Ash-Shura 42:5

Ash-Shura · from ayah 5

42:5

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَالْمَلٰٓىِٕكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ ؕ— اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ۟تَـكَادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرۡنَ مِنۡ فَوۡقِهِنَّ‌ وَالۡمَلٰٓئِكَةُ يُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَيَسۡتَغۡفِرُوۡنَ لِمَنۡ فِى الۡاَرۡضِ‌ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ

قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیج کرتے رہتے ہیں اور جو لوگ زمین میں ہیں ان کے لئے معافی مانگتے رہتے ہیں۔ سن رکھو کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

The heavens almost break from above them, and the angels exalt [Allah] with praise of their Lord and ask forgiveness for those on earth. Unquestionably, it is Allah who is the Forgiving, the Merciful.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shura

All translations of 42:5

قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح کر رہے ہیں اور زمین والوں کے حق میں درگزر کی درخواستیں کیے جاتے ہیں آگاہ رہو، حقیقت میں اللہ غفور و رحیم ہی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیج کرتے رہتے ہیں اور جو لوگ زمین میں ہیں ان کے لئے معافی مانگتے رہتے ہیں۔ سن رکھو کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

قریب ہے آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں اور تمام فرشتے اپنے رب کی پاکی تعریف کے ساتھ بیان کر رہے ہیں اور زمین والوں کے لیے استغفار کر رہے ہیں۔ خوب سمجھ رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہی معاف فرمانے واﻻ رحمت واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ایسا لگتا ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں گے، اور فرشتے اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کر رہے ہیں، اور زمین والوں کے لیے استغفار کر رہے ہیں۔ یاد رکھو کہ اللہ ہی ہے جو بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

قریب ہوتا ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے شق ہوجائیں اور فرشتے اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بولتے اور زمین والوں کے لیے معافی مانگتے ہیں سن لو بیشک اللہ ہی بخشنے والا مہربان ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

قریب ہے آسمانی کرّے اپنے اوپر کی جانب سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور اُن لوگوں کے لئے جو زمین میں ہیں بخشش طلب کرتے رہتے ہیں۔ یاد رکھو! اللہ ہی بڑا بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

آسمان قریب ہیں کہ اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے بخشش کی دعا کرتے ہیں جو زمین میں ہیں، سن لو ! بیشک اللہ ہی بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(جو کچھ یہ مشرکین کہتے ہیں) قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں درآنحالیکہ فرشتے اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے اور زمین میں رہنے والوں کے لئے بخشش طلب کرتے رہتے ہیں۔ سن رکھو ! ! اللہ ہی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح اور زمین والوں کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں۔ آگاہ کہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا اللہ ہی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

قریب ہے کہ پھٹ پڑیں آسمان اپنے اوپر سے اور فرشتے تسبیح کرتے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور وہ بخشش مانگتے ہیں ان (ایماندار) لوگوں کے لئے جو کہ زمین میں (رہتے) ہیں آگاہ رہو کہ بلاشبہ اللہ بڑا ہی بخشنے والا انتہائی مہربان ہے

— مولانا اسحاق مدنی

کچھ بعید نہیں کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں۔ اور فرشتے اپنے پروردگار کی تسبیح وحمد کرتے رہتے ہیں اور اہل زمین کے لئے طلب مغفرت کرتے رہتے ہیں۔ یاد رکھو اللہ ہی بڑا مغفرت کرنے والا ہے بڑا رحیم ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے تسبیح کرتے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور زمین میں جو (اہل ایمان) ہیں ان کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ آگاہ ہو جائو ! یقینا اللہ ہی بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور جو لوگ زمین میں ہیں ان کے لیے معافی مانگتے رہتے ہیں سن لو کہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The heavens may well nigh rend asunder from above while the angels proclaim the praise of their Lord and ask forgiveness for those on earth. Lo, it is Allah, and He alone, Who is Most Forgiving, Most Merciful.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The heavens almost burst apart from their above side, and angels proclaim the purity and praise of their Lord, and pray for forgiveness of those on the earth. Be aware that Allah is the Most-Forgiving, the Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

The heavens almost burst apart from their above side, and angels proclaim the purity and praise of their Lord, and pray for forgiveness of those on the earth. Be aware that Allah is the Most-Forgiving, the Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Nearly the heavens might be rent asunder from above them, and the angels glorify the praises of their Lord, and ask for forgiveness for those on the earth. Lo, Verily, Allah is the Oft-Forgiving, the Most Merciful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Almost might the heavens above be rent asunder while the angels hymn the praise of their Lord and ask forgiveness for those on the earth. Lo! Allah, He is the Forgiver, the Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The heavens almost break from above them, and the angels exalt [Allah] with praise of their Lord and ask forgiveness for those on earth. Unquestionably, it is Allah who is the Forgiving, the Merciful.

— Saheeh International

(When the revelation passes through) the heavens, they almost break apart. At that time the angels glorify their Lord with His praise and seek forgiveness for those who live on earth. God is certainly All-forgiving and All-merciful.

— Muhammad Sarwar

The heavens may almost rend asunder from above them and the angels sing the praise of their Lord and ask forgiveness for those on earth; now surely Allah is the Forgiving, the Merciful.

— Muhammad Habib Shakir

Well-nigh the heavens might be rent in sunder from above them. And the angels hallow the praise of their lord and ask forgiveness for these on the earth. Lo! Verily Allah! He is the Forgiver, the Merciful!

— Abdul Majid Daryabadi

The heavens are almost rent asunder from above them (by Him Glory): and the angels celebrate the Praises of their Lord, and pray for forgiveness for (all) beings on earth: Behold! Verily Allah is He, the Oft-Forgiving, Most Merciful.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 42:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–6

حم عسق کی تفسیر : حروف مقطعات کی بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ابن جریر ؒ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے جو منکر ہے اس میں ہے کہ ایک شخص حضرت ابن عباس کے پاس آیا اس وقت آپ کے پاس حضرت حذیفہ بن یمان بھی تھے۔ اس نے ان حروف کی تفسیر آپ سے پوچھی آپ نے ذرا سی دیر سر نیچا کرلیا پھر منہ پھیرلیا اس شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ نے پھر بھی منہ پھیرلیا اور اس کے سوال کو برا جانا اس نے پھر تیسری مرتبہ پوچھا۔ آپ نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا اس پر حضرت حذیفہ نے کہا میں تجھے بتاتا ہوں اور مجھے یہ معلوم ہے کہ حضرت ابن عباس اسے کیوں ناپسند کر رہے ہیں۔ ان کے اہل بیت میں سے ایک شخص کے بارے میں یہ نازل…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّوْرٰی 3 یعنی یہ کوئی معمولی بات تو نہیں ہے کہ کسی مخلوق کا نسب خدا سے جا ملایا گیا اور اسے خدا کا بیٹا یا بیٹی قرار دے دیا گیا۔ کسی کو حاجت روا اور فریاد رس ٹھہرا لیا گیا اور اس سے دعائیں مانگی جانے لگیں، کسی بزرگ کو دنیا بھر کا کار ساز سمجھ لیا گیا اور علانیہ کہا جانے لگا کہ ہمارے حضرت ہر وقت ہر جگہ ہر شخص کی سنتے ہیں اور وہی ہر ایک کی مدد کو پہنچ کر اس کے کام بنایا کرتے ہیں کسی کو امر و نہی اور حلال و حرام کا مختار مان لیا گیا اور خدا کو چھوڑ کر لوگ اس کے احکام کی اطاعت اس طرح کرنے لگے کہ گویا وہ ان کا خدا ہے۔ خدا کے مقابلے میں یہ وہ جسارتیں ہیں جن پر اگر آسمان پھٹ پڑیں تو کچھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 5–6

معارف و مسائل يَتَفَطَّرْنَ۔ اس میں بحوال حدیث اوپر بیان ہوا ہے کہ فرشتوں کے بوجھ سے آسمان میں ایسی آواز پیدا ہوئی جیسی کسی چیز پر بڑا بھاری بوجھ رکھ دینے سے ہوا کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ فرشتوں میں ثقل والا بوجھ ہے۔ اور اس میں کوئی استبعاد نہیں۔ کیونکہ یہ بات تو مسلم ہے کہ فرشتے بھی اجسام ہیں اگرچہ اجسام لطیفہ ہوں۔ اور اجسام لطیفہ جب بہت بڑی تعداد میں ہوجائیں تو ان کا بوجھ پڑنا کوئی مستبعد نہیں۔ (بیان القرآن)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

تکاد السموت یتفطرن من فوقھن والملئکۃ یسبحون بحمد ربھم ویستغفرون لمن فی الارض ط الا ان اللہ ھو الغفور الرحیم (5) علی و عظیم کی وضاحت یہ خدائے علی و عظیم، کے علو اور اس کی عظمت کا بیان ہے کہ اس کی عظمت کے بوجھ سے آسمانوں کا یہ حال ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپور سے پھٹ پڑیں گے اور ملائکہ کا حال، بایں ہمہ قربت یہ ہے کہ اس کی خشیت کے سبب سے وہ ہر وقت اس کی تسبیح وتحمید میں لگے رہتے اور زمین والوں کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں۔ یعنی نادانوں نے تو فرشتوں کو خدائی میں شریک بنا رکھا ہے اور یہ توقع لئے بیٹھے ہیں کہ خدا کی بارگاہ میں ان کو وہ مقام حاصل ہے کہ وہ اپنے پجاریوں کو بڑے بڑے متر بےدلوائیں گے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 4–5

5۔ 1 اللہ کی عظمت و جلال کی وجہ سے۔ 5۔ 2 یہ مضمون سورة مومن کی (اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَــحِيْمِ) 40۔ غافر :7) میں بھی بیان ہوا ہے۔ 5۔ 3 اپنے دوستوں اور اہل اطاعت کے لئے یا تمام ہی بندوں کے لئے، کیونکہ کفار اور نافرمانوں کی فوراً گرفت نہ کرنا بلکہ انہیں ایک وقت معین تک مہلت دینا، یہ بھی اس کی رحمت و مغفرت ہی کی قسم سے ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 5–7

1: مطلب یہ ہے کہ آسمانوں میں اللہ تعالیٰ کے فرشتے اتنی بڑی تعداد میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف ہیں کہ ایسا لگتا ہے جیسے ان کے بوجھ سے آسمان پھٹ پڑیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–6

حروف ، مقطعات کے بارے میں کئی سورتوں کے آغاز میں بات ہوچکی ہے جسے یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ حروف بتاتے ہیں کہ سورت کا آغاز ہو رہا ہے ۔ ان حروف کے بعد پہلا فقرہ یہ ہے۔ کذلک یوحی ۔۔۔۔ العزیز الحکیم (42 : 3) ” اسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف وحی کرتا رہا ہے “۔ یعنی جس طرح تمہاری طرف وحی ہورہی ہے اسی طرح اور اسی انداز میں ہم نے پہلے رسولوں کی طرف بھی وحی بھیجی ہے۔ یہ وحی الفاظ ، کلمات اور حروف تہجی پر مشتمل رہی ہے۔ وحی کا کلام الٰہی حروف سے بنایا گیا ہے ۔ ان حروف سے لوگ اچھی طرح واقف ہیں۔ ان کلمات کے معانی وہ سمجھتے ہیں لیکن اس وحی کی طرح وہ کلام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 4–5

6 یعنی آسمان پھٹ پڑیں اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کے زور سے، یا بیشمار فرشتوں کے بوجھ سے، یا ان کے ذکر کی کثرت سے خاص تاثیر ہو اور پھٹ پڑے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آسمانوں میں چار انگشت جگہ نہیں جہاں کوئی فرشتہ سربسجود نہ ہو۔ اور بعض نے آیت کا مطلب یہ لیا ہے کہ جب مشرکین خدا تعالیٰ کے لیے شریک اور بیٹے بیٹیاں ٹھہراتے ہیں تو خداوند قدوس کی جناب میں یہ ایسی سخت گستاخی ہے جس سے کچھ بعید نہیں کہ آسمان کی اوپر والی سطح تک پھٹ کر ٹکڑے ہوجائے۔ کما قال تعالیٰ فی سورة مریم (تَكَاد السَّمٰوٰتُ يَــتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا 90 ۝ ۙ اَنْ دَعَوْا للرَّحْمٰنِ وَلَدًا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5 { تَکَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِہِنَّ } ”قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں“ آسمان فرشتوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے ہیں۔ اتنے بڑے اجتماع کی وجہ سے آسمان پھٹنے کے قریب ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ آسمانوں میں کوئی ایک بالشت برابر بھی جگہ خالی نہیں کہ جہاں کوئی فرشتہ سربسجود نہ ہو یا قیام میں مصروف نہ ہو۔ سورة المدثر آیت 31 میں فرشتوں کی کثرت تعداد سے متعلق ان الفاظ میں اشارہ فرمایا گیا ہے : { وَمَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ اِلَّا ہُوَط } کہ آپ کے رب کے لشکروں کے بارے میں سوائے خود اس کے اور کوئی نہیں جانتا۔ { وَالْمَلٰٓئِکَۃُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَیَسْتَغْفِرُوْنَ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

3 اگر کوئی اور الٰہ ہوتا تو آسمان پھٹ پڑتا اور نظام تباہ ہوجاتا : مشرکین مکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ اس طرح وہ اللہ کی دوہری توہین کے مرتکب ہوتے تھے ایک اولاد قرار دینا یا نسبی رشتہ قائم کرنا اور دوسرے اللہ کے لیے بیٹوں کے بجائے بیٹیاں تجویز کرنا۔ اور بیٹا مملوک نہیں بلکہ ہمسر ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کائنات کا خالق اگر ایک کی بجائے دو بھی ہوتے تو یہ نظام کائنات درہم برہم ہوجاتا پھر ان لوگوں نے تو اللہ کے کئی نسبی رشتہ دار بنا ڈالے تھے۔ ان کے کہنے کے مطابق تو آسمانوں کو کب کا پھٹ پڑنا چاہئے تھا۔ لیکن تدبیر امور کائنات پر مامور فرشتے ایسی باتوں سے اللہ کی ہر وقت پاکیزگی بیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

3۔ (ہیبت حق سے، یا کثرت ملائکہ کے ثقل سے) مفسرین نے یہ دونوں قول نقل کئے ہیں۔ :۔ اے یتشققن من عظمۃ اللہ تعالیٰ (روح۔ عن قتاد ہ) یتفطرن من الثقل (روح۔ عن ابن عباس ؓ پیرایۂ بیان دونوں صورتوں میں دنیا والوں کی سمجھ کے لائق اختیار کیا گیا ہے۔ (آیت) ” من فوقھن “۔ عربی اسلوب بلاغت کے مطابق یہ زور بیان اور تاکید معنی کے لئے لایا گیا، ورنہ عام قاعدہ کے لحاظ سے تو من تحتھن ہوتا۔ بولغ فی ذلک فجعلت موثرۃ فی جھۃ التی تحتھن (کشاف) 4۔ (اور نظام عالم انہیں معصوموں کی دعاء و استغفار سے تھما ہوا ہے) (آیت) ” لمن فی الارض “۔ کے عموم میں مومن و کافر دونوں داخل ہیں۔ مومنوں کے حق میں استغفار یہ کہ اللہ انکی لغزشوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–9

آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰم۔ عسق اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے اسی طرح یعنی اس وحی بھیجنے کے مانند اللہ تعالیٰ جو زبردست ہے اپنے ملک میں حکمت والا ہے، اپنی صنعت میں تیری طرف اور تجھ سے اگلوں کی طرف وحی بھیجتا رہا ہے، اللہ ایحاء کا فاعل ہے، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے ملکیت کے اعتبار سے، تخلیق کے اعتبار سے، اور مملوکیت کے اعتبار سے، اور وہ اپنی مخلوق پر برتر اور عظیم الشان ہے، قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں (تکاد) تاء اور یاء کے ساتھ ہے (یَنْفَطِرنَ ) نون کے ساتھ ہے، اور ایک قراءت میں (نون کے بجائے) تاء مع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

تکاد السموت یتفطرن من فوقھن کچھ بعید نہیں کہ آسمان اوپر سے (کہ ادھر ہی سے بوجھ پڑتا ہے) پھٹ پڑیں ‘ یعنی اللہ کی عظمت و بزرگی کی وجہ سے آسمان پھٹ پڑیں ‘ کچھ بعید نہیں ‘ یا یہ مطلب ہے کہ مشرکین جو اللہ کو صاحب اولاد قرار دیتے اور کہتے ہیں : اتخذوا اللہ ولدًا ان کے اس قول سے اگر آسمان پھٹ پڑیں تو بعید نہیں ‘ سورة مریم کی آیت لَقَدْ جِءْتُمْ شَیْءًا اِدًّا تَکَاد السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ اسی مطلب پر دلالت کر رہی ہے۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ کثرت ملائکہ سے اگر آسمان پھٹ جائیں تو بعید نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آسمان چرچرایا اور چرچرانا اس کیلئے بےجا بھی نہیں ہے ‘ قسم نے اس کی جس کے قبضہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

کچھ بعید نہیں کہ آسمان اللہ تعالیٰ کی ہیبت سے یا یہ کہ یہودیوں کی باتوں سے ایک دوسرے کے اوپر سے پھٹ پڑیں اور آسمانوں میں فرشتے اپنے رب کی تسبیح و تمہید کرتے رہتے ہیں اور جو زمین پر بااخلاص مومن ہیں ان کے لیے دعا مغفرت کرتے رہتے ہیں اچھی طرح سن لو کہ اللہ تعالیٰ تائب کی مغفرت فرمانے والا اور اس حالت پر مرنے والے پر رحمت کرنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) تکاد السموت یتفطرن من فوقھن :”وھو العلی العظیم“ کے بعد یہ فرمانے کا ایک مطلب یہ ہے کہ آسمان قریب ہیں کہ اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں، یعنی اللہ تعالیٰ کے علی و عظیم ہونے کی وجہ سے اس کے رعب اور لجال کا یہ عالم ہے کہ آسمان اس کی ہیبت و قوت بردشات نہ کرتے ہوئے پھٹ جائیں۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت وہیبت کا آسمانوں پر جو اثر ہے اس کا کچھ اندازہ اس حدیث سے ہوتا ہے جو ابو ذر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(انی اری ما لا ترون واسمع ما لا تسمعون اطب السمآء و حق لھا ان تئط ما فیھا موضع اربع اضابع الا وملک واضح جبھنہ ساجد اللہ، واللہ ! لو تعلمون ما اعلم لضحکتم قلیلاً ولیکیتم کثیراً وما تلدذتم بالنساء…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

والملئکۃ یسبحون بحمد ربھم وہ اللہ تعالیٰ کی ان چیزوں سے پاکی بیان کرتا ہے جو اس کے وصف میں جائز نہیں اور جو اس کے جلال کے لائق نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ مشرکین کی جراء توں سے متعجب ہوتے ہیں اور تعجب کے موقع پر تسبیح کا ذکر کیا جاتا ہے۔ حضرت علی ؓ سے مروری ہے کہ ان کی تسبیح ان چیزوں پر تعجب کا اظہار ہے جو وہ دیکھتے ہیں کہ مشرک اپنے کام کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہوتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ان کی تسبیح سے مراد اللہ تعالیٰ کی عظمت کے سامنے عاجزی کا اظہار ہے جس کو وہ دیکھتے ہیں۔ بحد ربھم کا معنی ہے ان کے رب کے امر سے ؛ یہ سدی ہے۔ ویستغفرون لمن فی الارض ضحاک نے کہا :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 5–6

1:۔ طبرانی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہم اس آیت کو یوں پڑھتے ہیں (آیت ) ” تکاد السموت یتفطرن من فوقھن “ (کچھ بعید نہیں کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں ) ۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) اور ابوالشیخ (رح) نے العظمہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” تکاد السموت یتفطرن من فوقھن “ سے مراد ہے (آیت ) ” من فوقھن “ اور خفیف نے اس کو تاء مشدد کے ساتھ پڑھا۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابوالشیخ (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” تکاد السموت یتفطرن من فوقھن “ (یعنی کچھ بعید نہیں کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں) سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کی وجہ سے پھٹ جائیں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ [ قریب ہیں آسمان کہ ] يَتَفَطَّرْنَ [ وہ پھٹ پڑیں ] مِنْ فَوْقِهِنَّ [ اپنے اوپر (اس کے رعب ) سے ] وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ يُسَبِّحُوْنَ [ اور فرشتے تسبیح کرتے ہیں ] بِحَمْدِ رَبِّهِمْ [ اپنے رب کی حمد کے ساتھ ] وَيَسْتَغْفِرُوْنَ [ اور وہ مغفرت مانگتے ہیں ] لِمَنْ فِي الْاَرْضِ ۭ [ ان کے لئے جو زمین میں ہیں ] اَلَآ اِنَّ اللّٰهَ [ سنو یقینا اللہ ] هُوَ الْغَفُوْرُ [ ہی بخشنے والا ہے ] الرَّحِيْمُ [ رحم کرنے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 4–5

اور ﴿مِنْ فَوْقِهِنَّ ﴾ جو فرمایا اس کا یہ مطلب ہے کہ آسمان پھٹنا شروع ہوں تو اوپر سے پھٹیں گے پہلے سب سے اوپر والا آسمان پھر اس سے نیچے والا پھر اس سے نیچے والا۔ ﴿وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ﴾ (اور فرشتے اپنے رب کی تسبیح میں مشغول رہتے ہیں یعنی جو چیزیں اللہ تعالیٰ کی شان عالی کے لائق نہیں ان سے اس کی تنزیہ اور پاکی بیان کرتے ہیں اور اس کی صفات عالیہ بیان کرتے ہیں جن سے وہ متصف ہے۔ تفسیر قرطبی میں حضرت علی ؓ سے نقل کیا گیا ہے کہ تسبیح کا مطلب یہ ہے کہ وہ تعجب سے سبحان اللہ کہتے ہیں کہ مشرکین کو کیا ہوگیا وحدہ لا شریک کے ساتھ غیروں کو شریک کرتے ہیں اور خالق جل مجدہ کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–12

اثبات وحی الہی مع بیان عظمت رب کبریاو وعید بہ شرک ونافرمانی : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” حم عسق ....... الی ....... انہ بکل شیء علیم “۔ (ربط) ” گذشہ سورت کے مضامین کا حاصل مخالفین کے اعتراضات کا رد اور ان پر توبیخ وتنبیہ تھا، اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی رسالت اور وحی کی عظمت کو ثابت کیا جارہا ہے، اور اسی کے ضمن میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے، اور مجرمین ومنکرین پر توبیخ ووعید بھی ہے کہ یہ اپنے افعال قبیحہ کی سزا سے ہرگز نہیں بچ سکتے ارشاد ہے ، (آیت ) ” حم عسق “۔ اللہ رب العزت ہی اس کی مراد خوب جاننے والا ہے، اصول دین اور احکام شریعت کی تعیین اور تحقیق کے لیے جیسے آپ ﷺ پر یہ سورت نازل کی جارہی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

4:۔ ” تکاد السموات۔ الایۃ “ اس میں اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اور ہیبت و جلال کا بیان ہے۔ قریب ہے کہ اللہ کے خوف اور اس کی ہیبت و خشیت سے آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں ای یتشققن من عظمۃ اللہ وجلالہ (قرطبی ج 16 ص 4) ۔ اس کی عظمت شان کا یہ عالم ہے کہ فرشتے بھی ہر قسم کے شرک سے اس کی تنزیہ و تقدیس میں مصروف ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر حمد و ثنا کا مستحق اللہ تعالیٰ ہے، اس لیے کہ ہر نعمت اسی کے قبضہ و اختیار میں ہے اور وہ سب کا پروردگار ہے۔ ” بحمد ربہم “ میں باء برائے تلبس ہے (روح) ۔ اللہ کے فرشتے ایک طرف تو اللہ کی تسبیح وتحمید کر رہے ہیں اور دوسری طرف ان لوگوں کے لیے استغفار بھی کرتے ہیں جنہوں نے شرک سے توبہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–6

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الشوریٰ ہے ۔ اس کی آیت 38 میں اہل ایمان کی باہمی مشاورت کا ذکر ہے اور اسی سے اس سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں ہجرت سے پہلے قریبی دور میں پچھلی سورة حم السجدۃ کے بعد نازل ہوئی ۔ اس سورة کی ترپن 53 آیا ت ہیں اور یہ پانچ رکوع پر مشتمل ہے۔ اس میں 883 الفاظ اور 3588 حروف ہیں۔ مضامین سورة یہ سورة مبارکہ بھی حوامیم سبعہ میں شامل ہے۔ ان سورتوں کو قرآن کریم کا لب لباب کہا گیا ہے کیونکہ ان میں عام طور پر اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، قرآن کی صداقت اور معاد ہی کا ذکر ہے ، تا ہم بعض ضمنی مسائل بھی آگئے ہیں ۔ اگرچہ حوامیم میں مذکورہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِہِنَّ وَالْمَلٰۗىِٕكَۃُ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِي الْاَرْضِ۝ 0 ۭ اَلَآ اِنَّ اللہَ ہُوَالْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ۝ 5 كَادَ ووُضِعَ «كَادَ» لمقاربة الفعل، يقال : كَادَ يفعل : إذا لم يكن قد فعل، وإذا کان معه حرف نفي يكون لما قد وقع، ويكون قریبا من أن لا يكون . نحو قوله تعالی: لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئاً قَلِيلًا[ الإسراء/ 74] ، وَإِنْ كادُوا[ الإسراء/ 73] ، تَكادُ السَّماواتُ [ مریم/ 90] ، يَكادُ الْبَرْقُ [ البقرة/ 20] ، يَكادُونَ يَسْطُونَ [ الحج/ 72] ، إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ [ الصافات/ 56] ولا فرق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 3–6

ترکیب : اللہ فاعل لیوحی ومابعدہ لغت والکاف فی موضع نصب بیوحی والذین مبتدا اللہ حفیظ الجملۃ خبر۔ تفسیر : یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی ہے یہ ابن عباس ؓ و ابن الزبیر و حسن و عکرمہ و جابر کا قول ہے۔ اس سورة کا نام سورة شوریٰ اور سورة حم عسق ہے حم عسق سے جو کچھ خدا پاک نے اپنے کلام میں مراد لیا ہے اس کو وہی خوب جانتا ہے۔ مکہ میں قریش کو اس بات سے بڑا تعجب تھا کہ قرآن مجید اللہ کی طرف سے محمد ﷺ پر وحی کیا جاتا ہے کیونکہ یہ بات ان کے نزدیک نئی تھی۔ ان کے اس تعجب کو چند حروف میں ایک سرِّنہانی کی طرف اشارہ کر کے دور کرتا ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں کہ کذالک یوحی الخ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے انبیاء پر یوں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

تَکَادُالسَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِھِنَّ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّھِمْ وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ ط اَ لَآ اِنَّ اللّٰہَ ھُوَالْغَفُوْرُالرَّحِیْمُ ۔ (الشوری : 5) (قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑے اور فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کررہے ہیں اور زمین والوں کے حق میں استغفار کرتے رہتے ہیں، آگاہ رہو کہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا اللہ ہی ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کے علومرتبت اور عظمت کی یاد دہانی وہ ذات بزرگ و برتر کہ کائنات کی ایک ایک مخلوق اس کی مملوک اور غلام ہے اور آسمانوں میں جابجا فرشتے اس کی عظمت اور ہیبت کے سامنے جھکے ہوئے اور لرزاں و…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ اس قدر بلند وبالا اور عظیم تر ہے کہ وہ چاہے تو منکرین قرآن پر آسمان گرا دے۔ وہ ایسا اس لیے نہیں کرتا کیونکہ وہ غفور الرّحیم ہے۔ منکرین حق قرآن مجید کا اس لیے انکار کرتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کی رسالت کو نہیں مانتے۔ نبی ﷺ کی رسالت اور قرآن مجید کا انکار کرنا درحقیقت اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنا ہے۔ اس لیے کہ نبی ﷺ نے دعویٰ نبوت اپنی طرف سے نہیں کیا تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے یہ اعلان کروایا اور آپ پر قرآن نازل فرمایا۔ اس لیے قرآن اور نبی ﷺ کا انکار کرنا ربِّ ذوالجلال کو (خاکم بدھن) جھوٹا کہنے کے مترادف ہے۔ یہ اتنا سنگین گناہ ہے کہ اللہ تعالیٰ درگزر نہ فرماتا تو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت اولاد قبیح ترین کلمہ ہے : 5: تَکَادُ السَّمٰوٰتُ (کچھ بعید نہیں کہ آسمان) قراءت : نافع اور علی نے یکاد پڑھا ہے۔ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِھِنَّ (اوپر سے پھٹ جائیں) قراءت : بصری اور ابوبکر نے ینفطرن پڑھا ہے۔ اس کا معنی یہ ہے قریب ہے کہ آسمان اللہ تعالیٰ کی عظمت و بلند شان کی وجہ سے پھٹ پڑیں۔ اور اس پر العلی العظیم کے بعد اسکا لے آنا دلالت کر رہا ہے۔ ایک قول : اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد کی نسبت کرنے کے قبیح ترین قول کی وجہ سے آسمان پھٹ جائیں جیسا دوسرے مقام پر فرمایا تکاد السموت یتفطرن منہ ] مریم : 90[ من فوقھن ؔ کا مطلب یہ ہے پھٹنے کی ابتداء آسمانوں کی بالائی جانب سے شروع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 5–6

5، تکادالسموات یتفطرن من فوقھن ، یعنی ہر آسمان اپنے سے نچلے آسمان کے اوپر پھٹ جائے۔ مشرکین کے قول کی وجہ سے۔ اس کی نظیر سورة مریم میں ہے۔ ، وقالوا اتخذالرحمن ولدالقد جئتم شیئا اداتکادالسموات یتفطرن منہ والملائکۃ یسبحون بحمد ربھم ویستغفرون لمن فی الارض، مؤمنین کے لیے۔ ، الا ان اللہ ھو الغفورالرحیم،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–6

سورة الشورے مکیۃ 1۔ 6 حم عسق حروف مقطعات میں سے ہے سورة آل عمران کی تفسیر میں یہ گزر چکا ہے کہ حروف مقطعات آیات متشابہات کی قسم میں سے ہیں کیونکہ ان کے معنوں سے کوئی حرام و حلال کا حکم متعلق نہیں ہے اس لئے حضرت عبد اللہ بن عباس کے قول کے موافق اس طرح کی سب آیتیں متشابہات میں داخل ہیں۔ صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم کے حوالہ سے حضرت عائشہ کی حدیث سورة آل عمران کی تفسیر میں گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے متشابہ آیتوں کی تفسیر سے علماء امت کو منع فرمایا ہے اس واسطے صحابہ اور تابعین کا زمانہ اسی طریقہ پر گزرا ہے کہ وہ متشابہ آیتوں کی تفسیر کے درپے نہ ہوتے تھے بلکہ ان کی تفسیر کو اللہ تعالیٰ کے علم پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–9

آیت 1 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے یہ قرآن عظیم نبی کریم ﷺ کی طرف وحی کیا ہے جس طرح آپ سے پہلے انبیاء ومرسلین کی طرف وحی کی۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا ذکر ہے کہ اس نے گزشتہ زمانوں میں اور بعد میں آنے والے زمانوں میں کتابیں نازل کیں اور انبیاء و رسل مبعوث کئے، نیز یہ کہ محمد مصطفیٰ ﷺ کوئی انوکھے رسول نہیں، آپ کا طریقہ وہی ہے جوپ ہلے انبیاء ومرسلین کا طریقہ تھا۔ آپ کے احوال گزشتہ انبیاء کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں۔ جو دعوت آپ لے کر آئے ہیں وہ گزشتہ انبیاء کی دعوت سے مشابہت رکھتی ہے کیونکہ ان کی دعوت اور آپ کی دعوت سب حق اور سچے ہے اور یہ کتابیں اس ہستی کی طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

5 خدائے علی و عظیم کی عظمت شان کی وضاحت : سو خدائے علیّ و عظیم کی عظمت شان کی وضاحت کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑے اپنے اوپر سے "۔ یعنی حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی عظمت شان اور جلالت قدر کی بناء پر۔ یا فرشتوں کی کثرت اور ان کے ثقل کی بناء پر۔ جیسا کہ سنن ترمذی و ابن ماجہ وغیرہ کی روایت میں ہے کہ آسمان چرچراتا ہے اور اس کا حق یہی ہے کہ وہ چرچرائے کہ اس میں چپے کے برابر بھی کوئی جگہ ایسی نہیں جس میں کوئی نہ کوئی فرشتہ قیام یا رکوع یا سجدہ کی حالت میں مصروف عبادت نہ ہو ۔ " اَطَّتِ السَّمَآئُ وَحَقٌّ لَّہَا اَنْ تَئَطَّ " ۔ یا آسمانوں کا یہ حال اس بنا پر ہے کہ لوگوں نے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–19

اللہ کا غلبہ، قدرت، دانائی اور رحم و کرم سب سے زیادہ ہے تشریح : پہلی اور دوسری آیات میں حروف مقطعات ہیں۔ اس کے بعد رب ذوالجلال کی صفات کا ذکر ہے۔ توحید پر ایمان لانا انسان کے لیے بہترین راستہ ہے۔ کیونکہ یہی مبارک راستہ انسان کو زندگی کی تمام قباحتوں سے بچاتا ہے۔ انسان کو ایسانظام حیات عطا کرتا ہے کہ جس کی وجہ سے عبادات، اخلاقیات، معاملات، حقوق اور تعزیرات کا ایک بہترین نقشہ انسان کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ یہ نظام حیات انسان کو ظلم زیادتی، کفر و شرک، بےحیائی بد نظمی اور تمام غم، خوف اور پریشانیوں سے محفوظ کردیتا ہے۔ اسی لیے قرآن کو بہت بڑی رحمت اور اسلام کو سلامتی کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس پیغام کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

آیات 1 تا 9۔ اسرار ومعارف۔ حروف مقطعات کے معنی علم الٰہی میں ہیں ، اسی طرح دلائل کے ساتھ حقائق بیان کرنے کے لیے اور حق کو ثابت کرنے کے لیے آپ سے پہلے انبیاء پر بھی وحی نازل کی گئی جس طرح آپ پر نازل ہوئی ہے کہ اللہ زبردست اور غالب اور بڑی حکمتوں والا ہے سب اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے جو کچھ زمین میں ہے اور سب پر اسی کی حکمرانی ہے وہی عظیم ہے ساری کائنات میں جس طرح اس کا حکم جاری ہے اور خود انسان کے تقدیری امور میں بھی اگر چاہتا تو سب سے حکما منوالیتا مگر اس کی حکمت کہ انسان کو اختیار دیا اور راہنمائی کے لیے انبیاء (علیہم السلام) اور وحی کا سلسلہ جاری فرمایا ورنہ اس کی عبادت وتسبیح کرنے کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–5

ف 7 یعنی اللہ تعالیٰ کی عظمت کے زور سے یا فرشتوں کے ذکر کی کثرت سے تاثیر ہو اور وہ پھٹ پڑیں۔ حضرت ( علیہ السلام) نے فرمایا : آسمانوں میں چار انگشت جگہ نہیں جہاں کوئی فرشتہ سر نہیں رکھ رہا سجدے میں “۔ ( موضح) 8 جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا :” ویستغفرون للذین امنوا “ کہ حاملین عرش اور جو فرشتے اس کے ارد گرد ہیں وہ مومنین کے لئے استغفار کرتے ہیں۔ ( مومن 7) بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ فرشتوں کے استغفار سے مراد یہ ہے کہ وہ ایسے اسباب پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن سے بندوں کی بخشش ہو اور ان سے عذاب ٹلے تاکہ کافر ایمان لائے اور فاسق توبہ کرے۔” استغفار “ کے یہ معنی لئے جائیں تو مومنوں کے ساتھ استغفار کی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(42:5) تکاد السموت یتفطرون من فوقھن : تکاد افعال مقارب میں سے ہے جن کا عمل افعال ناقصہ کی مانند ہے کود (باب فتح) مصدر سے مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب ہے۔ قریب ہے۔ یتفطرون مضارع جمع مؤنث غائب۔ تفطر (تفعیل) مصدر سے۔ پھٹ جائیں۔ ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں۔ الفطر (باب نصر و ضرب) کے اصل معنی کسی چیز کو طول میں (پہلی مرتبہ) پھاڑنے کے ہیں۔ مختلف ابواب میں مستعمل ہے۔ مثلا افطر ھو فطورا بمعنی روزہ افطار کرنا۔ فطور بمعنی خلل یا شگاف جیسے ہل تری من فطور (37:3) بھلا تجھ کو کوئی شگاف نظر آتا ہے۔ انفطار (انفعال) پھٹ جانا۔ قرآن مجید میں ہے السماء منفطر بہ (73:11) جس سے آسمان پھٹ جائے گا۔ فطرت العجین۔ آٹا گوندھ کر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–9

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 9 : تکاد ( قریب ہے) یتفطرن (پھٹ پڑیں) ام القریٰ (مکہ مکرمہ (شہروں کی ماں) یوم الجمع (جمع ہونے کا دن ( قیامت کا دن) السعیر ( دھکتی آگ) تشریح : آیت نمبر 1 تا 9 : اس سورت کا آغاز ان حروف سے کیا گیا ہے جو الگ الگ کر کے پڑھے جاتے ہیں۔ ان کو حروف مقطعات کہا جاتا ہے ۔ اس سے پہلے اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ کو ہے۔ یہ آیات متشابہات میں سے ہیں ۔ ان کے معنی کا علم ممکن ہے نبی کریم ﷺ کو دیا گیا ہو مگر آپ نے ان کے معنی کسی کو نہیں بتائے۔ اگر امت کے لئے ضروری ہوتا تو نبی کریم ﷺ ان حروف کے معنی ضرور ارشاد فرماتے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 4–5

(ف 2) آسمان باجود اپنی عظمت و رفعت خدا کی ہیبت و عظمت وقدت کے آگے ایسے حقیر ہیں کہ قریب ہوتا ہے کہ اوپر سے نیچے تک پاش پاش ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں بعض نے آیت کا مطلب یہ لیا ہے کہ جب مشرکین اللہ تعالیٰ کے لیے شریک ٹھہراتے ہیں تو خداوندقدوس کی جناب میں یہ ایسی گستاخی ہے جسے کچھ بعید نہیں کہ آسمان کی اوپر والی سطح تک پھٹ کر ٹکڑے ہوجائے۔ فرشتوں کی صفات۔ (ف 3) فرشتے آسمانوں میں اپنے رب کے لیے عاجزی کرتے ہیں تسبیح کرتے ہیں نماز پڑھتے ہیں تعریف کرتے ہیں اور زمین میں جو مخلصین مومنین ہیں ان کے لیے اللہ سے مغفرت مانگتے ہیں بیشک اللہ توبہ والوں کو بخشنے والا، اور جو توبہ پر مرے اس پر ضرور رحم کرنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–5

[1] اہل زمین میں مومن اور کافر دونوں داخل ہیں۔ مومنوں کے لئے استغفار یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کی لغزشوں اور خطاؤں کو نظرانداز کرے اور کافروں کے لئے استغفار یہ کہ اللہ ان کے دل میں توفیق ایمان ڈال دے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

خدا کا جلال وجبروت 2: آیت کے دو معنے ہی ۔ ایک تو یہ کہ جہاں تک اللہ تعالیٰ کے جلال وجبروت کا تعلق ہے آسمان اس کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے ۔ اگر اس کی زبردست قدرت اس کو نہ مقام رکھے ۔ تو اس ہیبت اور رعت کا تقاضا یہ ہے ۔ کہ یہ سارا نظام علوے زمین پر آرہے ۔ دوسرے یہ کہ مشرکین مکہ مشرک کا ارتکاب کرکے خدا کی جناب میں سخت گستاخی کا اظہار کرتے ہیں ۔ اور یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ قریب ہے کہ اجرام سماوی اس کو برداشت نہ کریں ۔ اور ان پر گرپڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور کرم ہے ۔ کہ اس نے ہر شخص کو اس کے اعمال میں آزادی دے رکھے ہے ۔ اور وہ مجبور نہیں کرتا کہ ہر شخص اس کے آستانے جلال وقدس پر ہی جھکے ۔ البتہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(5) قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر کی جانب سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کرتے ہیں اور ان لوگوں کے لئے جو زمین میں ہیں بخشش طلب کرتے ہیں خوب سن لو اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ ہی گناہوں کا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں آسمان پھٹ پڑیں رب کی عظمت کے زور سے یا فرشتوں کی کثرت ذکر کی تاثیر ہو اور پھٹ پڑیں حضرت نے فرمایا آسمان میں چار انگشت جگہ نہیں جہاں کوئی فرشتہ سر نہیں رکھ رہا سجدے میں۔ خلاصہ : یہ ہے کہ آسمان کا پھٹ پڑنا یا تو عظمت الٰہی کی وجہ سے یا کثرت ملائکہ کے ذکر کی تاثیر سے جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ آسمان چڑ چڑ بولتا ہے اور اس کو…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں اگر وہ اس کے حکم کے پابند نہ ہوں 5 ؎ انسان خواہ اس دھرتی کے کسی حصہ میں بھی رہتے ہیں اور کون سی زبان بولتے ہوں جذبات بہرحال یکساں رکھتے ہیں۔ آب و ہوا اور ماحول کا اثر بلاشبہ ہوتا ہے لیکن اس قدر نہیں کہ اس سے جذبات و احساسات میں فرق پڑجائے۔ مشرکوں کے شرک کے باعث کہا جا رہا ہے کہ شرک اتنی بڑی برائی ہے کہ قریب ہے کہ اس سے آسمان پھٹ پڑیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عزت و شرف بخشا ہے اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ ربِّ کریم کی اطاعت سے سرمو بھی فرق نہ کرتا اور اس کی خوشنودی کے لیے اس کا سب کچھ وقف ہوتا اور اس کی ساری کوششیں توحید الٰہی کی نغمہ سرائی میں ہوتیں لیکن اس نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–6

يَتَفَطَّرْ‌نَ (burst apart). It has been stated in the above hadith that the load of angels began producing such crackling sounds in the heavens as are produced when excessive load is placed on something. This tells us that angels have weight and this is not beyond reason, because it is confirmed that angels also have physical bodies, even though very light in weight. And even light bodies add up to a considerable load when they are in huge numbers. (Bayan-u1-Qur'an) These angels in the heavens proclaim the perfection of their Lord and utter His praises. They also ask for forgiveness of the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

3 That is, "It is not a trivial matter that a creature should be joined in lineage with Allah and regarded as His son or daughter; another regarded as fulfiller of the needs and the answerer of the petitions so that the people should start invoking him for help; another taken as the maintainer of the entire world, and his devotees should start proclaiming that their holy saint heard the prayer of everyone at all places at all times and Games to his help and answers his petition; another invested with the authority to egjoin and prohibit things and declare them as lawful and unlawful, and the…

Read the full tafseer →