Ash-Shura 42:48

Ash-Shura · from ayah 48

42:48

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا ؕ— اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ ؕ— وَاِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا ۚ— وَاِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ ۟فَاِنۡ اَعۡرَضُوۡا فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيۡظًا‌ؕ اِنۡ عَلَيۡكَ اِلَّا الۡبَلٰغُ‌ ؕ وَاِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنَّا رَحۡمَةً فَرِحَ بِهَا‌ۚ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ فَاِنَّ الۡاِنۡسَانَ كَفُوۡرٌ

پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو ہم نے تم کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔ تمہارا کام تو صرف (احکام کا) پہنچا دینا ہے۔ اور جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو اس سے خوش ہوجاتا ہے۔ اور اگر ان کو ان ہی کے اعمال کے سبب کوئی سختی پہنچتی ہے تو (سب احسانوں کو بھول جاتے ہیں) بےشک انسان بڑا ناشکرا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But if they turn away - then We have not sent you, [O Muhammad], over them as a guardian; upon you is only [the duty of] notification. And indeed, when We let man taste mercy from us, he rejoices in it; but if evil afflicts him for what his hands have put forth, then indeed, man is ungrateful.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 5 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shura

All translations of 42:48

اب اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو اے نبیؐ، ہم نے تم کو ان پر نگہبان بنا کر تو نہیں بھیجا ہے تم پر تو صرف بات پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے انسان کا حال یہ ہے کہ جب ہم اسے اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو اُس پر پھول جاتا ہے، اور اگر اس کے اپنے ہاتھوں کا کیا دھرا کسی مصیبت کی شکل میں اُس پر الٹ پڑتا ہے تو سخت ناشکرا بن جاتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو ہم نے تم کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔ تمہارا کام تو صرف (احکام کا) پہنچا دینا ہے۔ اور جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو اس سے خوش ہوجاتا ہے۔ اور اگر ان کو ان ہی کے اعمال کے سبب کوئی سختی پہنچتی ہے تو (سب احسانوں کو بھول جاتے ہیں) بےشک انسان بڑا ناشکرا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اگر یہ منھ پھیرلیں تو ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا، آپ کے ذمہ تو صرف پیغام پہنچا دینا ہے، ہم جب کبھی انسان کو اپنی مہربانی کا مزه چکھاتے ہیں تو وه اس پر اترا جاتا ہے اور اگر انہیں ان کے اعمال کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو بےشک انسان بڑا ہی ناشکرا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر) یہ لوگ اگر پھر بھی منہ موڑیں تو ہم نے تمہیں ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجا ہے، تم پر بات پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے، اور (انسان کا حال یہ ہے کہ) جب ہم انسان کو اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو وہ اس پر اترا جاتا ہے، اور اگر خود اپنے ہاتھوں کے کرتوت کی وجہ سے ایسے لوگوں کو کوئی مصیبت پیش آجاتی ہے تو وہی انسان پکا ناشکرا بن جاتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اگر وہ منہ پھیریں تو ہم نے تمہیں ان پر نگہبان بناکر نہیں بھیجا تم پر تو نہیں مگر پہنچادینا اور جب ہم آدمی کو اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ دیتے ہیں اور اس پر خوش ہوجاتا ہے اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچے بدلہ اس کا جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا تو انسان بڑا ناشکرا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر (بھی) اگر وہ رُوگردانی کریں تو ہم نے آپ کو اُن پر (تباہی سے بچانے کا) ذمّہ دار بنا کر نہیں بھیجا۔ آپ پر تو صرف (پیغامِ حق) پہنچا دینے کی ذمّہ داری ہے، اور بیشک جب ہم انسان کو اپنی بارگاہ سے رحمت (کا ذائقہ) چکھاتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہو جاتا ہے اور اگر انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے اُن کے اپنے ہاتھوں سے آگے بھیجے ہوئے اعمالِ (بد) کے باعث، تو بیشک انسان بڑا ناشکر گزار (ثابت ہوتا) ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر اگر وہ منہ پھیر لیں تو ہم نے تجھے ان پر کوئی نگران بنا کر نہیں بھیجا، تیرے ذمے پہنچا دینے کے سوا کچھ نہیں اور بیشک ہم، جب ہم انسان کو اپنی طرف سے کوئی رحمت چکھاتے ہیں وہ اس پر خوش ہوجاتا ہے اور اگر انھیں اس کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچتی ہے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا تو بیشک انسان بہت ناشکرا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر اگر وہ منہ موڑیں تو ہم نے آپ کو ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجا۔ آپ کے ذمہ تو صرف پہنچا دینا ہے۔ اور جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو وہ پھول جاتا ہے اور اگر انہیں کی بدعملیوں کے سبب کوئی تکلیف پہنچے تو اس وقت انسان ناشکرا (ہی ثابت ہوا) ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اگر وہ اعراض کریں تو ہم نے تم کو ان پر کوئی داروغہ نہیں مقرر کیا ہے۔ تمہارے اوپر صرف پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے اور انسان کو جب ہم اپنی کسی رحمت سے نوازتے ہیں تو اس پر اترانے لگتا ہے اور اگر اس کے اعمال کی پاداش میں اس کو کوئی افتاد پیش آجائے تو وہ ناشکرا بن جاتا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر بھی اگر یہ لوگ منہ موڑے ہی رہیں تو (آپ ان کی فکر نہ کریں کہ) ہم نے آپ کو ان پر کوئی نگہبان بنا کر نہیں بھیجا آپ کے ذمے تو صرف (پیغام) پہنچا دینا ہے (اور بس) اور جب ہم چکھا دیتے ہیں اس (تنگ ظرف) انسان کو اپنی طرف سے کوئی رحمت تو یہ پھول جاتا ہے اور اگر کبھی ان کو کوئی تکلیف پہنچ جائے ان کے اپنے ان اعمال (اور کرتوتوں) کی بناء پر جو انہوں نے خود اپنے ہاتھوں انجام دئیے ہوتے ہیں تو اس وقت یہ انسان بڑا ناشکرا ہوتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

یہ لوگ اگر پھر بھی اعراض کئے رہیں تو ہم نے آپ کو ان پر کوئی نگران کرکے نہیں بھیجا ہے آپ کے ذمہ صرف پہنچا دینا ہے۔ اور ہم انسان کو جب کچھ اپنی عنایت کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو وہ اس پر خوش ہوجاتا ہے اور اگر ایسے لوگوں پر کوئی مصیبت آپڑتی ہے ان کرتوتوں کے بدلہ میں جو وہ پہلے اپنے ہاتھوں کرچکے ہیں تو انسان ناشکری کرنے لگتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر اگر یہ لوگ اعراض کریں تو (اے نبی ﷺ !) ہم نے آپ کو ان پر کوئی داروغہ بنا کر نہیں بھیجا نہیں ہے آپ پر کوئی ذمہ داری مگر صاف صاف پہنچا دینے کی اور جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا کوئی مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر اتراتا ہے اور اگر ان پر آپڑے کوئی برائی ان کے اپنے ہاتھوں کے کرتوتوں کی بدولت تو انسان بالکل نا شکرا بن جاتا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو ہم نے تم کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا تمہارا کام تو صرف احکام کا پہنچا دینا ہے۔ اور جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو اس سے خوش ہوجاتا ہے اور اگر ان کو انہی کے اعمال کی وجہ سے کوئی سختی پہنچتی ہے تو سب احسانوں کو بھول جاتا ہے، بیشک انسان بڑا ناشکرا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Prophet), if they turn away from the Truth, know that We did not send you to them as their overseer. Your task is only to convey (the Message). Indeed when We give man a taste of Our Mercy, he exults in it. But if any misfortune afflicts them on account of their deeds, man is utterly ungrateful.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, if they turn away, then We did not send you (O Prophet,) as a supervisor over them. You are not responsible but for conveying the message. And when We make man taste mercy from Us, he rejoices with it, and if an evil befalls him because of what their hands sent ahead, then man becomes ungrateful.

— Muhammad Taqi Usmani

So, if they turn away, then We did not send you (O Prophet,) as a supervisor over them. You are not responsible but for conveying the message. And when We make man taste mercy from Us, he rejoices with it, and if an evil befalls him because of what their hands sent ahead, then man becomes ungrateful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But if they turn away, We have not sent you as a Hafiz over them. Your duty is to convey. And verily, when We cause man to taste of mercy from Us, he rejoices there at; but when some evil befalls them because of the deeds which their hands have sent forth, then verily, man (becomes) ingrate!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But if they are averse, We have not sent thee as a warder over them. Thine is only to convey (the message). And lo! when We cause man to taste of mercy from Us he exulteth therefor. And if some evil striketh them because of that which their own hands have sent before, then lo! man is an ingrate.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But if they turn away - then We have not sent you, [O Muhammad], over them as a guardian; upon you is only [the duty of] notification. And indeed, when We let man taste mercy from us, he rejoices in it; but if evil afflicts him for what his hands have put forth, then indeed, man is ungrateful.

— Saheeh International

(Muhammad), if they turn away from your message, know that We have not sent you as their keeper. Your duty is only to deliver the message. When We grant mercy to the human being, he becomes joyous, but when he is afflicted by evil as a result of his own deeds, he proves to be ungrateful.

— Muhammad Sarwar

But if they turn aside, We have not sent you as a watcher over them; on you is only to deliver (the message); and surely when We make man taste mercy from Us, he rejoices thereat; and if an evil afflicts them on account of what their hands have already done, then-surely man is ungrateful.

— Muhammad Habib Shakir

If then they turn away, then We have not sent thee to be a warden over them, on thee is naught but preaching. And verily We! when We cause man to taste of mercy from Us he exulteth thereat; and if an ill befalleth them because of that which their hands have sent on, then verily man becometh ingrate.

— Abdul Majid Daryabadi

If then they run away, We have not sent thee as a guard over them. Thy duty is but to convey (the Message). And truly, when We give man a taste of a Mercy from Ourselves, he doth exult thereat, but when some ill happens to him, on account of the deeds which his hands have sent forth, truly then is man ungrateful!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 42:48

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 47–48

آسانی میں شکر تنگی میں صبر مومنوں کی صفت ہے چونکہ اوپر یہ ذکر تھا کہ قیامت کے دن بڑے ہیبت ناک واقعات ہوں گے وہ سخت مصیبت کا دن ہوگا تو اب یہاں اس سے ڈرا رہا ہے اور اس دن کے لئے تیار رہنے کو فرماتا ہے کہ اس اچانک آجانے والے دن سے پہلے ہی پہلے اللہ کے فرمان پر پوری طرح عمل کرلو جب وہ دن آجائے تو تمہیں نہ تو کوئی جائے پناہ ملے گی نہ ایسی جگہ کہ وہاں انجان بن کر ایسے چھپ جاؤ کہ پہچانے نہ جاؤ اور نہ نظر پڑے۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر یہ مشرک نہ مانیں تو آپ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجے گئے انہیں ہدایت پر لاکھڑا کردینا آپ کے ذمے نہیں یہ کام اللہ کا ہے۔ آپ پر صرف تبلیغ ہے حساب ہم خود لے لیں گے انسان کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّوْرٰی 74 یعنی تمہارے اوپر یہ ذمہ داری تو نہیں ڈالی گئی ہے کہ تم انہیں ضرور راہ راست ہی پر لاکے رہو اور نہ اس بات کی تم سے کوئی باز پرس ہونی ہے کہ یہ لوگ کیوں راہ راست پر نہ آئے۔ سورة الشُّوْرٰی 75 انسان سے مراد یہاں وہ چھچورے کم ظرف لوگ ہیں جن کا اوپر سے ذکر چلا آ رہا ہے۔ جنہیں دنیا کا کچھ رزق مل گیا ہے تو اس پر پھولے نہیں سماتے اور سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کی جاتی ہے تو سن کر نہیں دیتے لیکن اگر کسی وقت اپنے ہی کرتوتوں کی بدولت ان کی شامت آجاتی ہے تو قسمت کو رونا شروع کردیتے ہیں، اور ان ساری نعمتوں کو بھول جاتے ہیں جو اللہ نے انہیں دی ہیں اور کبھی یہ سمجھنے کی کوشش نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–50

معارف و مسائل آیات مذکورہ کی ابتدائی آیات میں ان لوگوں کا انجام مذکور ہے جو مومنین صالحین کے بالمقابل بجائے فکر آخرت کے صرف دنیا کی لذت و راحت کے طلب گار رہے۔ اس کے بعد (آیت) اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ میں ان کو نصیحت کی گئی کہ قیامت کا عذاب آنے سے پہلے توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں۔ اور پھر رسول اللہ ﷺ کو تسلی اور اطمینان دلایا گیا ہے کہ آپ کی بار بار تبلیغ اور کوشش کے باوجود اگر یہ لوگ ہوش میں نہ آویں تو آپ غم نہ کریں، (آیت) فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَآ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيْظًا۔ کا یہی مطلب ہے۔ آخرت آیات میں (آیت) لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ سے آخر تک تخلیق کائنات میں جو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فان اعرضوا فما ارسلنک علیھم حفیظاً ان علیک الا ابلغ وان اذا اذقنا الانسان منا رحمۃ فرح بھا وان تصبھم سیئۃ بما قدمت ایدیھم فان الانسان کفرور (48) یہ خطاب نبی ﷺ سے ہے کہ اگر یہ لوگ اس دعوت پر لبیک کہتے ہیں تو فبہا، نہیں قبول کرتے تو تم ان کی مطلق پروا نہ کرو۔ ہم نے تم کو ان پر داروغہ بنا کر نہیں مامور کیا ہے کہ تم لازماً ان کو یہ دعوت قبول ہی کرا دو۔ تمہارے اوپر ذمہ داری صرف دعوت لوگوں تک پہنچا دینے کی ہے۔ بعینہ یہی مضمون پیچھے آیت 6 میں بھی گزر چکا ہے۔ اصل سبب اعراض کی طرف اشارہ وانا اذا اذقنا الانسان …الآیۃ یہ ان لوگوں کے سبب اعراض سے پردہ اٹھایا ہے کہ یہ تنگ ظرف اور ناشکرے لوگ ہیں۔ اس طرح کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

48۔ 1 یعنی وسائل رزق کی فروانی، صحت و عافیت، اولاد کی کثرت، جاہ و منصب وغیرہ۔ 48۔ 2 یعنی تکبر اور غرور کا اظہار کرتا ہے، ورنہ اللہ کی نعمتوں پر خوش ہونا یا اس کا اظہار ہونا، ناپسندیدہ امر نہیں، لیکن وہ تحدیث نعمت اور شکر کے طور پر نہ کہ فخر و ریا اور تکبر کے طور پر۔ 48۔ 3 مال کی کمی، بیماری، اولاد سے محرومی وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 47–50

9: یعنی کسی کی مجال نہیں ہوگی کہ اللہ تعالیٰ سے یہ پوچھ سکے کہ اس شخص کو یہ سزا کیوں دی گئی ہے، کیونکہ تمام انسانوں پر حجت پہلے ہی تمام ہوچکی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 48 اس کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں انسانوں کے حصے میں خوشی آتی ہے یا غم آتا ہے ، تنگی آتی ہے یا کشادگی نصیب ہوتی ہے ، یہ سب امور اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ پس یہ بدبخت انسان جو بھلائی کا شیدائی ہے اور برائی اور سختی سے نفور ہے ، اسے کیا ہوگیا ہے کہ یہ اس مالک سے دوررہا ہے جس کے ہاتھ میں اس کے سب امور ہیں اور ہر حال میں وہ خالق ومالک ہے

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی آپ ذمہ دار نہیں کہ زبردستی منوا کر چھوڑیں۔ آپ کا فرض پیغام الٰہی پہنچا دینا ہے۔ وہ آپ ادا کر رہے ہیں۔ یہ نہیں مانتے تو جائیں جہنم میں۔ 6 یعنی ان کے اعراض سے آپ غمگین نہ ہوں۔ انسان کی طبیعت ہی ایسی واقع ہوئی ہے (الا من شاء اللہ) کہ اللہ انعام و احسان فرمائے تو اکڑنے اور اترانے لگتا ہے۔ پھر جہاں اپنی کرتوت کی بدولت کوئی افتاد پڑگئی، بس سب نعمتیں بھول جاتا ہے اور ایسا ناشکرا بن جاتا ہے کہ گویا کبھی اس پر اچھا وقت آیا ہی نہ تھا۔ خلاصہ یہ کہ فراخی اور عیش کی حالت ہو یا تنگی اور تکلیف کی۔ اپنی حد پر قائم نہیں رہتا البتہ مومنین قانتین کا شیوہ یہ ہے کہ سختی پر صبر اور فراخی کی حالت میں منعم…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 48 { فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَآ اَرْسَلْنٰکَ عَلَیْہِمْ حَفِیْظًا } ”پھر اگر یہ لوگ اعراض کریں تو اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کو ان پر کوئی داروغہ بنا کر نہیں بھیجا۔“ یعنی اگر یہ لوگ اب بھی اپنے رب کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے اقامت دین کی جدوجہد کے لیے کمربستہ نہ ہوں تو ان کی اس کوتاہی کی ذمہ داری آپ ﷺ پر نہیں ہوگی۔ { اِنْ عَلَیْکَ اِلَّا الْبَلٰغُ } ”نہیں ہے آپ پر کوئی ذمہ داری مگر صاف صاف پہنچا دینے کی۔“ { وَاِنَّآ اِذَا اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَۃً فَرِحَ بِہَا } ”اور جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا کوئی مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر اتراتا ہے۔“ { وَاِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌم بِمَا قَدَّمَتْ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

68 یعنی ہم نے آپ پر یہ ذمہ داری نہیں ڈالی کہ انہیں راہ راست پر لاکے چھوڑو۔ نہ ہی آپ سے ایسی باز پرس ہوگی۔ 69 ایک دنیا دار انسان کسی حال میں بھی اللہ کی طرف رجوع نہیں کرتا :۔ دراصل ایسی آیات کے مخاطب قریش مکہ ہی تھے۔ لیکن قرآن کا انداز بیان یہ ہے کہ وہ مخاطب کی کمزوریوں کا ذکر کرتے ہوئے براہ راست انہیں مخاطب نہیں کرتا تاکہ وہ اپنی اصلاح کرنے کے بجائے اور نہ چڑ جائیں۔ اسی لحاظ سے اس آیت میں ایک عام دنیادار انسان کی فطرت بیان کی گئی ہے کہ جب اس پر بھلے دن آتے ہیں تو اترانے لگتا ہے اور کسی کو خاطر میں نہیں لاتا۔ اور جب برے دن آتے ہیں اور یہ برے دن بھی ان کی اپنی شامت اعمال سے آتے ہیں تو اس وقت وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

54۔ (ہمارے احکام وپیامات کا) مطلب یہ ہے کہ اتنے سمجھانے بجھانے کے بعد بھی یہ لوگ بدستور ایمان سے منکر رہیں تو آپ زیادہ فکر وتردد میں نہ پڑیئے۔ آپ سے ان کے اعمال سے متعلق باز پرس کا احتمال ہی نہیں۔ 55۔ (بجائے اس کے حق تعالیٰ کی طرف بطریق تو بہ والتجائے رجوع کرے) (آیت) ” انسان “۔ سے آیت میں دونوں جگہ کافر قسم کا انسان مراد ہے۔ (آیت) ” اذا ..... بھا “۔ یعنی بجائے اس کے کہ منعم کی جانب منسوب کرکے اس کی شکر گذاری میں لگ جائے، یہ اسے اپنی جانب منسوب کرکے بےجا طور پر اترانے لگتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 44–53

آیت نمبر 44 تا 53 ترجمہ : اور اللہ جسے گمراہ کر دے اس کے بعد اس کا کوئی کارساز نہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے اس کو گمراہ کرنے کے بعد اس کی ہدایت کا کوئی ولی نہیں، اور (اے مخاطب) تو دیکھے گا کہ ظالم لوگ عذاب کو دیکھ کر کہہ رہے ہوں گے کہ کیا دنیا کی طرف لوٹنے کی کوئی صورت ہے اور (اے مخاطب) تو دیکھے گا کہ وہ جہنم کے سامنے لا کھڑے کئے جائیں گے، خوف وذلت کے مارے جھکے جار ہے ہوں گے، اور کنکھیوں سے دزدیدہ نظروں سے اسے (جہنم کو) دیکھ رہے ہوں گے، مِنْ ابتدائیہ ہے یا بمعنی باء ہے مومنین کہیں گے کہ حقیقی زیاں کار وہ ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو دائمی عذاب میں مبتلا کر کے اور ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فان اعرضوا فما ارسلنک علیھم حفیظا ان علیک الا البلغ پھر اگر وہ لوگ (یہ سن کر بھی) اعراض کریں تو ہم نے آپ کو ان کا نگراں بنا کر نہیں بھیجا ہے ‘ آپ کے ذمہ تو صرف حکم پہنچانا ہے۔ یعنی اگر وہ آپ کا حکم ماننے سے روگرداں ہوں تو روگرداں ہونے دیجئے ‘ کچھ غم نہ کیجئے کیونکہ ہم نے تو آپ کو ان کا نگراں ‘ ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا ہے کہ ان کی روگردانی اور اعراض کی بازپرس اور مؤاخذہ آپ سے کیا جائے ‘ آپ کا فرض تو (احکام خدا) پہنچانا ہے اور تبلیغ حکم آپ کرچکے ہیں۔ وانا اذا اذقنا الانسان منا رحمۃ فرح بھا وان تصبھم سیءۃ بما قدمت ایدیھم فان الانسان کفور اور ہم جب اس قسم کے انسان کو اپنی عنایت کا مزہ چکھا دیتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

پھر بھی اگر یہ لوگ ایمان سے منہ پھیریں تو آپ کو ان کا محافظ کر کے نہیں بھیجا گیا ہے آپ کے ذمہ تو صرف احکام خداوندی کا پہنچا دینا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ قتال کا حکم دیتا ہے کہ جب ہم کافر کو اپنی عنایت کا کچھ مزہ چکھا دیتے ہیں تو ناشکرا بن کر اس پر خوش ہونے لگتا ہے اور اگر ان کو ان کے اعمال شرکیہ کی وجہ سے فقرو فاقہ اور سختیوں میں گرفتار کردیتے ہیں تو ایسا آدمی یعنی ابو جہل اللہ تعالیٰ اور اس کی نعمتوں کی ناشکری کرنے لگتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) فان اعرضوا فما ارسلنک علیھم حفیظاً : پچھلی آیت میں کفار کو مخاطب کر کے فرمایا تھا ہ قیامت کے دن سے پہلے جلد از جلد اپنے رب کی دعوت قبول کرلو، اب ان کے کفر پر اصرار کی صورت میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے لئے آپ ﷺ کو مخطاب کر کے فرمایا کہ اگر یہ آپ کی دعوت سے منہ موڑیں تو ہم نے آپ کو ان کا نگران اور ذمہ دار نہیں بنایا کہ ہر حال میں انھیں منوا کر چھوڑیں اور نہ آپ سے اس بات کی باز پرس ہوگی کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لائے۔ (2) ان علیک الا ابلغ : آپ کا کام صرف پہنچا دینا ہے (جو آپ سر انجام دے چکے ہیں۔) ان الفاظ میں نبی ﷺ کے لئے سند موجود ہے کہ آپ نے پیغام واقعی پہنچا دیا ہے اور آپ اپنی ذمہ داری…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

(آیت نمبر 48 ) فان اعرضوا اگر انہوں نے ایمان سے اعراض کیا فمآ ارشلنک علیھم حفیظا یعنی ہم نے آپ کو ان کے اعمال کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا یہاں تک کہ آپ ان کا اعمال پر محاسبہ کریں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ؛ ہم نے آپ کو ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا کہ جب تک وہ ایمان نہ لائیں آپ ان سے جدانہ ہوں یعنی انہیں ایمان پر مجبور کرنا جو آپ کی ذمہ داری نہیں ان علیک الا البلغ آپ کے ذمہ پیغام حق پہنچا نا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آیت قتال سے یہ آیت منسوخ ہے وانا اذآ اذقنا الانسان یہاں انسان سے مراد کافر ہے منا رحمہ رحمت سے مراد خوشحالی اور صحت ہے فرح بھا اس کی وجہ سے وہ اترانے لگتا ہے وان تصبھم سیئۃ اگر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 45–48

1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ینظرون من طرف خفی “ (سست نگاہ سے دیکھتے ہوں گے) یعنی ذلیل ہوکر۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 3:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے محمد بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ینظرون من طرف خفی “ سے مراد ہے کہ وہ نظرکو چرائیں گے آگ کی طرف (یعنی چوری چوری دیکھیں گے ) ۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ اسی طرح روایت کیا ہے۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) نے خلف بن خوشب (رح) سے روایت کیا کہ زید بن صوحان نے یہ آیت پڑھی (آیت ) ” استجیبوا لربکم من قبل ان یاتی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاِنْ اَعْرَضُوْا [ پھر اگر وہ لوگ اعراض کریں ] فَمَآ اَرْسَلْنٰكَ [ تو ہم نے نہیں بھیجا آپ کو ] عَلَيْهِمْ [ان پر ] حَفِيْظًا ۭ [ بطور نگہبان ] اِنْ عَلَيْكَ [ نہیں ہے آپ پر (ذمہ داری ) ] اِلَّا الْبَلٰــغُ ۭ [ سوائے پہنچا دینے کے ] وَاِنَّآ اِذَآ [ اور بیشک جب کبھی ] اَذَقْنَا [ ہم چکھاتے ہیں ] الْاِنْسَانَ [انسان کو ] مِنَّا [ اپنے (پاس ) سے ] رَحْمَةً [ کوئی رحمت ] فَرِحَ [تو وہ خوش ہوتا ہے ] بِهَا ۚ [ اس سے ] وَاِنْ تُصِبْهُمْ [ اور اگر آلگتی ہے ان کو ] سَيِّئَةٌۢ [ کوئی برائی ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] قَدَّمَتْ [ آگے بھیجا ] اَيْدِيْهِمْ [ ان کے ھاتھوں نے ] فَاِنَّ الْاِنْسَانَ [ تو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

انسان کا خاص مزاج رحمت کے وقت خوش اور تکلیف میں ناشکرا ! اس کے بعد انسان کا ایک مزاج بتایا اور وہ یہ ہے کہ جب اسے نعمت ملتی ہے اور رحمت الٰہی کا مظاہرہ ہوتا ہے تو خوب خوش اور مگن ہوجاتا ہے اور اگر کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے جو انسانوں کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے پہنچتی ہے تو وہ ناشکرا بن جاتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرتا ہے اور ایسے بول بولتا ہے کہ جو سابقہ نعمتیں تھیں گویا وہ اسے ملی ہی نہ تھیں، اللہ تعالیٰ کی موجودہ نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا اور معاصی سے توبہ بھی نہیں کرتا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 44–50

قباحت حال و محرومی وذلت کفار وروز قیامت وبیان کمزوری فطرت انسان : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ومن یضلل اللہ فمالہ من ولی من بعدہ ....... الی ...... انہ علیم قدیر “۔ (ربط) اس سے قبل آیات میں اہل ایمان وتقوی اور ان کے اوصاف خاصہ کا ذکر تھا اب ان آیات میں گمراہوں اور مجرموں کی بدنصیبی ذلت و محرومی کا بیان ہے، ساتھ ہی انسان کی اس فطری کمزوری کا بھی بیان ہے جو اکثر مراحل میں اس کو افعال رذیلہ اور خصائص ذمیمہ کا مرتکب بناتی ہے ہے ارشاد ہے اور جس کو گمراہ کردے اللہ تو پھر اس کے بعد اس کے واسطے کوئی چارہ ساز نہیں کہ اس کو ہدایت دیدے، اور اے مخاطب تو دیکھے گا قیامت کے روز ظالموں کو جبکہ وہ عذاب خداوندی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

38:۔ ” فان اعرضوا “ یہ زجر ہے اور آنحضرت ﷺ کیلئے تسلی ہے اگر مشرکین آپ کی دعوت کو نہیں مانتے اور اس سے اعراض ہی کرتے ہیں تو آپ غم نہ کریں کیونکہ آپ کو ان کا نگران نہیں مقرر کیا گیا کہ ان کو کفر و شرک سے روک کر اسلام پر لائیں۔ آپ کا فریضہ تو صرف تبلیغ دعوت ہے۔ اگر مانتے ہیں تو بہتر، اس میں انہی کا فائدہ ہے اور اگر نہیں مانتے تو اس کی آپ سے باز پرس نہیں ہوگی۔ ” وانا اذا اذقنا الخ “ یہ زجر ہے۔ اور انسان سے کافر مراد ہے (قرطبی) انسان کافر کا یہ حال ہے کہ جب ہم اس کو اپنی نعمت و رحمت سے ہمکنار کرتے ہیں تو ناحق اور ناجائز قسم کی خوشی پر اتر آتا ہے یعنی کبر و غرور سے اکڑ جاتا ہے اور غیر اللہ کی پکار…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 44–50

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے دین کے بہت سے اہم اصول بیان فرمائے تھے جن پر انسانیت کی فوز و فلاح کا دارومدار ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان اور بھروسہ ، کبائر اور بےحیائی سے اجتناب ، غصے کی حالت میں در گزر ، حکم الٰہی کی تعمیل نماز کا قیام ، انفرادی اور اجتماعی معاملات میں باہمی مشاورت ، خدا کی عطا کردہ روزی میں سے مستحقین پر انفاق ، سرکشی کرنے والے سے انتقام مگر در گزر کی پسندیدگی وغیرہ موٹے موٹے اصول ہیں جو اللہ نے گزشتہ درس میں بیان کیے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور گمراہی کی بات سمجھائی ہے۔ پھر رسالت اور توحید کا مسئلہ بھی بیان فرما دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تخلیق…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَآ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْہِمْ حَفِيْظًا۝ 0 ۭ اِنْ عَلَيْكَ اِلَّا الْبَلٰــغُ۝ 0 ۭ وَاِنَّآ اِذَآ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَۃً فَرِحَ بِہَا۝ 0 ۚ وَاِنْ تُصِبْہُمْ سَيِّئَۃٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْہِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ۝ 48 اعرض وإذا قيل : أَعْرَضَ عنّي، فمعناه : ولّى مُبدیا عَرْضَهُ. قال : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] ، فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ ( ع ر ض ) العرض اعرض عنی اس نے مجھ سے روگردانی کی اعراض کیا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] تو وہ ان سے منہ پھیرے ۔ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ [ النساء/ 63] تم ان سے اعراض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 47–50

ترکیب : من اللہ صلۃ لامرد وقبل صلۃ یاتی ای یاتی یوم من اللہ لایمکن ردہ۔ اذا شرطیہ فرح بہا جواب وان شرطیہ والجواب ینسی النعمۃ راساو اقیم مقامہ فان الانسان کفورلانہ علۃ الجزاء عقیما الخ بدل من یخلق بدل البعض۔ تفسیر : کفار کی حالت مذکورہ کو ازلی تقدیر کا باعث بنا کر اطاعت و فرمانبرداری کا ارشاد فرماتا ہے فقال استجیبوالربکم کہ اپنے رب کا کہا مانو جو تم کو راہ راست کی طرف بلاتا ہے من قبل الخ اس دن سے پہلے کہ تم پر اللہ کی طرف سے کوئی دن آوے اور وہ کسی کے ٹالے سے نہ ٹلے۔ اس دن سے مراد موت کا دن ہے یا قیامت کا دن اس دن تمہارے لیے کوئی پناہ کی جگہ نہ ہوگی اور نہ انکار کی گنجائش ہوگی۔ نکیر کے معنی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظًا ط اِنْ عَلَیْکَ اِلاَّ الْبَلٰـغُ ط وَاِنَّـآ اِذَآ اَذَقْنَاالْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَۃً فَرِحَ بِھَا ج وَاِنْ تُصِبْھُمْ سَیِّئَـۃٌ م بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْھِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ کَفُوْرٌ۔ (الشوری : 48) (پس اگر وہ اعراض کریں تو ہم نے آپ کو ان پر کوئی نگہبان بنا کر تو نہیں بھیجا، آپ پر صرف پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے، اور ہم جب انسان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر اترانے لگتا ہے اور اگر اسے کوئی مصیبت پہنچتی ہے اس کے اعمال کی پاداش میں تو وہ ناشکرا بن جاتا ہے۔ ) مخالفین کی طبعی ناہمواری انسان کی غیرمتوازن عادت اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن مجرموں کے بچ نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ اس کے باوجود یہ لوگ حق بات سے اعراض ہی کیے جارہے ہیں۔ آپ ﷺ کا کام صرف لوگوں تک حق بات کا ابلاغ کرنا ہے۔ لہٰذا یہ کام آپ کو کرتے رہنا چاہیے۔ نبی ﷺ پوری محنت اور اخلاص کے ساتھ شب وروز لوگوں کو سمجھا رہے تھے کہ اے لوگو ! قیامت کا دن آنے سے پہلے اپنے آپ کو سدھار لو ! قیامت کے دن کوئی اپنے آپ اور کسی دوسرے کو نہیں بچا سکے گا۔ لیکن کفار اور مشرکین کی حالت یہ تھی کہ وہ حق قبول کرنے کی بجائے آپ ﷺ کی مخالفت میں روز بروز آگے ہی بڑھتے جارہے تھے۔ جس پر نبی کریم ﷺ دل آزردہ ہوجاتے اور اللہ تعالیٰ کے حضور رو رو کر دعائیں کرتے۔ قریب…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

48: فَاِنْ اَعْرَضُوْا (پھر اگر یہ لوگ اعراض کریں) ایمان سے فَمَآ اَرْسَلْنٰکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظًا (تو ہم نے آپ کو ان پر نگران کر کے نہیں بھیجا) حفیظ، نگران کو کہتے ہیں۔ اِنْ عَلَیْکَ اِلَّا الْبَلٰغُ (آپ کے ذمہ پیغام رسالت کو ان تک پہنچا دینا ہے) اور وہ آپ نے کردیا۔ وَاِنَّآ اِذَآ اَذَ قْنَا الْاِنْسَانَ (اور ہم جب آدمی کو کچھ اپنی عنایت کا مزہ چکھاتے ہیں) الانسان بول کر جمع مراد ہے۔ مِنَّا رَحْمَۃً یعنی نعمت، وسعت، امن، صحت فَرِحَ بِھَا (وہ خوش ہوجاتا ہے) اترا نے لگتا ہے۔ وَاِنْ تُصِبْھُمْ سَیِّئَۃٌم (اور اگر ان کو مصیبت آپڑتی ہے مثلاً مرض، تنگدستی وغیرہ اور انہی کی قسم سے۔ فرح کے لفظ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

47، استجیبو الربکم ، اللہ کے داعی یعنی محمد ﷺ کی دعوت قبول کرو۔ ، من قبل ان یاتی یوم لامردلہ من اللہ، قیامت کے دن کوئی شخص اس کے دور کرنے پر قادرنہ ہوگا۔ ، مالکم من ملجا، جس کی طرف تم پناہ حاصل کرو۔ ، یومئذومالکم من نکیر، منکرجوتمہاری حالت کو تبدیل کردے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 44–50

44۔ 50۔ اوپر اچھے لوگوں کی عادتوں کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا یہ اچھی عادتوں کے وہی لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نیک قرار پا چکے ہیں اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں بد قرار پا چکے ہیں وہ اپنے ارادہ سے تو اچھی عادتوں کو اختیار نہیں کرتے اور مجبور کرکے کسی کو راہ راست پر لانا اللہ کو منظور نہیں ہے اس واسطے مرتے دم تک ایسے لوگ اپنی بد عاتوں پر رہیں گے اور قیامت کے دن ان لوگوں کا حال دیکھنے کے قابل ہوگا کہ میدان حشر میں جب جہنم کو اس طرح لایا جائے گا کہ جہنم کی ستر ہزار نکیلیں اونٹ کی سی ہوں گی اور ہر ہر نکیل پر ستر ستر ہزار فرشتے ہوں گے اور ان نکیلوں کو کھینچ رہے ہوں گے جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 48 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی دعوت پر لبیک کہیں، وہ جس چیز کا حکم دے اس کی تعمیل کریں اور جس چیز سے روکے اس سے اجتناب کریں اس کو ٹالنے کی بجائے اس پر جلدی سے عمل کریں قیامت کے دن کے آنے سے پہلے کہ جب وہ آئے گا تو اس کو روکا جاسکے گا نہ کسی رہ جانے والی چیز کا تدارک ہوسکے گا۔ اس دن بندے کے پاس کوئی پناہ گاہ نہ ہوگی جہاں وہ پناہ لے کر اپنے رب سے بچ سکے اور اس سے بھاگ سکے بلکہ فرشتے تمام خلائق کو پیچھے سے گھیرے ہوئے ہوں گے اور انہیں پکار کر کہا جائے گا : (آیت) ” اے جن و انس کے گروہ ! اگر تم آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جانے کی طاقت رکھتے ہو تو پھر نکل جاؤ،…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 39–53

انتقام لینا کب جائز ہوتا ہے ؟ قول باری ہے (والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون۔ اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم واقع ہوتا ہے تو وہ (برابر کا ) بدلہ لے لیتے ہیں) ابراہیم نخعی سے آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ لوگ مسلمانوں کے لئے اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ اپنے آپ کو دبا کر اور عاجز بنا کر رکھیں جس کی بنا پر فاسق وفاجر لوگوں کو ان کے خلاف جرات دکھانے کا موقعہ مل جائے۔ سدی کا قول ہے کہ (ھم ینتصرون) کا مفہوم یہ ہے کہ وہ لوگ ان لوگوں سے بدلہ لے لیتے ہیں جو ان پر ظلم کرتے ہیں لیکن وہ ان کے ساتھ زیادتی نہیں کرتے۔ ابولکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کئی مقامات پر ہمیں اس بات کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

96 پیغمبر کی ذمہ داری صرف دعوت و تبلیغ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر کے ذمے منوانا نہیں صرف دعوت حق دینا ہے اور بس۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے آپ ﷺ کو ۔ اے پیغمبر !۔ ان پر کوئی نگہبان بنا کر نہیں بھیجا "۔ کہ آپ خواہی نخواہی ان کو منوا کر ہی چھوڑیں اور ان کو راہ حق پر لا کر اور ایمان قبول کرا کر ہی رہیں۔ یہ نہ تو آپ ﷺ کے بس میں ہے اور نہ ہی آپ ﷺ کی ذمہ داری ۔ { لَیْسَ عَلَیْکَ ہُدَاہُمْ } ۔ یعنی راہ بتانا تو بیشک آپ ﷺ کا کام ہے مگر راہ پر ڈال دینا اور اس پر چلا دینا نہ آپ کا کام ہے اور نہ ہی یہ آپ کے بس میں ہے ۔ اِنْ عَلَیْکَ الا الْبَلاغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ ۔ سو اگر یہ لوگ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 47–50

اللہ کو کوئی پوچھنے والا نہیں تشریح : یہاں پھر دہرایا گیا ہے کہ نیکی ہی نجات کا راستہ ہے اگر اختیار کرلو گے تو اپنا ہی بھلا ہوگا نہیں کرو گے تو پھر سوچ لو تمہارا کوئی مدد گار، سفارش کرنے والا اور بچانے والا کوئی نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ تمام اختیارات صرف اور صرف اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔ ہر قسم کی نعمت، عزت اور آسائش دینے والا صرف اللہ ہی ہے تمام حکمتیں اس کو معلوم ہیں۔ جس کے لیے جو بہترین سمجھتا ہے وہ اس کو دیتا ہے۔ یہاں خاص طور پر ان پیروں فقیروں کی طرف جانے سے منع کیا گیا ہے جن کے پاس لوگ اپنی مرادیں مانگنے کے لیے جاتے ہیں خاص طور سے اولاد مانگنے جاتے ہیں یہ بڑی سخت شرک کی بات ہے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 44–53

آیات 44 تا 53۔ اسرار ومعارف۔ اور جس شخص کے کردار کے باعث اللہ نے ہی اس پر ہدایت کے دروازے بند کردیے اور گمراہی مقدر کردی پھر اسے کوئی بھی راہ پر نہیں لاسکتا بلکہ اسے مخاطب ایسے لوگ اپنے انجام کو پہنچیں گے اور تو دیکھے گا کہ ان ظالموں کو جب عذاب کا مشاہدہ ہوگا تو پکار اٹھیں گے کہ کیا کوئی ایسا طریقہ کہ ہم دنیا میں واپس جاسکیں تاکہ اب نیکیاں کرکے لائیں اور ایمان کی حالت میں یہاں پہنچیں اور دیکھو گے کہ جب دوزخ کی آگ کے روبرو ہوں گے توشرمندگی اور ذلت کے سبب نظریں جھکائے ہوئے ہوں گے اور کن اکھیوں سے دوزخ کی آگ کو ڈرتے ڈرتے دیکھیں گے تب مومن کہیں گے خسارہ اور بہت بڑا نقصان حقیقتا یہ ہے کہ جن لوگوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 اور نہ مانیں تو آپ ﷺ سے باز پرس ہو۔ 8 یعنی اللہ تعالیٰ کی سب نعمتوں کو بھول جاتا ہے اور سراپا شکوہ و شکایت بن جاتا ہے۔ یہ بات نوع انسانی کے اکثر افراد کے لحاظ سے فرمائی گئی ہے۔ انبیاء ( علیہ السلام) اور نیک بندے اس سے مستثنیٰ ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(42:48) فان اعرضوا جملہ شرط ہے۔ فما ارسلنک علیہم حفیظا جواب شرط ۔ اعرضوا۔ ماضی جمع مذکر غائب اعراض (افعال) مصدر ۔ منہ پھیرلینا۔ اور اگر وہ لوگ (یہ سن کر) پھر بھی منہ پھیر لیں۔ حفیظا۔ نگہبان۔ حفاظت کرنے والا۔ منصوب بوجہ تمیز۔ ان علیک میں ان نافیہ ہے۔ الا حرف استثنائ۔ البلاغ : مصدر ہے یہ لفظ قرآن مجید میں بمعنی تبلیغ آتا ہے۔ البلاغ والبلوغ (باب نصر) کے معنی مقصد اور منتہی کے آخری حد تک پہنچنے کے ہیں۔ عام اس سے کہ وہ مقصد کوئی مقام ہو یا زمانہ یا اندازہ کئے ہوئے امور میں سے کوئی امر ہو۔ مگر کبھی محض قریب تک پہنچ جانے کے لئے بھی بولا جاتا ہے گو انتہاء تک نہ بھی پہنچا ہو۔ انتہاء تک پہنچنے کے معنی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 47–50

لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 50 : ملجائ ( ٹھکانہ ، پناہ کی جگہ) نکیر ( مکر جانا) اذقنا ( ہم نے چکھایا) فرح (خوش ہوگیا) کفور ( بہت زیادہ نا شکرا) یھب ( وہ دیتا ہے) اناث ( بیٹیاں ، لڑکیاں) الذکور (بیٹے ، لڑکے) یزوج ( وہ جوڑے بنا دیتا ہے) عقیما (بانجھ ، اولاد سے مایوس) تشریح : آیت نمبر 47 تا 50 : دین اسلام نے توحید کا یہ بنیادی تصور پش کیا ہے کہ اس کائنات کے ذرے ذرے میں اور آخرت کے ہر فیصلے میں صرف ایک اللہ کو مکمل اختیار حاصل ہے اس کے سوا کوئی اس کے اس اختیار میں شریک نہیں ہے ۔ وہ ہر چیز کے بنانے بگاڑنے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے نظام کائنات کو چلا رہا ہے۔ وہ اپنی رحمت اور فضل و…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 45–51

قرآن خدا کی کتاب ہے۔ (ف 1) شان نزول : یہود نبی کی نبوت پر لوگوں کے بہکانے کے لیے اور حسد کے سبب سے یہ اعتراض کیا کرتے تھے کہ اگر یہ نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ سے بلاواسطہ فرشتے کے کلام کرتے وقت اس کو کیوں نہیں دیکھتے جیسا کہ حضرت موسیٰ دیکھتے تھے ان کے اس اعتراض کو جواب نبی ﷺ نے یہ دیا کہ حضرت موسیٰ بھی نہیں دیکھتے تھے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، اصل مطلب یہ ہے کہ بلاپردہ کی آڑ کی تو نہ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا اور نہ کسی آدمی میں یہ طاقت ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے روبروباتیں بےپردہ حجاب فرمائے، ہاں پچھلے تمام انبیاء مین جو وحی کا طریقہ تھا کہ خواب میں کوئی بات معلوم ہوجاتی تھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 44–51

[26] یعنی دل میں کوئی بات ڈال دے یا خواب میں کچھ دکھا دے جیسے ابراہیم (علیہ السلام) اور یوسف (علیہ السلام) کو دکھایا گیا۔ [27] یعنی بلاواسطہ پردے کے پیچھے سے کلام فرمائے جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر پیش آیا۔ [28] یعنی فرشتہ کے ذریعے وحی بھیجتا ہے جیسے قرآن مجید جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعے نبی ﷺ کو بھیجا گیا۔ اس آیت میں جواب ہے مخالفین کے اس مطالبے کا جو قرآن میں متعدد مقامات پر مختلف اسلوبوں سے نقل ہوا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ محمد ﷺ سے بات کرتا ہے جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے تو آخر وہ ہم سے روبرو ہو کر بات کیوں نہیں کرتا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 47–48

آیت 47 ۔ 48 1: اس دن سے پہلے پہلے اللہ کی اطاعت کا عہد کرلو ۔ اور کاملاً اختیار اور فرمانبرداری اختیار کرو ۔ کیونکہ اس دن گنہگاروں کے لئے کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہے ۔ اور نہ یہ ممکن ہے ۔ کہ کوئی شخص اس دن تمہارے بارے میں اللہ سے جھگڑا کرسکے اور بحث کرسکے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(48) پھر اگر یہ لوگ اس پر بھی روگردانی اور اعراض کریں و ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا آپ کے ذمہ تو صرف پہنچا دینا ہے اور جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو وہ اس پر خوش ہوجاتا ہے اور اس پر اترا جاتا ہے اور اگر لوگوں کو اپنے ان اعمال کے باعث جوان کے ہاتھ پہلے کرچکے ہیں کوئی مصیبت پہنچ جاتی ہے تو ناشکری کرنے لگتا ہے بیشک انسان بڑا ہی ناسپاس ہے۔ یعنی اس وعید کو سن لینے اور جہنم کے واقعات معلوم ہوجانے کے بعد بھی ان کے رویے میں تبدیلی نہ ہو اور یہ اپنی جگہ جمے رہیں اور دین حق سے روگردانی اور قرآن سے اعراض کرتے رہیں تو آپ غمگین اور پریشان نہ ہوں کیونکہ آپ ان کے اعمال پر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ یہ دونوں حالتیں دلیل ہیں حظوظ نفسانیہ سے شدت تعلق اور حق تعالیٰ سے بےتعلقی کی، اور یہ حالت ان کی طبیعت ثانیہ ہوگئی ہے، پس ان سے آپ ایمان کی توقع کیوں رکھیں جو موجب غم ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اعراض کرنے والوں پر آپ ﷺ کو داروغہ نہیں لگایا گیا آپ ﷺ کا کام پیغام پہنچانا ہے 48 ؎ یہ رسول مکرم و نبی اعظم و آخر ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے اور آپ ﷺ کی وساطت سے ساری امت تک یہ پیغام پہنچایا جا رہا ہے کہ جو لوگ آپ کی باتوں پر دھیان نہیں دیتے بگوش ہوش سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے ان کی ذمہ داری آپ ﷺ پر مطلق نہیں ہے اور نہہی آپ سے یہ سوال کیا جائے گا کہ فلاں نے اگر آپ ﷺ کا پیغام نہیں سنا تو آخر کیوں ؟ اس لیے کہ آپ ﷺ کے ذمہ فقط پیغام کا پہنچانا ہے ، پیغام کا منوانا نہیں ہے اور یہ بھی ہم کو معلوم ہے کہ قوم کے کھاتے پیتے اور برسر آوردہ لوگ کبھی کسی بات کو سننے کے لییتیار نہیں ہوتے بلکہ وہ اس نشہ میں چور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 45–50

Commentary The earlier three of the above verses state the end of those people who, as against the virtuous Muslims, remained desirous of the delights and luxuries of this world, instead of caring about the Hereafter. Then in verse 47, they have been advised to repent and embrace faith before the scourge of Doomsday comes upon them. Thereafter, in verse 48, the Holy Prophet ﷺ has been comforted and assured that if these people do not come to their senses, despite your preaching again and again, and despite your tireless efforts, then you should not worry: فَإِنْ أَعْرَ‌ضُوا فَمَا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

74. That is, you have not been made responsible that you must bring them to the right path anyhow, nor will you be held accountable as to why these people did not come to the right path. 75. Man here implies the mean and shallow people who are the subject of the discourse here, who have gotten a measure of the worldly provisions and are exulting in this, and who do not pay any attention when they are admonished to come to the right path. But when they are visited by a disaster in consequence of their own misdeeds, they start cursing their fate, and forget all those blessings which Allah has…

Read the full tafseer →