Ash-Shura 42:47

Ash-Shura · from ayah 47

42:47

اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ ؕ— مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ ۟اِسۡتَجِيۡبُوۡا لِرَبِّكُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِىَ يَوۡمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ‌ؕ مَا لَكُمۡ مِّنۡ مَّلۡجَاٍ يَّوۡمَئِذٍ وَّمَا لَكُمۡ مِّنۡ نَّكِيۡرٍ

ان سے کہہ دو کہ) قبل اس کے کہ وہ دن جو ٹلے گا نہیں خدا کی طرف سے آ موجود ہو اپنے پروردگار کا حکم قبول کرو۔ اس دن تمہارے لئے نہ کوئی جائے پناہ ہوگی اور نہ تم سے گناہوں کا انکار ہی بن پڑے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Respond to your Lord before a Day comes from Allah of which there is no repelling. No refuge will you have that day, nor for you will there be any denial.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 5 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shura

All translations of 42:47

مان لو اپنے رب کی بات قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس کے ٹلنے کی کوئی صورت اللہ کی طرف سے نہیں ہے اُس دن تمہارے لیے کوئی جائے پناہ نہ ہوگی اور نہ کوئی تمہارے حال کو بدلنے کی کوشش کرنے والا ہو گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان سے کہہ دو کہ) قبل اس کے کہ وہ دن جو ٹلے گا نہیں خدا کی طرف سے آ موجود ہو اپنے پروردگار کا حکم قبول کرو۔ اس دن تمہارے لئے نہ کوئی جائے پناہ ہوگی اور نہ تم سے گناہوں کا انکار ہی بن پڑے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اپنے رب کا حکم مان لو اس سے پہلے کہ اللہ کی جانب سے وه دن آجائے جس کا ہٹ جانا ناممکن ہے، تمہیں اس روز نہ تو کوئی پناه کی جگہ ملے گی نہ چھﭗ کر انجان بن جانے کی

— مولانا محمد جوناگڑہی

(لوگو) اپنے پروردگار کی بات اس دن کے آنے سے پہلے پہلے مان لو جسے اللہ کی طرف سے ٹالا نہیں جائے گا، اس دن تمہارے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہوگی، اور نہ تمہارے لیے پوچھ گچھ کا کوئی موقع ہوگا،

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اپنے رب کا حکم مانو اس دن کے آنے سے پہلے جو اللہ کی طرف سے ٹلنے والا نہیں اس دن تمہیں کوئی پناہ نہ ہوگی اور نہ تمہیں انکار کرتے بنے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تم لوگ اپنے رب کا حکم قبول کر لو قبل اِس کے کہ وہ دن آجائے جو اللہ کی طرف سے ٹلنے والا نہیں ہے، نہ تمہارے لئے اُس دن کوئی جائے پناہ ہوگی اور نہ تمہارے لئے کوئی جائے انکار،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اپنے رب کی دعوت قبول کرو، اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس کے ٹلنے کی اللہ کی طرف سے کوئی صورت نہیں، اس دن نہ تمہارے لیے کوئی جائے پناہ ہوگی اور نہ تمہارے لیے انکار کی کوئی صورت ہوگی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس دن کے آنے سے پہلے پہلے اپنے پروردگار کا حکم مان لو جس کے ٹلنے کی کوئی صورت اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔ اس دن تمہارے لئے کوئی جائے پناہ نہ ہوگی۔ اور تم اظہار ناراضگی بھی نہ کرسکو گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اپنے رب کی دعوت پر لبیک کہو قبل اس کے کہ اللہ کی طرف سے ایک ایسا دن آدھمکے جو ٹالا نہ جاسکے گا اس دن تمہارے لئے نہ کوئی پناہ ہوگی اور نہ تم کسی چیز کو رد کرسکو گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بات مان لو اپنے رب کی (اے لوگوں !) قبل اس سے کہ آپہنچے ایک ایسا (ہولناک) دن جس کے لئے ٹلنے کی پھر کوئی صورت نہ ہوگی اللہ کی طرف سے اس دن نہ تو تمہارے لئے کوئی پناہ کی جگہ ہوگی اور نہ ہی تمہارے لئے کسی انکار کی کوئی گنجائش

— مولانا اسحاق مدنی

کہنا مان لو اپنے پروردگار کا قبل اس کے کہ ایسا دن آپہنچے جس کے لئے اللہ کی طرف سے کوئی ہٹنا نہیں تم کو اس روز کوئی پناہ نہ ملے گی اور نہ تمہارے بارے میں کوئی روک ٹوک کرنے والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے اہل ِایمان !) اپنے رب کی پکار پر لبیک کہو اس سے پہلے کہ اللہ کے حکم سے وہ دن آجائے جسے لوٹایا نہ جاسکے گا نہیں ہوگی تمہارے لیے اس دن کوئی جائے پناہ اور نہیں ہوگا تمہارے لیے کوئی موقع انکار

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان سے کہہ دو کہ اس سے پہلے کہ وہ دن اللہ کی طرف سے آموجود ہو جو ٹلنے والا نہیں اپنے رب کا حکم قبول کرلو۔ اس دن تمہارے لیے نہ کوئی پناہ کی جگہ ہوگی اور نہ ہی تم اپنے گناہوں سے انکار کرسکو گے

— محترمہ رفعت اعجاز

Accept the command of your Lord before there comes a Day from Allah that cannot be averted. On that Day there shall be no shelter for you, and none may change your predicament.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Respond to your Lord before there comes a day for which there will be no reversal from Allah‘s side. For you there will be neither a refuge that day, nor an opportunity to question (Allah about your fate).

— Muhammad Taqi Usmani

Respond to your Lord before there comes a day for which there will be no reversal from Allah‘s side. For you there will be neither a refuge that day, nor an opportunity to question (Allah about your fate).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Answer the Call of your Lord before there comes from Allah a Day which cannot be averted. You will have no refuge on that Day nor there will be for you any denying.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Answer the call of your Lord before there cometh unto you from Allah a Day which there is no averting. Ye have no refuge on that Day, nor have a ye any (power of) refusal.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Respond to your Lord before a Day comes from Allah of which there is no repelling. No refuge will you have that day, nor for you will there be any denial.

— Saheeh International

Pledge obedience to your Lord before the coming of the inevitable Day when you will find no refuge to escape from God's wrath and no one to defend you.

— Muhammad Sarwar

Hearken to your Lord before there comes the day from Allah for which there shall be no averting; you shall have no refuge on that day, nor shall it be yours to make a denial.

— Muhammad Habib Shakir

Answer the call of Your Lord afore there cometh Unto you a Day for which there is no averting from Allah. Ye will have no place of refuge on that Day, nor there will be for you any denying of Your guilt.

— Abdul Majid Daryabadi

Hearken ye to your Lord, before there come a Day which there will be no putting back, because of (the Ordainment of) Allah! that Day there will be for you no place of refuge nor will there be for you any room for denial (of your sins)!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 42:47

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 47–48

آسانی میں شکر تنگی میں صبر مومنوں کی صفت ہے چونکہ اوپر یہ ذکر تھا کہ قیامت کے دن بڑے ہیبت ناک واقعات ہوں گے وہ سخت مصیبت کا دن ہوگا تو اب یہاں اس سے ڈرا رہا ہے اور اس دن کے لئے تیار رہنے کو فرماتا ہے کہ اس اچانک آجانے والے دن سے پہلے ہی پہلے اللہ کے فرمان پر پوری طرح عمل کرلو جب وہ دن آجائے تو تمہیں نہ تو کوئی جائے پناہ ملے گی نہ ایسی جگہ کہ وہاں انجان بن کر ایسے چھپ جاؤ کہ پہچانے نہ جاؤ اور نہ نظر پڑے۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر یہ مشرک نہ مانیں تو آپ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجے گئے انہیں ہدایت پر لاکھڑا کردینا آپ کے ذمے نہیں یہ کام اللہ کا ہے۔ آپ پر صرف تبلیغ ہے حساب ہم خود لے لیں گے انسان کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 46–47

سورة الشُّوْرٰی 72 یعنی نہ اللہ خود اسے ٹالے گا اور نہ کسی دوسرے میں یہ طاقت ہے کہ ٹال سکے۔ سورة الشُّوْرٰی 73 اصل الفاظ ہیں مَا لَکُمْ مِنْ نَّکِیْرٍ۔ اس فقرے کے کئی مفہوم اور بھی ہیں۔ ایک یہ کہ تم اپنے کرتوتوں میں سے کسی کا انکار نہ کرسکو گے۔ دوسرے یہ کہ تم بھیس بدل کر کہیں چھپ نہ سکو گے۔ تیسرے یہ کہ تمہارے ساتھ جو کچھ بھی کیا جائے گا اس کا تم کوئی احتجاج اور اظہار ناراضی نہ کرسکو گے۔ چوتھے یہ کہ تمہارے بس میں نہ ہوگا کہ جس حالت میں تم مبتلا کیے گئے ہو اسے بدل سکو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–50

معارف و مسائل آیات مذکورہ کی ابتدائی آیات میں ان لوگوں کا انجام مذکور ہے جو مومنین صالحین کے بالمقابل بجائے فکر آخرت کے صرف دنیا کی لذت و راحت کے طلب گار رہے۔ اس کے بعد (آیت) اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ میں ان کو نصیحت کی گئی کہ قیامت کا عذاب آنے سے پہلے توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں۔ اور پھر رسول اللہ ﷺ کو تسلی اور اطمینان دلایا گیا ہے کہ آپ کی بار بار تبلیغ اور کوشش کے باوجود اگر یہ لوگ ہوش میں نہ آویں تو آپ غم نہ کریں، (آیت) فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَآ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيْظًا۔ کا یہی مطلب ہے۔ آخرت آیات میں (آیت) لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ سے آخر تک تخلیق کائنات میں جو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

استجیبوا لربکم من قبل ان یاتی یوم لا مردلہ من اللہ ط مالکم من ملجاء یومئذ وما لکم من نکیر (47) من اللہ کا تعلق میرے نزدیک ان یاتی یوم سے ہے اور لامردلہ یوم کی صفت ہے۔ دعوت بطور زجر و تنبیہ یہ دعوت بطور زجر و تنبیہ ہے۔ فرمایا کہ اب بھی وقت باقی ہے کہ اپنے رب کی دعوت قبول کر کے اپنی عاقبت سنوار لو۔ ورنہ یاد رکھو کہ جب تمہارے رب کی طرف سے وہ دن آجائے گا جو اٹل ہے تو اس وقت تمہارا اس کو قبول کرنا اور نہ کرنا دونوں یکساں ہوگا۔ اس دن نہ تمہارے لیء کوئی پناہ ہوگی اور نہ اس دن تم کسی چیز کو رد کرسکو گے۔ جو کچھ تمہارا سامنے آئے گا بےچون و چرا اس کے آگے سر جھکا دینا پڑے گا۔ نکیر کا ترجمہ عامطور پر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 46–47

47۔ 1 یعنی جس کو روکنے اور ٹالنے کی کوئی طاقت نہیں رکھے گا۔ 47۔ 2 یعنی تمہارے لئے کوئی ایسی جگہ نہیں ہوگی، کہ جس میں تم چھپ کر انجان بن جاؤ اور پہنچانے نہ جاسکو یا نظر میں نہ آسکو جیسے فرمایا ' اس دن انسان کہے گا، کہیں بھاگنے کی جگہ ہے، ہرگز نہیں، کوئی راہ فرار نہیں ہوگی، اس دن تیرے رب کے پاس ہی ٹھکانا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 47–50

9: یعنی کسی کی مجال نہیں ہوگی کہ اللہ تعالیٰ سے یہ پوچھ سکے کہ اس شخص کو یہ سزا کیوں دی گئی ہے، کیونکہ تمام انسانوں پر حجت پہلے ہی تمام ہوچکی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 47 اس کے بعد انسان کے عمومی مزاج کو ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ انسان جو دعوت اسلامی اور سچائی کا مقابلہ کرتا ہے اور رسول برحق سے عناد رکھتا ہے اور اس طرح اپنے آپ کو اذیت و عذاب کا مستحق گردانتا ہے تو اس کی حالت یہ ہے کہ جب کسی اذیت میں یہ مبتلا ہوجاتا ہے تو اسے برداشت نہیں کرسکتا۔ اس کی قوت برداشت جواب دے دیتی ہے۔ جزع فزع اور آہ و فغاں شروع کردیتا ہے اور اگر اللہ کی کوئی نعمت مل جائے تو ہواؤں پر اڑنے لگتا ہے۔ اور حدود پار کرلیتا ہے جبکہ سختی میں مایوس اور کافر ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی جیسے دنیا میں عذاب موخر ہوتا اور ٹلتا چلا جاتا ہے، اس دن نہیں ٹلے گا۔ 4 یعنی مکر جانے سے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ اور ابن کثیر نے یوں معنی کیے ہیں کہ کوئی موقع ایسا نہ ملے گا جب تم پہچانے نہ جاؤ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 47 { اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَہٗ مِنَ اللّٰہِ } ”اے اہل ِایمان ! اپنے رب کی پکار پر لبیک کہو ‘ اس سے پہلے کہ اللہ کے حکم سے وہ دن آجائے جسے لوٹایا نہ جاسکے گا۔“ یہ اسی ”استجابت“ کا ذکر ہے جس کے بارے میں قبل ازیں ہم آیت 38 میں پڑھ چکے ہیں۔ وہاں یہ ذکر اصحابِ عزیمت کی مدح کے طور پر آیا تھا ‘ لیکن یہاں اب اس کے لیے ترغیب و تشویق کا انداز ہے کہ اے لوگو ! اب جبکہ تم نے یہ تمام احکام پڑھ لیے ہیں ‘ غلبہ دین کے حوالے سے تم نے اپنے فرائض کو سمجھ لیا ہے ‘ اس ضمن میں اپنے رب کی مرضی و منشا بھی تمہیں معلوم ہوچکی ہے ‘ تو اب آئو ! آگے بڑھو ! اور اپنے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 46–47

66 یعنی دنیا میں ان سے عذاب ٹلتا رہا اور انہیں مہلت دی جاتی رہی۔ مگر اس دن ایسی کوئی صورت نہ ہوگی اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ جو عذاب اللہ نے ان کے لیے مقرر کردیا ہے کسی میں ہمت نہ ہوگی کہ وہ اسے ان سے ٹال سکے۔ 67 نکیر کے مختلف مفہوم :۔ نکیر کا مادہ نکر ہے اور اس میں بنیادی طور پر دو باتیں پائی جاتی ہیں۔ (1) اجنبیت، (2) ناگواری (نکرہ کی ضد معرفہ ہے) نکر بمعنی ناگوار۔ نازیبا اور نامعقول چیز اور نکیر کے معنی ناگوار، نازیبا، نامعقول چیز بھی اور ایسی چیز کو دیکھ کر ناک بھوں چڑھانا یا ناراضگی کا اظہار کرنا بھی اور نکر کے معنی کسی چیز کو بگاڑ دینا اور اس کی شکل بدل دینا بھی ہے۔ اس لحاظ سے اس جملہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

53۔ (جو اتنا پوچھ ہی لے کہ ان لوگوں کا یہ حال کیوں بنایا ہے) (آیت) ” یوم لامردلہ “۔ یعنی دنیا میں تو عذاب کا ہٹ جانا ممکن بھی ہے وہاں مہلت وتوقف کی کوئی صورت ہی نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 44–53

آیت نمبر 44 تا 53 ترجمہ : اور اللہ جسے گمراہ کر دے اس کے بعد اس کا کوئی کارساز نہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے اس کو گمراہ کرنے کے بعد اس کی ہدایت کا کوئی ولی نہیں، اور (اے مخاطب) تو دیکھے گا کہ ظالم لوگ عذاب کو دیکھ کر کہہ رہے ہوں گے کہ کیا دنیا کی طرف لوٹنے کی کوئی صورت ہے اور (اے مخاطب) تو دیکھے گا کہ وہ جہنم کے سامنے لا کھڑے کئے جائیں گے، خوف وذلت کے مارے جھکے جار ہے ہوں گے، اور کنکھیوں سے دزدیدہ نظروں سے اسے (جہنم کو) دیکھ رہے ہوں گے، مِنْ ابتدائیہ ہے یا بمعنی باء ہے مومنین کہیں گے کہ حقیقی زیاں کار وہ ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو دائمی عذاب میں مبتلا کر کے اور ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

استجیبوا لربکم من قبل ان یاتی یوم لا مرد لہ من اللہ ما لکم من ملجا یومئذ وما لکم من نکیر تم اپنے رب کا حکم مانو قبل اس کے کہ ایسا دن آجائے جس کیلئے اللہ کی طرف سے ہٹنا نہ ہوگا۔ اس روز تم کو کوئی پناہ ملے گی اور نہ تمہارے بارے میں (ا اللہ سے) کوئی روک ٹوک کرنے والا ہے۔ اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّکُمْ یعنی محمد ﷺ جو اللہ کی طرف بلانے والے ہیں ‘ تم ان کی نافرمانی نہ کرو۔ لاَ مَرَدَّ لَہٗ مِنَ اللہ یعنی اللہ جب اس روز کے آنے کا حکم دے چکے گا تو پھر اس حکم کو واپس نہیں لے گا۔ اس مطلب پر مِن اللہ کا تعلق لَا مرَدّ سے ہوگا۔ بعض کے نزدیک اس کا تعلق یَأتِی سے ہے ‘ یعنی وہ دن جب آئے گا تو اس کا لوٹانا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

قیامت کا دن آنے سے پہلے جس میں عذاب الہی ہٹایا نہیں جائے گا تم اپنے پروردگار کا توحید کے بارے میں حکم مانور اور اس روز تمہیں عذاب خداوندی سے کوئی پناہ کی جگہ نہیں ملے گی اور نہ تمہارا کوئی مددگار ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) استجیبوا لربکم من قبل …:”مرد“”رد یردر داً“ (ن) سے مصدر میمی بھی ہوسکتا ہے۔ ظرف زمان بھی اور ظرف مجکان بھی، ہاٹنے یا ٹالنے کی کوئی صورت یا کوئی وقت یا کوئی جگہ۔ اس جملے میں اللہ تعالیٰ کی دعوت کو جلد از جلد قبول کرنے کی تاکید کئی طرح سے فرمائی ہے۔ سب سے پہلے ”اجیبوا“ کے بجائے ”استجیبوا“ کے لفظ کے ساتھ۔ تفصیل کے لئے دیکھیے اسی سورت کی آیت (38) کی تفسیر۔ پھر اپنی ربوبیت کے احسان کی یاد دہانی کے ساتھ اور آخر میں اس دن سے ڈرانے کے ساتھ جس کے آنے کے بعد نہ اس کے ٹالے جانے کی کوئی صورت ہے، نہ وہ کسی وقت ٹالا جاسکے گا اور نہ کسی مقام پر ٹلے گا۔ (2) لا مرد لہ من اللہ : اس کے دو مطلب ہیں، ایک یہ کہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

(آیت نمبر 47 ) استجیبوا لربکم اس نے تمہیں ایمان اور اطاعت کی طرف جو دعوت دی ہے اس پر لبیک کہو : استجاب اور اجاب دونوں کا ایک ہی معنی ہے۔ یہ بحث پہلے گذر چکی ہے۔ مالکم من ملجا کوئی ایسی پناہ گاہ نہیں ہوگی جو تمہیں عذاب سے نجات دے۔ وما لکم من نکیر۔ کوئی مددگار نہیں جو تمہاری مدد کرے (1) ؛ یہ مجاہد کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نکیر منکر کے معنی میں ہے جس طرح الیم ‘ منولم کے معنی میں ہے یعنی جب اللہ تعالیٰ تم پر عذاب نازل فرمائے گا تو اس روز تم کسی انکار کرنے والے کو نہ پائو گے ؛ یہ ابن ابی حاتم نے بیان کیا ہے ؛ یہ کلبی کا قول ہے (2) ۔ زجاج نے کہا : اس کا معنی ہے وہ ان گناہوں کے انکار پر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 45–48

1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ینظرون من طرف خفی “ (سست نگاہ سے دیکھتے ہوں گے) یعنی ذلیل ہوکر۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 3:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے محمد بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ینظرون من طرف خفی “ سے مراد ہے کہ وہ نظرکو چرائیں گے آگ کی طرف (یعنی چوری چوری دیکھیں گے ) ۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ اسی طرح روایت کیا ہے۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) نے خلف بن خوشب (رح) سے روایت کیا کہ زید بن صوحان نے یہ آیت پڑھی (آیت ) ” استجیبوا لربکم من قبل ان یاتی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِسْتَجِيْبُوْا [ تم لوگ جواب دو (کہا مانو)] لِرَبِّكُمْ [ اپنے رب کا ] مِّنْ قَبْلِ اَنْ [ اس سے پہلے کہ ] يَّاْتِيَ [ آئے ] يَوْمٌ [ ایک ایسا دن ] لَّا مَرَدَّ [ لوٹانے کا کوئی بھی امکان نہیں ہے ] لَهٗ [ جس کو ] مِنَ اللّٰهِ ۭ [ اللہ (کی طرف) سے ] مَا لَكُمْ [ تمہارے لئے نہیں ہوگی ] مِّنْ مَّلْجَاٍ [ کوئی بھی پناہ گاہ ] يَّوْمَىِٕذٍ [ اس دن ] وَّمَا لَكُمْ [ اور تمہارے لئے نہیں ہوگا ] مِّنْ نَّكِيْرٍ [ کوئی بھی عدم عرفان (مکرنا ) ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 45–47

قیامت آنے سے پہلے اپنے رب کا حکم مانو ان آیات میں اولاً یہ ارشاد فرمایا کہ جب قیامت کا دن آئے گا تو واپس نہیں کیا جائے گا وہ واقع ہوگیا سو ہوگیا اس دن کے آنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بات مان لو، ایمان بھی قبول کرو اور عمل صالحہ بھی اختیار کرو جب قیامت کا دن ہوگا تو کسی کے لیے کوئی پناہ نہ ہوگی اللہ جس کو پناہ دے اسی کو پناہ مل سکے گی اور کافروں کے لیے کوئی پناہ کی جگہ نہیں، اس دن جس شخص کے ساتھ جو بھی معاملہ ہوگا اس میں کسی کو بھی کسی کے بارے میں یہ کہنے کا اختیار نہ ہوگا کہ یہ کیوں ہوا اور کیوں ہو رہا ہے۔ قولہ تعالیٰ : وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ قال القرطبی ؓ ای لا یجدون منکرا یومئذٍ بما…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 44–50

قباحت حال و محرومی وذلت کفار وروز قیامت وبیان کمزوری فطرت انسان : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ومن یضلل اللہ فمالہ من ولی من بعدہ ....... الی ...... انہ علیم قدیر “۔ (ربط) اس سے قبل آیات میں اہل ایمان وتقوی اور ان کے اوصاف خاصہ کا ذکر تھا اب ان آیات میں گمراہوں اور مجرموں کی بدنصیبی ذلت و محرومی کا بیان ہے، ساتھ ہی انسان کی اس فطری کمزوری کا بھی بیان ہے جو اکثر مراحل میں اس کو افعال رذیلہ اور خصائص ذمیمہ کا مرتکب بناتی ہے ہے ارشاد ہے اور جس کو گمراہ کردے اللہ تو پھر اس کے بعد اس کے واسطے کوئی چارہ ساز نہیں کہ اس کو ہدایت دیدے، اور اے مخاطب تو دیکھے گا قیامت کے روز ظالموں کو جبکہ وہ عذاب خداوندی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

37:۔ ” استجیبوا لربکم “ یہ دوسرے دعوے سے متعلق ہے اور ثمرہ ہے اور تخویف اخروی بھی ہے یعنی جب باغیوں کی تحریریں حجت نہیں تو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے احکام کو قبول کرو اور صرف اسی کی عبادت کرو اور اسی کو پکارو اور گمراہوں کی تحریفات کے پیچھے نہ جاؤ۔ اجیبوہ بالتوحید والعبادۃ (جلالین) ۔ قبل اس کے کہ وہ اللہ کی طرف سے وہ دن آجائے جس کی آمد کوئی روک نہیں سکتا۔ اور وہ لامحالہ آ کر رہے گا۔ مراد قیامت کا دن ہے یا موت کا دن۔ ای لایقدر احد علی دفعہ وھو یوم القیامۃ و قیل ھو یوم الموت (خازن ج 6 ص 128) ۔ من اللہ، یاتی کے متعلق ہے یا یوم کی صفت ہے۔ (روح) وہ دن نہایت ہولناک ہوگا اس دن نہ تو تم کہیں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 44–50

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے دین کے بہت سے اہم اصول بیان فرمائے تھے جن پر انسانیت کی فوز و فلاح کا دارومدار ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان اور بھروسہ ، کبائر اور بےحیائی سے اجتناب ، غصے کی حالت میں در گزر ، حکم الٰہی کی تعمیل نماز کا قیام ، انفرادی اور اجتماعی معاملات میں باہمی مشاورت ، خدا کی عطا کردہ روزی میں سے مستحقین پر انفاق ، سرکشی کرنے والے سے انتقام مگر در گزر کی پسندیدگی وغیرہ موٹے موٹے اصول ہیں جو اللہ نے گزشتہ درس میں بیان کیے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور گمراہی کی بات سمجھائی ہے۔ پھر رسالت اور توحید کا مسئلہ بھی بیان فرما دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تخلیق…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَہٗ مِنَ اللہِ۝ 0 ۭ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ۝ 47 استجاب والاستجابة قيل : هي الإجابة، وحقیقتها هي التحري للجواب والتهيؤ له، لکن عبّر به عن الإجابة لقلة انفکاکها منها، قال تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ [ الأنفال/ 24] ، وقال : ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ [ غافر/ 60] ، فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي [ البقرة/ 186] ، فَاسْتَجابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ [ آل عمران/ 195] ، وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ الشوری/ 26] وَالَّذِينَ اسْتَجابُوا لِرَبِّهِمْ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 47–50

ترکیب : من اللہ صلۃ لامرد وقبل صلۃ یاتی ای یاتی یوم من اللہ لایمکن ردہ۔ اذا شرطیہ فرح بہا جواب وان شرطیہ والجواب ینسی النعمۃ راساو اقیم مقامہ فان الانسان کفورلانہ علۃ الجزاء عقیما الخ بدل من یخلق بدل البعض۔ تفسیر : کفار کی حالت مذکورہ کو ازلی تقدیر کا باعث بنا کر اطاعت و فرمانبرداری کا ارشاد فرماتا ہے فقال استجیبوالربکم کہ اپنے رب کا کہا مانو جو تم کو راہ راست کی طرف بلاتا ہے من قبل الخ اس دن سے پہلے کہ تم پر اللہ کی طرف سے کوئی دن آوے اور وہ کسی کے ٹالے سے نہ ٹلے۔ اس دن سے مراد موت کا دن ہے یا قیامت کا دن اس دن تمہارے لیے کوئی پناہ کی جگہ نہ ہوگی اور نہ انکار کی گنجائش ہوگی۔ نکیر کے معنی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّـکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لاَّ مَرَدَّلَـہٗ مِنَ اللّٰہِ ط مَالَـکُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّمَا لَـکُمْ مِّنْ نَّـکِیْرٍ ۔ (الشوری : 47) (اپنے رب کی دعوت کو قبول کرو اس سے پہلے کہ اللہ کی طرف سے وہ دن آجائے جس کے لیے ٹلنا نہیں، اس روز تمہارے لیے نہ کوئی جائے پناہ ہوگی اور نہ تم کسی چیز کو رد کرسکو گے۔ ) آخری موقع دیا جارہا ہے مخالفین کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ تم اپنے کرتوتوں کے نتیجے میں جس صورتحال سے دوچار ہوئے ہو اس میں اگرچہ تمہارے لیے کسی کارسازی کی گنجائش نہیں، تاہم ایک آخری موقع دیا جارہا ہے کہ ہمارے آخری نبی کی دعوت کو قبول کرلو۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : صراط مستقیم پانے اور جہنم سے نجات حاصل کرنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ لوگوں کو اپنے رب کی بات مان کر اس کا تابع فرمان ہوجانا چاہیے۔ جب اللہ تعالیٰ کے سوا دنیا اور آخرت میں کوئی مدد کرنے والا نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا جہنّم سے بچا سکتا ہے تو پھر لوگوں کو اپنے رب کے حکم کے مطابق ہی زندگی بسر کرنی چاہیے۔ جو لوگ اپنے رب کی نافرمانی میں زندگی گزارتے ہیں انہیں ایک مرتبہ پھر سمجھایا گیا ہے کہ اس دن کے عذاب سے پہلے اپنے آپ کو سدھار لو جس دن کا عذاب کسی کے ٹالنے سے ٹل نہیں سکتا اور نہ ہی کوئی جائے پناہ ہوگی اور نہ ہی کوئی نکیر کرسکے گا۔ نکیر کا لفظ نکر سے نکلا ہے۔ جس کے اہل علم نے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قیامت سے پہلے اس کی بات مان لو : 47: اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّکُمْ (تم اپنے رب کا حکم مان لو) اس کو قبول کرلو جس کی طرف اس نے تمہیں بلایا ہے۔ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ (اس سے پہلے کہ ایسا دن آن پہنچے) یوم ؔ سے پہلے قیامت کا دن مراد ہے۔ لَّا مَرَدَّلَہٗ مِنَ اللّٰہِ (جس کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہٹنانہ ہوگا) مِنْ یہ لامرد سے متصل ہے ای لایردہ اللہ بعد ماحکم بہٖ اللہ تعالیٰ اس کا حکم کرنے کے بعد واپس نہیں لوٹائے گا۔ نمبر 2۔ یاتی سے تعلق ہے ای من قبل ان یاتی من اللہ یوم لا یقدر احدٌ علی ردّہٖ ۔ اس سے پہلے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا دن آجائے کہ جس دن کوئی شخص اس کے لوٹانے کی طاقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

46، وماکان لھم من اولیاء ینصرونھم من دون اللہ ومن یضلل اللہ فما لہ من سبیل ، دنیا میں درستگی اور حق تک پہنچنے کا راستہ اور آخرت میں جنت تک پہنچنے کا راستہ تحقیق ان پر خیر کے راستے بند کردیئے گئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 44–50

44۔ 50۔ اوپر اچھے لوگوں کی عادتوں کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا یہ اچھی عادتوں کے وہی لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نیک قرار پا چکے ہیں اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں بد قرار پا چکے ہیں وہ اپنے ارادہ سے تو اچھی عادتوں کو اختیار نہیں کرتے اور مجبور کرکے کسی کو راہ راست پر لانا اللہ کو منظور نہیں ہے اس واسطے مرتے دم تک ایسے لوگ اپنی بد عاتوں پر رہیں گے اور قیامت کے دن ان لوگوں کا حال دیکھنے کے قابل ہوگا کہ میدان حشر میں جب جہنم کو اس طرح لایا جائے گا کہ جہنم کی ستر ہزار نکیلیں اونٹ کی سی ہوں گی اور ہر ہر نکیل پر ستر ستر ہزار فرشتے ہوں گے اور ان نکیلوں کو کھینچ رہے ہوں گے جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 46–47

آیت 46 اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ہدایت عطا کرنے اور اصلاح کرنے میں تنہا ہے۔ (ومن یضلل اللہ) جسے اللہ تعالیٰ اس کے ظلم کے سبب سے گمراہ کر دے (فمالہ من ولی م بعدہ) ” تو اس کے بعد اس کا کوئی دوست نہیں۔ “ جو اس کے معاملے کی سرپرستی کرے اور اس کی راہنمائی کرے۔ (وتری الظلمین لما راوا العذاب) اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب وہ عذاب کا بہت ہی برا، بہت مشکل اور نہایت قبیح منظر دیکھیں گے تو وہ بہت زیادہ ندامت اور اپنے گزشتہ کر تتوں پر افسوس کا اظہار کریں گے۔ (یقولون ھل الی مرد من سبیل) اور کہیں گے : کیا دنیا میں دوبارہ جانے کا کوئی طریقہ یا کوئی حیلہ ہے تاکہ ہم ان کاموں سے مختلف کام کریں جو ہم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 39–53

انتقام لینا کب جائز ہوتا ہے ؟ قول باری ہے (والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون۔ اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم واقع ہوتا ہے تو وہ (برابر کا ) بدلہ لے لیتے ہیں) ابراہیم نخعی سے آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ لوگ مسلمانوں کے لئے اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ اپنے آپ کو دبا کر اور عاجز بنا کر رکھیں جس کی بنا پر فاسق وفاجر لوگوں کو ان کے خلاف جرات دکھانے کا موقعہ مل جائے۔ سدی کا قول ہے کہ (ھم ینتصرون) کا مفہوم یہ ہے کہ وہ لوگ ان لوگوں سے بدلہ لے لیتے ہیں جو ان پر ظلم کرتے ہیں لیکن وہ ان کے ساتھ زیادتی نہیں کرتے۔ ابولکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کئی مقامات پر ہمیں اس بات کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

94 دعوت حق بطور زجر و تنبیہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حکم مان لو تم اپنے رب کا ۔ اے لوگو !۔ قبل اس سے کہ آپہنچے وہ ہولناک دن جس کے ٹلنے کی پھر کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی۔ پس اس فرصت حیات کو تم لوگ غنیمت جانو جو آج تمہیں میسر ہے کہ یہ لحظہ بہ لحظہ ہاتھ سے نکلی جا رہی ہے۔ اور جب ہاتھ سے نکل گئی تو پھر اس کے واپس آنے کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ لہذا جو ایمان سے محروم ہے وہ ایمان لا کر اور جو عمل صالح اور تقویٰ سے محروم ہے وہ عمل صالح اور تقویٰ کو اپنا کر اس ہولناک دن کی تیاری میں لگ جائے۔ اور زندگی کی محدود و مختصر فرصت کو غنیمت سمجھے ۔ اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنَا التِّوْفِیْقَ ۔ بہرکیف اس ہولناک دن کے آنے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 47–50

اللہ کو کوئی پوچھنے والا نہیں تشریح : یہاں پھر دہرایا گیا ہے کہ نیکی ہی نجات کا راستہ ہے اگر اختیار کرلو گے تو اپنا ہی بھلا ہوگا نہیں کرو گے تو پھر سوچ لو تمہارا کوئی مدد گار، سفارش کرنے والا اور بچانے والا کوئی نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ تمام اختیارات صرف اور صرف اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔ ہر قسم کی نعمت، عزت اور آسائش دینے والا صرف اللہ ہی ہے تمام حکمتیں اس کو معلوم ہیں۔ جس کے لیے جو بہترین سمجھتا ہے وہ اس کو دیتا ہے۔ یہاں خاص طور پر ان پیروں فقیروں کی طرف جانے سے منع کیا گیا ہے جن کے پاس لوگ اپنی مرادیں مانگنے کے لیے جاتے ہیں خاص طور سے اولاد مانگنے جاتے ہیں یہ بڑی سخت شرک کی بات ہے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 44–53

آیات 44 تا 53۔ اسرار ومعارف۔ اور جس شخص کے کردار کے باعث اللہ نے ہی اس پر ہدایت کے دروازے بند کردیے اور گمراہی مقدر کردی پھر اسے کوئی بھی راہ پر نہیں لاسکتا بلکہ اسے مخاطب ایسے لوگ اپنے انجام کو پہنچیں گے اور تو دیکھے گا کہ ان ظالموں کو جب عذاب کا مشاہدہ ہوگا تو پکار اٹھیں گے کہ کیا کوئی ایسا طریقہ کہ ہم دنیا میں واپس جاسکیں تاکہ اب نیکیاں کرکے لائیں اور ایمان کی حالت میں یہاں پہنچیں اور دیکھو گے کہ جب دوزخ کی آگ کے روبرو ہوں گے توشرمندگی اور ذلت کے سبب نظریں جھکائے ہوئے ہوں گے اور کن اکھیوں سے دوزخ کی آگ کو ڈرتے ڈرتے دیکھیں گے تب مومن کہیں گے خسارہ اور بہت بڑا نقصان حقیقتا یہ ہے کہ جن لوگوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

۔5 یعنی جسے نہ اللہ تعالیٰ خود ٹالے گا اور نہ کسی دوسرے میں طاقت ہے کہ اسے ٹالنے پر مجبور کرسکے۔ 6” بلکہ تمہیں چار و ناچاران کا اقرار کرنے پڑے گا، کیونکہ تمہارے ہاتھ پائوں تک تمہارے خلاف گواہ بن کر کھڑے ہوجائیں گے “۔ یہ مطلب اس صورت میں ہے جب ” نکیر “ کے معنی ” انکار “ کئے جائیں اور اگر اس کے معنی ” منکر “ ( بدلنے والا) کئے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ نہ کوئی تمہارے حال کو بدلنے والا ہوگا “۔ حافظ ابن کثیر (رح) اس کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ ” تمہارے لئے بھیس بدل کر بچ نکلنے کا کوئی بھی موقع نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(42:47) استجیبوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر غائب استجابۃ (استفعال) مصدر۔ تم حکم مانو۔ بعض نے کہا ہے استجیبوا لربکم : ای اجیبوا داعی اللّٰہ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ ۔ من قبل ان : ان مصدریہ ہے۔ یاتی یوم لا مردلہ من اللّٰہ۔ ای یاتی یوم من دون اللّٰہ لامردلہ (پیشتر اس کے کہ) آجائے اللہ کی طرف سے وہ دن جو ٹلنے والا نہیں ہے۔ یوم سے مراد۔ یوم الموت یا یوم القیامۃ ہے۔ لا مردلہ۔ مرد۔ رد۔ مصدر میمی ہے پھیرنا۔ لوٹنا۔ کہ اس کے لئے بٹ جانا ۔ ٹل جانا۔ یا لوٹ جانا ممکن نہیں ہے۔ اگر من اللّٰہ کا تعلق لامرد سے ہے تو مطلب ہوگا۔ کہ اللہ جب اس روز کے آنے کا حکم دے چکے گا۔ تو پھر اس حکم کو واپس نہیں لے گا۔ ملجا۔ اسم ظرف…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 47–50

لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 50 : ملجائ ( ٹھکانہ ، پناہ کی جگہ) نکیر ( مکر جانا) اذقنا ( ہم نے چکھایا) فرح (خوش ہوگیا) کفور ( بہت زیادہ نا شکرا) یھب ( وہ دیتا ہے) اناث ( بیٹیاں ، لڑکیاں) الذکور (بیٹے ، لڑکے) یزوج ( وہ جوڑے بنا دیتا ہے) عقیما (بانجھ ، اولاد سے مایوس) تشریح : آیت نمبر 47 تا 50 : دین اسلام نے توحید کا یہ بنیادی تصور پش کیا ہے کہ اس کائنات کے ذرے ذرے میں اور آخرت کے ہر فیصلے میں صرف ایک اللہ کو مکمل اختیار حاصل ہے اس کے سوا کوئی اس کے اس اختیار میں شریک نہیں ہے ۔ وہ ہر چیز کے بنانے بگاڑنے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے نظام کائنات کو چلا رہا ہے۔ وہ اپنی رحمت اور فضل و…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 45–51

قرآن خدا کی کتاب ہے۔ (ف 1) شان نزول : یہود نبی کی نبوت پر لوگوں کے بہکانے کے لیے اور حسد کے سبب سے یہ اعتراض کیا کرتے تھے کہ اگر یہ نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ سے بلاواسطہ فرشتے کے کلام کرتے وقت اس کو کیوں نہیں دیکھتے جیسا کہ حضرت موسیٰ دیکھتے تھے ان کے اس اعتراض کو جواب نبی ﷺ نے یہ دیا کہ حضرت موسیٰ بھی نہیں دیکھتے تھے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، اصل مطلب یہ ہے کہ بلاپردہ کی آڑ کی تو نہ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا اور نہ کسی آدمی میں یہ طاقت ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے روبروباتیں بےپردہ حجاب فرمائے، ہاں پچھلے تمام انبیاء مین جو وحی کا طریقہ تھا کہ خواب میں کوئی بات معلوم ہوجاتی تھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 44–51

[26] یعنی دل میں کوئی بات ڈال دے یا خواب میں کچھ دکھا دے جیسے ابراہیم (علیہ السلام) اور یوسف (علیہ السلام) کو دکھایا گیا۔ [27] یعنی بلاواسطہ پردے کے پیچھے سے کلام فرمائے جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر پیش آیا۔ [28] یعنی فرشتہ کے ذریعے وحی بھیجتا ہے جیسے قرآن مجید جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعے نبی ﷺ کو بھیجا گیا۔ اس آیت میں جواب ہے مخالفین کے اس مطالبے کا جو قرآن میں متعدد مقامات پر مختلف اسلوبوں سے نقل ہوا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ محمد ﷺ سے بات کرتا ہے جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے تو آخر وہ ہم سے روبرو ہو کر بات کیوں نہیں کرتا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 47–48

آیت 47 ۔ 48 1: اس دن سے پہلے پہلے اللہ کی اطاعت کا عہد کرلو ۔ اور کاملاً اختیار اور فرمانبرداری اختیار کرو ۔ کیونکہ اس دن گنہگاروں کے لئے کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہے ۔ اور نہ یہ ممکن ہے ۔ کہ کوئی شخص اس دن تمہارے بارے میں اللہ سے جھگڑا کرسکے اور بحث کرسکے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(47) تم لوگ اپنے پروردگار کا حکم مان لو اور اس کا حکم قبول کرلو اس دن کے آنے سے پہلے کہ جس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے واپس ہونا اور پھرنا نہیں اس دن تمہارے لئے نہ کوئی پناہ گاہ اور بچائو کی جگہ ہوگی اور نہ تمہارے لئے انکار کی کوئی گنجائش ہوگی۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی عبادت کو مان لو اور قبول کرلو اس دن کے آنے سے پہلے یعنی قیامت کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کے آئے پیچھے واپسی نہیں وہ دن ایسا ہے کہ جس دن نہ کہیں بھاگ کر پناہ لے سکو گے نہ اپنے برے اعمال سے انکار ہی کرسکو گے یا نکیر کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر کوئی انکار کرنے والا بھی نہ ہوگا جو یہ پوچھ سکے کہ ایسا کیوں کیا…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اصلاح چاہتے ہو تو قیامت سے پہلے پہلے اصلاح کرلو تمہارا فائدہ اسی میں ہے 47 ؎ مثل ہے کہ صبح کا روٹھا اگر شام کو واپس آجائے تو اس کے روٹھنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ دنیا کی زندگی کی کوتاہیوں کا ازالہ اس دنیوی زندگی ہی میں ممکن ہے اگر کوئی شخص اپنی کوتاہی کو کوتاہی تسلیم کرلے اور اس کوتاہی سے باز آجائے تو یہی اس کی کوتاہی کا ازالہ ہے اور اسلام کی زبان میں اس کو ” توبہ “ کا نام دیا گیا ہے اس لیے جو شخص سچے دل سے توبہ کر کے اپنے کیے پر ربر پھیر دے اللہ تعالیٰ یقینا اس سے درگزر فرماتا ہے اور دنیوی زندگی گزرتے گزرتے اسی بھول کے اندر گزر جائے اور توبہ وانابت کی طرف انسان رجوع نہ کرے تو موت آجانے کے بعد جب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 45–50

Commentary The earlier three of the above verses state the end of those people who, as against the virtuous Muslims, remained desirous of the delights and luxuries of this world, instead of caring about the Hereafter. Then in verse 47, they have been advised to repent and embrace faith before the scourge of Doomsday comes upon them. Thereafter, in verse 48, the Holy Prophet ﷺ has been comforted and assured that if these people do not come to their senses, despite your preaching again and again, and despite your tireless efforts, then you should not worry: فَإِنْ أَعْرَ‌ضُوا فَمَا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 46–47

72. That is, neither will Allah Himself avert it, nor has anyone else the power to avert it. 73. This sentence has several other meanings also: (1) You will not be able to deny any of your misdeeds. (2) You will not be able to hide yourself even in disguise. (3) You will not be able to protest or show any displeasure against any treatment that is meted out to you. (4) It will not be in your power to change the condition in which you are placed.

Read the full tafseer →