Ash-Shura 42:4

Ash-Shura · from ayah 4

42:4

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ؕ— وَهُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ ۟لَهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِ‌ؕ وَهُوَ الۡعَلِىُّ الۡعَظِيۡمُ

جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اور وہ عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

To Him belongs whatever is in the heavens and whatever is in the earth, and He is the Most High, the Most Great.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shura

All translations of 42:4

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے اُسی کا ہے، وہ برتر اور عظیم ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اور وہ عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

آسمانوں کی (تمام) چیزیں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے وه برتر اور عظیم الشان ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب اسی کا ہے، اور وہی ہے جو برتری اور عظمت کا مالک ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اسی کا ہے جو کچھ آسمان میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور وہی بلندی و عظمت والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے، اور وہ بلند مرتبت، بڑا باعظمت ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور وہی بےحد بلند، بڑی عظمت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے اور وہ عالی شان اور عظمت والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے اور وہ بڑی ہی بلند اور عظیم ہستی ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اسی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں میں ہے اور وہ سب کچھ بھی جو کہ زمین میں ہے اور وہی ہے بلند مرتبہ بڑی ہی عظمتوں والا

— مولانا اسحاق مدنی

اسی (اللہ) کا ہے جو کچھ بھی آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اور وہی برتر ہے عظیم الشان ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور وہ بہت بلند وبالا بہت عظمت والا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے وہ بلند مرتبہ رکھنے والا اور سب سے بڑا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

His is all that is in the heavens and all that is in the earth; He is the Most High, the All-Great.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

To him belongs all that is in the heavens and all that is in the earth, and He is the High, the Supreme.

— Muhammad Taqi Usmani

To him belongs all that is in the heavens and all that is in the earth, and He is the High, the Supreme.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

To Him belongs all that is in the heavens and all that is on the earth, and He is the Most High, the Most Great.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Unto Him belongeth all that is in the heavens and all that is in the earth, and He is the Sublime, the Tremendous.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

To Him belongs whatever is in the heavens and whatever is in the earth, and He is the Most High, the Most Great.

— Saheeh International

To Him belongs all that is in the heavens and the earth. He is the Most High and the Most Great.

— Muhammad Sarwar

His is what is in the heavens and what is in the earth, and He is the High, the Great.

— Muhammad Habib Shakir

His is whatsoever is in the heavens and whatsoever is in the earth, and He is the Exalted, the Grand.

— Abdul Majid Daryabadi

To Him belongs all that is in the heavens and on earth: and He is Most High, Most Great.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 42:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–6

حم عسق کی تفسیر : حروف مقطعات کی بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ابن جریر ؒ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے جو منکر ہے اس میں ہے کہ ایک شخص حضرت ابن عباس کے پاس آیا اس وقت آپ کے پاس حضرت حذیفہ بن یمان بھی تھے۔ اس نے ان حروف کی تفسیر آپ سے پوچھی آپ نے ذرا سی دیر سر نیچا کرلیا پھر منہ پھیرلیا اس شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ نے پھر بھی منہ پھیرلیا اور اس کے سوال کو برا جانا اس نے پھر تیسری مرتبہ پوچھا۔ آپ نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا اس پر حضرت حذیفہ نے کہا میں تجھے بتاتا ہوں اور مجھے یہ معلوم ہے کہ حضرت ابن عباس اسے کیوں ناپسند کر رہے ہیں۔ ان کے اہل بیت میں سے ایک شخص کے بارے میں یہ نازل…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّوْرٰی 2 یہ تمہیدی فقرے محض اللہ تعالیٰ کی تعریف میں ارشاد نہیں ہو رہے ہیں، بلکہ ان کا ہر لفظ اس پس منظر سے گہرا ربط رکھتا ہے جس میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں۔ نبی ﷺ اور قرآن کے خلاف جو لوگ چہ میگوئیاں کر رہے تھے، ان کے اعتراضات کی اولین بنیاد یہ کہ حضور ﷺ ان کو توحید کی دعوت دے رہے تھے اور وہ اس پر کان کھڑے کر کر کے کہتے تھے کہ اگر اکیلا ایک اللہ ہی معبود، حاجت روا اور شارع ہے تو پھر ہمارے بزرگ کیا ہوئے ؟ اس پر فرمایا گیا ہے کہ یہ پوری کائنات اللہ تعالیٰ کی ملک ہے۔ مالک کے ساتھ اس کی ملکیت میں کسی اور کی خداوندی آخر کس طرح چل سکتی ہے ؟ خصوصاً جبکہ وہ دوسرے جن کی خداوندی مانی جاتی ہے، یا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–4

خلاصہ تفسیر حم عسق۔ (اس کے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں، جس طرح اصول دینیہ کی تحقیق اور فوائد عظیمہ کے لئے یہ سورت آپ پر نازل ہو رہی ہے) اسی طرح آپ پر اور جو (پیغمبر) آپ سے پہلے ہوچکے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ جو زبردست حکمت والا ہے (دوسری سورتوں اور کتابوں کی) وحی بھیجتا رہا ہے (اور اس کی یہ شان ہے کہ) اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور وہی سب سے برتر اور عظیم الشان ہے (اس کی عظمت شان کو اگر کچھ زمین والے نہ پہچانیں اور نہ مانیں مگر آسمانوں میں اس کی معرفت رکھنے والے اور عظمت کو پہچاننے والے فرشتے اس کثرت سے ہیں کہ) کچھ بعید نہیں کہ آسمان (ان کے بوجھ کی وجہ سے) اپنے اوپر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لہ ما فی السموت وما فی الارض ط وھو العلی العظیم (4) صفت، عزیز، ی کی وضاحت یہ اللہ تعالیٰ کی صفت عزیز کی وضاحت ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کی ملکیت اور اسی کے قبضہ قدرت میں ہے نہ کسی چیز میں کسی کا ساجھا ہے اور نہ کوئی چیز اس کے حیطہ اقتدار و اختیار سے باہر ہے۔ وہ بڑی ہی بلند اور بڑی ہی عظیم ہستی ہے، کسی کا بھی یہ درجہ نہیں کہ اس کا کفو اور ہمسر ہو سکے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ لوگوں کو مہلت دے رہا ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ لوگ اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہوگئے اور اگر اس نے کسی کو عزت و شوکت بخشی ہے تو اس کو اتنا مغرور نہیں ہونا چاہئے کہ ہو خد کو دیکھنے اور اس سے ہم کلام ہونے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 4–5

5۔ 1 اللہ کی عظمت و جلال کی وجہ سے۔ 5۔ 2 یہ مضمون سورة مومن کی (اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَــحِيْمِ) 40۔ غافر :7) میں بھی بیان ہوا ہے۔ 5۔ 3 اپنے دوستوں اور اہل اطاعت کے لئے یا تمام ہی بندوں کے لئے، کیونکہ کفار اور نافرمانوں کی فوراً گرفت نہ کرنا بلکہ انہیں ایک وقت معین تک مہلت دینا، یہ بھی اس کی رحمت و مغفرت ہی کی قسم سے ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–6

حروف ، مقطعات کے بارے میں کئی سورتوں کے آغاز میں بات ہوچکی ہے جسے یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ حروف بتاتے ہیں کہ سورت کا آغاز ہو رہا ہے ۔ ان حروف کے بعد پہلا فقرہ یہ ہے۔ کذلک یوحی ۔۔۔۔ العزیز الحکیم (42 : 3) ” اسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف وحی کرتا رہا ہے “۔ یعنی جس طرح تمہاری طرف وحی ہورہی ہے اسی طرح اور اسی انداز میں ہم نے پہلے رسولوں کی طرف بھی وحی بھیجی ہے۔ یہ وحی الفاظ ، کلمات اور حروف تہجی پر مشتمل رہی ہے۔ وحی کا کلام الٰہی حروف سے بنایا گیا ہے ۔ ان حروف سے لوگ اچھی طرح واقف ہیں۔ ان کلمات کے معانی وہ سمجھتے ہیں لیکن اس وحی کی طرح وہ کلام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 4–5

6 یعنی آسمان پھٹ پڑیں اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کے زور سے، یا بیشمار فرشتوں کے بوجھ سے، یا ان کے ذکر کی کثرت سے خاص تاثیر ہو اور پھٹ پڑے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آسمانوں میں چار انگشت جگہ نہیں جہاں کوئی فرشتہ سربسجود نہ ہو۔ اور بعض نے آیت کا مطلب یہ لیا ہے کہ جب مشرکین خدا تعالیٰ کے لیے شریک اور بیٹے بیٹیاں ٹھہراتے ہیں تو خداوند قدوس کی جناب میں یہ ایسی سخت گستاخی ہے جس سے کچھ بعید نہیں کہ آسمان کی اوپر والی سطح تک پھٹ کر ٹکڑے ہوجائے۔ کما قال تعالیٰ فی سورة مریم (تَكَاد السَّمٰوٰتُ يَــتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا 90 ۝ ۙ اَنْ دَعَوْا للرَّحْمٰنِ وَلَدًا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 4 { لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَہُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ } ”اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور وہ بہت بلند وبالا ‘ بہت عظمت والا ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 مملوک الٰہ نہیں ہوسکتا :۔ اس آیت میں بتوں یا ماسوا اللہ کی خدائی کا عقلی دلیل سے رد پیش کیا گیا ہے کہ خالق ارض و سماء تو اللہ کی ذات ہے۔ وہ ان سب چیزوں کا مالک اور وہ چیزیں اس کی مخلوق اور اس کی ملکیت ہیں اور وہ اس تمام کائنات سے بلند تر اور بزرگ تر ہے۔ پھر بھلا اس کی مخلوق کو، اس کی مملوکہ چیز کو اس کے مقابلہ میں حقیر ترین مخلوق کو اس کا شریک کیسے بنایا جاسکتا ہے۔ اور اس کے اختیارات و تصرفات میں ان چیزوں کو کیسے حصہ دار سمجھا جاسکتا ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

2۔ تو اس کا اور کسی مخلوق کا مقابلہ ہی کیا ؟ ..... برتری اور عظمت صرف اسی کا حق ہے۔ دنیا جہان کی بڑی بڑی اونچی، ہستیاں اس کے آگے بساط ہی کیا رکھتی ہیں۔ آیت سے مقصود حق تعالیٰ کی ملکیت کاملہ اور اس کی عظمت کا اثبات ہے اور اس سے مشرکین جاہلین کے عقائد کا ابطال بالکل ظاہر ہے۔ (آیت) ” السموت “۔ امام رازی (رح) نے اس آیت کے تحت میں پھر ایک بار یاد دلادیا ہے کہ انسان سے اوپر کی طرف جو کچھ بھی واقع ہے سب پر اطلاق سماء ہی کا ہوتا ہے۔ کلماسماک فھم سماء (کبیر) (آیت) ” العلی “۔ حق تعالیٰ کی بلندی جہت ومکان کے لحاظ سے تو مراد ہو ہی نہیں سکتی، لامحالہ مراد یہ ہے کہ وہ ذات پاک ممکنات و مخلوقات کی مشابہت سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–9

آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰم۔ عسق اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے اسی طرح یعنی اس وحی بھیجنے کے مانند اللہ تعالیٰ جو زبردست ہے اپنے ملک میں حکمت والا ہے، اپنی صنعت میں تیری طرف اور تجھ سے اگلوں کی طرف وحی بھیجتا رہا ہے، اللہ ایحاء کا فاعل ہے، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے ملکیت کے اعتبار سے، تخلیق کے اعتبار سے، اور مملوکیت کے اعتبار سے، اور وہ اپنی مخلوق پر برتر اور عظیم الشان ہے، قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں (تکاد) تاء اور یاء کے ساتھ ہے (یَنْفَطِرنَ ) نون کے ساتھ ہے، اور ایک قراءت میں (نون کے بجائے) تاء مع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لہ ما فی السموت وما فی الارض وھو العلی العظیم اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور وہی سب سے بالا اور عظیم الشان ہے۔ الْعَلِیُّ یعنی مخلوق سے بالا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 3–4

(3۔ 4) اب فرماتے ہیں جیسا کہ اس سورت کو آپ پر وحی کے ذریعے بھیجا ہے اسی طرح ان رسولوں پر جو کہ آپ سے پہلے ہوئے وحی بھیجتا رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ جو کہ کافر کو سزا دینے میں زبردست اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے اس نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ اور کسی کی عبادت نہ کی جائے یا یہ کہ اپنی بادشاہت اور سلطنت میں زبردست اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے جتنی بھی مخلوقات ہیں سب اسی کے بندے ہیں وہ ہی سب سے بڑا اور بلند ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) لہ ما فی السموت وما فی الارض : یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اگر محمد (ﷺ) پر یہ کتاب پہلے پیغمبروں کی طرح نازل ہوئی ہے تو ہوتی رہے، ہم پر کیوں لازم ہے کہ ہم اس کے احکام کی پابندی کریں اور اپنی مرضی پر عمل نہ کریں ؟ فرمایا : اس لئے کہ آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے، خود تم بھی اس کی ملکیت ہو۔ بھلا وہ مالک برداشت کرسکتا ہے کہ اس کی ملکیت میں کسی اور کی خدائی چلے اور اس کا مملوک ہو کر کوئی اپنی مرضی کرتا پھرے اور اس کے بھیجے ہوئے احکام پر عمل نہ کرے۔ مزید دیکھیے آیت الکرسی یعنی سورة بقرہ کی آیت (255) میں اس جملے کی تفسیر۔ (2) وھو العلی العظیم : بےحد بلندی اور بےانتہا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–4

حم، عسق، عبدالمئو من نے کہا : میں نے حسین بن فضل سے پوچھا حم کو عسق کو سے کیوں الگ کیا گیا ہے جبکہ کھیعص، المر اور المص کو الگ الگ نہیں کیا گیا۔ فرمایا : کیونکہ حم عسق سورتوں کے درمیان ہے جن میں سے پہلی حم ہے تو یہ ما قبل اور بعد کے نظائر پر جاری ہوئی گویا حم مبتدا ہے اور عسق خبر ہے اور اس کی اخوات جن کو اکٹھے لکھا گیا ہے وہ ایک آیات ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حروف معجمہ سب کے سب ایک معنی میں ہیں وجہ اس کی منصل لکھا گیا ہے کیونکہ کلام یہ کی گئی ہے حم سے مراد ہے مم ماھو کائن۔ جو ہو کر رہنے والا ہے اس کا قصد کرلیا گیا ہے انہوں نے فرق کیا ہے جس میں فعل مقدر ہوتا ہے یا فعل مقدر نہیں ہوتا پھر اگر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–4

1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” حم ٓ (1) عسق (2) “ مکہ میں نازل ہوئی۔ 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن الزبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” حم ٓ (1) عسق (2) “ مکہ میں نازل ہوئی۔ 3:۔ عبدالرزاق نے المصنف میں جعفر بن محمد ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک رات حضرت میمونہ ؓ کے گھر میں (آیت ) ” حم ٓ (1) عسق (2) “ پڑھی اور اس کو باربار پڑھا، اور فرمایا اے میمونہ ! کیا تیرے پاس (آیت ) ” حم ٓ (1) عسق (2) “ ہے (یعنی تجھے یاد ہے) عرض کیا جی ہاں ! فرمایا اس کو پڑھو میں اس کے اول وآخر کے درمیان سے بھول گیا ہوں۔ 4:۔ طبرانی (رح) نے (صحیح سند کے ساتھ) حضرت میمونہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لَهٗ [ اس کا ہی ہے ] مَا فِي السَّمٰوٰتِ [ وہ جو آسمانوں میں ہے ] وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ [ اور جو زمین میں ہے ] وَهُوَ الْعَلِيُّ [ اور وہ بالا تر ہے ] الْعَظِيْمُ [عظمت والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 4–5

اور ﴿مِنْ فَوْقِهِنَّ ﴾ جو فرمایا اس کا یہ مطلب ہے کہ آسمان پھٹنا شروع ہوں تو اوپر سے پھٹیں گے پہلے سب سے اوپر والا آسمان پھر اس سے نیچے والا پھر اس سے نیچے والا۔ ﴿وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ﴾ (اور فرشتے اپنے رب کی تسبیح میں مشغول رہتے ہیں یعنی جو چیزیں اللہ تعالیٰ کی شان عالی کے لائق نہیں ان سے اس کی تنزیہ اور پاکی بیان کرتے ہیں اور اس کی صفات عالیہ بیان کرتے ہیں جن سے وہ متصف ہے۔ تفسیر قرطبی میں حضرت علی ؓ سے نقل کیا گیا ہے کہ تسبیح کا مطلب یہ ہے کہ وہ تعجب سے سبحان اللہ کہتے ہیں کہ مشرکین کو کیا ہوگیا وحدہ لا شریک کے ساتھ غیروں کو شریک کرتے ہیں اور خالق جل مجدہ کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–12

اثبات وحی الہی مع بیان عظمت رب کبریاو وعید بہ شرک ونافرمانی : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” حم عسق ....... الی ....... انہ بکل شیء علیم “۔ (ربط) ” گذشہ سورت کے مضامین کا حاصل مخالفین کے اعتراضات کا رد اور ان پر توبیخ وتنبیہ تھا، اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی رسالت اور وحی کی عظمت کو ثابت کیا جارہا ہے، اور اسی کے ضمن میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے، اور مجرمین ومنکرین پر توبیخ ووعید بھی ہے کہ یہ اپنے افعال قبیحہ کی سزا سے ہرگز نہیں بچ سکتے ارشاد ہے ، (آیت ) ” حم عسق “۔ اللہ رب العزت ہی اس کی مراد خوب جاننے والا ہے، اصول دین اور احکام شریعت کی تعیین اور تحقیق کے لیے جیسے آپ ﷺ پر یہ سورت نازل کی جارہی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

3:۔ ” لہ ما فی السموات “ اس سے پہلے قولوا مقدر ہے یعنی انبیاء (علیہم السلام) کی طرح وحی میں انہیں حکم دیا گیا کہ کہو، زمین و آسمان جو کچھ ہے، سب اللہ کا ہے اور ساری کائنات میں وہی مترف و مختار ہے۔ ” وھو العلی العظیم “ وہ نہایت بلند اور بڑی شان والا ہے، کوئی اس پر جبر نہیں کرسکتا اور کوئی اس سے اپنی مرضی کے مطابق کام نہیں کرا سکتا۔ قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ ۔ یا یہ استیناف ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت و حکمت کی تقریر و تبیین کیلئے۔ استیناف مقرر لعزتہ تعالیٰ و حکمتہ عزو جل (روح ج 25 ص 11) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–6

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الشوریٰ ہے ۔ اس کی آیت 38 میں اہل ایمان کی باہمی مشاورت کا ذکر ہے اور اسی سے اس سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں ہجرت سے پہلے قریبی دور میں پچھلی سورة حم السجدۃ کے بعد نازل ہوئی ۔ اس سورة کی ترپن 53 آیا ت ہیں اور یہ پانچ رکوع پر مشتمل ہے۔ اس میں 883 الفاظ اور 3588 حروف ہیں۔ مضامین سورة یہ سورة مبارکہ بھی حوامیم سبعہ میں شامل ہے۔ ان سورتوں کو قرآن کریم کا لب لباب کہا گیا ہے کیونکہ ان میں عام طور پر اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، قرآن کی صداقت اور معاد ہی کا ذکر ہے ، تا ہم بعض ضمنی مسائل بھی آگئے ہیں ۔ اگرچہ حوامیم میں مذکورہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَہٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ۝ 0 ۭ وَہُوَالْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ۝ 4 ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 3–6

ترکیب : اللہ فاعل لیوحی ومابعدہ لغت والکاف فی موضع نصب بیوحی والذین مبتدا اللہ حفیظ الجملۃ خبر۔ تفسیر : یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی ہے یہ ابن عباس ؓ و ابن الزبیر و حسن و عکرمہ و جابر کا قول ہے۔ اس سورة کا نام سورة شوریٰ اور سورة حم عسق ہے حم عسق سے جو کچھ خدا پاک نے اپنے کلام میں مراد لیا ہے اس کو وہی خوب جانتا ہے۔ مکہ میں قریش کو اس بات سے بڑا تعجب تھا کہ قرآن مجید اللہ کی طرف سے محمد ﷺ پر وحی کیا جاتا ہے کیونکہ یہ بات ان کے نزدیک نئی تھی۔ ان کے اس تعجب کو چند حروف میں ایک سرِّنہانی کی طرف اشارہ کر کے دور کرتا ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں کہ کذالک یوحی الخ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے انبیاء پر یوں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَـہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط وَھُوَالْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ ۔ (الشوری : 4) (اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے، وہ برتر اور عظیم ہے۔ ) گزشتہ آیت میں مذکور صفت عزیز کی وضاحت گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک ” عزیز “ کو ذکر فرمایا گیا تھا، یہ آیت کریمہ اس کی وضاحت ہے۔ یعنی وہ پروردگار اس قدر غالب اور عزت اور ہیبت والا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کی ملکیت اور اسی کے قبضہ ٔ قدرت میں ہے۔ کوئی چیز اس کے حیطہ اقتدار سے باہر نہیں۔ وہ بڑی ہی بلند اور بڑی عظیم ہستی ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ اس میں یہ بات بھی فرمائی گئی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب اسی ذات بلند…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–4

فہم القرآن سورة حم ٓ سجدہ کا اختتام اس بات پر ہوا کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ جو شخص اس کا انکار کرتا ہے اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں۔ سورة الشّوریٰ کا آغاز اس بات سے ہورہا ہے کہ جس طرح قرآن کی شکل میں آپ ﷺ کی طرف وحی کی جاررہی ہے۔ اسی طرح ہی آپ ﷺ سے پہلے انبیاء ( علیہ السلام) کی طرف وحی کی جاتی تھی۔ حم ٓ، عسق حروف مقطّعات میں سے ہیں۔ ان کا معنٰی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اے نبی ﷺ ! ” اللہ “ ہی وحی کے ذریعے قرآن مجید آپ کی طرف نازل کررہا ہے۔ اس طرح جیسے اس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر صحائف، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات، حضرت داؤد (علیہ السلام) پر زبور اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

4: لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ (اس کا ہے جو آسمانوں اور زمینوں میں ہے) مُلک و ملک کے لحاظ سے۔ وَھُوَ الْعَلِیُّ (اور وہ برتر ہے) الْعَظِیْمُ (عظیم الشان ہے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 3–4

3، پس اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، کذلک یوحی الیک ، اور ابن کثیر (رح) نے، یوحی، حاء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ ان کی دلیل باری تعالیٰ کا قول ، اوحینا الیک ، ہے۔ ، والی الذین من قبلک ، اس قرأت پر اللہ تعالیٰ کا قول، اللہ العزیز الحکیم، فاعل کا بیان ہے۔ گویا کہ سوال کیا گیا کہ وحی کون کرتا ہے تو جواب دیا گیا اللہ العزیز الحکیم۔ اور دیگر حضرات نے، یوحی، حاء کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے۔ آپ کی طرف اور ان انبیاء (علیہم السلام) کی طرف جو آپ (علیہ السلام) سے پہلے تھے۔ اللہ غالب حکمت والا۔ عطاء نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مراد غیب کی خبریں ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–6

سورة الشورے مکیۃ 1۔ 6 حم عسق حروف مقطعات میں سے ہے سورة آل عمران کی تفسیر میں یہ گزر چکا ہے کہ حروف مقطعات آیات متشابہات کی قسم میں سے ہیں کیونکہ ان کے معنوں سے کوئی حرام و حلال کا حکم متعلق نہیں ہے اس لئے حضرت عبد اللہ بن عباس کے قول کے موافق اس طرح کی سب آیتیں متشابہات میں داخل ہیں۔ صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم کے حوالہ سے حضرت عائشہ کی حدیث سورة آل عمران کی تفسیر میں گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے متشابہ آیتوں کی تفسیر سے علماء امت کو منع فرمایا ہے اس واسطے صحابہ اور تابعین کا زمانہ اسی طریقہ پر گزرا ہے کہ وہ متشابہ آیتوں کی تفسیر کے درپے نہ ہوتے تھے بلکہ ان کی تفسیر کو اللہ تعالیٰ کے علم پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–9

آیت 1 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے یہ قرآن عظیم نبی کریم ﷺ کی طرف وحی کیا ہے جس طرح آپ سے پہلے انبیاء ومرسلین کی طرف وحی کی۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا ذکر ہے کہ اس نے گزشتہ زمانوں میں اور بعد میں آنے والے زمانوں میں کتابیں نازل کیں اور انبیاء و رسل مبعوث کئے، نیز یہ کہ محمد مصطفیٰ ﷺ کوئی انوکھے رسول نہیں، آپ کا طریقہ وہی ہے جوپ ہلے انبیاء ومرسلین کا طریقہ تھا۔ آپ کے احوال گزشتہ انبیاء کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں۔ جو دعوت آپ لے کر آئے ہیں وہ گزشتہ انبیاء کی دعوت سے مشابہت رکھتی ہے کیونکہ ان کی دعوت اور آپ کی دعوت سب حق اور سچے ہے اور یہ کتابیں اس ہستی کی طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

3 سب کچھ اللہ ہی کا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں میں ہے اور وہ سب کچھ بھی جو کہ زمین میں ہے "۔ خَلْقًا وَمِلْکًا وَمُلْکًا وَتَصَرُّفًا یعنی اس سب کو پیدا بھی اس وحدہ لاشریک نے تنہا اور بلاشرکت غیرے فرمایا ہے۔ اس سب کا مالک حقیقی بھی وہی وحدہ لاشریک ہے اور اس میں حقیقی بادشاہی اور حکومت بھی اسی کی ہے۔ اور اس سب پر حکم و تصرف بھی تنہا اسی وحدہ لاشریک کا چلتا ہے۔ پس ظاہری طور پر اور اسباب کے درجے میں جس کو جو کچھ ملا ہوا ہے وہ سب اسی کی بخشش و عطا سے ملا ہوا ہے۔ لہٰذا اس پر اکڑنے اور اترانے کی بجائے اس کو اسی وحدہ لاشریک کی بخشش و عطا اور ابتلاء و آزمائش سمجھ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–19

اللہ کا غلبہ، قدرت، دانائی اور رحم و کرم سب سے زیادہ ہے تشریح : پہلی اور دوسری آیات میں حروف مقطعات ہیں۔ اس کے بعد رب ذوالجلال کی صفات کا ذکر ہے۔ توحید پر ایمان لانا انسان کے لیے بہترین راستہ ہے۔ کیونکہ یہی مبارک راستہ انسان کو زندگی کی تمام قباحتوں سے بچاتا ہے۔ انسان کو ایسانظام حیات عطا کرتا ہے کہ جس کی وجہ سے عبادات، اخلاقیات، معاملات، حقوق اور تعزیرات کا ایک بہترین نقشہ انسان کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ یہ نظام حیات انسان کو ظلم زیادتی، کفر و شرک، بےحیائی بد نظمی اور تمام غم، خوف اور پریشانیوں سے محفوظ کردیتا ہے۔ اسی لیے قرآن کو بہت بڑی رحمت اور اسلام کو سلامتی کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس پیغام کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

آیات 1 تا 9۔ اسرار ومعارف۔ حروف مقطعات کے معنی علم الٰہی میں ہیں ، اسی طرح دلائل کے ساتھ حقائق بیان کرنے کے لیے اور حق کو ثابت کرنے کے لیے آپ سے پہلے انبیاء پر بھی وحی نازل کی گئی جس طرح آپ پر نازل ہوئی ہے کہ اللہ زبردست اور غالب اور بڑی حکمتوں والا ہے سب اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے جو کچھ زمین میں ہے اور سب پر اسی کی حکمرانی ہے وہی عظیم ہے ساری کائنات میں جس طرح اس کا حکم جاری ہے اور خود انسان کے تقدیری امور میں بھی اگر چاہتا تو سب سے حکما منوالیتا مگر اس کی حکمت کہ انسان کو اختیار دیا اور راہنمائی کے لیے انبیاء (علیہم السلام) اور وحی کا سلسلہ جاری فرمایا ورنہ اس کی عبادت وتسبیح کرنے کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–5

ف 7 یعنی اللہ تعالیٰ کی عظمت کے زور سے یا فرشتوں کے ذکر کی کثرت سے تاثیر ہو اور وہ پھٹ پڑیں۔ حضرت ( علیہ السلام) نے فرمایا : آسمانوں میں چار انگشت جگہ نہیں جہاں کوئی فرشتہ سر نہیں رکھ رہا سجدے میں “۔ ( موضح) 8 جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا :” ویستغفرون للذین امنوا “ کہ حاملین عرش اور جو فرشتے اس کے ارد گرد ہیں وہ مومنین کے لئے استغفار کرتے ہیں۔ ( مومن 7) بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ فرشتوں کے استغفار سے مراد یہ ہے کہ وہ ایسے اسباب پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن سے بندوں کی بخشش ہو اور ان سے عذاب ٹلے تاکہ کافر ایمان لائے اور فاسق توبہ کرے۔” استغفار “ کے یہ معنی لئے جائیں تو مومنوں کے ساتھ استغفار کی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(42:4) لہ ما فی السموت لام ملک (مالک ہونے کے معنی میں آیا ہے ما اسم موصول ، جو کچھ آسمانوں میں ہے ۔۔ اسی کی ملکیت ہے العلی العظیم : العلی علاء سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ بلند مرتبہ۔ سب سے اوپر۔ عالی شان ۔ اور العظیم عظمۃ سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے بزرگ ، بڑا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–9

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 9 : تکاد ( قریب ہے) یتفطرن (پھٹ پڑیں) ام القریٰ (مکہ مکرمہ (شہروں کی ماں) یوم الجمع (جمع ہونے کا دن ( قیامت کا دن) السعیر ( دھکتی آگ) تشریح : آیت نمبر 1 تا 9 : اس سورت کا آغاز ان حروف سے کیا گیا ہے جو الگ الگ کر کے پڑھے جاتے ہیں۔ ان کو حروف مقطعات کہا جاتا ہے ۔ اس سے پہلے اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ کو ہے۔ یہ آیات متشابہات میں سے ہیں ۔ ان کے معنی کا علم ممکن ہے نبی کریم ﷺ کو دیا گیا ہو مگر آپ نے ان کے معنی کسی کو نہیں بتائے۔ اگر امت کے لئے ضروری ہوتا تو نبی کریم ﷺ ان حروف کے معنی ضرور ارشاد فرماتے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 4–5

(ف 2) آسمان باجود اپنی عظمت و رفعت خدا کی ہیبت و عظمت وقدت کے آگے ایسے حقیر ہیں کہ قریب ہوتا ہے کہ اوپر سے نیچے تک پاش پاش ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں بعض نے آیت کا مطلب یہ لیا ہے کہ جب مشرکین اللہ تعالیٰ کے لیے شریک ٹھہراتے ہیں تو خداوندقدوس کی جناب میں یہ ایسی گستاخی ہے جسے کچھ بعید نہیں کہ آسمان کی اوپر والی سطح تک پھٹ کر ٹکڑے ہوجائے۔ فرشتوں کی صفات۔ (ف 3) فرشتے آسمانوں میں اپنے رب کے لیے عاجزی کرتے ہیں تسبیح کرتے ہیں نماز پڑھتے ہیں تعریف کرتے ہیں اور زمین میں جو مخلصین مومنین ہیں ان کے لیے اللہ سے مغفرت مانگتے ہیں بیشک اللہ توبہ والوں کو بخشنے والا، اور جو توبہ پر مرے اس پر ضرور رحم کرنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–5

[1] اہل زمین میں مومن اور کافر دونوں داخل ہیں۔ مومنوں کے لئے استغفار یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کی لغزشوں اور خطاؤں کو نظرانداز کرے اور کافروں کے لئے استغفار یہ کہ اللہ ان کے دل میں توفیق ایمان ڈال دے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–4

سورة الشوریٰ 1: یہ سورت مکی ہے ۔ اس میں عقائد اور زندگی کے اہم مسائل بیان فرمائے گئے ہیں اس میں رسالت کا تذکرہ ہے ۔ توحید کی بحث ہے عمل کی ذمہ داریوں کا بیان ہے اور ان تمام شکوک و شبہات کا ازالہ ہے ۔ جو اس وقت کے لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوئے تھے یا آج پیدا ہوسکتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(4) جو کچھ بھی آسمانوں میں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور وہی سب سے بلند اور برتر اور عظیم الشان ہے۔ یعنی سب زمین و آسمان میں اسی کی بادشاہت اور تصرف ہے وہی سب سے بلند وبالا اور سب سے بزرگ ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی ربِّ کریم کے لیے ہے 4 ؎ آسمان کیا ہے ؟ جو کچھ بلندیوں میں ہے سب آسمان ہے۔ زمین کیا ہے ؟ جو کچھ پستیوں میں ہے سب کا سب زمین ہے اسی طرح بتایا جا رہا ہے کہ جو کچھ تمہاری نگاہیں اوپر سے اوپر تک دیکھتی ہیں سب آسمان ہے اور جو کچھ تمہاری نگاہیں نیچے سے نیچے اور پھر اس سے بھی نیچے سے نیچے دیکھتی ہیں سب کا سب اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام ہی کی ملکیت ہے اور پھر جب اس کی ملکیت ہے تو اس کے بغیر اور کس کو یہ حق ہے کہ وہ انسان ہو کر اپنے جیسے انسانوں کے لیے کوئی ضابطہء حیات تجویز کرے اور اس کے بغیر کون ہے جس میں اتنا علم اور ایسی قدرت ہو کہ وہ اس نہایت پیچیدہ اور از حد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–4

Commentary (Ha Meem ` Ayn Seen Qaf) Only Allah knows the meaning of these letters. The gist of the first five verses is as follows: Just as this surah was revealed to the Holy Prophet ﷺ for the ascertainment of the religious principles and for other benefits, similarly Allah Ta’ ala has been sending other prophets who preceded him. His Magnificence is such that whatever there is in the heavens and in the earth is His. He is the Supreme, the Most Magnificent. Even though some of the people of this world do not recognize and do not admit the greatness of His magnificence, yet the number of the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

2 These introductory sentences are not meant to be said merely in praise of Allah Almighty, but their each word has a deep link with the background in which these verses were sent down. The foremost basis of the objections of the people who were expressing wonder and doubts against the Holy Prophet and the Qur'an was that he was inviting them to Tauhid and they were being alarmed at this and saying that if AIlah alone is the Creator, Sustainer and Ruler, what would be the position of their saints and holy men? At this it has been said: "This whole Universe belongs to Allah. How can therefore…

Read the full tafseer →