Explained with ayahs 44–46
اللہ تعالیٰ کو کوئی پوچھنے والا نہیں
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا اور نہ اسے کوئی کرسکتا ہے وہ جسے راہ راست دکھا دے اسے بہکا نہیں سکتا اور جس سے وہ راہ حق گم کر دے اسے کوئی اس راہ کو دکھا نہیں سکتا اور جگہ فرمان ہے آیت (وَمَنْ يُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِيًّا مُّرْشِدًا 17ۧ) 18۔ الكهف :17) جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی چارہ ساز اور رہبر نہیں۔ پھر فرماتا ہے یہ مشرکین قیامت کے عذاب کو دیکھ کر دوبارہ دنیا میں آنے کی تمنا کریں گے جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
سورة الشُّوْرٰی 72
یعنی نہ اللہ خود اسے ٹالے گا اور نہ کسی دوسرے میں یہ طاقت ہے کہ ٹال سکے۔
سورة الشُّوْرٰی 73
اصل الفاظ ہیں مَا لَکُمْ مِنْ نَّکِیْرٍ۔ اس فقرے کے کئی مفہوم اور بھی ہیں۔ ایک یہ کہ تم اپنے کرتوتوں میں سے کسی کا انکار نہ کرسکو گے۔ دوسرے یہ کہ تم بھیس بدل کر کہیں چھپ نہ سکو گے۔ تیسرے یہ کہ تمہارے ساتھ جو کچھ بھی کیا جائے گا اس کا تم کوئی احتجاج اور اظہار ناراضی نہ کرسکو گے۔ چوتھے یہ کہ تمہارے بس میں نہ ہوگا کہ جس حالت میں تم مبتلا کیے گئے ہو اسے بدل سکو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
معارف و مسائل
آیات مذکورہ کی ابتدائی آیات میں ان لوگوں کا انجام مذکور ہے جو مومنین صالحین کے بالمقابل بجائے فکر آخرت کے صرف دنیا کی لذت و راحت کے طلب گار رہے۔ اس کے بعد (آیت) اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ میں ان کو نصیحت کی گئی کہ قیامت کا عذاب آنے سے پہلے توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں۔ اور پھر رسول اللہ ﷺ کو تسلی اور اطمینان دلایا گیا ہے کہ آپ کی بار بار تبلیغ اور کوشش کے باوجود اگر یہ لوگ ہوش میں نہ آویں تو آپ غم نہ کریں، (آیت) فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَآ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيْظًا۔ کا یہی مطلب ہے۔
آخرت آیات میں (آیت) لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ سے آخر تک تخلیق کائنات میں جو…
Read the full tafseer →وما کان لھم من اولیآء و ینصرونھم من دون اللہ ط ومن یضلل اللہ فمالہ من سبیل ہ 46
من دون اللہ یہاں اللہ کے مقابل میں کے مفہوم میں آیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قایمت کے دن جب یہ لوگ اللہ کے عذاب کی گرفت میں آجائیں گے تو اپنے جن شرکاء اور حمایتیوں پر ان کو بڑا ناز ہے ان میں سے کوئی بھی اللہ کے مقابل میں ان کے کچھ کام نہ آسکے گا۔
ومن یضلل اللہ فمالہ من سبیل، وہی مضمون جو اوپر آیت 44 میں گزر چکا ہے، بالفاظ کی معمولی تبدیل کے ساتھ، پھر آگیا یہ کہ ان کی شامت اعمال کے سبب سے، اللہ نے ان کو گمراہی کیلئے چھوڑ دیا اور جن کو اللہ بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے ان کو کہیں بھی راہ نہیں ملتی، نہ دنیا میں نہ آخرت میں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
47۔ 1 یعنی جس کو روکنے اور ٹالنے کی کوئی طاقت نہیں رکھے گا۔
47۔ 2 یعنی تمہارے لئے کوئی ایسی جگہ نہیں ہوگی، کہ جس میں تم چھپ کر انجان بن جاؤ اور پہنچانے نہ جاسکو یا نظر میں نہ آسکو جیسے فرمایا ' اس دن انسان کہے گا، کہیں بھاگنے کی جگہ ہے، ہرگز نہیں، کوئی راہ فرار نہیں ہوگی، اس دن تیرے رب کے پاس ہی ٹھکانا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–46
8: یعنی اگر کسی کے ساتھ کوئی زیادتی کی جائے تو مظلوم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اتنی ہی تکلیف ظالم کو پہنچا دے جتنی اس نے پہنچائی تھی لیکن آگے اس بات کی بڑی فضیلت یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ انسان بدلہ لینے کے بجائے صبر کر کے معاف کردے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
آیت نمبر 44 تا 46
اللہ کے فیصلے کو رد نہیں کیا جاسکتا اور اللہ مشیت کی راہ کوئی روک نہیں سکتا۔
ومن یضلل اللہ فما لہ من ولی من بعدہ (42 : 44) “ جس کو اللہ گمراہی میں پھینک دے ، اس کا کوئی سنبھالنے والا اللہ کے بعد نہیں ”۔ جب اللہ کے علم میں یہ بات آجاتی ہے کہ یہ بندہ گمراہی کا مستحق ہے تو اللہ کا فیصلہ ہوجاتا ہے کہ یہ گمراہ ہوگا۔ اس کے بعد پھر کوئی ولی اسے ہدایت دینے کی طاقت نہیں رکھتا۔ نہ اس کی مدد یوم الحساب میں عذاب سے بچانے میں کرسکتا ہے۔ باقی آیت میں ایک منظر !
وتری الظلمین ۔۔۔۔۔ مرد من سبیل ( 42 : 44) وترھم یعرضون ۔۔۔۔۔ طرف خفی (42 : 44) “ تم دیکھو گے کہ یہ ظالم جب عذاب دیکھیں گے تو کہیں…
Read the full tafseer →2 یعنی نہ دنیا میں ہدایت کی، نہ آخرت میں نجات کی۔
Read the full tafseer →آیت 46 { وَمَا کَانَ لَہُمْ مِّنْ اَوْلِیَآئَ یَنْصُرُوْنَہُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ } ”اور ان کے لیے کوئی مدد گار نہیں ہوں گے جو ان کی مدد کرسکیں اللہ کے مقابلے میں۔“
{ وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ سَبِیْلٍ } ”اور جسے اللہ نے ہی گمراہ کردیا ہو ‘ پھر اس کے لیے کوئی راستہ نہیں ہے۔“
اب اس کے بعد پھر اقامت دین سے متعلق دو عظیم آیات آرہی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
66 یعنی دنیا میں ان سے عذاب ٹلتا رہا اور انہیں مہلت دی جاتی رہی۔ مگر اس دن ایسی کوئی صورت نہ ہوگی اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ جو عذاب اللہ نے ان کے لیے مقرر کردیا ہے کسی میں ہمت نہ ہوگی کہ وہ اسے ان سے ٹال سکے۔
67 نکیر کے مختلف مفہوم :۔ نکیر کا مادہ نکر ہے اور اس میں بنیادی طور پر دو باتیں پائی جاتی ہیں۔ (1) اجنبیت، (2) ناگواری (نکرہ کی ضد معرفہ ہے) نکر بمعنی ناگوار۔ نازیبا اور نامعقول چیز اور نکیر کے معنی ناگوار، نازیبا، نامعقول چیز بھی اور ایسی چیز کو دیکھ کر ناک بھوں چڑھانا یا ناراضگی کا اظہار کرنا بھی اور نکر کے معنی کسی چیز کو بگاڑ دینا اور اس کی شکل بدل دینا بھی ہے۔ اس لحاظ سے اس جملہ…
Read the full tafseer →52۔ (نہ نجات کی، نہ معذرت کی، نہ نصرت کی) (آیت) ” ومن یضلل اللہ “۔ یہ اضلال ان لوگوں کے عدم تلاش حق کی پاداش میں ہوگا .... یہ اضلال کی نسبت حق تعالیٰ کی جانب ہمیشہ تکوینی ہی حیثیت سے بطور مسبب الاسباب کے ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–53
آیت نمبر 44 تا 53
ترجمہ : اور اللہ جسے گمراہ کر دے اس کے بعد اس کا کوئی کارساز نہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے اس کو گمراہ کرنے کے بعد اس کی ہدایت کا کوئی ولی نہیں، اور (اے مخاطب) تو دیکھے گا کہ ظالم لوگ عذاب کو دیکھ کر کہہ رہے ہوں گے کہ کیا دنیا کی طرف لوٹنے کی کوئی صورت ہے اور (اے مخاطب) تو دیکھے گا کہ وہ جہنم کے سامنے لا کھڑے کئے جائیں گے، خوف وذلت کے مارے جھکے جار ہے ہوں گے، اور کنکھیوں سے دزدیدہ نظروں سے اسے (جہنم کو) دیکھ رہے ہوں گے، مِنْ ابتدائیہ ہے یا بمعنی باء ہے مومنین کہیں گے کہ حقیقی زیاں کار وہ ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو دائمی عذاب میں مبتلا کر کے اور ان…
Read the full tafseer →وما کان لھم من اولیاء ینصرونھم من دون اللہ ومن یضلل اللہ فما لہ من سبیل اور (وہاں)
ان کے کوئی مددگار نہ ہوں گے کہ اللہ سے الگ ہو کر ان کی مدد کرسکیں اور جس کو اللہ گمراہ کر دے اس کیلئے (نجات کا) کوئی راستہ نہیں۔
یَنْصُرُوْنَھُمْ یعنی عذاب کو دفع کرسکیں۔
فَمَا لَہٗ مِنْ سَبِیْلٍ یعنی دنیا میں حق تک پہنچنے اور آخرت میں جنت تک رسائی کا کوئی راستہ نہیں ‘ اس کیلئے خیر کے سارے دروازے بند ہیں۔
Read the full tafseer →اور وہاں ان کے مددگار نہ ہوں گے جو عذاب خداوندی کے مقابلہ میں ان کی مدد کریں اور جسے اللہ تعالیٰ اپنے دین سے گمراہ کردے اس کے لیے کوئی رستہ اور حجت نہیں۔
Read the full tafseer →(1) وماکان لھم من اولیآء …: اس آیت میں مشرکوں کا رد ہے جو اپنے بنائے ہوئے داتاؤں اور مشکل کشاؤں کے بارے میں عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ ان کے حمایتی اور مددگار ہیں، سختی اور مصیبت کے وقت ان کے کام آئیں گے اور انھیں اللہ کے عذاب سے بچا لیں گے۔ اس امید پر یہ ان کی عبادت کرتے اور انھیں پکارتے ہیں، حالانکہ یہ اعتقاد سراسر گمراہی ہے اور جسے اللہ گمراہ کر دے پھر اس کے لئے کوئی بھی راستہ نہیں۔
Read the full tafseer →(آیت نمبر 46 )
اولیاء سے مراد مددگار ہیں من دون اللہ یعنی اس کے عذاب سے انہیں بچائیں ومن یضلل اللہ فما لہ من سبیل۔ جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کردے اس کے لیے کوئی راہ نہیں جس کے ذریعے وہ دنیا میں حق تک اور آخرت میں جنت تک پہنچ سکے کیونکہ ان پر نجات کا راستہ بند کردیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ینظرون من طرف خفی “ (سست نگاہ سے دیکھتے ہوں گے) یعنی ذلیل ہوکر۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
3:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے محمد بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ینظرون من طرف خفی “ سے مراد ہے کہ وہ نظرکو چرائیں گے آگ کی طرف (یعنی چوری چوری دیکھیں گے ) ۔
4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ اسی طرح روایت کیا ہے۔
5:۔ عبد بن حمید (رح) نے خلف بن خوشب (رح) سے روایت کیا کہ زید بن صوحان نے یہ آیت پڑھی (آیت ) ” استجیبوا لربکم من قبل ان یاتی…
Read the full tafseer →وَمَا كَانَ لَهُمْ [ اور نہیں ہیں ان کے لئے ] مِّنْ اَوْلِيَاۗءَ [ کوئی بھی ایسے کارساز ] يَنْصُرُوْنَهُمْ [ جو مدد کریں گے ان کی ] مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے سوا ] وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ [ اور جس کو بھٹکا دے اللہ ] فَمَا لَهٗ [ تو اس کے لئے نہیں ہے ] مِنْ سَبِيْلٍ [ کوئی بھی راہ ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
قیامت آنے سے پہلے اپنے رب کا حکم مانو
ان آیات میں اولاً یہ ارشاد فرمایا کہ جب قیامت کا دن آئے گا تو واپس نہیں کیا جائے گا وہ واقع ہوگیا سو ہوگیا اس دن کے آنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بات مان لو، ایمان بھی قبول کرو اور عمل صالحہ بھی اختیار کرو جب قیامت کا دن ہوگا تو کسی کے لیے کوئی پناہ نہ ہوگی اللہ جس کو پناہ دے اسی کو پناہ مل سکے گی اور کافروں کے لیے کوئی پناہ کی جگہ نہیں، اس دن جس شخص کے ساتھ جو بھی معاملہ ہوگا اس میں کسی کو بھی کسی کے بارے میں یہ کہنے کا اختیار نہ ہوگا کہ یہ کیوں ہوا اور کیوں ہو رہا ہے۔
قولہ تعالیٰ : وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ قال القرطبی ؓ ای لا یجدون منکرا یومئذٍ بما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–50
قباحت حال و محرومی وذلت کفار وروز قیامت وبیان کمزوری فطرت انسان :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ومن یضلل اللہ فمالہ من ولی من بعدہ ....... الی ...... انہ علیم قدیر “۔
(ربط) اس سے قبل آیات میں اہل ایمان وتقوی اور ان کے اوصاف خاصہ کا ذکر تھا اب ان آیات میں گمراہوں اور مجرموں کی بدنصیبی ذلت و محرومی کا بیان ہے، ساتھ ہی انسان کی اس فطری کمزوری کا بھی بیان ہے جو اکثر مراحل میں اس کو افعال رذیلہ اور خصائص ذمیمہ کا مرتکب بناتی ہے ہے ارشاد ہے اور جس کو گمراہ کردے اللہ تو پھر اس کے بعد اس کے واسطے کوئی چارہ ساز نہیں کہ اس کو ہدایت دیدے، اور اے مخاطب تو دیکھے گا قیامت کے روز ظالموں کو جبکہ وہ عذاب خداوندی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
36:۔ ” وما کان لہم۔ الایۃ “ قیامت کے دن جب مشرکین عذاب جہنم میں گرفتار ہوں گے تو اس وقت کوئی انکا حمایتی اور مددگار نہیں ہوگا جو اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ دنیا میں جن کو کارساز سمجھ کر پکارتے رہے وہاں ان میں سے کوئی بھی کان نہ آئیگا اور جس کو اللہ تعالیٰ اس کے عناد و تعنت کی وجہ سے اور مہر جباریت کی وجہ سے گمراہ کردے اور توفیق ہدایت سے محروم کردے تو دنیا میں راہ راست پر آنے کی اور آخرت میں جنت تک پہنچنے کی اس کیلئے کوئی سبیل نہیں۔ کوئی اس کا حمایتی اور مددگار اس سے یہ شقاوت دور نہیں کرسکتا من سبیل ای وصول الی الحق فی الدنیا والجنۃ فی العقبی (معالم و خازن ج 6 ص 128) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–50
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے دین کے بہت سے اہم اصول بیان فرمائے تھے جن پر انسانیت کی فوز و فلاح کا دارومدار ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان اور بھروسہ ، کبائر اور بےحیائی سے اجتناب ، غصے کی حالت میں در گزر ، حکم الٰہی کی تعمیل نماز کا قیام ، انفرادی اور اجتماعی معاملات میں باہمی مشاورت ، خدا کی عطا کردہ روزی میں سے مستحقین پر انفاق ، سرکشی کرنے والے سے انتقام مگر در گزر کی پسندیدگی وغیرہ موٹے موٹے اصول ہیں جو اللہ نے گزشتہ درس میں بیان کیے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور گمراہی کی بات سمجھائی ہے۔ پھر رسالت اور توحید کا مسئلہ بھی بیان فرما دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تخلیق…
Read the full tafseer →وَمَا كَانَ لَہُمْ مِّنْ اَوْلِيَاۗءَ يَنْصُرُوْنَہُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ 0 ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللہُ فَمَا لَہٗ مِنْ سَبِيْلٍ 46 ۭ
ما
مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف .
فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع .
فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي
نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
ترکیب : وتری من الرویۃ البصیریۃ الظالمین مفعول بہ لما شرطیۃ یقولون جواب والجملۃ حالیۃ خاشعین حال من الضمیر المفعول فی تراھم من الذل ای من اجلہ من طرف خفی من لابتداء الفایۃ ای یتبدی نظرھم الی النار و الطرف الخفی النظر بالمسارقۃ لجہۃ الخوف۔
تفسیر : معاف وصبر کرنے کے بارے میں فرمایا تھا کہ یہ بڑے کاموں میں سے ہے۔ ہدایت پانے والوں کو یہ باتیں نصیب ہوتی ہیں اس موقعہ پر ازلی گمراہوں کا اور ان پر جو کچھ وہاں پیش آوے گا اس کا ذکر کرنا بھی مناسب ہوا۔ فقال و من یضلل اللہ الخ کہ جس کو اللہ گمراہ کرتا ہے تو اس کو پھر کون حمایت کر کے راہ پر لاسکتا ہے۔ بدنصیبوں کی نہ صرف عفو وانتقام میں ناراستی و کجروی…
Read the full tafseer →وَمَا کَانَ لَہُمْ مِّنْ اَوْلِیَـآئَ یَنْصُرُوْ نَھُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ ط وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَـہٗ مِنْ سَبِیْلٍ ۔ (الشوری : 46)
(اور ان کے اولیاء میں سے کوئی نہیں ہوگا جو اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کرے، اور جس کو اللہ گمراہ کردے تو پھر اس کے لیے کوئی راہ نہیں۔ )
قیامت کے روز مشرکین کی بےبسی
یہ مشرک لوگ جو آج نبی کریم ﷺ کی دعوت کو خاطر میں لانے کو تیار نہیں جب وہ قیامت کے دن ایسے عذاب میں پکڑے جائیں گے جو کبھی ٹلنے والا نہیں، تو زندگی میں اپنے جن شرکاء پر انھیں بہت ناز رہا اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان پر انھیں بڑا بھروسہ تھا، کوئی بھی ان کی مدد کرنے کے لیے نہیں آئے گا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین پر فساد برپا کرتے ہیں درحقیقت وہ صحیح راستے سے گمراہ ہوجاتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کردے اس کی کوئی راہنمائی کرنے والا نہیں ہوتا۔
جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کردے اس کا کوئی خیرخواہ اور دوست نہیں ہوگا۔ آپ ﷺ ظالموں کو دیکھیں گے کہ جب یہ جہنم کے عذاب کو دیکھیں گے تو آہ وزاریاں کرتے ہوئے کہیں گے کہ کیا جہنّم سے بچ نکلنے کا کوئی راستہ ہے۔ آپ انہیں دیکھیں گے کہ جب وہ جہنّم کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے تو ذلّت کی وجہ سے اپنی نگا ہوں کو نیچے کیے ہوئے ترشی آنکھوں سے اسے دیکھ رہے ہوں گے اس وقت مومن کہیں گے۔ یقیناً یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ اور…
Read the full tafseer →46: وَمَا کَانَ لَھُمْ مِّنْ اَوْلِیَآ ئَ یَنْصُرُوْنَھُمْ (اور ان کے کوئی مددگار نہ ہونگے جو ان کی مدد کریں گے) مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ سے الگ) اس کے عذاب سے بچانے کیلئے مدد کریں۔ وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ سَبِیْلٍ (اور جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے اس کے لئے کوئی راستہ ہی نہیں) نجات کی طرف۔
Read the full tafseer →تفسیر 45۔ ، وتراھم یعرضون علیھا، آگ پر، خاشعین، عاجزی ، انکساری کے ساتھ ۔ ، من الذل ینظرون من طرف خفی، جھکی نظروں سے کیونکہ ان پر ذلت ہوگی، وہ چپکے سے آگ پر نگاہ ڈالیں گے ڈرتے ہوئے اور اپنے دل میں ذ(رح) لت محسوس کرتے ہوئے ۔ اور کہا گیا ہے، من، باء کے معنی میں ہے یعنی بطرف خفی ضعیف من الذل۔ اور کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ، من طرف خفی، کہا ہے اس لیے کہ وہ اپنی پوری آنکھ نہ کھولے گا صرف تھوڑی آنکھ سے دیکھے گا اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ آگ کی طرف اپنے دلوں سے دیکھیں گے۔ اس لیے کہ وہ اندھے ہونے کی حالت میں جمع کیے جائیں گے اور دل سے دیکھنا خفی (ہلکا) ہے۔ ، وقال الذین امنوا ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–50
44۔ 50۔ اوپر اچھے لوگوں کی عادتوں کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا یہ اچھی عادتوں کے وہی لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نیک قرار پا چکے ہیں اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں بد قرار پا چکے ہیں وہ اپنے ارادہ سے تو اچھی عادتوں کو اختیار نہیں کرتے اور مجبور کرکے کسی کو راہ راست پر لانا اللہ کو منظور نہیں ہے اس واسطے مرتے دم تک ایسے لوگ اپنی بد عاتوں پر رہیں گے اور قیامت کے دن ان لوگوں کا حال دیکھنے کے قابل ہوگا کہ میدان حشر میں جب جہنم کو اس طرح لایا جائے گا کہ جہنم کی ستر ہزار نکیلیں اونٹ کی سی ہوں گی اور ہر ہر نکیل پر ستر ستر ہزار فرشتے ہوں گے اور ان نکیلوں کو کھینچ رہے ہوں گے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
آیت 46
اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ہدایت عطا کرنے اور اصلاح کرنے میں تنہا ہے۔ (ومن یضلل اللہ) جسے اللہ تعالیٰ اس کے ظلم کے سبب سے گمراہ کر دے (فمالہ من ولی م بعدہ) ” تو اس کے بعد اس کا کوئی دوست نہیں۔ “ جو اس کے معاملے کی سرپرستی کرے اور اس کی راہنمائی کرے۔ (وتری الظلمین لما راوا العذاب) اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب وہ عذاب کا بہت ہی برا، بہت مشکل اور نہایت قبیح منظر دیکھیں گے تو وہ بہت زیادہ ندامت اور اپنے گزشتہ کر تتوں پر افسوس کا اظہار کریں گے۔ (یقولون ھل الی مرد من سبیل) اور کہیں گے : کیا دنیا میں دوبارہ جانے کا کوئی طریقہ یا کوئی حیلہ ہے تاکہ ہم ان کاموں سے مختلف کام کریں جو ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–53
انتقام لینا کب جائز ہوتا ہے ؟
قول باری ہے (والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون۔ اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم واقع ہوتا ہے تو وہ (برابر کا ) بدلہ لے لیتے ہیں) ابراہیم نخعی سے آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ لوگ مسلمانوں کے لئے اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ اپنے آپ کو دبا کر اور عاجز بنا کر رکھیں جس کی بنا پر فاسق وفاجر لوگوں کو ان کے خلاف جرات دکھانے کا موقعہ مل جائے۔
سدی کا قول ہے کہ (ھم ینتصرون) کا مفہوم یہ ہے کہ وہ لوگ ان لوگوں سے بدلہ لے لیتے ہیں جو ان پر ظلم کرتے ہیں لیکن وہ ان کے ساتھ زیادتی نہیں کرتے۔ ابولکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کئی مقامات پر ہمیں اس بات کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
93 ظالموں کی لیے کوئی حمایتی اور کارساز نہیں ہوگا : جو ان کی وہاں کوئی حمایت یا کارسازی کرسکے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ظالموں کیلئے کوئی کارساز نہیں ہوگا جو اللہ کے مقابلے میں ان کی کوئی مدد کرسکے۔ سو دنیا میں یہ لوگ جن کو اپنا حاجت روا و مشکل روا سمجھ کر پوجا پکارا کرتے تھے وہاں وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آسکیں گے۔ لکڑ پتھر وغیرہ کے بتوں میں تو سرے سے اس کی کوئی اہلیت و صلاحیت ہی نہیں کہ وہ کسی کے کچھ کام آسکیں۔ اور اللہ کے جن دوسرے نیک بندوں کو یہ مشرک لوگ دنیا میں اپنا حاجت روا و مشکل کشا مانتے اور ان کو اپنی حاجت روائی و مشکل کشائی کے لئے پکارا کرتے تھے وہ نہ صرف یہ کہ ان کے کچھ کام نہیں آئیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
گمراہ لوگوں کا قیامت کے دن برا حشر ہو گا
تشریح : ان آیات میں غیب کی ایک بہت بڑی ڈرانے والی خبر دی گئی ہے۔ اس دنیا میں ان کو خبر دار کیا جا رہا ہے کہ ان کی زندگیاں خود ان کے لیے اور ان کے عزیز و اقارب کے لیے شرمندگی اور عذاب کا باعث ہیں اور مرنے کے بعد بھی ہوں گی۔ کیونکہ دنیا میں تو ان کے لیے یہ محاورہ ہے کر برا تو ہو برا اور آخرت میں عذاب جہنم ان کے لیے تیار کیا جا چکا ہے جس کا نقشہ ان آیات میں کھینچا گیا ہے اس وقت مومن لوگ عذاب میں ڈالے جانے والے لوگوں پر افسوس کا اظہار کر رہے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–53
آیات 44 تا 53۔
اسرار ومعارف۔
اور جس شخص کے کردار کے باعث اللہ نے ہی اس پر ہدایت کے دروازے بند کردیے اور گمراہی مقدر کردی پھر اسے کوئی بھی راہ پر نہیں لاسکتا بلکہ اسے مخاطب ایسے لوگ اپنے انجام کو پہنچیں گے اور تو دیکھے گا کہ ان ظالموں کو جب عذاب کا مشاہدہ ہوگا تو پکار اٹھیں گے کہ کیا کوئی ایسا طریقہ کہ ہم دنیا میں واپس جاسکیں تاکہ اب نیکیاں کرکے لائیں اور ایمان کی حالت میں یہاں پہنچیں اور دیکھو گے کہ جب دوزخ کی آگ کے روبرو ہوں گے توشرمندگی اور ذلت کے سبب نظریں جھکائے ہوئے ہوں گے اور کن اکھیوں سے دوزخ کی آگ کو ڈرتے ڈرتے دیکھیں گے تب مومن کہیں گے خسارہ اور بہت بڑا نقصان حقیقتا یہ ہے کہ جن لوگوں…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی نہ دنیا میں ہدایت کا راستہ اور نہ آخرت میں نجات یا بہشت کا راستہ
Read the full tafseer →(42:46) وما کان : میں ما نافیہ ہے۔ وما کان لہم من اولیاء ینصرونھم من دون اللّٰہ۔ ای وما کان لہم من دون اللّٰہ من اولیاء ینصرونھم اللہ کے درے ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا کہ ان کی مدد کرسکے۔ ینصرونھم : ینصرون مضارع جمع مذکر غائب نصر (باب نصر) مصدر (کہ) وہ مدد کرسکیں ۔ یا مدد کریں۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔
ومن یضلل اللّٰہ۔ جملہ شرط۔ فما لہ من سبیل جواب شرط۔
یضلل مضارع مجزوم (بوجہ عمل من شرطیہ) واحد مذکر غائب اضلال (افعال) مصدر اور جس کو اللہ گمراہ کر دے۔ (یہ اضلال ان لوگوں کے عدم تلاش حق کی پاداش میں ہوگا۔ اور یہ اضلال کی نسبت حق تعالیٰ کی طرف ہمیشہ تکوینی حیثیت سے بطور مسبب الاسباب کے ہوگی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
لغات القرآن آیت نمبر 44 تا 46 : مرد (لوٹ جانے کی جگہ) طرف خفی (چھپی نظر ، کن انکھیوں سے دیکھنا) مقیم ( قائم رہنے والا) سبیل ( راستہ)
تشریح : آیت نمبر 44 تا 46 : اہل ایمان پر یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے زندگی کی راہوں میں ہدایت و رہنمائی کے لئے قرآن کریم جیسی عظیم کتاب عطاء فرمائی اور اطاعت و فرماں بردری کے لئے خاتم الانبیاء احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات پاک اور بہترین نمونہ زندگی عطاء فرمایا ۔ یہ ایسی سچائی ہے کہ اگر کوئی اس کو آنکھ سے دیکھ کر بھی ایمان قبول نہیں کرتا اور وہ کفر و شرک کی جس زندگی کو اختیار کئے ہوئے ہے اس سے توبہ نہیں کرتا تو اللہ بھی بےنیاز ذات ہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–51
قرآن خدا کی کتاب ہے۔
(ف 1) شان نزول : یہود نبی کی نبوت پر لوگوں کے بہکانے کے لیے اور حسد کے سبب سے یہ اعتراض کیا کرتے تھے کہ اگر یہ نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ سے بلاواسطہ فرشتے کے کلام کرتے وقت اس کو کیوں نہیں دیکھتے جیسا کہ حضرت موسیٰ دیکھتے تھے ان کے اس اعتراض کو جواب نبی ﷺ نے یہ دیا کہ حضرت موسیٰ بھی نہیں دیکھتے تھے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، اصل مطلب یہ ہے کہ بلاپردہ کی آڑ کی تو نہ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا اور نہ کسی آدمی میں یہ طاقت ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے روبروباتیں بےپردہ حجاب فرمائے، ہاں پچھلے تمام انبیاء مین جو وحی کا طریقہ تھا کہ خواب میں کوئی بات معلوم ہوجاتی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–51
[26] یعنی دل میں کوئی بات ڈال دے یا خواب میں کچھ دکھا دے جیسے ابراہیم (علیہ السلام) اور یوسف (علیہ السلام) کو دکھایا گیا۔
[27] یعنی بلاواسطہ پردے کے پیچھے سے کلام فرمائے جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر پیش آیا۔
[28] یعنی فرشتہ کے ذریعے وحی بھیجتا ہے جیسے قرآن مجید جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعے نبی ﷺ کو بھیجا گیا۔ اس آیت میں جواب ہے مخالفین کے اس مطالبے کا جو قرآن میں متعدد مقامات پر مختلف اسلوبوں سے نقل ہوا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ محمد ﷺ سے بات کرتا ہے جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے تو آخر وہ ہم سے روبرو ہو کر بات کیوں نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
آیت 44 ۔ 46
حل لغات :۔ ظرف خفی ۔ دزویدہ نگاہ سے ۔ سست نگاہ سے مقیم ۔ دائمی ۔ اولیاء ۔ ولی کی جمع ہے ۔ بمعنے دوست اور مدد گار ۔ چارہ ساز مرد ۔ ہٹنا ۔ لوٹنا ۔
یعنی وہ لوگ جن سے بداعمالیوں کی وجہ سے اللہ توفیق ہدایت چھین لے ۔ وہ چارہ سازی سے محروم رہینگے ۔
گھاٹے میں کون ہے
وہ لوگ جنہوں نے دنیا میں اپنی ذمہ داریوں کو محسوس نہیں کیا ۔ اور کفروشرک اختیار کرکے اپنے قلب ووجدان پر ظلم کیا ہے ۔ ان سے عالم عقبے میں بہت ہی ذلیل کن طرز عمل روارکھا جائیگا ان کی روح افتخار کو کچل ڈالا جائے گا ۔ اور اس تمام غروروکبر کو جس کی وجہ سے یہ قرآن حکیم تسلیم نہ کرسکے پاؤں تلے مسل دیا جائے گا ۔ محسوس کریں گے ۔ کہ ذلت…
Read the full tafseer →(46) اور ان ظالموں کے لئے وہاں کوئی حمایتی اور مددگار نہ ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے سوا ان کی مدد کرسکیں اور جس بدنصیب کی اللہ تعالیٰ رہنمائی نہ فرمائے اس کی نجات کے لئے کوئی راستہ نہیں۔ یعنی وہاں ان مشرکوں کے حمایتی بھی نہ ہوں گے جو اللہ تعالیٰ سے الگ اور جدا ہوکر ان کی مدد کرسکیں اور جس بدنصیب کی حضرت حق جل مجدہ کی جانب سے رہنمائی نہ ہو اور اللہ تعالیٰ اس کو راہ نہ دے تو اس کو کہیں راہ نہیں یعنی دنیا میں راہ حق نہ ملے اور آخرت میں نجات یا جنت کا راستہ نہ ملے عذاب کی وعید سنانے کے بعد عام دعوت کا اعلان فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
ف 2۔ یعنی ایسا کرنا بہتر ہے اور اولوا العزمی ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ پکڑ لے تو اس کی پکڑ سے کوئی چھڑا نہیں سکتا
46 ؎ یہ اس دن کی حالت بیان کی جا رہی ہے جو عدل اور انصاف کا دن ہے اور جس روز کو آج دنیوی زندگی میں سچے دل سے کوئی ماننے کو تیار نہیں۔ لاریب جن لوگوں نے اس کو مانا ہے وہ بھی رسماً اس کو مانتے اور تسلیم کرتے ہیں اور پھر من مانیاں کرنے کے لیے انہوں نے اکثر موہوم سہارے بنا رکھے ہیں اور انہی سہاروں کے بل بوتے پر وہ سب کچھ کیے چلے جا رہے ہیں کہ ہم کو ہمارے یہ پیرو مرشد جن کو ہم شیرنیاں پیش کرتے ہیں اس روز کے عذاب سے بچوا لیں گے ، ہماری سفارش کردیں گے اور سفارش سے ایسے ایسے کام بھی ہوجاتے ہیں جو بظاہر کبھی ہوتے ہوئے نظر نہیں آتے پھر یہ لوگ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
Commentary
The earlier three of the above verses state the end of those people who, as against the virtuous Muslims, remained desirous of the delights and luxuries of this world, instead of caring about the Hereafter. Then in verse 47, they have been advised to repent and embrace faith before the scourge of Doomsday comes upon them. Thereafter, in verse 48, the Holy Prophet ﷺ has been comforted and assured that if these people do not come to their senses, despite your preaching again and again, and despite your tireless efforts, then you should not worry: فَإِنْ أَعْرَضُوا فَمَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
72. That is, neither will Allah Himself avert it, nor has anyone else the power to avert it.
73. This sentence has several other meanings also:
(1) You will not be able to deny any of your misdeeds.
(2) You will not be able to hide yourself even in disguise.
(3) You will not be able to protest or show any displeasure against any treatment that is meted out to you.
(4) It will not be in your power to change the condition in which you are placed.
Read the full tafseer →