Explained with ayahs 44–46
اللہ تعالیٰ کو کوئی پوچھنے والا نہیں
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا اور نہ اسے کوئی کرسکتا ہے وہ جسے راہ راست دکھا دے اسے بہکا نہیں سکتا اور جس سے وہ راہ حق گم کر دے اسے کوئی اس راہ کو دکھا نہیں سکتا اور جگہ فرمان ہے آیت (وَمَنْ يُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِيًّا مُّرْشِدًا 17ۧ) 18۔ الكهف :17) جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی چارہ ساز اور رہبر نہیں۔ پھر فرماتا ہے یہ مشرکین قیامت کے عذاب کو دیکھ کر دوبارہ دنیا میں آنے کی تمنا کریں گے جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا…
Read the full tafseer →سورة الشُّوْرٰی 71
انسان کا قاعدہ ہے کہ جب کوئی ہولناک منظر اس کے سامنے ہوتا ہے اور وہ جان رہا ہوتا ہے کہ عنقریب وہ اس بلا کے چنگل میں آنے والا ہے جو سامنے نظر آ رہی ہے، تو پہلے تو ڈر کے مارے وہ آنکھیں بند کرلیتا ہے۔ پھر اس سے رہا نہیں جاتا۔ دیکھنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ بلا کیسی ہے اور ابھی اس سے کتنی دور ہے۔ لیکن اس کی بھی ہمت نہیں پڑتی کہ سر اٹھا کر نگاہ بھر کر اسے دیکھے۔ اس لیے بار بار ذرا سی آنکھیں کھول کر اسے گوشہ چشم سے دیکھتا ہے اور پھر ڈر کے مارے آنکھیں بند کرلیتا ہے۔ جہنم کی طرف جانے والوں کی اسی کیفیت کا نقشہ اس آیت میں کھینچا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
معارف و مسائل
آیات مذکورہ کی ابتدائی آیات میں ان لوگوں کا انجام مذکور ہے جو مومنین صالحین کے بالمقابل بجائے فکر آخرت کے صرف دنیا کی لذت و راحت کے طلب گار رہے۔ اس کے بعد (آیت) اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ میں ان کو نصیحت کی گئی کہ قیامت کا عذاب آنے سے پہلے توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں۔ اور پھر رسول اللہ ﷺ کو تسلی اور اطمینان دلایا گیا ہے کہ آپ کی بار بار تبلیغ اور کوشش کے باوجود اگر یہ لوگ ہوش میں نہ آویں تو آپ غم نہ کریں، (آیت) فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَآ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيْظًا۔ کا یہی مطلب ہے۔
آخرت آیات میں (آیت) لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ سے آخر تک تخلیق کائنات میں جو…
Read the full tafseer →وترلھم یعرضون علیھا خشعین من الذل ینظرون من طرف خفی ط وقال الذین امنوا ان لاخسرین الذین خسروا انفسھم و اھلیھم یوم القیمۃ ط الا ان الظلامین فی عذاب مقیم 45
عربیت کا ایک اسلوب
’ یعرضون علیھا ‘ میں ضمیر کا مرجع وہی عذاب ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں ہوا ہے چونکہ اس سے مراد دوزخ یا نار جہنم ہے اس وجہ سے ضمیر علی سبیل التاویل مونث آئی۔ اس طرح گویا لفظ عذاب کے اجمال کی وضاحت ہوگی۔ عربی زبان میں یہ اسلوب بہت معروف ہے۔
فرمایا کہ آج تو یہ لوگ اپنی کامیاب زندگی کے غرے میں اس عذاب کا مذاق اڑا رہے ہیں لیکن جس دن یہ اس میں داخل کرنے کے لئے لے جائے جائیں گے تو ذلت سے اپنے سر نہوڑائے ہوئے کن انکھیوں سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
45۔ 1 یعنی دنیا میں یہ کافر ہمیں بیوقوف اور دنیاوی خسارے کا حامل سمجھتے تھے، جب کہ ہم دنیا میں صرف آخرت کو ترجیح دیتے تھے اور دنیا کے خساروں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے۔ آج دیکھ لو حقیقی خسارے سے کون دو چار ہے۔ وہ جنہوں نے دنیا کے عارضی خسارے کو نظر انداز کیے رکھا اور آج جنت کے مزے لوٹ رہے ہیں یا وہ جنہوں نے دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ رکھا تھا اور آج ایسے عذاب میں گرفتار ہیں جس سے چھٹکارا ممکن ہی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–46
8: یعنی اگر کسی کے ساتھ کوئی زیادتی کی جائے تو مظلوم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اتنی ہی تکلیف ظالم کو پہنچا دے جتنی اس نے پہنچائی تھی لیکن آگے اس بات کی بڑی فضیلت یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ انسان بدلہ لینے کے بجائے صبر کر کے معاف کردے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
آیت نمبر 44 تا 46
اللہ کے فیصلے کو رد نہیں کیا جاسکتا اور اللہ مشیت کی راہ کوئی روک نہیں سکتا۔
ومن یضلل اللہ فما لہ من ولی من بعدہ (42 : 44) “ جس کو اللہ گمراہی میں پھینک دے ، اس کا کوئی سنبھالنے والا اللہ کے بعد نہیں ”۔ جب اللہ کے علم میں یہ بات آجاتی ہے کہ یہ بندہ گمراہی کا مستحق ہے تو اللہ کا فیصلہ ہوجاتا ہے کہ یہ گمراہ ہوگا۔ اس کے بعد پھر کوئی ولی اسے ہدایت دینے کی طاقت نہیں رکھتا۔ نہ اس کی مدد یوم الحساب میں عذاب سے بچانے میں کرسکتا ہے۔ باقی آیت میں ایک منظر !
وتری الظلمین ۔۔۔۔۔ مرد من سبیل ( 42 : 44) وترھم یعرضون ۔۔۔۔۔ طرف خفی (42 : 44) “ تم دیکھو گے کہ یہ ظالم جب عذاب دیکھیں گے تو کہیں…
Read the full tafseer →11 یعنی ایک سہمے ہوئے مجرم کی طرح خوف اور ذلت و ندامت کے مارے نیچی نظر سے دیکھتے ہوں گے۔ کسی سے پوری طرح آنکھ نہیں ملا سکیں گے۔
1 یعنی بدبخت اپنے ساتھ اپنے متعلقین اور گھر والوں کو بھی لے ڈوبے۔ سبھی کو تباہ و برباد کر کے چھوڑا۔
Read the full tafseer →آیت 45 { وَتَرٰٹہُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْہَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ } ”اور تم دیکھو گے انہیں کہ وہ پیش کیے جائیں گے اس جہنم پر ‘ نگاہیں زمین میں گاڑے ہوں گے ذلت کی وجہ سے ‘ دیکھ رہے ہوں گے کن انکھیوں سے۔“
اسی کیفیت میں وہ لوگ ایک دوسرے سے گفتگو کر رہے ہوں گے۔
{ وَقَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ وَاَہْلِیْہِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ } ”اور اُس وقت اہل ایمان کہیں گے کہ واقعتا تباہ و برباد ہونے والے تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو قیامت کے دن خسارے میں مبتلا کیا۔“
{ اَلَآ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ…
Read the full tafseer →64 جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر اپنی موت کے ڈر سے آنکھیں بند کرلیتا ہے ویسے ہی جب وہ جہنم کے عذاب کو دیکھیں گے تو ڈر اور ذلت کی وجہ سے آنکھیں بند کریں گے۔ پھر جب مزید گھبراہٹ پیدا ہوگی تو کن اکھیوں سے جہنم کی طرف دیکھیں گے جس میں عنقریب وہ ڈالے جانے والے ہوں گے۔
65 یعنی یہ بدبخت صرف خود ہی گمراہ نہ ہوئے بلکہ اپنے ساتھ اپنے متعلقین اور گھر والوں کو بھی لے ڈوبے سبھی کو تباہ و برباد کرکے چھوڑا۔
Read the full tafseer →50۔ (جس طرح ایک خوفزدہ انسان دیکھتا ہے) (آیت) ” الظلمین “۔ ظالم۔ یہاں بھی کافر کا مرادف ہے۔
51۔ ایسے ظالم جو عذاب ابدی کے مستحق ہیں ظاہر ہے کہ صرف کافر و مشرک ہی ہوسکتے ہیں۔ ورنہ جو کسی درجہ میں بھی مومن ہوگا وہ بہرحال آخر کار جنتی ضرور ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–53
آیت نمبر 44 تا 53
ترجمہ : اور اللہ جسے گمراہ کر دے اس کے بعد اس کا کوئی کارساز نہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے اس کو گمراہ کرنے کے بعد اس کی ہدایت کا کوئی ولی نہیں، اور (اے مخاطب) تو دیکھے گا کہ ظالم لوگ عذاب کو دیکھ کر کہہ رہے ہوں گے کہ کیا دنیا کی طرف لوٹنے کی کوئی صورت ہے اور (اے مخاطب) تو دیکھے گا کہ وہ جہنم کے سامنے لا کھڑے کئے جائیں گے، خوف وذلت کے مارے جھکے جار ہے ہوں گے، اور کنکھیوں سے دزدیدہ نظروں سے اسے (جہنم کو) دیکھ رہے ہوں گے، مِنْ ابتدائیہ ہے یا بمعنی باء ہے مومنین کہیں گے کہ حقیقی زیاں کار وہ ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو دائمی عذاب میں مبتلا کر کے اور ان…
Read the full tafseer →وترھم یعرضون علیھا خشعین من الذل ینظرون من طرف خفی اور (نیز) تو ان کو اس حالت میں دیکھے گا کہ وہ دوزخ کے روبرو لائے جائیں گے ‘ مارے ذلت کے جھکے ہوئے ہوں گے ‘ سست نگاہ سے دیکھتے ہوں گے۔
وَتَرٰی یعنی اے مخاطب ! تو دیکھے گا۔
لَمَّا اَوُ الْعَذَاب یعنی جب وہ عذاب کو دیکھیں گے۔ چونکہ آئندہ قیامت کے دن عذاب کو دیکھنا یقینی ہے ‘ اسلئے بجائے مستقبل کے ماضی کا صیغہ استعمال کیا۔
ھَلْ اِلٰی مَرَدٍّ بظاہر لفظ لحاظ سے ہَلْ استفہامیہ ہے ‘ لیکن حقیقت میں یہ درخواست ہے۔ عذاب کو دیکھ کر دنیا میں لوٹ جانے کی درخواست کریں گے۔
عَلَیْھَا یعنی آگ پر ان کی پیشی ہوگی۔ خٰشِعِیْنَ خوفزدہ ‘ عاجزی اور فروتنی کرنے…
Read the full tafseer →اور دوزخ کے سامنے لائے جائیں گے ذلت اور غم کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے سست نگاہ سے دیکھتے ہوں گے۔
اور ایمان والے کہیں گے کہ پورے خسارہ والے وہ لوگ ہیں جو جنت میں اپنی جانوں اور اپنے خادموں کی وجہ سے خسارہ میں رہے یقینا یہ مشرک دائمی عذاب میں ہوں گے۔
Read the full tafseer →(1) وترھم یعرضون علیھا خشعین من الذل ینظرون…: آگ پر حاضری کے وقت ان کی حالت کا نقشہ کھینچا ہے کہ وہ ذلت سے سر جھکائے ہوئے چھپی آنکھ سے دیکھ رہے ہوں گے، جیسے کسی کے ہاتھ پاؤں باندھ کر تلوار سے مارنے لگیں تو وہ ڈر کے مارے آنکھیں بند کرلیتا ہے، پھر کبھی کبھی تھوڑی سی آنکھ کھول کر دیکھتا ہے کہ تلوار کب اس پر گرتی ہے۔ خوف کے مارے پوری طرح آنکھیں کھول کر دیکھنے کی ہمت نہیں پڑتی۔
(2) وقال الذین امنو ان الخسرین…: ای کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة زمر کی آیت (15) کی تفسیر۔
(3) الا ان الظلمین فی عذاب مقیم : یہ ایمان وا اوں کے کالم کا آخری حصہ بھی ہوسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی۔ دائمی عذاب میں رہنے…
Read the full tafseer →(آیت نمبر 45 )
وترھم یعرضون علیھا ھا ضمیر سے مراد آگ ہے کیونکہ یہی ان کا عذاب ہے اگر تو چاہے تو جہنم مراد لے لے اگر لفظ کی رعایت کی جاتی تو علیہ ہوتا پھر یہ کہا گیا : اس سے مراد سب مشرک ہیں جنہیں جہنم پر پیش کیا جائے گا (1) جب وہ اس کی طرف جائیں گے ؛ یہ اکثر علماء کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سیمراد آل فرعون ہیں ان کی روحوں کو سیاہ پرندوں میں محبوس کیا جاتا ہے (2) جو صبح کے وقت جہنم پر آتے ہیں اور شام کو واپس پلٹتے ہیں یہی جہنم پر ان کی پیشی ہے ؛ یہ حضرت ابن مسعود کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد عام مشرک ہیں ان کی قبروں میں ان کے گناہ پیش کیے جاتے ہیں اور وہ قبروں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ینظرون من طرف خفی “ (سست نگاہ سے دیکھتے ہوں گے) یعنی ذلیل ہوکر۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
3:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے محمد بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ینظرون من طرف خفی “ سے مراد ہے کہ وہ نظرکو چرائیں گے آگ کی طرف (یعنی چوری چوری دیکھیں گے ) ۔
4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ اسی طرح روایت کیا ہے۔
5:۔ عبد بن حمید (رح) نے خلف بن خوشب (رح) سے روایت کیا کہ زید بن صوحان نے یہ آیت پڑھی (آیت ) ” استجیبوا لربکم من قبل ان یاتی…
Read the full tafseer →وَتَرٰىهُمْ [ اور آپ دیکھیں گے ان کو ] يُعْرَضُوْنَ [ کہ وہ پیش کیے جاتے ہیں ] عَلَيْهَا [ اس (آگ ) پر ] خٰشِعِيْنَ [ عاجزی کرنے والے ہوتے ہوئے ] مِنَ الذُّلِّ [ تابعداری سے ] يَنْظُرُوْنَ [ دیکھتے ہوئے ] مِنْ طَرْفٍ خَفِيٍّ ۭ [ پوشیدہ پلک (کن انکھیوں ) سے ] وَقَالَ الَّذِيْنَ [ اور کہیں گے وہ لوگ جو ] اٰمَنُوْٓا [ ایمان لائے ] اِنَّ الْخٰسِرِيْنَ [ یقینا خسارہ پانے والے ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ] خَسِرُوْٓا [ خسارے میں ڈالا ] اَنْفُسَهُمْ [ اپنی جانوں کو ] وَاَهْلِيْهِمْ [ اور اپنے گھر والوں کو ] يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭ [ قیامت کے دن ] اَلَآ [ سن لو ] اِنَّ الظّٰلِمِيْنَ [ یقینا ظالم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
قیامت آنے سے پہلے اپنے رب کا حکم مانو
ان آیات میں اولاً یہ ارشاد فرمایا کہ جب قیامت کا دن آئے گا تو واپس نہیں کیا جائے گا وہ واقع ہوگیا سو ہوگیا اس دن کے آنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بات مان لو، ایمان بھی قبول کرو اور عمل صالحہ بھی اختیار کرو جب قیامت کا دن ہوگا تو کسی کے لیے کوئی پناہ نہ ہوگی اللہ جس کو پناہ دے اسی کو پناہ مل سکے گی اور کافروں کے لیے کوئی پناہ کی جگہ نہیں، اس دن جس شخص کے ساتھ جو بھی معاملہ ہوگا اس میں کسی کو بھی کسی کے بارے میں یہ کہنے کا اختیار نہ ہوگا کہ یہ کیوں ہوا اور کیوں ہو رہا ہے۔
قولہ تعالیٰ : وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ قال القرطبی ؓ ای لا یجدون منکرا یومئذٍ بما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–50
قباحت حال و محرومی وذلت کفار وروز قیامت وبیان کمزوری فطرت انسان :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ومن یضلل اللہ فمالہ من ولی من بعدہ ....... الی ...... انہ علیم قدیر “۔
(ربط) اس سے قبل آیات میں اہل ایمان وتقوی اور ان کے اوصاف خاصہ کا ذکر تھا اب ان آیات میں گمراہوں اور مجرموں کی بدنصیبی ذلت و محرومی کا بیان ہے، ساتھ ہی انسان کی اس فطری کمزوری کا بھی بیان ہے جو اکثر مراحل میں اس کو افعال رذیلہ اور خصائص ذمیمہ کا مرتکب بناتی ہے ہے ارشاد ہے اور جس کو گمراہ کردے اللہ تو پھر اس کے بعد اس کے واسطے کوئی چارہ ساز نہیں کہ اس کو ہدایت دیدے، اور اے مخاطب تو دیکھے گا قیامت کے روز ظالموں کو جبکہ وہ عذاب خداوندی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
36:۔ ” وما کان لہم۔ الایۃ “ قیامت کے دن جب مشرکین عذاب جہنم میں گرفتار ہوں گے تو اس وقت کوئی انکا حمایتی اور مددگار نہیں ہوگا جو اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ دنیا میں جن کو کارساز سمجھ کر پکارتے رہے وہاں ان میں سے کوئی بھی کان نہ آئیگا اور جس کو اللہ تعالیٰ اس کے عناد و تعنت کی وجہ سے اور مہر جباریت کی وجہ سے گمراہ کردے اور توفیق ہدایت سے محروم کردے تو دنیا میں راہ راست پر آنے کی اور آخرت میں جنت تک پہنچنے کی اس کیلئے کوئی سبیل نہیں۔ کوئی اس کا حمایتی اور مددگار اس سے یہ شقاوت دور نہیں کرسکتا من سبیل ای وصول الی الحق فی الدنیا والجنۃ فی العقبی (معالم و خازن ج 6 ص 128) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–50
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے دین کے بہت سے اہم اصول بیان فرمائے تھے جن پر انسانیت کی فوز و فلاح کا دارومدار ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان اور بھروسہ ، کبائر اور بےحیائی سے اجتناب ، غصے کی حالت میں در گزر ، حکم الٰہی کی تعمیل نماز کا قیام ، انفرادی اور اجتماعی معاملات میں باہمی مشاورت ، خدا کی عطا کردہ روزی میں سے مستحقین پر انفاق ، سرکشی کرنے والے سے انتقام مگر در گزر کی پسندیدگی وغیرہ موٹے موٹے اصول ہیں جو اللہ نے گزشتہ درس میں بیان کیے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور گمراہی کی بات سمجھائی ہے۔ پھر رسالت اور توحید کا مسئلہ بھی بیان فرما دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تخلیق…
Read the full tafseer →وَتَرٰىہُمْ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْہَا خٰشِعِيْنَ مِنَ الذُّلِّ يَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِيٍّ 0 ۭ وَقَالَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ الْخٰسِرِيْنَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ وَاَہْلِيْہِمْ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ 0 ۭ اَلَآ اِنَّ الظّٰلِـمِيْنَ فِيْ عَذَابٍ مُّقِيْمٍ 45
عرض
أَعْرَضَ الشیءُ : بدا عُرْضُهُ ، وعَرَضْتُ العودَ علی الإناء، واعْتَرَضَ الشیءُ في حلقه : وقف فيه بِالْعَرْضِ ، واعْتَرَضَ الفرسُ في مشيه، وفيه عُرْضِيَّةٌ. أي : اعْتِرَاضٌ في مشيه من الصّعوبة، وعَرَضْتُ الشیءَ علی البیع، وعلی فلان، ولفلان نحو : ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلائِكَةِ [ البقرة/ 31] ،
( ع ر ض ) العرض
اعرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
ترکیب : وتری من الرویۃ البصیریۃ الظالمین مفعول بہ لما شرطیۃ یقولون جواب والجملۃ حالیۃ خاشعین حال من الضمیر المفعول فی تراھم من الذل ای من اجلہ من طرف خفی من لابتداء الفایۃ ای یتبدی نظرھم الی النار و الطرف الخفی النظر بالمسارقۃ لجہۃ الخوف۔
تفسیر : معاف وصبر کرنے کے بارے میں فرمایا تھا کہ یہ بڑے کاموں میں سے ہے۔ ہدایت پانے والوں کو یہ باتیں نصیب ہوتی ہیں اس موقعہ پر ازلی گمراہوں کا اور ان پر جو کچھ وہاں پیش آوے گا اس کا ذکر کرنا بھی مناسب ہوا۔ فقال و من یضلل اللہ الخ کہ جس کو اللہ گمراہ کرتا ہے تو اس کو پھر کون حمایت کر کے راہ پر لاسکتا ہے۔ بدنصیبوں کی نہ صرف عفو وانتقام میں ناراستی و کجروی…
Read the full tafseer →وَتَرٰہُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْھَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ ط وَقَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ وَاَھْلِیْہِمْ یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ ط اَ لَآ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ ۔ (الشوری : 45)
(اور آپ ان کو دیکھیں گے کہ وہ نارجہنم پر اس طرح پیش کیے جائیں گے کہ ذلت سے جھکے ہوئے کن انکھیوں سے دیکھ رہے ہوں گے، اور اہل ایمان کہیں گے کہ اصل نقصان اٹھانے والے وہی ہیں جنھوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے متعلقین کو خسارے میں ڈال دیا، خبردار ! بیشک ظالم لوگ دائمی عذاب میں پڑیں گے۔ )
گزشتہ مضمون کو آگے بڑھایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین پر فساد برپا کرتے ہیں درحقیقت وہ صحیح راستے سے گمراہ ہوجاتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کردے اس کی کوئی راہنمائی کرنے والا نہیں ہوتا۔
جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کردے اس کا کوئی خیرخواہ اور دوست نہیں ہوگا۔ آپ ﷺ ظالموں کو دیکھیں گے کہ جب یہ جہنم کے عذاب کو دیکھیں گے تو آہ وزاریاں کرتے ہوئے کہیں گے کہ کیا جہنّم سے بچ نکلنے کا کوئی راستہ ہے۔ آپ انہیں دیکھیں گے کہ جب وہ جہنّم کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے تو ذلّت کی وجہ سے اپنی نگا ہوں کو نیچے کیے ہوئے ترشی آنکھوں سے اسے دیکھ رہے ہوں گے اس وقت مومن کہیں گے۔ یقیناً یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ اور…
Read the full tafseer →45: وَتَرٰھُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْہَا (اور آپ ان کو اس حالت میں دیکھیں گے کہ ان کو آگ کے سامنے لایا جائے گا) ۔ ھاؔ کی ضمیر نار کی طرف راجع ہے اس لئے کہ عذاب اس پر دلالت کررہا ہے۔ خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ (وہ ذلت کی وجہ سے جھکنے والے ہونگے) ذلت کے حاصل ہونے کی وجہ سے بتکلف چھوٹے بنیں گے اور اپنے کو بتکلف حقیر بنائیں گے۔ یَنْظُرُوْنَ (وہ آگ کی طرف دیکھیں گے) مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ (سست نگاہ سے) آنکھیں چرا کر ذرا سی نظر سے دیکھیں گے جیسا کہ قتل گاہ میں موجود شخص تلوار کو دیکھتا ہے۔
وَقَالَ الَّذِیْنَ ٰامنُوْا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْا اَنْفُسَھُمْ وَ اَھْلِیْھِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ…
Read the full tafseer →44، ومن یضلل اللہ فما لہ من ولی من بعدہ، پس اس کے لیے کوئی ایسا نہیں جو اس کو ہدایت دینے کا ولی بنے گا اللہ تعالیٰ کے، اس کو گمراہ کرنے کے بعد یا اس کو عذاب الٰہی سے بچائے۔ ، وتری الظالمین لماراو ا العذاب ، قیامت کے دن ۔ ، یقولون ھل الی مرد من سبیل، وہ دنیا میں لوٹنے کا سوال کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–50
44۔ 50۔ اوپر اچھے لوگوں کی عادتوں کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا یہ اچھی عادتوں کے وہی لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نیک قرار پا چکے ہیں اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں بد قرار پا چکے ہیں وہ اپنے ارادہ سے تو اچھی عادتوں کو اختیار نہیں کرتے اور مجبور کرکے کسی کو راہ راست پر لانا اللہ کو منظور نہیں ہے اس واسطے مرتے دم تک ایسے لوگ اپنی بد عاتوں پر رہیں گے اور قیامت کے دن ان لوگوں کا حال دیکھنے کے قابل ہوگا کہ میدان حشر میں جب جہنم کو اس طرح لایا جائے گا کہ جہنم کی ستر ہزار نکیلیں اونٹ کی سی ہوں گی اور ہر ہر نکیل پر ستر ستر ہزار فرشتے ہوں گے اور ان نکیلوں کو کھینچ رہے ہوں گے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
آیت 41
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے عقوبات کے مرتاب بیان کئے ہیں، عقوبات کے تین مرتاب ہیں : عدل، فضل اور ظلم
(1) کسی کمی بیشی کے بغیر، برائی کے بدلے میں اس جیسی برئای، متربہ عدل ہے۔ پس جان کے بدلے جان ہے، عضو کے بدلے اور اس جیسا عضو اور مال کی ضمان اسی جیسا مال ہے۔
(2) برائی کرنے والے کو معاف کر کے اصلاح کرنا مرتبہ فضل ہے، اس لئے فرمایا : (فمن عفا و اصلح فاجرہ علی اللہ) ” پس جو کوئی درگزر کرے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ “ اللہ تعالیٰ اسے اجر عظیم اور ثواب جزیل عطا کرے گا۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے درگزر کرنے میں اصلاح کی شرط دلالت کرتی ہے کہ اگر مجرم عضو کے لائق نہ ہو اور مصلحت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–53
انتقام لینا کب جائز ہوتا ہے ؟
قول باری ہے (والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون۔ اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم واقع ہوتا ہے تو وہ (برابر کا ) بدلہ لے لیتے ہیں) ابراہیم نخعی سے آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ لوگ مسلمانوں کے لئے اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ اپنے آپ کو دبا کر اور عاجز بنا کر رکھیں جس کی بنا پر فاسق وفاجر لوگوں کو ان کے خلاف جرات دکھانے کا موقعہ مل جائے۔
سدی کا قول ہے کہ (ھم ینتصرون) کا مفہوم یہ ہے کہ وہ لوگ ان لوگوں سے بدلہ لے لیتے ہیں جو ان پر ظلم کرتے ہیں لیکن وہ ان کے ساتھ زیادتی نہیں کرتے۔ ابولکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کئی مقامات پر ہمیں اس بات کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
93 ظالموں کی لیے کوئی حمایتی اور کارساز نہیں ہوگا : جو ان کی وہاں کوئی حمایت یا کارسازی کرسکے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ظالموں کیلئے کوئی کارساز نہیں ہوگا جو اللہ کے مقابلے میں ان کی کوئی مدد کرسکے۔ سو دنیا میں یہ لوگ جن کو اپنا حاجت روا و مشکل روا سمجھ کر پوجا پکارا کرتے تھے وہاں وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آسکیں گے۔ لکڑ پتھر وغیرہ کے بتوں میں تو سرے سے اس کی کوئی اہلیت و صلاحیت ہی نہیں کہ وہ کسی کے کچھ کام آسکیں۔ اور اللہ کے جن دوسرے نیک بندوں کو یہ مشرک لوگ دنیا میں اپنا حاجت روا و مشکل کشا مانتے اور ان کو اپنی حاجت روائی و مشکل کشائی کے لئے پکارا کرتے تھے وہ نہ صرف یہ کہ ان کے کچھ کام نہیں آئیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
گمراہ لوگوں کا قیامت کے دن برا حشر ہو گا
تشریح : ان آیات میں غیب کی ایک بہت بڑی ڈرانے والی خبر دی گئی ہے۔ اس دنیا میں ان کو خبر دار کیا جا رہا ہے کہ ان کی زندگیاں خود ان کے لیے اور ان کے عزیز و اقارب کے لیے شرمندگی اور عذاب کا باعث ہیں اور مرنے کے بعد بھی ہوں گی۔ کیونکہ دنیا میں تو ان کے لیے یہ محاورہ ہے کر برا تو ہو برا اور آخرت میں عذاب جہنم ان کے لیے تیار کیا جا چکا ہے جس کا نقشہ ان آیات میں کھینچا گیا ہے اس وقت مومن لوگ عذاب میں ڈالے جانے والے لوگوں پر افسوس کا اظہار کر رہے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–53
آیات 44 تا 53۔
اسرار ومعارف۔
اور جس شخص کے کردار کے باعث اللہ نے ہی اس پر ہدایت کے دروازے بند کردیے اور گمراہی مقدر کردی پھر اسے کوئی بھی راہ پر نہیں لاسکتا بلکہ اسے مخاطب ایسے لوگ اپنے انجام کو پہنچیں گے اور تو دیکھے گا کہ ان ظالموں کو جب عذاب کا مشاہدہ ہوگا تو پکار اٹھیں گے کہ کیا کوئی ایسا طریقہ کہ ہم دنیا میں واپس جاسکیں تاکہ اب نیکیاں کرکے لائیں اور ایمان کی حالت میں یہاں پہنچیں اور دیکھو گے کہ جب دوزخ کی آگ کے روبرو ہوں گے توشرمندگی اور ذلت کے سبب نظریں جھکائے ہوئے ہوں گے اور کن اکھیوں سے دوزخ کی آگ کو ڈرتے ڈرتے دیکھیں گے تب مومن کہیں گے خسارہ اور بہت بڑا نقصان حقیقتا یہ ہے کہ جن لوگوں…
Read the full tafseer →ف 2 جیسے کسی کے ہاتھ پائوں باندھ کر تلوار سے مارنے لگیں تو وہ ڈر کے مارے آنکھیں بند کرلے لیکن کبھی کبھی کنگھیوں سے دیکھ لے کہ آیا تلوار سر پر لٹکی ہوئی ہے یا ٹل گئی ہے۔ پوری طرح آنکھ کھول کر نہ دیکھ سکے۔
3 اپنے آپ کو تباہ اس طرح کیا کہ خواہ گمراہ ہوئے اور گھر والوں کو بھی گمراہ کیا۔ ( ابن کثیر)
Read the full tafseer →(42:45) ترھم : تری مضارع واحد مذکر حاضر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب تو ان کو دیکھے گا۔
یعرضون : مضارع مجہول جمع مذکر غائب ۔ عرض (باب ضرب) ان کو پیش کیا جائے گا۔ علیہا میں ھا ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع النار ہے (آگ ، دوزخ) جس پر لفظ العذاب دلالت کرتا ہے۔
خشعین : خشوع (باب ضرب) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر، ڈرنے والے عاجزی کرنے والے فروتنی کرنے والے
من الذل : من بمعنی ب سببیہ ہے الذل ذل بذل (باب ضرب) سے مصدر ہے ذلت، عاجزی، تواضع، دوسرے کے دباؤ اور قہر کی بناء پر جو ذلت ہو اس کو ذل (بصیغہ دال) کہتے ہیں ۔ اور بغیر کسی کے قہر اور دباؤ کے خود اپنی سرکشی اور سخت گیری کے بعد جو ذلت حاصل ہو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
لغات القرآن آیت نمبر 44 تا 46 : مرد (لوٹ جانے کی جگہ) طرف خفی (چھپی نظر ، کن انکھیوں سے دیکھنا) مقیم ( قائم رہنے والا) سبیل ( راستہ)
تشریح : آیت نمبر 44 تا 46 : اہل ایمان پر یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے زندگی کی راہوں میں ہدایت و رہنمائی کے لئے قرآن کریم جیسی عظیم کتاب عطاء فرمائی اور اطاعت و فرماں بردری کے لئے خاتم الانبیاء احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات پاک اور بہترین نمونہ زندگی عطاء فرمایا ۔ یہ ایسی سچائی ہے کہ اگر کوئی اس کو آنکھ سے دیکھ کر بھی ایمان قبول نہیں کرتا اور وہ کفر و شرک کی جس زندگی کو اختیار کئے ہوئے ہے اس سے توبہ نہیں کرتا تو اللہ بھی بےنیاز ذات ہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–51
قرآن خدا کی کتاب ہے۔
(ف 1) شان نزول : یہود نبی کی نبوت پر لوگوں کے بہکانے کے لیے اور حسد کے سبب سے یہ اعتراض کیا کرتے تھے کہ اگر یہ نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ سے بلاواسطہ فرشتے کے کلام کرتے وقت اس کو کیوں نہیں دیکھتے جیسا کہ حضرت موسیٰ دیکھتے تھے ان کے اس اعتراض کو جواب نبی ﷺ نے یہ دیا کہ حضرت موسیٰ بھی نہیں دیکھتے تھے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، اصل مطلب یہ ہے کہ بلاپردہ کی آڑ کی تو نہ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا اور نہ کسی آدمی میں یہ طاقت ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے روبروباتیں بےپردہ حجاب فرمائے، ہاں پچھلے تمام انبیاء مین جو وحی کا طریقہ تھا کہ خواب میں کوئی بات معلوم ہوجاتی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–51
[26] یعنی دل میں کوئی بات ڈال دے یا خواب میں کچھ دکھا دے جیسے ابراہیم (علیہ السلام) اور یوسف (علیہ السلام) کو دکھایا گیا۔
[27] یعنی بلاواسطہ پردے کے پیچھے سے کلام فرمائے جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر پیش آیا۔
[28] یعنی فرشتہ کے ذریعے وحی بھیجتا ہے جیسے قرآن مجید جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعے نبی ﷺ کو بھیجا گیا۔ اس آیت میں جواب ہے مخالفین کے اس مطالبے کا جو قرآن میں متعدد مقامات پر مختلف اسلوبوں سے نقل ہوا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ محمد ﷺ سے بات کرتا ہے جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے تو آخر وہ ہم سے روبرو ہو کر بات کیوں نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
آیت 44 ۔ 46
حل لغات :۔ ظرف خفی ۔ دزویدہ نگاہ سے ۔ سست نگاہ سے مقیم ۔ دائمی ۔ اولیاء ۔ ولی کی جمع ہے ۔ بمعنے دوست اور مدد گار ۔ چارہ ساز مرد ۔ ہٹنا ۔ لوٹنا ۔
یعنی وہ لوگ جن سے بداعمالیوں کی وجہ سے اللہ توفیق ہدایت چھین لے ۔ وہ چارہ سازی سے محروم رہینگے ۔
گھاٹے میں کون ہے
وہ لوگ جنہوں نے دنیا میں اپنی ذمہ داریوں کو محسوس نہیں کیا ۔ اور کفروشرک اختیار کرکے اپنے قلب ووجدان پر ظلم کیا ہے ۔ ان سے عالم عقبے میں بہت ہی ذلیل کن طرز عمل روارکھا جائیگا ان کی روح افتخار کو کچل ڈالا جائے گا ۔ اور اس تمام غروروکبر کو جس کی وجہ سے یہ قرآن حکیم تسلیم نہ کرسکے پاؤں تلے مسل دیا جائے گا ۔ محسوس کریں گے ۔ کہ ذلت…
Read the full tafseer →(45) اور آپ ان کو دیکھیں گے وہ آگ کے سامنے اس حال میں لائے جائیں گے اور جہنم کے روبرو پیش کیے جائیں گے تو ان کی حالت یہ ہوگی کہ آپ ان کو دیکھیں گے مارے ذلت کے جھکے ہوئے ہوں گے اور خفیہ خفیہ گوشہ چشم نیم کشادہ سے آگ کو دیکھتے ہوں گے اور اس وقت اہل ایمان کہیں گے کہ حقیقی زیاں کار اور نقصان اٹھانے والے وہی لوگ ہیں جو آج قیامت کے دن اپنی جانوں کو اور اپنے متعلقین کو خسارے میں اور نقصان میں ڈال بیٹھے آگاہ رہو بلا شبہ ظلم کرنے والے دائمی عذاب میں مبتلا رہیں گے۔
پیغمبر (علیہ السلام) کو خطاب فرماتے ہوئے گمراہ لوگوں کے اس منظر پر توجہ دلائی ہے جو قیامت میں پیش آنے والا ہے اوپر کی آیتوں میں ہدایت یافتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
ف 2۔ یعنی ایسا کرنا بہتر ہے اور اولوا العزمی ہے۔
Read the full tafseer →ظالموں کے انجام سے باخبر کیا جا رہا ہے جب ان کو عذاب سے دوچار کیا جائے گا
45 ؎ ظالم دنیا میں ظلم و ستم ڈھاتے رہے اور اسی ظلم و زیادتی پر ان کا خاتمہ ہوا پھر جب قیامت کے روز ان کو عذاب پر لا کر کھڑا کردیا جائے گا تو انکی حالت دیدنی ہوگی کیونکہ جس چیز سے وہ انکار کرتے تھے اور اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے وہی ان کی آنکھوں کے سامنے ہوگی اور اس ذلت و رسوائی کے باعث وہ کچھ بول نہیں سکیں گے اور نہ ہی اس عذاب کو اپنی آنکھوں کے سامنے سے ہٹا سکیں گے۔ ایسی حالت میں وہ اپنے دائیں بائیں کن انکھیوں سے ، جھکتی ہوئی نظر کے ساتھ دیکھیں گے جس کو ہماری عام زبان میں ” کافی نظر سے دیکھنا “ کہا جاتا ہے کہ ادھر کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
Commentary
The earlier three of the above verses state the end of those people who, as against the virtuous Muslims, remained desirous of the delights and luxuries of this world, instead of caring about the Hereafter. Then in verse 47, they have been advised to repent and embrace faith before the scourge of Doomsday comes upon them. Thereafter, in verse 48, the Holy Prophet ﷺ has been comforted and assured that if these people do not come to their senses, despite your preaching again and again, and despite your tireless efforts, then you should not worry: فَإِنْ أَعْرَضُوا فَمَا…
Read the full tafseer →71. By nature man is such that when a dreadful scene comes before him and he knows that soon he is going to fall a prey to it, he closes his eyes forthwith in fear. Then, when he cannot hold himself any longer, he tries to see what kind of the calamity it is and how far away it is from him. But he does not find the courage to lift up his head and have a full view of it. Therefore, he opens his eyes a little again and again and sees it from the corner of the eye, and then again closes his eyes from fear. The same state of those who will be driven to Hell has been depicted here.
Read the full tafseer →