Explained with ayahs 1–6
حم عسق کی تفسیر :
حروف مقطعات کی بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ابن جریر ؒ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے جو منکر ہے اس میں ہے کہ ایک شخص حضرت ابن عباس کے پاس آیا اس وقت آپ کے پاس حضرت حذیفہ بن یمان بھی تھے۔ اس نے ان حروف کی تفسیر آپ سے پوچھی آپ نے ذرا سی دیر سر نیچا کرلیا پھر منہ پھیرلیا اس شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ نے پھر بھی منہ پھیرلیا اور اس کے سوال کو برا جانا اس نے پھر تیسری مرتبہ پوچھا۔ آپ نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا اس پر حضرت حذیفہ نے کہا میں تجھے بتاتا ہوں اور مجھے یہ معلوم ہے کہ حضرت ابن عباس اسے کیوں ناپسند کر رہے ہیں۔ ان کے اہل بیت میں سے ایک شخص کے بارے میں یہ نازل…
Read the full tafseer →سورة الشُّوْرٰی 6
اصل میں لفظ " اولیاء“ استعمال ہوا ہے جس کا مفہوم عربی زبان میں بہت وسیع ہے۔ معبودان باطل کے متعلق گمراہ انسانوں کے مختلف عقائد اور بہت سے مختلف طرز عمل ہیں جن کو قرآن مجید میں " اللہ کے سوا دوسروں کو اپنا ولی بنانے " سے تعبیر کیا گیا ہے۔ قرآن پاک کا تتبع کرنے سے لفظ " ولی " کے حسب ذیل مفہومات معلوم ہوتے ہیں
1) جس کے کہنے پر آدمی چلے، جس کی ہدایات پر عمل کرے، اور جس کے مقرر کیے ہوئے طریقوں، رسموں اور قوانین و ضوابط کی پیروی کرے (النساء، آیات 118 تا 120۔ الاعراف 3، 27 تا 30)۔
2) جس کی رہنمائی (Guidance) پر آدمی اعتماد کرے اور یہ سمجھے کہ وہ اسے صحیح راستہ بتانے والا اور غلطی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
معارف و مسائل
يَتَفَطَّرْنَ۔ اس میں بحوال حدیث اوپر بیان ہوا ہے کہ فرشتوں کے بوجھ سے آسمان میں ایسی آواز پیدا ہوئی جیسی کسی چیز پر بڑا بھاری بوجھ رکھ دینے سے ہوا کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ فرشتوں میں ثقل والا بوجھ ہے۔ اور اس میں کوئی استبعاد نہیں۔ کیونکہ یہ بات تو مسلم ہے کہ فرشتے بھی اجسام ہیں اگرچہ اجسام لطیفہ ہوں۔ اور اجسام لطیفہ جب بہت بڑی تعداد میں ہوجائیں تو ان کا بوجھ پڑنا کوئی مستبعد نہیں۔ (بیان القرآن)
Read the full tafseer →والذین اتخذوا من دونہ اولیآء اللہ حفیظ علیھم وما انت علیھم بوکیل (6)
مشرکین کو نہایت سخت وعید
یہ مشرکین کو نہایت سخت انداز میں وعید اور آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی ہے کہ ان واضح دلائل کے بعد بھی جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے کار ساز بنا رکھے ہیں اور تمام نبیہ و تذکیر کے باوجود اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں، اللہ ان کی کڑی نگرانی کر رہا ہے کہ جو نہی وہ اپنی مہلت پوری کرلیں ان کو اپنے قہر و غضب کے پنجہ میں گرفتار کر کے۔ اس کے بعد پیغمبر ﷺ کو تسلی دی کہ خدا نے تم پر یہ ذمہ داری نہیں ڈالی ہے کہ لازماً تم انکو ایمان کی راہ پر لگا ہی دو۔ تمہاری ذمہ داری تبلیغ حق کی تھی وہ تم نے کردی اور جب تم تمہارے رب کا حکم…
Read the full tafseer →6۔ 1 یعنی ان کے عملوں کو محفوظ کر رہا ہے تاکہ اس پر ان کو جزا دے۔
6۔ 2 یعنی آپ اس بات کے مکلف نہیں ہیں کہ ان کو ہدایت کے راستے پر لگا دیں یا ان کے گناہوں پر ان کا مؤاخذہ فرمائیں، بلکہ یہ کام ہمارے ہیں، آپ کا مصرف پیغام (پہنچا دینا) ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
1: مطلب یہ ہے کہ آسمانوں میں اللہ تعالیٰ کے فرشتے اتنی بڑی تعداد میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف ہیں کہ ایسا لگتا ہے جیسے ان کے بوجھ سے آسمان پھٹ پڑیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
حروف ، مقطعات کے بارے میں کئی سورتوں کے آغاز میں بات ہوچکی ہے جسے یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ حروف بتاتے ہیں کہ سورت کا آغاز ہو رہا ہے ۔ ان حروف کے بعد پہلا فقرہ یہ ہے۔
کذلک یوحی ۔۔۔۔ العزیز الحکیم (42 : 3) ” اسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف وحی کرتا رہا ہے “۔ یعنی جس طرح تمہاری طرف وحی ہورہی ہے اسی طرح اور اسی انداز میں ہم نے پہلے رسولوں کی طرف بھی وحی بھیجی ہے۔ یہ وحی الفاظ ، کلمات اور حروف تہجی پر مشتمل رہی ہے۔ وحی کا کلام الٰہی حروف سے بنایا گیا ہے ۔ ان حروف سے لوگ اچھی طرح واقف ہیں۔ ان کلمات کے معانی وہ سمجھتے ہیں لیکن اس وحی کی طرح وہ کلام…
Read the full tafseer →9 یعنی دنیا میں مشرکین کو مہلت تو دیتا ہے لیکن یہ نہ سمجھو کہ وہ ہمیشہ کے لیے بچ گئے۔ ان کے سب اعمال و احوال اللہ کے ہاں محفوظ ہیں جو وقت پر کھول دیے جائیں گے۔ آپ اس فکر میں نہ پڑیں کہ یہ مانتے کیوں نہیں۔ اور نہ ماننے کی صورت میں فوراً تباہ کیوں نہیں کردیے جاتے۔ آپ ان باتوں کے ذمہ دار نہیں صرف پیغامِ حق پہنچا دینے کے ذمہ دار ہیں۔ آگے ہمارا کام ہے وقت آنے پر ہم ان کا سب حساب چکا دیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 6 { وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآئَ } ”اور جن لوگوں نے اس کے سوا دوسرے مددگار بنا رکھے ہیں“
{ اللّٰہُ حَفِیْظٌ عَلَیْہِمْ وَمَآ اَنْتَ عَلَیْہِمْ بِوَکِیْلٍ } ”اللہ ان پر نگران ہے ‘ اور اے نبی ﷺ ! آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں۔“
وہ سمجھتے ہیں کہ قیامت کے دن وہ معبود ان کی شفاعت کریں گے اور ان کے ذریعے سے انہیں اللہ کا قرب حاصل ہوجائے گا ‘ لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ ان کے سارے افعال کی نگرانی کر رہا ہے اور ان کا نامہ اعمال تیار ہو رہا ہے۔ ان کا محاسبہ اور مواخذہ کرنا اسی کا کام ہے۔
Read the full tafseer →4 ولی کے مختلف مفہوم :۔ ولی کا لفظ بہت جامع ہے اور بڑا وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ مثلاً کارساز دوست، حمایتی، مددگار اور سرپرست سب اس کے مفہوم میں شامل ہیں۔ اور اس کا عام مفہوم وہ شخص ہے جو کسی کی موت، مصیبت اور سخت پریشانی کے وقت اس کی مدد کو پہنچے یا اس کی وراثت کا اولین حقدار ہو۔ اور یہ باپ اور بیٹے کے علاوہ کوئی اور شخص بھی ہوسکتا ہے جب کہ مشرکین اپنے بتوں اور معبودوں کو ایسا سمجھتے تھے اور سمجھتے ہیں کہ وہ ہر مصیبت میں ان کے کام آتے اور ان کی حاجات کو پورا کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور نیز قیامت کے دن ہم ان کی سفارش سے اللہ کے عذاب سے بچ سکتے ہیں۔ اللہ ایسے مشرکوں کو مہلت تو دیتا ہے مگر یہ نہ…
Read the full tafseer →6۔ ایک بار پھر اس حقیقت کا اعلان کہ معاملات تکوینی میں قادر و متصرف صرف ذات حق تعالیٰ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے ذمہ صرف پیام و احکام کی تبلیغ وتلقین ہے، کسی کے ماننے نہ ماننے کی ذمہ داری ان کے اوپر ذرا سی بھی نہیں۔ اللہ خود ہی وقت مناسب پر سب سے نپٹ لے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
آیت نمبر 1 تا 9
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰم۔ عسق اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے اسی طرح یعنی اس وحی بھیجنے کے مانند اللہ تعالیٰ جو زبردست ہے اپنے ملک میں حکمت والا ہے، اپنی صنعت میں تیری طرف اور تجھ سے اگلوں کی طرف وحی بھیجتا رہا ہے، اللہ ایحاء کا فاعل ہے، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے ملکیت کے اعتبار سے، تخلیق کے اعتبار سے، اور مملوکیت کے اعتبار سے، اور وہ اپنی مخلوق پر برتر اور عظیم الشان ہے، قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں (تکاد) تاء اور یاء کے ساتھ ہے (یَنْفَطِرنَ ) نون کے ساتھ ہے، اور ایک قراءت میں (نون کے بجائے) تاء مع…
Read the full tafseer →والذین اتخذوا من دونہ اولیاء اللہ حفیظ علیھم وما انت علیھم بوکیل اور جن لوگوں نے
دوسروں کو اللہ کے سوا کارساز قرار دے رکھا ہے ‘ اللہ خود ان کو دیکھ رہا ہے اور آپ کو ان پر اختیار نہیں دیا گیا۔
اَوْلِیَآء یعنی شرک اور مثل۔
حَفِیْظٌ عَلَیْھِمْ یعنی ان کے احوال کا نگراں جو ان کو ان کے اعمال کی سزا دے گا۔
وَمَآ اَنْتَ عَلَیْھِمْ بِوَکِیْلٍ یعنی اے محمد ! آپ کو ان پر اختیار نہیں دیا گیا کہ آپ ان کو اپنے مقصد کے مطابق (ہدایت پر) لے آئیں ‘ یا یہ مطلب ہے کہ آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں ‘ ان کا معاملہ آپ کے سپرد نہیں کیا گیا۔
Read the full tafseer →اور جن لوگوں نے اللہ کے علاوہ بتوں کو کارساز ٹھہرا رکھا ہے اور وہ ان کو پوجتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو اور ان کے اعمال کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔
Read the full tafseer →(1) والذین اتخذوا من دونہ اولیآء اللہ …: اس جملے میں مشرکین کے لئے بہت شدید ڈانٹ اور دھمکی ہے کہ اوپر آیات میں جس اللہ کا ذکر ہوا، جو عزیز و حکیم اور علی و عظیم ہے، جس کی ہیبت سے آسمان پھٹنے کے قریب رہتے ہیں اور جس کی تسبیح و حمد تمام فرشتے کرتے ہیں، جن لوگوں نے اس اللہ کے سوا کسی قسم کے کار ساز بنائے، جو ان کے خیال میں فوق الفطرت طریقے سے ان کی حاجتیں و مرادیں برلاتے اور ان کی دستگیری و فریاد رسی کرتے ہیں، ان کے ایک ایک عمل کو نص
دیکھ رہا ہے وہ سب اس کے پاس محفوظ ہیں اور بہت جلد وہ انھیں ان کا بدلا دے گا۔
(2) وما انت علیھم بوکیل ”مآئ“ نافیہ کی تاکید ”بوکیل“ کی باء کے ساتھ ہو رہی ہے اور…
Read the full tafseer →اولیاء سے مراد بت ہیں جن کی وہ عبادت کرتے ہیں حفیظ علیھم وہ ان کے اعمال کی حفاظت کرتا ہے تاکہ ان اعمال پر انہیں بدلہ دے وامآ انت علیھم بوکیل۔ یہ آیت سیف کے ساتھ منسوخ ہے، حدیث طیبہ میں ہے : ا طت السماء و حق لھا ان تئط آسمان اپنے مکینون کے بوجھ کی وجہ سے آواز نکالنے لگا کیونکہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے وہ کثرت کے باوجود اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کوتاہی نہیں کرتے اور یہ کفار اس کے ساتھ شرک کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
1:۔ طبرانی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہم اس آیت کو یوں پڑھتے ہیں (آیت ) ” تکاد السموت یتفطرن من فوقھن “ (کچھ بعید نہیں کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں ) ۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) اور ابوالشیخ (رح) نے العظمہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” تکاد السموت یتفطرن من فوقھن “ سے مراد ہے (آیت ) ” من فوقھن “ اور خفیف نے اس کو تاء مشدد کے ساتھ پڑھا۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابوالشیخ (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” تکاد السموت یتفطرن من فوقھن “ (یعنی کچھ بعید نہیں کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں) سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کی وجہ سے پھٹ جائیں…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ [ اور جن لوگوں نے ] اتَّخَذُوْا [ بنائے ] مِنْ دُوْنِهٖٓ [ اس کے علاوہ ] اَوْلِيَاۗءَ [ کچھ کارساز ] اللّٰهُ حَفِيْــظٌ [ اللہ نگرانی کرنے والا ہے ] عَلَيْهِمْ ڮ [ ان لوگوں پر ] وَمَآ اَنْتَ عَلَيْهِمْ [ اور آپ نہیں ہیں ان لوگوں پر ] بِوَكِيْلٍ [ کوئی نگہبان ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
اس کے بعد فرمایا کہ ہم نے آپ کو یہ قرآن وحی کے ذریعہ دیا جو عربی میں ہے تاکہ آپ ام القریٰ یعنی مکہ والوں کو ڈرائیں (جو آپ کے اولین مخاطب ہیں) اور ان لوگوں کو بھی ڈرائیں جو مکہ کے چاروں طرف رہتے ہیں یعنی دیگر اہل عرب ان سب کو کفر کی سزا سے ڈرائیں اور بتادیں کہ اگر ایمان نہ لائیں تو اس کی سخت سزا ہے، اور آپ ان سب کو جمع ہونے کے دن سے بھی ڈرائیں اس سے قیامت کا دن مراد ہے جس کے واقع ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، اس دن بندوں کے درمیان فیصلے کیے جائیں گے اللہ تعالیٰ فیصلہ فرمائے گا اس کے فیصلے کو کوئی رد کرنے والا نہیں، پہلے سے اس کا فیصلہ ہے ﴿ فَرِيْقٌ فِي الْجَنَّةِ وَ فَرِيْقٌ فِي السَّعِيْرِ 007﴾…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
اثبات وحی الہی مع بیان عظمت رب کبریاو وعید بہ شرک ونافرمانی :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” حم عسق ....... الی ....... انہ بکل شیء علیم “۔
(ربط) ” گذشہ سورت کے مضامین کا حاصل مخالفین کے اعتراضات کا رد اور ان پر توبیخ وتنبیہ تھا، اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی رسالت اور وحی کی عظمت کو ثابت کیا جارہا ہے، اور اسی کے ضمن میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے، اور مجرمین ومنکرین پر توبیخ ووعید بھی ہے کہ یہ اپنے افعال قبیحہ کی سزا سے ہرگز نہیں بچ سکتے ارشاد ہے ،
(آیت ) ” حم عسق “۔ اللہ رب العزت ہی اس کی مراد خوب جاننے والا ہے، اصول دین اور احکام شریعت کی تعیین اور تحقیق کے لیے جیسے آپ ﷺ پر یہ سورت نازل کی جارہی…
Read the full tafseer →5:۔ ” والذین اتخذوا “ (الایات) ۔ یہ زجر مع تخویف ہے جن لوگوں نے اللہ کے سوا کئی اور کارساز بنا رکھے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے اعمال واحوال کا نگران ہے اور ان کے تمام اعمال اس کے احاطہ علم میں ہیں، اس لیے وہ انہیں ان کے اعمال کی پوری پوری سزا دے گا۔ لیکن آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں، کیونکہ آپ تو انذار و تبلیغ کیلئے بھیجے گئے ہیں اور آپ نے اپنا فریضہ ادا کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الشوریٰ ہے ۔ اس کی آیت 38 میں اہل ایمان کی باہمی مشاورت کا ذکر ہے اور اسی سے اس سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں ہجرت سے پہلے قریبی دور میں پچھلی سورة حم السجدۃ کے بعد نازل ہوئی ۔ اس سورة کی ترپن 53 آیا ت ہیں اور یہ پانچ رکوع پر مشتمل ہے۔ اس میں 883 الفاظ اور 3588 حروف ہیں۔
مضامین سورة
یہ سورة مبارکہ بھی حوامیم سبعہ میں شامل ہے۔ ان سورتوں کو قرآن کریم کا لب لباب کہا گیا ہے کیونکہ ان میں عام طور پر اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، قرآن کی صداقت اور معاد ہی کا ذکر ہے ، تا ہم بعض ضمنی مسائل بھی آگئے ہیں ۔ اگرچہ حوامیم میں مذکورہ…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِيَاۗءَ اللہُ حَفِيْــظٌ عَلَيْہِمْ 0 ۡ ۖ وَمَآ اَنْتَ عَلَيْہِمْ بِوَكِيْلٍ 6
أخذ ( افتعال، مفاعله)
والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
ترکیب : اللہ فاعل لیوحی ومابعدہ لغت والکاف فی موضع نصب بیوحی والذین مبتدا اللہ حفیظ الجملۃ خبر۔
تفسیر : یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی ہے یہ ابن عباس ؓ و ابن الزبیر و حسن و عکرمہ و جابر کا قول ہے۔ اس سورة کا نام سورة شوریٰ اور سورة حم عسق ہے حم عسق سے جو کچھ خدا پاک نے اپنے کلام میں مراد لیا ہے اس کو وہی خوب جانتا ہے۔ مکہ میں قریش کو اس بات سے بڑا تعجب تھا کہ قرآن مجید اللہ کی طرف سے محمد ﷺ پر وحی کیا جاتا ہے کیونکہ یہ بات ان کے نزدیک نئی تھی۔ ان کے اس تعجب کو چند حروف میں ایک سرِّنہانی کی طرف اشارہ کر کے دور کرتا ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں کہ کذالک یوحی الخ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے انبیاء پر یوں…
Read the full tafseer →وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَـآئَ اللّٰہُ حَفِیْظٌ عَلَیْھِمْ صلے ز وَمَـآ اَنْتَ عَلَیْھِمْ بِوَکِیْلٍ ۔ (الشوری : 6)
(اور جن لوگوں نے اس کے سوا دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں اللہ ہی ان پر نگران ہے، آپ ان پر ذمہ دار نہیں۔ )
مشرکین کو نہایت سخت تنبیہ
اس آیت کریمہ میں مشرکین کو نہایت سخت الفاظ میں تنبیہ کی گئی ہے اور آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ مشرکین سے فرمایا جارہا ہے کہ اگر اس قدر واضح دلائل کے باوجود بھی ان لوگوں نے اپنے سرپرست اور کارساز اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں یا اسے نظرانداز کرتے ہوئے کچھ دوسری قوتوں کو بنا رکھا ہے چاہے وہ اجرامِ فلکی میں سے ہوں یا زمین کے طواغیت میں سے،…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : بخشنہار اور مہربان ” اللہ “ کو چھوڑ کر لوگ دوسروں کو اپنا کارساز اور خیر خواہ بناتے ہیں۔ حالانکہ وہ سب پر نگران اور سب کا ذمہ دار ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے تمام گناہوں کو معاف کرنے والا اور ان کے جرائم سے درگزر کرنے والا ہے۔ چاہیے تو یہ کہ ہر انسان ایسے مہربان کو اپنا کارساز اور خیرخواہ مانے۔ مگر مشرک کی حالت یہ ہے کہ وہ ” اللہ “ بخشنہار اور مہربان کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا کارساز اور خیر خواہ سمجھتا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر کسی پر نگران اور اس کی نیّت و عمل سے آگاہ ہے۔ اے رسول ﷺ ! آپ اپنا کام کرتے جائیں اور یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسول بنایا…
Read the full tafseer →6: وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآ ئَ (اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو کارساز بنا رکھا ہے) اس کے شریک اور حصہ دار بنا رکھے ہیں۔ اللّٰہُ حَفِیْظٌ عَلَیْھِمْ (اللہ تعالیٰ ان کو دیکھ بھال رہا ہے) ان کے اموال و اعمال پر نگہبان ہے۔ ان میں سے کوئی چیز اس کے علم سے رہ جانے والی نہیں۔ پس وہ ان کو ان اعمال پر سزا دے گا۔ وَمَآ اَنْتَ (اور نہیں ہے آپ کو) اے محمد ﷺ ۔ عَلَیْھِمْ بِوَکِیْلٍ (ان پر اختیار) نہ ان پر نگران اور نہ ہی آپ کو ان کا معاملہ سونپا گیا آپ صرف ڈرانے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
5، تکادالسموات یتفطرن من فوقھن ، یعنی ہر آسمان اپنے سے نچلے آسمان کے اوپر پھٹ جائے۔ مشرکین کے قول کی وجہ سے۔ اس کی نظیر سورة مریم میں ہے۔ ، وقالوا اتخذالرحمن ولدالقد جئتم شیئا اداتکادالسموات یتفطرن منہ والملائکۃ یسبحون بحمد ربھم ویستغفرون لمن فی الارض، مؤمنین کے لیے۔ ، الا ان اللہ ھو الغفورالرحیم،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة الشورے مکیۃ
1۔ 6 حم عسق حروف مقطعات میں سے ہے سورة آل عمران کی تفسیر میں یہ گزر چکا ہے کہ حروف مقطعات آیات متشابہات کی قسم میں سے ہیں کیونکہ ان کے معنوں سے کوئی حرام و حلال کا حکم متعلق نہیں ہے اس لئے حضرت عبد اللہ بن عباس کے قول کے موافق اس طرح کی سب آیتیں متشابہات میں داخل ہیں۔ صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم کے حوالہ سے حضرت عائشہ کی حدیث سورة آل عمران کی تفسیر میں گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے متشابہ آیتوں کی تفسیر سے علماء امت کو منع فرمایا ہے اس واسطے صحابہ اور تابعین کا زمانہ اسی طریقہ پر گزرا ہے کہ وہ متشابہ آیتوں کی تفسیر کے درپے نہ ہوتے تھے بلکہ ان کی تفسیر کو اللہ تعالیٰ کے علم پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
آیت 1
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے یہ قرآن عظیم نبی کریم ﷺ کی طرف وحی کیا ہے جس طرح آپ سے پہلے انبیاء ومرسلین کی طرف وحی کی۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا ذکر ہے کہ اس نے گزشتہ زمانوں میں اور بعد میں آنے والے زمانوں میں کتابیں نازل کیں اور انبیاء و رسل مبعوث کئے، نیز یہ کہ محمد مصطفیٰ ﷺ کوئی انوکھے رسول نہیں، آپ کا طریقہ وہی ہے جوپ ہلے انبیاء ومرسلین کا طریقہ تھا۔ آپ کے احوال گزشتہ انبیاء کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں۔ جو دعوت آپ لے کر آئے ہیں وہ گزشتہ انبیاء کی دعوت سے مشابہت رکھتی ہے کیونکہ ان کی دعوت اور آپ کی دعوت سب حق اور سچے ہے اور یہ کتابیں اس ہستی کی طرف…
Read the full tafseer →8 مشرکین اور ان کے شرک کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جن لوگوں نے اللہ کے سوا اور سرپرست اور کارساز بنا رکھے ہیں وہ سب اللہ کی نگاہ میں ہیں۔ سو ایسے لوگ جو ان کو اپنا حاجت روا و مشکل کشا قرار دے کر ان کو پوجتے پکارتے، ان کے لئے عبادت و بندگی کے مراسم بجا لاتے، ان کے آگے دست بستہ کھڑے ہوتے، ان کے آگے جھکتے ان کے لئے رکوع و سجود کرتے، ان کی خوشنودی کے لئے ان کے طواف کرتے، چکر لگاتے، پھیرے مانتے، بکرے چھترے کاٹتے، دیگیں پکاتے، ان کے لئے ڈالیاں بھیجتے اور ان کے آستانوں پر چادریں چڑھاتے، پھول نچھاور کرتے اور ان کی مالا جپتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ سو ایسے مشرک لوگ بڑا ہی غضب ڈھاتے اور اپنی جانوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
اللہ کا غلبہ، قدرت، دانائی اور رحم و کرم سب سے زیادہ ہے
تشریح : پہلی اور دوسری آیات میں حروف مقطعات ہیں۔ اس کے بعد رب ذوالجلال کی صفات کا ذکر ہے۔ توحید پر ایمان لانا انسان کے لیے بہترین راستہ ہے۔ کیونکہ یہی مبارک راستہ انسان کو زندگی کی تمام قباحتوں سے بچاتا ہے۔ انسان کو ایسانظام حیات عطا کرتا ہے کہ جس کی وجہ سے عبادات، اخلاقیات، معاملات، حقوق اور تعزیرات کا ایک بہترین نقشہ انسان کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ یہ نظام حیات انسان کو ظلم زیادتی، کفر و شرک، بےحیائی بد نظمی اور تمام غم، خوف اور پریشانیوں سے محفوظ کردیتا ہے۔ اسی لیے قرآن کو بہت بڑی رحمت اور اسلام کو سلامتی کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس پیغام کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
آیات 1 تا 9۔
اسرار ومعارف۔
حروف مقطعات کے معنی علم الٰہی میں ہیں ، اسی طرح دلائل کے ساتھ حقائق بیان کرنے کے لیے اور حق کو ثابت کرنے کے لیے آپ سے پہلے انبیاء پر بھی وحی نازل کی گئی جس طرح آپ پر نازل ہوئی ہے کہ اللہ زبردست اور غالب اور بڑی حکمتوں والا ہے سب اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے جو کچھ زمین میں ہے اور سب پر اسی کی حکمرانی ہے وہی عظیم ہے ساری کائنات میں جس طرح اس کا حکم جاری ہے اور خود انسان کے تقدیری امور میں بھی اگر چاہتا تو سب سے حکما منوالیتا مگر اس کی حکمت کہ انسان کو اختیار دیا اور راہنمائی کے لیے انبیاء (علیہم السلام) اور وحی کا سلسلہ جاری فرمایا ورنہ اس کی عبادت وتسبیح کرنے کو…
Read the full tafseer →ف 9 ” اولیاء “ ( سرپرستوں) سے مراد وہ بت اور دیوتا ہیں جن کی مشرکین پوجا کرتے تھے۔
10 ” حفیظ “ کے معنی حفاظت کرنے والا اور اعمال کا حساب رکھنے والا دونوں ہیں یہاں چونکہ ان کے ساتھ علیھم ( ان پر) کا لفظ استعمال ہوا اس لئے اس کے دوسرے ہی معنی مراد لئے جاسکتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ان کے تمام اعمال حساب کی فرض سے محفوظ ہیں وہ عنقریب انہیں بدلہ دے گا۔11 کہ وہ اگر راہ راست پر نہ آئیں تو آپ ﷺ پر گرفت ہو۔ آپ ﷺ کے ذمہ صرف ہمارا پیغام پہنچا دینا ہے۔ اس سے مقصود آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ ان کافروں کے ایمان نہ لانے پر کبیدہ خاطر نہ ہو۔
Read the full tafseer →(42:6) والذین اتخذوا من دونہ اولیاء اللّٰۃ حفیظ علیہم۔ واؤ عاطفہ۔ الذین اسم موصول۔ مبتداء اتخذوا من دونہ اولیاء صلی اپنے موصول کا۔ اور جملہ اللّٰہ حفیظ علیہم خبر ہے۔ اور وہ لوگ کہ جنہوں نے اس کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں وہ اللہ کی نظر میں ہیں۔ دونہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کے سوا۔ اس کے درے۔
وکیل۔ صفت مشبہ کا صیغہ ۔ مجرور وکل (باب ضرب) مصدر۔ ذمہ دار۔ وکیل بمعنی کارساز۔ نگران ، گواہ بھی قرآن میں مستعمل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 9 : تکاد ( قریب ہے) یتفطرن (پھٹ پڑیں) ام القریٰ (مکہ مکرمہ (شہروں کی ماں) یوم الجمع (جمع ہونے کا دن ( قیامت کا دن) السعیر ( دھکتی آگ)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 9 : اس سورت کا آغاز ان حروف سے کیا گیا ہے جو الگ الگ کر کے پڑھے جاتے ہیں۔ ان کو حروف مقطعات کہا جاتا ہے ۔ اس سے پہلے اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ کو ہے۔ یہ آیات متشابہات میں سے ہیں ۔ ان کے معنی کا علم ممکن ہے نبی کریم ﷺ کو دیا گیا ہو مگر آپ نے ان کے معنی کسی کو نہیں بتائے۔ اگر امت کے لئے ضروری ہوتا تو نبی کریم ﷺ ان حروف کے معنی ضرور ارشاد فرماتے۔
دوسری بات یہ ہے کہ یہ…
Read the full tafseer →منکروں کا جواب۔
(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ جو لوگ اللہ کے سواغیروں کو پوجرتے ہیں اور اپنا پروردگار مالک سمجھتے ہیں تو ایسے لوگوں کے سب کام اللہ کی نظر میں ہیں وقت مقررہ پر وہ ان کے عملوں کی ان کو سزا دے گا، اور ایسے ہی لوگ اللہ تعالیٰ کے علم میں دوزخی قرار پاچکے ہیں اس لیے اے محبوب ﷺ ان کو راہ راست پر لانے کے تم ذمہ دار نہیں نہ تم سے ان کے افعال کامواخذہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
[2] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة انعام حاشیہ 31۔
[3] مراد ہے روز قیامت، اس لئے کہ لوگ اس دن حساب اعمال کے لئے جمع کئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →حضور کو ان مشرکین سے بڑی ہمدردی تھی ۔ آپ دل سے یہ چاہتے تھے کہ یہ لوگ ہدایت سے بہرہ مند ہوجائیں ۔ اور پھر جب آپ دیکھتے ۔ کہ یہ لوگ قرآن کو نہیں مانتے اور توحید کے اسراء کو نہیں سمجھتے ہیں ۔ تو آپ کو روحانی کوفت ہوتی ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ ہدایت کے اجارہ دار نہیں ۔ اگر یہ لوگ نہیں مانتے تو نہ مانیں ۔ آپ کوئی فکر نہ کریں ۔ اور بہرحال اپنے فراض تبلیغ میں مصروف رہیں ۔
Read the full tafseer →(6) اور جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو کارساز اور رفیق بنارکھا ہے اللہ تعالیٰ نے ان پر نگہبان ہے اور ان کو دیکھ رہا ہے اور آپ اے پیغمبر ان پر مختار کار نہیں ہیں اور آپ ان کوئی ذمہ نہیں ہے۔ یعنی جو ایسا کررہے ہیں ان کی دیکھ بھال ہم پر ہے اور ہم ہی ان کو وقت پر سزا دیں گے آپ سے ان کے جرائم کی کوئی باز پرس نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو کار ساز جانتے ہیں آپ ﷺ ان پر داروغہ نہیں ہیں
6 ؎ انسانوں میں سے کتنے ہی ایسے ہیں جنہوں نے اپنا رشتہ عبودیت اللہ سے توڑ کر غیروں کے ساتھ جوڑ رکھا ہے ، کیوں ؟ اس لیے کہ غیروں کے وجود کو وہ دیکھ سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات کو وہ دیکھ نہیں سکتے ان کو ماننا ہی نہیں آتا وہ غیر اللہ ہی کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا جانتے اور مانتے ہیں اور انہیں کے ناموں کی نذریں دیتے اور منتیں مانتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارے سفارشی ہیں۔ پہلے تو آخرت و اخرت کچھ ہے ہی نہیں لیکن آخرت اگر ہوئی بھی تو یہ ہمارے کام آئیں گے حالانکہ ان کے اس نظریہ کا کوئی جواز موجود نہیں تھا صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
يَتَفَطَّرْنَ (burst apart). It has been stated in the above hadith that the load of angels began producing such crackling sounds in the heavens as are produced when excessive load is placed on something. This tells us that angels have weight and this is not beyond reason, because it is confirmed that angels also have physical bodies, even though very light in weight. And even light bodies add up to a considerable load when they are in huge numbers. (Bayan-u1-Qur'an)
These angels in the heavens proclaim the perfection of their Lord and utter His praises. They also ask for forgiveness of the…
Read the full tafseer →6 The word auliya (sing. wall) as used in the Text is very comprehensive in meaning. The different beliefs and all sorts of diverse practices with regard to the false deities held and worshipped by the polytheistic people, have been described as "taking others as auliya' (guardians) instead of Allah" in the Qur'an. According to the Qur'an, a person takes such a one his wati: (1) whom he obeys in all matters, whose instructions he carries out and Whose ways and customs and rules he follows in all affairs of life (An-Nisa: 118-120; ALA'raf: 3, 27-30); (2) in whose guidance he has full faith,…
Read the full tafseer →