْذِرَ [ تاکہ آپ خبردار کریں ] اُمَّ الْقُرٰى [ بستیوں کی ماں ( مکہ ) والوں کو ] وَمَنْ حَوْلَهَا [ اور ان کو جو اس کے اردگرد ہیں ] وَتُنْذِرَ [ اور تاکہ آپ خبردار کریں ] يَوْمَ الْجَمْعِ [ جمع کئے جانے کے دن سے ] لَا رَيْبَ [ ذرا بھی شک نہیں ہے ] فِيْهِ ۭ [ جس میں ] فَرِيْقٌ [ تو ایک فریق ] فِي الْجَنَّةِ [ جنت میں ہے ] وَفَرِيْقٌ [ اور ایک فریق ] فِي السَّعِيْرِ [ ہمیشہ جلنے والی آگ میں ہے ]
نوٹ ۔ 1: ام القری کے معنی ہیں ساری بستیوں اور شہروں کی اصل اور بنیاد اور اس سے مراد مکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
اس کے بعد فرمایا کہ ہم نے آپ کو یہ قرآن وحی کے ذریعہ دیا جو عربی میں ہے تاکہ آپ ام القریٰ یعنی مکہ والوں کو ڈرائیں (جو آپ کے اولین مخاطب ہیں) اور ان لوگوں کو بھی ڈرائیں جو مکہ کے چاروں طرف رہتے ہیں یعنی دیگر اہل عرب ان سب کو کفر کی سزا سے ڈرائیں اور بتادیں کہ اگر ایمان نہ لائیں تو اس کی سخت سزا ہے، اور آپ ان سب کو جمع ہونے کے دن سے بھی ڈرائیں اس سے قیامت کا دن مراد ہے جس کے واقع ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، اس دن بندوں کے درمیان فیصلے کیے جائیں گے اللہ تعالیٰ فیصلہ فرمائے گا اس کے فیصلے کو کوئی رد کرنے والا نہیں، پہلے سے اس کا فیصلہ ہے ﴿ فَرِيْقٌ فِي الْجَنَّةِ وَ فَرِيْقٌ فِي السَّعِيْرِ 007﴾…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
اثبات وحی الہی مع بیان عظمت رب کبریاو وعید بہ شرک ونافرمانی :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” حم عسق ....... الی ....... انہ بکل شیء علیم “۔
(ربط) ” گذشہ سورت کے مضامین کا حاصل مخالفین کے اعتراضات کا رد اور ان پر توبیخ وتنبیہ تھا، اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی رسالت اور وحی کی عظمت کو ثابت کیا جارہا ہے، اور اسی کے ضمن میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے، اور مجرمین ومنکرین پر توبیخ ووعید بھی ہے کہ یہ اپنے افعال قبیحہ کی سزا سے ہرگز نہیں بچ سکتے ارشاد ہے ،
(آیت ) ” حم عسق “۔ اللہ رب العزت ہی اس کی مراد خوب جاننے والا ہے، اصول دین اور احکام شریعت کی تعیین اور تحقیق کے لیے جیسے آپ ﷺ پر یہ سورت نازل کی جارہی…
Read the full tafseer →6:۔ ” و کذلک اوحینا۔ الایۃ “ کاف بیان کمال کے لیے ہے یعنی ہم نے یوں اس قدر واضح کر کے یہ مضمون (توحید) عربی زبان میں نازل کیا ہے تاکہ مکہ اور اس کے گرد و نواح کے لوگوں کو اس کے احکام سے خبردار کریں اور ان کو قیامت کے دن سے ڈرائیں جس میں سب لوگوں کو اکٹھا کیا جائیگا اور جس کی آمد میں کوئی شک نہیں۔ اس دن تمام انسان دو جماعتوں میں تقسیم ہوں گے ایک ایمان والوں کی جماعت یہ جنت میں جائیگی اور دوسری کفار و مشرکین کی جماعت یہ جہنم کا ایندھن ہوگی۔ یہ مشرکین اگر ایسا واضح قرآن بھی نہیں مانتے، تو جہنم کے لیے تیار رہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
وحی الٰہی کی حقانیت
وحی الٰہی پر ایمان لانا دین کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔ سورة ہذا کی ابتداء بھی وحی الٰہی کی حقانیت سے ہوئی جیسا کہ گزشتہ درس میں فرمایا کذلک یوحی الیک والی الدین من قبلک اسی طرح ہم نے وحی بھیجی آپ کی طرف جیسا کہ وحی بھیجی آپ سے پہلے لوگوں کی طرف ، اور اب اس درس کا آغاز بھی درس الٰہی کی حقانیت سے ہو رہا ہے ۔ البتہ سابقہ درس کی نسبت وحی الٰہی کا ذکر اس مقام پر قدرے تفصیل سے ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وکذلک اوحیان الیک قرانا عریبا اور اسی طرح ہم نے وحی نازل کی ہے آپ کی طرف ایک قرآن جو عربی زبان میں ہے۔ قرآن پاک میں وحی الٰہی اور دوسرے بنیادی عقائد کا تذکرہ بار ہا آ رہا ہے تا کہ بات…
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَمَنْ حَوْلَہَا وَتُنْذِرَ يَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَيْبَ فِيْہِ 0 ۭ فَرِيْقٌ فِي الْجَنَّۃِ وَفَرِيْقٌ فِي السَّعِيْرِ 7
وحی
أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة ببعض الجوارح، وبالکتابة، وقد حمل علی ذلک قوله تعالیٰ عن زكريّا : فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] وقوله : وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] فوحيه إلى موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
ترکیب : قرآنا مفعول لاوحینا لتنذر متعلق باوحینا فریق خبرمبتدء محذوف ای بعضھم فریق فی الجنۃ و الظالمون مبتدء ومابعدہ خبرہ اولیاء بالنصب علی انہ مفعول لاتخذوامن دونہ حال منہ ای حال کون الاولیاء غیر اللہ الولی خبر فاللہ ھو ضمیر الفصل للتاکید۔
تفسیر : پھر مسئلہ نبوت کا ذکر کرتا ہے وکذلک اوحینا الخ کہ جس طرح انبیائِ سابقین پر وحی کی گئی تھی اسی طرح اے محمد ﷺ ! ہم نے تیری طرف عربی زبان میں قرآن وحی کیا کس لیے لتنذرام القرٰی تاکہ تو اہل مکہ کو اور اس کے آس پاس والوں کو خبردار کر دے ڈراوے کہ تم پر اگر باز نہ آؤ گے بلا آنے والی ہے اور ان کو قیامت کے دن سے بھی ڈراوے کہ جس میں کوئی شک نہیں کہ اس روز ایک…
Read the full tafseer →وَکَذٰلِکَ اَوْحَیْنَـآ اِلَیْکَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّـتُـنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰی وَمَنْ حَوْلَھَا وَتُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لاَرَیْبَ فِیْہِ ط فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّۃِ وَفَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ ۔ (الشوری : 7)
(اور اسی طرح ہم نے اے پیغمبر ! ایک عربی قرآن آپ کی طرف وحی کیا ہے تاکہ آپ اہل مکہ اور اس کے گردوپیش میں رہنے والوں کو خبردار کردیں، اور اس دن سے ڈرا دیں جو سب کے اکٹھے کرنے کا دن ہوگا جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں، ایک گروہ کو جنت میں جانا ہے اور ایک گروہ کو دوزخ میں۔ )
عربوں پر قرآن کی صورت میں احسان اور اتمامِ حجت کی طرف اشارہ
کَذٰلِکَکا اشارہ سابقہ مضمون کی طرف ہے کہ جس طرح ہم نے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین نے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو اپنا خیرخواہ اور کارساز بنا لیا ہے۔ اِ ن کو ان کے برے عقیدے کے انجام سے ڈرانے کے لیے آپ کی طرف قرآن وحی کیا گیا ہے کہ آپ انہیں ان کے برے انجام سے متنبہ فرمائیں جس کا آغاز مکہ اور گردونواح سے ہونا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے نبی ﷺ پر قرآن مجید نازل کیا جو عربی زبان میں ہے۔ عربی زبان میں نازل کرنے کی بنیادی طور پر تین وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ اگر قرآن مجید غیر عربی میں ہوتا تو نہ صرف آپ ﷺ کے مخاطبین کو سمجھنے میں مشکل پیش آتی ملکہ آپ کو بھی قرآن سمجھنے میں دقت کا سامنا کرنا پڑتا۔ عربی زبان میں قرآن نازل فرماکر اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →امّ القریٰ کا نام :
7: وَکَذٰلِکَ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ (اور اسی طرح ہم نے وحی کی آپ کی طرف) اس سے گزشتہ آیت کے معنی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر نگہبان ہیں آپ نہیں بلکہ آپ منذر ہیں کیونکہ اس معنی کو قرآن میں بار بار دہرایا گیا ہے۔
نحو : کذلک کا کاف یہ اوحیناؔ کا مفعول بہ ہے۔
قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا (قرآن عربی زبان میں )
نحو : یہ مفعول بہٖ سے حال ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ اوحینا الیک وھو قرآن عربی مبین ہم نے آپ کی طرف وحی کی اور وہ قرآن عربی مبین ہے۔
لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰی (تاکہ آپ مکہ والوں کو ڈرائیں) ام القریٰ یہ مکہ کا نام ہے کیونکہ زمین اس کے نیچے سے پھیلائی گئی یا اس لئے…
Read the full tafseer →6، والذین اتخذامن دونہ اولیاء اللہ حفیظ علیھم، ان کے اعمال کانگران ہے اور ان پر شمارکرائے گاتا کہ ان کو اس کا بدلہ دے۔ وماانت علیھم بوکیل، اللہ نے آپ (علیہ السلام) کو ان پر نگران نہیں بنایا کہ آپ (علیہ السلام) سے ان کے بارے میں مؤاخذہ ہو۔
Read the full tafseer →7۔ حشر کے دن کو اکھٹے کرنے کا دن اس لئے فرمایا کہ اس دن حضرت آدم سے لے کر قیامت تک جو انسان روئے زمین پر ہیں وہ سب حساب و کتاب کے لئے شام کے ملک کے میدان میں ایک جگہ اکھٹے کئے جائیں گے چناچہ سورة ہود میں فرمایا ذلک یوم مجموع لہ الناس اور بیہقی کی اسماء بنت 2 ؎ یزید کی روایت میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سب لوگ ایک میدان میں جمع ہوں گے حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس اور صحابہ کی روایتوں میں یہ بھی صراحت آئی ہے کہ وہ میدان شام کے ملک میں ہوگا اس آیت میں تو اللہ تعالیٰ نے مختصر طور پر اتنا ہی فرمایا ہے کہ یہ سب لوگ اکھٹے ہوں گے اور ان میں سے ایک گروہ بہشت میں جائے گا اور ایک دوزخ میں سورة ہود میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
آیت 1
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے یہ قرآن عظیم نبی کریم ﷺ کی طرف وحی کیا ہے جس طرح آپ سے پہلے انبیاء ومرسلین کی طرف وحی کی۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا ذکر ہے کہ اس نے گزشتہ زمانوں میں اور بعد میں آنے والے زمانوں میں کتابیں نازل کیں اور انبیاء و رسل مبعوث کئے، نیز یہ کہ محمد مصطفیٰ ﷺ کوئی انوکھے رسول نہیں، آپ کا طریقہ وہی ہے جوپ ہلے انبیاء ومرسلین کا طریقہ تھا۔ آپ کے احوال گزشتہ انبیاء کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں۔ جو دعوت آپ لے کر آئے ہیں وہ گزشتہ انبیاء کی دعوت سے مشابہت رکھتی ہے کیونکہ ان کی دعوت اور آپ کی دعوت سب حق اور سچے ہے اور یہ کتابیں اس ہستی کی طرف…
Read the full tafseer →11 حضرات انبیاء ورسل کی دعوت کی وحدت واشتراک کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف وحی کی عربی زبان کے ایک عظیم الشان قرآن کی صورت میں "۔ سو یہ ایسی عظیم الشان کتاب ہے جس کی عظمتوں کا کوئی کنارہ اور ٹھکانا نہیں۔ اس کی کوئی نظیر و مثال نہ اس سے پہلے کبھی ہوئی ہے اور نہ آئندہ قیامت تک کبھی ممکن ہے۔ اور یہ واحد کتاب ہے جو انسان کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کی کفیل وضامن ہے۔ سو جو اس سے منہ موڑے گا اور اعراض برتے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔ اور اس سے بڑھ کر کوئی بدنصیب نہیں ہوسکتا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس طرح ہم نے آپ ﷺ سے پہلے آنے والے انبیا و رسل کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
اللہ کا غلبہ، قدرت، دانائی اور رحم و کرم سب سے زیادہ ہے
تشریح : پہلی اور دوسری آیات میں حروف مقطعات ہیں۔ اس کے بعد رب ذوالجلال کی صفات کا ذکر ہے۔ توحید پر ایمان لانا انسان کے لیے بہترین راستہ ہے۔ کیونکہ یہی مبارک راستہ انسان کو زندگی کی تمام قباحتوں سے بچاتا ہے۔ انسان کو ایسانظام حیات عطا کرتا ہے کہ جس کی وجہ سے عبادات، اخلاقیات، معاملات، حقوق اور تعزیرات کا ایک بہترین نقشہ انسان کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ یہ نظام حیات انسان کو ظلم زیادتی، کفر و شرک، بےحیائی بد نظمی اور تمام غم، خوف اور پریشانیوں سے محفوظ کردیتا ہے۔ اسی لیے قرآن کو بہت بڑی رحمت اور اسلام کو سلامتی کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس پیغام کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
آیات 1 تا 9۔
اسرار ومعارف۔
حروف مقطعات کے معنی علم الٰہی میں ہیں ، اسی طرح دلائل کے ساتھ حقائق بیان کرنے کے لیے اور حق کو ثابت کرنے کے لیے آپ سے پہلے انبیاء پر بھی وحی نازل کی گئی جس طرح آپ پر نازل ہوئی ہے کہ اللہ زبردست اور غالب اور بڑی حکمتوں والا ہے سب اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے جو کچھ زمین میں ہے اور سب پر اسی کی حکمرانی ہے وہی عظیم ہے ساری کائنات میں جس طرح اس کا حکم جاری ہے اور خود انسان کے تقدیری امور میں بھی اگر چاہتا تو سب سے حکما منوالیتا مگر اس کی حکمت کہ انسان کو اختیار دیا اور راہنمائی کے لیے انبیاء (علیہم السلام) اور وحی کا سلسلہ جاری فرمایا ورنہ اس کی عبادت وتسبیح کرنے کو…
Read the full tafseer →ف 12 ام القری کے لفظی معنی ہیں بستیوں کی ماں یا جڑ اور گرد سے مراد ساری دنیا ہے۔ مکہ کو ام القری اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ روئے زمین کے تمام شہروں ( قریٰ ) سے افضل و اشرف ہے۔ جیسے آنحضرت ﷺ نے مکہ کے بازار میں کھڑے ہو کر فرمایا : واللہ انک لخیر ارض اللہ واحب ارض اللہ الی کہ اللہ کی قسم ! تو اللہ کی سب سے بہتر اور میری سب سے محبوب زمین ہے۔ ( ابن کثیر) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں ” بڑا گائوں پر فرمایا مکہ کو کہ سارے عرب کا مجمع وہاں ہوتا ہے اور ساری دنیا میں گھر انند کا وہاں ہے آس پاس اسکے اول عرب پھر ساری دنیا۔
13 یعنی قیامت کے دن ( یوم الجمع) نتائج اعمال کے اعتبار سے ایک گروہ جنتی ہوگا اور دوسرا…
Read the full tafseer →(42:7) وکذلک : واؤ عاطفہ ہے ک حرف تشبیہ ہے ذلک اسم اشارہ واحد مذکر۔ مشار الیہ۔ ای معنی الایۃ التی قبلہا۔ ماقبل آیت کے معنی میں جو کلام آپ پر بذریعہ وحی نازل کیا گیا ہے یا آپ سے قبل دیگر رسولوں پر نازل کیا گیا تھا ۔ اسی طرح ہم یہ عربی زبان میں قرآن وحی کر رہے ہیں۔ (ملاحظہ ہو 42:3) متذکرۃ الصدر) وکذلک اوحینا الیک، ای ومثل ذلک الایحاء الیک والی من قبلک۔ اوحینا ماضی جمع متکلم۔ ہم نے وحی کی۔
قرانا عربیا موصوف و صفت مل کر اوحینا کا مفعول۔
لتنذر۔ لام تعلیل کی ہے۔ تنذر مضارع معروف منصوب (بوجہ عمل لام) صیغہ واحد مذکر حاضر۔ انذار (افعال) مصدر (تاکہ) تو ڈرائے۔
ام القری۔ مضاف مضاف الیہ۔ القری جمع ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 9 : تکاد ( قریب ہے) یتفطرن (پھٹ پڑیں) ام القریٰ (مکہ مکرمہ (شہروں کی ماں) یوم الجمع (جمع ہونے کا دن ( قیامت کا دن) السعیر ( دھکتی آگ)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 9 : اس سورت کا آغاز ان حروف سے کیا گیا ہے جو الگ الگ کر کے پڑھے جاتے ہیں۔ ان کو حروف مقطعات کہا جاتا ہے ۔ اس سے پہلے اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ کو ہے۔ یہ آیات متشابہات میں سے ہیں ۔ ان کے معنی کا علم ممکن ہے نبی کریم ﷺ کو دیا گیا ہو مگر آپ نے ان کے معنی کسی کو نہیں بتائے۔ اگر امت کے لئے ضروری ہوتا تو نبی کریم ﷺ ان حروف کے معنی ضرور ارشاد فرماتے۔
دوسری بات یہ ہے کہ یہ…
Read the full tafseer →(ف 2) اے محبوب ﷺ جیسے ہم نے پچھلے رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف انہیں کی زبانوں میں بھیجا یونہی ہم نے تم پر قرآن بذریعہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) خاص فصیح عربی زبان میں مطابق محاورہ فصحاء عرب اتارا تاکہ تم اس کے ذریعہ سے مکہ کے لوگوں کو ڈراؤ سمجھاؤ اور ارگرد کے شہر یعنی روئے زمین کے لوگوں کو بھی ڈراؤ۔
(ف 3) اس آیت میں فرمایا کہ روز قیامت سے آگاہ کردو کہ ایک دن آنے والا ہے جب تم اگلے پچھلے خدا کی پیشی میں حساب کے لیے جمع ہو گے یہ ایک یقینی اور طے شدہ بات ہے جس میں کوئی دھوکہ فریب اور شک کی گنجائش نہیں ہے چاہیے کہ اس دن کے لیے آدمی تیار ہوجائے اس وقت کل آدمی دوگروہوں میں تقسیم ہوں گے ایک گروہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
[2] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة انعام حاشیہ 31۔
[3] مراد ہے روز قیامت، اس لئے کہ لوگ اس دن حساب اعمال کے لئے جمع کئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
حل لغات :۔ ام القری ۔ مکہ یعنی آس پاس کے دیہات کا مرکز اس طرف کی بستیوں میں سب سے پہلے آیا ہوا ہے ۔ یوم الجمع ۔ قیامت کا دن جبکہ لوگ ان کے حضور جمع ہونگے ۔
یعنی قرآن کتب سابقہ کی طرح صداقت اور حقانیت کا حال ہے ۔ اس کو عربی میں اس لئے نازل کیا گیا ہے ۔ تاکہ مکہ والوں کے لئے اتمام حجت ہوجائے اور وہ یہ عذر نہ کرسکیں ۔ کہ ہم قرآن کو سمجھ نہیں پاتے ۔ اسی طرح ان کے آس پاس کے رہنے والے لوگوں یہ اعتراض نہ کریں ۔ کہ عجمیت ہماری راہ میں حائل ہوئی ۔ اگر ہماری بولی میں قرآن نازل ہوتا تو ہم ضرور تسلیم کرتے اس کے یہ معنی نہیں ہیں ۔ کہ قرآن حکیم کے فیوض صرف اہل عرب کے لئے ہیں بلکہ غرض یہ ہے کہ کم از کم ایک…
Read the full tafseer →(7) اور ہم نے اسی طرح اس قرآن عربی کو آپ پر نازل کیا ہے جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں اور یہ قرآن عربی زبان میں اس لئے آپ پر نازل کیا ہے تاکہ آپ اہل مکہ کو اور مکہ کے چاروں طرف رہنے والوں کو خبردار کردیں اور اس دن سے ڈرادیں جو سب کے جمع ہونے کا دن ہے اس دن کے آنے میں ذرا شک نہیں ہے اس دن ایک فریق جنت میں داخل ہوگا اور ایک فریق جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ وکذلک کی تشبیہ کا دو طرح ترجمہ کیا گیا ہے ہم تم دونوں کو ترجمہ اور تیسیر میں ظاہر کردیا ہے یعنی مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہر پیغمبر کو اس کی قومی زبان میں وحی بھیجی گئی ہے اس طرح آپ کو عربی زبان کا قرآن دیا گیا ہے یا یہ کہ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے ہم نے اس…
Read the full tafseer →ف 1۔ مراد اس سے قیامت کا دن ہے کہ اس میں اولین و آخرین سب جمع ہوجائیں گے۔
2۔ پس آپ کا کام محض ایسے دن سے ڈرا دینا ہے اور باقی ان کے ایمان و عدم ایمان سے آپ کو کیا بحث، وہ مشیت الہی پر ہے۔
Read the full tafseer →آپ ﷺ کی طرف ایسے ہی یہ قرآن کریم وحی کیا گیا تاکہ آپ ﷺ مکہ والوں کو ڈرائیں
7 ؎ { کذلک } کے متعلق پیچھے عرض کیا جا چکا ہے کہ یہ اس مقصد کے لیے ہے کہ یہ بات واضح کردی جائے جیسے گزشتہ نبیوں اور رسولوں کی طرف وحی کی گئی اسی طرح یہ قرآن کریم آپ ﷺ کی طرف وحی کیا گیا۔ فرق ہے تو صرف یہ ہے کہ گزشتہ کتابوں کی زبان ان کے نبیوں اور رسولوں کی زبان تھی اور قرآن کریم کی زبان وہ ہے جو آپ ﷺ کی ہے یعنی وہ عربی ہے جو دنیا کی ساری زبانوں سے واضح اور صاف ہے اور کسی طرح کا کوئی ابہام اس میں نہیں ہے اور مکہ جو تمام بستیوں کی اصل اور ماں ہے اس کے رہنے والوں کو آپ ﷺ بروقت خبردار کریں اور ان کے اردگرد حدود اربعہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
لِّتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَىٰ (So that you may warn the town that is the mother of all towns) - Umm-ul- Qura (mother of all the towns) means the origin and foundation of all habitations and cities which is Makkah. This title has been given to this city because, to Allah Almighty, it is more distinguished and more excellent than all other cities, habitations and the whole earth. Imam Ahmad has narrated in Musnad, with the authority of Sayyidna ` Adiyy Ibn Hamra' Az-zuhri ؓ that he heard the Messenger of Allah at a market of Makkah when he ﷺ was migrating from the city. He ﷺ was addressing…
Read the full tafseer →8 The same thing which had been said in the beginning of the discourse has been said again with greater emphasis, and by making mention of the "Arabic Qur'an", the listeners have been warned to the effect: "The Qur'an is not in any foreign language but in your own language: you can understand it yourself directly; study its themes and see for yourself that the pure and selfless guidance that is being given in it can be from none other than the Lord of the Universe."
9 That is, "Arouse them from slumber and warn them that there is nothing but destruction in store for them in consequence of the…
Read the full tafseer →