Ash-Shura 42:3

Ash-Shura · from ayah 3

42:3

كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۙ— اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ۟كَذٰلِكَ يُوۡحِىۡۤ اِلَيۡكَ وَاِلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكَۙ اللّٰهُ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ

خدائے غالب و دانا اسی طرح تمہاری طرف مضامین اور (براہین) بھیجتا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں کی طرف وحی بھیجتا رہا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Thus has He revealed to you, [O Muhammad], and to those before you - Allah, the Exalted in Might, the Wise.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shura

All translations of 42:3

اِسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے (رسولوں) کی طرف وحی کرتا رہا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدائے غالب و دانا اسی طرح تمہاری طرف مضامین اور (براہین) بھیجتا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں کی طرف وحی بھیجتا رہا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ تعالیٰ جو زبردست ہے اور حکمت واﻻ ہے اسی طرح تیری طرف اور تجھ سے اگلوں کی طرف وحی بھیجتا رہا

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر) اللہ جو عزیز و حکیم ہے، تم پر اور تم سے پہلے جو (پیغمبر) ہوئے ہیں، ان پر اسی طرح وحی نازل کرتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یونہی وحی فرماتا ہے تمہاری طرف اور تم سے اگلوں کی طرف اللہ عزت و حکمت والا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اسی طرح آپ کی طرف اور اُن (رسولوں) کی طرف جو آپ سے پہلے ہوئے ہیں اللہ وحی بھیجتا رہا ہے جو غالب ہے بڑی حکمت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اسی طرح وحی کرتا ہے تیری طرف اور ان لوگوں کی طرف جو تجھ سے پہلے تھے، وہ اللہ جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ جو زبردست اور حکمت والا ہے، آپ کی طرف اور آپ سے پہلے (رسولوں) کی طرف اسی طرح وحی کرتا رہا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اسی طرح خدائے عزیز و حکیم وحی کرتا ہے تمہاری طرف اور اسی طرح وہ وحی کرتا رہا ہے ان کی طرف جو تم سے پہلے گزرے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اسی طرح وحی بھیجتا ہے اللہ آپ کی طرف (اے پیغمبر !) اور ان سب (حضرات) کی طرف جو کہ گزر چکے ہیں آپ سے پہلے جو کہ بڑا ہی زبردست نہایت حکمت والا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اسی طرح اللہ غلبہ والا حکمت والا وحی بھیجتا رہا ہے آپ پر اور آپ سے قبل والوں پر۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی ﷺ !) اسی طرح وحی کرتا ہے آپ کی طرف اور ان کی طرف بھی کرتا رہا ہے جو آپ سے پہلے تھے وہ اللہ جو بہت زبردست بہت حکمت والا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ غالب، دانا اسی طرح تمہاری طرف اور تم سے پہلے لوگوں کی طرف وحی بھیجتا رہا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Thus does Allah, the Most Mighty, the Most Wise reveal to you even as (He revealed) to those (Messengers) who preceded you.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

This is how Allah, the Mighty, the Wise, sends revelation to you and to those who were before you.

— Muhammad Taqi Usmani

This is how Allah, the Mighty, the Wise, sends revelation to you and to those who were before you.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Likewise Allah, the Almighty, the All-Wise sends revelation to you as to those before you.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Thus Allah the Mighty, the Knower inspireth thee (Muhammad) as (He inspired) those before thee.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Thus has He revealed to you, [O Muhammad], and to those before you - Allah, the Exalted in Might, the Wise.

— Saheeh International

(Muhammad), this is how God, the Majestic and All-wise, sends revelations to you and sent them to those who lived before you.

— Muhammad Sarwar

Thus does Allah, the Mighty, the Wise, reveal to you, and (thus He revealed) to those before you.

— Muhammad Habib Shakir

In this wise revealeth Unto thee and Unto those before thee, Allah the Mighty, the Wise.

— Abdul Majid Daryabadi

Thus doth (He) send inspiration to thee as (He did) to those before thee,- Allah, Exalted in Power, Full of Wisdom.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 42:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–6

حم عسق کی تفسیر : حروف مقطعات کی بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ابن جریر ؒ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے جو منکر ہے اس میں ہے کہ ایک شخص حضرت ابن عباس کے پاس آیا اس وقت آپ کے پاس حضرت حذیفہ بن یمان بھی تھے۔ اس نے ان حروف کی تفسیر آپ سے پوچھی آپ نے ذرا سی دیر سر نیچا کرلیا پھر منہ پھیرلیا اس شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ نے پھر بھی منہ پھیرلیا اور اس کے سوال کو برا جانا اس نے پھر تیسری مرتبہ پوچھا۔ آپ نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا اس پر حضرت حذیفہ نے کہا میں تجھے بتاتا ہوں اور مجھے یہ معلوم ہے کہ حضرت ابن عباس اسے کیوں ناپسند کر رہے ہیں۔ ان کے اہل بیت میں سے ایک شخص کے بارے میں یہ نازل…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–3

سورة الشُّوْرٰی 1 افتتاح کلام کا یہ انداز خود بتارہا ہے کہ پس منظر میں وہ چہ میگوئیاں ہیں جو مکہ معظمہ کی ہر محفل، ہر چوپال، ہر کوہ و بازار، اور ہر مکان اور دکان میں اس وقت نبی ﷺ کی دعوت اور قرآن کے مضامین پر ہو رہی تھیں۔ لوگ کہتے تھے کہ نہ معلوم یہ شخص کہاں سے یہ نرالی باتیں نکال نکال کر لا رہا ہے۔ ہم نے تو ایسی باتیں نہ کبھی سنیں نہ ہوتے دیکھیں۔ وہ کہتے تھے، یہ عجیب ماجرا ہے کہ باپ دادا سے جو دین چلا آرہا ہے، ساری قوم جس دین کی پیروی کر رہی ہے، سارے ملک میں جو طریقے صدیوں سے رائج ہیں، یہ شخص ان سب کو غلط قرار دیتا ہے اور کہتا ہے جو دین میں پیش کر رہا ہوں وہ صحیح ہے۔ وہ کہتے تھے، اس دین کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–4

خلاصہ تفسیر حم عسق۔ (اس کے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں، جس طرح اصول دینیہ کی تحقیق اور فوائد عظیمہ کے لئے یہ سورت آپ پر نازل ہو رہی ہے) اسی طرح آپ پر اور جو (پیغمبر) آپ سے پہلے ہوچکے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ جو زبردست حکمت والا ہے (دوسری سورتوں اور کتابوں کی) وحی بھیجتا رہا ہے (اور اس کی یہ شان ہے کہ) اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور وہی سب سے برتر اور عظیم الشان ہے (اس کی عظمت شان کو اگر کچھ زمین والے نہ پہچانیں اور نہ مانیں مگر آسمانوں میں اس کی معرفت رکھنے والے اور عظمت کو پہچاننے والے فرشتے اس کثرت سے ہیں کہ) کچھ بعید نہیں کہ آسمان (ان کے بوجھ کی وجہ سے) اپنے اوپر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

کذلک یوحی الیک والی الذین من قبلک اللہ العزیز الحکیم (3) تمام نبیوں کی تعلیم بھی ایک رہی ہے اور طریقہ تعلیم بھی ایک ہی رہا ہے کذلک کا اشارہ ان مطالب کی طرف ہے جو اس سورة میں بیان ہوئے ہیں۔ ان مطالب کا ایک اجمالی تصور اس سورة کے نام نے دے دیا ہے اس وجہ سے کذلک کے ذریعہ سے ان کی طرف اشارہ بالکل موزوں ہے یعنی اس نام سے موسوم سورة میں جو باتیں وحی کی جا رہی ہیں یہ جس طرح تمہاری طرف وحی کی جا رہی ہیں اسی طرح تم سے پہلے آنے والے نبیوں کو بھی وحی کی جا چکی ہیں۔ ادائے مطلب میں ی بتقاضائے بلاغت ایجاز ہے۔ پوری بات گویا یوں ہے کہ اس طرح اللہ تم پر وحی کر رہا ہے اور اسی طرح اس نے ان نبیوں پر بھی وحی کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–3

3۔ 1 یعنی جس طرح یہ قرآن تیری طرف نازل کیا گیا ہے اسی طرح تجھ سے پہلے انبیاء پر آسمانی کتابیں نازل کی گئیں وحی اللہ کا کلام ہے جو فرشتے کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کے پاس بھیجتا رہا ہے ایک صحابی نے رسول اللہ ﷺ سے وحی کی کیفیت پوچھی تو آپ نے فرمایا کہ کبھی تو یہ میرے پاس گھنٹی کی آواز کی مثل آتی ہے اور یہ مجھ پر سب سے سخت ہوتی ہے، جب یہ ختم ہوجاتی ہے تو مجھے یاد ہوچکی ہوتی ہے اور کبھی فرشتہ انسانی شکل میں آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور وہ جو کہتا ہے میں یاد کرلیتا ہوں۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں، میں نے سخت سردی میں مشاہدہ کیا کہ جب وحی کی کیفیت ختم ہوتی تو آپ پسینے میں شرابور ہوتے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–6

حروف ، مقطعات کے بارے میں کئی سورتوں کے آغاز میں بات ہوچکی ہے جسے یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ حروف بتاتے ہیں کہ سورت کا آغاز ہو رہا ہے ۔ ان حروف کے بعد پہلا فقرہ یہ ہے۔ کذلک یوحی ۔۔۔۔ العزیز الحکیم (42 : 3) ” اسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف وحی کرتا رہا ہے “۔ یعنی جس طرح تمہاری طرف وحی ہورہی ہے اسی طرح اور اسی انداز میں ہم نے پہلے رسولوں کی طرف بھی وحی بھیجی ہے۔ یہ وحی الفاظ ، کلمات اور حروف تہجی پر مشتمل رہی ہے۔ وحی کا کلام الٰہی حروف سے بنایا گیا ہے ۔ ان حروف سے لوگ اچھی طرح واقف ہیں۔ ان کلمات کے معانی وہ سمجھتے ہیں لیکن اس وحی کی طرح وہ کلام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–3

5 یعنی جس طرح یہ سورت (جو نہایت اعلیٰ و اکمل مضامین پر مشتمل ہے) آپ کی طرف وحی کی جا رہی ہے، ایسے ہی اللہ تعالیٰ کی عادت آپ کی طرف اور دوسرے انبیاء کی طرف وحی بھیجنے کی رہی ہے۔ جس سے اس کی شان حکمت و حکومت کا اظہار ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 3 { کَذٰلِکَ یُوْحِیْٓ اِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ لا اللّٰہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ } ”اے نبی ﷺ ! اسی طرح وحی کرتا ہے آپ کی طرف اور ان کی طرف بھی کرتا رہا ہے جو آپ سے پہلے تھے وہ اللہ جو بہت زبردست ‘ بہت حکمت والا ہے۔“ رسول اللہ ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے دراصل آپ ﷺ کے مخاطبین کو بتایا جارہا ہے کہ یہ مضامین جس طرح آپ ﷺ کی طرف وحی کیے جا رہے ہیں اسی طرح آپ ﷺ سے پہلے آنے والے انبیاء کرام علیہ السلام کو بھی وحی کیے جا چکے ہیں۔ کَذٰلِکَ میں وحدت مدعا کی طرف بھی اشارہ ہے اور طریقہ وحی کی یکسانیت کی طرف بھی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء و رسل علیہ السلام کو انہی باتوں کی تعلیم دی ہے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 1–3

1 نام لئے بغیر مابہ النزاع مسائل کے جوابات :۔ مکی دور میں حق و باطل کے درمیان اختلافی مسئلے بنیادی طور پر دو ہی تھے۔ ایک یہ کہ مشرکوں کے بتوں کا کائنات میں کچھ تصرف ہے یا نہیں ؟ اور دوسرا یہ کہ کیا انسان کا مر کر جی اٹھنا پھر اپنے پروردگار کے حضور جواب دہی کے لیے پیش ہونا درست ہے یا نہیں ؟ یہی دو مسائل تھے جن کا اکثر مجلسوں اور نجی گفتگو میں ہر وقت چرچا رہتا تھا۔ پھر ان میں ایک تیسرا مسئلہ از خود شامل ہوجاتا تھا کہ آیا محمد فی الواقع اللہ کا رسول ہے یا نہیں ؟ جو کچھ وہ کلام پیش کرتا ہے۔ فی الواقع اللہ کا کلام ہے ؟ اور قرآن کا انداز خطاب یہ ہے کہ اکثر سورتوں میں تمہید کے طور پر کافروں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–3

1۔ (اصول دین کی تحقیق وتعیین کے لئے) (آیت) ” کذلک “۔ یعنی جس طرح یہ سورت نازل کی اسی طرح اس نے دوسری سورتوں اور آیتوں کی وحی آپ ﷺ پر کی ہے۔ اے مثل ذلک الوحی (کشاف) اے یوحی مثل مافی ھذہ السورۃ من المعانی (روح) (آیت) ” حم۔ عسق “۔ حضرت ابن عباس ؓ کی جانب یہ قول منسوب ہوا ہے۔ کہ (آیت) ” حم “ ایک اسم الہی ہے اور ع سے اشارہ عذاب بدر کی جانب ہے اور س سے اشارہ اس آیت کی طرف ہے۔ (آیت) ” سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون “۔ اب رہا ” ق “ تو حضرت ابوذر ؓ صحابی کی جانب یہ قول منسوب ہے کہ اس سے صور قیامت مراد ہے۔ لیکن محققین کے نزدیک نہ یہ دونوں روایتیں ثابت شدہ ہیں نہ اور کوئی روایت، ذکر المفسرون فی ” حم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–9

آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰم۔ عسق اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے اسی طرح یعنی اس وحی بھیجنے کے مانند اللہ تعالیٰ جو زبردست ہے اپنے ملک میں حکمت والا ہے، اپنی صنعت میں تیری طرف اور تجھ سے اگلوں کی طرف وحی بھیجتا رہا ہے، اللہ ایحاء کا فاعل ہے، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے ملکیت کے اعتبار سے، تخلیق کے اعتبار سے، اور مملوکیت کے اعتبار سے، اور وہ اپنی مخلوق پر برتر اور عظیم الشان ہے، قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں (تکاد) تاء اور یاء کے ساتھ ہے (یَنْفَطِرنَ ) نون کے ساتھ ہے، اور ایک قراءت میں (نون کے بجائے) تاء مع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

بغوی نے لکھا ہے کہ حسن بن فضل سے دریافت کیا گیا کہ حٰمٓ - عٓسٓقٓ کے دو ٹکڑے کیوں کئے گئے (یعنی حٰمٓ کو عٓسٓقٓ سے جدا کیوں کیا گیا) اور کٓھٰیٰعٓصٓ کے دو ٹکڑے کیوں نہیں کئے گئے ؟ حسن نے جواب دیا : جن سورتوں کو حٰمٓ سے شروع کیا گیا ‘ ان میں سے یہ بھی ایک سورت ہے ‘ اس جیسی دوسری سورتوں کی طرح اس کا آغاز بھی (مستقل طور پر) حٰمٓ سے کیا گیا اور (کٓہٰ سے کسی سورت کا آغاز نہیں کیا گیا ‘ اسلئے آہٰ کو یٰعٓصٓ سے ملا کر آھٰیٰعٓصٓ کردیا گیا) یا یوں کہا جائے کہ حٰمٓ مبتدا ہے ‘ عٓسٓقٓ اسکی خبر ہے (اور مبتدا کو خبر سے الگ لکھا جاتا ہے ‘ خبر کا جزء نہیں بنایا جاتا) یا یوں کہا جائے کہ حٰمٓ عٓسٓقٓ دو آیات ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 3–4

(3۔ 4) اب فرماتے ہیں جیسا کہ اس سورت کو آپ پر وحی کے ذریعے بھیجا ہے اسی طرح ان رسولوں پر جو کہ آپ سے پہلے ہوئے وحی بھیجتا رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ جو کہ کافر کو سزا دینے میں زبردست اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے اس نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ اور کسی کی عبادت نہ کی جائے یا یہ کہ اپنی بادشاہت اور سلطنت میں زبردست اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے جتنی بھی مخلوقات ہیں سب اسی کے بندے ہیں وہ ہی سب سے بڑا اور بلند ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) کذلک یوحی الیک :”کذلک“ (اسی طرح) سے مراد ایک تو وہ مضامین و معانی ہیں جو اس قرآن یا اس سورت میں ہیں، یعنی آپ کی طرف توحید، آخرت، نبوت اور دوسرے عقائد و اعمال اور واقعات پر مشتمل جو وحی کی گئی ہے۔ یہ کوئی نرالی نہیں کہ کفار کو اس پر تعجب ہو رہا ہے، بلکہ ایسے ہی مضامین کی وحی اللہ تعالیٰ آپ کی طرف اور آپ سے پہلے پیغمبروں کی طرف کرتا چلا آیا ہے۔ بعض وقتی احکام میں فرق ہوسکتا ہے، مگر اصل دعوت جس کے لئے آپ کو اور پہلے تمام پیغمبروں کو مبعوث کیا گیا ایک ہی ہے، جیسا کہ فرمایا :(وما ارسلنا من قبلک من رسول الا لوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون) (الانبیائ : 25َ)”اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–4

حم، عسق، عبدالمئو من نے کہا : میں نے حسین بن فضل سے پوچھا حم کو عسق کو سے کیوں الگ کیا گیا ہے جبکہ کھیعص، المر اور المص کو الگ الگ نہیں کیا گیا۔ فرمایا : کیونکہ حم عسق سورتوں کے درمیان ہے جن میں سے پہلی حم ہے تو یہ ما قبل اور بعد کے نظائر پر جاری ہوئی گویا حم مبتدا ہے اور عسق خبر ہے اور اس کی اخوات جن کو اکٹھے لکھا گیا ہے وہ ایک آیات ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حروف معجمہ سب کے سب ایک معنی میں ہیں وجہ اس کی منصل لکھا گیا ہے کیونکہ کلام یہ کی گئی ہے حم سے مراد ہے مم ماھو کائن۔ جو ہو کر رہنے والا ہے اس کا قصد کرلیا گیا ہے انہوں نے فرق کیا ہے جس میں فعل مقدر ہوتا ہے یا فعل مقدر نہیں ہوتا پھر اگر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–4

1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” حم ٓ (1) عسق (2) “ مکہ میں نازل ہوئی۔ 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن الزبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” حم ٓ (1) عسق (2) “ مکہ میں نازل ہوئی۔ 3:۔ عبدالرزاق نے المصنف میں جعفر بن محمد ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک رات حضرت میمونہ ؓ کے گھر میں (آیت ) ” حم ٓ (1) عسق (2) “ پڑھی اور اس کو باربار پڑھا، اور فرمایا اے میمونہ ! کیا تیرے پاس (آیت ) ” حم ٓ (1) عسق (2) “ ہے (یعنی تجھے یاد ہے) عرض کیا جی ہاں ! فرمایا اس کو پڑھو میں اس کے اول وآخر کے درمیان سے بھول گیا ہوں۔ 4:۔ طبرانی (رح) نے (صحیح سند کے ساتھ) حضرت میمونہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

كَذٰلِكَ يُوْحِيْٓ [ اس طرح وحی کرتا ہے ] اِلَيْكَ [ آپ کی طرف ] وَاِلَى الَّذِيْنَ [ اور ان کی طرف جو ] مِنْ قَبْلِكَ ۙ [ آپ سے پہلے تھے ] اللّٰهُ [اللہ ] الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ [ جو بالادست ہے حکمت والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–3

اللہ تعالیٰ عزیز ہے، حکیم ہے، اعلیٰ ہے، عظیم ہے، غفور ہے، رحیم ہے یہ سورة الشوریٰ کے پہلے رکوع کا ترجمہ ہے جو سات آیات پر مشتمل ہے ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی صفات جلیلہ بیان فرمائی ہیں پہلی آیت میں رسول اللہ ﷺ سے خطاب کرکے فرمایا کہ جس طرح یہ سورة اپنے فوائد پر مشتمل ہوکر آپ کی طرف نازل کی جا رہی ہے اسی طرح آپ پر دوسری سورتوں کی بھی وحی کی گئی ہے اور آپ سے پہلے جو حضرات انبیائے کرام تھے ان پر وحی کی گئی یہ وحی اللہ تعالیٰ نے بھیجی جو عزیز یعنی زبردست اور غالب ہے اور حکیم یعنی حکمت والا ہے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اسی کا ہے اس کی مخلوق بھی ہے اور مملوک بھی ہے وہ برتر ہے اور عظیم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–12

اثبات وحی الہی مع بیان عظمت رب کبریاو وعید بہ شرک ونافرمانی : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” حم عسق ....... الی ....... انہ بکل شیء علیم “۔ (ربط) ” گذشہ سورت کے مضامین کا حاصل مخالفین کے اعتراضات کا رد اور ان پر توبیخ وتنبیہ تھا، اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی رسالت اور وحی کی عظمت کو ثابت کیا جارہا ہے، اور اسی کے ضمن میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے، اور مجرمین ومنکرین پر توبیخ ووعید بھی ہے کہ یہ اپنے افعال قبیحہ کی سزا سے ہرگز نہیں بچ سکتے ارشاد ہے ، (آیت ) ” حم عسق “۔ اللہ رب العزت ہی اس کی مراد خوب جاننے والا ہے، اصول دین اور احکام شریعت کی تعیین اور تحقیق کے لیے جیسے آپ ﷺ پر یہ سورت نازل کی جارہی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–3

2:۔ ” کذلک یوحی الیک “ اس سورت میں جو مضمون توحید نازل کیا گیا ہے یہی مضمون ہم اس سے پہلی سورتوں میں آپ کی طرف نازل کرتے رہے ہیں، اور یہی مضمون توحید گذشتہ انبیاء (علیہم السلام) کی طرف وحی کرتے رہے ہیں۔ کلام مستانف وارد لتحقیق ان مضمون السورۃ موافق لما فی تضاعیف الکتب المنزلۃ علی سائر الرسل المتقدمین فی الدعوۃ الی التوحید والارشاد الی الحق (روح ج 25 ص 10) ۔ ” کذلک “ یعنی اس کی مانند یہ تعبیر اس لیے اختیار کی گئی کہ عبارت وہ نہیں، البتہ مضمون وہی ہے۔ ای مثل ذلک الوحی (مدارک، جامع البیان) یوحی میں حال گذشتہ کو مضارع سے تعبیر کیا گیا تاکہ استمرار و دوام پر دلالت کرے۔ وذکر المضارع للاستمرار وبیان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–6

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الشوریٰ ہے ۔ اس کی آیت 38 میں اہل ایمان کی باہمی مشاورت کا ذکر ہے اور اسی سے اس سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں ہجرت سے پہلے قریبی دور میں پچھلی سورة حم السجدۃ کے بعد نازل ہوئی ۔ اس سورة کی ترپن 53 آیا ت ہیں اور یہ پانچ رکوع پر مشتمل ہے۔ اس میں 883 الفاظ اور 3588 حروف ہیں۔ مضامین سورة یہ سورة مبارکہ بھی حوامیم سبعہ میں شامل ہے۔ ان سورتوں کو قرآن کریم کا لب لباب کہا گیا ہے کیونکہ ان میں عام طور پر اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، قرآن کی صداقت اور معاد ہی کا ذکر ہے ، تا ہم بعض ضمنی مسائل بھی آگئے ہیں ۔ اگرچہ حوامیم میں مذکورہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 1–3

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝ حٰـمۗ۝ 1 ۚعۗسۗقۗ۝ 2 كَذٰلِكَ يُوْحِيْٓ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ۝ 0 ۙ اللہُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝ 3 هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 3–6

ترکیب : اللہ فاعل لیوحی ومابعدہ لغت والکاف فی موضع نصب بیوحی والذین مبتدا اللہ حفیظ الجملۃ خبر۔ تفسیر : یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی ہے یہ ابن عباس ؓ و ابن الزبیر و حسن و عکرمہ و جابر کا قول ہے۔ اس سورة کا نام سورة شوریٰ اور سورة حم عسق ہے حم عسق سے جو کچھ خدا پاک نے اپنے کلام میں مراد لیا ہے اس کو وہی خوب جانتا ہے۔ مکہ میں قریش کو اس بات سے بڑا تعجب تھا کہ قرآن مجید اللہ کی طرف سے محمد ﷺ پر وحی کیا جاتا ہے کیونکہ یہ بات ان کے نزدیک نئی تھی۔ ان کے اس تعجب کو چند حروف میں ایک سرِّنہانی کی طرف اشارہ کر کے دور کرتا ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں کہ کذالک یوحی الخ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے انبیاء پر یوں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–3

حٰـمٓ۔ عٓسٓقٓ۔ کَذٰلِکَ یُوْحِیْٓ اِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ لا اللّٰہُ الْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (الشوری : 1 تا 3) (ح م۔ ع س ق۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ جو غالب اور حکیم ہے آپ کی طرف اور ان رسولوں کی طرف جو آپ سے پہلے تھے وحی کرتا رہا ہے۔ ) پہلی دونوں آیتیں حروفِ مقطعات پر مشتمل ہیں اور ان کے بارے میں ہم سورة البقرۃ کے آغاز میں گفتگو کرچکے ہیں۔ کَذٰلِکَ کا اشارہ کس طرف ہے ؟ اور آنحضرت ﷺ کو تسلی تیسری آیت کے بارے میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ کَذٰلِکَ کا اشارہ کس طرف ہے۔ بعض اہل علم نے تو یہ کہا ہے کہ جس طرح اصول دینیہ کی تحقیق اور فوائدِعظیمہ سے متعلق قرآن کریم اور دیگر آسمانی کتابوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–4

فہم القرآن سورة حم ٓ سجدہ کا اختتام اس بات پر ہوا کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ جو شخص اس کا انکار کرتا ہے اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں۔ سورة الشّوریٰ کا آغاز اس بات سے ہورہا ہے کہ جس طرح قرآن کی شکل میں آپ ﷺ کی طرف وحی کی جاررہی ہے۔ اسی طرح ہی آپ ﷺ سے پہلے انبیاء ( علیہ السلام) کی طرف وحی کی جاتی تھی۔ حم ٓ، عسق حروف مقطّعات میں سے ہیں۔ ان کا معنٰی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اے نبی ﷺ ! ” اللہ “ ہی وحی کے ذریعے قرآن مجید آپ کی طرف نازل کررہا ہے۔ اس طرح جیسے اس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر صحائف، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات، حضرت داؤد (علیہ السلام) پر زبور اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تمام کتابوں میں بار بار یہ مضمون اتارے : 3: کَذٰلِکَ یُوْحِیْ اِلَیْکَ (اس وحی کی طرح یا اس کتاب کی طرح جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے۔ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ اور ان رسولوں کی طرف جو آپ سے قبل ہوئے۔ اللّٰہُ یعنی اس سورت میں جو مضامین اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف بذریعہ وحی بھیجے ہیں۔ اس جیسے مضامین اللہ تعالیٰ نے دوسری سورتوں میں آپ کی طرف وحی کیے ہیں اور ان لوگوں پر جو آپ سے پہلے ہوئے یعنی ان کے رسولوں کی طرف۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان معانی کو باربار تمام آسمانی کتابوں میں اتارا کیونکہ اس میں بندوں کے لیے شدید تنبیہ اور بڑی مہربانی ہے۔ قول ابن عباس ؓ : جو پیغمبرصاحب کتاب ہوئے ان سب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 3–4

3، پس اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، کذلک یوحی الیک ، اور ابن کثیر (رح) نے، یوحی، حاء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ ان کی دلیل باری تعالیٰ کا قول ، اوحینا الیک ، ہے۔ ، والی الذین من قبلک ، اس قرأت پر اللہ تعالیٰ کا قول، اللہ العزیز الحکیم، فاعل کا بیان ہے۔ گویا کہ سوال کیا گیا کہ وحی کون کرتا ہے تو جواب دیا گیا اللہ العزیز الحکیم۔ اور دیگر حضرات نے، یوحی، حاء کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے۔ آپ کی طرف اور ان انبیاء (علیہم السلام) کی طرف جو آپ (علیہ السلام) سے پہلے تھے۔ اللہ غالب حکمت والا۔ عطاء نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مراد غیب کی خبریں ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–6

سورة الشورے مکیۃ 1۔ 6 حم عسق حروف مقطعات میں سے ہے سورة آل عمران کی تفسیر میں یہ گزر چکا ہے کہ حروف مقطعات آیات متشابہات کی قسم میں سے ہیں کیونکہ ان کے معنوں سے کوئی حرام و حلال کا حکم متعلق نہیں ہے اس لئے حضرت عبد اللہ بن عباس کے قول کے موافق اس طرح کی سب آیتیں متشابہات میں داخل ہیں۔ صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم کے حوالہ سے حضرت عائشہ کی حدیث سورة آل عمران کی تفسیر میں گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے متشابہ آیتوں کی تفسیر سے علماء امت کو منع فرمایا ہے اس واسطے صحابہ اور تابعین کا زمانہ اسی طریقہ پر گزرا ہے کہ وہ متشابہ آیتوں کی تفسیر کے درپے نہ ہوتے تھے بلکہ ان کی تفسیر کو اللہ تعالیٰ کے علم پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–9

آیت 1 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے یہ قرآن عظیم نبی کریم ﷺ کی طرف وحی کیا ہے جس طرح آپ سے پہلے انبیاء ومرسلین کی طرف وحی کی۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا ذکر ہے کہ اس نے گزشتہ زمانوں میں اور بعد میں آنے والے زمانوں میں کتابیں نازل کیں اور انبیاء و رسل مبعوث کئے، نیز یہ کہ محمد مصطفیٰ ﷺ کوئی انوکھے رسول نہیں، آپ کا طریقہ وہی ہے جوپ ہلے انبیاء ومرسلین کا طریقہ تھا۔ آپ کے احوال گزشتہ انبیاء کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں۔ جو دعوت آپ لے کر آئے ہیں وہ گزشتہ انبیاء کی دعوت سے مشابہت رکھتی ہے کیونکہ ان کی دعوت اور آپ کی دعوت سب حق اور سچے ہے اور یہ کتابیں اس ہستی کی طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–3

1 حضرات انبیائے کرام کی ایک امتیازی صفت کا ذکر وبیان : سو اس سے معلوم ہوا کہ تمام حضرات انبیاء و رسل کی تعلیم بھی ایک ہی رہی اور ذریعہ تعلیم بھی ایک ہی رہا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی طرح اللہ وحی بھیجتا ہے آپ کی طرف "۔ یعنی جس طرح اس سورة کریمہ کے مضامین کی وحی فرمائی جا رہی ہے اسی طرح آپ کی طرف اور ان تمام انبیائے کرام کی طرف بھی اللہ پاک کی طرف سے وحی فرمائی جاتی رہی جو آپ سے پہلے گزر چکے ہیں کہ ان سب کے مشمولات بھی ایک ہی قسم کے تھے اور مقاصد بھی مشترک۔ کیونکہ توحید، رسالت اور آخرت پر ایمان اور اخلاق فاضلہ کی تعلیم وغیرہ بنیادی عقائد و مسائل ان سب میں مشترک تھے۔ اور مقصد بھی ایک ہی تھا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–19

اللہ کا غلبہ، قدرت، دانائی اور رحم و کرم سب سے زیادہ ہے تشریح : پہلی اور دوسری آیات میں حروف مقطعات ہیں۔ اس کے بعد رب ذوالجلال کی صفات کا ذکر ہے۔ توحید پر ایمان لانا انسان کے لیے بہترین راستہ ہے۔ کیونکہ یہی مبارک راستہ انسان کو زندگی کی تمام قباحتوں سے بچاتا ہے۔ انسان کو ایسانظام حیات عطا کرتا ہے کہ جس کی وجہ سے عبادات، اخلاقیات، معاملات، حقوق اور تعزیرات کا ایک بہترین نقشہ انسان کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ یہ نظام حیات انسان کو ظلم زیادتی، کفر و شرک، بےحیائی بد نظمی اور تمام غم، خوف اور پریشانیوں سے محفوظ کردیتا ہے۔ اسی لیے قرآن کو بہت بڑی رحمت اور اسلام کو سلامتی کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس پیغام کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

آیات 1 تا 9۔ اسرار ومعارف۔ حروف مقطعات کے معنی علم الٰہی میں ہیں ، اسی طرح دلائل کے ساتھ حقائق بیان کرنے کے لیے اور حق کو ثابت کرنے کے لیے آپ سے پہلے انبیاء پر بھی وحی نازل کی گئی جس طرح آپ پر نازل ہوئی ہے کہ اللہ زبردست اور غالب اور بڑی حکمتوں والا ہے سب اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے جو کچھ زمین میں ہے اور سب پر اسی کی حکمرانی ہے وہی عظیم ہے ساری کائنات میں جس طرح اس کا حکم جاری ہے اور خود انسان کے تقدیری امور میں بھی اگر چاہتا تو سب سے حکما منوالیتا مگر اس کی حکمت کہ انسان کو اختیار دیا اور راہنمائی کے لیے انبیاء (علیہم السلام) اور وحی کا سلسلہ جاری فرمایا ورنہ اس کی عبادت وتسبیح کرنے کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–5

ف 7 یعنی اللہ تعالیٰ کی عظمت کے زور سے یا فرشتوں کے ذکر کی کثرت سے تاثیر ہو اور وہ پھٹ پڑیں۔ حضرت ( علیہ السلام) نے فرمایا : آسمانوں میں چار انگشت جگہ نہیں جہاں کوئی فرشتہ سر نہیں رکھ رہا سجدے میں “۔ ( موضح) 8 جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا :” ویستغفرون للذین امنوا “ کہ حاملین عرش اور جو فرشتے اس کے ارد گرد ہیں وہ مومنین کے لئے استغفار کرتے ہیں۔ ( مومن 7) بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ فرشتوں کے استغفار سے مراد یہ ہے کہ وہ ایسے اسباب پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن سے بندوں کی بخشش ہو اور ان سے عذاب ٹلے تاکہ کافر ایمان لائے اور فاسق توبہ کرے۔” استغفار “ کے یہ معنی لئے جائیں تو مومنوں کے ساتھ استغفار کی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(42:3) کذلک۔ ک حرف تشبیہ ہے ذلک اسم اشارہ واحد مذکر ہے۔ مشار الیہ سورة ہذا۔ تشبیہ کی دو صورتیں ہیں :۔ (1) معانی کے لحاظ سے یعنی جو مطلب و معانی اس صورت میں مذکور ہیں انہیں مطالب و معانی پر مبنی کلام آپ کی طرف بھی وحی ہوتے ہیں اور آپ سے قبل دیگر رسولوں پر بھی نازل ہوتے رہے ہیں۔ ای یوحی مثل ما فی ھذہ السورۃ من المعانی۔ (2) تشبیہ فی المعنی المصدری الذی ھو الایحائ۔ یعنی جس طرح یہ سورة بذریعہ وحی آپ پر نازل ہوئی ہے اسی طرح دوسری سورتیں بھی آپ پر نازل ہوئی ہیں اور یہی وحی آپ سے قبل رسل پر بھی نازل ہوتی رہی ہے مطلب یہ کہ جس طرح یہ سورة بذریعہ وحی آپ پر نازل ہوئی ہے اس طرح وہ تجھ پر اور تجھ سے پہلے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–9

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 9 : تکاد ( قریب ہے) یتفطرن (پھٹ پڑیں) ام القریٰ (مکہ مکرمہ (شہروں کی ماں) یوم الجمع (جمع ہونے کا دن ( قیامت کا دن) السعیر ( دھکتی آگ) تشریح : آیت نمبر 1 تا 9 : اس سورت کا آغاز ان حروف سے کیا گیا ہے جو الگ الگ کر کے پڑھے جاتے ہیں۔ ان کو حروف مقطعات کہا جاتا ہے ۔ اس سے پہلے اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ کو ہے۔ یہ آیات متشابہات میں سے ہیں ۔ ان کے معنی کا علم ممکن ہے نبی کریم ﷺ کو دیا گیا ہو مگر آپ نے ان کے معنی کسی کو نہیں بتائے۔ اگر امت کے لئے ضروری ہوتا تو نبی کریم ﷺ ان حروف کے معنی ضرور ارشاد فرماتے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–3

(ف 1) اے محبوب ﷺ جیسا تمہاری طرف یہ قرآن اتارا، اور حضرت جبرائیل کی معرفت وحی بھیجی یوں ہی ان کی طرف بھی بھیجی جو تم سے پہلے انبیاء تھے پھر فرمایا کہ اس فہمائش کے بعد بھی اگر یہ لوگ اپنی بےٹھکانوں کی باتوں سے باز نہ آئیں گے اور کلام الٰہی کے جھٹلاتے جائیں گے تو اللہ ایسے لوگوں سے بدلہ لینے میں ایسازبردست ہے کہ اس نے پچھلی بہت سی قومون کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا اور کوئی اس کے عذاب کو ٹال نہ سکا، فرمایا جبکہ آسمان زمین کا مالک وہی وحدہ لاشریک ہے اور سب پر اسی کا حکم جاری ہے تو پھر کس استحقاق سے یہ مشرک لوگ غیروں کو اس کی تعظیم میں شریک کرتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–5

[1] اہل زمین میں مومن اور کافر دونوں داخل ہیں۔ مومنوں کے لئے استغفار یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کی لغزشوں اور خطاؤں کو نظرانداز کرے اور کافروں کے لئے استغفار یہ کہ اللہ ان کے دل میں توفیق ایمان ڈال دے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–4

سورة الشوریٰ 1: یہ سورت مکی ہے ۔ اس میں عقائد اور زندگی کے اہم مسائل بیان فرمائے گئے ہیں اس میں رسالت کا تذکرہ ہے ۔ توحید کی بحث ہے عمل کی ذمہ داریوں کا بیان ہے اور ان تمام شکوک و شبہات کا ازالہ ہے ۔ جو اس وقت کے لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوئے تھے یا آج پیدا ہوسکتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(3) جس طرح اے پیغمبر یہ سورت یا یہ کتاب آپ پر نازل کی گئی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ جو کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے آپ پر اور ان رسولوں پر جو آپ سے پہلے ہوئے ہیں وحی بھیجتا رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پیغمبروں پر اپنے احکام بذریعہ وحی بھیجا کرتا ہے جس طرح یہ سورت آپ پر نازل کی گئی اسی طرح آپ پر اور آپ سے پہلے لوگوں پر بھی اللہ تعالیٰ جو عزیز بھی ہے اور حکیم بھی ہے اپنی وحی بھیجتا رہا ہے یعنی عزیز ہے اس لئے کوئی اس کو احکام بھیجنے سے روک نہیں سکتا اور چونکہ حکیم بھی ہے اس لئے اس کے نازل کردہ احکام میں اس کی مخلوق کے لئے بڑی حکمتیں پنہاں ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کی طرف یہ قرآن کریم اسی طرح وحی کیا گیا ہے 2 ؎ { کذلک } کے لفظ سے یہ بات خود بخود واضح ہو رہی ہے کہ یہ وہ کلام ہے جس کے آنے کی خوشخبری اس سے پہلے سنائی جا چکی ہے گویا جس طرح لوگ اس کو انہونی بات سمجھ رہے ہیں جیسے کوئی اچانک حادثہ ہوجاتا ہے یہ ایسی بات نہیں بلکہ یہ وہ بات ہے جس کے متعلق قبل ازیں ایک بار نہیں بار بار اطلاع دی جا چکی ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ فلاں دھرتی میں پیدا ہوں گے اور ان کی طرف اللہ العزیز و الحکیم کا آخری کلام نازل ہوگا اس لیے کہ نبوت و رسالت کا منصب ان پر ختم کردیا جائے گا۔ تورات میں جو اصل صحیفہ سریانی زبان میں نازل ہوا جس کی زبان کو مختلف زبانوں میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–4

Commentary (Ha Meem ` Ayn Seen Qaf) Only Allah knows the meaning of these letters. The gist of the first five verses is as follows: Just as this surah was revealed to the Holy Prophet ﷺ for the ascertainment of the religious principles and for other benefits, similarly Allah Ta’ ala has been sending other prophets who preceded him. His Magnificence is such that whatever there is in the heavens and in the earth is His. He is the Supreme, the Most Magnificent. Even though some of the people of this world do not recognize and do not admit the greatness of His magnificence, yet the number of the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–3

1 The style of the opening verses by itself shows that in the background there are the misgivings, wonder and amazement which were being expressed at that time in every assembly, every meeting place, every street and every house and shop of Makkah at the message of the Holy Prophet and the themes of the Qur'an. The people said, "Wherefrom is this tnan bringing us new revelations everyday? The like of these we had never heard nor seen before. How strange that he rejects as false the religion that our forefathers have been following in the past, the religion that is still being followed by all…

Read the full tafseer →